اللہ کے دین پر ثابت قدمی کے وسائل ()

 

|

 اللہ کے دین پر ثابت قدمی کے وسائل

تالیف: شیخ محمد صالح المنجد۔حفظہ اللہ۔

عزیزالرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ ترجمہ:

مراجعہ: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

ناشر: دفتر تعاون برائے دعوت وارشاد وتوعیۃ الجالیات،ربوہ،ریاض

مملکتِ سعودی عرب

 عرضِ مُترجم

الحمد لله وكفىٰ وسلامٌ على عباده الذين اصطفىٰ، أمابعد:

زیرمطالعہ رسالہ عالم اسلام کی مشہور علمی شخصیت محمد صالح المنجد ۔حفظہ اللہ۔ کی ہے جس میں دین اسلام پر ثابت قدمی کے وسائل وذرائع کو کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے تاکہ خواہشات وشبہات کے فتنے میں مبتلا حضرات ان وسائل کو اپنا کر دین اسلام پرثابت قدم رہ سکیں۔

اسلام ہاؤس ڈاٹ کام کے شعبہ ٔ ترجمہ وتالیف نے افادۂ عام کی خاطراسےاردو قالب میں ڈھالاہے،حتیٰ الامکان ترجمہ کو درست ومعیاری بنانے کی کوشش کی گئی ہے،اور مؤلّف کے مقصود کا خاص خیال رکھا گیا ہے،اور آسان عام فہم زبان اور شُستہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے تاکہ عام قارئین کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہو،مگرکمال صرف اللہ عزوجل کی ذات کا خاصہ ہے، لہذا کسی مقام پر اگر کوئی سَقم نظر آئے تو ازراہ کرم خاکسار کو مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ اس کی اصلاح کی جاسکے۔

ربّ کریم سے دعا ہے کہ اس کتاب کو لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے،اس کے نفع کو عام کرے، والدین اور جملہ اساتذۂ کرام کے لئے مغفرت وسامانِ آخرت بنائے، اور کتاب کے مولّف، مترجم،مراجع ،ناشراور تمام معاونین کی خدمات کو قبول کرکے ان سب کے حق میں صدقۂ جاریہ بنائے۔آمین۔

وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم۔

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

 مقدّمہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے،ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اوراسی سے بخشش چاہتے ہیں۔

اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اوراپنے برے اعمال سےاللہ کی پناہ چاہتے ہیں،اللہ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا،اوروہ جسے گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں،اورمیں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔

حمد وصلاۃ کے بعد:

یقیناًرشد وعزیمت کے ساتھ صراط مستقیم پر چلنے والے ہرسچے مسلمان کے لیےدین الہی پر ثابت قدم رہنا ایک بنیادی مقصد ہے۔

اورموضوع کی اہمیت درج ذیل امور میں پنہاں ہے:

موجودہ معاشرے کی صورت حال جس میں مسلمان سانس لے رہے ہیں،اورنوع بنوع فتنے اوراشتعال انگیزیاں جس کی آگ میں وہ جھلس رہے ہیں،اورمختلف شہوات وشبہات جن کی بنا پر دین اسلام اجنبی بن گیا ہے۔

چنانچہ دین اسلام کو مضبوطی سے پکڑنے والوں کی یہ عجیب وغریب مثال بن گئی ہے کہ’’دین پر ثابت قدم رہنے والے کی مثال آگ کے انگارے کو پکڑنے والے کی طرح ہے‘‘۔

بلاشبہ ہرعقلمند شخص یہ جانتا ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کو( دین اسلام) پرثابت قدمی کے وسائل کی حاجت وضرورت اپنے سلف بھائیوں کےزمانہ سے کہیں زیادہ ہے۔ اوراس کے حصولیابی کے لیے کافی محنت درکار ہے، کیونکہ زمانہ فساد کا شکار ہے، (مسلم) بھائیوں کی ندرت وکمی ہے، مددگار وناصرین کی قلت وکمزوری ہے۔

ارتداد اورالٹے ایڑیوں کے بل (اسلام سے) پلٹنے اور سرنگونی کے واقعات کی کثرت ہے یہاں تک کہ بعض اسلام پر عمل کرنے والوں کے یہاں بھی یہ چیز موجود ہےجس کی وجہ سے مسلمان اس طرح کے انجام کار سے خوف واندیشہ کے عالم میں ہیں اورپرامن ماحول کی حصولیابی کے لیے ثابت قدمی کے وسائل کو تلاش کرنے لگے ہیں۔

موضوع کا تعلق دل سے ہے جیسا کہ نبیﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا ہے:

’’ابن آدم کا دل ہانڈی کے جوش مارنے سے بھی زیادہ حرکت کرنے والا ہوتا ہے۔‘‘

اس حدیث کی روایت امام احمد نے 6/4، اور امام حاکم نے 2/289 میں کی ہے،اوریہ السلسلۃالصحیحۃ میں( 1772) نمبرپر مذکور ہے۔

 اسی طرح اللہ کے نبی ﷺ نے دل کی دوسری مثال بیان کی ہے، چنانچہ آپ کا ارشاد ہے

دل کا نام قلب اس کے دھڑکنے اوراُلٹ پھیر کرنے کی کیوجہ سے رکھا گیا ہے، دل کی مثال اس پر کے مانند ہے جو کسی درخت کے جڑ سے چمٹا ہوا ہو، اور تیز وتند ہوا اسے الٹتی پلٹتی رہتی ہو۔

اس حدیث کی روایت امام احمد نے 4/ 408میں کیا ہے۔، اور صحیح الجامع میں(2361 ) نمبر پر مذکور ہے۔

اورحدیث سے پہلے اسی ضمن میں شاعر کا یہ قول ہے:

انسان کانام انسان اس کے بھولنے کی وجہ سے ہوا

اورقلب کانام قلب اس کے الٹ پھیر کی وجہ سے پڑا

لہذاخواہشات وشبہات کی ہوا سے اس پلٹنے والے(دل) کوجمانا ایک خطرناک امر ہے جس کے لیے ٹھوس وسائل کی ضرورت ہے جوعظیم مشن اوراس کی صعوبت کا مقابلہ کرسکے۔

 ثابت قدمی کے وسائل

اللہ عزوجل کا بے پناہ رحم و کرم ہے کہ اس نے ہمارے لیے اپنی کتاب قرآن مجید میں، اور اپنے نبیﷺ کی زبانی اور آپﷺ کی سیرت طیبہ میں ثابت قدمی کے بہت زیادہ وسائل بیان کیے ہیں۔پیارے قاری ان میں سے بعض کو آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں:

 پہلا:قرآن کریم کی جانب توجہ وعنایت کرنا:

قرآن کریم ثابت قدمی اور استقامت کا سب سے پہلا ذریعہ ہے، اور یہی اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ، واضح نور ہے، جس نے اس کو مضبوطی سے تھام لیا اللہ تعالیٰ نےاس کو محفوظ کرلیا ، اور جس نے اس کی اتباع اور پیروی کی اللہ تعالیٰ نے اس کو نجات دے دیا، اور جس نے اس کی طرف دعوت دی تو اس کو صراط مستقیم کی ہدایت عطا کردی گئی۔

اللہ تعالیٰ نے اس بات کی صراحت کردی ہے کہ قرآن کریم کو تھوڑا تھوڑا ،اور تفصیل سے نازل کرنے کا مقصدتثبیت یعنی دل میں بٹھانا ہے۔

چنانچہ کافروں کے شبہات کے رد میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

 ’’اور کافروں نے کہا کہ اس پر قرآن سارا کا سارا ایک ساتھ ہی کیوں نہ اتارا گیا اسی طرح ہم نے (تھوڑا تھوڑا کرکے) اتارا تاکہ اس سے ہم آپ کا دل قوی رکھیں، ہم نے اسے ٹہر ٹہر کر ہی پڑھ سنایا ہے۔یہ آپ کے پاس جو کوئی مثال لائیں گے ہم اس کا سچا جواب اور عمده توجیہ آپ کو بتادیں گے۔‘‘[الفرقان:32-33 ]

قرآن کریم ثبات واستقامت کا مصدر کیسے ہے؟

۔کیونکہ یہ ایمان کی آبیاری اور زراعت کرتا ہے، اور نفس کا تزکیہ کرکے رب سے تعلق اور رشتہ کو استوار کرتا ہے۔

کیونکہ قرآن کریم کی آیتیں مومن کے دل کے لیے سلامتی اور ٹھنڈک کا ذریعہ ہوتی ہیں، چنانچہ فتنہ و فساد کی آندھی اس کا بال بیکا نہیں کر سکتی ہے، اور مومن کا دل اللہ تعالیٰ کے ذکرسے مطمئن ہوتاہے۔

۔کیونکہ یہ مسلمانوں کو ایسی صحیح اقدار وتصوّرات پیش کرتی ہے جس کے ذریعہ اس کے آس پاس کے حالات کی اصلاح ہوتی ہے

 اور اسی طرح وہ موازین جو معاملات کا فیصلہ کرنے میں آسانی پیدا کرتے ہیں ، اس کی حکمت اور مصلحت میں کوئی تعارض نہیں ہے ، اور نہ ہی ان کے اقوال میں کوئی نقص اور کمی پائی جاتی ہے۔ اورحوادثات وشخصیات کے اختلاف کے سبب اس کے اقوال میں کوئی تناقض نہیں پایا جاتا

