بچّوں کو توحید کی تعلیم دیں


تالیف: شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب۔رحمۃ اللہ علیہ۔

ترجمہ: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنیؔ

مراجعہ: جمشید عالم عبد السلام سلفیؔ،

 عزیزالرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

نبذة مختصرة عن الكتاب:

تعليم الصّبيان التّوحيد:رسالة نافعة مترجمة إلى اللغة الأردية في بيان ما يجب على الإنسان أن يعلّم الصبيان قبل تعلّمهم القرآن، حتى يصير إنسانًا كاملًا على فطرة الإسلام، وموحدًا جيدًا على طريقة الإيمان، وقد رتبها المؤلف - رحمه الله - على طريقة سؤال وجواب.

 عرضِ مُترجم


الحمد لله وكفىٰ وسلامٌ على عباده الذين اصطفىٰ، أمابعد:

محترم قارئین: توحید دین کی اساس وبنیادہے،اوراسی کی درستگی پر دنیوی اوراخروی سعادت کاانحصارہے،اسی لیے تمام انبیائے کرام نے توحید سے ہی اپنی دعوت کا آغاز کیا اورشرک سے بچنے کا حکم دیا۔

اوراولاد انسان کے لیےایک بیش بہا نعمت ہے،لہذاانسان پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ پیدائش ہی سے ان کی صحیح اسلامی خطوط پر تربیت کرے۔

زیرمطالعہ کتابچہ(تعلیم الصّبیان التوحید)’’بچّوں کوتوحید کی تعلیم دیں‘‘ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہابؒ کی عربی تالیف ہےجس میں انسان پر یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو قرآن سکھلانے سے پہلے توحید کی تعلیم دیں ،تاکہ اسلامی فطرت کے مطابق وہ کامل انسان بن سکیں،اور ایمانی راستہ کو اختیار کرکے بہترین موحد بن سکیں،اوراسے سوال وجواب کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے ۔ اسلام ہاؤس ڈاٹ کام کے شعبہ ٔ ترجمہ وتالیف نے افادۂ عام کی خاطر اسےاردو قالَب میں ڈھالاہے،حتیٰ الامکان ترجمہ کو درست ومعیاری بنانے کی کوشش کی گئی ہے،اور مؤلّف کے مقصود کا خاص خیال رکھا گیا ہے،اور آسان، عام فہم زبان اور شُستہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے تاکہ عام قارئین کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہو،مگرکمال صرف اللہ عزوجل کی ذات کا خاصہ ہے، لہذا کسی مقام پر اگر کوئی سَقم نظر آئے تو ازراہ کرم خاکسار کو مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ اس کی اصلاح کی جاسکے۔

ربّ کریم سے دعا ہے کہ اس کتاب کو لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے،اس کے نفع کو عام کرے، والدین اور جملہ اساتذۂ کرام کے لئے مغفرت وسامانِ آخرت بنائے، اور کتاب کے مولّف، مترجم،مراجع ،ناشراور تمام معاونین کی خدمات کو قبول کرکے ان سب کے حق میں صدقۂ جاریہ بنائے۔آمین۔ وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم۔ (طالبِ دُعا:[email protected])

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 مقدّمہ

تمام تعریفات دونوں جہان کے رب کے لیے ہیں،اور درود وسلام ہو رسولوں کے سردار،ان کے آل اوران کے تمام اصحاب پر۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

اس مفید رسالہ ([1])میں انسان پر یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو قرآن سکھلانے سے پہلے توحید کی تعلیم دیں ،تاکہ اسلامی فطرت کے مطابق وہ کامل انسان بن سکیں،اور ایمانی راستہ کو اختیار کرکے بہترین موحد بن سکیں،اوراسے سوال وجواب کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے جودرج ذیل ہیں:

 بچّوں کو توحید کی تعلیم دیں

س۱۔جب تم سے کہا جائے کہ : تمہارا رب کون ہے؟

ج۔توکہو: میرا رب اللہ ہے۔

س۲۔اوررب کا کیا معنیٰ ہے؟

ج۔تو کہو: وہ مالک ومعبود اورمددگار اللہ ہے،جوتمام مخلوق کے لیے الوہیت وعبودیت کاحق رکھنے والا ہے۔

