(اس توحید کى کتاب جو بندوں پر اللہ کا حق ہے) ()

محمد بن سليمان التميمي

 

کتاب التوحید: زیر نظر کتاب قرآن وسنت کی روشنی میں اہل سنت وجماعت کے عقیدہ پر مشتمل ہے، یہ اپنے موضوع پر بہت ہی مفید ونفع بخش کتاب ہے، اس کے اندر فاضل مصنف۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ نے تو حید کی اہمیت وفضیلت کو بیان کیا ہے ، اور توحید کے منافی امور شرک اکبر، اور شرک اصغر وبدعات وغیرہ کی سختی سے مذمّت فرمائی ہے۔

|

 كتاب التوحيد (اس توحید کى کتاب)الذي هو حق الله على العبيد (جو بندوں پر اللہ کا حق ہے)

تالیف: شیخ الاسلام : محمد بن عبد الوہاب تمیمی رحمہ اللہ

1206ھ

باہتمام

عبد العزیز بن داخل مطیری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ تعالٰی کے لیے ہے اور درود وسلام نازل ہو محمد ﷺ پر نیز آپ ﷺ کے کنبہ واولاد اور اصحاب پر۔

 کتاب التوحید

ارشادِ باری تعالٰی ہے:(اور میں نے جن و انس کو صرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔)[سورہ الذاریات: 56]۔مزید ارشاد ہے:(اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔)[سورہ النحل: 36]۔مزید ارشاد ہے:(اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا، بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیساکہ انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔)[سورہ الاسراء: 23-24]۔مزید ارشاد ہے:(اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔)[سورہ النساء: 36]۔مزید ارشاد ہے:(آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں، جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے۔ وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں، ان کے پاس بھی مت جاؤ، خواه وہ علانیہ ہوں خواه پوشیده، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے، اس کو قتل مت کرو۔ ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے ،تاکہ تم سمجھو۔اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ، مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے، یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول پوری پوری کرو، انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو، تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو، اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو۔ ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم یاد رکھو۔اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے, جو مستقیم ہے, سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے, تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔)[سورہ انعام:151-153]۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جو محمد ﷺ کی اُس وصیت کو دیکھنا چاہے، جس پر آپﷺ کى مہر ہے، تو اسے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو پڑھنا چاہیے:(آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں، جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے۔ وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ-)اس فرمانِ باری تعالیٰ تک:(اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے۔ ) الآية۔معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھا۔ تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:”اے معاذ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟"میں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ اسے عذاب نہ دے، جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے۔"میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا میں لوگوں کو اس کی خوش خبری سنادوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’نہیں! ایسا نہ ہو کہ وہ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں۔‘‘اسے امام بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:جن وانسان کی تخلیق میں پنہاں اللہ تعالیٰ کی حکمت۔دوسرا مسئلہ:عبادت ہی اصل توحید ہے۔ اس لیے کہ (نبیوں اور ان کی امتوں کے بیچ میں) یہی بات متنازع فیہ تھی۔تیسرا مسئلہ:جس نے توحید کو نہیں مانا، اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان: {وَلاَ أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ} (اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو، جس کی میں عبادت کر رہا ہوں) , کا مفہوم بھی یہی ہے۔چوتھا مسئلہ:رسولوں کی بعثت میں پنہاں اللہ کی حکمت۔پانچواں مسئلہ:ہر امت کے اندر رسول بھیجے گئے ہیں۔چھٹا مسئلہ:تمام انبیا کا دین ایک ہے۔ساتواں مسئلہ:اس بڑے مسئلہ کا پتہ چلتا ہے کہ طاغوت کا انکار کیے بغیر اللہ کی عبادت ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا معنی بھی موجود ہے:{فَمَن يَكْفُرْ بالطَّاغوت ويؤمن بالله} الآيَہ (اس لیے جو شخص طاغوت کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻیا، اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا۔)آٹھواں مسئلہ:’طاغوت‘ ہر اُس چیز کو کہتے ہیں، جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جائے۔نواں مسئلہ:سلف صالحین کے نزدیک سورۂ انعام کی مذکورہ تینوں محکم آیتوں کی بڑی اہمیت اور عظمت ہے۔ ان آیتوں کے اندر دس احکام ومسائل مذکور ہیں، جن میں سب سے پہلا حکم شرک سے ممانعت ہے۔دسواں مسئلہ:سورہ الاسراء کی محکم آیات میں اٹھارہ مسائل بیان کیے گئے ہیں، جن کا آغاز اللہ نے اپنے اس فرمان سے کیا ہے:(اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرا کہ آخرش تو برے حالوں بےکس ہو کر بیٹھ رہے گا۔)اور ان کا اختتام اپنے اس فرمان پر کیا ہے:(اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنانا کہ ملامت خورده اور راندہ درگاه ہو کر دوزخ میں ڈال دیا جائے۔)پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان مسائل کی اہمیت پر متنبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:(یہ بھی منجملہ اس وحی کے ہے، جو تیری جانب تیرے رب نے حکمت سے اتاری ہے۔)گیارہواں مسئلہ:سورہ النساء کی وہ آیت، جو دس حقوق والی آیت کہلاتی ہے۔ اس کا آغاز بھی اللہ نے (توحید پر مشتمل) ان الفاظ سے کیا ہے:(اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔)بارہواں مسئلہ:اس میں اللہ کے رسول ﷺ کی اُس وصیت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے، جو آپ ﷺ نے اپنی وفات کے وقت فرمائی تھی۔تیرہواں مسئلہ:اس بات کو جاننا کہ ہم بندوں پر اللہ کے کیا حقوق ہیں؟چودہواں مسئلہ:یہ بھی جاننا کہ جب بندے اللہ کے حقوق ادا کریں، تو اللہ پر بندوں کے کیا حقوق ہیں؟پندرہواں مسئلہ:یہ کہ مذکورہ بالا مسئلے سے اکثر صحابہ واقف نہ تھے۔سولہواں مسئلہ:کسی مصلحت کے پیشِ نظر کتمانِ علم جائز ہے۔سترہواں مسئلہ:کسی بھی مسلمان کو ایسی بشارت دینا مستحب ہے، جس سے اسے خوشی حاصل ہو۔اٹھارہواں مسئلہ:اللہ کی بے پایاں رحمت پر بھروسہ کرکے بیٹھے رہنے سے ڈرنا چاہیے۔انيسواں مسئلہ:اگر کسی سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے اور اُسے اس کے بارے میں علم نہ ہو، تو اُسے یہ کہہ دینا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے۔بیسواں مسئلہ:کسی کو خصوصی طور پر کوئی جانکاری دینا اور دوسرے کو نہ دینا بھی جائز ہے۔اکیسواں مسئلہ:اس سے آپ ﷺ کی تواضع وانکسار کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ نے گدھے پر سوار ہوئے اور اپنے پیچھے ایک شخص کو بٹھایا بھی۔بائیسواں مسئلہ:سواری پر اپنے پیچھے کسی دوسرے کو بٹھا لینا جائز ہے۔تئیسواں مسئلہ:معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔چوبیسواں مسئلہ:توحید کی اہمیت و عظمت۔

 باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:(جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راه راست پر چل رہے ہیں۔)[سورہ الانعام: 82]۔اورحضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے فرمايا:’’جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، عیسٰی علیہ السلام اس کے بندے، اس کے رسول، اس کی جانب سے مریم تک پہنچایا گیا ایک کلمہ اور اس کی جانب سے بھیجی گئی ایک روح ہیں، اور جنت اور دوزخ بر حق ہیں؛ اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں۔‘‘اسے امام بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے ۔ اورصحیحین ہی میں عتبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:”بے شک اللہ نے اس شخص کو آگ پر حرام کر دیا ہے، جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر لا الہٰ الا اللہ کہے۔“اورحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :”موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ پروردگار! مجھے کوئی ایسی چیز سکھلا دے، جس کے ذریعہ میں تجھے یاد کروں اور تجھ سے دعا مانگوں! تو اللہ تعالی نے فرمایا: اے موسیٰ! ”لا الہ الا اللہ“ کہو! موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ میرے رب! تیرے تمام بندے یہ کلمہ پڑھتے ہیں! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! اگر ساتوں آسمان اور میرے علاوہ ان کے سارے مکین اور ساتوں زمین کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور ”لا الہ الا اللہ“ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے، تو یقیناً ”لا الہ الا للہ“ کا پلڑا جھک جائے گا‘‘۔اسے ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے، نیز حاکم نے اسے صحیح بھی کہا ہے۔اور سنن ترمذی کى ایک حدیث میں, جسے ترمذی نے حسن بھی کہا ہے, انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،, کہ میں نے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:"اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین بھر کر گناہ لائے، پھر اس حال میں تو مجھ سے ملاقات کرے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو میں اسی قدر تیری طرف مغفرت وبخشش لے کر آؤں‘‘۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اللہ تعالیٰ کا فضل بے پایاں ہے۔دوسرا مسئلہ:اللہ کے ہاں توحید کا ثواب بہت زیادہ ہے۔تیسرا مسئلہ:عقیدۂ توحید بہت زیادہ ثواب کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ گناہوں کا کفارہ بھی بنتا ہے۔چوتھا مسئلہ:اس سے سورہ الانعام کی آیت نمبر (82) کی تفسیر بھی ہو جاتی ہے۔پانچواں مسئلہ:عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد پانچوں امور پر غور وفکر کرنا۔چھٹا مسئلہ:جب حدیث عبادہ رضی اللہ عنہ اور حدیث عتبان رضی اللہ عنہ نیز اس کے مابعد کى حدیث کو یک جا کرتے ہیں، تو ان احادیث سے ’’لاالٰہ الّا اللہ‘‘ کا مفہوم مکمل واضح ہوجاتا ہے اور جو لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں (کہ صرف زبان سے کلمہ کا اقرار نجات کے لیے کافی ہے) ان کی غلطی بھی واضح ہوتی ہے۔ساتواں مسئلہ:عتبان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں موجود شرط پر تنبیہآٹھواں مسئلہ:انبیاء علیہم السلام بھی ’لااِلٰہ اِلّا اللہ‘ کی فضیلت پر متنبہ کیے جانے کے محتاج تھے۔نواں مسئلہ:یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس کلمۂ توحید کے تمام آسمانوں اور زمینوں پر بھاری ہونے کے باوجود بہت سے کلمہ گو لوگوں کے ترازو ہلکے ثابت ہوں گے۔دسواں مسئلہ:یہاں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ آسمانوں کی طرح زمینں بھی سات ہیں۔گیارہواں مسئلہ:یہ سارے آسمان اور زمین (مخلوق سے) آباد ہیں۔بارہواں مسئلہ:اشاعرہ کے برخلاف اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اثبات ہوتا ہے۔تیرہواں مسئلہ:جب آپ نے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث اچھی طرح سمجھ لی، تو یہ بھی سمجھ چکے ہوں گے کہ حدیثِ عتبان: ’’جو شخص صرف رضائے الہی کی خاطر ’لا اِلٰہ اِلّا اللہ‘ کا اقرار کرلے، تو اللہ اُسے جہنم پر حرام کردیتا ہے۔‘‘ سے مراد شرک سے کنارہ کش ہو جانا ہے، صرف زبان سے کلمہ کا اقرار کر لینا نہیں۔چودہواں مسئلہ:یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام اور محمد ﷺ دونوں کو اللہ کا بندہ اور رسول کہا گیا ہے۔پندرہواں مسئلہ:اس بات کا بھی علم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ’اللہ تعالیٰ کا کلمہ‘ ہونے کی خصوصیت حاصل ہے۔سولہواں مسئلہ:اس بات کی بھی جان کاری ملتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی ایک روح ہیں۔سترہواں مسئلہ:جنت اور جہنم پر ایمان لانے کی فضیلت کا بھی علم ہوتا ہے۔اٹھارہواں مسئلہ:اس میں آپ ﷺ کے فرمان: ’’عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ‘‘ (خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں) کا معنیٰ معلوم ہوتا ہے (یعنی انسان کے جنت میں جانے کے لیے اس کا صاحبِ توحید ہونا شرط ہے)۔سترہواں مسئلہ:(قیامت کے دن نصب) میزانِ کے دو پلڑے ہیں۔بیسواں مسئلہ:اس بات کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ (تاہم اس چہرے کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔)

 باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا

اللہ تعالی نے فرمایا:(بے شک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔ وه مشرکوں میں سے نہ تھے۔)[سورہ النَّحْل: 120].مزید فرمایا:(اور جو اپنے رب کے ساتھ (کسی کو) شریک نہیں ٹھہراتے۔)[سورہ الْمُؤْمِنُون: 59]۔حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں ایک بار سعید بن جبیر کے پاس حاضر تھا کہ انہوں نے کہا: ’’گزشتہ رات ٹوٹنے والے ستارے کو تم میں سے کس نے دیکھا؟ تو میں نے کہا: میں نے۔ پھر یہ بھی کہا: میں اس وقت نماز میں مشغول نہیں تھا، بلکہ مجھے کسی چیز نے ڈس لیا تھا۔ سعید بن جبیر نے پوچھا: تو پھر تم نے کیا کیا؟ میں کہا: میں نے دَم کر لیا تھا۔ انہوں نے مجھ سے پھر پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو میں نے جواب میں کہا: ہمیں شعبی نے ایک حدیث بیان کی، اس کی وجہ سے میں نے دَم کیا تھا۔ سعید بن جبیر نے پھر پوچھا: شعبی نے تم سے کون سی حدیث بیان کی؟ میں نے کہا کہ انہوں نے ہم سے بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انھوں نے فرمایا:"نظرِ بد اور کسی زہریلی چیز کے کاٹنے کے سوا کسی اور صورت میں دم جائز نہیں۔"اس پر سعید بن جبیر نے کہا: جس نے جو سنا، پھر اس پر عمل کیا، اس نے بہت ہی اچھا کیا۔ البتہ ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کی یہ حدیث بیان کی ہے:’’میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں؛ میں نے دیکھا کہ کسی نبی کے ساتھ کچھ آدمی تھے، کسی نبی کے ساتھ ایک دو آدمی تھے اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ پھر میرے سامنے انسانوں کی ایک بہت بڑی جماعت نظر آئی۔ میں نے سوچا یہ میری امت ہے۔ لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ اور ان کے امتی ہیں۔ پھر میں نے دیکھا تو ایک دوسرى بہت بڑی جماعت دکھائی دی۔پھر مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت کے لوگ ہیں۔ ان کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہوں گے، جو بلا حساب و عذاب جنت میں داخل ہوں گے۔"اس کے بعد آپ ﷺ اٹھے اور اپنے گھر میں تشریف لے گئے۔ پھر لوگ ان جنتیوں کے بارے میں بحث کرنے لگے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ شاید یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی صحبت اختیار کی ہے۔ جب کہ کچھ دوسرے لوگوں نے کہا کہ شاید اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انہوں نے کسی کو اللہ کا ساجھی نہیں ٹھہرایا۔ انھوں نے اور بھی کئی باتوں کا چرچا کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نکل کر ان کے پاس آئے اور صحابہ نے اس کی اطلاع آپ کو دی، تو فرمایا:”یہ وہ لوگ ہوں گے، جو نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ علاج کے لئے اپنے جسم پر دغواتے ہیں, نہ بد شگون لیتے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔‘‘یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم بھی انہیں میں سے ہو۔" اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عکاشہ اس معاملے میں تم سے سبقت کر گئے ۔‘‘

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:یہ بات معلوم ہوئی کہ توحید کے بارے میں لوگوں کے درجات ومراتب مختلف ہیں۔دوسرا مسئلہ:معلوم ہوا کہ توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے کیا معنی ہيں؟

تیسرا مسئلہ:

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی اس بات پر تعریف فرمائی ہے کہ وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

چوتھا مسئلہ:ساداتِ اولیا کی بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے شرک سے بے زار ہونے کی بنا پر مدح وستائش کی ہے۔

پانچواں مسئلہ:

جھاڑ پھونک اور جسم داغنے کے طریقۂ علاج کو بروئے کار نہ لانا توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے میں داخل ہے۔

چھٹا مسئلہ:مذکورہ اوصاف کا جامع توکل ہے۔ساتواں مسئلہ:اس سے صحابۂ کرام کے علم کی گہرائی کا بھی علم ہوتا ہے، کیوں کہ انھیں پتہ تھا کہ ان کو یہ بلند مراتب ودرجات صرف عمل کی بدولت حاصل ہوئے ہیں۔آٹھواں مسئلہ:صحابہ کرام خیر اور نیکی کے کاموں کے حریص تھے۔نواں مسئلہ:اس سے تعداد اور کیفیت کے لحاظ سے اس امت کی دیگر امتوں پر برتری اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔دسواں مسئلہ:اس سے موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔گیارہواں مسئلہ:آپ ﷺ کے سامنے تمام امتیں پیش کی گئی تھیں۔بارہواں مسئلہ:ہر اُمت کے لوگوں کو ان کے نبیوں کے ساتھ الگ الگ طور پر جمع کیا جائے گا۔تیرہواں مسئلہ:انبیا کی دعوت قبول کرنے والے لوگ ہمیشہ کم رہے ہیں۔چودہواں مسئلہ:جس نبی کی دعوت کو ایک شخص نے بھی نہیں مانا، وہ اکیلا ہی آئے گا۔پندرہواں مسئلہ:اس علم کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ کثرتِ تعداد پر اِترانا نہیں چاہیے اور قلتِ تعداد سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے۔سولہواں مسئلہ:نظرِ بد اور زہریلے جانور کے ڈسنے پر دَم کرنا جائز ہے۔سترہواں مسئلہ:سعید بن جبیر کے قول ’’قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ، وَلَكِنْ كَذَا وَكَذَا‘‘ (جس نے اپنی شنید کے مطابق عمل کیا، اس نے اچھا کیا) سے سلفِ صالحین کی علمی گیرائی کا پتہ چلتا ہے، نیز یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی حدیث دوسری حدیث کے برخلاف نہیں۔اٹھارہواں مسئلہ:سلفِ صالحین کسی کی بے جا تعریف کرنے سے پرہیز کیا کرتے تھے۔سترہواں مسئلہ:آپ ﷺ کا عکاشہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہنا کہ ’’أَنْتَ مِنْهُمْ‘‘ (تم اُن میں سے ہو) نبوت کے دلائل میں سے ہے۔بیسواں مسئلہ:اس سے عکاشہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔اکیسواں مسئلہ:اشارہ وکنایہ میں گفتگو کرنا جائز ہے۔بائیسواں مسئلہ:نبی ﷺ حُسنِ اخلاق کے پیکر تھے۔

 باب : شرک سے خوف کا بیان

اللہ عزوجل کا فرمان ہے:(یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔)[سورہ النساء: 48]۔ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے دعا کی تھی:(اور اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو بُتوں کی عبادت سے بچانا۔)[ٰسورہ ابْرَاهِيم: 35].

جب کہ حدیث میں ہے: "مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے، وہ شرک اصغر ہے۔" آپ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا، تو فرمایا: "ریاکاری۔"

اسی طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو بھی پکارتا رہا ہو، وہ جہنم میں جائے گا۔"اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔اور صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔"

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:شرک سے ڈرنا چاہیے۔دوسرا مسئلہ:ریاکاری بھی شرک میں داخل ہے۔تیسرا مسئلہ:ریاکاری ’شرکِ اصغر‘ ہے۔چوتھا مسئلہ:نیک لوگوں کے بارے میں جس چیز کا خوف سب سے زیادہ رہتا ہے، وہ ریاکاری ہے۔پانچواں مسئلہ:جنت اور جہنم انسان سے نہایت قریب ہیں۔چھٹا مسئلہ:ایک ہی حدیث میں جنت اور جہنم دونوں کے قریب ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ساتواں مسئلہ:جو اس حال میں اللہ سے ملے کہ اُس نے شرک نہ کیا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا اور جسے شرک کی حالت میں موت آئے، وہ جہنم میں جائے گا، اگر چہ وہ بہت بڑا عابد وزاہد ہی کیوں نہ رہا ہو۔آٹھواں مسئلہ:ابراہیم علیہ السلام کا اپنے اور اپنی اولاد کے لیے بتوں کی عبادت سے محفوظ رہنے کی دعا کرنا، اپنے آپ میں ایک بہت بڑی بات ہے۔نواں مسئلہ:ابراہیم علیہ السلام نے اس قول کے ذریعہ اکثر لوگوں کی حالتِ زار سے عبرت حاصل کی ہے:(اے میرے رب! انہون نے بہت سے لوگوں کو راہ سے بھٹکادیا ہے۔)دسواں مسئلہ:اس میں ’لا الٰہ اِلّا اللہ‘ کی تفسیر ہے، جیساکہ امام بخاری نے ذکر کیا ہے۔گیارہواں مسئلہ:شرک سے بچے رہنے والوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

 باب: لوگوں کو ’لا اِلٰہ الّا اللہ‘ کی گواہی دینے کی دعوت دینا

اللہ تعالی نے فرمایا ہے:(آپ کہہ دیجیے کہ میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں۔)[سورہ يوسف: 108].ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، تو ان سے فرمایا:"تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ چنانچہ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ (جب کہ دوسری روایت میں ہے: تم انھیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کى توحید کا اقرار کرلیں)۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں، تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو پھر انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے، جو ان میں سے اصحابِ ثروت سے وصول کر کے انہی میں سے فقیر لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو ان کے عمدہ اور قیمتی اموال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا، کیوں کہ اس کے اور اللہ تعالی کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔"اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔صحیحین ہی میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگِ خیبر کے دن فرمایا:’’کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا، جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اُس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘چنانچہ صحابہ رات بھر قیاس آرائیاں کرتے رہے کہ پرچم کسے دیا جائے گا؟ صبح ہوئی تو صحابۂ کرام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ ہرایک کی یہی خواہش تھی کہ پرچم اسے ہی ملے۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا:"علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟"آپ ﷺ سے کہا گیا کہ اُن کی آنکھیں دُکھ رہی ہیں۔ پھر صحابہ نے علی رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ کے پاس بُلا بھیجا۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگایا اور دعا فرمائی، جس سے ان کی تکلیف جاتی رہی۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں پرچم تھماتے ہوئے فرمایا:’’اطمینان سے جاؤ۔ جب خیبر کے میدان میں پہنچ جاؤ، تو پہلے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا اور انھیں ان کے اوپر عائد ہونے والے اللہ حقوق بتانا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تمہاری بدولت ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے، تو تمہارے لیے یہ سعادت سُرخ اونٹوں سے کہیں بہتر ہے۔"

حدیث میں وارد لفظ ’يَدُوكُونَ‘ کے معنی ہیں: وہ قیاس آرائیاں کرتے رہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اللہ کی طرف دوسروں کو بلانا آپ ﷺ کے پیروکاروں کا وطیرہ رہا ہے۔دوسرا مسئلہ:یہاں اخلاصِ نیت پر تنبیہ کی گئی ہے؛ اس لیے کہ بہت سے لوگ، جو حق کی دعوت دیتے ہیں، دراصل وہ اپنی ذات کی طرف بلا رہے ہوتے ہیں۔تیسرا مسئلہ:دعوتی کاز میں بصیرت سے کام لینا فرض ہے۔چوتھا مسئلہ:توحید کے حسن کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہ ان چیزوں سے اللہ کى پاکی بیان کرتی ہے جو اس کے لئے اہانت اور عار ہیں نیز گالی کى حیثیت رکھتے ہیں۔پانچواں مسئلہ:شرک کی ایک خرابی یہ ہے کہ یہ اللہ کے لیے گالی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں اس کى اہانت ہے۔چھٹا مسئلہ:اس باب کا اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان کو اہلِ شرک سے دور رکھنا چاہیے، تاکہ ان کی صفوں میں شامل نہ ہو جائیں, گرچہ شرک نہ کریں،۔ساتواں مسئلہ:توحید پہلا دینی فریضہ ہے۔آٹھواں مسئلہ:دعوت کے کام میں سب سے پہلے توحید سے آغاز کرنا چاہیے، یہاں تک کہ نماز سے بھی پہلے۔نواں مسئلہ:آپ ﷺ کے فرمانِ گرامی: ’أَنْ يُوَحِّدُوا اللهَ‘ (کہ وہ اللہ کو ایک جانیں اور ایک مانیں) کے معنی وہی ہیں، جو ’لا الہ الّا اللہ‘ کی گواہی دینے کے ہیں۔دسواں مسئلہ:بسا اوقات انسان آسمانی کتابوں کا حامل ہونے کے باوجود توحید سے کماحقہ باخبر نہیں ہوتا یا جاننے کے باوجود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔گیارہواں مسئلہ:تعلیم دینے کے معاملے میں تدریج سے کام لینا چاہیے۔

بارہواں مسئلہ:

دین کی طرف دعوت دیتے وقت پہلے زیادہ اہم سے کم اہم کی طرف دعوت دینے کے ضابطہ کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

تیرہواں مسئلہ:

اس میں زکوٰۃ کے مصرف کا بیان ہے۔

چودہواں مسئلہ:معلم کو چاہیے کہ وہ سیکھنے والے کے شکوک وشبہات کو بھی دور کرے۔پندرہواں مسئلہ:زکوٰۃ میں نفیس اور قیمتی مال لینے کی ممانعت۔سولہواں مسئلہ:مظلوم کی بد دعا سے بچنا چاہیے۔سترہواں مسئلہ:اس میں بتایا گیا ہے کہ مظلوم کی بد دعا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔اٹھارہواں مسئلہ:سید المرسلین ﷺ اور سادات اولیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جن مشقتوں، بھوک اور وبا سے دوچار ہونا پڑا وہ سب دلائلِ توحید میں سے ہیں۔سترہواں مسئلہ:آپ ﷺ کا یہ فرمان: ’’أَُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الخ‘‘ (میں پرچم ایسے شخص کو دوں گا الخ) آپ ﷺ کی نبوت کی ایک اہم نشانی ہے۔بیسواں مسئلہ:آپ ﷺ کا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگانا (اور اُن کا شفایاب ہوجانا) بھی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔اکیسواں مسئلہ:علی رضی الله عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔بائیسواں مسئلہ:صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا فتح کی بشارت سے بے نیاز ہو کر (پرچم حاصل کرنے والے کے بارے میں) قیاس آرائیاں کرنا، اُن کی فضیلت کو ثابت کرتا ہے۔تئیسواں مسئلہ:اس سے ایمان بالقدر کا بھی ثبوت ملتا ہے، کیوں کہ پرچم ایسے شخص کو مل گیا، جس نے اس کے لیے کوئی کوشش نہیں کی اور ان لوگوں کو نہ مل سکا، جن لوگوں نے کوشش کی۔چوبیسواں مسئلہ:آپ ﷺ کے فرمان: ’عَلَى رِسْلِكَ‘ (آرام سے جاؤ) میں آدابِ جنگ کا پہلو نمایاں ہے۔پچیسواں مسئلہ:جنگ سے پہلے (دشمن کو ) اسلام کی دعوت دینی چاہیے۔چھبیسواں مسئلہ:یہ ان کے لیے بھی مشروع ہے، جنھیں اس سے پہلے دعوت دی جا چکی ہو اور جنگ کی جا چکی ہو۔ستائیسواں مسئلہ:آپ ﷺ کے فرمان: ’’أَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ‘‘ ( انہیں بتاؤ کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے کیا حقوق واجب ہیں) سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت حکمت ودانائی کے ساتھ دینی چاہیے۔اٹھائیسواں مسئلہ:اسلام میں اللہ تعالیٰ کے حقوق سے روشناس ہونا ضروری ہے۔انتیسواں مسئلہ:جس شخص کے ہاتھوں ایک شخص بھی ہدایت پا جائے، اس کے اجر وثواب کی جانکاری ملتی ہے۔تیسواں مسئلہ:اس سے فتویٰ پر قسم اٹھانے کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے۔

 باب : توحید کی تفسیر اور ’لا الٰہ الّا اللہ‘ کی گواہی کا مطلب

اللہ تعالی نے فرمایا:(جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں، خود وه اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیاده نزدیک ہوجائے، وه خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوف زده رہتے ہیں۔ بیشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے۔)[سورہ الإسراء: 57]۔نیز فرمایا:(اور جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں، جن کی تم عبادت کرتے ہو،بجز اس ذات کے، جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہنمائی بھی کرے گا،اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے؛ تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں۔)[سورہ زخرف: 26-28]۔نیز فرمایا:(ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو، حاﻻنکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، جس کے سوا کوئی برحق معبود نہیں، وه پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔)[سورہ التَّوْبَہ: 31].نیز فرمایا:(بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سےرکھتے ہیں اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔)[سورہ البقرۃ: 165]۔ایک صحیح حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:"جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔"

آئندہ ابواب اس باب کے مضمون کی تشریح پر مبنی ہیں۔

 اس باب میں کئی اہم ترین اور عظیم مسائل ہیں، جن میں سب سے اہم مندرجہ ذیل ہیں:

اس باب میں مسئلہ توحید اور کلمہ شہادت (لا الٰہ اِلّا اللہ) کی تفسیر ہے، جسے صریح آیات اور احادیث کی روشنی میں واضح کردیا گیا ہے:

ان میں سورہ الاسراء کی آیت بھی شامل ہے، جس میں ان مشرکین کی تردید کی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بزرگوں کوپُکارتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ یہ شرکِ اکبر ہے۔

ان کے اندر سورہ براءۃ (التوبہ) کی آیت بھی شامل ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے واضح انداز میں فرمایا ہے کہ اہلِ کتاب نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے علما اور بزرگوں کو رب بنا رکھا تھا، جب کہ انہیں صرف اور صرف ایک معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ حالاں کہ اس آیت کی واضح تفسیر جس میں کوئی اشکال یا ابہام نہیں ہے، یہ ہے کہ اہلِ کتاب اپنے علما اور بزرگوں کو پُکارتے نہیں تھے، بلکہ معصیت اور گناہ کے کاموں میں ان کی اطاعت کرتے تھے۔

ان میں ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا کفار سے یہ کہنا بھی شامل ہے:(میں تمہارے معبودوں سے بے زار اور لاتعلق ہوں،سوائے اس ہستی کے، جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے۔)چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے کفار کے معبودانِ باطلہ سے اپنے رب کو مستثنیٰ کر لیا۔یہاں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بیان فرمایا کہ یہ براءت وبیزاری اور یہ موالات ومحبت ہی کلمۂ شہادت ’لا الہ الّا اللہ‘ کی تفسیر ہے۔ چنانچہ اس کا فرمان ہے:(اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے؛ تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں۔)ان کے اندر سورۂ البقرۃ کی وہ آیت بھی شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں نازل کی ہے:(اور وہ جہنم کی آگ سے نکلنے والے نہیں ہیں۔)اللہ نے بتایا ہے کہ وہ اپنے شریکوں سے اللہ ہی کی طرح محبت کرتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کفار بھی اللہ سے بڑی محبت کرتے تھے، مگر اُن کی یہ محبت انہیں حلقہ بگوش اسلام نہ کر سکی۔ تو اس کا کیا حال ہوگا جو اپنے بنائے ہوئے اللہ کے ساجھی اور شریک سے اللہ سىے زیادہ محبت کرتا ہو۔

ایسے میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ صرف ساجھی اور شریک سے محبت کرنے والوں ساتھ ہی اللہ سے محبت نہ کرنے والوں کا کیا حال ہوگا؟

ان میں سے ایک دلیل آپ ﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے:"جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔"

یہ فرمان نبوی اُن عظیم دلائل میں سے ایک ہے، جو کلمۂ توحید ’لاالہ الا اللہ‘ کے معنی ومفہوم کو واضح کرتے ہیں کہ اس کلمہ کو محض زبان سے ادا کرلینے، اس کی معرفت حاصل کرلینے، اس کا اقرار کر لینے اور صرف ایک اللہ کو پکارنے سے جان و مال کو امان اور تحفظ نہیں مل جاتا، بلکہ اس کے ساتھ جب تک معبودانِ باطلہ کا انکار نہ کیا جائے، امان نہیں مل سکتی! اگر کسی نے ان باتوں میں سے کسی میں بھی ذرا سا شک یا توقف کیا، تو اس کی جان اور مال کو تحفظ وامان حاصل نہیں ہوسکے گا! یہ مسئلہ کس قدر عظیم اور بڑا ہے!

اور یہ کتنا واضح اور مخالفین کے لیے کتنی بڑی قاطع دلیل کی حیثیت رکھتا ہے!

 باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے

اللہ تعالی نے فرمایا:(اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً وه یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ آپ ان سے کہیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ، جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ تعالی مجھے نقصان پہنچانا چاہے، تو کیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا اراده کرے، تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے، توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں۔)[سورہ الزُّمَر: 38]۔عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کے ہاتھ میں پیتل کا چھلہ (کڑا) دیکھا، تو فرمایا: "یہ کیا ہے؟" اُس نے کہا کہ یہ ’’واہنہ‘‘ (ایک قسم کی بیماری) کی وجہ سے پہنا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"اسے اتار دو۔ کیوں کہ یہ تمہاری بیماری میں اضافہ ہی کرے گا۔ اگر اسے پہنے ہوئے تم مر گئے، تو کبھی فلاح یاب نہیں ہوگے۔"اسے امام احمد نے ایسی سند سے روایت کیا ہے، جس میں کوئی حرج نہیں ہے۔مسند احمد ہی میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:"جس نے تعویذ لٹکایا، اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے، اور جس نے سیپ وغیرہ لٹکائی، اللہ اسے آرام و سکون نہ دے۔"ایک دوسری روایت میں ہے:"جس نے تعویذ لٹکایا، اس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا۔"ابن ابی حاتم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے ہاتھ میں بخار کی وجہ سے دھاگہ باندھا ہوا دیکھا، تو اسے کاٹ ڈالا اور یہ آیت تلاوت فرمائی:(ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں۔)[سورہ يوسف: 106]۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:کڑے، چھلّے، دھاگے اور اس قسم کی دیگر چیزیں اس طرح کے مقاصد کے لئے پہننا سخت ممنوع ہے۔دوسرا مسئلہ:اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مذکورہ صحابی بھی اس حالت میں مرجاتے کہ وہ چھلہ ان کے ہباتھ میں ہوتا, تو وہ بھی فلاح یاب نہ ہوتے۔ اس میں صحابہ کے اس موقف کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ’شرک اصغر (شرک اکبرکے علاوہ)‘ تمام کبائر س ہے۔تیسرا مسئلہ:جہالت کی وجہ سے بھی ان امور کے مرتکب کو معذور نہیں سمجھا جائے گا۔چوتھا مسئلہ:ایسی چیزیں دنیا میں بھی مفید نہیں بلکہ مضر ہیں۔ اس لیے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے: ’’یہ تمھاری بیماری کو بڑھانے کے سوا کچھ نہ کرے گا۔‘‘پانچواں مسئلہ:ایسی چیزوں کو استعمال کرنے والے شخص کو سختی سے روکنا چاہیے۔چھٹا مسئلہ:یہاں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ جس نے کوئی چیز لٹکائی اسے اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ساتواں مسئلہ:اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جس نے تعویذ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔آٹھواں مسئلہ:بخار وغیرہ کی وجہ سے دھاگہ پہننا اسی شرکیہ عمل میں سے ہے۔نواں مسئلہ:حذیفہ رضی اللہ عنہ کا آیت پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ صحابۂ کرام شرکِ اکبر کی آیات سے شرکِ اصغر پر بھی استدلال کیا کرتے تھے، جیساکہ سورہ بقرہ کی آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا ہے۔دسواں مسئلہ:نظرِ بد سے بچاؤ کے لیے سیپ باندھنا بھی یہی شرکیہ عمل ہے۔گیارہواں مسئلہ:تعویذ اور سیپ لٹکانے والے کو یہ بد دعا دی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مراد پوری نہ کرے اور اسے آرام نہ دے۔

 باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان

صحیحین میں ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ایک قاصد کو یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ((کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا پٹہ یا کسى بھی قسم کا پٹھ نظر آئے تو اسے کاٹ دیا جائے))۔اسی طرح ایک اور حدیث میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:"جھاڑ پھونک، تعویذ گنڈے اور میاں بیوى کے بیچ محبت پیدا کرنے کے لئے جادو کرنا سب شرک ہیں۔"اسے امام احمد اور ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

تمائم: (تمیمہ کی جمع) اس سے مراد ہر وہ چیز ہے، جو نظرِ بد سے بچاؤ کے لیے بچوں کے جسم پر لٹکائی یا باندھی جائے۔ تعویذ اگر قرآنی آیات پر مشتمل ہو، تو بعض سلف نے اسے جائز قرار دیا ہے اور بعض نے اس کی بھی اجازت نہ دیتے ہوئے اسے ممنوع قرار دیا ہے، جن میں سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔

رُقَی: (رقیہ کی جمع) انہیں ’عزائم‘ بھی کہا جاتا ہے۔ (اس سے مراد دم کرنا ہے)۔ واضح رہے کہ اس دم کی اجازت ہے اور اس کے جواز کی دلیل موجود ہے، جو شرک سے خالی ہو۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے نظرِ بد اور کسی زہریلے کیڑے کے کاٹ لینے پر دَم کی اجازت دی ہے۔

تِوَلہ: جادو کی ایک قسم ہے، جس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بیوی کو شوہر کا اور شوہر کو بیوی کا محبوب بنا دیتی ہے۔

عبداللہ بن عُکَیم رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:"جس شخص نے کوئی چیز لٹکائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے ۔"اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔اور امام احمد نے رُوَیفِع سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:"اے رُوَیفع! شاید تمہاری زندگی دراز ہو۔ لہٰذا تم لوگوں کو بتا دینا کہ جس آدمی نے اپنی ڈاڑھی میں گرہ لگائی، تانت کا ہار پہنا یا جانور کی نجاست یا ہڈی سے استنجا کیا، تو محمد ﷺ اس سے بری ہیں۔"

ساتھ ہی سعید بن جبیر کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : ’’جس نے کسی انسان کا ایک تعویذ کاٹ دیا، اسے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔" اسے وکیع نے روایت کیا ہے۔

اور وکیع نے ہی ابراہیم (نخعی) سے روایت کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں:’’لوگ قرآن یا غیر قرآن سے ہر قسم کے تعویذ کو حرام قرار دیتے تھے‘‘۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں ’رُقِیہ‘ (جھاڑ پھونک، دم) اور ’تمیمہ‘ (تعویذ) کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔دوسرا مسئلہ:’تِوَلہ‘ کی بھی تفسیر بیان کی گئی ہے۔تیسرا مسئلہ:(رقیہ، تمیمہ اور تِوَلہ) یہ تینوں بلا استثنا شرک ہیں۔چوتھا مسئلہ:تاہم نظرِ بد اور زہریلے جانوروں کے ڈسنے پر قرآنی آیات اور ثابت دعائیں پڑھ کر دم کرنا شرک میں سے نہیں ہے۔پانچواں مسئلہ:قرآنی تعویذات کے شرک ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں اہلِ علم کے مابین اختلاف ہے۔چھٹا مسئلہ:نظرِ بد سے بچنے کے لیے جانوروں کے گلے میں تانت باندھنا بھی شرک ہے۔ساتواں مسئلہ:اس باب میں تانت باندھنے والوں کے لیے شدید وعید ہے۔آٹھواں مسئلہ:کسی انسان کے گلے میں باندھے ہوئے تعویذ کو کاٹ پھینکنے والے کى فضیلت معلوم ہوتی ہے۔نواں مسئلہ:ابراہیم نخعی کی بات اہلِ علم کے مابین مذکورہ اختلاف کے منافی نہیں ہے، کیونکہ ان کی مراد عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔

 باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا

اللہ تعالی نے فرمایا:(کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا،اور منات تیسرے پچھلے کو؟کیا تمہارے لیے لڑکے اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہیں؟یہ تو اب بڑی بےانصافی کی تقسیم ہے۔دراصل یہ صرف نام ہیں، جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ تو صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے۔)[سورہ النَّجم: 19- 23]۔ابو واقد اللیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کی طرف نکلے۔ ابھی ہمارے کفر کے دور سے نکلنے کو زیادہ دن نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت مشرکوں کے ہاں ایک بیری کا درخت تھا، جس کے پاس وہ ٹھہرتے تھے اور اس پر اپنے ہتھیار (تبرک کے لیے) لٹکایا کرتے تھے۔ اسے 'ذات انواط' کہا جاتا تھا۔ چنانچہ ہمارا گزر بھی ایک بیری کے درخت کے پاس سے ہوا، تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے لیے بھی مشرکوں کی طرح ایک 'ذات انواط' مقرر کر دیجیے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ اکبر! یہی (گمراہی کے) راستے ہیں۔ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم لوگوں نے بالکل اسی طرح کی بات کہی ہے، جس طرح کی بات بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا: {ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کردیجیے، جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ موسی نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔} [الأعراف: 138] تم لوگ ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کی راہوں پر چل پڑوگے۔"اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں سورہ النجم کی مذکورہ آیات کی تفسیر ہے۔دوسرا مسئلہ:اس میں صحابۂ کرام کے ذاتِ انواط مقرر کرنے کے مطالبہ کی صحیح توجیہ سمجھ میں آتی ہے (کہ وہ ایسا صرف تبرک کی خاطر کرنا چاہتے تھے۔ اس درخت کو معبود بنانا اُن کا مقصود ہر گز نہیں تھا)۔تیسرا مسئلہ:یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ نے اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنایا تھا۔چوتھا مسئلہ:اس سے ان کا ارادہ صرف تقربِ الہی کا حصول تھا، کیوں کہ اُن کا گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کی باتوں کو پسند فرماتا ہے۔پانچواں مسئلہ:جب صحابۂ کرام سے شرک کی یہ قسم مخفی رہی، تو دوسرے لوگوں کا اس سے نابلد رہنا بدرجۂ اولی قرین قیاس ہے۔چھٹا مسئلہ:صحابۂ کرام کی جو نیکیاں ہیں اور اُن سے بخشش کے جو وعدے کیے گئے ہیں، وہ دوسروں کو حاصل نہیں ہوسکتے۔ساتواں مسئلہ:نبی ﷺ نے ان صحابہ کو معذور نہیں سمجھا، بلکہ ان الفاظ میں اُن کی تردید کر ڈالی:"اللہ اکبر! یہی تو (گمراہی) کے راستے ہیں! تم بھی پہلے لوگوں کے طریقوں پر چل پڑوگے۔"چنانچہ آپ ﷺ نے تین طرح سے اس سوچ کی مذمت فرمائی۔آٹھواں مسئلہ:سب سے اہم بات، جو اصل مقصود ہے، یہ ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کو بتایا کہ ان کی یہ فرمائش بنی اسرائیل کی فرمائش جیسی ہے، جنہوں نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیجیے!نواں مسئلہ:اس طرح کے تبرک کی نفی ’لا الہ الا اللہ‘ کے مفہوم میں شامل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ حقیقت بعض صحابہ سے اوجھل اور پوشیدہ رہی۔دسواں مسئلہ:آپ ﷺ نے فتوے پر قسم اٹھائی، جب کہ آپ ﷺ کسی مصلحت کے بنا قسم نہیں کھاتے تھے۔گیارہواں مسئلہ:چوں کہ صحابۂ کرام کو ایسا کہنے کی وجہ سے مرتد نہیں سمجھا گیا، اس لیے اس ثابت ہوتا ہے کہ شرک بڑا بھی ہوتا ہے اور چھوٹا بھی۔بارہواں مسئلہ:اُن صحابہ کا یہ کہنا ’’وَنَحْنُ حُدَثَاءُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ‘‘ (ہم لوگ ابھی نئے نئے حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے تھے۔) اس بات کی دلیل ہے کہ دیگر صحابہ کو اس بات کا علم تھا کہ ایسی فرمائش درست نہیں ہے۔تیرہواں مسئلہ:اظہارِ تعجب کے موقع پر ’اللہ اکبر‘ کہنے کا جواز ملتا ہے, اور یہ بات ان کے برخلاف ہے، جو اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔چودہواں مسئلہ:(شرک وبدعت کے تمام) ذرائع کا سدّ باب ہونا چاہیے۔پندرہواں مسئلہ:یہاں اہلِ جاہلیت کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔سولہواں مسئلہ:تعلیم کے وقت غصہ ہونے کا جواز۔سترہواں مسئلہ:آپ ﷺ نے ’’إِنَّهَا السُّنَنُ‘‘ فرما کر ایک عام اصول بیان کیا ہے۔اٹھارہواں مسئلہ:یہ آپ کی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کیونکہ بعد وہی ہوا، جو آپ نے بتایا تھا۔سترہواں مسئلہ:اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جن باتوں پر یہود ونصاریٰ کی مذمت کی ہے، وہ دراصل ہمارے لئے تنبیہ کی حیثیت رکھتنی ہیں۔بیسواں مسئلہ:اہلِ علم کے نزدیک یہ بات طے ہے کہ عبادات امر (حکم) کی بنیاد پر مشروع ہیں۔ اس سے قبر کے سوالوں پر تنبیہ ہوتی ہے۔ جہاں تک ’’تیرا رب کون ہے؟‘‘ کا مسئلہ ہے، تو یہ واضح ہے۔ رہا دوسرا سوال ’’تیرا نبی کون ہے؟‘‘، تو یہ نبی ﷺ کے غیبی امور کے حوالے سے خبر دینے سے متعلق ہے اور رہا تیسرا سوال’’تمہارا دین کیا ہے؟‘‘، تو اس کا تعلق اس آیتِ کریمہ ’’اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا‘‘ الخ سے ہے۔اکیسواں مسئلہ:اہلِ کتاب کے طور طریقے بھی اسی طرح مذموم ہیں، جس طرح مشرکین کے طور طریقے۔بائیسواں مسئلہ:جو شخص باطل سے تائب ہوکر حق کی طرف آتا ہے، اس کے بارے میں اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں اس کے دل میں قدیم رسوم ورواج اور تصورات کا کچھاثر باقی نہ رہ جائے، جیساکہ ابوواقد رضی اللہ عنہ کا قول ’’وَنَحْنُ حُدَثَاءُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ‘‘ (ابھی ہمارے کفر کے دور سے نکلنے کو زیادہ دن نہیں ہوئے تھے۔) اس پر دلالت کرتا ہے۔

 باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم

اللہ تعالی نے فرمایا:(آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔)[سورہ الانعام: 162،163]۔نیز فرمایا:(پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔)[سورہ الْكَوْثَر: 2].علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چار باتیں بتلائیں:"جو شخص غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کرے، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ جو شخص اپنے والدین پر لعنت کرے، اُس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ جو شخص حدودِ زمین کے نشانات کو بدلے، اُس پر بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔"اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"ایک شخص ایک مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور ایک شخص ایک مکھی ہی کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا گیا۔"

صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوا؟

آپ ﷺ نے فرمایا: "دو لوگ ایک قوم کے پاس سے گزرے، جن کا ایک بُت تھا، وہ کسی کو بھی وہاں سے چڑھاوا چڑھائے بغیر گزرنے نہیں دیتے تھے۔

اس قوم کے لوگوں نے ان دونوں میں سے ایک شخص سے کہا: کچھ چڑھاوا چڑھا دو۔

اس نے کہا: میرے پاس چڑھاوے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: کچھ چڑھا دو، ایک مکھی ہی سہی۔ چنانچہ اُس نے ایک مکھی کا چڑھاوا چڑھا دیا، تو اُن لوگوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ اس ایک مکھی کی وجہ سے جہنم میں جا پہنچا۔

اب ان لوگوں نے دوسرے شخص سے کہا: تم بھی کچھ چڑھا دو۔

اُس نے کہا: میں اللہ عزّوجلّ کے سوا کسی اور کے واسطے کوئی چڑھاوا نہیں چڑھا سکتا۔ یہ سن کر ان لوگوں نے اس کی گردن اُڑا دی۔ چنانچہ وہ جنت میں داخل ہوگیا۔"اسے احمد نے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:یہاں آیت کریمہ {إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي} الخ (میری نماز اور میری قربانی) کی تفسیر کی گئی ہے۔دوسرا مسئلہ:آیت کریمہ {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں، اور قربانی کریں ) کی تفسیر کی گئی ہے۔تیسرا مسئلہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر لعنت کرنے والے شخص پر لعنت فرمائی ہے۔چوتھا مسئلہ:جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اُس پر بھی لعنت بھیجی جاسکتی ہے۔ نیز اسی حکم میں یہ بھی داخل ہے کہ آپ کسی کے والدین پر لعنت کریں، تو جواب میں وہ بھی آپ کے والدین پر لعنت کرے۔ (اس لیے کہ آپ اس کا سبب بن رہے ہیں۔)پانچواں مسئلہ:جو کسی بدعتی کو پناہ دے وہ ملعون ہے۔ بدعتی سے مراد ایسا شخص ہے، جو کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرے، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا واجب ہو، چنانچہ وہ اس سے بچنے کے لیے کسی کی پناہ ڈھونڈے۔چھٹا مسئلہ:جو شخص حدود زمین کی نشانیوں کو بدلنے کا کام کرے، وہ بھی لعنتی ہے۔ اس سے ایسے نشانات مراد ہیں، جو آپ اور آپ کے پڑوسی کی حدودِ ملکیت کو متعین کرتے ہیں, تو ان نشانات کو آگے یا پیچھے کرکے بدلنا لعنت کا کام ہے۔ساتواں مسئلہ:کسی خاص شخص پر اور عمومی طور پر گناہ گار لوگوں پر لعنت کرنے میں فرق ہے۔آٹھواں مسئلہ:یہ مکھی والا واقعہ بڑا غیر معمولی قصہ ہے۔نواں مسئلہ:مکھی کا چڑھاوا چڑھانے والا جہنم رسید کردیا گیا، حالاں کہ اُس نے شرک کے مقصد سے ایسا نہیں کیا تھا، بلکہ اس کا مقصد ان لوگوں کے شر سے بچنا تھا۔دسواں مسئلہ:اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان والوں کے دلوں میں شرک کتنا سنگین جرم ہے کہ اس نے قتل ہونا گوارا کر لیا، لیکن ان کے مطالبے کو پورا نہیں کیا۔ حالاںکہ ان کا مطالبہ محض ایک ظاہری عمل کا تھا۔گیارہواں مسئلہ:جہنم میں جانے والا شخص بھی مسلمان تھا۔ اس لیے کہ اگر وہ کافر ہوتا، تو آپ ﷺ یہ نہیں کہتے: ’’وہ ایک مکھی کی وجہ سے جہنم رسید ہوگیا‘‘۔بارہواں مسئلہ:اس حدیث سے ایک دیگر صحیح حدیث کی تائید ہوتی ہے، جو یہ ہے:"جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔"تیرہواں مسئلہ:اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قلبی عمل ہر ایک کے نزدیک، یہاں تک کہ بُت پرستوں کے یہاں بھی سب سے اہم اور مقصودِ اعظم ہے۔

 باب : جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں

اللہ تعالی نے فرمایا:(آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وه اس ﻻئق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وه خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔)[سورہ التَّوْبَہ: 108].ثابت بن ضحّاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ چنانچہ جب اُس نے نبی ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’کیا وہاں جاہلیت کے بُتوں میں سے کوئی بُت تھا، جس کی اُس وقت پرستش کی جاتی رہی ہو؟‘‘

لوگوں نے کہا: نہیں۔

آپ ﷺ نے پھر پوچھا: "کیا وہاں مشرکین کا کوئی میلہ لگتا تھا؟"

انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:"تم اپنی نذر پوری کرلو۔ یاد رکھو، جو نذر اللہ تعالیٰ کی معصیت پر مبنی ہو، اسے پورا کرنا درست نہیں اور اسی طرح جس نذر کو پورا کرنا انسان کے بس میں نہ ہو، اسے بھی پورا کرنا ضروری نہیں۔"اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں آیت کریمہ ’’لاَ تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا‘‘ الخ کی تفسیر ہے۔دوسرا مسئلہ:اللہ کی اطاعت و نافرمانی بسا اوقات زمین پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔تیسرا مسئلہ:کوئی مشکل مسئلہ درپیش ہو تو اُسے سمجھانے کے لیے دوسرا واضح مسئلہ پیش کرنا چاہیے، تاکہ اشکال دور ہوجائے۔چوتھا مسئلہ:بوقتِ ضرورت مفتی سائل سے (پیش آمدہ مسائل کے بارے میں) تفصیلات طلب کرسکتا ہے۔پانچواں مسئلہ:کسی خاص جگہ کو منت اور نذر ماننے کے لیے مخصوص کرنے میں کوئی قباحت نہیں، بشرطیکہ اس میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو۔چھٹا مسئلہ:نذر پوری کرنے کے لیے وہ جگہ ممنوع ہے، جہاں زمانۂ جاہلیت میں کوئی بُت رہا ہو، خواہ اُسے اب وہاں سے ختم کردیا گیا ہو۔ساتواں مسئلہ:نیز ایسی جگہ پر نذر پوری نہیں کی جاسکتی، جہاں مشرکین کا کوئی میلہ یا تہوار منایا جاتا رہا ہو، گرچہ اب وہ سلسلہ ختم ہوگیا ہو۔آٹھواں مسئلہ:اگر کسی نے اس طرح کی جگہوں میں کچھ کرنے کی نذر مانی، تو اسے پورا کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ نافرمانی کی نذر ہے۔نواں مسئلہ:اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تہوار کے معاملے میں بھی مشرکوں کی مشابہت سے بچنا چاہیے، گرچہ ان کی مشابہت بذات خود مقصود ہو۔دسواں مسئلہ:اللہ تعالیٰ کی معصیت والی نذر جائز نہیں ہے۔گیارہواں مسئلہ:جو امر انسان کی وسعت اور طاقت میں نہ ہو، اس کی نذر ماننا بھی جائز نہیں ہے۔

 باب : غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے

اللہ تعالی نے فرمایا:(جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں، جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے۔)[سورہ الانسان: 7]۔نیز فرمایا:(تم جتنا کچھ خرچ کرو اور جو کچھ نذر مانو، اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے۔)[سورہ البقرہ: 270].اور صحیح بخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی، وہ اس کی اطاعت کرے، اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی، وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔"

 اس باب کے اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔دوسرا مسئلہ:جب یہ ثابت ہوگیا کہ نذر بھی اللہ کی عبادت میں شامل ہے، تو اسے غیراللہ کے لیے ماننا اور پورا کرنا سراسر شرک ہوگا۔تیسرا مسئلہ:اللہ کی نافرمانی پر مبنی نذر کو پورا کرنا جائز نہیں ہے۔

 باب : غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے

اللہ تعالی نے فرمایا:(بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناه طلب کیا کرتے تھے، جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے۔)[سورہ الْجِن: 6].خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:"جو شخص کسی جگہ پڑاؤ کرے اور یہ دعا پڑھ لے: (أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ) ,"میں اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کے شر سے اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں"، تو اُس کے وہاں سے کوچ کرنے تک اُسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔"اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں سورۂ جن کی آیت کی تفسیر ہے۔دوسرا مسئلہ:اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنوں کی پناہ لینا شرک ہے۔تیسرا مسئلہ:اس مسئلے پر مذکورہ بالا حدیث سے استدلال کیا جاسکتا ہے؛ کیوںکہ علما نے اس سے اس بنیاد پر استدلال کیا ہے کہ اللہ کے کلمات مخلوق نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ایسا اس لیے کہ مخلوق سے پناہ مانگنا شرک ہے۔چوتھا مسئلہ:اس مختصر ترین دعا کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔پانچواں مسئلہ:کسی چیز سے دنیوی منفعت کا حصول، مثلا کسی بُرائی سے تحفظ یا کسی فائدے کا حصول، اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ شرک نہیں ہے۔

 باب : غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پُکارنا شرک ہے

اللہ تعالی نے فرمایا:(اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا، جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے۔ پھر اگر ایسا کیا، تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔اور اگر تم کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے، تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے واﻻ نہیں ہے اور اگر وه تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہے، تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے واﻻ نہیں۔ وه اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کردے اور وه بڑی مغفرت بڑی رحمت واﻻ ہے۔)[سورہ يُونُس: 106،107]۔نیز فرمایا:(پس تم اللہ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکر گزاری کرو۔ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔)[سورہ الْعَنْكَبُوت: 17]۔نیز فرمایا:(اور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا، جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے، جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں، بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں۔اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا، تو یہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے۔)[سورہ احْقَاف: 5،6]۔نیز فرمایا:(کون ہے، جو بے کس کی پکار کو، جب وہ پکارے، قبول کرکے پریشانی کو دور کرتا ہے اور تمھیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی معبود ہے؟)[سورہ النمل: 62]۔طبرانی نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک منافق تھا، جو مسلمانوں کو بہت تکلیف پہنچایا کرتا تھا۔ چنانچہ چند صحابہ نے: کہا کہ چلو اس منافق سے گلو خلاصی کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے استغاثہ (فریا طلب) کرتے ہیں۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا:"دیکھو! مجھ سے فریاد نہیں کی جاسکتی، بلکہ فریاد صرف اللہ سے کی جاتی ہے۔"

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:یہاں استغاثہ پر دعا کا عطف، خاص پر عام کے عطف کے قبیل سے ہے۔ (مطلب یہ ہے کہ دعا عام ہے اور استغاثہ خاص۔)دوسرا مسئلہ:اس سے آیت کریمہ: {وَلاَ تَدْعُ مِن دُونِ اللهِ مَا لاَ يَنفَعُكَ وَلاَ يَضُرُّكَ} (اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے) کی تفسیر ہوتی ہے۔تیسرا مسئلہ:غیر اللہ کو پُکارنا شرک اکبر ہے۔چوتھا مسئلہ:اگر کوئی انتہائی برگزیدہ ترین شخص بھی غیر اللہ کی رضامندی کے حصول کے لیے اسے پکارے، تو وہ بھی ظالموں میں شمار ہوگا۔پانچواں مسئلہ:اس سے {ولا تدعُ مِنْ دونِ اللهِ} کے بعد والی آیت کی بھی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔چھٹا مسئلہ:غیر اللہ کو پُکارنا کفر ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں مفید بھی نہیں ہے۔ساتواں مسئلہ:اس سے تیسری آیت: {فابتغوا عِندَ اللہِ الرِّزقَ} کی بھی تفسیر ہوتی ہے۔آٹھواں مسئلہ:اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے روزی مانگنا بالکل اسی طرح نامناسب عمل ہے، جس طرح اس کے سوا کسی اور سے جنت مانگنا۔نواں مسئلہ:اس سے چوتھی آیت کریمہ: {وَمَنْ أضَلُّ} کی بھی تفسیر ہوتی ہے۔دسواں مسئلہ:اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ غیر اللہ کو پُکارنے والے سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ نہیں ہوسکتا۔گیارہواں مسئلہ:اللہ کے سوا جنہیں پُکارا جاتا ہے، وہ پُکارنے والے کی پُکار سے غافل ہیں (اور انہیں معلوم ہی نہیں کہ کوئی انہیں پُکار رہا ہے۔)بارہواں مسئلہ:وہ لوگ جنہیں پُکارا جاتا ہے، اسی پکار کی وجہ سے، قیامت کے دن پُکارنے والوں کے دشمن ہوجائیں گے۔تیرہواں مسئلہ:غیر اللہ کو پُکارنے کو ان کی عبادت سے موسوم کیا گیا ہے۔چودہواں مسئلہ:جن کو پُکارا جاتا ہے، وہ (قیامت کے دن) اس پُکار ( عبادت) کا انکار کردیں گے۔پندرہواں مسئلہ:یہ ساری چیزیں غیراللہ کو پُکارنے والے کو گمراہ ترین شخص بنا دیتی ہیں۔سولہواں مسئلہ:اس سے پانچویں آیت: {أمَّنْ یُجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذا دَعاہُ} کی بھی تفسیر ہوتی ہے۔سترہواں مسئلہ:سب سے حیران کُن بات تو یہ ہے کہ بُتوں کی پوجا کرنے والے بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پریشان حال کی حاجت روائی صرف اللہ ہى کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مصیبت کے وقت صرف اللہ کو پُکارتے ہیں, اس کے لئے اپنى دعا کو خالص کرتے ہوئے۔اٹھارہواں مسئلہ:اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ نے توحید کی مکمل حفاظت فرمائی ہے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ادب واحترام کی تعلیم دی ہے۔باب: فرمانِ باری تعالیٰ:(کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وه خود ہی پیدا کیے گئے ہوںاور وه ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وه خود بھی مدد نہیں کرسکتے؟)[سورہ اعْرَاف: 191،192]۔نیز فرمایا:(جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو، وه تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔اگر تم انہیں پکارو، تو وه تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر بالفرض سن بھی لیں، تو فریاد رسی نہیں کریں گے، بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے۔ آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا۔)[سورہ فَاطِر:13،14].اور صحیح میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہنبی ﷺ غزوۂ احد میں زخمی ہوگئے اور آپ ﷺ کا ایک رباعی دانت(سامنے کے بعض دانتوں کو عربی مین رباعی دانت کہتے ہیں) ٹوٹ گیا، جس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "ایسی قوم کیسے کامیاب ہوسکتی ہے، جس نے اپنے نبی کو زخمی کردیا؟"اس پر یہ آیت نازل ہوئی: (اے نبی! اس معاملے میں آپ ﷺ کو کچھ اختیار نہیں!)[سورہ آل عِمْرَان: 28].اور صحیح ہی میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے فجر کی نماز کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھایا اور ’سمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا ولکَ الحَمْدُ‘ کہہ چکے، تو انہوں نے آپ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا:’’اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔"جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:(اے نبی! اس معاملے میں آپ ﷺ کو کچھ بھی اختیار نہیں۔)[سورہ آل عِمْرَان: 28]۔جب کہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام پر بد دعا فرما رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی:(اے نبی! اس معاملے میں آپ ﷺ کو کچھ بھی اختیار نہیں۔)[سورہ آل عِمْرَان: 28]۔اور صحیح ہی میں ایک دیگر جگہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ پر آیت کریمہ {وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} [الشُّعَرَاء:214] (اے نبی! آپ اپنے قرابت داروں کو ڈرا دیں) نازل ہوئی، تو آپ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا:"اے قریش کی جماعت! -یا اس طرح کا کوئی دوسرا لفظ استعمال کیا- اپنی جانوں کو خرید لو! اللہ کے ہاں میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ اے عباس بن عبد المطلب! اللہ کے ہاں میں آپ کے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے میری پھوپھی صفیہ! اللہ کے ہاں میں آپ کے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے میری بیٹی فاطمہ! میرے مال سے جو چاہو مانگ لو، لیکن اللہ کے ہاں میں تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔"

 اس باب کے کچھ ہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس سے سابقہ دونوں آیتوں (جن میں مخلوق کو پُکارنے سے منع کیا گیا ہے) کی تفسیر ہوتی ہے۔دوسرا مسئلہ:اس میں جنگ اُحد کا تذکرہ ہے۔تیسرا مسئلہ:سید المرسلین ﷺ کا نماز میں قنوتِ نازلہ پڑھنا اور آپ ﷺ کے پیچھے صحابہ کا آمین کہنا بھی اس سے ثابت ہوتا ہے۔چوتھا مسئلہ:جن کے حق میں بد دعا کی گئی ہے، وہ کافر تھے۔پانچواں مسئلہ:ان کافروں نے ایسے بُرے کام کیے تھے ،جو اکثر کافروں نے نہیں کیے تھے؛ مثلا ان کا اپنے نبی ﷺ کو زخمی کرنا، ان کے قتل کى کوشش کرنا اور مسلمان شہدا کا مُثلہ کرنا وغیڑہ، جب کہ وہ مسلمانوں کے رشتے ناطے ہی کے لوگ تھے۔چھٹا مسئلہ:اللہ تعالیٰ نے اس بدسلوکی اور آپ ﷺ کی بددعا کرنے پر یہ آیت نازل فرمائی: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ۔} (اے نبی! اس معاملے میں آپ ﷺ کو کچھ اختیار نہیں۔)ساتواں مسئلہ:اللہ تعالی کا اس فرمان: {أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ} (کہ اللہ تعالیٰ ان کفار کو معافی دے دے گا یا انہیں عذاب دے دے گا) کے بارے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا اور وہ ایمان لے آئے۔آٹھواں مسئلہ:حادثات کے وقت قنوتِ نازلہ پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔نواں مسئلہ:نماز کے دوران قنوتِ نازلہ میں کسی مخصوص شخص اور اس کے آبا واجداد کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں۔دسواں مسئلہ:قنوتِ نازلہ میں کسی معین شخص کا نام لے کر اس پر لعنت بھیجنا جائز ہے۔گیارہواں مسئلہ:یہاں ان باتوں کا بھی ذکر ہے، جن کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے خاندان کے ایک ایک آدمی کو بلاکر اس آیت کے نزول کے بعد یقین دہانی کرائی:{وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ۔} (اور آپ اپنے قرابت داروں کو عذابِ الہی سے ڈرا دیں!)بارہواں مسئلہ:آپ ﷺ نے توحید کی دعوت کی خاطر اس حد تک تگ و دو کی کہ آپ کو مجنوں تک کہا گیا اور یہی حال آج بھی ہوتا ہے، جب کوئی مسلمان اس کام کو انجام دیتا ہے۔تیرہواں مسئلہ:آپ ﷺ نے اپنے قریبی اور دور کے، دونوں طرح کے قرابت داروں سے فرما دیا: ’’میں تمہیں اللہ کے عذاب سے بالکل بچا نہیں سکتا۔‘‘یہاں تک کہ آپ ﷺ نے یہ بھی کہہ دیا: "اے فاطمہ بنتِ محمد! میں اللہ کے ہاں تمہارے بھی کسی کام نہیں آسکتا!"