۔کیونکہ وہ ان تمام شبہات کی تردید کرتا ہے جن کو اسلام کے دشمن کفارو منافقین بھڑکاتےہیں، جیسے:وہ زندہ مثالیں جو پہلی صدی میں رونما ہوئی تھیں،اور اس کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں:

اللہ عزوجل کے قول:

’’نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہو گیا ہے ۔‘‘[الضحى:3] کا اثر رسول ﷺکے نفس پر کیا ہوا،جب مشرکینِ مکہ نے آپ کے متعلق کہا(ودع محمد) ’’کہ محمد کو اس کے(رب نے) چھوڑدیا ہے‘‘۔

 (دیکھئے: صحیح مسلم مع شرح نووی 12/156)۔

اور اللہ تعالیٰ کے قول:

’’ اس کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ (قرآن) تو صاف عربی زبان میں ہے۔ ‘‘[النحل: 103]

کا اثر آپ ﷺ کی ذات پر کیا ہواجب کفارِقریش نے یہ دعوی ٰکیا کہ ۔نعوذ باللہـ محمدﷺکو ایک انسان تعلیم دیتاہے، اور آپﷺ مکہ کے نجار رومی نامی شخص سے قرآن سیکھتے ہیں۔

اور اللہ تعالیٰ کے قول:’’آگاه رہو وه تو فتنے میں پڑ چکے ہیں‘‘۔[توبہ :49]کا اثر مومنوں کے دلوں پر کیا ہوا جب منافق نے کہا:

’’ مجھے اجازت دیجئے مجھے فتنے میں نہ ڈالیئے‘‘؟

تو کیا یہ ثابت قدمی پر ثبات ومضبوطی دلانا،اور مومنوں کے دلوں کو جوڑنا،شبہات کی تردید کرنا اور اہل باطل کو خاموش کرنا نہیں ہے؟

کیوں نہیں ،اورمیرے رب کی قسم!

اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے صلح حدیبیہ سے واپس لوٹتے وقت بہت سارے مالِ غنیمت کا وعدہ کیا تھا، اوریہ خیبر کا مال غنیمت ہے،اور اس کو عنقریب ان کے لیے جلد پیش کردیا جائے گا، اور وہ اس کی جانب تنہا جائیں گے

اور منافقین ان کی مرافقت کا مطالبہ کریں گےمگرمسلمان ان سے کہیں گے کہ تم لوگ ہمارے ساتھ ہرگز نہیں جاسکتے ہو،پر وہ لوگ(منافقین) اصرار کریں گے اور اللہ کے کلام کو بدلنے کی کوشش کریں گے،اور مسلمانوں سے کہیں گے کہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو،اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے اس قول سے جواب دیا ہے:’’(اصل بات یہ ہے )کہ وہ لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں‘‘۔

پھر یہ ساری چیزیں مومنوں کے سامنے مرحلہ بہ مرحلہ، قدم بہ قدم اور حرف بہ حرف پیش آئیں۔

یہیں سے ہم ان لوگوں کے مابین فرق کرسکتے ہیں جو اپنی زندگی کو قرآن کریم کے ساتھ مربوط رکھتے ہیں، اس کی تلاوت، حفظ، تفسیر اورغور وفکر پر دھیان دیتے ہیں،اوراس کے مطابق چلتے ہیں،اور تمام امور میں اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور وہ لوگ جن کی تمام تر توجہات کا مرکز و محور لوگوں کی باتیں ہوا کرتی ہیں،اور وہ لوگ اسی میں مشغول رہتے ہیں۔

اے کاش! وہ لوگ جوعلم کے طلبگار ہیں وہ قرآنِ کریم اوراس کی تفسیر کو اپنی طلب اور جستجو کا وافر حصہ بناتے!

 دوسرا:اللہ تعالیٰ کی شریعت اور عمل صالح کا التزام:

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، ہاں نا انصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کر گزرے۔‘‘ [ابراهيم :27]

قتادہؒ کہتے ہیں:

’’جہاں تک رہی بات دنیاوی زندگی کی تو انہیں بھلائی اور عمل صالح سے ثابت قدمی دیتا ہے، اور آخرت میں قبر میں ثابت قدم رکھے گا۔‘‘

اور اسی طرح سلف میں سے کئی لوگوں سے منقول ہے۔( تفسير القرآن العظيم لابن كثير 3/421)

اور اللہ سبحانہ کا فرمان ہے:

’’اوراگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لئے بہتراور بہت زیاده مضبوطی والا ہے۔‘‘

[النساء :66] یعنی حق پر۔

اور یہ بات بالکل واضح ہے، ورنہ کیا ہم ان کاہل اور سست لوگوں سے استقامت اور ثابت قدمی کا توقع کریں جو اعمال صالحہ سے دور بیٹھے ہوں، ایسے وقت میں جب کہ فتنے اپنے سر پھیلائے ہوں،اور حادثات نے انہیں گھیررکھا ہو؟!

لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے، اور نیک اعمال انجام دئیے، ان کا رب ان کوان کے ایمان کے سبب صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

اسی لیےنبیﷺ نیک اور صالح اعمال پر مداومت برتتے تھے ، اورآپﷺ کے نزدیک سب سے بہتر عمل وہ تھا جس پر مداومت برتا جائے، اگر چہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

اور آپﷺ کےصحابہ کرام جب کوئی عمل کرتے تھے تو اس کو مضبوطی اور استقامت کے ساتھ کرتے تھے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی عمل انجا م دیتی تھیں تو اس کو لازم پکڑتی تھیں۔

اورآپﷺ فرماتے تھے:

’’جس نے بارہ رکعت پر مداومت اختیار کیا ، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گیا ۔‘‘

 ( سنن ترمذی ۲/ ۲۷۳،امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن یا صحیح ہے،اور یہ حدیث صحیح نسائی میں ۱/۳۸۸، اور صحیح ترمذی ۱/۱۳۱ میں ہے)یعنی سنن رواتب ۔

اور حدیث قدسی میں ہے:

 ’’بندہ برابرنوافل کے ذریعہ میرا تقرّب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔‘‘

اس حدیث کی روایت امام بخاری نے کی ہے، دیکھیے:( فتح الباری11/340)

 تیسرا:اتباع اور عمل کرنے کے لیےنبیوں کے قصوں میں غورو فکر اور اس کا دراسہ کرنا

اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

’’ رسولوں کے سب احوال ہم آپ کے سامنے آپ کے دل کی تسکین کے لئے بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کے پاس اس سورت میں بھی حق پہنچ چکا جو نصیحت ووعظ ہے مومنوں کے لئے ۔‘‘[هود :120]

اللہ کے رسول ﷺ کے عہد میں جو آیتیں نازل ہوئی ہیں وہ تفریح اور دل بہلانے کے لیے نہیں تھیں ،بلکہ وہ بہت ہی عظیم مقصد اور ارادہ کے لیے تھیں اوروہ رسولﷺ کے دل اور آپﷺ کے صحابہ کرام کے دلوں کی تسکین وثتبیت کے لیے تھیں۔

اے میرے بھائی! اگر آپ اللہ تعالیٰ کے اس قول پر غور کرتے :’’ کہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔ہم نے فرما دیا اے آگ! تو ٹھنڈی پڑ جا اور ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے سلامتی (اور آرام کی چیز) بن جا!۔گو انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کا برا چاہا، لیکن ہم نے انہیں ناکام بنا دیا۔‘‘[الأنبياء :68-70]

ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

’’ابراہیم علیہ السلام کا آخری قول جب ان کو آگ میں ڈالا گیا: (حَسْبي اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ)’’میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، اوروہ بہت اچھا کارساز ہے۔‘‘[الفتح 8/22]

کیا تم استقامت اور ثابت قدمی کے معانی میں سے بعض معنیٰ کو ظلم و سرکشی اور عذاب کے سامنے محسوس نہیں کرتےجو آپ کے دل میں داخل ہو رہا ہو ، اور آپ اس قصہ کے بارے میں غورو فکر کرنے والے ہو؟

اگر آپ اللہ عزوجل کے فرمان کو موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں غور کرتے:’’پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے۔موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں، یقین مانو میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا۔‘‘ [الشعراء :61-62]

کیا آپ استقامت اور ثابت قدمی کا کوئی دوسرا معنیٰ طالبین سے ملاقات کے وقت محسوس نہیں کرتے ، اور شدت کی گھڑیوں میں مایوسوں کی چیخ و پکار کے درمیان ثابت قدم ہوکر، اور آپ اس قصہ کے بارے میں غورو فکر کررہے ہو؟

اگر آپ فرعون کے جاد وگروں کے واقعہ کا جائزہ لیں ، وہ عجیب و غریب مثال اس جماعت کی جنہوں نے حق ظاہر ہوجانے کے بعد اس پر ثابت قدمی اختیارکی۔