س۳۔جب تم سے کہا جائے کہ:تم نے اپنے رب کو کیسے پہنچانا؟

ج۔توکہو:میں نے اس کواس کی نشانیوں اوراس کی مخلوقات کے ذریعہ جانا،اوراس کی نشانیوں میں سے: شب وروز اور شمس وقمر ہیں۔اوراس کی مخلوقات میں سے: آسمان وزمین،اوران کے اندر کی چیزیں ہیں۔اوراس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

{إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ }

’’بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر قائم ہوا۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے ([2])۔‘‘

س۴: اگر تم سے کہا جائے کہ: تمہاری پیدائش کا کیا مقصد ہے؟

ج؛توکہو:اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرنا،اوراسکے اوامرکی بجا آوری کے ساتھ ساتھ اس کے نواہی سے اجتناب کرکے اس کی اطاعت کرنا ہے ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ }

’’ میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں([3]) ۔‘‘اورجیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ }

’’ یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا ([4])۔‘‘

اورشرک کہتے ہیں کہ: اللہ عزوجل کا کوئی شریک و ساجھی بنالیا جائے جسے پکارا جائے،اور اس سے امید وابستہ کی جائے، یااس سے خوف کھایا جائے، یااسی پر اعتماد وبھروسہ کیاجائے، یا اللہ کے سوا اسی کی طرف رغبت کی جائے،نیز عبادات کی دیگراقسام وغیرہ اس کے لیے بجا لایا جائے۔

بےشک عبادت :ایک ایسا جامع نام ہے جو ان تمام ظاہری وباطنی اقوال و افعال کوشامل ہے جنہیں اللہ پسند فرمائے اورا ن سے راضی ہو۔اورعبادت میں سے دعا (بھی)ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{ وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا }

’’ اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو ([5]) ۔‘‘

اوراس بات کی دلیل کہ غیراللہ کو پکارنا کفرہے،اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

{ وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ }

’’ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بےشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں ([6]) ۔‘‘

اوریہ اس لیے کیوں کہ دعا عبادات کی عظیم ترین قسموں میں سے ہے،جیسا کہ رب کریم کا فرمان ہے:

{وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ }

’’ اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے ([7])۔‘‘

اور’’سنن ([8])‘‘ میں انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے:

(الدُّعاء مُخّ العِبَادۃِ)

’’دعا عبادت کا مغز(اصل) ہے۔‘‘

اوراللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر سب سے پہلے اللہ پرایمان لانے اورطاغوت کا انکار کرنے کو ضروری قراردیا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ} ’’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو ([9])۔‘‘

طاغوت:اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جائے اسے طاغوت کہتے ہیں۔ پس شیطان، کاہن،نجومی اورجوبھی اللہ کی نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کرے،اورہروہ متبوع جس کی حق کے علاوہ پیروی کی جائے طاغوت ہے۔

 علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

طاغوت: ہروہ معبود،یامتبوع یا مطاع ہے، بندہ جس کو حد سے آگے بڑھا دے۔‘‘

س۵۔جب تم سے کہا جائے:تمہارا دین کیا ہے؟

ج۔توکہو:میرا دین اسلام ہے۔

اسلام کا مطلب: توحید کے ذریعہ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد وحوالے کردینا،اورطاعت و فرماں برداری کے ذریعہ اس کے تابع ومطیع ہوجانا،نیز مسلمانوں سے دوستی رکھنا اورمشرکین سے دشمنی کرنا۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے: { إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلاَمُ }

’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے ([10])۔‘‘ اورفرمایا:

{ وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ }

’’ جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا ([11])۔‘‘

اورنبیﷺ سے صحیح طورسے ثابت ہے (اسلام یہ ہے کہ):

 (أنْ تَشْهَدَ أن لا إله إلا اللهُ وأنَّ محمداً رسولُ اللهِ ، وتُقيِمَ الصَّلاَةَ، وتُؤْتِيَ الزكاةَ،وتصومَ رمضان،وتحُجَّ البيتَ إن اسْتطعْتَ إليه سَبِلاً )

’’تم اس بات کی شہادت دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی(برحق) معبود نہیں ہے،اورمحمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں،اورنماز قائم کرو،اورزکوٰۃ دو،اوررمضان کا روزہ رکھو، اوراستطاعت ہونے پر بیت اللہ کا حج کرو۔‘‘

لاالہ الا اللہ کا مطلب: یعنی اللہ کے اللہ کوئی سچا معبود نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاء مِّمَّا تَعْبُدُونَ إِلاَّ الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ}

