سُنّت نبوی پرعمل اوربدعت

 سے پرہیزواجب ہے


تالیف:سماحۃ الشیخ عبد العزیزبن عبد اللہ بن بازؒ

ترجمہ: محمد خالد قاسمی۔حفظہ اللہ۔

مراجعہ: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنیؔ

طباعت ونشر: شعبۂ مطبوعات ونشر

وزارت اسلامی امور واوقاف و دعوت وارشاد

مملکت سعودی عرب -۱۴۲۱ھ

 نبذة تعريفية عن الكتاب:

كتاب مترجم إلى اللغة الأردية، يتحدّث باختصار عن ضرورة الالتزام بالسنّة النبوية فيما يقوم به المؤمن من الأعمال، وتحذّر في الوقت عينه من البدع ومغبّتها الوخيمة.وأصل هذا المقال يركز بشكل واضح على موضوع إقامة الاحتفال بمولد الرسول صلى الله عليه وسلم، وجعله منطلقا للحديث عن عقيدة المملكة وقيادتها.

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

  مقدّمہ

الحمد لله الذي أكمل لنا الدين، وأتمّ علينا النعمة، ورضي لنا الإسلام دينا، والصّلاة والسلام على عبده ورسوله الداعي إلى طاعة ربه، المحذّر عن الغلو والبدع والمعاصي، صلى الله عليه وعلى آله وصحبه ومن سار على نهجه واتبع هداه إلى يوم الدين وأما بعد:

ہندوستان کے صوبہ اتر پردیش میں واقع صنعتی شہر کانپور سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ’’ادارت‘‘کے پہلے صفحہ پر شائع شدہ ایک مضمون میرے علم میں آیا، جس میں سعودی عرب اور اس کی اپنے اسلامی عقیدے سے مضبوط وابستگی اور بدعات کے خلاف اس کی جنگ کو پروپگنڈہ اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس میں اسلاف کے اس عقیدے کو، جس پر سعودی حکومت گامزن ہے ، یہ کہہ کر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ سنی عقیدہ نہیں ہے۔اس طرح مقالہ نگار نے ایک طرف بدعات وخرافات کی ہمت افزائی اور دوسری طرف اہل سنت کے درمیان اختلاف وانتشار پیدا کرنے کا اپنا مقصد پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔

بلا شبہ یہ ایک غلط اقدام اور خطرناک عمل ہے، جس کا مقصد دین اسلام کے بارے میں غلط فہمی پیدا کرنااور بدعات اور گمراہیوں کو فروغ دینا ہے۔

 اس مضمون میں اصلاً عیدمیلاد النبی ﷺ کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور پھر اس کو بنیاد بناکر سعودی عرب کے عقیدے اور اس کی قیادت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔

 اس لئے بطور تنبیہ ، اللہ سے مدد اور توفیق کا طلبگار ہوتے ہوئے درج ذیل باتیں کہنا ضروری سمجھتا ہوں۔

 (جشن میلاد النبیﷺ کی بدعت کا رد):

رسول اللہ ﷺیا ان کے علاوہ کسی کا یوم ولادت منانا جائز نہیں ، بلکہ اس سے روکنا واجب ہے، کیونکہ یہ دین میں ایجاد کردہ بدعات میں سے ہے اور رسول اکرم ﷺ نے نہ یہ کام خود کیا اور نہ ہی اپنے لئے یا دیگر انبیاء و رسل یا اپنی صاحبزادیوں ، ازواج مطہرات، رشتہ داروں اور صحابۂ کرام میں سے کسی کے لئے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسی طرح آپ کے خلفائے راشدین ، دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا تابعین میں سے بھی کسی سے یہ عمل ثابت نہیں ، اور نہ ہی قرونِ اولیٰ کے علماء ومحدثین سے یہ عمل ثابت ہے۔

حالانکہ یہ سب حضرات بعد کے لوگوں کے مقابلے میں سنّت رسولﷺ سے زیادہ واقف، آپ ﷺسے زیادہ محبت وعقیدت رکھنے والے اور آپﷺ کی شریعت کے زیادہ پابند وفرمانبردار تھے۔ اگر یوم ولادت کا جشن منانا کوئی نیک کام ہوتا تو یقیناً اس کی انجام دہی میں یہ لوگ سبقت لیجاتے۔