کیا آپ استقامت اورثابت قدمی کے اس عظیم مفہوم کو نہیں دیکھتے جوظالموں کی دھکمیوں کے سامنے دلوں میں بیٹھ جاتے ہیں، اور ان ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے

’’فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پرایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، (سن لو) میں تمہارے پاؤں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوں میں سولی پر لٹکوا دوں گا، اور تمہیں پوری طرح معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیاده سخت اور دیرپا ہے۔‘‘[طه :71]

ان معمولی ثابت قدم مو منوں کی مثال جن کو ادنیٰ درجہ کی چیز بھی ان کے پائے استقلال کو کمزور نہیں کرسکتی ہے،ان کا کہنا ہے۔

’’انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آچکیں اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اب تو تو جو کچھ کرنے والا ہے کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وه اسی دنیوی زندگی میں ہی ہے ۔‘‘[طه :72]

۔اور اسی طرح سورہ یسین میں مومن کے واقعہ،اورآل فرعون واصحاب خندق کے مومن وغیرہ کے قصے میں ثبات قدمی کے عظیم دروس ہیں ۔

 چوتھا:دعا

اللہ تعالیٰ کے مومن بندوں کی یہ صفت ہے کہ وہ اللہ کی جانب متوجہ ہو کر ثابت قدمی کی دعا مانگتے ہیں۔

’’ اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے‘‘۔

’’ اے پروردگار ہمیں صبر دے،ثا بت قدمی دے۔‘‘

اور اس لیے کہ: بنی آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایسے ہیں جیسے وہ سب ایک ہی دل ہوں اور وہ جیسے چاہتا ہے ان کو پلٹتا ہے۔‘‘

اس حدیث کی روایت امام مسلم اور امام احمد نے ابن عمر سے مرفوعا کی ہے۔(دیکھئے:صحیح مسلم مع شرح نووی 16/204)۔

رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے حامل تھے۔

’’اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔‘‘

اس حدیث کی روایت امام ترمذی نے انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا کی ہے،تحفۃالأحوذی 6/349 ، وصحیح الجامع7864)

 پانچواں:اللہ کا ذکر

اور یہ استقامت اور ثابت قدمی کے سب سے عظیم اسباب و وسائل میں سے ایک ہے۔

ان دونوں امور کے درمیان اس اقتران وملاوٹ پر غورو فکر کیجئےجو کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے:

’’ اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔‘‘[سورہ انفال:45]

چنانچہ اس(ذکر) کو جہاد میں استقامت اور ثابت قدمی کے معاونت میں سب سے عظیم سبب اور ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔‘‘

’’ اور اسی طرح فارس اور روم کی بہادری پر غورو فکر کیجئے، کہ کس طرح ان کو اس چیز نے دھوکہ دیا جس کی ان کو سب سے زیادہ ضرورت تھی‘‘۔

بریکٹ کے درمیان والی عبارت علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب’’الداء والدواءسے ماخوذ ہے۔

تعداد کی قلت اور اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر و اذکار کرنے والوں کی تعداد کے باوجود ۔

یوسف علیہ السلام نے جاہ و منصب ، جمال و خوبصورت والی عورت کے فتنہ کے سامنے ثابت قدم رہنے میں کس سے مدد حاصل کی جب اس عورت نے ان کواپنے ساتھ (بدکاری کرنے کے لئے)دعوت دی۔

 توکیا’’معاذاللہ‘‘ اللہ کی پناہ کے مضبوط قلعہ میں داخل نہیں ہوئے،جس سے شہوات اورنفسانی خواہشات کے لشکروں کے امواج (استقامت اورثابت قدمی) کے مضبوط اور قلعہ نما چہار دیواروں کے سامنے ریزہ ریزہ ہو گیے؟‘‘

اوراسی طرح مومنوں کو ثابت قدمی دلانے میں ذکر و اذکار کی تاثیر ہوتی ہے

 چھٹا:مسلمان کا صحیح اور سیدھے راستے پر چلنے کی حرص وتڑپ

وہ تنہا صحیح راستہ جس کی اقتدا اور پیروی کرنا تمام مسلمانوں پر واجب ہے ، وہ اہل سنت والجماعت کا طریقہ ہے،جو فرقۂ ناجیہ اور طائفۂ منصورہ کا راستہ ہے، صاف و شفاف عقیدہ اور صحیح و سالم منہج کے حاملین، دلیل و سنت کے متبعین، اللہ کے دشمنوں سے علیحدگی اوراہل باطل سے دوری اختیار کرنے والوں کی جماعت کا عقیدہ ہے۔

 اورجب آپ اس(صحیح طریقہ) کی قیمت کاثبات قدمی میں اندازہ لگانا چاہیں توآپ غور وفکر کریں اوراپنے نفس سے سوال کریں کہ :کیسے سابقین اورلاحقین میں بہت سارے لوگ ضلالت وگمراہی کے شکار ہوئے،اورحیرت وتعجب میں متبلا ہوئےاوران کے قدم صراط مستقیم پر ثابت نہ رہےاور نہ ہی اس پر ان کا انتقال ہوا؟یاان کی اکثرعمریں ختم ہونے اورزندگی کے قیمتی اوقات ضائع وبرباد ہونے کے بعد وہاں تک رسائی ہوئی۔

 چنانچہ آپ ان میں سے کچھ لوگوں کو فلسفہ،علمِ کلام،اعتزال، تحریف و تاویل، تفویض اورارجاء جیسی بدعات وضلالت کے درمیان چکر لگاتے اوراسی طرح تصوف کے مختلف طریقوں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے نظر آئیں گے

 اسی طرح بدعتی لوگ حیرت واضطراب کی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں۔آپ دیکھیں کہ کس طرح سے اہل کلام موت کے وقت ثابت قدمی اور استقامت سے محروم کر دئیے گئے،چنانچہ سلف کا کہنا ہے:

’’موت کے وقت اہل کلام سب سے زیادہ شک وشبہ میں مبتلا ہوتے ہیں‘‘۔

 لیکن ذرا سوچیں اورغور فرمائیں!کیا اہل سنت و الجماعت میں سے کوئی شخص دینِ اسلام کی صحیح سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے بعد ناراض اور غصہ ہو کر اپنے سیدھے طریقہ اور ہدایت سے الٹے پاؤں پلٹا ہے؟

ممکن ہے(وقتی طور پر) خواہشات اور شہوات کی وجہ سےاسے چھوڑ دیا ہو ، یا کسی شکوک و شبہات کیوجہ سے جو اس کے ضعیف اور کمزورعقل کو لاحق ہو، لیکن کوئی شخص اسے (بالکل) نہیں چھوڑتا، کیونکہ اس نے اس سے بھی زیادہ صحیح دیکھا ہوا ہے ، یا اس کے لئے اس کا بطلان واضح اور ظاہر ہو گیا۔

اور اس چیز کا مصداق ہرقل کا ابو سفیان سے محمد ﷺ کے پیروکاروں کے متعلق پوچھ گچھ اور دریافت کرنا ہے۔

ہرقل نے ابو سفیان سے کہا:

کیا کوئی شخص اسلام میں داخل ہونے کے بعد اس سے ناراض اور غصہ ہو کر اس سے مرتد ہو گیا ہے؟

 تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ: نہیں

پھر ہرقل نے کہا: ایمان کا معاملہ اسی طرح ہے کہ جب وہ دل کی گہرائیوں میں بس جاتی ہے (توپھراس سےنہیں نکلتی)(بخاری، فتح الباری۱/۳۲)

 ہم نے بڑے لوگوں کے بارے میں بہت ساری باتیں سنیں ہیں کہ وہ لوگ بدعت و ضلالت کی عمیق گہرائیوں میں بھٹک رہے ہیں،جبکہ ان میں سے کچھ دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا،چنانچہ انہوں نے باطل اور گمراہ چیزوں کو چھوڑدیا ،اورسابقہ مذہب کا انکار اوراس سے ناپسند یدگی کا اظہار کرتے ہوئے اہل سنت والجماعت میں شامل ہو گیے، لیکن کیا آپ نے اس کے برعکس کبھی کچھ سنا ہے ؟!