’’اور جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں ([12])۔‘‘

اورنماز وزکوٰۃ کی دلیل اللہ کا یہ فرمان ہے:

{وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ }

’’ انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا ([13])۔‘‘

اس آیت کو توحیداور شرک سے براءت کے ذریعہ آغاز کیا ہے:پس سب سے بڑی بات جس کا حکم دیا توحید ہے،اورسب سے بڑی چیز جس سے منع کیا شرک ہے،اورنماز قائم کرنے اورزکاۃ ادا کرنے کا حکم دیا، اوریہی دین کے بڑے امور ہیں،اس کے بعد جواحکام وشرائع ہیں وہ سب انہیں کے تابع ہیں۔

روزے کی فرضیت کی دلیل: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ ۚ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ◌ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّـهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّـهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ}

’’ اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو گنتی کے چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وه اسی کے لئے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو۔ گنتی کے چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وه اسی کے لئے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو۔ ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو ([14]) ۔‘‘

اور فرضیتِ حج کی دلیل :

 اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

{ وَلِلّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ }

’’ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا گیا ہے ([15])۔‘‘

اورایمان کے چھ اصول ہیں:

اللہ پر ،اس کے فرشتوں پر،اس کی کتابوں پر،اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لانا ہے۔

اور اس کی دلیل ’’صحیحین‘‘ کے اندر عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے ([16]

 س۶۔جب تم سے کہا جائے کہ :تمہارا نبی کون ہے؟

ج۔توکہو: ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد منا ف ہیں۔

اللہ نےآپ کو قریش سے چنا ،اوریہ اسماعیل کے اولاد میں سے نہایت پسندیدہ تھے، آپ کو گورے کالے (یعنی سارے لوگوں ) کی طرف مبعوث فرمایا، اورآپ پر کتاب وحکمت نازل کی،آپ لوگوں کو خالص عبادتِ الہی کی طرف بلاتے تھے،اوراللہ کے علاوہ: بتوں، پتھروں ،درختوں،نبیوں،صالحین اورفرشتوں وغیرہ میں سے جن کی وہ لوگ پوجا کرتے تھے اس سے منع کرتے تھے۔

چناں چہ آپ ﷺ نے شرک کے چھوڑنے کی دعوت دی اوراس کے نہ کرنے پر ان سے جنگ کیا،اورانہیں اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرنے کا حکم دیا ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا}

’’آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا([17]) ۔‘‘

نیز فرمانِ باری ہے:

{ قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي }

’’ کہہ دیجئے! کہ میں تو خالص کر کے صرف اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں ([18]) ۔‘‘

نیز ارشاد الہی ہے:

{ قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ وَلا أُشْرِكَ بِهِ إِلَيْهِ أَدْعُو وَإِلَيْهِ مَآبِ }

’’آپ اعلان کر دیجئے کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ شریک نہ کروں، میں اسی کی طرف بلا رہا ہوں اور اسی کی جانب میرا لوٹنا ہے([19])۔‘‘

اورفرمانِ الہی ہے:

{قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُن مِّنْ الشَّاكِرِينَ}

’’ آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا ([20])۔‘‘

اورکفرسے نجات دینے والے ایمانی اصول میں سے: بعث ونشر(موت کے بعد ووبارہ اٹھایاجانااوراکھٹا کیا جانا)،حساب وکتاب، اور جنت وجہنم کے سچ ہونے پر ایمان ویقین رکھنا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:{مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى}

’’ اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب کو نکال کھڑا کریں گے ([21])۔‘‘

نیزاللہ کا ارشاد ہے:{وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَئِذَا كُنَّا تُرَابًا أَئِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمْ وَأُوْلَئِكَ الأَغْلاَلُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَأُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدونَ}

’’اگر تجھے تعجب ہو تو واقعی ان کا یہ کہنا عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے۔ تو کیا ہم نئی پیدائش میں ہوں گے؟ یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی ہیں جو جہنم کے رہنے والے ہیں جو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ([22])۔‘‘

آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس شخص نے بعث ونشر کا انکار کیا تو اس نے ایسا کفرکیا جو اس کے لیے ہمیشگی کی جہنم واجب کردے گا۔ اللہ ہمیں کفر اوراعمالِ کفر سے محفوظ رکھے۔