جب آپ ﷺ سید المرسلین ہونے کے باوجود سارے جہان کی خواتین کی سردار سے فرمائیں کہ میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا اور انسان کا اس بات پر ایمان بھی ہو کہ آپ ﷺ حق کے سوا کچھ نہیں کہتے، اور اس کے بعد وہ موجودہ حالات کا جائزہ لے اور خواص الناس کے دلوں میں واقع پذیر چیز کے بارے میں غور وفکر کرىے، تو اس کے سامنے توحید خالص کا ترک اور دین کی اجنبیت عیاں ہو جاتی ہے۔

 باب: فرمانِ باری تعالیٰ: {حَتَّىٰ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا الْحَقَّ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ۔} (یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتےجواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وه بلند وباﻻ اور بہت بڑا ہے۔) [سورہ سبأ: 23]

اور صحیح بخاری میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے، تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے سامنے عاجزی کے طور اس طرح پر مارتے ہیں، کہ اس وقت ایسى آواز پیدا ہوتی ہے کہ گویا کسى صاف پتھر پر زنجیر کے پڑنے کى آواز ہو۔ یہ فرمان ان فرشتوں تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے، تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: تمھارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ تو وہ جو کچھ اللہ نے فرمایا ہوتا ہے، اس کے متعلق کہتے ہیں کہ بالکل بر حق ہے اور وہی سب سے بلند و برتر ہے۔ پھر سنی ہوئی بات کو چوری کرنے والے شیاطین بھی سن لیتے ہیں اور چوری کرنے والے شیاطین اس طرح ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوتے ہیں۔ سفیان نے اپنی ہتھیلی سے اس کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ہتھیلی کو ٹیڑھا کیا اور انگلیوں کے درمیان فاصلہ کیا۔ بہرحال وہ اس کلمۂ حق کو سن کر اپنے نیچے والے تک پہنچاتا ہے اور ہر دوسرا اپنے سے نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے کسی جادوگر یا نجومی کے کان میں ڈال دیتا ہے۔ پھر کبھی تو اس کے پہنچانے سے پہلے ہی شہاب ثاقب اسے پا لیتا ہے اور کبھی اس کى پکڑ میں آنے سے پہلےوہ کلمہ پہنچا لیتا ہے، پھر وہ ساحر یا نجومی اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا لیتا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے: کیا فلاں اور فلاں دن اس نے ہم سے اس اس طرح نہیں کہا تھا؟ تو وہ کلمہ جو آسمان سے سنا گیا تھا، اس کی وجہ سے اس کے جھوٹ کو بھی سچ سمجھاجاتا ہے۔"اور نوّاس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب اللہ تعالیٰ کسی بات کی وحی کا ارادہ فرماتا ہے، تو وہ اس وحی کا تکلم فرماتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے تمام آسمانوں پر دہشت اور کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ جب آسمان والے اس آواز کو سنتے ہیں، تو بے ہوش ہو جاتے ہیں اور اللہ کے لئے سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ پھر سب سے پہلے جبریل علیہ السلام سر اُٹھاتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنی وحی میں سے جو چاہتا ہے، اس کے ساتھ ان سے گفتگو فرماتا ہے۔ پھر جبریل فرشتوں کے پاس سے گزرتے ہیں۔ جب جب وہ کسی آسمان سے گزرتے ہیں، تو اس کے فرشتے پوچھتے ہیں کہ اے جبریل! ہمارے رب نے کیا فرمایا ہے؟

تو جبریل علیہ السلام کہتے ہیں: اس نے حق فرمایا ہے اور وہ بلند مقام والا اور بزرگ وبرتر ہے۔ پھر سارے فرشتے یہی الفاظ پُکارتے ہیں۔ پھر جبریل علیہ السلام اس وحی کو، جہاں اللہ عزّ وجلّ کا حکم ہوتا ہے، پہنچا دیتے ہیں۔‘‘

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:آیتِ کریمہ: {قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ} کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔دوسرا مسئلہ:اس آیت میں شرک کے باطل ہونے کی دلیل موجود ہے۔ بالخصوص ایسے شرک کی، جس کا تعلق صالحین امت سے ہے۔ یہی وہ آیت ہے، جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ آیت دل سے شرک کے پیڑ کی جڑوں کو کاٹ پھینکتی ہے۔تیسرا مسئلہ:اس میں اس آیتِ کریمہ کی بھی تفسیر ہے:{قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ۔} (انھوں نے کہا کہ اس نے بجا فرمایا ہے اور وہ بلند مقام اور بزرگ وبرتر ہے۔)چوتھا مسئلہ:اس کے بارے میں فرشتوں کے سوال کرنے کا سبب بھی اس میں مذکور ہے۔پانچواں مسئلہ:فرشتوں کے سوال پر جبریل علیہ السلام انہیں یہ کہتے ہوئے جواب دیتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے ایسا ایسا فرمایا ہے۔‘‘چھٹا مسئلہ:یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ (جب سب فرشتے بے ہوش ہوجاتے ہیں، تو ) جبریل علیہ السلام سب سے پہلے اپنا سر اٹھاتے ہیں ۔ساتواں مسئلہ:جبریل علیہ السلام سارے آسمان والوں کو یہ جواب دیتے ہیں، اس لیے کہ سبھی اُن سے یہ سوال پوچھتے ہیں۔آٹھواں مسئلہ:بے ہوشی اور غشی سارے آسمانوں کے فرشتوں پر طاری ہوتی ہے ۔نواں مسئلہ:سارے آسمان اللہ کے کلام سے لرز اٹھتے ہیں۔دسواں مسئلہ:جبریل علیہ السلام ہی وہ فرشتے ہیں، جو اللہ کے حکم سے اُس کی وحی کو وہاں پہنچاتے ہیں، جہاں کا حکم ہوتا ہے۔گیارہواں مسئلہ:یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ شیاطین چوری چھپے اللہ تعالیٰ کی باتیں سنتے ہیں۔بارہواں مسئلہ:اس غرض سے ان کے ایک دوسرے کے اوپر سوار ہونے کی کیفیت۔تیرہواں مسئلہ:ان شیاطین پر شہابِ ثاقب سے وار کیا جاتا ہے۔چودہواں مسئلہ:بعض اوقات کاہن تک بات پہنچانے سے پہلے ہی شیطان شہاب کی زد میں آ جاتا ہے۔

جب کہ کبھی شہاب کی زد میں آنے سے پہلے ہی وہ اپنے انسانی دوست تک بات پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

پندرہواں مسئلہ:بعض اوقات کاہن کی بات صحیح بھی ثابت ہوجاتی ہے۔سولہواں مسئلہ:کاہن اس ایک صحیح بات میں سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔سترہواں مسئلہ:کاہن کی ان ساری جھوٹی باتوں کی لوگ محض اس لیے تصدیق کر دیتے ہیں، کیوں کہ آسمان سے سُنی ہوئی ایک بات صحیح نکل جاتی ہے۔اٹھارہواں مسئلہ:انسانی نفوس باطل کو بہت جلد قبول کرلیتے ہیں۔ یہ غور کرنے کا مقام ہے کہ بھلا لوگ ایک بات سے کیسے چمٹ جاتے ہیں اور سو باتوں پر بالکل توجہ نہیں دیتے!!سترہواں مسئلہ:شیاطین اس ایک بات کو ایک دوسرے سے حاصل کرتے جاتے ہیں

اور اسے محفوظ کر لیتے ہیں اور اس کی بنیاد پر دوسری جھوٹی باتوں کے صحیح ہونے پر استدلال کرتے ہیں۔

بیسواں مسئلہ:اس سے صفاتِ باری تعالیٰ کا انکار کرنے والے اشاعرہ کے برخلاف اللہ کی صفات کا اثبات ہوتا ہے۔اکیسواں مسئلہ:اس بات کی صراحت موجود ہے کہ یہ دہشت اور کپکپی

اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہوتی ہے۔

بائیسواں مسئلہ:فرشتے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔

 باب : شفاعت کا بیان

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:(اور ایسے لوگوں کو ڈرائیے، جو اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی ان شفیع ہوگا، اس امید پر کہ وه ڈر جائیں۔)[سورہ انعام: 51].مزید فرمایا:(کہہ دیجیے کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے۔)[سورہ الزُّمَر: 44].مزید فرمایا:(کون ہے، جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کر سکے؟)[سورہ الْبَقَرَہ: 255].مزید فرمایا:(آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آ سکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے، جس کے لیے وہ کوئی عرض داشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے۔)[سورہ النَّجْم: 26].مزید فرمایا:(کہہ دیجیے کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے، سب کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذره کا اختیار ہے، نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے، نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ شفاعت (سفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی، بجز ان کے جن کے لیے اجازت ہوجائے۔)[سورہ سَبَأ: 22،23].ابو العباس علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ نے اپنے علاوہ ساری مخلوقات کے اندر ان سارے اوصاف کے ہونے کی نفی کر دی ہے، جن کی بنیاد پر مشرکین انھیں پکارا کرتے تھے۔ مثلا ان کا دنیا کے نظام کو چلانے میں مؤثر ہونا، یا اس میں ان کی کوئی حصے داری ہونا یا اس معاملے میں ان کا اللہ کا معاون ہونا وغیرہ۔ اب صرف شفاعت باقی رہی۔ لیکن اس کے بارے میں بھی واضح کر دیا ہے کہ شفاعت سے اسی کو فائدہ ہوگا، جس کے حق میں اللہ کی جانب سے شفاعت کی اجازت ہو۔ اس کا فرمان ہے:(وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے، بجز اُس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو-)[سورہ الأَنْبِيَاء: 28]۔

چنانچہ یہ سفارش، جس کے زعم میں مشرکین مبتلا ہیں، قیامت کے دن ناپید ہو جائے گی، جیساکہ قرآن نے اس کی نفی کی ہے, اور پیارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے:

"آپ ﷺ قیامت کے دن اللہ کے سامنے حاضر ہو کر پہلے سفارش کرنے کی بجائے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جائیں گے اور اس کی حمد وثنا کریں گے۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیں اور بات کریں، آپ ﷺ کی بات سُنی جائے گی۔ آپ مانگیں، آپ کی مانگیں پوری کی جائیں گی۔ آپ سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔"

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سب سے زیادہ خوش نصیب کون ہے، جو آپ کی سفارش کا حق دار ہوگا؟آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے خلوصِ دل سے کلمہ 'الا الٰہ الّا اللہ' کا اقرار کیا ہوگا!‘‘

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ شفاعت اللہ کی اجازت سے صرف مخلص مؤمنوں کو حاصل ہوگی۔ اُن لوگوں کو قطعی نہیں، جنہوں نے اللہ کا ساجھی ٹھہرایا ہوگا۔

اسے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ پاک اور برتر اللہ اپنے مخلص مؤمن بندوں کے ساتھ فضل و کرم کا معاملہ کرتے ہوئے، اپنے اس بندے کی دعا کی بدولت، جسے اس کی جانب سفارش کی اجازت کا اعزاز اور مقام محمود حاصل ہوگا، ان کی مغفرت فرما دے گا۔

چنانچہ جس شفاعت کا قرآن نے انکار کیا ہے، اس سے مراد وہ شفاعت ہے، جس میں شرک کی آمیزش ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنی اجازت سے شفاعت کا اثبات کیا ہے اور نبی ﷺ نے صاف صاف فرمایا ہے کہ شفاعت صرف اہلِ توحید و اخلاص کے لیے ہوگی۔"علامہ ابن تیمیہ کی بات ختم ہوئی۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:مذکورہ آیتوں کی تفسیر ہوتی ہے۔دوسرا مسئلہ:یہاں اس شفاعت کی صفت بیان کی گئی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔تیسرا مسئلہ:اس شفاعت کی بھی صفت موجود ہے، جو قابلِ قبول ہے۔چوتھا مسئلہ:یہاں شفاعتِ کبریٰ کا بھی ذکر ہے۔

اسی کو مقامِ محمود بھی کہتے ہیں۔

پانچواں مسئلہ:یہاں آپ ﷺ کی شفاعت کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ جاتے ہی شفاعت نہیں کریں گے، بلکہ سب سے پہلے اللہ کے سامنے سر بسجود ہو جائیں گے اور

پھر اللہ کى طرف سے اجازت ملنے پر شفاعت کریں گے۔

چھٹا مسئلہ:یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں، جنھیں یہ سعادت حاصل لوگی؟ساتواں مسئلہ:یہ شفاعت مشرکین کو حاصل نہیں ہوگی۔آٹھواں مسئلہ:شفاعت کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے۔باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان :(آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے۔)[سورہ الْقَصَص: 56]۔صحیحین میں ابن مسیّب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی موت کا وقت قریب آیا، تو ان کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ اس وقت ان کے پاس عبد اللہ بن ابی امیہ اور ابوجہل بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اُن سے کہا:"اے چچا جان! کلمہ ’لا اِلٰہ اِلّا اللہ‘ کا اقرار کرلیں، میں آپ کے لیے یہی کلمہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بطورِ حجت پیش کروں گا۔"

لیکن ان دونوں نے کہا: کیا تم عبد المطلب کا مذہب چھوڑ دو گے؟

پھر نبی ﷺ نے اپنی بات دہرائی اور اُن دونوں نے بھی دہرائی۔ ایسے میں ابوطالب نے آخر میں یہی کہا کہ وہ عبد المطلب کے مذہب پر قائم ہیں اور انہوں نے کلمۂ ’لا الٰہ اِلّا اللہ‘ پڑھنے سے انکار کردیا۔

مگر نبی ﷺ نے فرمایا: "جب تک مجھے آپ کے حق میں دعا کرنے سے روکا نہیں جاتا، میں آپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا۔"

اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی:(نبی اور دوسرے مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، اگرچہ وه رشتہ دار ہی ہوں، اس امر کے ﻇاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔)[سورہ توبہ: 113]۔اور ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی:"آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔"[سورہ الْقَصَص: 56]۔

 ان باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں آیت کریمہ: {إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ۔} (آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔) کی تفسیر ہے۔دوسرا مسئلہ:نیز اس آیت کی بھی تفسیر ہے: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالذينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ۔} (نبی اور دوسرے مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں۔)تیسرا مسئلہ:یہ بہت اہم مسئلہ ہے اور آپ کے فرمان: ’’قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ‘‘ کی ایسی تفسیر پر مبنی ہے، جو بہت سے علم کے دعوے داروں کی تفسیر سے الگ ہے۔چوتھا مسئلہ:نبی ﷺ جب ابوطالب کو کلمہ 'لاالٰہ الّا اللہ' کی تلقین کر رہے تھے، تو ابو جہل اور اس کے ساتھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مراد کو بخوبی سمجھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کا بُرا کرے، جن سے زیادہ اسلام کی بنیاد کے بارے میں ابوجہل جانتا تھا۔پانچواں مسئلہ:نبی ﷺ نے اپنے چچا کو اسلام کا کلمہ پڑھانے کی پوری کوشش کی۔چھٹا مسئلہ:اس سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جن کا خیال ہے کہ عبدالمطلب اور ان کے آبا واجداد مسلمان تھے۔ساتواں مسئلہ:آپ ﷺ نے ابوطالب کے لیے مغفرت کی دعا کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ اُن کی مغفرت نہیں فرمائی، بلکہ آپ کو آئندہ ایسا کرنے سے منع بھی کردیا۔آٹھواں مسئلہ:انسان کو بُرے لوگوں کی صحبت کا نقصان ہوتا ہے۔نواں مسئلہ:اسلاف اور اکابرین کی تعظیم میں (غلو) نقصان دہ ہے۔دسواں مسئلہ:اہلِ باطل اس سلسلے میں ابوجہل کے استدلال کی وجہ سے غلط فہمی کے شکار ہوئے ہیں۔گیارہواں مسئلہ:اعمال کا دار و مدار آخری اعمال پر ہوتا ہے۔ اس لیے اگر ابوطالب نے یہ کلمہ پڑھ لیا ہوتا، تو انہیں ضرور فائدہ ہوتا۔بارہواں مسئلہ:اس بات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ گمراہ لوگوں کے یہاں اسلاف اور اکابرین کی تعظیم کی کس قدر غزت ہے؛ کیوں کہ ابوطالب کے اس قصہ میں مذکور ہے کہ سرداران مکہ اسی کو دلیل بناکر ابو طالب سے اپنے سابقہ دین پر اڑے رہنے کا مطالبہ کرتے رہے اور اسی کو کافی جانا، جب کہ آپ ﷺ پر زور طریقے سے اور باربار ان کو کلمہ پڑھانے کی کوشش کرتے رہے۔

 باب : بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔

اللہ عزوجل کا فرمان ہے:(اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارے میں غلو نہ کرو اور اللہ پر بجز حق کے اور کچھ نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تو صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شده) ہیں، جسے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈال دیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں۔)[سورہ النِّسَاء: 171]۔صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان:(اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو چھوڑنا۔) کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:[سورہ نُوح: 23]

"یہ سب قومِ نوح کے بزرگ لوگ تھے۔ جب وہ سب مرگئے، تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ یہ نیک لوگ جہاں بیٹھا کرتے تھے، وہاں بطورِ یاد گار پتھر نصب کر دو اور ان پتھروں کو ان کے ناموں سے موسوم کردو۔ چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ تاہم اُن پتھروں کو پوجا اس وقت شروع نہیں ہوئی۔ لیکن جب وہ لوگ مر گئے اور علم اٹھا لیا گیا، تو ان کی پرستش کرنا شروع ہوگئی۔"

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’سلف میں سے کئی حضرات فرماتے ہیں: جب وہ سب مر گئے، تو اُن کی قبروں پر وہ مجاور بن کر بیٹھ گئے اور پھر ان کے اسٹیچو بنا لیے۔ لیکن جب لمبا وقت گزر گیا، تو ان کی عبادت کرنے لگے۔‘‘اور عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"میری تعریف میں حد سے نہ گزرو، جیسے نصارى عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض ایک بندہ ہوں۔ اس لیے کہو کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔" اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"غلو سے بچو۔ کیوں کہ تم سے پہلے لوگوں کو غلو ہی نے ہلاک کیا ہے۔"صحیح مسلم میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "حد سے تجاوز کرنے والے اور بہ تکلف سختی اپنانے والے ہلاک ہو گئے۔"آپ ﷺ نے یہ بات تین بار کہی۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:جو شخص اس باب اور اس کے بعد کے دو ابواب کو سمجھ لے گا، اس کے سامنے اسلام کی اجنبیت واضح ہو جائے گی

اور اسے اللہ کی قدرت اور دلوں کو پھیرنے میں اس کے عجیب وغریب کرشمے نظر آئیں گے۔

دوسرا مسئلہ:یہاں یہ معلوم ہوا کہ روئے زمین پر سب سے پہلا شرک بزرگوں کی شان میں مغالطے کی وجہ سے رونما ہوا۔تیسرا مسئلہ:یہ بھی معلوم ہوا کہ سب سے پہلے کس چیز کے ذریعے انبیا کے دین کو بدلا گیا اور اللہ کے بھیجے ہوئے ان نبیوں کے لائے ہوئے دین میں تبدیلی کے کیا اسباب تھے۔چوتھا مسئلہ:لوگ بدعات وخرافات کو جلد قبول کر لیتے ہیں، حالاںکہ الہی شریعتیں اور فطرتِ سلیمہ ان چیزوں کو قبول نہیں کرتی۔پانچواں مسئلہ:شرک شروع ہونے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حق اور باطل کو باہم خلط ملط کر دیا گیا تھا۔ (اور اس کے دو اسباب تھے:)

پہلا سبب: بزرگوں کی محبت میں غلو۔

دوسرا سبب: بعض اہلِ علم اور دین پسند لوگوں کے ایسے کام، جنہیں انہوں نے اچھا سمجھ کر انجام دیا، مگر بعد میں آنے والوں نے سمجھا کہ ان کا اس کام سے مقصد کچھ اور ہی تھا۔

چھٹا مسئلہ:یہاں سورہ نوح کی اس آیت کی تفسیر بیان کردی گئی ہے، جس میں مختلف بتوں کے نام ہیں۔ساتواں مسئلہ:انسان کی فطرت ہی کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ اس کے دل میں حق کے اثرات گھٹتے ہیں اور باطل کے اثرات بڑھتے ہیں۔آٹھواں مسئلہ:اس سے سلف کے اس قول کا ثبوت ملتا ہے کہ بدعتیں کفر کا سبب بنتی ہیں۔نواں مسئلہ:شیطان اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ بدعت کا انجامِ کار کیا ہے، گرچہ بدعت کو رائج کرنے والے کی نیت اچھی ہی کیوں نہ رہی ہو۔دسواں مسئلہ:اس سے ایک کلی قاعدہ اور اصول ثابت ہوتا ہے کہ غلو سے بچنا چاہیے اور غلو تک لے جانے والے امور کو بھی جاننا چاہیے ۔گیارہواں مسئلہ:کسی بزرگ کی قبر پر کوئی نیک عمل کرنے کے لیے بیٹھنا انتہائی نقصان دہ ہے۔بارہواں مسئلہ:مجسمہ سازی کی ممانعت اور ان کو ختم کرنے کی حکمت کى معرفت۔تیرہواں مسئلہ:اس سے آغاز شرک کی کہانی کى خطورت سمجھ میں آتی ہے اور اسے جاننے کی ضرورت کا بھی علم ہوتا ہے، جب کہ اکثر لوگ اس سے غافل اور نا آشنا ہیں۔چودہواں مسئلہ:کتنے تعجب کی یہ بات ہے کہ لوگ اس قصہ کو تفسیر اور حدیث کی کتابوں میں پڑھتے ہیں اور اس کا مفہوم بھی سمجھتے ہیں،لیکن اللہ نے ان کو حق تک پہونچنے سے دور رکھا اور انھوں نے یہ عقیدہ پال لیا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کا یہ عمل افضل ترین عبادت ہے اور یہ عقیدہ بھی رکھنے لگے کہ جس چیز سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے وہ جان اور مال کو مباح کرنے والا کفر ہے۔پندرہواں مسئلہ:یہاں اس بات کی صراحت ہے کہ اُن بتوں کی پرستش کرنے والوں کا ارادہ صرف یہ تھا کہ یہ بزرگ ہمارے سفارشی ہیں۔سولہواں مسئلہ:بعد کے مشرکوں کو یہ وہم ہو گیا کہ اُن کے سابق علما نے ان بزرگوں کی تصویریں عبادت کے لیے بنائی تھیں۔سترہواں مسئلہ:اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے اس فرمان میں بہت بڑی اور اہم بات کہی ہے: "تم میری تعریف میں اس طرح مبالغہ نہ کرنا، جس طرح نصارى نے عیسیٰ ابن مریم کی شان میں کیا تھا۔" سو آپ ﷺ پر اللہ کا درود وسلام نازل ہو، بلا شبہ آپ نے واضح طور پر تبلیغ کا حق ادا کردیا تھا۔اٹھارہواں مسئلہ:آپ ﷺ نے أپنے اوپر بہ تکلف سختی اپنانے والوں اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی ہلاکت کی خبر دے کر ہماری بڑی خیرخواہی کی ہے۔سترہواں مسئلہ:یہاں اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ علم ختم ہونے کے بعد ہی بُتوں کی پرستش شروع ہوئی تھی، جس سے علم کی اہمیت اور علم کے فراموش کردیے جانے کے نقصان کا پتہ چلتا ہے۔بیسواں مسئلہ:علما کی موت علم کے ناپید ہو جانے کا سبب ہے۔

 باب : کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟

صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے ایک کلیسا کا ذکر کیا جو انہوں نے ملکِ حبشہ میں دیکھا تھا, ساتھ ہی میں اس میں موجود تصویروں کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:"وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر اُن میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس کے اندر اس طرح کى تصویریںبنا لیتے۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک ساری مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں۔"

ان لوگوں نے دو فتنوں کو اکٹھا کرلیا تھا؛ ایک قبروں کو (عبادت گاہ بنانے) کا فتنہ اور دوسرا مجسمے بنانے کا فتنہ۔

اور صحیحین ہی میں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ جب اللہ کے رسول ﷺ پر موت کے آثار نمایاں ہوئے، تو آپ ﷺ (مرض الموت کی شدت سے ) اپنے چہرے پر چادر اوڑھ لیتے اور جب دَم گھُٹنے لگتا تو چادر ہٹا لیتے۔ اسی عاَلم میں آپ ﷺ نے فرمایا:"يہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔"اس سے در اصل آپ ﷺ کا مقصد اپنی اُمت کو ان لوگوں کے طرزِ عمل سے ڈرانا اور متنبہ کرنا تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا، تو آپ کی قبر کو نمایاں رکھا جاتا۔ البتہ اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں اسے سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے۔اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔صحیح مسلم میں جندُب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو وفات سے پانچ دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سُنا:"میں اللہ تعالی کے سامنے اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا دوست بناؤں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا اور اگر میں اپنی امت سے کسی کو اپنا خلیل بناتا، تو ابو بکر -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- کو بناتا۔ خبردار! بے شک تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا کرتے تھے۔ لہذا خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں۔"چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اس سے منع کر دیا۔ پھر آپ نے اس وقت، جب آپ جاں کنی کے عالم میں تھے، ایسا کرنے والوں پر لعنت بھی بھیجی۔ دھیان رہے کہ قبروں کے پاس نماز پڑھنا بھی انھیں سجدہ گاہ بنانے کے حکم میں ہے، چاہے ان پر مسجد کی تعمیر نہ بھی ہوئی ہو۔عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول: ’’خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا‘‘ کا مطلب بھی یہی ہے۔اس لیے کہ صحابۂ کرام آپ ﷺ کی قبر کے گرد مسجد نہیں بنا سکتے تھے۔ لیکن ہر وہ جگہ جہاں نماز پڑھنا کا قصد کیا گیا تو اسے سجدہ گاہ بنا لیا گیا, بلکہ ہر وہ جگہ جس میں نماز پڑھی جائے، اسے مسجد کہا جاتا ہے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا فرمایا ہے۔ آپ کا فرمان ہے:"پوری زمین کو میرے لیے مسجد اور ذریعۂ طہارت بنایا گیا ہے۔"اور مسند احمد میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جید سند کے ساتھ مرفوعًا روایت ہے:"یقینا وہ لوگ بد ترین لوگوں میں سے ہیں، جو قیامت آتے وقت باحیات ہوں گے اور جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔"اسے ابوحاتم نے اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں بھی روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ مسائل:

پہلا مسئلہ:کسی بزرگ کی قبر کے پاس اللہ کی عبادت کے لیے مسجد بنانے والے کو اللہ کے رسول ﷺ کی پھٹکار، گرچہ اس کی نیت صحیح ہو۔دوسرا مسئلہ:مجسمے بنانے کی ممانعت اور اس معاملے میں سخت حکم۔تیسرا مسئلہ:غور کرنے کا مقام ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس معاملے میں کس قدر زور دیا ہے کہ پہلے مسجد کو قبر گاہ بنانے سے منع کیا، پھر وفات سے پانچ دن پہلے تنبیہ فرمائی، لیکن اس کے باوجود جاں کنی کے عالم میں اس کا ذکر کرنا نہ بھولے۔چوتھا مسئلہ:آپ ﷺ نے اپنی قبر پر بھی اس کام سے روکا ہے، حالاںکہ اُس وقت تک آپ ﷺ کی قبر موجود نہ تھی۔پانچواں مسئلہ:اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانا یہود ونصاریٰ کا شیوہ رہا ہے۔چھٹا مسئلہ:آپ ﷺ نے یہود ونصاریٰ پر اس عمل کی وجہ سے لعنت بھیجی ہے۔ساتواں مسئلہ:دراصل اس سے آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ ہم لوگ آپ ﷺ کی قبر پر ایسا کام نہ کریں۔آٹھواں مسئلہ:یہاں آپ ﷺ کی قبر کو نمایاں نہ کرنے کی مصلحت کا ذکر ہے۔نواں مسئلہ:یہاں اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ قبروں کو مسجد بنانے کا مطلب کیا ہے۔دسواں مسئلہ:یہاں آپ ﷺ نے قبروں پر مسجد تعمیر کرنے والوں

اور جن لوگوں پر قیامت قائم ہوگی، دونوں کو یکجا کردیا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو آپ ﷺ نے شرک کے وقوع پذیر ہونے سے قبل ہی اس کے اسباب اور اس کے انجام کا ذکر فرما دیا ہے۔

گیارہواں مسئلہ:آپ ﷺ نے اپنی وفات سے پانچ دن قبل اپنے خطبے میں اُن دونوں گروہوں کا ذکر کیا ہے، جو انتہا درجے کے بدعتی ہیں۔

بلکہ بعض سلف نے تو انہیں بہتّر (72) اسلامی فرقوں سے بھی خارج کردیا ہے۔ ان دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ رافضہ اور دوسرا جہمیہ کا ہے۔ روافض کی وجہ سے مسلمانوں میں شرک اور قبر پرستی کی ابتدا ہوئی اور انہی روافض نے سب سے پہلے قبروں پر مساجد کی تعمیر کی۔

بارہواں مسئلہ:یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ کو بھی مرض الموت میں بڑی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔تیرہواں مسئلہ:آپ ﷺ کو اللہ کے خلیل ہونے کے وصف سے نوازا گیا ہے۔چودہواں مسئلہ:اس بات کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ اللہ کا خلیل ہونا محبت سے اعلی درجے کی چیز ہے۔پندرہواں مسئلہ:اس بات کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سارے صحابہ سے افضل ہیں۔سولہواں مسئلہ:اس میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اشارہ بھی موجود ہے۔

 باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنادیتا ہے۔

امام مالک نے اپنی کتاب ’المؤطّأ‘ میں روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:"اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنا کہ لوگ اس کی عبادت کرنے لگیں۔ ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہوا، جنھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔"ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ سفیان سے, انہوں نے منصور سے روایت کیا ہے کہ مجاھد نےآیت کریمہ {أَفَرَأَيْتُمُ اللاَّتَ وَالْعُزَّى} (کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا؟) کے بارے میں[سورہ النَّجْمُ: 19]فرمایا: کہ: ’’لاتْ حاجیوں کو ستّو گھول کر پلایا کرتا تھا۔ جب اُس کا انتقال ہو گیا، تو لوگ اس کی قبر پر مجاور بن کر بیٹھ گئے۔‘‘

اسی طرح ابو الجوزاء بھی ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں: ’’لات حاجیوں کو ستّو گھول کر پلایا کرتا تھا۔‘‘

ساتھ ہی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہرسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں، ان پر مسجد بنانے والوں اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔اسے اہلِ سنن نے روایت کیا ہے۔

 ان باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اوثان (بُتوں) کی تشریح وتوضیح ملتی ہے۔دوسرا مسئلہ:عبادت وبندگی کی بھی تشریح ملتی ہے۔تیسرا مسئلہ:آپ ﷺ نے صرف انھیں چیزوں سے پناہ مانگی ہے، جن کے وقوع پذیر ہونے کا آپ ﷺ کو خدشہ تھا۔چوتھا مسئلہ:آپ ﷺ نے اپنی اس دعا (اے اللہ! میری قبر کو بُت نہ بنانا جس کی پوجا کی جائے) کو پہلے لوگوں کے ذریعہ نبیوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنانے سے جوڑ دیا ہے۔پانچواں مسئلہ:یہاں اللہ تعالیٰ کے شدید غضب کا ذکر ہے۔چھٹا مسئلہ:ایک اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اہلِ عرب کے ایک بڑے بُت ’لات‘ کی عبادت کس طرح شروع ہوئی، اسے بیان کیا گیا ہے۔ساتواں مسئلہ:اس بات کا علم ہوا کہ ’لات‘ ایک بزرگ کی قبر تھی۔آٹھواں مسئلہ:لات دراصل صاحب قبر کا نام تھا اور اسے لات حاجیوں کو ستو گھول کر پلانے کی وجہ سے کہا جاتا تھا۔نواں مسئلہ:رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔دسواں مسئلہ:آپ ﷺ نے قبروں پر چراغاں کرنے والوں پر بھی لعنت فرمائی ہے۔

 باب : محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کى بیان

اللہ تعالی نے فرمایا:(تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں، جو تمہاری جنس سے ہیں، جن کو تمھاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔)[سوۂ توبہ: 128]۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ اور میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ۔ مجھ پر درود بھیجو۔ تمہارا بھیجا ہوا درود مجھ تک پہنچتا ہے، چاہے تم جہاں بھی ہو۔"اسے ابوداؤد نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس کے سارے راوی ثقہ ہیں۔علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جو نبی ﷺ کی قبر کے پاس موجود ایک شگاف میں سے اندر داخل ہوتا اور پھر دعا مانگا کرتا۔ چنانچہ انھوں نے اسے اس کام سے روکا اور اس سے کہا: کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں، جو میں نے اپنے ابا سے اور انہوں نے میرے دادا سے سنی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تم لوگ میری قبر کو عید (میلے کی جگہ) نہ بنا لینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بنا لینا۔ مجھ پر درود بھیجتے رہنا۔ کیوں کہ تمھارا بھیجا ہوا سلام مجھ تک پہنچتا ہے، چاہے تم جہاں بھی ہو۔"اس حدیث کو ’المختارہ‘ میں روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:یہاں سورۂ توبہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔دوسرا مسئلہ:آپ ﷺ نے اپنی امّت کو شرک کی حدود سے انتہائی دور رکھا ہے۔تیسرا مسئلہ:اس میں اس بات کا بیان ہے کہ آپ ﷺ ہماری ہدایت کے لیے کس قدر کوشاں اور ہمارے حق میں کس قدر شفیق ومہربان تھے۔چوتھا مسئلہ:رسول اکرم ﷺ نے یہاں اپنی قبر کی زیارت ایک مخصوص انداز میں کرنے سے منع فرمایا ہے، جب کہ آپ کی قبر کی زیارت افضل ترین اعمال میں سے ہے۔پانچواں مسئلہ:آپ ﷺ نے بکثرت قبروں کی زیارت کرنے سے منع فرمایا ہے۔چھٹا مسئلہ:آپ ﷺ نے گھروں میں نفلی نماز ادا کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ساتواں مسئلہ:صحابہ کے یہاں یہ بات طے شدہ تھی کہ قبرستان میں نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔آٹھواں مسئلہ:کہیں سے آپ ﷺ پر درود و سلام پڑھنا کافی ہے، اس کی وجہ آپ نے یہ بیان فرمائی کہ جب انسان آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجتا ہے، تو خواہ کتنی ہی دوری پر ہو، آپ ﷺ تک اس کا درود وسلام پہنچا دیا جاتا ہے۔ لہذا اس مقصد سے قبر کے قریب آنے کی چنداں ضرورت نہیں رہ جاتی۔نواں مسئلہ:آپ ﷺ کی بزرخی زندگی میں بھی آپ ﷺ کی امت کے اعمال میں سے درود وسلام آپ ﷺ پر پیش کیے جاتے ہیں۔

 باب : اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:(کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جنہیں کتاب کا کچھ حصہ ملا، جو بت کا اور باطل معبود کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیاده راه راست پر ہیں؟)[سورہ النِّسَاءُ: 51]مزید ارشاد ہے:(کہہ دیجیے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بھی زیاده برے اجر پانے واﻻ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون ہے؟ وه جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور اس پر وه غصہ ہوا اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے معبودان باطل کی پرستش کی.)[سورہ المائدہ: 61]۔مزید ارشاد ہے:(جن لوگوں نے ان کے بارے میں غلبہ پایا، وه کہنے لگے کہ ہم تو ان کے آس پاس مسجد بنالیں گے۔)[سورہ الْكَهْفُ: 21]۔ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تم لوگ اپنے سے پہلے کے لوگوں کی ضرور پیروی کروگے, اس حال میں کہ تم ان کى برابرى بالکل ایسے ہی کروگے جیسے تیر کے سرے پر لگے پر برار ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اگر اُن میں سے کوئی گوہ کے بل میں گھسا ہو گا، تو تم بھی ضرور اس میں گھسو گے۔"

لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ کی مراد یہود ونصاریٰ سے ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر کس سے؟ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

اور صحیح مسلم میں ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا، تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی تھی، وہاں تک عنقریب میری امت کی سلطنت وحکومت پہنچ کر رہے گی,

اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے گئے۔

میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میری امت کو عام قحط سے ہلاک نہ کرے اور ان پر کوئی ایسا بیرونی دشمن مسلط نہ کرے، جو انھیں مکمل نیست ونابود کردے۔

میرے رب نے فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کرتا ہوں، تو اسے ٹالا نہیں جاسکتا۔ میں تمھاری امت کے بارے میں تمھاری دعا قبول کرتا ہوں کہ میں انھیں عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان پر کو‏ئی ایسا بیرونی دشمن بھی مسلط نہیں کروں گا، جو انھیں مکمل تباہ وبرباد کرکے رکھ دے، اگر چہ زمیں کے سارے لوگ ان کے خلاف متحد اور مجتمع کیوں نہ ہو جائیں۔ البتہ وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے اور ہلاک کریں گے۔"

حافظ برقانی نے بھی اپنی کتاب ’الصحیح‘ میں اسے روایت کیا ہے اور اِن الفاظ کا اضافہ کیا ہے:’’مجھے اپنی امت کے بارے میں صرف گمراہ پیشواؤں کا ڈر ہے۔ جب ان میں ایک بار تلوار اٹھ جائے گی، تو قیامت تلک رُکے گی نہیں۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ میری امت کی ایک جماعت مشرکین سے نہ جاملے اور میری امت کے بہت سے گروہ بُت پرستی نہ کرنے لگیں۔ میری امت میں تیس (30) دجّال ہوں گے۔ سب کے سب نبوت کا دعویٰ کریں گے، جب کہ میں ہی خاتم الانبیا (آخری نبی) ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ میری امت کا ایک گروہ (تا قیامِ قیامت) ہمیشہ راہِ حق پر گامزن رہے گا۔ ان کی (اللہ کی جانب) سے مدد کی جائے گی اور انہیں چھوڑ جانے والے اُن کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا حکم آجائے۔‘‘

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں سورہ النساء کی ایک آیت کی تفسیر ہے۔دوسرا مسئلہ:سورہ المائدہ کی ایک آیت کی بھی تفسیر ہے۔تیسرا مسئلہ:اسی طرح سورہ الکہف کی بھی ایک آیت کی تفسیر ہے۔چوتھا مسئلہ:اس باب کا ایک اہم ترین مسئلہ اس بات کی وضاحت کر دینا ہے کہ یہاں جِبْت (بُت) اور طاغوت (شیطان) پر ایمان لانے کے معنی ومفہوم کیا ہیں

؟

کیا اس کے معنی قلبی اعتقاد کے ہیں؟

یا ان چیزوں سے نفرت اور ان کے باطل ہونے کا علم رکھنے کے باوجود ان کے ماننے والوں کی موافقت ہے؟

