ہندوستان میں ‘‘اہل حدیث’’ کا مختصر تعارف

وصف

ہندوستان میں اہل حدیث کا مختصر تعارف : شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا كہ : میں اب برابر ‘‘اہل حدیث’’ کی مسجد میں جایا کرتا ہوں، اور میرے علاقے میں لوگ اپنے مسلمان ہونے کے بجائے اہل حدیث ہونے پر زیادہ زور دیتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: کہ امت محمدیہ میں سے جنت میں جانے والی جماعت قرآن وسنّت کی اتباع کرنے والی ہوگی۔ اسلئے میں اس جماعت کے بارے میں مزید جانکاری چاہتا ہوں۔؟ فتوی مذکور میں اسی کا جواب پیش ہےـ.

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    ہندوستان میں ‘‘اہل حدیث’’ کا مختصر تعارف

    نبذة عن "أهل الحديث" في الهند

    [ أردو - اردو - urdu ]

    محمد صالح المنجد

    ترجمہ:اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2014 - 1435

    ہندوستان میں ‘‘اہل حدیث’’ کا مختصر تعارف

    سوال : میں اب برابر ‘‘اہل حدیث’’ کی مسجد میں جایا کرتا ہوں، اور میرے علاقے میں لوگ اپنے مسلمان ہونے کے بجائے اہل حدیث ہونے پر زیادہ زور دیتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: کہ امت محمدیہ میں سے جنت میں جانے والی جماعت قرآن وسنّت کی اتباع کرنے والی ہوگی۔ اسلئے میں اس جماعت کے بارے میں مزید جانکاری چاہتا ہوں۔

    جواب:

    الحمد للہ: ہندوستان کی جماعت‘‘ اہل حدیث’’ کے سلسلے میں یہ مختصر تعارف ہے ، تا کہ آپ کو ان کے ساتھ رہنے کا مزید شوق پیدا ہو:

    انسائیکلوپیڈیا" الموسوعة الميسرة للأديان والمذاهب والأحزاب المعاصرة " میں آیاہے کہ: ‘‘

    جماعت‘‘ اہل حدیث’’ برصغیر میں قدیم ترین اسلامی تحریک ہے، جس کی بنیاد مندرجہ ذیل امور پر ہے:

    کتاب وسنت کی اتباع کی دعوت ۔

    کتاب وسنت کو سلف صالحین یعنی صحابہ وتابعین اور انکی نقش قدم پر چلنے والوں کی فہم کے مطابق سمجھنا۔

    کتاب وسنت کی تمام اقوال اور مناہج پر بالا دستی، خواہ عقائد ہوں یا عبادات، معاملات ہوں یا اخلاقیات، سیاسیات ہو یا سماجیات، ۔بعینہ جیسے محدثین فقہائے کرام کا طریقہ تھا۔

    شرک وبدعت اور خرافات کا قلع قمع’’-ا.ھ.

    پھر جماعت‘‘ اہل حدیث’’ کے نظریات اور عقائد کے متعلق آیا ہے کہ:

    "اہل حدیث کا عقیدہ بعینہ سلف صالحین کا عقیدہ ہے جو کتاب وسنت پر مبنی ہے، اورجماعت اہل حدیث کے علمی اصول اور منہجی قواعد درج ذیل امور پر قائم ہیں:

    1- عقیدہ توحید: اہل حدیث اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ توحید دین کی اساس وبنیادہے، اس لئے اپنی سرگرمیوں کی ابتدا توحید خالص کی نشر واشاعت سے کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں اسے پختہ کرتے ہیں،اور توحید کی تینوں قسموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں اور خاص طور سے توحید الوہیت کو جس میں اکثر لوگ غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں، ساتھ ہی توحید ربوبیت اور اسکے تقاضائے حاکمیت الہی پر ایمان رکھتے ہیں۔

    اور وہ صرف اسلامی سیاسی نظام کے اعتراف وتطبیق پر اکتفا ء نہیں کرتے ہیں، بلکہ ہر شخص کےذہن و تصّور ، چال وچلن اور زندگی کے تمام معاملات جس میں قانون سازی بھی ہے صرف اللہ واحد کی حاکمیت چاہتے ہیں۔

    2۔ اتباعِ سنت: اہل حدیث سلف صالحین کے فہم کی روشنی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ احادیث کی اتباع پر زور دیتے ہیں، اسی لئے تقلید جامد کے قائل نہیں ہیں، جو دلیل کے مطالبہ کے بغیر کسی خاص فقہی مذہب ماننے کو لازم قرار دیتا ہے، بلکہ اجتہاد کی شرائط پائے جانے والے شخص کیلئے اجتہاد کے دروازہ کو کھولتے ہیں، اور خاص طور پر ائمہ متبعین اور علمائے مجتہدین کے احترام کی دعوت دیتے ہیں۔

    3- کتاب وسنت کو عقل پر مقدم کرنا: یہ لوگ روایت(شرعی نصوص) کو رائے پر فوقیت دیتے ہیں، اس طور پر کہ شریعت سے ابتدا کرتے ہیں اور عقل کو اسکا تابع مانتے ہیں، کیونکہ انکے مطابق عقلِ سلیم شریعت کی صحیح نصوص کے ساتھ اتفاق رکھتی ہے، اسی لئے عقل کے ساتھ شریعت کا مقابلہ کرنا اور عقل پر اسکا مقدم کرنا درست نہیں ہے۔

    ۴۔شرعی تزکیہ: یعنی شرعی تزکیہ نفس کے قائل ہیں، اس کے لئے کتاب وسنت میں موجود شرعی وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں، اور بدعی تزکیہ نفس کی اتباع چاہے صوفیت کی شکل میں ہو یا کسی اور انکار کرتے ہیں۔

    ۵۔بدعات سے اجتناب:اہل حدیث اس بات کے قائل ہیں کہ بدعت ایجاد کرنا حقیقت میں اللہ تعالی پر استدراک ہے، اور عقل و رائے کے ذریعے شریعت سازی ہے، اسی لئے سنت پر کاربند رہنے اور بدعات کی تمام اقسام سے بچنے کی دعوت دیتے ہیں۔

    ۶۔ ضعیف اور موضوع روایات سے اجتناب: اس لئے کہ اس قسم کی احادیث کےامت پر بہت زیادہ خطرات ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب احادیث کی چھان بین انتہائی ضروری ہے، خاص طور پر جو احادیث عقائد اور احکام سے تعلق رکھتی ہیں" انتہی .

    دیکھیں: "الموسوعة الميسرة في الأديان والمذاهب والأحزاب المعاصرة" صفحہ (173-185)۔ واللہ اعلم. اسلام سوال وجواب