چناں چہ یہ آیتیں اس چیز کے بیان کو متضمن ہیں جس کے ذریعہ نبیﷺ مبعوت کیے گئے تھے یعنی اللہ کے لیے عبادت کوخالص کرنا،اورغیراللہ کی عبادت سے منع کرنا اورعبادت کو صرف اللہ کے لیے مخصوص کرنا۔

اوریہی آپﷺ کادین ہے جس کی طرف لوگوں کو بلایا،اوراس کے لیے جہاد کیا،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: { وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّه }

’’اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیده نہ رہے۔ اور دین اللہ ہی کا ہو جائے پھر اگر یہ باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان اعمال کو خوب دیکھتا ہے ([23])۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو چالیسویں سال کی ابتدا میں مبعوث فرمایا،چناں چہ آپ نے تقریبا دس سال تک اخلاص کی طرف دعوت دی،اوراللہ کے ماسوا عبادت سے روکا، پھرآسمان کی طرف معراج ہوا،اوروہیں پربغیرکسی واسطہ کےاللہ کے ذریعہ پنج وقتہ نمازیں فرض کی گئیں،پھرہجرت کا حکم آیا اورمدینہ منورہ کی طرف ہجرت کیے،اورجہاد کا حکم دیا گیا ،چناں چہ دس سال تک اللہ کی راہ میں حقیقی طور سے جہاد کیا یہاں تک کہ لوگ دین میں فوج درفوج داخل ہوگئے،اورجب اللہ کے فضل سے تریسٹھ برس مکمل ہوا تو دین پورا ہوگیا ،اوراللہ کی طرف سے آپﷺ کی روح کو قبض کرنے کی خبرپہنچ گئی۔

اور رسولوں میں سب سے پہلے نوح علیہ السلام ہیں،اوران میں سب سے آخر محمدﷺ ہیں،جن کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ}

’’ یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی ([24])۔‘‘

اوراللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ }

’’ محمد(ﷺ) صرف رسول ہی ہیں ([25])۔‘‘

 نیزاللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{ مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا }

’’(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے ([26])۔‘‘

اور رسولوں میں سب سے افضل :ہمارے نبی محمدﷺ ہیں، اورانبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے بہتر انسان: ابوبکر،عمر،عثمانؓ اور علی رضی اللہ عنہم ہیں،اللہ ان تمام سے راضی وخوش ہو۔

اور’’بہترصدی میری صدی ہے،پھران کے بعدکی، اور پھران کے بعد لوگوں کی ہے۔‘‘

اور عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے اور دجّال کو قتل کریں گے۔

 اور تمام تعریفات دونوں جہان کے رب کے لیے ہیں۔

وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم۔



([1])ہم نے اس رسالہ کی طباعت میں ’’دارالہجرۃ‘‘سے شائع شدہ نسخہ پر اعتماد کیا ہے،جس کی تحقیق:محمد حسین عفیفی  اور عمربن غرامہ  العمروی۔  حفظہما اللہ ۔نے کی ہے، اللہ انہیں جزائے خیردے،ہم نے  انہی کے واسطہ سے اس رسالہ  کو جانا ہے(شعبئہ تحقیق ،دارالحرمین)۔ (اور اسی رسالہ کو سامنے رکھ کر ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ مترجم)

([2])[ الأعراف:54 ].

([3])[الذاريات:56].

([4])[ المائدة:72 ].

([5])[الجن:18].

([6])[ المؤمنون:117].

([7])[غافر:60].

([8])اس لفظ سے صرف ترمذی نےروایت کیا ہے اوراسے ضعیف کہا ہے(۲۲۳۴)۔

([9])[النحل:36].

([10])[آل عمران:19]

([11])[آل عمران:85].

([12])[الزخرف: 26-28].

([13])[البينة:5].

([14])[البقرة:183-185].

([15])[آل عمران:97].

([16])جس کی ابتدا  یوں ہے: (ایک ایسا شخص نمودارہوا جو بہت سفید کپڑے میں تھا)

([17])[الجن:20].

([18])[الزمر:14].

([19])[الرعد:36].

([20])[الزمر:64-66].

([21])[طه:55].

([22])[الرعد:5].

([23][الأنفال:39].

([24])[النساء:163].

([25])[آل عمران:144].

([26])[الأحزاب:40].