لہذااگرآپ ثابت قدمی چاہتے ہیں توآ پ کو مومنوں کے راستے پر چلنا ہو گا

 ساتواں:تربیت

ایمانی، علمی،تدریجی اورآگہی پیدا کرنے والی تربیت استقامت اور ثابت قدمی کے بنیادی عوامل و اسباب میں سے سب سے اہم عامل ہے۔

ایمانی تربیت:خوف ورجاء اورمحبت کے ذریعہ دلوں کو تازہ کرتی ہے،اوروہ اس خشک مزاجی اورمروت کی ضد ہوتی ہے جو قرآن و سنت کے نصوص کو ترک کرنے کے نتیجہ، اور لوگوں کی من گھڑت باتوں پر جم جانے اوراسے لازم پکڑنے کیوجہ سے وجود میں آتا ہے

علمی تربیت:جو صحیح دلیل پر قائم اور بری تقلید وامعہ کے خلاف ہو۔ (امّعہ) ہاں میں ہاں ملانے کو کہتے ہیں،اسی طرح تقلید کے معنیٰ میں بھی آتا ہے۔

 آگہی پیدا کرنے والی تربیت:مجرموں کے راستوں کو نہیں پہنچانتی ہے،اوراعداء اسلام کے منصوبوں کا دراسہ(مطالعہ) کرتی ہے،واقع حال کی جانکاری اورحادثات کی فہم وسمجھ اوراندازہ رکھتی ہے، محدود چھوٹی سوسائٹی میں گھر نے اوربندش کے منافی ہوتی ہے

تدریجی تربیت: یہ ایسی تربیت ہے جومسلمانوں کولے کر دھیرے دھیرے تربیت کرتی ہے،اور مناسب منصوبوں کے ساتھ اس کے کمالِ مدارج تک پہنچاتی ہے، جوارتجالی (بدیہی)،جلد بازی اورچھلانگ بازی کی ضد ہوتی ہے

ثابت قدمی کے عناصر میں اس عنصر کی اہمیت کا ادراک کرنے کے لیے ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت طیبہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے،اور پھر اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے

مکہ میں ظلم و زیادتی کی مدت میں نبی ﷺ کے صحابہ کی استقامت اور ثابت قدمی کا سر چشمہ کیا تھا؟

حضرت بلال، حضرت خباب،حضرت مصعب اورحضرت آل یاسر وغیرہ کمزور لوگ اورکچھ کبار صحابہ شعب ابی طالب وغیرہ کے محاصرہ اور قید وبند کی حالت میں استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ کیسے جمے ڈٹے رہے؟

کیا ان کا ثابت قدم رہنا مشکاۃ نبوت کی گہری تربیت کے بغیر ممکن تھا، جس نے ان کی شخصیت کو نکھار دیا ؟

ہم صحابی رسول حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کو بطور مثال بیان کرتے ہیں، جن کا مالک لوہے کی سیخوں کوخوب گرم کرتا تھا، جب وہ خوب گرم ہو کر کھولنے لگتا تھا، تو پھر اس پر ان کو ننگے پیٹھ لٹا دیتا تھا، اوروہ گرم اور کھولتی ہوئی سیخ اس وقت تک سرد نہیں ہوتی تھی جب تک کہ ان کے پیٹھ کو برابر نہیں کردیتی تھی، اور ان کے پیٹھ سے چربی بہنے لگتی تھی، تو آخر وہ کون سی طاقت اور قوت تھی جس نے ان کو اتنا سخت سزا برداشت کرنے پر آمادہ کیا؟

اوراسی طرح حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو تپتے ہوئے صحراء میں چٹان کے نیچے لٹا دیا جاتا تھا، اورسمیہ رضی اللہ عنہا کو زنجیزوں اوربیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا تھا، (مگر ان کے پائے استقامت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی تھی)

اسی طرح ایک دوسرا پہلو عہدمدنی کا ہے جہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون تھا جوجنگ حنین میں اکثر مسلمانوں کی شکست کے وقت نبی ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رکھا؟

کیا وہ نئے مسلمان اور فتح مکہ کے مسلم تھے جو زیادہ مدت تک نبوی تربیت سے فیضیاب نہیں ہوئے تھے اوران میں سے اکثر مال غنیمت کے طلب میں نکلے تھے؟

ہرگز نہیں،بلکہ جو لوگ آپ کے ساتھ ثابت قدم رہےتھے ، ان کی اکثر یت ان پاک باز مومنوں کی تھی جنہیں آپ ﷺکے ہاتھوں تربیت پانے کا اچھا خاصا وقت وموقعہ ملا تھا۔

پس اگر ان کی(اچھی) تربیت نہ ہوئی ہوتی تو کیا وہ لوگ ثابت قدم رہ پاتے؟

 آٹھواں:طریق اور راستہ پر اعتماد:

بلا شبہ اس راستہ کاجسے مسلمان اختیار کرتا ہےاس پر جتنا اعتماد اور بھروسہ ہوگا اسی قدر اس پر استقامت اور ثابت قدمی زیادہ ہوگی۔اور اس کے کچھ وسائل ہیں:

اے میرے بھائی!اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ لو کہ بلا شبہ وہ سیدھا راستہ جس پر تم لوگ گامزن ہو ، وہ نیا نہیں ہے ، اور نہ ہی یہ تمہارے زمانہ کا پیداوار ہے

بلکہ یہ بہت پرانا راستہ ہے(عتیق یہاں صفت مدح ہے) جس پر آپ سے پہلےانبیاء،سچے لوگ، علماء، شہداء اور نیک و صالح لوگ چل چکے ہیں، چنانچہ اس سے تمہاری اجنبیت زائل ہوجائےگی، اور تمہاری وحشت انس ومودت میں اور تمہاری تکلیف اور پریشانی فرح وسرور میں بدل جائے گی،کیونکہ آپ اس بات کا احساس و شعور رکھتے ہو کہ یہ تمام لوگ آپ کے منہج اورطریق کے بھائی ہیں۔

انتخاب وچنے جانے کا احساس رکھنا:

اللہ عزوجل کا فرمان ہے:

’’ تو کہہ دے کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے برگزیده بندوں پر سلام ہے۔‘‘[سورہ نمل:۵۹]

اور فرمایا:

’’ پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔‘‘ [سورہ فاطر:۳۲]

اور فرمایا:

’’اور اسی طرح تجھے تیرا پروردگار برگزیده کرے گا اور تجھے معاملہ فہمی (یا خوابوں کی تعبیر) بھی سکھائے گا‘‘[سورہ یوسف:6]

اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو منتخب کیا ہے تو صالحین اور نیک کاروں کے لئے اس انتخاب میں ایک حصہ ہے، اور وہ انبیاء کے علوم کا انہیں وارث بنانا ہے۔

 آپ کا احساس وشعور کیا ہوگا، اگر اللہ تعالیٰ آپ کو جمادات، چوپایہ، یا ملحد کافر، یا بدعت کا پرچارک یا فاسق و فاجر،یا ایسا مسلمان جو اسلام کی جانب دعوت نہ دے،یا ایسا داعی جوغلطیوں سے پُر راستےکی طرف لوگوں کو بلائے؟

کیا تمہیں اس بات کا شعور اور احساس نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنے لیے منتخب کیا ہے ، اور تم کو اہل سنت والجماعت کا داعی بنایا ہے ، تو کیا یہ تمہارے منہج اور طریقہ پر استقامت اور ثابت قدمی کے وسائل میں سے نہیں ہے ؟

 نواں:اللہ عزوجل کی دعوت کی مشق اور ٹریننگ

دل اگر حرکت نہ کرے تو سڑ جاتا ہے، اور اگر حرکت نہ کرے تو اس میں پھپھوند لگ جاتا ہے،اور دل کو سب سے زیادہ حرکت اور مشغول یا سرگرم رکھنے کی جگہ دعوت الی اللہ ہے،اور یہ انبیاء اور رسولوں کا وظیفہ اور کام ہے، اور دل کو عذاب سے نجات اور چھٹکارا دلانے کا وظیفہ اور کام ہے، جس میں طاقتیں اور قوتیں پھوٹ پڑتی ہیں، اور مشن اور مہم کامیاب ہوجاتے ہیں:’’پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اس پر مضبوطی سے جم جائیں۔‘‘

اور کسی چیز کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ’’فلاں شخص نہ آگے بڑھتا ہے اور نہ ہی پیچھے ہٹتا ہےاس لیے کہ اگر دل کو اطاعت اور فرمانبرداری کے کام میں مشغول نہ کیا جائے،تو وہ آپ کو معصیت کا مرتکب بنادے گا۔‘‘

اور ایمان میں کمی اور اضافہ ہوتے رہتا ہے

صحیح منہج اور طریقہ کی جانب دعوت دینے کے لیےوقت لگانا، فکری کاوش کرنا، جسم کا سعی و محنت کرنا، زبان کااستعمال کرنا،اس طور پر کہ دعوت الی اللہ مسلمان کا مقصد بن جائے، اور اس کا پسندیدہ مشغلہ بن جائےـ تو یہ شیطانی گمراہی اور فتنے کی تمام کوششوں کے راستے کو کانٹ دیتا ہے۔

مزید برآں کہ داعی کے دل میں اہل باطل، معاندین، اور بندشوں اور رکاوٹوں کے تیئں چیلنج اور مدافعت کا ایک داعیہ پیدا ہوجاتا ہے، وہ اپنے دعوتی سفر طے کرتا ہے اور اس کے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور اس کے ارکان مضبوط ہوتے ہیں۔

چنانچہ دعوت الیٰ اللہ عظیم ثواب کے ساتھ استقامت اورثابت قدمی کے وسائل میں سےایک اہم وسیلہ ہے،اورارتداد اورپیٹھ پھیرکرالٹے پاؤں واپس ہونے سے محفوظ رکھتا ہے،کیونکہ جو لوگ حملہ کرتے ہیں ان کو دفاع کی ضرورت نہیں ہوتی ہے

اللہ داعیوں کے ساتھ ہے ان کوثابت قدمی عطا کرتا ہے، اور ان کی درستگی فرماتاہے، اور ایک داعی اس ڈاکٹر کے مانند ہے ، جو اپنے تجربہ اور علم کے مطابق مرض سے جنگ کرتا ہے، اور اس کا دوسروں کی طرف سے(اس مرض سے) مقابلہ کرنا دوسروں کی بہ نسبت بعید تر ہےکہ وہ اس میں مبتلا ہو۔