پانچواں مسئلہ:اس سے یہودیوں کے اس دعوے کا بھی علم ہوا کہ کفار جو اپنے کفر سے واقف ہیں، ایمان والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔چھٹا مسئلہ:ایک اہم مسئلہ جو اس باب کا مقصود ہے، یہ ہے کہ اس امت کے اندر اہل حق کی ایک جماعت ہمیشہ موجود رہے گی، جیساکہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے۔ساتواں مسئلہ:یہاں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ اس امت کے بہت سے گروہ بُت پرستی میں مبتلا ہو جائیں گے۔آٹھواں مسئلہ:بہت ہی تعجب خیز بات یہ ہے کہ مختار ثقفی جیسے لوگ جو شہادیتن کا کو ادا کرتے ہیں اور اسی امت کے ایک فرد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں نیریہ بھی مانتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ برحق ہیں اور قرآن مجید سچی کتاب ہے، جس میں محمد ﷺ کے آخری نبی کا ہونے کا ذکر ہے۔ پھر ان کی باتوں میں واضح تضاد کے باوجود کچھ لوگ ان کی تصدیق کردیتے ہیں۔ مختار ثقفی صحابہ کے آخری دور میں ظاہر ہوا تھا اور بہت سے گروہ اس کے پیروکار بھی بن گئے تھے۔نواں مسئلہ:یہاں اس بات کی خوش خبری دی گئی ہے کہ اس امت سے خیر کا بالکلیہ خاتمہ نہیں ہوگا، جیساکہ سابقہ زمانوں میں ہوتا رہا ہے، بلکہ ایک جماعت قیامت تک حق پر رہے گی۔دسواں مسئلہ:بہت بڑی نشانی کہ اہلِ حق کی تعداد کم ہونے کے باوجود انھیں بے سہارا چھوڑنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔گیارہواں مسئلہ:اہلِ حق کا وجود قیامت تک رہے گا۔بارہواں مسئلہ:مذکورہ حدیث میں (نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی) کئی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ جیسے آپ ﷺ کا یہ بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے زمین کے مشرقوں اور مغربوں کو سمیٹ دیا۔ نیز آپ نے اس کا معنى بھی بتایا۔اس معاملے میں آپ نے جو کچھ فرمایا تھا، وہ حرف بحرف صحیح ثابت ہوا۔ بر خلاف شمال وجنوب کے (کہ اس کے بارے میں آپ نے کچھ نہیں بتایا)۔ ساتھ ہی آپ ﷺ کا یہ بتانا کہ آپ کو دو خزانے دیے گئے ہیں۔ اسی طرح آپ کا یہ اطلاع دینا کہ امت کے بارے میں آپ ﷺ کی پہلی دو دعائیں قبول ہوگئیں، جب کہ آپ کی تیسری دعا قبول نہیں ہوئی۔ نیز آپ ﷺ کا یہ خبر دینا کہ میری امت میں اگر تلوار چل نکلی تو قیامت تک نہیں رکے گی۔ آپ ﷺ کا یہ خبر دینا کہ اس امت کے لوگ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور غلام بنائیں گے۔ آپ ﷺ کا اپنی امت کے تئیں گمراہ پیشواؤں سے خدشہ ظاہر کرنا۔ اسی طرح آپ ﷺ کا یہ بتانا کہ اس امت میں نبوت کے بہت سے جھوٹے دعوے دار پیدا ہوں گے اور آپ ﷺ کا یہ بتانا کہ مدد یافتہ اہلِ حق کا ایک گروہ باقی رہےگا۔ آپ ﷺ کی یہ ساری پیشین گوئیاں حرف بحرف پوری ہوئیں، حالاںکہ ان میں سے ہر ایک کا وقوع پذیر ہونا عقلی طور پر بعید تر تھا۔تیرہواں مسئلہ:اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں خوف صرف گمراہ پیشواؤں سے درپیش تھا۔چودہواں مسئلہ:یہاں بُت پرستی کے معنی ومفہوم کی وضاحت کی گئی ہے۔

 باب : جادو کے احکام کا بیان

اللہ تعالی نے فرمایا:(وه یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔)[سورہ البقرہ: 102].نیز فرمایا:(اور وہ جبت (جادو) اور طاغوت ( شیطانوں ) پر ایمان رکھتے ہیں۔)[سورہ النِّسَاءُ: 51]۔عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:"جبتْ جادو کو اور طاغوت شیطان کو کہتے ہیں۔"جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’طاغوت ان کاہنوں کو کہتے ہیں، جن کے پاس شیطان آیا کرتے تھے اور ہر محلے کا الگ الگ کاہن ہوا کرتا تھا۔‘‘ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"سات ہلاک کرنے والی چيزوں (گناہوں) سے بچو۔"

صحابۂ کرام نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! وہ (سات چیزیں) کیا ہیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کا ساجھی ٹھہرانا، جادو کرنا، کسی آدمی کی ناحق جان لینا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدانِ جنگ سے فرار ہونا اور بھولی بھالی پاک دامن مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا۔"

اور جندب رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:’’جادو گر کی سزا تلوار سے اسے قتل کر دینا ہے۔‘‘اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے: صحیح بات یہ ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے۔

صحیح بخاری میں بجالہ بن عبدہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لکھ کر بھیجا کہ ہر جادوگر مرد اور عورت کو قتل کردو۔ چنانچہ ہم نے تین جادوگرنیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اور حفصہ رضی اللہ عنہا سے بسند صحیح روایت ہے کہ انہوں نے اپنی ایک لونڈی کو قتل کرنے کا حکم دیا، جس نے اُن پر جادو کردیا تھا۔ چنانچہ اسے قتل کردیا گیا۔

اسی طرح جندب رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی ثابت ہے۔

امام احمد فرماتے ہیں: ’’جادو گروں کو قتل کرنا تین صحابہ سے ثابت ہے ۔‘‘

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:سورہ البقرہ کی ایک آیت کی تفسیر۔دوسرا مسئلہ:اس میں سورہ النساء کی ایک آیت کی تفسیر ہے۔تیسرا مسئلہ:اس میں ’جِبْت‘ اور ’طاغوت‘ کے معنی کی وضاحت اور ان کے درمیان فرق بیان کیا گیا ہے۔چوتھا مسئلہ:’طاغوت‘ جن بھی ہوتے ہیں اور انسان بھی۔پانچواں مسئلہ:ان سات ہلاک کرنے والی چیزوں کا بھی علم ہوا، جن کے بارے میں خصوصی طور پر ممانعت وارد ہے۔چھٹا مسئلہ:جادوگر کافر ہو جاتا ہے۔ساتواں مسئلہ:جادوگر کو بغیر توبہ کرائے قتل کردیا جائے گا۔آٹھواں مسئلہ:جب عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی مسلمانوں کے درمیان جادو موجود تھا، تو بعد کے ادوار کا کیا حال ہوگا؟

 باب : جادو کی چند اقسام کا بیان

امام احمد کہتے ہیں: ہم سے حدیث بیان کی محمد بن جعفر نے، اُن سے عوف نے، اُن سے حیان بن علاء نے، اُن سے قَطَن بن قبیصہ نے، جو اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"عیافہ، طَرق اور برا شگونِ لینا، ان سب کا شمار جادو میں ہوتا ہے۔"

عوف کہتے ہیں: عیافہ کا مطلب ہے پرندوں کو اُڑا کر فالِ بد لینا اور طرق کے معنی ہیں زمین پر لکیر کھینچنا۔

جب کہ ’جِبْتْ‘ کے بارے میں

حَسن بصری کہتے ہیں کہ اس سے مراد شیطان کی پُکار ہے۔

اس کی سند جید ہے۔ ابوداؤد، نسائی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اس کا صرف مرفوع حصہ روایت کیا ہے۔

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:"جس نے علمِ نجوم کا کچھ حصہ سیکھا، اس نے اسی قدر جادو سیکھا۔ پھر وہ جتنا زیادہ علم نجوم سیکھتا جائے گا، اُتنا ہی جادو کے علم میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔"اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔اور سنن نسائی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:"جس نے گِرہ باندھ کر اس پر پھونک ماری، اُس نے جادو کا عمل کیا اور جس نے سحر کیا، وہ شرک کا مرتکب ہوا۔ اور جس نے (اپنے بازو، گلے، ہاتھ وغیرہ پر) کوئی چیز باندھی یا لٹکائی، اسے اسی کے سپرد کریا جاتا ہے۔"اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ ”عَضْہْ“ کیا چیز ہوتی ہے؟ اس سے مراد چغلی ہے اور جو لوگوں کے درمیان لگائی بجھائی کرنا ہے۔"اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اور صحیحین میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"بعض بیان یقینا جادو ہوتا ہے ۔"

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:عیافہ، طَرق اور شگونِ بد لینا، ان سب کا شمار جادو میں ہوتا ہے۔دوسرا مسئلہ:اس باب سے عِیافہ، طَرق اور طیرہ کی وضاحت ہوتی ہے۔تیسرا مسئلہ:علم نجوم بھی جادو کی ایک قسم ہے۔چوتھا مسئلہ:گِرَہ لگا کر اُس میں پھونک مارنا بھی جادو ہے۔پانچواں مسئلہ:چغل خوری بھی ایک طرح کا جادو ہے۔چھٹا مسئلہ:بعض فصیح وبلیغ کلام بھی اس زمرے میں آتے ہیں۔

 باب : کاہنوں وغیرہ کا بیان

امام مسلم نے صحیح مسلم میں بعض ازواجِ مطہرات سے روایت کیا ہے، جو نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:"جس نے کسی عرّاف (غیبی امور کى جانکاری کا دعوى کرنے والوں میں سے ایک ) کے پاس جاکر کچھ دریافت کیا اور پھر اس کی بتائی ہوئی کسی بات کی تصدیق کی، اس کی چالیس دنوں کی نماز قبول نہیں ہوگی۔"اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کی، اس نے اس دین کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔"اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

اور ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور حاکم کی ایک روایت میں،

جسے حاکم نے بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے, ابو ہیریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:"جو شخص کسی عرّاف یا کاہن کے پاس گیا اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کی، اُس نے اس دین کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر اتارا گیا ہے۔"

جب کہ ابو یعلیٰ کے یہاں

اسی طرح کی روایت جید سند کے ساتھ ابن مسعود سے موقوفًا مروی ہے۔

اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:"جس نے بد شگونی لی یا جس کے لئے بد شگونی لیا گیا، یا جس نے کہانت کا پیشہ اختیار کیا یا جس کے لیے کہانت کی گئي، یا جس نے جادو کیا یا جس نے جادو کرایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جو کاہن کے پاس جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، اس نے محمد ﷺ پر نازل ہوئے دین کا انکار کیا۔"اسے بزّار نے جیّد سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اسے طبرانی نے بھی ’الأوسط‘ میں حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں: ’’مَنْ أتَی کاھِنًا...‘‘ کا حصہ نہیں ہے۔

امام بغوی فرماتے ہیں:عراف سے مراد ایسا شخص ہے، جو غیبی امور کے جاننے کا دعوی کرتا ہے بعض ایسے قرائن سے, جن کے ذریعہ چوری شدہ یا کھوئے ہوئے سامان وغیرہ کی دریافت کے لئے استدلال کرتا ہے۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے مراد کاہن ہے اور کاہن اسے کہتے ہیں, جو آنے والوں دنوں سے متعلق غیبی امور کے جاننے کا دعوی کرتا ہے۔

جب کہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ’عرّاف‘ وہ ہے جو دلوں کی بات بتائے۔

علامہ ابو العبّاس ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’عرّاف: کاہن، نجومی, ریت (یا زمین ) میں لکیر کھیچنے والے اور ان جیسے لوگوں کو کہتے ہیں، جو ان طریقوں سے چیزوں کى جانکارى کے باریے میں باتیں کرتے ہیں‘‘۔ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسے لوگوں کے بارے میں، جو ابجد لکھتے, اور ستاروں کو دیکھتے ہیں، فرمایا:’’میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کرنے والوں کا اللہ کے پاس کوئی حصہ ہے۔‘‘

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:قرآن پر ایمان اور کاہن کی تصدیق دونوں باتیں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔دوسرا مسئلہ:اس بات کی صراحت کہ کاہن کی باتوں کی تصدیق کرنا کفر ہے۔تیسرا مسئلہ:کہانت کرانے والے کا بھی تذکرہ۔چوتھا مسئلہ:جس کے لیے بدشگون لیا جائے اس کا بھی یہاں تذکرہ ہے۔پانچواں مسئلہ:جس کے لیے جادو کیا جائے اس کا بھی ذکر ہے ۔چھٹا مسئلہ:(اس مقصد سے) ابجد سیکھنے والے کا بھی ذکر ہے۔ساتواں مسئلہ:کاہِن اور عرّاف کے مابین فرق بتایا گیا ہے۔

 باب :جادو کے علاج کا بیان

جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے نُشرہ (جادو کے ذریعہ جادو کے علاج) کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:"یہ شیطانی عمل ہے۔"اسے امام احمد نے بسند جید اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ اس عمل کے بارے میں امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس طرح کے سارے کاموں کو حرام قرار دیا کرتے تھے۔

اور صحیح بخاری میں قتادہ مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسیّب سے پوچھا کہ اگر کسی پر جادو کر دیا جائے، یا جادو ٹونا کے ذریعے اس کو اپنى بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے روک دیا جائے، تو کیا اس کے جادو کو کھولا جائے گا یا اس کا علاج کیا جائے گا؟

تو انہوں نے جواب دیا: "اس میں کوئی حرج نہیں، کیوں کہ اس کا مقصد اصلاح ہے۔ جو مفید ہو، اس کی ممانعت نہیں ہے۔"

حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں: ”جادو کو جادوگر ہی اتار سکتا ہے“۔

علامہ ابن القیّم کہتے ہیں: ’’سحر زدہ سے جادو کو دور کرنا نشرہ کہلاتا ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم: جادو کو جادو ہی سے ختم کرنا۔ ایسی صورت میں یہ ایک شیطانی عمل ہے اور حسن بصری رحمہ اللہ کے قول کو اسی پر محمول کیا جائے گا۔ اس طرح جادو دور کرنے والا اور جادو سے متاثر دونوں شیطان کا تقرّب حاصل کرنے کے لیے اس کی پسند کاکام کرتے ہیں، جس سے شیطان خوش ہو کر سحر زدہ شخص سے اپنا اثر ہٹا لیتا ہے۔

دوسری قسم: یہ ہے کہ دَم، تعوذات، ادویات اور جائز ومباح ادعیہ کے ساتھ جادو کا علاج کیا جائے۔ یہ جائز ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:نُشرہ (جادو کا علاج جادو سے کرنے) منع ہے۔دوسرا مسئلہ:یہاں ممنوع اور جائز علاج میں اس طرح فرق بتایا گیا ہے کہ کوئی اشکال باقی نہیں رہ جاتا۔

 باب : بدشگونی اور بدفالی کے احکام کا بیان

اللہ تعالی نے فرمایا:(تمہاری بدشگونی اللہ کے ہاں ہے، بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو۔)[سورہ النَّمْل: 47]۔نیز فرمایا:(انھوں نے کہا کہ تمہاری بدشگونی اللہ کے ہاں ہے، بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو۔)[سورہ يَس: 19]۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :"بیماری (خود سے )متعدی نہیں ہوتی, بدشگونی کوئی چیز نہیں، الو کى نحوست نہیں ہوتی اور ماہ صفر بھی منحوس نہیں ہوتا۔"اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

اور امام مسلم نے یہ اضافہ کیا ہے: ’’نچھتّر اور بھوتوں والے عقیدہ کى کوئی حقیقت نہیں ہے۔"

اور صحیحین ہی میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"بیماری کا (خود سے ) ایک سے دوسرے کو لگ جانا اور بد شگونی لینا کوئی چیز نہیں، جب کہ مجھے فال اچھی لگتی ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ فال کیا ہے؟

تو آپ ﷺ نے جواب دیا: ”اچھی بات“۔

جب کہ امام ابوداؤد نے صحیح سند کے ساتھ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی موجودگی میں بدشگونی کا تذکرہ ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:"ان سب میں بہتر فال ( نیک شگون ) ہے اور یہ بد شگونی کسی مسلمان کو (اس کے مقصد سے ) باز نہیں رکھ سکتى۔ چنانچہ جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے، تو یہ دعا کرے: (اللهُمَّ لاَ يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلاَّ أَنْتَ، وَلاَ يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلاَّ أَنْتَ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِكَ)’’یا اللہ تیرے سوا کوئی بھلائیاں نہیں لا سکتا اور تیرے سوا کئی برائیوں کو دور نہیں کرسکتا اور تیری توفیق کے بغیر ہمیں نہ بھلائی کی طاقت ہے اور نہ برائی سے باز رہنے کی ہمت ہے‘‘۔اسی طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:"بدشگونی لینا شرک ہے۔ بد شگونی لینا شرک ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کے دل میں بدشگونی جنم لیتی ہے، مگر توکل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے ختم کردیتا ہے۔"اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح بھی کہا ہے۔ البتہ انھوں نے آخری جملے کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے۔

اور امام احمد نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے روایت کیا ہے: "جس شخص نے بدشگونی کی وجہ سے اپنا کام چھوڑ دیا، اس نے شرک کیا۔" لوگوں نے دریافت کیا کہ اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:(اللهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ، وَلاَ طَيْرَ إِلاَّ طَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ) "(اس کا کفارہ یہ ہے کہ) تم یوں کہو: ’’اے اللہ! تیری طرف سے ملنے والی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں اور تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔

اور مسند احمد ہی میں فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: "بدشگونی وہ ہے، جو تجھے کسی کام کے کرنے پر آمادہ کرے یا اس سے روک دے۔"

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:یہاں فرمان الہی ’’أَلا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللهِ‘‘ نیز ’’ طَائِرُكُم مَّعَكُمْ ‘‘ کی وضاحت کی گئی ہے۔دوسرا مسئلہ:اس میں امراض کے (خود سے )متعدی ہونے کی نفی کی گئی ہے۔تیسرا مسئلہ:بدشگونی کی بھی نفی کی گئی ہے۔چوتھا مسئلہ:’ھامہ‘ (الّو کی آواز سے بدشگونی لینے ) کی نفی کی گئی ہے۔پانچواں مسئلہ:’صفر‘ (ماہِ صفر کی نحوست) کی بھی نفی ہے۔چھٹا مسئلہ:تاہم نیک شگون لینا اس ممانعت میں شامل نہیں ہے، بلکہ یہ جائز ہے۔ساتواں مسئلہ:یہاں نیک شگون (فال) کے معنی کی وضاحت کی گئی ہے۔آٹھواں مسئلہ:اگر نہچاہتے ہوئے بھی بدشگونی کے وساوس دل میں پیدا ہوجائیں، تو اس میں کوئی ضرر نہیں، بلکہ یہ اللہ پر توکل کی وجہ سے ختم ہوجاتے ہیں۔نواں مسئلہ:جس کے دل میں اس طرح کے وسوسے پیدا ہوں، وہ یہ دعا پڑھ لے: "اللهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ، وَلاَ طَيْرَ إِلاَّ طَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ"۔دسواں مسئلہ:اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ بد شگونی شرک ہے۔گیارہواں مسئلہ:یہاں مذموم بدشگونی کی توضیح کی گئی ہے۔

چوتھا مسئلہ:

’ھامہ‘ (الّو کی آواز سے بدشگونی لینے ) کی نفی کی گئی ہے۔

پانچواں مسئلہ:

’صفر‘ (ماہِ صفر کی نحوست) کی بھی نفی ہے۔

چھٹا مسئلہ:

تاہم نیک شگون لینا اس ممانعت میں شامل نہیں ہے، بلکہ یہ جائز ہے۔

ساتواں مسئلہ:

یہاں نیک شگون (فال) کے معنی کی وضاحت کی گئی ہے۔

آٹھواں مسئلہ:

اگر نہچاہتے ہوئے بھی بدشگونی کے وساوس دل میں پیدا ہوجائیں، تو اس میں کوئی ضرر نہیں، بلکہ یہ اللہ پر توکل کی وجہ سے ختم ہوجاتے ہیں۔

نواں مسئلہ:

جس کے دل میں اس طرح کے وسوسے پیدا ہوں، وہ یہ دعا پڑھ لے: "اللهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ، وَلاَ طَيْرَ إِلاَّ طَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ"۔

دسواں مسئلہ:

اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ بد شگونی شرک ہے۔

گیارہواں مسئلہ:

یہاں مذموم بدشگونی کی توضیح کی گئی ہے۔

 باب : نجوم سے متعلق احکام کا بیان

امام بخاری نے اپنی ’صحیح‘ میں قتادہ کا یہ قول نقل کیا ہے:’’اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کی تخلیق تین مقاصد کے تحت کی ہے: آسمان کی زینت کے لیے، شیاطین کو مار بھگانے کے لیے اور راہ معلوم کرنے کے لیے۔ نشانیوں کے بطور, جس نے اس کے علاوہ کچھ سمجھا، اس نے غلطی کی اور اپنا نصیب برباد کیا اور ایسی چیز کا تکلّف کیا، جس کے بارے میں اسے کوئی علم نہیں ۔‘‘قتادہ کی بات ختم ہوئی۔

’’اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کی تخلیق تین مقاصد کے تحت کی ہے: آسمان کی زینت کے لیے، شیاطین کو مار بھگانے کے لیے اور راہ معلوم کرنے کے لیے۔ نشانیوں کے بطور, جس نے اس کے علاوہ کچھ سمجھا، اس نے غلطی کی اور اپنا نصیب برباد کیا اور ایسی چیز کا تکلّف کیا، جس کے بارے میں اسے کوئی علم نہیں ۔‘‘

قتادہ کی بات ختم ہوئی۔

قتادہ منازلِ قمر (ستاروں کی منزلوں ) کا علم حاصل کرنے کو حرام سمجھتے تھے۔ ابن عیینہ نے بھی ایسا علم حاصل کرنے کی چھوٹ نہیں دی ہے۔ مذکورہ بات کو حرب نے دونوں سے نقل کیا ہے۔

تاہم احمد اور اسحاق نے ان منازل کا علم حاصل کرنے کی اجازت دی ہے۔

اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تین طرح کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہونے پائیں گے: شراب نوشی کے عادی، رشتے ناطے کو توڑنے والے اور جادو گر کی تصدیق کرنے والے۔"اس حدیث کو احمد نے اور ابن حبان نے اپنی ’صحیح‘ میں کیا ہے۔

"تین طرح کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہونے پائیں گے: شراب نوشی کے عادی، رشتے ناطے کو توڑنے والے اور جادو گر کی تصدیق کرنے والے۔"

اس حدیث کو احمد نے اور ابن حبان نے اپنی ’صحیح‘ میں کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس سے ستاروں کی تخلیق کی حکمت معلوم ہوتی ہے۔دوسرا مسئلہ:ان لوگوں کی تردید ہوجاتی ہے، جو اس کے سوا کچھ اور سوچتے ہیں۔تیسرا مسئلہ:ستاروں کے منازل کا علم حاصل کرنے کے بارے میں اختلاف کا ذکر ہے۔چوتھا مسئلہ:جادو کے کسی حصے کی تصدیق کرنے کی وعید، اگرچہ وہ جانتا ہو کہ یہ ایک باطل چیز ہے۔

اس سے ستاروں کی تخلیق کی حکمت معلوم ہوتی ہے۔

دوسرا مسئلہ:

ان لوگوں کی تردید ہوجاتی ہے، جو اس کے سوا کچھ اور سوچتے ہیں۔

تیسرا مسئلہ:

ستاروں کے منازل کا علم حاصل کرنے کے بارے میں اختلاف کا ذکر ہے۔

چوتھا مسئلہ:

جادو کے کسی حصے کی تصدیق کرنے کی وعید، اگرچہ وہ جانتا ہو کہ یہ ایک باطل چیز ہے۔

 باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان

اللہ تعالی نے فرمایا:(اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو۔)[سورہ الْوَاقِعَہ: 82]۔ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"میری امت میں جاہلیت کے چار امور ایسے ہیں، جنہیں وہ نہیں چھوڑیں گے: حسب ونسب اور خاندانی فضیلت پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب وخاندان میں عیب اور نقص نکالنا، ستاروں کے اثر سے بارش نازل ہونے کا عقیدہ رکھنا اور نوحہ کرنا۔"آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مزید فرمایا: "نوحہ کرنے والی اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے، تو قیامت کے دن اس حالت میں اٹھائى جائے گى کہ اس کے جسم پر تارکول کا کرتا اور خارش (میں مبتلا کرنے والی) کپڑا ہوگا۔"اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اور صحیحین میں زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں رات کی بارش کے بعد فجر کی نماز پڑھائی اور جب سلام پھیر چکے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟" انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرے کچھ بندوں نے ایمان کی حالت میں صبح کی کچھ نے کفر کی حالت میں۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی ہے، وہ مجھ پر ایمان لایا نیز نچھتروں کى (تاثیر) کا انکار کیا, اور جس نے کہا کہ ہم پر یہ بارش فلان نچھتر کے اثر سے ہوئی ہے، وہ میرا منکر ہوا اور نچھتروں (کی تاثیر) پر ایمان لایا۔"

(اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو۔)

[سورہ الْوَاقِعَہ: 82]۔

ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"میری امت میں جاہلیت کے چار امور ایسے ہیں، جنہیں وہ نہیں چھوڑیں گے: حسب ونسب اور خاندانی فضیلت پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب وخاندان میں عیب اور نقص نکالنا، ستاروں کے اثر سے بارش نازل ہونے کا عقیدہ رکھنا اور نوحہ کرنا۔"

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مزید فرمایا: "نوحہ کرنے والی اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے، تو قیامت کے دن اس حالت میں اٹھائى جائے گى کہ اس کے جسم پر تارکول کا کرتا اور خارش (میں مبتلا کرنے والی) کپڑا ہوگا۔"

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

اور صحیحین میں زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں رات کی بارش کے بعد فجر کی نماز پڑھائی اور جب سلام پھیر چکے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟" انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

"اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرے کچھ بندوں نے ایمان کی حالت میں صبح کی کچھ نے کفر کی حالت میں۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی ہے، وہ مجھ پر ایمان لایا نیز نچھتروں کى (تاثیر) کا انکار کیا, اور جس نے کہا کہ ہم پر یہ بارش فلان نچھتر کے اثر سے ہوئی ہے، وہ میرا منکر ہوا اور نچھتروں (کی تاثیر) پر ایمان لایا۔"

جب کہ صحیحین ہی میں اسی معنی کی ایک حدیث

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، جس میں ہے:’’بعض لوگوں نے کہا کہ فلاں فلاں نچھتر سچ ثابت ہوئے (یعنی ان کی وجہ سے بارش ہوئی)! جس کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں:(پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کیاور اگرتمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہےکہ بے شک یہ قرآن بہت معززہے،جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے۔اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔یہ رب العالمین کی طرف سےاترا ہوا ہے۔پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو؟)[سورہ الْوَاقِعَہ: 75-82]۔

’’بعض لوگوں نے کہا کہ فلاں فلاں نچھتر سچ ثابت ہوئے (یعنی ان کی وجہ سے بارش ہوئی)! جس کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں:

(پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی

اور اگرتمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے

کہ بے شک یہ قرآن بہت معززہے،

جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے۔

اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔

یہ رب العالمین کی طرف سےاترا ہوا ہے۔

پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟

اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو؟)

[سورہ الْوَاقِعَہ: 75-82]۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:سورۂ واقعہ کی مذکورہ آیتوں کی تفسیر ہوتی ہے۔دوسرا مسئلہ:ان چار کاموں کا ذکر ہے جو جاہلیت کی رسوم میں سے ہیں۔تیسرا مسئلہ:ان چار میں سے بعض کفر پر مبنی ہیں۔چوتھا مسئلہ:کچھ کفر ایسے بھی ہیں، جن کی وجہ سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ۔پانچواں مسئلہ:فرمانِ الہی: ’’میرے کچھ بچے ایمان کی حالت میں صبح کرتے ہیں اور کچھ بندے کفر کی حالت میں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ لوگ دو جماعتوں میں نزول نعمت کے بعد ہوگئے۔چھٹا مسئلہ:اس جگہ پر ہمیں ایمان کی حقیقت پر خوب غور کرنا چاہیے۔ساتواں مسئلہ:اس جگہ پر کفر کی حقیقت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔آٹھواں مسئلہ:آپ کے فرمان: ’’فلان نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی‘‘ کہنے پر بھی غور کرنا چاہیےنواں مسئلہ:آپ کے فرمان ’’ أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ‘‘ سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ معلم کو متعلم کے لیے مسئلے کو استفہامی انداز میں پیش کرنے کی اجازت ہے۔دسواں مسئلہ:نوحہ کرنے والی عورتوں کے حق میں وعید آئی ہے۔باب : اللہ تعالیٰ کا فرمان:(اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مد مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں)[سورہ البقرہ: 165]۔مزید فرمایا:(آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکےاور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وه تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وه حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو، اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راه میں جہاد سے بھی زیاده عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔)[سورہ التَّوْبَہ: 24]۔انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔"اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔اور صحیحین ہی میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:"تین باتیں ایسی ہیں کہ جس بندہ کے اندر پائی گئیں، اس نے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت ومٹھاس کو پالیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول ساری دنیا سے بڑھ کر محبوب ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ جس آدمی سے محبت کرتا ہو، اس سے صرف اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہو اور تیسری بات یہ ہے کہ اسے دوبارہ کفر میں لوٹ جانا، جب کہ اللہ تعالی نے اسے اس کفر سے نکال لیا ہے، ایسے ہی ناپسند ہو، جیسے وہ یہ ناپسندکرتا ہو کہ اسے آگ میں ڈالا جائے۔"جب کہ ایک دوسری روایت میں ہے:"کوئی شخص ایمان کی چاشنی نہیں پا سکتا، یہاں تک کہ...۔"اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:"جو شخص کسی سے اللہ کے لیے محبت رکھے اور اللہ ہی کے لیے بغض رکھے، اللہ کے لیے دوستی رکھے اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھے، تو ( یہ جان لو کہ) اللہ کی دوستی انہی امور کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے اور کوئی بھی بندہ ان امور کے بغیر ایمان کی مٹھاس محسوس نہیں کر سکتا، اگر چہ وہ خوب نمازیں پڑھتا ہو اور بکثرت روزے رکھتا ہو۔ یہاں تک کہ اس کى یہی کیفیت ہوجائے, لیکن عام لوگوں کی آپسی محبت دنیوی امور پر منحصر ہو چکی ہے، جب کہ اس سے انھیں کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔"اسے ابنِ جریر نے روایت کیا ہے۔

سورۂ واقعہ کی مذکورہ آیتوں کی تفسیر ہوتی ہے۔

دوسرا مسئلہ:

ان چار کاموں کا ذکر ہے جو جاہلیت کی رسوم میں سے ہیں۔

تیسرا مسئلہ:

ان چار میں سے بعض کفر پر مبنی ہیں۔

چوتھا مسئلہ:

کچھ کفر ایسے بھی ہیں، جن کی وجہ سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ۔

پانچواں مسئلہ:

فرمانِ الہی: ’’میرے کچھ بچے ایمان کی حالت میں صبح کرتے ہیں اور کچھ بندے کفر کی حالت میں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ لوگ دو جماعتوں میں نزول نعمت کے بعد ہوگئے۔

چھٹا مسئلہ:

اس جگہ پر ہمیں ایمان کی حقیقت پر خوب غور کرنا چاہیے۔

ساتواں مسئلہ:

اس جگہ پر کفر کی حقیقت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

آٹھواں مسئلہ:

آپ کے فرمان: ’’فلان نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی‘‘ کہنے پر بھی غور کرنا چاہیے

نواں مسئلہ:

آپ کے فرمان ’’ أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ‘‘ سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ معلم کو متعلم کے لیے مسئلے کو استفہامی انداز میں پیش کرنے کی اجازت ہے۔

دسواں مسئلہ:

نوحہ کرنے والی عورتوں کے حق میں وعید آئی ہے۔

 باب : اللہ تعالیٰ کا فرمان:

 (اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مد مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں)

 [سورہ البقرہ: 165]۔

مزید فرمایا:

(آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکےاور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وه تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وه حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو، اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راه میں جہاد سے بھی زیاده عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔)

[سورہ التَّوْبَہ: 24]۔

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔"

اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔

اور صحیحین ہی میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

"تین باتیں ایسی ہیں کہ جس بندہ کے اندر پائی گئیں، اس نے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت ومٹھاس کو پالیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول ساری دنیا سے بڑھ کر محبوب ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ جس آدمی سے محبت کرتا ہو، اس سے صرف اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہو اور تیسری بات یہ ہے کہ اسے دوبارہ کفر میں لوٹ جانا، جب کہ اللہ تعالی نے اسے اس کفر سے نکال لیا ہے، ایسے ہی ناپسند ہو، جیسے وہ یہ ناپسندکرتا ہو کہ اسے آگ میں ڈالا جائے۔"

جب کہ ایک دوسری روایت میں ہے:

"کوئی شخص ایمان کی چاشنی نہیں پا سکتا، یہاں تک کہ...۔"

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

"جو شخص کسی سے اللہ کے لیے محبت رکھے اور اللہ ہی کے لیے بغض رکھے، اللہ کے لیے دوستی رکھے اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھے، تو ( یہ جان لو کہ) اللہ کی دوستی انہی امور کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے اور کوئی بھی بندہ ان امور کے بغیر ایمان کی مٹھاس محسوس نہیں کر سکتا، اگر چہ وہ خوب نمازیں پڑھتا ہو اور بکثرت روزے رکھتا ہو۔ یہاں تک کہ اس کى یہی کیفیت ہوجائے, لیکن عام لوگوں کی آپسی محبت دنیوی امور پر منحصر ہو چکی ہے، جب کہ اس سے انھیں کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔"

اسے ابنِ جریر نے روایت کیا ہے۔

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانِ باری تعالیٰ {وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الأَسْبَابُ} (قیامت کے روز ان کے سارے اسباب ووسائل ختم ہو جائیں گے) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ’اسباب ووسائل‘ سے مراد ’مودّت ومحبت اور دوستی‘ ہیں۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:سورہ البقرۃ کی ایک آیت کی تفسیر۔دوسرا مسئلہ:سورۂ توبہ کی بھی ایک آیت کی تفسیر ہوتی ہے۔تیسرا مسئلہ:اپنی جان، بال وبچوں اور مال ومتاع سے زیادہ محبت آپ ﷺ سے ہونی چاہیے۔چوتھا مسئلہ:ایمان کی نفی سے کسی شخص کے دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کی دلیل نہیں ملتی۔پانچواں مسئلہ:ایمان کی ایک الگ چاشنی ومٹھاس ہوتی ہے، تاہم کبھی انسان کو اس کا احساس ہوتا ہے اور کبھی نہیں۔چھٹا مسئلہ:چار قلبی اعمال ایسے ہیں، جن کے بغیر انسان اللہ کی ولایت حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اُن کے بغیر ایمان کا ذائقہ چکھ سکتا ہے۔ساتواں مسئلہ:صحابیٔ رسول نے اس سچائی کو جانتے تھے کہ عام تعلقات اور بھائی چارے محض دنیا کی خاطر ہوتے ہیں۔آٹھواں مسئلہ:اس میں آیتِ کریمہ {وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الأَسْبَابُ} (قیامت کے روز ان کے سارے اسباب ووسائل ختم ہوجائیں گے) کی تفسیر موجود ہے۔نواں مسئلہ:بعض مشرک اللہ تعالیٰ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔دسواں مسئلہ:جو شخص مذکورہ (باپ بھائی...) آٹھ چیزوں کو دین سے زیادہ محبوب رکھے، اس کے لیے سخت وعید ہے۔گیارہواں مسئلہ:جو شخص کسی کو اللہ کا شریک بنائے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی محبت کے برابر محبت رکھے، تو اس کا ایسا کرنا شرکِ اکبر ہے۔باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان:(یہ خبر دینے واﻻ صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو۔)[سورہ آل عمران: 175]۔نیز فرمایا:(اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے، جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں۔ توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں۔)[سورہ التَّوْبَہ: 18].نیز فرمایا:(اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں، لیکن جب اللہ کی راه میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے، تو لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں۔)[سورہ الْعَنْكَبُوت: 10].ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:"یہ یقین کی کمزوری ہے کہ تم اللہ کو ناراض کرکے لوگوں کو خوش کرو اور اللہ کے دیے ہوئے رزق پر لوگوں کی تعریف کرو اور اگر اللہ نہ دے تو لوگوں کی مذمت کرنے لگو۔ یاد رکھو اللہ کے رزق کو نہ کسی حریص کا حرص کھینچ سکتا ہے اور نہ کسی ناپسند کرنے والے کی ناپسندیدگی اُسے روک سکتی ہے۔"اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:"جو شخص لوگوں کو ناراض کرکے اللہ کى رضا کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اُس سے راضی ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اس سے خوش رکھتا ہے اور جو شخص اللہ کو ناراض کرکے لوگوں کی رضا کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتا ہے اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کردیتا ہے۔"اسے ابن حبّان نے اپنی کتاب ’صحیح ابن حبان‘ میں روایت کیا ہے۔

سورہ البقرۃ کی ایک آیت کی تفسیر۔

دوسرا مسئلہ:

سورۂ توبہ کی بھی ایک آیت کی تفسیر ہوتی ہے۔

تیسرا مسئلہ:

اپنی جان، بال وبچوں اور مال ومتاع سے زیادہ محبت آپ ﷺ سے ہونی چاہیے۔

چوتھا مسئلہ:

ایمان کی نفی سے کسی شخص کے دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کی دلیل نہیں ملتی۔

پانچواں مسئلہ:

ایمان کی ایک الگ چاشنی ومٹھاس ہوتی ہے، تاہم کبھی انسان کو اس کا احساس ہوتا ہے اور کبھی نہیں۔

چھٹا مسئلہ:

چار قلبی اعمال ایسے ہیں، جن کے بغیر انسان اللہ کی ولایت حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اُن کے بغیر ایمان کا ذائقہ چکھ سکتا ہے۔

ساتواں مسئلہ:

صحابیٔ رسول نے اس سچائی کو جانتے تھے کہ عام تعلقات اور بھائی چارے محض دنیا کی خاطر ہوتے ہیں۔

آٹھواں مسئلہ:

اس میں آیتِ کریمہ {وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الأَسْبَابُ} (قیامت کے روز ان کے سارے اسباب ووسائل ختم ہوجائیں گے) کی تفسیر موجود ہے۔

نواں مسئلہ:

بعض مشرک اللہ تعالیٰ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔

دسواں مسئلہ:

جو شخص مذکورہ (باپ بھائی...) آٹھ چیزوں کو دین سے زیادہ محبوب رکھے، اس کے لیے سخت وعید ہے۔

گیارہواں مسئلہ:

جو شخص کسی کو اللہ کا شریک بنائے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی محبت کے برابر محبت رکھے، تو اس کا ایسا کرنا شرکِ اکبر ہے۔

 باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان:

 (یہ خبر دینے واﻻ صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو۔)

 [سورہ آل عمران: 175]۔

نیز فرمایا:

(اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے، جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں۔ توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں۔)

[سورہ التَّوْبَہ: 18].