چونکہ دین اسلام کامل ومکمل ہوچکا ہے، اس لئے ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم سنّت کی پیروی اور بدعت سے پرہیز کریں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺنے جس امر کو مشروع قرار دیا ہے اور جسے صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم کی شکل میں اہل سنت وجماعت نے قبول وپسند کیا ہے، اسی پر اکتفا کریں۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :

(من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو ردّ)

’’جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کی جس کا اس سے تعلق نہیں ہے، تو وہ ناقابل قبول ہے([1])۔‘‘

صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے : (من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد)

’’یعنی جس نے کوئی ایسا کام کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا ہے، تو وہ ناقابل قبول ہے([2])۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں ہے:(عليكم بسنّتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديّين من بعدي تمسّكوا بها وعضّوا عليها بالنّواجذ وإيّاكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة)

’’تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم میری سنّت اور میرے بعد آنے والے خلفائے راشدین کے طریقے پر چلو اور اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور (دین میں ) نئی چیزوں کی ایجاد سے بچو، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ([3])۔‘‘

رسول اکرم ﷺ جمعہ کے روز اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے: (أما بعد فإن خير الحديث كتاب الله، وخير الهدي هدي محمد صلى الله عليه وسلم، وشر الأمور محدثاتها، وكل بدعة ضلالة)

 ’’ بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے، اور بہترین طریقہ طریقۂ محمدی ﷺہے اور بدترین امور (دین کے سلسلے میں ) نئی نئی ایجاد کردہ چیزیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

ان احادیث میں بدعات کو گمراہی بتایا گیا اور ان کی ایجاد سے پرہیز کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ امّت کو بدعات کے خطرے سے آگاہ رکھا جاسکے اور اسے ان کے ارتکاب اور ان پر عمل کرنے سے روکا جاسکے۔ اس سلسلے میں اور بھی متعدد احادیث وارد ہیں۔

اور باری تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا)

ترجمہ:’’اور تمہیں جو کچھ رسول دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ ([4])۔‘‘

نیز ارشاد ہے :(فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)

ترجمہ:’’اور جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں ان پر زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچ جائے([5]) ۔‘‘

اور فرمایا : (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا) ترجمہ:’’یقیناًً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ موجود ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعا لیٰ کی یاد کرتا ہے([6])۔ ‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہے :

 (وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ)

 ترجمہ: ’’اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے، اور اللہ نے ان کے لئے بہشتیں تیار کررکھی ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے ([7])۔‘‘

نیز فرمایا : (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِينًا)

ترجمہ:’’آج میں نے تمہارے لئے تمہاے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کرلیا ([8])۔‘‘

مذکورہ آخری آیت سے صراحتاً ثابت ہورہا ہے کہ اللہ نے اس امت کے لئے اس کا دین مکمل کردیا اور اس پر اپنی نعمت پوری کردی، اور رسول ﷺ نے وفات سے قبل دین کی کھلے عام تبلیغ کردی اور امّت کو واضح طور پر بتادیا کہ اللہ نے اس کے لئے کیا کیا اقوال واعمال مشروع قرار دیئے ہیں، اور یہ کہ آپ کے بعد جو نئی چیز بھی لوگ ایجاد کریں گے اور اسے دین کی طرف منسوب کریں گے وہ سب بدعت ہوگی اور ایجاد کرنے والے کے منہ پر ماردی جائے گی، خواہ اس ایجاد کردہ شےء کا تعلق قول سے ہو یا عمل سے اور خواہ ایجاد کرنے والے کی نیت اچھی اور ارادہ نیک ہی کیوں نہ ہو۔

رسول اکرم ﷺکے اصحاب کرام اور ان کے بعد سلف صالحین نے بھی بدعات سے اجتناب پر زور دیا ہے کیونکہ یہ دین میں اضافہ نیز شریعت سازی ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے۔