 دسواں:ثابت شدہ عناصر کو اپنانا:

یہ وہ عناصر ہیں جن کی صفات کے بارے میں اللہ کے نبی ﷺ نے ہم کو خبر دیا ہےکہ:

’’لوگوں میں کچھ لوگ خیر کی چابھی ہوتے ہیں، اور کچھ لوگ شر کے تالے‘‘

یہ حدیث حسن ہے، اس کی روایت ابن ماجہ نے انس رضی اللہ عنہ سے مر فوعا (۲۳۷) کی ہے، اور ابن ابی عاصم نے کتاب السنہ (127/۱)میں روایت کیا ہے اور سلسلہ صحیحہ میں (۱۳۳۲) نمبرکے تحت مذکور ہے۔

علماء ،صالحین اور مومن داعیوں کو تلاش کرنا اور ان کے ارد گرد جمع ہونا(یعنی ان کی صحبت وہمنشینی اختیار کرنا)ثبات قدمی کے لیے کافی معاون ہے۔

اور اسلامی تاریخ میں کچھ ایسے فتنے رونما ہوئے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے کچھ (مضبوط اور مرد آہن) لوگوں کے ذریعہ مسلمانوں کو ثابت قدم رکھا۔

اور اسی سے متعلق علی بن مدینی رحمہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے:

’’ارتداد والے دن اللہ رب العزت نے صدیق رضی اللہ عنہ کے ذریعہ اس دین کو عزت بخشا،اورفتنہ والے دن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ذریعہ اس دین کو سربلندی عطا کی۔‘‘

اورابن قیم رحمہ اللہ کے اس قول پرغور کیجئے جسے انہوں نے اپنے استاد شیخ الاسلام کا ثابت قدمی کے بارے میں موقف کو ذکر کیا ہے:

’’جب ہم پر خوف و دہشت سخت ہو جاتا،اورہمارے متعلق بد گمانیاں بڑھ جاتیں، اور زمین اپنی وسعت کے باوجود ہم پرتنگ ہوجاتی، تو ہم آپ کے پاس حاضر ہوتے،اورجب ہم آپ کو دیکھتے اورآپ کی بات کو سنتے تو ہمارے غم دور ہوجاتے،اور ہم کو راحت وآرام،انشراح صدر اور قوت و یقین حاصل ہوتا،لہذا کیا ہی پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو اپنے ملاقات سے پہلے ہی جنت کا مشاہدہ کرادیا اور دنیا میں ہی ان کے لیے اس کےدروازوں کو کھول دیا،اوراس کی خوشبو،تازگی اورباد نسیم سے سرفراز کیا،جس کی طلب وحصول کے لیے کافی محنت ومشقت اور مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔(الوابل الصیب ص ۹۷)

یہاں اسلامی اخوت، ثبات قدمی کی بنیادی مصدر بن کر ظاہر ہوتی ہے،چنانچہ آپ کے نیکوکاربھائی،راہبران اور مربیان آپ کے راستہ کے مددگار ومعاون ہیں، اور مضبوط ستون ہیں جن کی طرف تم پناہ لیتے ہو، چنانچہ جو کچھ ان کے پاس اللہ کی نشانیاں اور حکمت ہیں اس کے ذریعہ وہ آپ کو ثابت قدم رکھتےہیں،لہذا آپ ان کی صحبت کو لازم پکڑئیے،اور ان کے زیر سایہ زندگی بسر کرو، اور علاحدگی و تنہائی سے بچو، ورنہ شیاطین آپ کو ا چک لے جائیں گے، کیونکہ بھیڑیا اسی بکری پر حملہ بولتا ہے جو( ریوڑ سے) الگ تھلگ اور دور ہوتی ہے ۔

 گیارہواں:اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھنا اوریہ کہ مستقبل اسلام کا ہے

استقامت اور ثابت قدمی کی ضرورت اس وقت اور ہوجاتی ہے جب مدد اور نصرت میں تاخیر ہوتی ہے ، تاکہ ثابت قدمی کے تحقق کے بعد قدم تزلزل کا شکار نہ ہوں

اللہ تعالی ٰ کا فرمان ہے:

’’بہت سے نبیوں کے ہم رکاب ہو کر، بہت سے اللہ والے جہاد کر چکے ہیں، انہیں بھی اللہ کی راه میں تکلیفیں پہنچیں لیکن نہ تو انہوں نے ہمت ہاری نہ سست رہے اور نہ دبے، اور اللہ صبر کرنے والوں کو (ہی) چاہتا ہے۔وه یہی کہتے رہے کہ اے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے ہمارے کاموں میں جو بے جا زیادتی ہوئی ہے اسے بھی معاف فرما اور ہمیں ثابت قدمی عطا فرما اور ہمیں کافروں کی قوم پر مدد دے۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کا ثواب بھی دیا اور آخرت کے ثواب کی خوبی بھی عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘[سورہ آل عمران:146-148]

اورجب اللہ کے رسول ﷺ نے اپنےعذاب یافتہ اصحاب کو ثابت قدم رکھنے کا ارادہ کیا، تو انہیں بتلایا کہ عذاب اورآزمائشوں کے اوقات میں مستقبل اسلام کا ہے،توانہوں نےکیا کہا؟

صحیح بخاری میں خباب رضی اللہ عنہ سے مرفوعا آیا ہے:

’’اللہ اس دین کو پورا کر کے رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک جائے گا اور سوائے اللہ کے یا اپنی بکریوں کے سلسلہ میں بھیڑئے کے کسی اور سے نہیں ڈرے گا۔‘‘

اس حدیث کی روایت امام بخاری نے کی ہے، دیکھیے:( فتح الباری165/7)

چنانچہ نئی نسل کو اس بات کی بشارت دینا کہ مستقبل اسلام کا ہے ان کی ثابت قدمی پرتربیت دینے کے لیے (بہت) اہم ہے۔

 بارہواں:باطل کی حقیقت کی معرفت رکھنا اور اس سے دھوکہ نہ کھانا:

اللہ عزوجل کے قول میں:’’تجھے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا فریب میں نہ ڈال دے۔‘‘(سورۂ آل عمران: 196)

مومنوں سے تکلیف وغم کو دور کرنا ہے اوران کو ثابت قدمی عطا کرنا ہے اور اللہ عزوجل کے فرمان میں:

’’اب جھاگ تو ناکاره ہو کر چلا جاتا ہے‘‘[سورہ رعد:17]

عقلمندوں کے لیے عبرت ہے کہ انہیں باطل سے نہیں ڈرنا چاہیے، اور نہ ہی ان کےآگےجکھنا چاہیے۔

قرآن کریم کے ذریعہ اہل باطل کو رسوا کیا گیا ہے، اور ان کے اہداف اور وسائل کو عاری وننگا کیا گیا ہے۔

’’اسی طرح ہم آیات کی تفصیل کرتے رہتے ہیں اور تاکہ مجرمین کا طریقہ ظاہر ہوجائے۔‘‘[الأنعام :55 ]

 تاکہ مسلمان اچانک نہ پکڑ لیے جائیں،اور تاکہ وہ جان سکیں کہ اسلام پر کہاں سے حملہ کیا جارہا ہے

اورہم نے کتنی تحریکوں کوگرتے اورداعیوں کےقدم کو بھٹکتے دیکھا ہے جواپنےدشمنوں سے ناواقف ہونے کےسبب ثبات قدمی کو کھو بیٹھے جب وہ ایسی جگہ سے آئے جہاں ان کا گمان نہیں تھا۔

 تیرہواں:ثبات قدمی پر معاون اخلاق کے زیور سے آراستہ ہونا(جمع کنا):

ان میں سر فہرست صبر ہے،چنانچہ صحیحین میں ہے:

’’صبر سے بہتر وکشادہ عطیہ کسی کو نہیں ملا۔

امام بخاری نے اس حدیث کو کتاب الزکاۃکے باب الاستعفاف عن المسالۃ میں جگہ دی ہے ،اور امام مسلم نے کتاب الزکاۃ کے باب فضل التعفف والصبر میں۔

سب سے بڑھ کر صبر صدمہ اولیٰ (پہلی تکلیف پہنچنے ) کے وقت ہے،اورجب انسا ن کو ایسی چیزلاحق ہوتی ہے جس کی وہ توقع نہ رکھتا ہو،تواسے دھچکا لگتااور پسپائی کا شکارہوجاتا ہے،اور اگر وہ صبروشکیبائی اورشکر کا مظاہرہ نہیں کرتاہے تو وہ استقامت اور ثابت قدمی کو کھو بیٹھتا ہے۔

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کے قول میں غور فرمائیں:

میں نے ایک بوڑھےشخص کودیکھا جس کی عمر تقریبا اسی سال کی تھی،اوروہ جماعت کا محافظ وپابند تھا،چنانچہ اس کے بیٹی کے بچے کا انتقال ہوگیا،تو اس نے کہا: کسی کے لیےمناسب نہیں ہے کہ وہ (اللہ سے)دعا کرے، کیونکہ وہ اس کو قبول نہیں کرتا ہے، پھراس نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ معاند ہے،اس لیے ہمارے کسی بچے کو نہیں چھوڑا( الثبات عند الممات ابن جوزی، ص34)

