کُتّے کی نجاست دور کرنے کی کیفیت

وصف

شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا ":کُتّےكى نجاست سے پاكى كس طرح حاصل كى جا سكتى ہے، اور كيا سات بار دھونا واجب ہے يا ايك بار ہى دھونا كافى ہو گا ؟ـ

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    کُتّے کی نجاست دُور کرنے کی کیفیت

    كيفية تطهير نجاسة الكلب

    « باللغة الأردية »

    شیخ محمد صالح المنجد ۔حفظہ اللہ۔

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2014 – 1436

    کُتّے کی نجاست دُور کرنے کی کیفیت

    کُتّے کی نجاست دُور کرنے کی کیفیت

    سوال :کُتّےكى نجاست سے پاكى كس طرح حاصل كى جا سكتى ہے، اور كيا سات بار دھونا واجب ہے يا ايك بار ہى دھونا كافى ہو گا ؟

    الحمد للہ:

    امام مسلم رحمہ اللہ نے ابو ہريرہ رضى اللہ عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " تم میں سے کسی کے برتن کی پاکی جب کہ کُتّا اس میں منھ ڈال دے ،یہ ہے کہ وہ اسے سات بار دھوئے ،ان میں سے پہلی بار مٹی کے ذریعہ ہو‘‘۔ صحيح مسلم حديث نمبر ( 279 )۔

    اورامام مسلم رحمہ اللہ نے ہى عبد اللہ بن مغفل رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " جب كُتّا برتن ميں منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھوؤ، اور اسے آٹھويں بار مٹى سے مَل كر دھوؤ "

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 280)۔

    ان دونوں حديثوں ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كتے كى نجاست كو پاك كرنے كى كيفيت بيان فرمائى ہے كہ برتن سات بار دھويا جائے جن ميں ايك بار مٹى كے ساتھ دھونا شامل ہے، اور يہ دونوں ہى واجب ہيں.

    ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " كتے كى نجاست كو سات بار دھونے كے وجوب ميں کسی بھی مذہب کا اختلاف نہیں ہے ،ان ميں ايك بار مٹى سے دھونا ہے، یہی امام شافعى رحمہ اللہ كا قول ہے". انتہى.

    ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 73 )۔

    امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " کُتّے كا برتن ميں منہ ڈالنے كے مسئلہ ميں علماء كرام كا اختلاف ہے، اس ميں ہمارا مذہب يہ ہے كہ جس چيز ميں کُتّا منہ ڈال دے وہ نجس ہو جاتا ہے اور اسے سات بار دھونا واجب ہے جن میں سے ایک بار مٹی سے ہو، اور یہی اکثر علماء کا قول ہے"۔

    ابن منذر رحمہ اللہ نے ابو ہريرہ، ابن عباس، رضى اللہ عنہم اور عروہ بن زبير، طاؤس، اور عمرو بن دينار، مالك اور اوزاعى اور احمد اور اسحاق اور ابو عبيد اور ابو ثور سے سات بار دھونا واجب بيان كيا ہے، ابن منذر كہتے ہيں: ميرا بھى يہى قول ہے " انتہى.

    ديكھيں: المجموع للنووى ( 2 / 598 )۔

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " اگر کُتّے كى نجاست زمين كے علاوہ كسى اور چيز پر لگی ہو تو اسے سات بار دھونا واجب ہے جن ميں ايك بار مٹى سے ہو " انتہى.

    ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( ۱؍۲۴۵)

    اورافضل يہ ہے كہ پہلى بار مٹى سے دھويا جائے، اور اگر پہلى كے علاوہ كسى اور بار میں مٹى شامل كى جائے تو مقصد حاصل ہو جائيگا اور جگہ پاك ہو جائے گا"۔

    امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " حاصل يہ ہے كہ پہلى بار مٹى سے دھونا مستحب ہے، اور اگر ايسا نہ كيا جائے تو پھر ساتويں بار سے پہلے دھونا بہتر ہے، اور اگر ساتويں بار مٹى سے دھویا تو جائز ہے، اورصحيح مسلم كى روايت ميں آيا ہے كہ: " سات بار دھويا جائے"

    اور ايك روايت ميں ہے:

    " سات بار دھويا جائے ان ميں پہلى بار مٹى كے ساتھ ہو "

    اور ايك روايت ميں: پہلى مرتبہ کے بجائے آخرى بار كے الفاظ ہيں"

    اور ايك روايت ميں سات بار اور ساتويں بار مٹى سے دھونے كا ذكر آيا ہے "

    اور ايك روايت ميں ہے:

    " سات بار اور آٹھويں بار مٹى سے خوب مَل كر دھويا جائے "

    بيہقى وغيرہ نے ان سب روايات کو ذکر کیا ہے، اور اس ميں يہ دليل پائى جاتى ہے كہ پہلى يا كسى اور بار كی قيدہونے کی شرط نہيں ہے، بلكہ مراد يہ ہے كہ ان ميں ايك بار مٹى سے دھويا جائے " انتہى.

    ديكھيں: المجموع للنووى ( 2 / 598 (

    اور مٹى كے ساتھ (برتن کو)دھونے كے كئى ايك طريقے ہيں:

    ۱۔. پانی سے دھویا جائے اور پھر اس پر مٹی پھینک دیا جائے۔

    ۲۔ پہلے مٹى لگائيں اور پھر اس كے بعد پانى سے دھوئيں.

    ۳۔مٹى كو پانى ميں ملایا جائے پھر اس سے برتن دھويا جائے.

    ديكھيں: شرح بلوغ المرام لابن عثيمين حديث نمبر ( 14 ).

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب

    فیڈ بیک