نیز فرمایا:

(اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں، لیکن جب اللہ کی راه میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے، تو لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں۔)

[سورہ الْعَنْكَبُوت: 10].

ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

"یہ یقین کی کمزوری ہے کہ تم اللہ کو ناراض کرکے لوگوں کو خوش کرو اور اللہ کے دیے ہوئے رزق پر لوگوں کی تعریف کرو اور اگر اللہ نہ دے تو لوگوں کی مذمت کرنے لگو۔ یاد رکھو اللہ کے رزق کو نہ کسی حریص کا حرص کھینچ سکتا ہے اور نہ کسی ناپسند کرنے والے کی ناپسندیدگی اُسے روک سکتی ہے۔"

اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"جو شخص لوگوں کو ناراض کرکے اللہ کى رضا کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اُس سے راضی ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اس سے خوش رکھتا ہے اور جو شخص اللہ کو ناراض کرکے لوگوں کی رضا کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتا ہے اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کردیتا ہے۔"

اسے ابن حبّان نے اپنی کتاب ’صحیح ابن حبان‘ میں روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں سورہ آل عمران کی اُس آیت کی تفسیر ہے (جس میں اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔)دوسرا مسئلہ:یہاں سورہ توبہ کی مذکورہ دو آیتوں کی تفسیر ہے۔تیسرا مسئلہ:اس میں سورہ العنکبوت کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہے (جس میں اللہ پر کمزور ایمان رکھنے والوں کا تذکرہ ہے۔)چوتھا مسئلہ:یقین کبھی کمزور ہوتا ہے تو کبھی قوی۔پانچواں مسئلہ:یقین کی کمزوری کی کچھ علامتیں بھی ہوتی ہیں۔ یہاں تین علامتوں کا ذکر ہے۔چھٹا مسئلہ:صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ایک دینی فریضہ ہے۔ساتواں مسئلہ:یہاں صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کے ثواب کا ذکر ہے۔آٹھواں مسئلہ:جس کے اندر خوفِ الہی نہ ہو، اس کی سزا کا بیان ہے۔باب: فرمانِ باری تعالیٰ:(اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمھیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔)[سورۂ مائدہ: 23]۔نیز فرمایا:(بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے، تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں، تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔)[سورہ انْفَال: 2]۔نیز فرمایا:(اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مؤمنوں کو، جو تیری پیروی کر رہے ہیں۔)[سورہ انفال: 64]۔نیز فرمایا:(جو شخص اللہ پر توکل کرے گا، اللہ اسے کافی ہوگا۔)[سورۂ طلاق: 3]۔ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:’’حَسْبُنا اللهُ ونِعْمَ الوكيلُ‘‘ (ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔)یہ جملہ ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا، جب وہ آگ میں ڈالے گئے تھے اور محمد ﷺ نے اس وقت فرمایا تھا، جس وقت لوگوں نے آپ ﷺ سے کہا تھا:(وه لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کر لیے ہیں، تم ان سے خوف کھاؤ، تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے۔)[سورۂ آل عمران: 173]۔اسے بخاری اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

اس میں سورہ آل عمران کی اُس آیت کی تفسیر ہے (جس میں اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔)

دوسرا مسئلہ:

یہاں سورہ توبہ کی مذکورہ دو آیتوں کی تفسیر ہے۔

تیسرا مسئلہ:

اس میں سورہ العنکبوت کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہے (جس میں اللہ پر کمزور ایمان رکھنے والوں کا تذکرہ ہے۔)

چوتھا مسئلہ:

یقین کبھی کمزور ہوتا ہے تو کبھی قوی۔

پانچواں مسئلہ:

یقین کی کمزوری کی کچھ علامتیں بھی ہوتی ہیں۔ یہاں تین علامتوں کا ذکر ہے۔

چھٹا مسئلہ:

صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ایک دینی فریضہ ہے۔

ساتواں مسئلہ:

یہاں صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کے ثواب کا ذکر ہے۔

آٹھواں مسئلہ:

جس کے اندر خوفِ الہی نہ ہو، اس کی سزا کا بیان ہے۔

 باب: فرمانِ باری تعالیٰ:

 (اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمھیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔)

 [سورۂ مائدہ: 23]۔

نیز فرمایا:

(بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے، تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں، تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔)

[سورہ انْفَال: 2]۔

نیز فرمایا:

(اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مؤمنوں کو، جو تیری پیروی کر رہے ہیں۔)

[سورہ انفال: 64]۔

نیز فرمایا:

(جو شخص اللہ پر توکل کرے گا، اللہ اسے کافی ہوگا۔)

[سورۂ طلاق: 3]۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:

’’حَسْبُنا اللهُ ونِعْمَ الوكيلُ‘‘ (ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔)

یہ جملہ ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا، جب وہ آگ میں ڈالے گئے تھے اور محمد ﷺ نے اس وقت فرمایا تھا، جس وقت لوگوں نے آپ ﷺ سے کہا تھا:

(وه لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کر لیے ہیں، تم ان سے خوف کھاؤ، تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے۔)

[سورۂ آل عمران: 173]۔

اسے بخاری اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:توکّل ایک دینی فریضہ ہے۔دوسرا مسئلہ:توکل ایمان کی ایک شرط ہے۔تیسرا مسئلہ:اس میں سورۂ انفال کی آیت کی تفسیر ہے (جس میں اہلِ ایمان کی صفات کا ذکر ہے۔)چوتھا مسئلہ:اس آیت کی تفسیر، آیت کے آخری حصہ {وعَلی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ} میں ہی موجود ہے۔پانچواں مسئلہ:اس میں سورہ طلاق کی آیت کی تفسیر ہے (جس میں ہے کہ اللہ پر توکل کرنے والوں کے لیے اللہ ہی کا فی ہے)۔چھٹا مسئلہ:’’حَسْبُنَا اللهُ ونِعْمَ الوَكِيلُ‘‘ کی عظمت واہمیت کا علم۔ اور اس بات کا علم کہ یہ ایسا ذکر ہے، جس کا ورد پیغمبر ابراہیم علیہ السلام اور محمد ﷺ نے شدید مشکل حالات اور پریشانی کے وقت کیا تھا۔باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان :(کیا پس وه اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا۔)[سورۂ اعراف: 99].نیز فرمایا:"اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے نا امید تو صرف گمراه اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔"[سورہ الحجر : 56].ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا اور اللہ کی گرفت سے بے خوف ہونا۔"اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:"سب سے بڑے گناہ: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کے مکر سے مامون سمجھنا، اللہ کی رحمت اور مہربانی سے نا امید ہونا اور اللہ کى طرف سے زوال مکروہ کو مستبعد سمجھنا"اسے امام عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔

توکّل ایک دینی فریضہ ہے۔

دوسرا مسئلہ:

توکل ایمان کی ایک شرط ہے۔

تیسرا مسئلہ:

اس میں سورۂ انفال کی آیت کی تفسیر ہے (جس میں اہلِ ایمان کی صفات کا ذکر ہے۔)

چوتھا مسئلہ:

اس آیت کی تفسیر، آیت کے آخری حصہ {وعَلی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ} میں ہی موجود ہے۔

پانچواں مسئلہ:

اس میں سورہ طلاق کی آیت کی تفسیر ہے (جس میں ہے کہ اللہ پر توکل کرنے والوں کے لیے اللہ ہی کا فی ہے)۔

چھٹا مسئلہ:

’’حَسْبُنَا اللهُ ونِعْمَ الوَكِيلُ‘‘ کی عظمت واہمیت کا علم۔ اور اس بات کا علم کہ یہ ایسا ذکر ہے، جس کا ورد پیغمبر ابراہیم علیہ السلام اور محمد ﷺ نے شدید مشکل حالات اور پریشانی کے وقت کیا تھا۔

 باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان :

 (کیا پس وه اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا۔)

 [سورۂ اعراف: 99].

نیز فرمایا:

"اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے نا امید تو صرف گمراه اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔"

[سورہ الحجر : 56].

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

"اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا اور اللہ کی گرفت سے بے خوف ہونا۔"

اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

"سب سے بڑے گناہ: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کے مکر سے مامون سمجھنا، اللہ کی رحمت اور مہربانی سے نا امید ہونا اور اللہ کى طرف سے زوال مکروہ کو مستبعد سمجھنا"

اسے امام عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں سورۂ اعراف کی اُس آیت کی تفسیر ہے (جس میں اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہونے والوں کا ذکر ہے۔)دوسرا مسئلہ:اسی طرح سورہ حجر کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہے (جس میں گمراہ لوگوں کو اللہ کی رحمت سے دور قرار دیا گیا ہے۔)تیسرا مسئلہ:جو اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہوجائے اس کے حق میں شدید وعید۔ وارد ہے۔چوتھا مسئلہ:اللہ کی رحمت سے مایوسی پر بھی سخت وعید آئی ہے۔

اس میں سورۂ اعراف کی اُس آیت کی تفسیر ہے (جس میں اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہونے والوں کا ذکر ہے۔)

دوسرا مسئلہ:

اسی طرح سورہ حجر کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہے (جس میں گمراہ لوگوں کو اللہ کی رحمت سے دور قرار دیا گیا ہے۔)

تیسرا مسئلہ:

جو اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہوجائے اس کے حق میں شدید وعید۔ وارد ہے۔

چوتھا مسئلہ:

اللہ کی رحمت سے مایوسی پر بھی سخت وعید آئی ہے۔

 باب : اللہ تعالیٰ کی (تکلیف دہ) تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:(اورجو اللہ پر ایمان لائے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔)[سورہ التغابن: 11]۔

(اورجو اللہ پر ایمان لائے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔)

[سورہ التغابن: 11]۔

علقمہ کہتے ہیں: ’’اس سے مراد وہ شخص ہے، جسے کوئی تکلیف پہنچے تو سمجھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ چنانچہ اس پر راضی ہو اور اسے دل سے تسلیم کرے ۔‘‘

اور صحیح مسلم میں ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"لوگوں میں دو چیزیں کفر ہیں: نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔"جب کہ صحیحین ہی میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:"وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانہ جاہلیت کی طرح بین کیا۔"ساتھ ہی انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:"جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے اس کے گناہ کی سزاد دینے سے رکا رہتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔"اور نبی ﷺ ارشاد ہے:"آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے، اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے، تو اس کو آزمائش سے دوچار فرماتا ہے۔ پس جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے، تو وہ اس سے راضی رہتا ہے اور جو کوئی اس سے خفا ہو، تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے۔"ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

"لوگوں میں دو چیزیں کفر ہیں: نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔"

جب کہ صحیحین ہی میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

"وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانہ جاہلیت کی طرح بین کیا۔"

ساتھ ہی انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:

"جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے اس کے گناہ کی سزاد دینے سے رکا رہتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔"

اور نبی ﷺ ارشاد ہے:

"آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے، اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے، تو اس کو آزمائش سے دوچار فرماتا ہے۔ پس جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے، تو وہ اس سے راضی رہتا ہے اور جو کوئی اس سے خفا ہو، تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے۔"

ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں سورہ تغابُن کی اُس آیت کی تفسیر ہے (جس میں ہے کہ اللہ مؤمن کے دل کو ہدایت بخشتا ہے۔)دوسرا مسئلہ:(تکلیف دہ) تقدیر پر صبر کرنا بھی ایمان باللہ کا حصہ ہے۔تیسرا مسئلہ:نسب پر طعن کرنا (کفریہ کام ہے)۔چوتھا مسئلہ:اس شخص کے بارے میں سخت وعید، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانۂ جاہلیت کی طرح بین کیا۔پانچواں مسئلہ:یہاں یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے, اس کى کیا علامت ہوتی ہے۔چھٹا مسئلہ:نیز جس بندے کے ساتھ بُرائی کا ارادہ کرتا ہے، اُس کی بھی علامت وپہچان بتائی گئی ہے۔ساتواں مسئلہ:بندے سے اللہ تعالى کى محبت کی بھی نشانی بتائی گئی ہے۔آٹھواں مسئلہ:تقدیر کے فیصلے پر ناخوش ہونا حرام ہے۔نواں مسئلہ:آزمائشوں پر راضی رہنے کا بڑا اجر وثواب ہے۔

اس میں سورہ تغابُن کی اُس آیت کی تفسیر ہے (جس میں ہے کہ اللہ مؤمن کے دل کو ہدایت بخشتا ہے۔)

دوسرا مسئلہ:

(تکلیف دہ) تقدیر پر صبر کرنا بھی ایمان باللہ کا حصہ ہے۔

تیسرا مسئلہ:

نسب پر طعن کرنا (کفریہ کام ہے)۔

چوتھا مسئلہ:

اس شخص کے بارے میں سخت وعید، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانۂ جاہلیت کی طرح بین کیا۔

پانچواں مسئلہ:

یہاں یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے, اس کى کیا علامت ہوتی ہے۔

چھٹا مسئلہ:

نیز جس بندے کے ساتھ بُرائی کا ارادہ کرتا ہے، اُس کی بھی علامت وپہچان بتائی گئی ہے۔

ساتواں مسئلہ:

بندے سے اللہ تعالى کى محبت کی بھی نشانی بتائی گئی ہے۔

آٹھواں مسئلہ:

تقدیر کے فیصلے پر ناخوش ہونا حرام ہے۔

نواں مسئلہ:

آزمائشوں پر راضی رہنے کا بڑا اجر وثواب ہے۔

 باب : ریاکاری کے احکام کا بیان

اللہ تعالی نے فرمایا:((اے نبی) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو، اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔)[سورۃ الکہف: 110]۔اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمام شرکا کی بہ نسبت شرک سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ کوئی شخص جب كوئی عمل کرتا ہے اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کرتا ہے، تو میں اسے اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں۔"اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اسی طرح ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:"کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتادوں جس کا خوف مجھے تمہارے بارے میں مسیح دجال سے بھی زیادہ ہے؟"لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول ﷺ! ضرور بتلائیں! آپ ﷺ نے فرمایا:"وہ شرک خفی ہے؛ بایں طور کہ کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو اور اپنی نماز محض اس لیے اچھی طرح پڑھے کہ کوئی شخص اسے دیکھ رہا ہے۔اسے احمد نے روایت کیا ہے۔

((اے نبی) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو، اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔)

[سورۃ الکہف: 110]۔

اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمام شرکا کی بہ نسبت شرک سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ کوئی شخص جب كوئی عمل کرتا ہے اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کرتا ہے، تو میں اسے اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں۔"

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

"کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتادوں جس کا خوف مجھے تمہارے بارے میں مسیح دجال سے بھی زیادہ ہے؟"

لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول ﷺ! ضرور بتلائیں! آپ ﷺ نے فرمایا:

"وہ شرک خفی ہے؛ بایں طور کہ کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو اور اپنی نماز محض اس لیے اچھی طرح پڑھے کہ کوئی شخص اسے دیکھ رہا ہے۔

اسے احمد نے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل

پہلا مسئلہ:سورہ الکہف کی مذکورہ آیت کی تفسیر۔دوسرا مسئلہ:اس بڑى بات کا بیان کہ عملِ صالح میں اگر غیر اللہ کے لئے معمولی سی چیز بھی دخل ہوجائے، تو وہ برباد اور اکارت چلا جاتا ہے۔تیسرا مسئلہ:اس بات کے سبب کا بیان, جو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لئے صفت کمال بے نیازی ہے ۔چوتھا مسئلہ:ایک سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے والے تمام شریکوں سے افضل وبہتر ہے۔پانچواں مسئلہ:آپ ﷺ کو صحابۂ کرام کے بارے میں بھی ریاکاری کا خدشہ تھا۔چھٹا مسئلہ:آپ ﷺ نے ریاکاری کی تشریح اس طرح کی ہے کہ کوئی شخص نماز اس لیے اچھی طرح پڑھے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔

سورہ الکہف کی مذکورہ آیت کی تفسیر۔

دوسرا مسئلہ:

اس بڑى بات کا بیان کہ عملِ صالح میں اگر غیر اللہ کے لئے معمولی سی چیز بھی دخل ہوجائے، تو وہ برباد اور اکارت چلا جاتا ہے۔

تیسرا مسئلہ:

اس بات کے سبب کا بیان, جو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لئے صفت کمال بے نیازی ہے ۔

چوتھا مسئلہ:

ایک سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے والے تمام شریکوں سے افضل وبہتر ہے۔

پانچواں مسئلہ:

آپ ﷺ کو صحابۂ کرام کے بارے میں بھی ریاکاری کا خدشہ تھا۔

چھٹا مسئلہ:

آپ ﷺ نے ریاکاری کی تشریح اس طرح کی ہے کہ کوئی شخص نماز اس لیے اچھی طرح پڑھے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔

 باب : انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:(جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو، ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہیں بھر پور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ہاں یہی وه لوگ ہیں، جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا، وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کےاعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں۔)[سورہ ہود: 15، 16].اور صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"دینا کا بندہ اور درہم کا بندہ ہلاک ہو!

(جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو، ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہیں بھر پور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔

ہاں یہی وه لوگ ہیں، جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا، وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کےاعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں۔)

[سورہ ہود: 15، 16].

اور صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"دینا کا بندہ اور درہم کا بندہ ہلاک ہو!

ریشمی اور اونی چادر کا بندہ تباہ ہو!

اور روئیں دار کپڑے کا بندہ بھی تباہ ہو!

اگر اس کو کچھ دیا جائے، تب تو خوش۔ لیکن جب نہ دیا جائے، تو غصہ ہو جائے۔ ایسا شخص تباہ اور سرنگوں ہو۔ جب اس کو کانٹا لگے، تو اللہ کرے پھر نہ نکلے۔

مبارک باد کا مستحق ہے وہ بندہ، جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، دراں حال کہ اس کے سر کے بال پراگندہ ہیں اور اس کے قدم گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں۔

اگر اسے پہرے پر لگا دیا جائے، تو وہ اپنے اس کام میں پوری تندہی سے لگا رہے

اور اگر لشکر کے پیچھے (دیکھ بھال کے لیے) لگا دیا جائے، تو اس میں بھی پوری تندہی اور فرض شناسی سے لگا رہے۔

اگر وہ اجازت مانگے، تو اسے اجازت نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے، تو اس کی سفارش بھی قبول نہ کی جائے۔"

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:انسان کا آخرت کے عمل سے دنیا طلب کرنا (درست نہیں ہے)۔دوسرا مسئلہ:اس میں سورۂ ہود کی اُس کی تفسیر ہے (جس میں دنیا کے طلب گار کی مذمت بیان کی گئی ہے)۔تیسرا مسئلہ:یہاں حریص مسلم کو درہم ودینار اور ریشمى اور اونی کپڑوں کا بندہ کہا گیا ہے۔چوتھا مسئلہ:دنیا کے طلب گار کی صفت یہ بتائی ہے کہ اگر اس کی خواہش پوری ہو جائے، تو خوش، ورنہ ناخوش رہتا ہے۔پانچواں مسئلہ:اس میں آپ کے الفاظ: ’’تَعِسَ وَانْتَكَسَ‘‘ کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔چھٹا مسئلہ:نیز اس میں آپ کے الفاظ: ’’وَإِذَا شِيكَ فَلاَ انْتَقَشَ‘‘ کا معنی بھی بیان کیا گیا ہے۔ساتواں مسئلہ:یہاں مذکورہ صفات سے متصف مجاہد کی تعریف کی گئی ہے۔

انسان کا آخرت کے عمل سے دنیا طلب کرنا (درست نہیں ہے)۔

دوسرا مسئلہ:

اس میں سورۂ ہود کی اُس کی تفسیر ہے (جس میں دنیا کے طلب گار کی مذمت بیان کی گئی ہے)۔

تیسرا مسئلہ:

یہاں حریص مسلم کو درہم ودینار اور ریشمى اور اونی کپڑوں کا بندہ کہا گیا ہے۔

چوتھا مسئلہ:

دنیا کے طلب گار کی صفت یہ بتائی ہے کہ اگر اس کی خواہش پوری ہو جائے، تو خوش، ورنہ ناخوش رہتا ہے۔

پانچواں مسئلہ:

اس میں آپ کے الفاظ: ’’تَعِسَ وَانْتَكَسَ‘‘ کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔

چھٹا مسئلہ:

نیز اس میں آپ کے الفاظ: ’’وَإِذَا شِيكَ فَلاَ انْتَقَشَ‘‘ کا معنی بھی بیان کیا گیا ہے۔

ساتواں مسئلہ:

یہاں مذکورہ صفات سے متصف مجاہد کی تعریف کی گئی ہے۔

 باب : جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علما وامرا کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنالیا۔

ابن عباس فرماتے ہیں:’’(اگر تمہاری یہی حالت رہی ہے تو) عنقریب ہی تم پر آسمان سے پتھر برسیں گے! میں تمہیں رسول ﷺ کی حدیثیں سُناتا ہوں اور تم (اس کے سامنے) ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے اقوال بیان کرتے ہو!‘‘امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’اُن لوگوں پر مجھے تعجب ہے، جو حدیث کی سندیں اور اس کی صحت سے واقف ہیں، لیکن اس کے باوجود سفیان ثوری کی رائے پر عمل کرتے ہیں۔ حالاں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(سنو! جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست فتنہ نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچ جائے۔)[سورہ النُّور: 63]جانتے ہو فتنہ کیا ہے؟ (سنو) اس سے مراد ’’شرک‘‘ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جو انسان آپ ﷺ کی بات کو چھوڑ دے، اس کے دل میں کجی آجائے اور وہ ہلاک ہوجائے۔"اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہانہوں نے نبی ﷺ کو یہ آیتِ کریمہ پڑھتے ہوئے سُنا:(ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو، حاﻻنکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وه پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔)[ سورہ التوبہ : 31]عدی کہتے ہیں کہ تو میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے!

’’(اگر تمہاری یہی حالت رہی ہے تو) عنقریب ہی تم پر آسمان سے پتھر برسیں گے! میں تمہیں رسول ﷺ کی حدیثیں سُناتا ہوں اور تم (اس کے سامنے) ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے اقوال بیان کرتے ہو!‘‘

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’اُن لوگوں پر مجھے تعجب ہے، جو حدیث کی سندیں اور اس کی صحت سے واقف ہیں، لیکن اس کے باوجود سفیان ثوری کی رائے پر عمل کرتے ہیں۔ حالاں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(سنو! جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست فتنہ نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچ جائے۔)

[سورہ النُّور: 63]

جانتے ہو فتنہ کیا ہے؟ (سنو) اس سے مراد ’’شرک‘‘ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جو انسان آپ ﷺ کی بات کو چھوڑ دے، اس کے دل میں کجی آجائے اور وہ ہلاک ہوجائے۔"

اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

انہوں نے نبی ﷺ کو یہ آیتِ کریمہ پڑھتے ہوئے سُنا:

(ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو، حاﻻنکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وه پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔)

[ سورہ التوبہ : 31]

عدی کہتے ہیں کہ تو میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے!

آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا ایسا نہیں ہے کہ تم اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو ان کے کہنے پر حرام اور اُس کی حرام کردہ چیزوں کو اُن کے کہنے پر حلال سمجھتے ہو؟

انھوں نے جواب دیا: ہاں !

آپ ﷺ نے فرمایا: "یہی تو اُن کی عبادت ہے۔"اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ساتھ ہی ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ساتھ ہی ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں سورہ النور کی اُس آیت کی تفسیر ہے (جس میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کی نافرمانی سے ڈرایا گیا ہے)۔دوسرا مسئلہ:نیز سورہ براءت کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہے ( جس میں علما اور صالحین کو رب بنانے والوں کا ذکر ہے)۔تیسرا مسئلہ:اس میں اُس عبادت، جس کا عدی رضی اللہ عنہ نے انکار کیا تھا, کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔چوتھا مسئلہ:(اس سے پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ کے بالمقابل کسی کے قول کو پیش نہیں کیا جاسکتا، خواہ اس کا مقام کتنا ہی بلند اور ارفع کیوں نہ ہو، جیساکہ اس تعلق سے) ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے سفیان ثوری, کى شخصیات کو بطور مثال پیش کیا تھا۔پانچواں مسئلہ:(اس میں اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ) اب حالات بے حد تک بدل ہوچکے ہیں کہ اکثر عوام کے نزدیک بزرگوں کی عبادت افضل ترین عمل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور اسے ولایت کا نام دے دیا گیا ہے۔ اسی طرح اہلِ علم کی بھی عبادت ہوتی ہے جسى علم وفقہ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ پھر اس قدر حالات بدلے کہ اللہ کے سوا ان کی بھی پرستش ہونے لگی، جو نیکوکار نہ تھے اور یہاں پر مذکور عبادت کے دوسرے معنى (یعنی علما کى عبادت) کے اعتبار سے, ان کى بھی عبادت ہونے لگی، جو اصحابِ علم نہیں بلکہ بالکل جاہل تھے۔باب : اللہ تعالیٰ کا فرمان :(کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وه اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حاﻻنکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کرده کلام کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آپڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا اراده تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔)[سورہ النساء : 60-62]۔نیز فرمایا:(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔)[سورہ البقرہ :11]۔نیز فرمایا:(اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو، اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔)[سورہ الاعراف: 56].۔نیز فرمایا:(اور یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے واﻻ کون ہوسکتا ہے؟)[سورہ المائدہ : 50]۔عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :"تم میں س کوئی اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔"

اس میں سورہ النور کی اُس آیت کی تفسیر ہے (جس میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کی نافرمانی سے ڈرایا گیا ہے)۔

دوسرا مسئلہ:

نیز سورہ براءت کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہے ( جس میں علما اور صالحین کو رب بنانے والوں کا ذکر ہے)۔

تیسرا مسئلہ:

اس میں اُس عبادت، جس کا عدی رضی اللہ عنہ نے انکار کیا تھا, کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔

چوتھا مسئلہ:

(اس سے پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ کے بالمقابل کسی کے قول کو پیش نہیں کیا جاسکتا، خواہ اس کا مقام کتنا ہی بلند اور ارفع کیوں نہ ہو، جیساکہ اس تعلق سے) ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے سفیان ثوری, کى شخصیات کو بطور مثال پیش کیا تھا۔

پانچواں مسئلہ:

(اس میں اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ) اب حالات بے حد تک بدل ہوچکے ہیں کہ اکثر عوام کے نزدیک بزرگوں کی عبادت افضل ترین عمل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور اسے ولایت کا نام دے دیا گیا ہے۔ اسی طرح اہلِ علم کی بھی عبادت ہوتی ہے جسى علم وفقہ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ پھر اس قدر حالات بدلے کہ اللہ کے سوا ان کی بھی پرستش ہونے لگی، جو نیکوکار نہ تھے اور یہاں پر مذکور عبادت کے دوسرے معنى (یعنی علما کى عبادت) کے اعتبار سے, ان کى بھی عبادت ہونے لگی، جو اصحابِ علم نہیں بلکہ بالکل جاہل تھے۔

 باب : اللہ تعالیٰ کا فرمان :

 (کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وه اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حاﻻنکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟

 ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کرده کلام کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔

 پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آپڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا اراده تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔)

 [سورہ النساء : 60-62]۔

نیز فرمایا:

(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔)

[سورہ البقرہ :11]۔

نیز فرمایا:

(اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو، اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔)

[سورہ الاعراف: 56]

نیز فرمایا:

(اور یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے واﻻ کون ہوسکتا ہے؟)

[سورہ المائدہ : 50]۔

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

"تم میں س کوئی اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔"

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’یہ حدیث صحیح ہے اور اسے ہم نے کتاب الحُجّہ میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔‘‘

شعبی کہتے ہیں: ’’ایک منافق اور ایک یہودی کے بیچ میں کوئی جھگڑا ہوگیا۔

چنانچہ یہودی نے کہا: چلو، ہم محمد ﷺ کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش کرتے ہیں۔

اس لیے کہ اُس شخص کو پتہ تھا کہ آپ ﷺ رشوت نہیں لیتے۔

لیکن منافق نے کہا: ہم یہود کے پاس یہ مسئلہ لے چلتے ہیں۔ اس لیے کہ اُسے پتہ تھا کہ وہ رشوت لیتے ہیں۔

پھر دونوں اس بات پر راضی ہوگئے کہ بنو جہینہ کے ایک کاہن سے فیصلہ کرالیا جائے، تو یہ آیت {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ} نازل ہوئی:[سورہ النساء: 60-62]

[سورہ النساء: 60-62]

ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت ان دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی، جن کا آپس میں اختلاف ہوگیا تھا۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا کہ محمد ﷺ کے پاس معاملہ پیش کرتے ہیں۔ جب کہ دوسرے نے کہا کہ نہیں یہ معاملہ کعب بن اشرف کے پاس لے چلتے ہیں۔ پھر دونوں معاملہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور اُن میں سے ایک شخص (یہودی) نے سارا ماجرا بیان کیا،

تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے پوچھا، جو اللہ کے رسول ﷺ سے فیصلہ کرانے پر راضی نہیں تھا: کیا یہ ٹھیک کہہ رہا ہے؟

اس نے کہا: ہاں! چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار سے اس کر گردن اُڑا دی۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:یہاں سورہ النساء کی آیت کی تفسیر ہے، جس سے طاغوت کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔دوسرا مسئلہ:اس سے سورہ البقرہ کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہوتی ہے: {وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ}تیسرا مسئلہ:اس سے سورہ اعراف کی اس آیت کی بھی تفسیر ہوتی ہے: {وَلاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِهَا}چوتھا مسئلہ:اس میں آیت کریمہ: {أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ} (کیا وہ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟) کی بھی تفسیر ہے۔پانچواں مسئلہ:پہلی آیت کے شان نزول کے بارے میں شعبی کے قول کی وضاحت ہوتی ہے۔چھٹا مسئلہ:سچے اور جھوٹے ایمان کی تفسیر کی گئی ہے۔ساتواں مسئلہ:عمر رضی اللہ عنہ کا منافق کے ساتھ پیش آنے والے قصے کا ذکر ہے۔آٹھواں مسئلہ:یہاں یہ کہا گیا ہے کہ کسی کو ایمان (کامل) اس وقت تک نصیب نہیں ہوتا، جب اس کی خواہشات رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائیں۔

یہاں سورہ النساء کی آیت کی تفسیر ہے، جس سے طاغوت کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

دوسرا مسئلہ:

اس سے سورہ البقرہ کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہوتی ہے: {وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ}

تیسرا مسئلہ:

اس سے سورہ اعراف کی اس آیت کی بھی تفسیر ہوتی ہے: {وَلاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِهَا}

چوتھا مسئلہ:

اس میں آیت کریمہ: {أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ} (کیا وہ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟) کی بھی تفسیر ہے۔

پانچواں مسئلہ:

پہلی آیت کے شان نزول کے بارے میں شعبی کے قول کی وضاحت ہوتی ہے۔

چھٹا مسئلہ:

سچے اور جھوٹے ایمان کی تفسیر کی گئی ہے۔

ساتواں مسئلہ:

عمر رضی اللہ عنہ کا منافق کے ساتھ پیش آنے والے قصے کا ذکر ہے۔

آٹھواں مسئلہ:

یہاں یہ کہا گیا ہے کہ کسی کو ایمان (کامل) اس وقت تک نصیب نہیں ہوتا، جب اس کی خواہشات رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائیں۔

 باب : اللہ تعالیٰ کے اسما وصفات کے انکار کرنے والا کا بیان

اللہ تعالی نے فرمایا:(یہ رحمٰن کے منکر ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ میرا پالنے واﻻ تو وہی ہے۔ اس کے سوا درحقیقت کوئی بھی ﻻئق عبادت نہیں۔ اسی کے اوپر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی جانب میرا رجوع ہے۔)[سورہ الرعد: 30].