اللہ تعالیٰ ان کے اس قول سے بہت اونچا اور بلند ہے۔

جب مسلمان جنگ احد میں مصیبت سے دوچار ہوئے،توانہوں نے اس مصیبت کا توقع بھی نہیں کیا تھا،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کا وعدہ کررکھا تھا،اسی لیےاللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت وخونریزی کے ذریعہ بہت اہم سبق سکھایا،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’(کیا بات ہے) کہ جب تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے، تو یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے۔‘‘

 (سورۂ آل عمران: 165)

تو ان کے نفسوں کی طرف سے کیا حاصل ہوا

’’۔۔۔جب تم نے پست ہمتی اختیار کی اور کام میں جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی، اس کے بعد کہ اس نے تمہاری چاہت کی چیز تمہیں دکھا دی، تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور بعض کا اراده آخرت کا تھا۔‘‘[

 چودھواں:نیک اور صالح آدمی کی وصیت

جب مسلمان کسی فتنہ یا مصیبت کا شکارہوتا ہے،اوراس کا رب اس کو آزماتا ہے، تاکہ اس کی تمحیص کرے،اوراستقامت اورثابت قدمی کے اسباب و وسائل میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کونیک اور صالح انسان عطا کرتا ہے جو وعظ ونصیحت اورثابت قدمی کی جانب دعوت دیتا ہے، چنانچہ اس کی باتوں سے اللہ تعالیٰ اس کو فائدہ پہنچاتا ہے، اوراس کی لغزشوں کو درگزر کرتا ہے

اور یہ کلمات اللہ تعالیٰ کے ذکر و اذکار، اس سے ملاقات، اور اس کے جنت اور جہنم کے تذکرہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔

میرے بھائی یہ امام احمد رحمہ اللہ کی سیرت سے متعلق مثالیں ہیں جو (خلق قرآن کے )فتنہ سے دوچارہوئے تاکہ صاف ستھرے ہوکر نکلیں:

’’چنانچہ ان کو زنجیروں سے جکڑ کر مامون کے پاس لایا گیا،اور اس نے اپنے پاس پہنچنے سے پہلے ان کوبہت سخت دھمکی دی تھی،یہاں تک کہ خادم نے امام احمد سے کہا:

’’اے ابو عبد اللہ مجھے یہ بات بہت ناگوار لگی کی مامون نے تلوار کو ایسا سونت رکھا ہے کہ اس سے پہلے ایسا نہیں سونتا تھا،اوروہ اللہ کے رسول ﷺ سے اپنی قرابت کا قسم کھا رہا ہے کہ اگرانہوں نے خلقِ قرآن کا اقرار نہیں کیا تو میں ان کو اپنی اس تلوار سے قتل کردوں گا‘‘۔( البدایۃ والنہایۃ۱/ ۳۳۲)۔

اس موقع کو اہل بصیرت میں سے عقلمندلوگ غنیمت سمجھتے ہیں اوراپنےاماموں کو ثبات قدمی کے کلمات کی نصیحت فرماتےہیں:

چنانچہ علامہ ذہبی کی (السیر:11/238) میں ابوجعفر انباری سےمروی ہے کہ:

’’جب امام احمد کو مامون کے پاس لایا گیا تومجھےخبردی گئی، چنانچہ میں نے دریائے فرات پار کیا،(اورجب میں نے ان کو دیکھا) تووہ ایک صحن میں بیٹھے ہوئے تھے، میں نے ان سے سلام کیا، توانہوں نے کہا:اے ابو جعفر آپ نے کافی زحمت اٹھائی۔ تو میں نے کہا کہ:اے فلاں،آج کے دن آپ ہمارے سردار ہیں اورلوگ آپ کی اقتداء اور پیروی کرتے ہیں، اللہ کی قسم ! اگرآج آپ نےخلقِ قرآن کا اقرارکرلیا ،تو پوری مخلوق اس کا اقرارکرلے گی، اوراگرآج آپ نے اقرارنہیں کیا ،تو مخلوقات میں سے اکثر لوگ اس کا انکار کریں گے،مزید یہ کہ اگراس آدمی نے آپ کو قتل نہیں کیا،تب بھی آپ کومرنا ہی ہے، کیونکہ موت برحق ہے،لہذا آپ اللہ سے ڈریں اور ہرگز(خلقِ قرآن) کا اقرارمت کریں۔چنانچہ امام احمد رونے لگےاورآپ نے فرمایا :ماشاء اللہ ۔ پھر آپ نے کہا:اے ابوجعفر! اس بات کو دھرائیے،چنانچہ میں اس کو دھرایا اور آپ یہی کہہ رہے تھے:ماشاء اللہ۔انتھی‘‘

 امام احمد ؒ نےمامون کی جانب اپنے سفر نامہ کے سیاق میں بیان کیا ہے کہ :

’’ ہم نصف رات کے وقت ایک کشادہ زمین میں تھے، تو ایک آدمی ہمارے پاس آیا اوراس نے دریافت کیا کہ:تم میں سے امام احمد بن حنبل ؒ کوں ہیں، تو اس کو بتایا گیا: فلاں صاحب ، تو اس نے اونٹ والے سے کہا: ذرا ٹہرو، پھر اس نے کہا: اے فلاں ! آ پ پر کوئی حرج نہیں ہے کہ آپ کو یہاں پر قتل کر دیا جائے، اورآپ جنت میں داخل ہو جائیں ، پھر اس آدمی نے کہا : استودعک اللہ ،اور چلتا بنا۔ یا چلا گیا۔ چنانچہ میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا،تو مجھے بتایا گیا کہ: یہ عرب کا ایک آدمی ہے،جو کہ ربیعہ قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے، اور دیہات میں اون کا کام کرتا ہے،اسے جابر بن عامر کہتے ہیں اوراس کا ذکر خیر ہے‘‘۔سير أعلام النبلاء 11/241.

اور البدایہ والنہایہ میں ہےکہ ایک اعرابی نےامام احمد سے کہا:

’’اے فلاں ! بیشک آپ لوگوں سے ملنے والے ہو، لہذاآپ لوگوں کے لئے نحوست کا سبب مت بنئے گا، اور آج کے دن آپ لوگوں کے سردار ہیں، خبردار ! آپ ان کے اس بات کا اقرار مت کیجیے گا جس چیز کا وہ آپ سے اقرار کروانا چاہتے ہیں، اگر آپ نے اقرار کرلیا ، تو جان لیجیے قیامت کے دن بقیہ سارے لوگوں کا بوجھ آپ کو ہی اٹھانا ہوگا، اگر آپ اللہ سے محبت کرتے ہیں، تو آپ اپنے موقف پر صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیجیے، کیونکہ آپ کے اور جنت کے بیچ صرف قتل کا فاصلہ ہے‘‘۔

امام احمد کہتے ہیں کہ:

’’ اور اس (اعرابی) کی بات نے میر ے اس عزم و حوصلہ کو کافی تقویت پہنچائی، جسکی طرف وہ مجھے دعوت دے رہے تھے اور میں اس کو منع کررہا تھا‘‘

 ( البدایۃ والنہایۃ۱/ ۳۳۲)۔

اور ایک روایت میں ہے کہ امام احمدنے فرمایا:

’’ اس معاملہ میں اعرابی کی بات سے زیادہ اثرانداز مجھے کوئی بات نہ لگی جسے اس نے مجھ سے رحبہ طوق میں کی تھی،جو رقۃ اور بغداد کے درمیان دریائے فرات کے ساحل پر واقع ایک شہر ہے، اس نے کہا: اے احمدؒ ! اگر آپ کو حق کے ساتھ قتل کردیا جائے تو آپ کو شہید کا درجہ حاصل ہوگا، اور اگر با حیات رہے تو عزت واحترام کی زندگی گزاریں گے، تو اس (بات) نے میرے دل کو مضبوط اور قوی بنا دیا ‘‘۔(سير أعلام النبلاء 11/241)

امام احمد ؒ،نوجوان محمد بن نوح کی صحبت کے بارے میں بتاتے ہیں جوآپ کے ساتھ فتنہ (خلق قرآن)میں ڈٹے تھے:

 ’’میں نے کسی شخص کو۔اس کے نوعمری اوراس کے علمی قدرو منزلت کے باوجود، محمد بن نوح سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے دین کاپابند اورنگہباں نہیں پایا۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ ان کا خاتمہ خیر کے ساتھ ہوا ہوگا۔ انہوں نے ایک دن مجھ سے کہا کہ:اے ابو عبد اللہ !اللہ، اللہ، آپ میرے جیسے نہیں ہیں،آپ قابل اقتدا شخصیت کے مالک ہیں، مخلوقات نے اپنی گردنوں کو آپ کے سامنے دراز کررکھا ہے،آپ کے اعلیٰ (اخلاق اور خصوصیات کیوجہ سے)، آ پ اللہ کا تقویٰ اختیار کریں، اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں، چنانچہ ان کا انتقال ہوا،اور میں نے ان کے جنازہ کی نماز پڑھائی اوران کو دفن کیا‘‘۔( سير أعلام النبلاء 11/242)