(یہ رحمٰن کے منکر ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ میرا پالنے واﻻ تو وہی ہے۔ اس کے سوا درحقیقت کوئی بھی ﻻئق عبادت نہیں۔ اسی کے اوپر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی جانب میرا رجوع ہے۔)

[سورہ الرعد: 30].

اور صحیح بخاری میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’لوگوں کو وہی باتیں بتاؤ، جو ان کے فہم و شعور کے معیار کی ہوں۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا جائے؟‘‘

عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے اور انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ جب اس نے اللہ کی صفات کے بارے میں نبی ﷺ کی ایک حدیث سنی، تو بطور انکار اس پر جھرجھری طاری ہو گئی۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا: ان لوگوں کا خوف کیسا ہے؟ محکم نصوص سن کر تو ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے، لیکن جب کوئی متشابہ نص سنتے ہیں، تو ہلاک ہو جاتے ہیں (یعنی انکار کر بیٹھتے ہیں)۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کى بات ختم ہوگئی۔

اسی طرح جب قریشِ مکہ نے اللہ کے رسول ﷺ کو رحمٰن کا ذکر کرتے سُنا، تو انہوں نے اس (صفت) کا انکار کردیا، جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :(یہ رحمٰن کے منکر ہیں۔)[سورہ الرعد: 30].

(یہ رحمٰن کے منکر ہیں۔)

[سورہ الرعد: 30].

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اللہ کے اسما وصفات میں سے کسی کا انکار کرنے سے ایمان جاتا رہتا ہے۔دوسرا مسئلہ:اس میں سورہ الرعد کی اُس آیت کی تفسیر ہے (جس میں اللہ کی صفتِ رحمٰن کا ذکر ہے۔)تیسرا مسئلہ:سننے والے کے اندر جس بات کو سمجھنے کی صلاحیت نہ ہو، ویسی بات نہیں کرنی چاہیے۔چوتھا مسئلہ:اس بات کے سبب کو یہاں بیان کردیا ہے کہ ایسى بات جو سامع نہ سمجھ پائے ، اس سے معاملہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تکذیب تک پہوںچ جاتا ہے، اگرچہ انکار کرنے والے کا ارادہ تکذیب کا نہ ہو۔پانچواں مسئلہ:یہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول کا تذکرہ ہے، جو انہوں نے اللہ کے اسما یا صفات میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرنے والے کے بارے میں کہی تھی, اور اس بات کا بیان بھی ہے کہ ایسى بات اس کو برباد کردے گى۔باب : اللہ تعالیٰ کا فرمان:(یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں۔)[ سورہ النحل: 83].

اللہ کے اسما وصفات میں سے کسی کا انکار کرنے سے ایمان جاتا رہتا ہے۔

دوسرا مسئلہ:

اس میں سورہ الرعد کی اُس آیت کی تفسیر ہے (جس میں اللہ کی صفتِ رحمٰن کا ذکر ہے۔)

تیسرا مسئلہ:

سننے والے کے اندر جس بات کو سمجھنے کی صلاحیت نہ ہو، ویسی بات نہیں کرنی چاہیے۔

چوتھا مسئلہ:

اس بات کے سبب کو یہاں بیان کردیا ہے کہ ایسى بات جو سامع نہ سمجھ پائے ، اس سے معاملہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تکذیب تک پہوںچ جاتا ہے، اگرچہ انکار کرنے والے کا ارادہ تکذیب کا نہ ہو۔

پانچواں مسئلہ:

یہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول کا تذکرہ ہے، جو انہوں نے اللہ کے اسما یا صفات میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرنے والے کے بارے میں کہی تھی, اور اس بات کا بیان بھی ہے کہ ایسى بات اس کو برباد کردے گى۔

 باب : اللہ تعالیٰ کا فرمان:

 (یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں۔)

 [ سورہ النحل: 83].

مجاہد اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "اس کا مطلب انسان کا یہ کہنا ہے کہ یہ مال تو مجھے باپ دادا سے وراثت میں ملا ہے"۔

عون بن عبد اللہ کا اس کى تفسیر میں یہ کہنا ہے: لوگوں کہتے ہیں کہ اگر فلاں نہ ہوتا، تو یوں ہوجاتا،".

قتیبہ کا اس کى تفسیر میں یہ کہنا ہے: لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ چیز ہمارے معبودوں کی سفارش سے ملی ہے".

ابو العباس علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ زید بن خالد کی اس حدیث کو, جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’کچھ بندوں نے مجھ پر ایمان کی حالت میں صبح کی ہے اور کچھ نے کفر کی حالت میں الخ‘‘ ذکر کرنے کے بعد، کہتے ہیں:

’’قرآن وسنت میں بکثرت ایسی آیتیں اور حدیثیں وارد ہیں، جن میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ ایسے لوگوں کی مذمت کرتا ہے، جو اس کی نعمتوں کی نسبت کسی غیر کی طرف کرتے ہیں اور اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘

بعض سلف کہتے ہیں: ’’بہت سے لوگوں کی زبان پر جاری اس طرح کی باتیں کہ ہوا اچھی تھی اور ملاح ماہر تھا وغیرہ وغیرہ،اسی ضمن میں آتی ہیں۔"

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس سے اللہ کی نعمتوں کی پہچان اور انکار کی وضاحت ہوتی ہے۔دوسرا مسئلہ:اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کے انکار پر مبنی باتیں پر بہت سے لوگوں کی زبان پر مروج ہیں۔تیسرا مسئلہ:ایسی باتوں کو انکارِ نعمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔چوتھا مسئلہ:ایک ہی دل میں دو متضاد باتوں (اللہ کی نعمتوں کا انکار واقرار) کا جمع ہونا ثابت ہوتا ہے۔باب : اللہ تعالیٰ کا فرمان :(پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ۔)[سورہ البقرۃ: 22]

اس سے اللہ کی نعمتوں کی پہچان اور انکار کی وضاحت ہوتی ہے۔

دوسرا مسئلہ:

اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کے انکار پر مبنی باتیں پر بہت سے لوگوں کی زبان پر مروج ہیں۔

تیسرا مسئلہ:

ایسی باتوں کو انکارِ نعمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

چوتھا مسئلہ:

ایک ہی دل میں دو متضاد باتوں (اللہ کی نعمتوں کا انکار واقرار) کا جمع ہونا ثابت ہوتا ہے۔

 باب : اللہ تعالیٰ کا فرمان :

 (پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ۔)

 [سورہ البقرۃ: 22]

ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’انداد سے مراد شرک ہے، جو رات کے اندھیرے میں سیاہ پتھر پر چیونٹی کے چلنے سے بھی زیادہ مخفی ہے۔

اس کی مثال یہ ہے کہ تم کہو: ’’اللہ کی قسم, اے فلاں عورت تیری زندگی کی قسم‘ اور میری زندگی کی قسم!‘‘

اسى طرح تمہار یہ کہنا: ’’اگر یہ کُتیا نہ ہوتی تو ہمارے گھر میں چور گھُس آتے!

اور اگر گھر میں بطخ نہ ہوتی ہو، ہمارے گھر میں چور آجاتے!‘‘

کوئی شخص اپنے ساتھی سے کہے: ’’جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں!‘‘

اسى طرح کسی آدمی کا یہ کہنا: ’’اگر اللہ نہ ہوتا اور فلاں نہ ہوتا!‘‘۔ اس طرح کى باتوں میں فلاں کو شامل نہ کرو۔, یہ سب مذکورہ مثالیں شرک کی باتیں ہیں۔اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"جس شخص نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔"اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے، جب کہ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔

اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

"جس شخص نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔"

اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے، جب کہ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے نزدیک غیر اللہ کی سچی قسم اٹھانے کی بہ نسبت اللہ تعالی کی جھوٹی قسم اٹھانا زیادہ بہتر ہے۔

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :"اس طرح مت کہو: جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور اس کے بعد پھر فلاں چاہے۔اسے احمد، ابوداؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

"اس طرح مت کہو: جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور اس کے بعد پھر فلاں چاہے۔

اسے احمد، ابوداؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کسی شخص کا یہ کہنا کہ "میں اللہ اور تیری پناہ میں آتا ہوں" حرام ہے۔ اس کی جگہ اس کے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ "میں اللہ کی اور اس کے بعد پھر تیری پناہ میں آتا ہوں"۔ ابراہیم نخعی فرماتے تھے کہ یوں کہو: "اگر اللہ نہ ہوتا اور پھر فلاں نہ ہوتا" اور یوں نہ کہو کہ "اگر الله اور فلاں نہ ہوتا"۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں 'انداد' سے متعلق سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔دوسرا مسئلہ:صحابہ کرام 'شرکِ اکبر' کے بارے میں اترنے والی آیتوں کی تفسیر اس طرح کرتے تھے کہ اس کے ضمن میں 'شرک اصغر' بھی آ جاتا۔تیسرا مسئلہ:غیر اللہ کی قسم کھانا شرک ہے۔چوتھا مسئلہ:غیر اللہ کی سچی قسم کھانا، اللہ کے نام کی جھوٹی قسم کھانے سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔پانچواں مسئلہ:اس سے ’واو‘ (اور) اور ’ثُمّ‘ (پھر) کے الفاظ کے معنوی فرق کا علم ہوتا ہے۔

اس میں 'انداد' سے متعلق سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔

دوسرا مسئلہ:

صحابہ کرام 'شرکِ اکبر' کے بارے میں اترنے والی آیتوں کی تفسیر اس طرح کرتے تھے کہ اس کے ضمن میں 'شرک اصغر' بھی آ جاتا۔

تیسرا مسئلہ:

غیر اللہ کی قسم کھانا شرک ہے۔

چوتھا مسئلہ:

غیر اللہ کی سچی قسم کھانا، اللہ کے نام کی جھوٹی قسم کھانے سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔

پانچواں مسئلہ:

اس سے ’واو‘ (اور) اور ’ثُمّ‘ (پھر) کے الفاظ کے معنوی فرق کا علم ہوتا ہے۔

 باب : اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تم اپنے آبا واجداد کی قسمیں نہ کھاؤ۔ جو شخص اللہ کی قسم کھائے اُسے چاہیے کہ سچ بولے اور جس کے لیے اللہ کى قسم کھائی جائے، وہ راضی ہو جائے اور جو اللہ کی قسم پرراضی نہ ہو، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"اسے امام احمد نے بسند حسن روایت کیا ہے۔

"تم اپنے آبا واجداد کی قسمیں نہ کھاؤ۔ جو شخص اللہ کی قسم کھائے اُسے چاہیے کہ سچ بولے اور جس کے لیے اللہ کى قسم کھائی جائے، وہ راضی ہو جائے اور جو اللہ کی قسم پرراضی نہ ہو، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

اسے امام احمد نے بسند حسن روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ: باپ دادا کی قسم کھانا ممنوع ہے۔

دوسرا مسئلہ:جس کے لیے اللہ کی قسم کھائی جائے، اسے رضامند ہو جانے کا حکم دیا گیا ہے۔تیسرا مسئلہ:جو اللہ کی قسم لینے پر راضی نہیں ہوتا، اس کے لیے وعید۔

جس کے لیے اللہ کی قسم کھائی جائے، اسے رضامند ہو جانے کا حکم دیا گیا ہے۔

تیسرا مسئلہ:

جو اللہ کی قسم لینے پر راضی نہیں ہوتا، اس کے لیے وعید۔

 باب : ’’جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں‘‘ کہنے کا حکم

قتیلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نبی ﷺ کے پاس آکر کہنے لگا کہ آپ لوگ شرک کرتے ہیں؛

کیوںکہ آپ لوگ "جو اللہ چاہے اور تم چاہو" اور

"کعبہ کی قسم" کہتے ہیں۔

چنانچہ نبی ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ جب قسم کھانی ہو تو کہیں:کعبہ کے رب کی قساور یہ کہیں کہ "جو اللہ چاہے اور پھر جو آپ چاہیں۔"اسے امام نسائی اور صحیح کہا ہے۔اور سنن نسائی ہی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے کہا کہ "جو اللہ چاہیں اور آپ چاہیں!" تو آپ ﷺ نے فرمایا:"کیا تم نے مجھے اللہ کا شریک ٹھہرا دیا ہے؟! (محض اتنا کہا کہو کہ) جو صرف اللہ چاہے"۔

کعبہ کے رب کی قس

اور یہ کہیں کہ "جو اللہ چاہے اور پھر جو آپ چاہیں۔"

اسے امام نسائی اور صحیح کہا ہے۔

اور سنن نسائی ہی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے کہا کہ "جو اللہ چاہیں اور آپ چاہیں!" تو آپ ﷺ نے فرمایا:

"کیا تم نے مجھے اللہ کا شریک ٹھہرا دیا ہے؟! (محض اتنا کہا کہو کہ) جو صرف اللہ چاہے"۔

اور سنن ابن ماجہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماں شریک بھائی طفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرا گزر یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے ہوا۔

میں نے اُن سے کہا: تم اچھے لوگ ہو، اگر عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا نہ کہو۔

اس پر انہوں نے جواب دیا: تم بھی اچھے ہو اگر ’"جو اللہ چاہے اور جو محمد چاہیں" نہ کہو۔

اس کے بعد میرا گزر کچھ نصرانیوں کے پاس سے ہوا۔ میں نے کہا: تم اچھے لوگ ہو، اگر مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا نہ کہو۔

اس پر انہوں نے جواب دیا: تم بھی اچھے ہو اگر ’"جو اللہ چاہے اور جو محمد چاہیں" نہ کہو۔

صبح ہوئی، تو میں نے یہ خواب کچھ لوگوں کو بتایا۔

پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے سارا ماجرا کہہ سنایا،

تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم نے یہ خواب کسی کو بتایا بھی ہے؟‘‘

میں نے کہا: جی ہاں! تو آپ ﷺ نے

اللہ کی حمد وثنا کی، اس کے بعد ’امّا بعد‘ کہا اور فرمایا:

’’طفیل نے خواب دیکھا ہے اور انہوں نے کچھ لوگوں سے اس کا تذکرہ بھی کیا ہے۔

در اصل تم ایک جملہ بولا کرتے ہو، جس سے میں تمھیں فلاں فلاں باتوں کی وجہ سے روک نہ سکا۔

لیکن اب "جو اللہ چاہے اور محمد چاہے" نہ کہو، بلکہ یہ کہو کہ جو صرف اللہ چاہے۔"

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہود شرکِ اصغر سے بھی واقف تھے۔دوسرا مسئلہ:اگر انسان کے اندر خواہش ہو، تو وہ صحیح اور غلط کو سمجھ سکتا ہے۔تیسرا مسئلہ:جب آپ ﷺ نے صحابہ کے ’’جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہيں‘‘ کہنے پر ناگواری جتاتے ہوئے فرمایا کیا تم نے مجھے اللہ کا شریک بنا دیا؟ تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا، جو یہ کہتے ہیں:

اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہود شرکِ اصغر سے بھی واقف تھے۔

دوسرا مسئلہ:

اگر انسان کے اندر خواہش ہو، تو وہ صحیح اور غلط کو سمجھ سکتا ہے۔

تیسرا مسئلہ:

جب آپ ﷺ نے صحابہ کے ’’جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہيں‘‘ کہنے پر ناگواری جتاتے ہوئے فرمایا کیا تم نے مجھے اللہ کا شریک بنا دیا؟ تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا، جو یہ کہتے ہیں:

’’مَا لِي مَنْ أَلُوذُ بِهِ سِوَاكَ‘‘ (کہ اے اللہ کے رسولﷺ! آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کی میں پناہ حاصل کر سکوں) ساتھ ہی اس کے بعد کے دو مصرعے بھی پڑھتے ہیں؟؟

چوتھا مسئلہ:یہ 'شرکِ اکبر' میں داخل نہیں ہے، ورنہ آپ ﷺ یہ نہیں کہتے کہ ’’مجھے تمہیں اس سے روکنے سے یہ یہ چیز مانع رہی۔‘‘پانچواں مسئلہ:اچھا خواب بھی وحی کی ایک قسم ہے۔چھٹا مسئلہ:اچھا خواب کبھی کبھار بعض احکام کی مشروعیت کی وجہ بن جاتا ہے۔

یہ 'شرکِ اکبر' میں داخل نہیں ہے، ورنہ آپ ﷺ یہ نہیں کہتے کہ ’’مجھے تمہیں اس سے روکنے سے یہ یہ چیز مانع رہی۔‘‘

پانچواں مسئلہ:

اچھا خواب بھی وحی کی ایک قسم ہے۔

چھٹا مسئلہ:

اچھا خواب کبھی کبھار بعض احکام کی مشروعیت کی وجہ بن جاتا ہے۔

 باب : جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی

اللہ تعالی نے فرمایا:(انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے۔ (دراصل) انہیں اس کا کچھ علم ہی نہیں ہے۔ یہ تو صرف (قیاس اور) اٹکل سے ہی کام لے رہے ہیں۔)[سورہ الجاثیہ: 24].صحیح (بخاری) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم زمانے کو گالیاں دے کر مجھے تکلیف پہنچاتا ہے؛ کیونکہ میں ہی زمانہ (کا خالق اور مالک) ہوں۔ دن اور رات کو مین ہی تبدیل کرتا ہوں۔"

(انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے۔ (دراصل) انہیں اس کا کچھ علم ہی نہیں ہے۔ یہ تو صرف (قیاس اور) اٹکل سے ہی کام لے رہے ہیں۔)

[سورہ الجاثیہ: 24].

صحیح (بخاری) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

"اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم زمانے کو گالیاں دے کر مجھے تکلیف پہنچاتا ہے؛ کیونکہ میں ہی زمانہ (کا خالق اور مالک) ہوں۔ دن اور رات کو مین ہی تبدیل کرتا ہوں۔"

ایک دوسری روایت میں ہے: "تم زمانے کو بُرا بھلا نہ کہو، کیوں کہ در اصل اللہ ہی زمانہ (کا خالق اور مالک) ہے۔"

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:زمانے کو بُرا بھلا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔دوسرا مسئلہ:زمانے کو بُرا بھلا کہنے کو آپ ﷺ نے اللہ کو ایذا پہنچانے سے تعبیر کیا ہے۔تیسرا مسئلہ:حدیث قدسی کے الفاظ : ’’فَإِنَّ اللهَ هُوَ الدَّهْرُ‘‘ پر غور کرنا چاہیے۔چوتھا مسئلہ:بسا اوقات انسان بلا قصد و ارادہ سبّ وشتم کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔

زمانے کو بُرا بھلا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔

دوسرا مسئلہ:

زمانے کو بُرا بھلا کہنے کو آپ ﷺ نے اللہ کو ایذا پہنچانے سے تعبیر کیا ہے۔

تیسرا مسئلہ:

حدیث قدسی کے الفاظ : ’’فَإِنَّ اللهَ هُوَ الدَّهْرُ‘‘ پر غور کرنا چاہیے۔

چوتھا مسئلہ:

بسا اوقات انسان بلا قصد و ارادہ سبّ وشتم کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔

 باب : قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم

صحیح (بخاری اور مسلم ( میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بدترین نام اس شخص کا ہے، جو 'مَلِکَ الاَمْلاک' (شہنشاہ) نام رکھے، جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) مالک نہیں۔"

"اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بدترین نام اس شخص کا ہے، جو 'مَلِکَ الاَمْلاک' (شہنشاہ) نام رکھے، جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) مالک نہیں۔"

سفیان ثوری نے ’ملک الاملاک‘ کے حکم میں شہنشاہ کے لقب کو بھی شامل کیا ہے۔

ایک دوسری روایت میں ہے: "شہنشاہ کا لقب اختیار کرنے والا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب زیادہ مغضوب اور خبیث ترین شخص ہے۔"

’’أخْنَع‘‘ کے معنی نیچ اور کمتر کے ہوتے ہیں۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:کسی کو ’’مِلک الأملاک‘‘ کے نام سے موسوم کرنا منع ہے۔دوسرا مسئلہ:اس قسم کے دیگر الفاظ، اسما اور القاب بھی اسی ممانعت میں شامل ہیں، جیسا کہ سفیان ثوری نے مثال پیش کرکے سمجھایا ہے۔تیسرا مسئلہ:اس قسم کے الفاظ وتعبیرات کی ناپسندیدگی کو سمجھنا اور اُن پر غور کرنا چاہیے، گرچہ انسان کے دل میں ان کے حقیقی معنی مراد نہ بھی ہوں۔چوتھا مسئلہ:اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ممانعت اللہ تعالیٰ کی عظمت وجلالتِ شان کے پیشِ نظر ہے۔

کسی کو ’’مِلک الأملاک‘‘ کے نام سے موسوم کرنا منع ہے۔

دوسرا مسئلہ:

اس قسم کے دیگر الفاظ، اسما اور القاب بھی اسی ممانعت میں شامل ہیں، جیسا کہ سفیان ثوری نے مثال پیش کرکے سمجھایا ہے۔

تیسرا مسئلہ:

اس قسم کے الفاظ وتعبیرات کی ناپسندیدگی کو سمجھنا اور اُن پر غور کرنا چاہیے، گرچہ انسان کے دل میں ان کے حقیقی معنی مراد نہ بھی ہوں۔

چوتھا مسئلہ:

اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ممانعت اللہ تعالیٰ کی عظمت وجلالتِ شان کے پیشِ نظر ہے۔

 باب : اللہ تعالیٰ کے اسما‎ئے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی

ابوشُرَیح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُن کی کنیت ابوالحکم تھی۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا:"حَکَمْ تو اللہ تعالیٰ ہے اور حُکم بھی وہی کرتا ہے!"

"حَکَمْ تو اللہ تعالیٰ ہے اور حُکم بھی وہی کرتا ہے!"

انہوں نے (اپنے نام کی وجہ تسمیہ بتاتے ہوئے ) کہا: میری قوم کے اندر جب کسی بات پر اختلاف ہوجاتا ہے، تو لوگ میرے پاس آتے ہیں اور میں ان کے مابین فیصلہ کردیتا ہوں، جس سے دونوں فریق راضی ہوجاتے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ کیسی اچھی بات ہے؟ تمہاری اولاد میں کون کون ہیں؟"

میں نے کہا: شُرَیح ، مسلم اور عبد اللہ۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "ان میں سب سے بڑا کون ہے؟"

میں نے کہا: شُرَیح

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اب تم ابوشُریح ہو۔‘‘ اسے ابوداؤد وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اللہ کے اسما وصفات کا احترام کرنا چاہیے، گرچہ (دوسرے کے لیے استعمال کرتے وقت ) ان کے معنیٰ مقصود نہ بھی ہوں۔دوسرا مسئلہ:اس مقصد سے کسی کا نام تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔تیسرا مسئلہ:کنیت رکھنے کے لیے سب سے بڑے بیٹے کا نام اختیار کرنا چاہیے۔

اللہ کے اسما وصفات کا احترام کرنا چاہیے، گرچہ (دوسرے کے لیے استعمال کرتے وقت ) ان کے معنیٰ مقصود نہ بھی ہوں۔

دوسرا مسئلہ:

اس مقصد سے کسی کا نام تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔

تیسرا مسئلہ:

کنیت رکھنے کے لیے سب سے بڑے بیٹے کا نام اختیار کرنا چاہیے۔

 باب : اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:(اگر آپ ان سے پوچھیں، تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یوں ہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجیے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہاری ہنسی مذاق کے لیے ره گئے ہیں؟)[سورہ التوبہ: 65].

(اگر آپ ان سے پوچھیں، تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یوں ہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجیے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہاری ہنسی مذاق کے لیے ره گئے ہیں؟)

[سورہ التوبہ: 65].

ابن عمر، محمد بن کعب، زید بن اسلم اور قتادہ سے روایت ہے -ان سب کی روایتیں آپس میں مل گئی ہیں (یعنی ان کے الفاظ قدرے مختلف ہیں مگر مفہوم یہ ہے کہ ) غزوۂ تبوک میں ایک (منافق) شخص نے کہا: ’’ہم نے اپنے ان قراء ( علم والوں کے ) جیسے پیٹ کے پجاری، زبان کے جھوٹے اور میدانِ جنگ میں سب سے زیادہ بزدل نہیں دیکھے۔ دراصل ان کی مراد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے قرّاء صحابہ تھے۔ یہ سن کر عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تو جھوٹا اور منافق ہے، میں تیری بات نبی ﷺ کو ضرور بتاؤں گا۔

چنانچہ عوف رضی اللہ عنہ بتانے کی غرض سے آپ کے پاس گئے، مگر ان کے آنے سے پہلے ہی وحی نازل ہوچکی تھی۔

وہ منافق بھی آپ ﷺ کی خدمت میں (معذرت کے لیے) آ پہنچا۔ دراں حال کہ آپ ﷺ اونٹنی پر سوار ہوکر روانہ ہونے کو تھے۔

وہ بولا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ تو محض قافلے والوں کے ما بین ہونے والی عام باتیں کر رہے تھے، تاکہ سفر کی مشقت ختم کرسکیں, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے۔ گویا وہ شخص آپ ﷺ کی اونٹنی کے کجاوے کی رسی کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور پتھر اس کے پاؤں کو چوٹ پہوںچارہے ہیں اور وہ کہہ رہا ہے: ہم تو محض عام بات چیت اور دل لگی کر رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں:(کیا تم اللہ تعالیٰ، اس کی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ سے ہنسی کرتے ہو؟ تم بہانے نہ بناؤ، یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے۔) [سورہ التوبہ: 65-66]آپ ﷺ نہ تو اس کی طرف توجہ دے رہے تھے اور نہ اس سے کچھ زیادہ فرما رہے تھے۔

(کیا تم اللہ تعالیٰ، اس کی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ سے ہنسی کرتے ہو؟ تم بہانے نہ بناؤ، یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے۔) [سورہ التوبہ: 65-66]

آپ ﷺ نہ تو اس کی طرف توجہ دے رہے تھے اور نہ اس سے کچھ زیادہ فرما رہے تھے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ: جو اللہ، اس کی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ کی ہنسی اڑائے، وہ کافر ہے۔ یہ ایک بڑا اہم مسئلہ ہے۔

دوسرا مسئلہ: جو بھی ایسا کرے، اس پر یہی حکم لگایا جائے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ یہی اس آیت کی تفسیر ہے۔

تیسرا مسئلہ: چغل خوری اور اللہ اور اس کے رسول کے تئیں خیر خواہی میں فرق ہے۔

چوتھا مسئلہ: اس میں اللہ کی پسندیدہ چیز عفو و درگزر اور اللہ کے دشمنوں کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آنے کا فرق بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

پانچواں مسئلہ: بعض عذر ناقابلِ قبول ہوتے ہیں۔

 باب : اللہ تعالیٰ کا فرمان :(اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزه چکھائیں، تو وه کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا اور میں تو خیال نہیں کرسکتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کے پاس واپس کیا گیا، تو بھی یقیناً میرے لیے اس کے پاس بھی بہتری ہے۔ یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزه چکھائیں گے۔)[سورۂ فصلت: 50]۔

 (اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزه چکھائیں، تو وه کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا اور میں تو خیال نہیں کرسکتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کے پاس واپس کیا گیا، تو بھی یقیناً میرے لیے اس کے پاس بھی بہتری ہے۔ یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزه چکھائیں گے۔)

 [سورۂ فصلت: 50]۔

مجاہد ’’ هَـذَا لِي‘‘ کی تفسیر میں کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مال ودولت تو میری محنت وکاوش کا نتیجہ ہے اور میں اس کا مستحق ہوں۔

ابن عباس اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ یہ مال تو صرف میرے کام او رمیرى ذہانت کى وجہ سے ہے۔

اور فرمانِ الہی:{یہ مال مجھے میرے علم کی بدولت ملا ہے۔} کے بارے میںقتادہ کہتے ہیں: وہ کہتا ہے کہ یہ مال مجھے کمائی کے مختلف طریقوں میں مہارت کی وجہ سے ملا ہے۔

{یہ مال مجھے میرے علم کی بدولت ملا ہے۔} کے بارے میں

قتادہ کہتے ہیں: وہ کہتا ہے کہ یہ مال مجھے کمائی کے مختلف طریقوں میں مہارت کی وجہ سے ملا ہے۔

دیگر اہلِ علم نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: وہ کہتا ہے کہ یہ مال ودولت مجھے اس لیے ملا کہ میں اللہ کے علم کے مطابق اس کا اہل ہوں‘‘۔

اور مجاہد کے قول کا معنی بھی یہی ہے کہ یہ مال و دولت مجھے بزرگی وشرف کی بنا پر ملا ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:"بنی اسرائیل میں تین شخص تھے: ایک کوڑھی ، دوسرا اندھا اور تیسرا گنجا۔

"بنی اسرائیل میں تین شخص تھے: ایک کوڑھی ، دوسرا اندھا اور تیسرا گنجا۔

اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کا امتحان لے۔ اس لیے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔

فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے؟

اس نے جواب دیا کہ اچھا رنگ، اچھی چمڑی اور یہ کہ وہ گندگی مجھ سے دور ہوجائے، جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے دور رہتے ہیں۔

بیان کیا کہ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو اس کی گندگی دور ہو گئی اور اس کا رنگ بھی خوب صورت ہو گیا اور چمڑی بھی اچھی ہو گئی۔

فرشتے نے پوچھا کون سا مال تجھے محبوب ہے؟

اس نے کہا کہ اونٹ اس نے گائے کہی۔ اس حدیث کے راوی اسحاق کو اس سلسلے میں شک ہے کہ اس نے دونوں میں سے کیا کہا تھا۔ چنانچہ اسے ایک دس ماہ کى حاملہ اونٹنی دے دی گئی۔

پھر فرشتے نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے۔

کہا: پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا

اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟

اس نے کہا کہ عمدہ بال اور یہ کہ میرا وہ عیب جاتا رہے، جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے پرہیز کرتے ہیں۔

تو فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا عیب جاتا رہا اور اس کے سر پر عمدہ بال آ گئے۔

پھر فرشتے نے پوچھا : کس طرح کا مال سب سے زیادہ پسند کرتے ہو؟

اس نے کہا کہ گائے یا اونٹ (یہاں بھی راوی کو شک ہے)۔ چنانچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ گائے دے دی

اور کہا کہ اللہ تعالیٰ اس میں تجھے برکت دے۔

پھر اندھے کے پاس فرشتہ آیا

اور کہا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟

اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آنکھوں کی روشنی دے دے، تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ تو فرشتے نے اس کے چھرے پر ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی اسے واپس دے دی۔

پھر پوچھا کہ کون سا مال سب سے زیادہ پسند کرتے ہو؟

اس نے کہا کہ بکریاں!

چنانچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ بکری دے دی۔ پھر تینوں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے۔

یہاں تک کہ کوڑھی کے پاس ایک وادی بھر اونٹ ہو گئے، گنجے کے پاس ایک وادی بھر گائیں ہو گئیں اور اندھے کے پاس ایک وادی بھر بکریاں ہو گئيں۔

آپ فرماتے ہيں کہ پھر وہی فرشتہ اپنی (پہلی بار والى) صورت اور پہناوے میں دوبارہ کوڑھی کے پاس آیا اور بولا کہ میں ایک نہایت مسکین وفقیر آدمی ہوں، سفر کے تمام سامان و اسباب ختم ہو چکے ہیں, چناجہ اگر اللہ پھر آپ کى مدد نہ مل سکى تو گھر واپس نہیں پہوںج سکتا۔

میں تم سے، اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور اچھا چمڑا اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس سے اپنا سفر پورا کر سکوں۔

لیکن اس نے فرشتے سے کہہ دیا: میرے ذمے بہت سے حقوق ہیں۔

یہ سن کر فرشتہ نے کہا: غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں! کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی، جس کی وجہ سے لوگ تم سے گھن کرتے تھے؟ کیا تم ایک فقیر اور قلاش نہیں تھے، جس کے بعد اللہ نے تمھیں یہ مال و دولت عط کی؟

اس نے جواب دیا: مال و دولت کا یہ سلسلہ تو میرے باپ دادا کے زمانے سے چلا آ رہا ہے!

فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹے ہو، تو اللہ تمہیں تمھاری پہلی حالت پر لوٹا دے۔

پھر فرشتہ گنجے کے پاس اپنی (پہلی بار والى) صورت اور پہناوے میںآیا۔

اور اس سے بھی وہی درخواست کی اور اس نے بھی وہی کوڑھی والا جواب دیا۔

چنانچہ فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹے ہو، تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمھاری پہلی حالت پر لوٹا دے۔

اس کے بعد فرشتہ اپنی (پہلی بار والى) صورت اور پہناوے میں اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین اور مسافر آدمی ہوں، سفر کے تمام سامان ختم ہو چکے ہیں چناجہ اگر اللہ پھر آپ کى مدد نہ مل سکى تو گھر واپس نہیں پہوںج سکتا۔

میں تم سے، اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں تمہاری بینائی واپس دی ہے، ایک بکری مانگتا ہوں، جس سے میں اپنا سفر پورا کرسکوں۔

اندھے نے جواب دیا: واقعی میں اندھا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بینائی عطا فرمائی، اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دار بنایا۔ تم جتنی بکریاں چاہو لے سکتے ہو اور جتنی بکریاں چاہو چھوڑ دو۔ اللہ کى قسم, جو کچھ بھی تم آج اللہ کے نام پر لو گے میں اسے واپس کرنے کےلئے تم پر کوئی دباؤ نہیں ڈالوں گا.