یہی نہیں بلکہ وہ قیدی جن کو امام احمد ؒاپنے قید کی حالت میں نماز پڑھاتے تھے، انہوں نے بھی استقامت اور ثابت قدم رہنے میں آپ کی مدد کی

 ایک مرتبہ امام احمد نے قید میں فرمایا:

’’مجھے نہ قید ہونےکی کوئی پرواہ ہےـ یہ(قید خانہ اور میرا منزل ایک ہی طرح ہے)ـاور نہ ہی تلوار کے ذریعہ قتل کیے جانے کا خوف ہے،البتہ مجھے کوڑےکے فتنہ کا ڈر ہے۔ ‘‘چنانچہ اسے کچھ قیدیوں نے سنا تو کہا :اے ابوعبد اللہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے، وہ تو صرف دو کوڑوں کی بات ہے، پھر اس کے بعد آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں چلے گا کہ بقیہ کہاں پر لگ رہا ہے، چنانچہ اس سے آپ کے غم اور تکلیف دور ہو گئے۔ (سير أعلام النبلاء 11/240)

لہذااے میرے محترم بھائی!نیک اورصالح لوگوں سے وصیت وخیرخواہی طلب کرنے کی عادت ڈالو:اورجب تمہارے سامنے اسے بیان کیا جائے تو اس کو مضبوطی سے گانٹھ ڈال لو۔

۔سفر شروع کرنے سے پہلے اس(وصیت) کو طلب کرواگر کسی چیز میں واقع ہونے کا خدشہ ہو

۔ابتلاء اورآزمائش کے دوران، یا کسی متوقع امتحان سے پہلےاسے طلب کرو

۔اس کواس وقت طلب کرو جب آپ کو کوئی منصب عطا کیا گیا ہو یا آپ کو کسی مال یا جائیداد کا وارث بنا یا گیا ہو

اپنے نفس کو ثابت قدم رکھیئےاوراپنےعلاوہ لوگوں کوبھی ثابت قدم رکھیں، اوراللہ تعالیٰ ہی مومنوں کا ولی اور مددگار ہے

 پندرہواں:جنت کی نعمت اور جہنم کے عذاب کے بارے میں غورو فکر کرنا اور موت کویاد کرنا

جنت فرحت وشادمانی کی جگہ،رنج وغم کا مداوی اورمومن سیاحوں کی جائے قیام ہے،اور نفس فطری طور پر قربانی، عمل (محنت ومشقت) اوراستقامت و ثابت قدمی کےلیے تیار نہیں ہوتی مگراس چیز کے عوض جو اس کے لئے مشکلات اور دشواریوں کو آسان بنا دے،اوراس کے لیے اس راستہ میں جو پریشانیاں اوررکاوٹیں حائل ہوتی ہیں ان سب کو ہمواراوربرابر کردے۔

 پس جس شخص کواجر وثواب کاعلم ہوتا ہے تو اس کے لیے کام کی مشقت آسان ہوجاتی ہے، اوروہ یہ جانتا ہے کہ اگراس نے استقامت اور ثابت قدمی نہیں اختیار کیا تو عنقریب وہ اس جنت کو کھو دے گا جس کی چوڑائی زمین وآسمان کے برابر ہے، مزید اینکہ نفس اس چیز کی حاجت مند ہے جو اسے زمینی مٹی سے اٹھا کرعالم بالا تک کھینچ کر پہنچادے۔

اور نبی ﷺ اپنے صحابۂ کرام کو استقامت اور ثابت قدمی دلانے کےلیےجنت کے ذکر کا استعمال کرتے تھے

چنانچہ حسن صحیح حدیث میں ہےکہ’’ اللہ کے رسول ﷺ یاسر ، عمار اور ام عمار کے پاس سے گزرے،درآں حالانکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے خاطر سزا دی جارہی تھی، تو آ پ نے ان سے فرمایا:

’’اے آل یاسر! صبر کرو، کیونکہ تمہارا وعدہ کی جگہجنت ہے‘‘

اسے حاکم نے روایت کیا ہے (۳۸۳/۳)

 اور یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس کی تخریج کے لیے دیکھیں: علامہ البانی کی تحقیق کردہ فقہ السیرہ ص ۱۰۳۔

 اسی طرح آپﷺ انصار کو کہتےتھے:

’’میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔‘‘متفق علیہ

اور اسی طرح جو قبر،حشر، حساب، میزان ، پل صراط اور آخرت کے بقیہ سارے منازل میں فریقین کی حالت کے بارے میں غوروفکر کرے گا۔

 اوراسی طرح موت کو یاد کرنے سے مسلمان ہلاکت سے محفوظ رہتاہے، اوراس کو اللہ تعالیٰ کے حدود سے تجاوز کرنے سے روکتی ہے،لہذا وہ اس سے آگے نہیں بڑھتا ہے،کیونکہ جب اس کواس بات کا علم ہوجاتا ہے کہ موت اس کے جوتے کے تسمہ سے بھی زیادہ قریب ہے،اوراس کا وقت چند سکنڈوں کے بعد ہے، تو اس کا نفس کیسے اس کو اس بات پر آمادہ کرسکتا ہے کہ وہ (صراط مستقیم ) سے ہٹ جائے، یا انحراف میں تجاوز کرے

اسی وجہ سےآپ ﷺ نے فرمایا:

’’ تم لذتوں کو ختم کرنے والی چیز (موت)کو کثرت سے یاد کرو‘‘۔اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے(۲/۵۰)، اور((ارواء الغلیل:3/145) میں اس کوصحیح قرار دیا گیا ہے

 استقامت اور ثابت قدمی کی جگہیں

استقامت وثابت قدمی کی بہت جگہیں ہیں جو تفصیل طلب ہیں،لیکن ہم یہاں بطور اختصار ان میں سے چند کا تذکرہ کررہے ہیں:

 پہلا:فتنوں کے وقت ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا

وہ الٹ پھیر اور تبدیلیاں جو دلوں کو لاحق ہوتی ہیں اس کا سبب فتنے ہیں،اور جب دل خوشیوں اور تکلیفوں کے فتنوں سے دوچار ہوتے ہیں ، تو صرف اہل بصیرت جن کے قلوب ایمان سے معمور ہوتے ہیں وہی ثابت قدم رہ پاتے ہیں۔

 فتنوں کے انواع و اقسام

 مال کا فتنہ:

’’ان میں وه بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وه ہمیں اپنے فضل سے مال دے گا تو ہم ضرور صدقہ وخیرات کریں گے اور پکی طرح نیکو کاروں میں ہو جائیں گے۔

لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا تو یہ اس میں بخیلی کرنے لگے اور ٹال مٹول کرکے منھ موڑ لیا۔‘‘

 [سورہ توبۃ:75،76]

 جاہ و حشمت کا فتنہ:

’’اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے ہیں (رضامندی چاہتے ہیں)، خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جا۔ دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے۔‘‘ [سورہ الکہف:28]

مذکورہ بالا دونوں فتنوں کی خطرناکی کے بارےمیں نبی ﷺ کا ارشاد ہے:

’’مال وشرف کے تیئں انسان کی حرص و طمع سے اس کے دین کی تباہی ان دو بھوکے بھیڑیوں سے کہیں زیادہ ہے جن کو کسی بکری کی ریوڑ میں بھیج دیا گیا ہو‘‘۔

امام احمد نے اس کی روایت مسند (3/460) میں کی ہے، اور یہ صحیح الجامع (5496)میں بھی ہے

اس کا مفہوم یہ ہے کہ مال وشرف کے تئیں انسان کی حرص وطمع اس کےدین کو ان دو بھوکے بھیڑیوں سے زیادہ برباد کرنے والی ہے جو کسی بکری کےریوڑ میں بھیجےگئےہوں۔

 بیوی کا فتنہ:

’’اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں پس ان سے ہوشیار رہنا۔‘‘[سورہ تغابن:14]

 اولاد کا فتنہ:

’’اولاد بزدلی، بخل اور رنج و غم کا سبب ہوتی ہے ‘‘

اسےابو یعلیٰ نے( ۲/۳۰۵) میں روایت کیا ہےاور اس کے کچھ شواہد ہیں، اوریہ صحیح الجامع (۷۰۳۷) میں بھی ہے

ظلم و زیادتی اور سرکشی کا فتنہ : اور اس کی بہترین مثال اللہ عزوجل کےاس فرمان میں ہے:

’’(کہ) خندقوں والے ہلاک کیے گئے‘‘

وه ایک آگ تھی ایندھن والی،جب کہ وه لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے

 ۔ اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے۔

یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناه کا) بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وه اللہ غالب ﻻئق حمد کی ذات پر ایمان لائے تھے۔

جس کے لئے آسمان وزمین کا ملک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے ہر چیز ‘‘ [سورۂ بروج: 4-9]

اور امام بخاری ؒنے خباب بن الارت رضی اللہ عنہ سے روایت کیاہے

وہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اپنا حال زار بیان کیا۔ نبی کریم ﷺاس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے

 تو آپ ﷺ نے فرمایا:

تم سے پہلی امتوں کے لوگ (جو ایمان لائے) ان کا تو یہ حال ہوا کہ ان میں سے کسی کو پکڑ لیا جاتا اور اس کے لیے زمین میں گڑھا کھود کر اس میں اسے ڈال دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے اس کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دیے جاتے؛ لیکن یہ آزمائشیں بھی اسے اپنے دین سے ہٹا نہیں سکتی تھیں۔

اس حدیث کی روایت امام بخاری نے کی ہے، دیکھیے:( فتح الباری315/12)

 دجال کا فتنہ:

یہ زندگی کا سب سے بڑا فتنہ ہے

’’ اے لوگو!جب سے اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو پیدا کیا ہے اس وقت سے دجال کے فتنے سے بڑھ کرروئے زمین پر کوئی فتنہ نہیں ہے،اے اللہ کے بندو! اےلوگو!:’’تم ثابت قدم رہو،بے شک میں تمہیں اس کا ایسا وصف بیان کروں گا کہ اس جیسا وصف مجھ سے پہلے کسی اور نبی نے نہ بیان کیا ہوگا...‘‘۔

اسےابن ماجہ نے (۲/۱۳۵۹) میں روایت کیا ہے ، دیکھئے صحیح الجامع رقم:(۷۷۵۲)

فتنوں کے سامنے دلوں کی ثبات قدمی وعدم ثبات کے مراحل کے متعلق نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ:

’’فتنے دلوں پر ایک کے بعد ایک ایسے آئیں گے جیسے چٹائی کی تیلیاں ایک کے بعد ایک ہوتی ہیں۔ پھر جس دل میں فتنہ رچ جائے گا، اس میں ایک کالا داغ پیدا ہو گا اورجو دل اس کو نہ مانے گا تو اس میں ایک سفید نورانی دھبہ ہو گا، یہاں تک کہ اسی طرح کالےاورسفید دھبے ہوتے ہوتے دو قسم کے دل ہو جائیں گے۔ ایک تو خالص سفید دل چکنے پتھر کی طرح کہ آسمان وزمین کے قائم رہنے تک اسے کوئی فتنہ نقصان نہ پہنچائے گا۔ دوسرے کالا سفیدی مائل یا الٹے کوزے کی طرح جونہ کسی اچھی بات کو اچھی سمجھے گا نہ بری بات کو بری، مگر وہی جو اس کے دل میں بیٹھ جائے

اس حدیث کی روایت امام احمد نے (5/386)، اور مسلم (۱۲۸/۱) نے کی ہے اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

اورعرضَ الحَصیر کا مطلب: دلوں میں فتنوں کی تاثیر اس چٹائی کی تاثیر کے مانند ہوتی ہے جو اس پر سونے والے کے پیٹھ پر نشان چھوڑدیتی ہے۔

اور’’مُرْبَادًّا کا مفہوم:’’وہ خالص سفیدی جس پر سیاہ رنگ کی آ میزش ہو۔اورمُجَخِّيًا کا مطلب:’’جومنقلب ومنکوس یعنی اوندھا ہوا ہو‘‘

 دوسرا:جہاد میں استقامت اور ثابت قدمی

’’اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو۔‘‘[سورہ انفال:45]

اور ہمارے دین میں کبیرہ (گناہ ) میں سے میدانِ جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا(بھی) ہے، اور آپﷺ کا یہ حال تھا کہ جنگِ خندق میں اپنی پیٹھ پر مٹی اٹھاتے ہوئے مومنوں کے ساتھ یہ دھرا رہے تھے:

’’اور جنگ کے وقت ہم کو ثابت قدم رکھ‘‘

)اسے بخاری نے کتا ب الغزوات،باب:غزوۃ الخندق میں روایت کیا ہے،دیکھئے: الفتح7/399 (

 تیسرا:منہج پر استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا

’’مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔‘‘[سورہ احزاب:۲۳]

ان کے اصول و مبادی ان کی جانوں سے بھی زیادہ قیمتی ہیں،اور ایسا اصرار ہے جو تنازل کو نہیں جانتا

 چوتھا:موت کے وقت ثبات قدمی

 جہاں تک رہی بات کافراورفاجر لوگوں کی،تو وہ لوگ مشکل اوقات میں استقامت اورثابت قدمی سے محروم ہوتے ہیں،لہذا موت کے وقت وہ لوگ کلمۂ شہادت کے اقرارکی بھی استطاعت نہیں رکھتے

 اور یہ بر ے خاتمہ کی سب سے واضح دلیل اور نشانی ہے، جیسا کہ ایک شخص سےاس کی موت کے وقت کہا گیا کہ:۔

 لاالہ الا اللہ کہو تووہ اپنا سردائیں اور بائیں ہلاکر اس قول کا انکار کردیتا ہے

اوردوسرا اپنے موت کے وقت کہتاہے :

’’ یہ ٹکڑا اچھا ہے، اور اس کا خریدنا سستا ہے‘‘۔

اور تیسرا شطرنج کے پارٹ کےناموں کا ذکر کرتا ہے،

اور چوتھا الحان کے ساتھ سنگیت اور موسیقی کے الفاظ کو گنگناتا ہے یا معشوق کا ذکر کرتاہے۔

یہ تمام چیزیں اس لئے ہیں کیونکہ اس طرح کے امور نے ان کو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ذکر و اذکار سے غافل کر رکھا ہے۔

اور ان میں سے بعض لوگوں کو سیاہ رو، بدبودار دیکھا گیا ہے یا ان کے جانوں کے نکلتے وقت انہیں قبلہ رخ سے ہٹا ہوا پایا گیا ہے،ولا حول ولا قوۃ الا با للہ۔

جہاں تک رہی بات صالح اور سنت کے پیروں کاروں کی،تو اللہ تعالیٰ ان کو موت کے وقت ثابت قدمی کی توفیق دیتا ہے، چنانچہ وہ لوگ شہادتین کے اقرار کرنے پر قادر ہوتے ہیں۔

اور ایسے لوگوں کے بارے میں دیکھا جاتا ہے کہ ان کی روح کے پرواز ہوتے وقت ان کے چہرے کھلے ہوتے ہیں،یاان سےپاکیزہ خوشبو پھوٹتی ہے اور ایک قسم کی بشارت ہوتی ہے۔

یہ ان لوگوں میں سے ایک شخص کی مثال ہے جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نےموت کے وقت ثابت قدمی عطافرمائی،یہ ابو زرعہ رازی ہیں، جو اہل حدیث کے ایک مشہور امام ہیں، اور یہ ان کے قصہ کا بیان ہے:

ابو جعفر محمد بن علی وراق ابو زرعہ کہتے ہیں کہ:

’’ہم لوگ ابو زرعہ کے پا س’’بما شھران‘‘میں حاضر ہوئے،جوریّ کے گاؤوں میں سےایک گاؤں ہے،اور وہ جانکنی کی حالت میں تھے،ابو حاتم،ابن وارہ، منذر بن شاذان وغیرہ لوگ ان کے پاس موجود تھے

تو ان لوگوں نے تلقین والی حدیث کا تذکرہ کیا:

’’تم اپنے بستر مرگ پر لیٹے شخص کو لاالہ الا اللہ پڑھنے کی تلقین کرو‘‘

لیکن انہوں نے ابو زرعہ سے اس کی تلقین کرنے میں شرم محسوس کی، پھرانہوں نے کہا کہ:چلو ہم حدیث بیان کرتے ہیں

چنانچہ ابن وارہ نے کہا:

ہم سےابوعاصم نےبیان کیا،ان سےعبدالحمید بن جعفرنے،ان سے صالح نے بیان کیا،پھر وہ ابن ابی کہنےلگے، لیکن وہ اس سےآگے نہ بڑھ سکے

چنانچہ ابو حاتم نے کہا :

 ہم سے بندار نے بیان کیا،ان سے ابو عاصم نے،ان سے عبد الحمید بن جعفر نے ، پھر ان سے صالح نے ، اور آگے نہ بڑھ سکے،اور باقی لوگ خاموش رہے

چنانچہ ابو زرعہ نے اپنے جانکنی کی حالت میں رہنے کے باوجود اپنی دونوں آنکھوں کو کھول کرکہا:

ہم سےبندار نےبیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سےعبد الحمید نےبیان کیا، ان سے صالح ابن ابو غریب نے،ان سےکثیربن مرہ نے،انہوں نے معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 ’’ جس کا آخری کلام لاالہ الا اللہ ہو گا ، وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘

اور اسی کلمہ پر ان کی روح پرواز کر گئی، اللہ ان پر رحم کرے

(سیر اعلام النبلاء 13/76-85)

اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیئے گئے ہو۔‘‘ [سورہ فصّلت:۳۰]

اے اللہ! ہمیں ان (نیک لوگوں) میں سے بنا،

 اے اللہ! ہم تجھ سے تمام معاملات میں استقامت اور ثابت قدمی کا سوال کرتے ہیں، اور ہدایت پر مضبوطی سے جمے رہنے کا سوال کرتے ہیں،اورہماری آخری دعا یہ ہے کہ ساری تعریفیں صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