اس کی بات سن کر فرشتے نے کہا: تم اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ یہ تو صرف امتحان تھا۔ اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہو گيا اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض۔ اس حدیث کو بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ: اس میں مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔

دوسرا مسئلہ: یہاں آیت کریمہ: {لَيَقُولَنَّ هَـذَا لِي} کی تفسیر کی گئی ہے۔

تیسرا مسئلہ: اس میں فرمان باری تعالی: {إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ عندي}کی بھی تفسیر ہے۔

چوتھا مسئلہ: اس انوکھے قصے کے اندر بڑی عبرتیں اور نصیحتیں موجود ہیں۔

 باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان :(سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اوﻻد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وه دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے۔)[سورہ الأعراف: 190]۔ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ سارے نام جن سے غیر اللہ کی عبدیت کا اظہار ہوتا ہو، حرام ہیں۔ جیسے عبد عمرو اور عبد الکعبہ اور ان سے ملتے جلتے نام۔ البتہ عبدالمطلب اس سے مستثنیٰ ہے۔"

 (سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اوﻻد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وه دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے۔)

 [سورہ الأعراف: 190]۔

ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ سارے نام جن سے غیر اللہ کی عبدیت کا اظہار ہوتا ہو، حرام ہیں۔ جیسے عبد عمرو اور عبد الکعبہ اور ان سے ملتے جلتے نام۔ البتہ عبدالمطلب اس سے مستثنیٰ ہے۔"

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا آیتوں کے بارے میں منقول ہے کہ جب آدم وحوا آپس میں ملے اور حوّا حاملہ ہوئیں، تو ابلیس ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ہی تم دونوں کو جنت سے نکلوایا تھا۔ اب تم میری بات مانو، ورنہ میں رحم میں پَلنے والے بچے کے سر پر پہاڑی بکرے کے دو سینگ بنادوں گا، جن کی وجہ سے وہ تمہارا پیٹ چاک کرکے نکلے گا

اور میں تمہارے ساتھ ایسا اور ایسا کروں گا! اس طرح وہ انہیں ڈرانے لگا

اور اُن سے کہنے لگا کہ اس بچے کا نام ’عبدالحارث‘ رکھنا۔

لیکن ان دونوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ (او ر اللہ کى مرضى کہ) اُن کا بچہ مرا ہوا پیدا ہوا۔

حوّا دوبارہ امید سے ہوئیں، پھر ابلیس اُن کے پاس آیا اور وہی باتیں پھر سے کہیں۔ اس بار بھی انہوں نے اس کی بات نہیں مانی اور اُن کا بچہ مُردہ پیدا ہوا۔

اس کے بعد جب وہ تیسری بار حمل سے ہوئیں، تو اُن کے پاس ابلیس آیا اور انھیں پچھلی بات یاد دلائی۔ اس بار اُن پر بچے کی محبت حاوی ہو گئی اور انہوں نے بچے کی ولادت کے بعد اس کا نام عبدالحارث رکھ دیا۔

اسی بارے میں اللہ کا یہ قول ہے: {جَعَلاَ لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا} (جب اللہ نے انہیں صحیح وتندرست بچہ عطا کر دیا، تو انہوں نے اس میں دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہرا دیا)۔اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔

اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔

ابن ابی حاتم ہی نے قتادہ سے بسند صحیح روایت کیا ہے کہ وہ اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں: ’’آدم وحوّا نے شیطان کو صرف اطاعت میں اللہ کا ساجھی بنایا، اُس کی عبادت نہیں کی تھی۔‘‘

اسی طرح ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد رحمہ اللہ سے {لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا} کی تفسیر کے ضمن میں بیان کیا ہے: ’’وہ ڈر گئے کہ کہیں اُن کا بچہ انسان ہی پیدا نہ ہو۔‘‘

ابن ابی حاتم نے حسن بصری اور سعید وغیرہ سے بھی اسی قسم کے اقوال روایت کیے ہیں۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:ہر وہ نام، جس میں عبدیت کی نسبت غیر اللہ کی طرف ہو، حرام ہے۔دوسرا مسئلہ:اس باب میں مذکورہ آیتِ کریمہ کى تفسیر۔تیسرا مسئلہ:مذکورہ بالا قصے میں جس شرک کا ذکر ہے، وہ صرف نام رکھنے کی حد تک تھا۔ اس کا حقیقی مہفوم مقصود نہیں تھا۔چوتھا مسئلہ:کسی کے ہاں اگر صحیح وتندرست بیٹی کی ولادت ہو، تو یہ بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے۔پانچواں مسئلہ:سلف کا اطاعت میں شرک (شرکِ اطاعت) اور عبادت میں شرک (شرکِ عبادت) کے درمیان فرق بیان کرنا۔باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان :(اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں۔۔)[سورہ اعراف: 180]۔

ہر وہ نام، جس میں عبدیت کی نسبت غیر اللہ کی طرف ہو، حرام ہے۔

دوسرا مسئلہ:

اس باب میں مذکورہ آیتِ کریمہ کى تفسیر۔

تیسرا مسئلہ:

مذکورہ بالا قصے میں جس شرک کا ذکر ہے، وہ صرف نام رکھنے کی حد تک تھا۔ اس کا حقیقی مہفوم مقصود نہیں تھا۔

چوتھا مسئلہ:

کسی کے ہاں اگر صحیح وتندرست بیٹی کی ولادت ہو، تو یہ بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے۔

پانچواں مسئلہ:

سلف کا اطاعت میں شرک (شرکِ اطاعت) اور عبادت میں شرک (شرکِ عبادت) کے درمیان فرق بیان کرنا۔

 باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان :

 (اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں۔۔)

 [سورہ اعراف: 180]۔

ابن ابی حاتم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے آیتِ کریمہ {يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ} (وہ اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں) کی تفسیر میں ’الحاد کرتے ہیں‘ کے معنی ’شرک کرتے ہیں‘ بتائے ہیں۔

اور ابن عباس ہی روایت ہے کہ مشرکینِ مکہ نے ا ’اللہ‘ سے ’اللات‘ اور ’العزیز‘ سے ’العزّی‘ نام رکھ لیا تھا۔

اعمش سے مروی ہے کہ اس الحاد سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے ناموں میں ایسے ناموں کو بھی داخل کر لیتے ہیں، جو ان میں شامل نہیں ہیں۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس سے اللہ کے ناموں کا اثبات ہوتا ہے۔دوسرا مسئلہ:اللہ تعالیٰ کے یہ سارے نام نہایت اچھے ہیں۔تیسرا مسئلہ:ان ناموں کے ذریعہ دعا مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔چوتھا مسئلہ:جو جاہل اور ملحد معارضہ کریں, ان سے بحث نہیں کرنی چاہیے۔پانچواں مسئلہ:اللہ کے ناموں میں الحاد کى وضاحت کی گئی ہے۔چھٹا مسئلہ:اللہ کے ناموں میں الحاد کرنے والوں کے لیے وعید بیان کی گئی ہے۔

اس سے اللہ کے ناموں کا اثبات ہوتا ہے۔

دوسرا مسئلہ:

اللہ تعالیٰ کے یہ سارے نام نہایت اچھے ہیں۔

تیسرا مسئلہ:

ان ناموں کے ذریعہ دعا مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔

چوتھا مسئلہ:

جو جاہل اور ملحد معارضہ کریں, ان سے بحث نہیں کرنی چاہیے۔

پانچواں مسئلہ:

اللہ کے ناموں میں الحاد کى وضاحت کی گئی ہے۔

چھٹا مسئلہ:

اللہ کے ناموں میں الحاد کرنے والوں کے لیے وعید بیان کی گئی ہے۔

 باب : 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت

صحیحین میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نماز میں جب ہم نبی ﷺ کے ساتھ ہوتے، تو ہم ’السَّلامُ عَلى اللهِ مِنْ عِبادِه، السَّلام على فُلانٍ وفلانٍ‘ (اللہ تعالیٰ پر اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، فلاں فلاں شخص پر بھی سلام ہو) کہتے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا:تم 'السلام علی اللہ' نہ کہو، کیوں کہ اللہ تو خود ’السلام‘ یعنی سلامتی والا ہے۔

تم 'السلام علی اللہ' نہ کہو، کیوں کہ اللہ تو خود ’السلام‘ یعنی سلامتی والا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:سلام کی تفسیر ووضاحت بیان ہوئی۔دوسرا مسئلہ:سلام استقبال کرنا ہے۔تیسرا مسئلہ:اس لفظ کا استعمال اللہ کے بارے میں درست نہیں ہے۔چوتھا مسئلہ:(اللہ کے لیے اس کا استعمال کیوں درست نہیں ہے) اس کی علّت بھی بیان کی گئی ہے۔پانچواں مسئلہ:مسلمانوں کو اللہ کے شایان شان تحیّات پڑھنے کی بھی تعلیم دی گئی ہے۔

سلام کی تفسیر ووضاحت بیان ہوئی۔

دوسرا مسئلہ:

سلام استقبال کرنا ہے۔

تیسرا مسئلہ:

اس لفظ کا استعمال اللہ کے بارے میں درست نہیں ہے۔

چوتھا مسئلہ:

(اللہ کے لیے اس کا استعمال کیوں درست نہیں ہے) اس کی علّت بھی بیان کی گئی ہے۔

پانچواں مسئلہ:

مسلمانوں کو اللہ کے شایان شان تحیّات پڑھنے کی بھی تعلیم دی گئی ہے۔

 باب : ''اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے‘‘ کہنے کا حکم

صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ "اے اللہ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت فرما، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما"۔ اسے چاہیے کہ یقین کے ساتھ سوال کرے۔ اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔"اور صحیح مسلم میں ہے:"آدمی کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے پوری رغبت اور چاہت کے ساتھ مانگے، کیوں کہ اس کے ہاں کوئی چیز بڑی نہیں ہے۔"

"تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ "اے اللہ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت فرما، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما"۔ اسے چاہیے کہ یقین کے ساتھ سوال کرے۔ اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔"

اور صحیح مسلم میں ہے:

"آدمی کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے پوری رغبت اور چاہت کے ساتھ مانگے، کیوں کہ اس کے ہاں کوئی چیز بڑی نہیں ہے۔"

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:دعا میں استثنا کی ممانعت ہے۔۔دوسرا مسئلہ:اس ممانعت کی علت بھی بتائی گئی ہے۔تیسرا مسئلہ:آپ ﷺ کے فرمان "لِيعْزِمِ الْمَسْأَلةَ" سے ثابت ہوتا ہے کہ دعا پورے یقین کے ساتھ کرنی چاہیے۔چوتھا مسئلہ:اللہ سے سوال کرتے وقت مکمل رغبت اور چاہت کا اظہار ہونا چاہیے۔پانچواں مسئلہ:اللہ سے سوال کرتے وقت مکمل رغبت اور چاہت کے اظہار کی علت بھی بیان کی گئی ہے۔

دعا میں استثنا کی ممانعت ہے۔۔

دوسرا مسئلہ:

اس ممانعت کی علت بھی بتائی گئی ہے۔

تیسرا مسئلہ:

آپ ﷺ کے فرمان "لِيعْزِمِ الْمَسْأَلةَ" سے ثابت ہوتا ہے کہ دعا پورے یقین کے ساتھ کرنی چاہیے۔

چوتھا مسئلہ:

اللہ سے سوال کرتے وقت مکمل رغبت اور چاہت کا اظہار ہونا چاہیے۔

پانچواں مسئلہ:

اللہ سے سوال کرتے وقت مکمل رغبت اور چاہت کے اظہار کی علت بھی بیان کی گئی ہے۔

 باب : میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت

صحیح (بخاری ومسلم) میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”تم میں سے کوئی (کسی غلام یا کسی شخص سے) یہ نہ کہے کہ 'اپنے رب کو کھانا کھلاؤ'، 'اپنے رب کو وضو کراؤ'، 'اپنے رب کو پانی پلاؤ'۔ بلکہ وہ 'میرا سردار' اور 'میرا آقا' کہے۔ اسی طرح تم میں سے کوئی 'میرا بندہ' اور 'میری بندی' نہ کہے، بلکہ 'میرا خادم'، 'میری خادمہ' اور 'میرا غلام' کہے۔“

”تم میں سے کوئی (کسی غلام یا کسی شخص سے) یہ نہ کہے کہ 'اپنے رب کو کھانا کھلاؤ'، 'اپنے رب کو وضو کراؤ'، 'اپنے رب کو پانی پلاؤ'۔ بلکہ وہ 'میرا سردار' اور 'میرا آقا' کہے۔ اسی طرح تم میں سے کوئی 'میرا بندہ' اور 'میری بندی' نہ کہے، بلکہ 'میرا خادم'، 'میری خادمہ' اور 'میرا غلام' کہے۔“

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:(اپنے غلام اور لونڈی کو) میرا بندہ اور میری بندی کہنا منع ہے۔دوسرا مسئلہ:غلام کو بھی اپنے آقا کو ’ربّی‘ (میرا رب) نہیں کہنا چاہیے۔ اسی طرح کسی غلام سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ 'اپنے رب (آقا) کو کھانا پیش کرو۔'تیسرا مسئلہ:آقا کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ( اپنے غلام یا لونڈی کو ) میرا خادم، میری خادمہ اور میرا غلام کہے ۔چوتھا مسئلہ:غلام کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اپنے آقا کو ’سیدی و مولای‘ (میرا سردار اور میرا آقا) کہے۔پانچواں مسئلہ:مقصود پر تنبیہ کى گئى ہے أور وہ یہ ہے کہ الفاظ کے انتخاب میں بھی تحقیق توحید کا پاس ہو۔

(اپنے غلام اور لونڈی کو) میرا بندہ اور میری بندی کہنا منع ہے۔

دوسرا مسئلہ:

غلام کو بھی اپنے آقا کو ’ربّی‘ (میرا رب) نہیں کہنا چاہیے۔ اسی طرح کسی غلام سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ 'اپنے رب (آقا) کو کھانا پیش کرو۔'

تیسرا مسئلہ:

آقا کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ( اپنے غلام یا لونڈی کو ) میرا خادم، میری خادمہ اور میرا غلام کہے ۔

چوتھا مسئلہ:

غلام کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اپنے آقا کو ’سیدی و مولای‘ (میرا سردار اور میرا آقا) کہے۔

پانچواں مسئلہ:

مقصود پر تنبیہ کى گئى ہے أور وہ یہ ہے کہ الفاظ کے انتخاب میں بھی تحقیق توحید کا پاس ہو۔

 باب : اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے۔ اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر مانگے، تو اسے دو، جو تمہیں مدعو کرے، اس کی دعوت قبول کرو، اور جو تم پر احسان کرے، تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو، تو اس کے لیے اتنی دعا کرو، جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔"اسے بوداؤد اور نسائی نے بسندِ صحیح روایت کیا ہے۔

"جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے۔ اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر مانگے، تو اسے دو، جو تمہیں مدعو کرے، اس کی دعوت قبول کرو، اور جو تم پر احسان کرے، تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو، تو اس کے لیے اتنی دعا کرو، جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔"

اسے بوداؤد اور نسائی نے بسندِ صحیح روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اللہ کا واسطہ دے کر پناہ مانگنے والے کو پناہ دی جائے۔دوسرا مسئلہ:اللہ کا واسطہ دے کر بھیک مانگنے والے کو دے دینا چاہیے۔تیسرا مسئلہ:دعوت قبول کرنی چاہیے۔چوتھا مسئلہ:بھلائی اور حسنِ سلوک کا بدلہ دینا چاہیے۔پانچواں مسئلہ:جو کسی کے احسان کا مادی بدلہ نہیں دے سکتا، اُس کے حق میں محسن کے لئے دعا کرنا ہی بدلہ دینا ہے۔چھٹا مسئلہ:آپ ﷺ کے فرمان: ’’حَتَّى تُرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ احسان کرنے والے کے حق میں اس قدر دعا کرنی چاہیے کہ یقین ہوجائے کہ اب بدلہ پورا ہوچکا ہے۔

اللہ کا واسطہ دے کر پناہ مانگنے والے کو پناہ دی جائے۔

دوسرا مسئلہ:

اللہ کا واسطہ دے کر بھیک مانگنے والے کو دے دینا چاہیے۔

تیسرا مسئلہ:

دعوت قبول کرنی چاہیے۔

چوتھا مسئلہ:

بھلائی اور حسنِ سلوک کا بدلہ دینا چاہیے۔

پانچواں مسئلہ:

جو کسی کے احسان کا مادی بدلہ نہیں دے سکتا، اُس کے حق میں محسن کے لئے دعا کرنا ہی بدلہ دینا ہے۔

چھٹا مسئلہ:

آپ ﷺ کے فرمان: ’’حَتَّى تُرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ احسان کرنے والے کے حق میں اس قدر دعا کرنی چاہیے کہ یقین ہوجائے کہ اب بدلہ پورا ہوچکا ہے۔

 باب : اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔

جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:"اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔"اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

"اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔"

اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سب سے بڑے مقصود (جنت) کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگنا چاہیے۔دوسرا مسئلہ:اس سے اللہ تعالیٰ کے لیے چہرے کا اثبات ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سب سے بڑے مقصود (جنت) کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگنا چاہیے۔

دوسرا مسئلہ:

اس سے اللہ تعالیٰ کے لیے چہرے کا اثبات ہوتا ہے۔

 باب : لفظ ’(لو) اگر‘ استعمال کرنے کا حکم

اللہ تعالی نے فرمایا:(وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔)[سورہ آل عمران: 154]۔نیز فرمایا:(یہ وہ لوگ ہیں جو خود بیٹھے رہے او راپنے بھائیوں کى بابت کہا کہ اگر یہ ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے۔)[سورہ آل عمران: 168]صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو چیز تمہیں نفع پہنچانے والی ہو، اس کی حرص رکھو، اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تمہیں کوئی مصیبت آن پہنچے، تو یوں نہ کہوکہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا، تو ایسا اور ایسا ہوجاتا، بلکہ یوں کہو: (قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ)کہ اللہ نے مقدر کیا اور جو چاہا کیا؛ کیوںکہ لفظ 'اگر' شیطان کی در اندازی کا دروازہ کھولتا ہے۔"

(وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔)

[سورہ آل عمران: 154]۔

نیز فرمایا:

(یہ وہ لوگ ہیں جو خود بیٹھے رہے او راپنے بھائیوں کى بابت کہا کہ اگر یہ ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے۔)

[سورہ آل عمران: 168]

صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جو چیز تمہیں نفع پہنچانے والی ہو، اس کی حرص رکھو، اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تمہیں کوئی مصیبت آن پہنچے، تو یوں نہ کہوکہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا، تو ایسا اور ایسا ہوجاتا، بلکہ یوں کہو: (قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ)کہ اللہ نے مقدر کیا اور جو چاہا کیا؛ کیوںکہ لفظ 'اگر' شیطان کی در اندازی کا دروازہ کھولتا ہے۔"

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں سورہ آل عمران کی مذکورہ دو آیتوں کی تفسیر ہے۔دوسرا مسئلہ:کوئی پریشانی لاحق ہوتے وقت ’اگر‘ کہنے سے واضح لفظوں میں منع کیا گیا ہے۔تیسرا مسئلہ:اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔چوتھا مسئلہ:اچھی بات کرنے کی رہنمائی کی گئی ہے۔پانچواں مسئلہ:مفید کاموں کے لیے کوشاں رہنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔چھٹا مسئلہ:اس کے برخلاف کام یعنی عاجز بن کر بیٹھ رہنے سے منع کیا گیا ہے۔

اس میں سورہ آل عمران کی مذکورہ دو آیتوں کی تفسیر ہے۔

دوسرا مسئلہ:

کوئی پریشانی لاحق ہوتے وقت ’اگر‘ کہنے سے واضح لفظوں میں منع کیا گیا ہے۔

تیسرا مسئلہ:

اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔

چوتھا مسئلہ:

اچھی بات کرنے کی رہنمائی کی گئی ہے۔

پانچواں مسئلہ:

مفید کاموں کے لیے کوشاں رہنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔

چھٹا مسئلہ:

اس کے برخلاف کام یعنی عاجز بن کر بیٹھ رہنے سے منع کیا گیا ہے۔

 باب : آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت

اُبَیّ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"ہوا کو گالی مت دو۔ اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو: ’’اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ، وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ، وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ‘‘۔ ( اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا اور جو اس میں ہے اور جس کا اسے حکم دیا گیا ہے، کی بہتری مانگتے ہيں اور (اے اللہ!) ہم اس ہوا کے شر اور اس کے اندر جو شر ہے اور جس شر کا اسے حکم دیا گیا ہے، سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔)"ترمذی نے اسے صحیح قراردیا ہے۔

"ہوا کو گالی مت دو۔ اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو: ’’اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ، وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ، وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ‘‘۔ ( اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا اور جو اس میں ہے اور جس کا اسے حکم دیا گیا ہے، کی بہتری مانگتے ہيں اور (اے اللہ!) ہم اس ہوا کے شر اور اس کے اندر جو شر ہے اور جس شر کا اسے حکم دیا گیا ہے، سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔)"

ترمذی نے اسے صحیح قراردیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:آندھی طوفان کو بُرا بھلا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔دوسرا مسئلہ:یہاں اس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ جب انسان کوئی ناپسندیدہ چیز کو دیکھے، تو فائدہ مند بات کرے۔تیسرا مسئلہ:اس میں اس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ آندھی خود سے نہیں چلتی، بلکہ یہ اللہ کے حکم کی پابند ہوتی ہے۔چوتھا مسئلہ:اس میں اس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ آندھی کو کبھی خیر اور کبھی شر کا حکم دیا جاتا ہے۔باب: اللہ تعالی کا فرمان:(وه اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قمست میں قتل ہونا تھا، وه تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالی سینوں کے بھید سے آگاه ہے۔)[سورہ آل عمران: 154]۔نیز فرمایا:(جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں، (دراصل) انہیں پر برائی کا پھیرا ہے، اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے دوزخ تیار کی اور وه (بہت) بری لوٹنے کی جگہ ہے۔)[سورہ الفتح: 6]۔علامہ ابن القیّم رحمہ اللہ پہلی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:’’اس بد گمانی کی تفسیر یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ لوگ یہ گمان کرنے لگے تھے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا اور ان کی دعوت عنقریب ختم ہوجائے گی اور اس کی تفسیر یہ بھی بیان کی گئي ہے کہ مسلمانوں پر جو مصیبت آئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے مطابق اور اس کی حکمت پر مبنی نہیں ہے۔ اس طرح، اس کی تفسیر یہ ہوئی کہ یہ لوگ اللہ کی تقدیر، حکمت اور اس کے رسول ﷺ کی کامیابی کا انکار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ دین تمام ادیان پر غالب نہیں آئے گا۔ منافقین اور مشرکین کا یہی وہ بُرا گمان ہے، جس کا ذکر سورہ الفتح میں ہوا ہے۔ اسے برا گمان اس لیے کہا گیا ہے، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ومرتبہ کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی حکمت، تعریف، بزرگی اور سچے وعدے سے بھی میل نہیں کھاتا۔

آندھی طوفان کو بُرا بھلا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔

دوسرا مسئلہ:

یہاں اس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ جب انسان کوئی ناپسندیدہ چیز کو دیکھے، تو فائدہ مند بات کرے۔

تیسرا مسئلہ:

اس میں اس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ آندھی خود سے نہیں چلتی، بلکہ یہ اللہ کے حکم کی پابند ہوتی ہے۔

چوتھا مسئلہ:

اس میں اس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ آندھی کو کبھی خیر اور کبھی شر کا حکم دیا جاتا ہے۔

 باب: اللہ تعالی کا فرمان:

 (وه اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قمست میں قتل ہونا تھا، وه تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالی سینوں کے بھید سے آگاه ہے۔)

 [سورہ آل عمران: 154]۔

نیز فرمایا:

(جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں، (دراصل) انہیں پر برائی کا پھیرا ہے، اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے دوزخ تیار کی اور وه (بہت) بری لوٹنے کی جگہ ہے۔)

[سورہ الفتح: 6]۔

علامہ ابن القیّم رحمہ اللہ پہلی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’اس بد گمانی کی تفسیر یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ لوگ یہ گمان کرنے لگے تھے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا اور ان کی دعوت عنقریب ختم ہوجائے گی اور اس کی تفسیر یہ بھی بیان کی گئي ہے کہ مسلمانوں پر جو مصیبت آئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے مطابق اور اس کی حکمت پر مبنی نہیں ہے۔ اس طرح، اس کی تفسیر یہ ہوئی کہ یہ لوگ اللہ کی تقدیر، حکمت اور اس کے رسول ﷺ کی کامیابی کا انکار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ دین تمام ادیان پر غالب نہیں آئے گا۔ منافقین اور مشرکین کا یہی وہ بُرا گمان ہے، جس کا ذکر سورہ الفتح میں ہوا ہے۔ اسے برا گمان اس لیے کہا گیا ہے، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ومرتبہ کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی حکمت، تعریف، بزرگی اور سچے وعدے سے بھی میل نہیں کھاتا۔

جو شخص یہ سمجھے کہ اللہ باطل کو حق پر ایسا دائمی تسلط عطا کر دے گا کہ حق کی شمع بجھ جائے گی یا اس بات کا انکار کرے کہ جو کچھ ہوا وہ اللہ کی قضا و قدر کے عین مطابق تھا یا اس بات کا انکار کرے کہ اللہ کی قضا و قدر بے پایاں اور قابل ستائش حکمت پر مبنی ہے اور یہ گمان رکھے کہ یہ محض اس کی مشیت پر مبنی ہے، تو یہی کافروں کا گمان ہے، جن کے لیے جہنم کی آگ کا عذاب ہے۔ سچائی یہ ہے اکثر لوگ اپنے اور غیروں سے متعلقہ کاموں میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی رکھتے ہیں اور اس بدگمانی سے صرف وہی لوگ محفوظ رہتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ، اس کے اسما وصفات اور اس کی حکمت وتعریف کے مقتضى کی واقفیت رکھتے ہیں۔

اس لیے ہر عقل مند شخص، جو اپنی بھلائی کا طلب گار ہو، کو چاہیے کہ وہ مذکورہ بالا تمام باتوں پر توجہ دے اور اللہ کے حضور اپنی اس بدگمانی سے معافی مانگے اور توبہ واستغفار کرے۔

اگر آپ لوگوں سے معلوم کریں، تو پتہ چلے گا کہ اکثر لوگ تقدیر کے بارے میں تعنت کے شکار ہیں اور اس کی ملامت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آئیں گے کہ اگر یوں اور یوں ہوتا، تو بہتر ہوتا۔ ان سب باتوں میں کوئ تھوڑا ہی واقع ہوتا ہے اور کوئی بہت زیادہ, تو کوئی زیادہ۔ خود اپنے آپ کا بھی جائزہ لے کر دیکھ لیجیے کہ کیا آپ اس مرض سے محفوظ ہیں؟

’’اگر آپ اس سے محفوظ ہیں، تو آپ ایک بہت بڑی مصیبت سے بچے ہوئے ہیں۔ ورنہ میں نہیں سمجھتا کہ آپ اس سے نجات پانے والے ہیں‘‘

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں سورۂ آل عمران کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔دوسرا مسئلہ:نیز سورہ الفتح کی مذکورہ آیت کی بھی تفسیر ہے۔تیسرا مسئلہ:اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بُدگمانی کی بہت سی شکلیں ہیں، جن کا شمار نا ممکن ہے۔چوتھا مسئلہ:اس بدگمانی سے وہی شخص محفوظ رہ سکتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے اسما وصفات کی پہچان کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کو بھی پہچانتا ہو۔

اس میں سورۂ آل عمران کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔

دوسرا مسئلہ:

نیز سورہ الفتح کی مذکورہ آیت کی بھی تفسیر ہے۔

تیسرا مسئلہ:

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بُدگمانی کی بہت سی شکلیں ہیں، جن کا شمار نا ممکن ہے۔

چوتھا مسئلہ:

اس بدگمانی سے وہی شخص محفوظ رہ سکتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے اسما وصفات کی پہچان کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کو بھی پہچانتا ہو۔

 باب : تقدیر کے منکرین کا بیان

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اس ہستی کی قسم، جس کے ہاتھ میں ابن عمر کی جان ہے! اگر کسی انسان کے پاس احد کے برابر سونا ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، تو بھی اللہ اس کے کسی عمل کو قبول نہ فرمائے گا، جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے۔ پھر انہوں نے نبی ﷺ کے اس فرمان سے استدلال کیا:" اللہ پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں پر ایمان لانا، اس کی کتابوں پر ایمان لانا، اس کے رسولوں پر ایمان لانا، قیامت کے دن پر ایمان لانا اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لانا, ان تمام باتیں سے ایمان کى تعریف پوری ہوتی ہے ۔"اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا : اے میرے بیٹے! تم ایمان کا مزہ ہرگز نہیں پا سکتے، جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے، وہ ایسا نہیں کہ نہ ملتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے، ایسا نہیں کہ وہ تمہیں مل جاتا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے:"سب سے پہلی چیز جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، قلم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا : لکھ۔ قلم نے کہا : اے میرے رب ! میں کیا لکھوں؟

" اللہ پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں پر ایمان لانا، اس کی کتابوں پر ایمان لانا، اس کے رسولوں پر ایمان لانا، قیامت کے دن پر ایمان لانا اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لانا, ان تمام باتیں سے ایمان کى تعریف پوری ہوتی ہے ۔"

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا : اے میرے بیٹے! تم ایمان کا مزہ ہرگز نہیں پا سکتے، جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے، وہ ایسا نہیں کہ نہ ملتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے، ایسا نہیں کہ وہ تمہیں مل جاتا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے:

"سب سے پہلی چیز جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، قلم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا : لکھ۔ قلم نے کہا : اے میرے رب ! میں کیا لکھوں؟

اللہ تعالیٰ نے کہا : قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ۔

اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے:”جو اس کے علاوہ (کسی اور عقیدے) پر مرا، وہ مجھ سے نہیں۔‘‘اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے:"اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے لکھنے کا حکم دیا، چنانچہ اس نے اسی وقت قیامت تک ہونے والی ہر بات لکھ دی۔"اور ابن وہب کی ایک روایت میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"پس جو شخص اچھی بُری تقدیر پر ایمان نہیں لایا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں جلائے گا۔"

”جو اس کے علاوہ (کسی اور عقیدے) پر مرا، وہ مجھ سے نہیں۔‘‘

اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے:

"اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے لکھنے کا حکم دیا، چنانچہ اس نے اسی وقت قیامت تک ہونے والی ہر بات لکھ دی۔"

اور ابن وہب کی ایک روایت میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"پس جو شخص اچھی بُری تقدیر پر ایمان نہیں لایا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں جلائے گا۔"

مسند امام احمد اور سنن میں ابن دیلمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہو گیا ہے! لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے، جس کے بارے میں یہ امید ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس شبہ کو میرے دل سے نکال دے گا۔ انہوں نے کہا: ’’اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو، تو اللہ تعالیٰ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا، جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ تمہیں نہیں پہنچتا، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا۔ اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گئے، تو ضرور جہنمیوں میں سے ہوگے۔‘‘

ابن دیلمی کہتے ہیں کہ پھر میں عبداللہ بن مسعود ، حذیفہ بن یمان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنھم اجمعین کے پاس آیا، تو ان سب نے مجھ سے نبی ﷺ سے اسی جیسی حدیث سنائی۔یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام حاکم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام حاکم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں اس بات کا بیان ہے کہ تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے۔دوسرا مسئلہ:اسی طرح تقدیر پر ایمان لانے کی کیفیت کا بھی ذکر ہے۔تیسرا مسئلہ:اس سے پتہ چلتا ہے کہ تقدیر پر ایمان نہ رکھنے والے کے اعمال اکارت چلے جاتے ہیں۔چوتھا مسئلہ:یہاں بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک ایمان کی حلاوت سے محظوظ نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہیں لے آتا۔پانچواں مسئلہ:اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس چیز کی تخلیق فرمائی، اس کا یہاں ذکر ہے۔چھٹا مسئلہ:اس بات کا ذکر ہے کہ قلم نے اسی وقت قیامت تک ہونے والے سارے امور لکھ ڈالے تھے۔ساتواں مسئلہ:تقدیر پر ایمان نہ لانے والے سے آپ ﷺ نے اپنی براءت کا اظہار کیا ہے۔آٹھواں مسئلہ:سلف کی عادت تھی کہ وہ اہلِ علم سے استفسار کرکے اپنے شبہات دور کرلیا کرتے تھے۔نواں مسئلہ:علما نے ان کو ایسا جواب دیا جو تقدیر سے متعلق ان کے جملہ شبہات کا ازالہ کردے, بایں طور کہ اپنے دلائل کو صرف رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کیا۔

اس میں اس بات کا بیان ہے کہ تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے۔

دوسرا مسئلہ:

اسی طرح تقدیر پر ایمان لانے کی کیفیت کا بھی ذکر ہے۔

تیسرا مسئلہ:

اس سے پتہ چلتا ہے کہ تقدیر پر ایمان نہ رکھنے والے کے اعمال اکارت چلے جاتے ہیں۔

چوتھا مسئلہ:

یہاں بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک ایمان کی حلاوت سے محظوظ نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہیں لے آتا۔

پانچواں مسئلہ:

اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس چیز کی تخلیق فرمائی، اس کا یہاں ذکر ہے۔

چھٹا مسئلہ:

اس بات کا ذکر ہے کہ قلم نے اسی وقت قیامت تک ہونے والے سارے امور لکھ ڈالے تھے۔

ساتواں مسئلہ:

تقدیر پر ایمان نہ لانے والے سے آپ ﷺ نے اپنی براءت کا اظہار کیا ہے۔

آٹھواں مسئلہ:

سلف کی عادت تھی کہ وہ اہلِ علم سے استفسار کرکے اپنے شبہات دور کرلیا کرتے تھے۔

نواں مسئلہ:

علما نے ان کو ایسا جواب دیا جو تقدیر سے متعلق ان کے جملہ شبہات کا ازالہ کردے, بایں طور کہ اپنے دلائل کو صرف رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کیا۔

 باب : تصویر بنانے والوں کا حکم

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا، جو میری مخلوق جیسی کوئی مخلوق بنانے کی کوشش کرے۔ (اگر اسے یہی گھمنڈ ہے) تو اسے چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کرے یا ایک دانہ پیدا کرے یا ایک جو بنا کر دکھا دے۔"اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔او رصحیحین ہی میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو پیدا کرنے اور بنانے میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے مشابہت اختیار کرتے ہیں۔"و رصحیحین ہی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:"ہر تصویر بنانے والا جہنم میں جائے گا۔ اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے اس کی ایک جان بنائی جائے گی، جس کے ذریعہ اس مصور کو جہنم میں عذاب سے دوچار کیا جائے گا۔"صحیحین ہی میں ابن عباس ہی سے مرفوعًا روایت ہے:"جو شخص دنیا میں کوئی تصویر بنائے گا، اُسے قیامت کے دن پابند کیا جائے گا کہ وہ اس تصویر میں روح پھونکے، مگر وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔"اور صحیح مسلم میں ابو الہیّاج سے مروی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا:"کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں، جس پر مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا۔ ان کا حکم تھا کہ تم کسی تصویر کو مٹائے بغیر اور کسی بلند قبر کو زمین کے برابر کیے بغیر نہ چھوڑنا۔"

"اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا، جو میری مخلوق جیسی کوئی مخلوق بنانے کی کوشش کرے۔ (اگر اسے یہی گھمنڈ ہے) تو اسے چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کرے یا ایک دانہ پیدا کرے یا ایک جو بنا کر دکھا دے۔"

اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔

او رصحیحین ہی میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو پیدا کرنے اور بنانے میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے مشابہت اختیار کرتے ہیں۔"

و رصحیحین ہی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

"ہر تصویر بنانے والا جہنم میں جائے گا۔ اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے اس کی ایک جان بنائی جائے گی، جس کے ذریعہ اس مصور کو جہنم میں عذاب سے دوچار کیا جائے گا۔"

صحیحین ہی میں ابن عباس ہی سے مرفوعًا روایت ہے:

"جو شخص دنیا میں کوئی تصویر بنائے گا، اُسے قیامت کے دن پابند کیا جائے گا کہ وہ اس تصویر میں روح پھونکے، مگر وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔"

اور صحیح مسلم میں ابو الہیّاج سے مروی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا:

"کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں، جس پر مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا۔ ان کا حکم تھا کہ تم کسی تصویر کو مٹائے بغیر اور کسی بلند قبر کو زمین کے برابر کیے بغیر نہ چھوڑنا۔"

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:تصویر بنانے والوں کے متعلق شدید وعید آئی ہے۔دوسرا مسئلہ:تصویریں بنانے سے ممانعت کی علت یہ ہے کہ یہ کام اللہ کی جناب میں بڑی بے ادبی ہے۔ کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہے: "وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي؟" (اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا، جو میری مخلوق جیسی مخلوق بنانے کی ناروا کوشش کرتا ہے؟)تیسرا مسئلہ:یہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مخلوق کی عاجزی کا بیان ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’انہیں چاہیے کہ یہ لوگ ایک ذرہ، یا ایک دانہ یا ایک جَو ہی بنا کر دکھا دیں؟!‘‘چوتھا مسئلہ:یہاں اس بات کی صراحت ہے کہ تصویر بنانے والوں کو سب سے زیادہ عذاب دیا جائے گا۔پانچواں مسئلہ:اللہ تعالیٰ ہر تصویر کے بدلے ایک جان پیدا کرے گا، جس کے ذریعے مصور کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔چھٹا مسئلہ:مصور کو پابند کیا جائے گا وہ ان تصویروں میں جان ڈالے۔ساتواں مسئلہ:جہاں کوئی تصویر ملے، اسے مٹا دینا چاہیے۔

تصویر بنانے والوں کے متعلق شدید وعید آئی ہے۔

دوسرا مسئلہ:

تصویریں بنانے سے ممانعت کی علت یہ ہے کہ یہ کام اللہ کی جناب میں بڑی بے ادبی ہے۔ کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہے: "وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي؟" (اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا، جو میری مخلوق جیسی مخلوق بنانے کی ناروا کوشش کرتا ہے؟)

تیسرا مسئلہ:

یہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مخلوق کی عاجزی کا بیان ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’انہیں چاہیے کہ یہ لوگ ایک ذرہ، یا ایک دانہ یا ایک جَو ہی بنا کر دکھا دیں؟!‘‘

چوتھا مسئلہ:

یہاں اس بات کی صراحت ہے کہ تصویر بنانے والوں کو سب سے زیادہ عذاب دیا جائے گا۔

پانچواں مسئلہ:

اللہ تعالیٰ ہر تصویر کے بدلے ایک جان پیدا کرے گا، جس کے ذریعے مصور کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔

چھٹا مسئلہ:

مصور کو پابند کیا جائے گا وہ ان تصویروں میں جان ڈالے۔

ساتواں مسئلہ:

جہاں کوئی تصویر ملے، اسے مٹا دینا چاہیے۔

 باب : بکثرت قسم کھانے کا بیان

اللہ تعالی نے فرمایا:(اور تم اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔)[سورہ المائدہ : 89].ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:"قَسم سامان بیچنے کے لیے مفید تو ہے، مگر اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔"اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔اور سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ نہ بات کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا: ایک بوڑھا زانی، دوسرا گھمنڈی فقیراور تیسرا وہ شخص جس نے اللہ کو ہی اپنا سامان تجارت بنا لیا ہو، بایں طور کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر خریدے اور اس کی قسم کھاکر ہی بیچے۔"طبرانی نے اسے بسندِ صحیح روایت کیا ہے۔اور صحیح میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے ، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی، جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی, خیانت کریں گے سو ان پر بھروسہ نہیں کیا جائے گا, نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے اور ان کے اندر مٹاپا عام ہو جائے گا۔"اسی صحیح میں طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"سب سے بہتر لوگ میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا، جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔"

(اور تم اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔)

[سورہ المائدہ : 89].

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

"قَسم سامان بیچنے کے لیے مفید تو ہے، مگر اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔"

اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔

اور سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ نہ بات کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا: ایک بوڑھا زانی، دوسرا گھمنڈی فقیراور تیسرا وہ شخص جس نے اللہ کو ہی اپنا سامان تجارت بنا لیا ہو، بایں طور کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر خریدے اور اس کی قسم کھاکر ہی بیچے۔"

طبرانی نے اسے بسندِ صحیح روایت کیا ہے۔

اور صحیح میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے ، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی، جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی, خیانت کریں گے سو ان پر بھروسہ نہیں کیا جائے گا, نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے اور ان کے اندر مٹاپا عام ہو جائے گا۔"

اسی صحیح میں طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

"سب سے بہتر لوگ میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا، جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔"

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب ہم بچے تھے، تو ہمارے بڑے بزرگ گواہی دینے اور عہد وپیمان کرنے پر ہمیں مارتے تھے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں قسموں کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے۔دوسرا مسئلہ:یہاں بتایا گیا ہے کہ قسم کھانا سامانِ تجارت کو بیچنے کے لیے تو مفید ہے، تاہم اس سے برکت جاتی رہتی ہے۔تیسرا مسئلہ:اس میں قسمیں کھا کر خرید وفروخت کرنے والے کے لیے سخت وعید آئی ہے۔چوتھا مسئلہ:اس میں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ اگرگناہ کے اسباب معمولی ہوں تو گناہ بڑا ہوجاتا ہے۔پانچواں مسئلہ:اُن لوگوں کی مذمت بیان کی گئی ہے، جو بغیر مطالبہ کے قسمیں کھاتے رہتے ہیں۔چھٹا مسئلہ:آپ ﷺ نے تین یا چار زمانوں کی تعریف کی ہے اور اس کے بعد جو کچھ ہوگا اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے۔ساتواں مسئلہ:ان لوگوں کی مذمت بیان کی گئی ہے، جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دیتے ہیں۔آٹھواں مسئلہ:سلفِ صالحین چھوٹے بچوں کو ( خواہ مخواہ ) گواہی دینے اور عہد وپیمان کرنے پر مارا کرتے تھے۔

اس میں قسموں کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے۔

دوسرا مسئلہ:

یہاں بتایا گیا ہے کہ قسم کھانا سامانِ تجارت کو بیچنے کے لیے تو مفید ہے، تاہم اس سے برکت جاتی رہتی ہے۔

تیسرا مسئلہ:

اس میں قسمیں کھا کر خرید وفروخت کرنے والے کے لیے سخت وعید آئی ہے۔

چوتھا مسئلہ:

اس میں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ اگرگناہ کے اسباب معمولی ہوں تو گناہ بڑا ہوجاتا ہے۔

پانچواں مسئلہ:

اُن لوگوں کی مذمت بیان کی گئی ہے، جو بغیر مطالبہ کے قسمیں کھاتے رہتے ہیں۔

چھٹا مسئلہ:

آپ ﷺ نے تین یا چار زمانوں کی تعریف کی ہے اور اس کے بعد جو کچھ ہوگا اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے۔

ساتواں مسئلہ:

ان لوگوں کی مذمت بیان کی گئی ہے، جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دیتے ہیں۔

آٹھواں مسئلہ:

سلفِ صالحین چھوٹے بچوں کو ( خواہ مخواہ ) گواہی دینے اور عہد وپیمان کرنے پر مارا کرتے تھے۔

 باب : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم

نیز فرمایا:(اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم آپس میں قول وقرار کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو، حاﻻنکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جان رہا ہے۔)[سورہ النحل: 91]۔بُریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے، تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ خیر و بھلائی کی وصیت فرماتے اور کہتے:’’ اللہ کا نام لے کر جہاد کرو۔ اللہ کے راستے میں اس کا انکار کرنے والوں کے ساتھ جنگ کرو۔ جنگ تو کرو، لیکن خیانت نہ کرنا، عہد شکنی نہ کرنا، مثلہ نہ کرنا اور بچوں کو قتل نہ کرنا۔ جب مشرکوں میں سے دشمنی رکھنے والوں سے تمہارا سامنا ہو تو انھیں تین باتوں میں سے کسی ایک کی جانب دعوت دینا۔ وہ ان میں سے جس بات کو بھی قبول کر لیں، تم اسے ان کی طرف سے تسلیم کرلو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو۔ سب سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت پیش کرو۔ اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو تم بھی اسے قبول کر لو۔ پھر انہیں اپنے علاقے سے مہاجرین کے علاقے کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہی احکام لاگو ہوں گے جو مہاجرین پر لاگو ہوتے ہیں۔ اگر وہ ہجرت سے انکار کر دیں (اور اپنے علاقے ہی میں رہنے کو ترجیح دیں) تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی (بدوی) مسلمانوں کی مانند شمار ہوں گے، ان پر اللہ کا حکم جاری ہوگا اور مالِ غنیمت و مالِ فے میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد میں شریک ہوں۔ اگر وہ اس سے (یعنی اسلام لانے سے) انکار کر دیں، تو انہیں جزیہ دینے کے لیے کہو۔ اگر وہ اسے تسلیم کرلیں، تو تم اسے ان کی طرف سے قبول کرلو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو۔ لیکن اگر وہ اس سے بھی انکار کر دیں، تو پھر اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے لڑائی شروع کر دو۔  اور جب تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرلو اور وہ تم سے اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ (امان کا عہد) طلب کریں، تو تم انہیں اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ (امان کا عہد) نہ دو، بلکہ تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ (امان کا عہد) دو۔ کیوں کہ تمہارا اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عہد کو توڑنا اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑنے سے بہت ہلکا ہے۔ اور جب تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرلو اور اس قلعہ کے لوگ یہ چاہتے ہوں کہ تم انہیں اللہ کے حکم (فیصلے) پر ہتھیار ڈالنے دو، تو تم ایسا نہ کرنا، بلکہ انہیں اپنے حکم (فیصلے) پر ہتھیار ڈالنے دینا۔ کیوں تمہیں نہیں معلوم کہ ان کے بارے میں تم اللہ کے فیصلے کو پہنچتے ہو یا نہیں۔"اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

(اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم آپس میں قول وقرار کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو، حاﻻنکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جان رہا ہے۔)

[سورہ النحل: 91]۔

بُریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے، تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ خیر و بھلائی کی وصیت فرماتے اور کہتے:

’’ اللہ کا نام لے کر جہاد کرو۔ اللہ کے راستے میں اس کا انکار کرنے والوں کے ساتھ جنگ کرو۔ جنگ تو کرو، لیکن خیانت نہ کرنا، عہد شکنی نہ کرنا، مثلہ نہ کرنا اور بچوں کو قتل نہ کرنا۔ جب مشرکوں میں سے دشمنی رکھنے والوں سے تمہارا سامنا ہو تو انھیں تین باتوں میں سے کسی ایک کی جانب دعوت دینا۔ وہ ان میں سے جس بات کو بھی قبول کر لیں، تم اسے ان کی طرف سے تسلیم کرلو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو۔ سب سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت پیش کرو۔ اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو تم بھی اسے قبول کر لو۔ پھر انہیں اپنے علاقے سے مہاجرین کے علاقے کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہی احکام لاگو ہوں گے جو مہاجرین پر لاگو ہوتے ہیں۔ اگر وہ ہجرت سے انکار کر دیں (اور اپنے علاقے ہی میں رہنے کو ترجیح دیں) تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی (بدوی) مسلمانوں کی مانند شمار ہوں گے، ان پر اللہ کا حکم جاری ہوگا اور مالِ غنیمت و مالِ فے میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد میں شریک ہوں۔ اگر وہ اس سے (یعنی اسلام لانے سے) انکار کر دیں، تو انہیں جزیہ دینے کے لیے کہو۔ اگر وہ اسے تسلیم کرلیں، تو تم اسے ان کی طرف سے قبول کرلو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو۔ لیکن اگر وہ اس سے بھی انکار کر دیں، تو پھر اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے لڑائی شروع کر دو۔  اور جب تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرلو اور وہ تم سے اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ (امان کا عہد) طلب کریں، تو تم انہیں اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ (امان کا عہد) نہ دو، بلکہ تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ (امان کا عہد) دو۔ کیوں کہ تمہارا اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عہد کو توڑنا اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑنے سے بہت ہلکا ہے۔ اور جب تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرلو اور اس قلعہ کے لوگ یہ چاہتے ہوں کہ تم انہیں اللہ کے حکم (فیصلے) پر ہتھیار ڈالنے دو، تو تم ایسا نہ کرنا، بلکہ انہیں اپنے حکم (فیصلے) پر ہتھیار ڈالنے دینا۔ کیوں تمہیں نہیں معلوم کہ ان کے بارے میں تم اللہ کے فیصلے کو پہنچتے ہو یا نہیں۔"

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اللہ تعالیٰ، اس کے نبی ﷺ اور مسلمانوں کے قول وقرار و ضمانت میں فرق ہے۔دوسرا مسئلہ:اس میں اس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ جب دو خطرناک صورتیں درپیش ہوں، تو اُن میں سے جو کم خطرے کا حامل ہو، اسے اختیار کرلینا چاہیے۔تیسرا مسئلہ:آپ ﷺ کا فرمان ہے: "اللہ کی راہ میں اس کے نام سے جہاد کرو۔"چوتھا مسئلہ:آپ ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے: "جو اللہ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرے، اس سے جہاد کرو۔"پانچواں مسئلہ:آپ ﷺ کا فرمان ہے: "اللہ سے مدد طلب کرو اور کفار سے جنگ کرو۔"چھٹا مسئلہ:اللہ تعالیٰ اور علما کے فیصلے میں فرق ہے۔ساتواں مسئلہ:ضرورت کے وقت صحابی بھی (اپنے اجتہاد سے ) کوئی فیصلہ کرے، تو وہ بھی نہیں جانتا کہ وہ فیصلہ اللہ کے مطابق ہے یا نہیں؟

اللہ تعالیٰ، اس کے نبی ﷺ اور مسلمانوں کے قول وقرار و ضمانت میں فرق ہے۔

دوسرا مسئلہ:

اس میں اس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ جب دو خطرناک صورتیں درپیش ہوں، تو اُن میں سے جو کم خطرے کا حامل ہو، اسے اختیار کرلینا چاہیے۔

تیسرا مسئلہ:

آپ ﷺ کا فرمان ہے: "اللہ کی راہ میں اس کے نام سے جہاد کرو۔"

چوتھا مسئلہ:

آپ ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے: "جو اللہ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرے، اس سے جہاد کرو۔"

پانچواں مسئلہ:

آپ ﷺ کا فرمان ہے: "اللہ سے مدد طلب کرو اور کفار سے جنگ کرو۔"

چھٹا مسئلہ:

اللہ تعالیٰ اور علما کے فیصلے میں فرق ہے۔

ساتواں مسئلہ:

ضرورت کے وقت صحابی بھی (اپنے اجتہاد سے ) کوئی فیصلہ کرے، تو وہ بھی نہیں جانتا کہ وہ فیصلہ اللہ کے مطابق ہے یا نہیں؟

 باب : اللہ پر قسم کھانے کا حکم

جُندُب بن عبدالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"ایک شخص بولا کہ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا، تو اللہ عزّ وجلّ نے فرمایا کہ وہ کون ہے جو قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ جاؤ، میں نے اس کو بخش دیا اور تیرے عمل کو ضائع کر دیا۔"اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایسا کہنے والا ایک عبادت گزار شخص تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہاُس نے ایسی بات کہہ دی، جس نے اُس کی دنیا

"ایک شخص بولا کہ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا، تو اللہ عزّ وجلّ نے فرمایا کہ وہ کون ہے جو قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ جاؤ، میں نے اس کو بخش دیا اور تیرے عمل کو ضائع کر دیا۔"

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایسا کہنے والا ایک عبادت گزار شخص تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ

اُس نے ایسی بات کہہ دی، جس نے اُس کی دنیا

اور آخرت دونوں کوتباہ کردیا۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اللہ تعالیٰ پر قَسم اٹھانے سے ڈرایا گیا ہے۔دوسرا مسئلہ:جہنم ہمارے جوتے کی تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔تیسرا مسئلہ:اسی طرح جنت بھی ہم سے بہت قریب ہے۔چوتھا مسئلہ:اس میں آپ ﷺ کے فرمان: ’’إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ الخ‘‘ (بسا اوقات انسان کوئی ایسی بات کہہ جاتا ہے جس سے اُس کی دنیا وآخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہے۔) کی تصدیق وتائید ہوتی ہے۔پانچواں مسئلہ:بسا اوقات انسان کی کسی ایسے سبب سے بخشش ہو جاتی ہے، جو اس کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ پر قَسم اٹھانے سے ڈرایا گیا ہے۔

دوسرا مسئلہ:

جہنم ہمارے جوتے کی تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔

تیسرا مسئلہ:

اسی طرح جنت بھی ہم سے بہت قریب ہے۔

چوتھا مسئلہ:

اس میں آپ ﷺ کے فرمان: ’’إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ الخ‘‘ (بسا اوقات انسان کوئی ایسی بات کہہ جاتا ہے جس سے اُس کی دنیا وآخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہے۔) کی تصدیق وتائید ہوتی ہے۔

پانچواں مسئلہ:

بسا اوقات انسان کی کسی ایسے سبب سے بخشش ہو جاتی ہے، جو اس کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ ہوتا ہے۔

 باب : اللہ تعالی کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! لوگ کمزور ہوگئے، بچے بھوک سے بے تاب ہو اٹھے اور مال تباہ ہو گئے۔ لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجیے۔ ہم اللہ کو آپ کے پاس اور آپ کو اللہ کے دربار میں سفارشی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کی بات سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :"اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ کی ذات پاک ہے!! آپ برابر اللہ کی پاکی بیان کرتے رہے، یہاں تک کہ اس کے اثرات آپ کے ساتھیوں کے چہروں پر نظر آنے لگے۔ پھر فرمایا: ”تمہارا بُرا ہو، کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کون ہے؟ اللہ کی شان اس سے کہیں بڑی ہے۔ اللہ کو کسی کے پاس سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔"اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے۔

"اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ کی ذات پاک ہے!! آپ برابر اللہ کی پاکی بیان کرتے رہے، یہاں تک کہ اس کے اثرات آپ کے ساتھیوں کے چہروں پر نظر آنے لگے۔ پھر فرمایا: ”تمہارا بُرا ہو، کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کون ہے؟ اللہ کی شان اس سے کہیں بڑی ہے۔ اللہ کو کسی کے پاس سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔"

اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:آپ ﷺ نے اس شخص کی نکیر فرمائی، جس نے کہا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو آپ کے پاس سفارشی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔دوسرا مسئلہ:یہ بات سُن کر آپ ﷺ کا چہرہ اس طرح بدل گیا کہ اس کے اثرات آپ ﷺ کے صحابہ کے چہروں پر بھی دیکھے گئے۔تیسرا مسئلہ:آپ ﷺ نے اس (بدو) کی اس بات پر کہ "ہم آپ کو اللہ کے یہاں بطور سفارشی پیش کرتے ہیں" نکیر نہیں فرمائی۔چوتھا مسئلہ:’’سُبحانَ اللہ‘‘ کے مفہوم اور تفسیر پر بھی تنبیہ ہوئی ہے۔پانچواں مسئلہ:اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان آپ ﷺ سے بارش کے لیے دعا کرنے کی درخواست کیا کرتے تھے۔

آپ ﷺ نے اس شخص کی نکیر فرمائی، جس نے کہا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو آپ کے پاس سفارشی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

دوسرا مسئلہ:

یہ بات سُن کر آپ ﷺ کا چہرہ اس طرح بدل گیا کہ اس کے اثرات آپ ﷺ کے صحابہ کے چہروں پر بھی دیکھے گئے۔

تیسرا مسئلہ:

آپ ﷺ نے اس (بدو) کی اس بات پر کہ "ہم آپ کو اللہ کے یہاں بطور سفارشی پیش کرتے ہیں" نکیر نہیں فرمائی۔

چوتھا مسئلہ:

’’سُبحانَ اللہ‘‘ کے مفہوم اور تفسیر پر بھی تنبیہ ہوئی ہے۔

پانچواں مسئلہ:

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان آپ ﷺ سے بارش کے لیے دعا کرنے کی درخواست کیا کرتے تھے۔

 باب : محمد مصطفیٰ ﷺ کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا

عبداللہ بن شِخِّیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بنو عامر کے ایک وفد کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اسی بیچ ہم نے آپ ﷺ سے کہا کہ آپ ہمارے سید (سردار) ہیں!

تو آپ ﷺ نے فرمایا: "سید (سردار) تو اللہ تبارک وتعالیٰ ہے۔"

ہم نے کہا: آپ مقام و مرتبہ میں ہم سب سے افضل اورسب سے زیادہ احسان کرنے والے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "ثم اپنی یہ بات کہو یا اس میں سے کچھ کہو اور دھیان رکھو کہ شیطان تمہیں کہیں پھانس نہ لے۔"اسے ابوداؤد نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول، اے ہم سب سے بہتر، ہمارے بہتر کے بیٹے، ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے! آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا:"اے لوگو! تم وہی باتیں کرو جو تم کرتے ہو اور دیکھو کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے۔ میں محمد اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے میرے اس مقام ومرتبے سے بڑھا دو، جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے۔"اس حدیث کو نسائی نے بسندِ جید روایت کیا ہے۔

اسے ابوداؤد نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول، اے ہم سب سے بہتر، ہمارے بہتر کے بیٹے، ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے! آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا:

"اے لوگو! تم وہی باتیں کرو جو تم کرتے ہو اور دیکھو کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے۔ میں محمد اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے میرے اس مقام ومرتبے سے بڑھا دو، جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے۔"

اس حدیث کو نسائی نے بسندِ جید روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:یہاں لوگوں کو غلو کرنے سے ڈرایا گیا ہے۔دوسرا مسئلہ:اس بات کی رہنمائی کہ جسے 'آپ ہمارے سید (سردار) ہیں' کہا جائے، اسے جواب میں کیا کہنا چاہیے؟تیسرا مسئلہ:گرچہ ان لوگوں نے صحیح کہا تھا، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’لَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ‘‘ (دیکھو کہیں، شیطان تمہیں پھانس نہ لے۔)چوتھا مسئلہ:آپ ﷺ کے فرمان: ’’مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي۔‘‘ (میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ مرتبے سے اوپر بڑھا دو۔)باب: ارشادِ باری تعالیٰ:(اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔)(سورہ الزمر: 67)ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ ایک یہودی عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے محمد! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور اسی طرح زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی کو ایک انگلی پر, مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا اور فرمائے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں! نبی کریم ﷺ یہودی عالم کی بات کی تصدیق کے طور پر اس طرح ہنس پڑے کہ آپ کے داڑھ والےدانت دکھائی دینے لگے۔ پھر یہ آیت پڑھی:(اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی اور حال یہ کہ ساری زمین قیامت کے دن اسی کی مٹھی میں ہو گی۔)اور مسلم کی ایک روایت میں ہے:"سارے پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھے گا، پھر ان کو ہِلا کر کہے گا: ’’میں ہی بادشاہ ہوں! میں ہی اللہ ہوں!‘‘جب کہ بخاری کی ایک روایت میں ہے:"اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا، پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ لے گا۔"اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔اسی طرح صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعًا روایت ہے:"روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ! کہاں ہیں وہ لوگ، جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ لوگ، جو متکبر بنے پھرتے تھے؟ پھر ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ! کہاں ہیں وہ، جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ، جو متکبر بنے پھرتے تھے؟"اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:"ساتوں آسمان اور ساتوں زمین اللہ کی ہتھیلی میں ایسے ہیں، جیسے تم میں سے کسی کی ہتھیلی میں رائی کا دانہ۔"ابن جریر کہتے ہیں کہ مجھ سے یونس نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابن وہَب نے خبر دی، وہ کہتے ہیں ابن زید نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:"کرسی کے مقابلے میں سات آسمانوں کی نسبت ایسے ہی ہے، جیسے سات درہم کسی ڈھال میں رکھے ہوں۔"اور ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:’"کرسی عرش کے مقابلہ میں یوں ہے، جیسے لوہے کا چھلّا زمین کے کسی وسیع و عریض صحرا میں پڑا ہو۔"ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:"پہلے اور دوسرے آسمان کے بیچ میں پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ اسی طرح ہر آسمان سے اگلے آسمان تک اتنا ہی فاصلہ ہے۔ ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ کرسی اور پانی کے درمیان بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ عرشِ الٰہی پانی کے اوپر ہے اور اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے۔ تمہارا کوئی عمل اس سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔"اس حدیث کو ابن مہدی نے حمّاد بن سلَمہ سے، انہوں نے عاصم سے، انہوں نے زر سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔ اسے کچھ اسی طرح مسعودی نے عاصم سے، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے عبد اللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔ یہ بات حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ وہ مزید فرماتے ہیں: اس کے کئی طرق ہیں۔عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟" ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا:"ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ پھر ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی دوری ہے۔ ہر آسمان کی کثافت (موٹائی) پانچ سوسال کی مسافت کے برابر ہے۔ ساتویں آسمان اور عرشِ الٰہی کے درمیان ایک سمندر ہے، جس کے نیچے اور اوپر والے حصوں کے درمیان بھی اُتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر ہے۔ اور اولادِ آدم کے اعمال میں سے کوئی بھی عمل اس سے پوشیدہ اور مخفی نہیں۔"

یہاں لوگوں کو غلو کرنے سے ڈرایا گیا ہے۔

دوسرا مسئلہ:

اس بات کی رہنمائی کہ جسے 'آپ ہمارے سید (سردار) ہیں' کہا جائے، اسے جواب میں کیا کہنا چاہیے؟

تیسرا مسئلہ:

گرچہ ان لوگوں نے صحیح کہا تھا، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’لَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ‘‘ (دیکھو کہیں، شیطان تمہیں پھانس نہ لے۔)

چوتھا مسئلہ:

آپ ﷺ کے فرمان: ’’مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي۔‘‘ (میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ مرتبے سے اوپر بڑھا دو۔)

 باب: ارشادِ باری تعالیٰ:

 (اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔)

 (سورہ الزمر: 67)

ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ ایک یہودی عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے محمد! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور اسی طرح زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی کو ایک انگلی پر, مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا اور فرمائے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں! نبی کریم ﷺ یہودی عالم کی بات کی تصدیق کے طور پر اس طرح ہنس پڑے کہ آپ کے داڑھ والےدانت دکھائی دینے لگے۔ پھر یہ آیت پڑھی:

(اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی اور حال یہ کہ ساری زمین قیامت کے دن اسی کی مٹھی میں ہو گی۔)

اور مسلم کی ایک روایت میں ہے:

"سارے پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھے گا، پھر ان کو ہِلا کر کہے گا: ’’میں ہی بادشاہ ہوں! میں ہی اللہ ہوں!‘‘

جب کہ بخاری کی ایک روایت میں ہے:

"اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا، پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ لے گا۔"

اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعًا روایت ہے:

"روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ! کہاں ہیں وہ لوگ، جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ لوگ، جو متکبر بنے پھرتے تھے؟ پھر ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ! کہاں ہیں وہ، جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ، جو متکبر بنے پھرتے تھے؟"

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

"ساتوں آسمان اور ساتوں زمین اللہ کی ہتھیلی میں ایسے ہیں، جیسے تم میں سے کسی کی ہتھیلی میں رائی کا دانہ۔"

ابن جریر کہتے ہیں کہ مجھ سے یونس نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابن وہَب نے خبر دی، وہ کہتے ہیں ابن زید نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

"کرسی کے مقابلے میں سات آسمانوں کی نسبت ایسے ہی ہے، جیسے سات درہم کسی ڈھال میں رکھے ہوں۔"

اور ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

’"کرسی عرش کے مقابلہ میں یوں ہے، جیسے لوہے کا چھلّا زمین کے کسی وسیع و عریض صحرا میں پڑا ہو۔"

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:

"پہلے اور دوسرے آسمان کے بیچ میں پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ اسی طرح ہر آسمان سے اگلے آسمان تک اتنا ہی فاصلہ ہے۔ ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ کرسی اور پانی کے درمیان بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ عرشِ الٰہی پانی کے اوپر ہے اور اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے۔ تمہارا کوئی عمل اس سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔"

اس حدیث کو ابن مہدی نے حمّاد بن سلَمہ سے، انہوں نے عاصم سے، انہوں نے زر سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔ اسے کچھ اسی طرح مسعودی نے عاصم سے، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے عبد اللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔ یہ بات حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ وہ مزید فرماتے ہیں: اس کے کئی طرق ہیں۔

عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟" ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا:

"ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ پھر ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی دوری ہے۔ ہر آسمان کی کثافت (موٹائی) پانچ سوسال کی مسافت کے برابر ہے۔ ساتویں آسمان اور عرشِ الٰہی کے درمیان ایک سمندر ہے، جس کے نیچے اور اوپر والے حصوں کے درمیان بھی اُتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر ہے۔ اور اولادِ آدم کے اعمال میں سے کوئی بھی عمل اس سے پوشیدہ اور مخفی نہیں۔"

اسے ابو داؤد وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

 اس باب کے کچھ اہم مسائل:

پہلا مسئلہ:اس میں فرمانِ باری تعالیٰ: ’’وَالأَرْضُ جَمِيعـًا قَبْضَـتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘ (اور ساری کی ساری زمین قیامت کے دن اُس کی مُٹھی میں ہوگی) کی تفسیر ہے۔دوسرا مسئلہ:اس حدیث میں مذکور اور اس جیسی دیگر باتیں نبی ﷺ کے زمانے تک یہودیوں میں محفوظ تھیں, انھوں نے ان باتوں کا نہ تو انکار کیا، نہ کوئی تاویل کی۔تیسرا مسئلہ:جب یہودی عالِم نے آپ ﷺ کے سامنے ان باتوں کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے اُس کی تصدیق کی اور اس کی مزید تائید کے لیے قرآنِ کریم بھی نازل ہوا۔چوتھا مسئلہ:جب یہودی عالِم نے یہ اہم ترین علمی گفتگو کی، تو آپ ﷺ ہنس پڑے۔پانچواں مسئلہ:یہاں اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں کا پوری صراحت کے ساتھ ذکر ہے اور اس بات کا ذکر ہے کہ سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں زمینیں بائیں ہاتھ میں ہوں گی۔چھٹا مسئلہ:اللہ تعالیٰ کے بائیں ہاتھ ہونے کی بھی صراحت ہے۔ساتواں مسئلہ:اُس حالت میں بڑے بڑے سرکشوں اور متکبروں کا ذکر کیا جانا۔آٹھواں مسئلہ:اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کے مقابلے میں آسمانوں اور زمینوں کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی کے ہتھیلی میں رائی کا دانہ۔نواں مسئلہ:آسمان کے مقابلے میں کرسی کے بڑے ہونے کا ذکر۔دسواں مسئلہ:کرسی کے مقابلے میں عرشِ الہی کے بڑے ہونے کا ذکر۔گیارہواں مسئلہ:عرشِ الٰہی، کرسی اور پانی کے علاوہ ایک مستقل چیز ہے۔بارہواں مسئلہ:ہر دو آسمانوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ اس کا بھی ذکر ہے۔تیرہواں مسئلہ:ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان کی مسافت کا ذکر ہے۔چودہواں مسئلہ:کرسی اور پانی کے درمیان کی مسافت بھی بتائی گئی ہے۔پندرہواں مسئلہ:عرشِ الٰہی پانی کے اوپر ہے۔سولہواں مسئلہ:اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر مستوی ہے۔سترہواں مسئلہ:آسمان اور زمین کے درمیان کی مسافت کا ذکر ہے۔اٹھارہواں مسئلہ:ہر آسمان کی کثافت سو سال کی مسافت کے برابر ہے۔سترہواں مسئلہ:ساتویں آسمان کے اوپر جو سمند ہے، اس کے نیچے اور اوپر کے حصوں کے درمیان بھی پانچ سو سال مسافت کی دوری ہے۔ واللہُ أعْلَم

اس میں فرمانِ باری تعالیٰ: ’’وَالأَرْضُ جَمِيعـًا قَبْضَـتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘ (اور ساری کی ساری زمین قیامت کے دن اُس کی مُٹھی میں ہوگی) کی تفسیر ہے۔

دوسرا مسئلہ:

اس حدیث میں مذکور اور اس جیسی دیگر باتیں نبی ﷺ کے زمانے تک یہودیوں میں محفوظ تھیں, انھوں نے ان باتوں کا نہ تو انکار کیا، نہ کوئی تاویل کی۔

تیسرا مسئلہ:

جب یہودی عالِم نے آپ ﷺ کے سامنے ان باتوں کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے اُس کی تصدیق کی اور اس کی مزید تائید کے لیے قرآنِ کریم بھی نازل ہوا۔

چوتھا مسئلہ:

جب یہودی عالِم نے یہ اہم ترین علمی گفتگو کی، تو آپ ﷺ ہنس پڑے۔

پانچواں مسئلہ:

یہاں اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں کا پوری صراحت کے ساتھ ذکر ہے اور اس بات کا ذکر ہے کہ سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں زمینیں بائیں ہاتھ میں ہوں گی۔

چھٹا مسئلہ:

اللہ تعالیٰ کے بائیں ہاتھ ہونے کی بھی صراحت ہے۔

ساتواں مسئلہ:

اُس حالت میں بڑے بڑے سرکشوں اور متکبروں کا ذکر کیا جانا۔

آٹھواں مسئلہ:

اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کے مقابلے میں آسمانوں اور زمینوں کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی کے ہتھیلی میں رائی کا دانہ۔

نواں مسئلہ:

آسمان کے مقابلے میں کرسی کے بڑے ہونے کا ذکر۔

دسواں مسئلہ:

کرسی کے مقابلے میں عرشِ الہی کے بڑے ہونے کا ذکر۔

گیارہواں مسئلہ:

عرشِ الٰہی، کرسی اور پانی کے علاوہ ایک مستقل چیز ہے۔

بارہواں مسئلہ:

ہر دو آسمانوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ اس کا بھی ذکر ہے۔

تیرہواں مسئلہ:

ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان کی مسافت کا ذکر ہے۔

چودہواں مسئلہ:

کرسی اور پانی کے درمیان کی مسافت بھی بتائی گئی ہے۔

پندرہواں مسئلہ:

عرشِ الٰہی پانی کے اوپر ہے۔

سولہواں مسئلہ:

اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر مستوی ہے۔

سترہواں مسئلہ:

آسمان اور زمین کے درمیان کی مسافت کا ذکر ہے۔

اٹھارہواں مسئلہ:

ہر آسمان کی کثافت سو سال کی مسافت کے برابر ہے۔

سترہواں مسئلہ:

ساتویں آسمان کے اوپر جو سمند ہے، اس کے نیچے اور اوپر کے حصوں کے درمیان بھی پانچ سو سال مسافت کی دوری ہے۔ واللہُ أعْلَم

اللہ کے فضل وکرم سے کتاب التوحید پایۂ تکمیل کو پہنچی۔