علاوہ ازیں اس میں اللہ کے دشمن یہود ونصاریٰ کی تقلید ومشابہت ہے، جنہوں نے اپنے دین میں اللہ کی اجازت ومرضی کے بغیر اضافہ وایجاد سے کام لیا۔

بدعات سے اجتناب اس لئے ضروری ہے کہ اگر دین میں اضافہ و ایجاد کو تسلیم کرلیا جائے ، تو اس سے دین اسلام کی تنقیص نیز اس کا غیر کامل ہونا لازم آتا ہے ، اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ کس قدر غلط اور خطرناک امر ہے، کیونکہ اس میں فرمان الٰہی :(الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ)’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا‘‘ سے تصادم کے ساتھ ان بہت سی احادیث کی صریح مخالفت بھی لازم آتی ہے جن میں بدعات سے نفرت دلائی گئی ہے اور ان سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

میلاد کی ایجاد شدہ رسم کو اگر صحیح تسلیم کرلیا جائے ، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے اس امّت کے لئے اس کے دین کو مکمل نہیں کیا تھا اور نہ ہی رسول اکرم ﷺ نے اپنی امّت کو وہ تمام باتیں بتائی تھیں جن پر اسے عمل کرنا تھا، یہاں تک کہ بعد میں کچھ لوگ آئے اور انہوں نے شریعت الٰہی میں ایسی نئی ایجادات کیں جن کا اللہ نے حکم نہیں دیا تھا، یہ سمجھے ہوئے تھے کہ یہ نئی چیزیں انہیں اللہ سے قریب تر کردیں گی، حالانکہ جیسا کہ بتایا گیا یہ ایک بہت خطرناک بات ہے، جس سے اللہ اور اس کے رسول پر اعتراض لازم آتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کے لئے دین کو مکمل کردیا ہے اور ان پر اپنی نعمتیں پوری کردی ہیں۔

 اسی طرح رسول اکرم ﷺ نے بھی دین کی مکمل وضاحت کردی ہے اور اپنی امّت کے لئے وہ تمام راستے اورطریقے بیان کردیئے ہیں جن پر چل کر جنت کا حصول اور جہنم سے نجات ممکن ہے۔

صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :

(ما بعث الله من نبي إلا كان حقاً عليه أن يدلّ أمّته على خير ما يعلمه لهم وينذرهم شرّ ما يعلمه لهم)

ترجمہ:’’اللہ کے ہر رسول پر ضروری تھا کہ وہ اپنی امت کی ہر اس خیر کی طرف رہنمائی کرے جس کا اسے علم ہے، اسی طرح ہر اس شر سے ڈرائے جس کا اسے علم ہے ([9])۔‘‘

اور یہ سب کو معلوم ہے کہ نبی اکرم ﷺ افضل الانبیاء اور خاتم الرسل ہیں اور ان سب میں امّت کی خیر خواہی اور زبان وبیان میں مکمل ترین ہیں ، اس لئے اگر محفل میلاد منعقد کرنا اللہ کے پسندیدہ دین کا حصہ ہوتا تو یقیناً رسول اللہ ﷺ نے اس کی نشان دہی کردی ہوتی اور صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا ہوتا۔ لیکن چونکہ ایسا کچھ نہیں ہوا اس لئے صاف پتہ چلتا ہے کہ میلاد کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ وہ ان بدعات میں سے ہے جن سے رسول اللہ ﷺ نے امت کو روکا اور ڈرایا ہے، جیسا کہ اس سے قبل بعض احادیث کا حوالہ آچکا ہے۔

مذکورہ دلائل کی روشنی میں بہت سے علمائے اسلام نے محفل میلاد منعقد کرنے سے روکا ہے، اور یہ معروف شرعی قاعدہ ہے کہ حلال وحرام اور دیگر نزاعی امور میں کتاب وسنت

کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، جیسا کہ ارشاد باری ہے :

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا)

ترجمہ:’’اے ایمان والو ! فرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبرداری

کرو رسول (ﷺ) کی اور تم میں سے جو اولوالامر (اختیا ر والے ) ہیں ان کی، پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہارا اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے، یہ بہت بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بہت اچھا ہے ([10])۔‘‘

اسی طرح ارشاد ربانی ہے : (وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ) ترجمہ:’’اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو، اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے([11])۔‘‘

چنانچہ میلاد کے سلسلے میں جب کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کتاب الٰہی رسول اللہ ﷺ کی مکمل پیروی کا حکم دیتی ہے کہ آپ نے جو کام کرنے کا حکم دیا اس کو پابندی سے انجام دیں اور جس سے روکا اس سے رک جائیں۔

نیز کتاب الٰہی یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امّت کے لئے اس کا دین مکمل فرمادیا ہے ۔

 اور میلاد ان امور میں سے نہیں ہے جو محمدﷺ لے کر آئے، لہذا اس کا تعلق اس دین سے نہ ہوگا جسے اللہ تعالی ٰنے مکمل فرمادیا اور ہمیں اس میں رسولﷺ کی پیروی کا حکم دیا ہے۔

اسی طرح میلاد کے تعلق سے سنت رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرنے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ یہ کام خود کیا اور نہ اس کا حکم دیا اور نہ ہی صحابۂ کرام نے یہ عمل انجام دیا۔

 اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ، بلکہ یہ بعد میں ایجاد شدہ بدعات میں سے ہے جس میں تہواروں کے تعلق سے یہود ونصاریٰ کے ساتھ مشابہت اور ان کی اندھی تقلید ہے۔

 مذکورہ دلائل سے ہراس شخص کے لئے جس کے اندر معمولی بصیرت، حق کی رغبت اور سچی طلب پائی جاتی ہے یہ بات واضح ہوگئی کہ یوم پیدائش منانے کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ، بلکہ یہ ایجاد شدہ بدعات میں سے ہے جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے چھوڑنے اور جن سے بچنے کا ہمیں حکم دیا ہے ۔ کسی عقلمند کے لئے ہرگز مناسب نہیں کہ وہ میلادیوں کی کثرت سے دھوکہ کھائے ، اس لئے کہ حق کا معیار اس کے ماننے اور انجام دینے والوں کی کثرت نہیں بلکہ شرعی دلائل ہیں۔

چنانچہ یہود ونصاری کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَى تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ)

ترجمہ:’’یہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہود ونصاریٰ کے سوا اور کوئی

نہ جائے گا، یہ سب ان کی آرزوئیں ہیں، ان سے کہو کہ اگر تم

سچے ہو تو اپنی کوئی دلیل تو پیش کرو([12])۔‘‘

اور دوسری جگہ ارشاد ہے : (وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ)

ترجمہ:’’اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کردیں ([13])۔‘‘

میلاد کی محفلیں منعقد کرنا بدعت تو ہے ہی، بعض علاقوں میں بسا اوقات ان میں خلاف شرع دوسرے امور بھی شامل ہوجاتے ہیں، جیسے عورتوں اور مردوں کا اختلاط، گانے بجانے اور ڈھول وغیرہ کا استعمال، شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال وغیرہ۔

 کبھی کبھار ان محفلوں اور جشنوں میں ارتکاب کئے جانے والے معاصی کے ڈانڈے اسوقت شرک اکبر سے مل جاتے ہیں جب لوگ رسول اکرم ﷺ اور دوسرے اولیاء کے سلسلے میں غلو سے کام لیتے ہیں، ان سے دعاء وفریاد کرتے اور امداد طلب کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول ﷺ عالم الغیب ہیں، حالانکہ اس طرح کے عقائد رکھنے والا کافر ہوجاتا ہے،آپ ﷺ کا صحیح فرمان ہے :

 (إيّاكم والغلوّ في الدين فإنما أهلك من كان قبلكم الغلوّ في الدين)

ترجمہ:’’تم لوگ دین کے معاملے میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین کے معاملے میں غلو کرنے ہی کی وجہ سے ہلاک ہو ئے ([14]) ‘‘۔

نیزآپﷺ نے فرمایا:

(لا تطروني كما أطرت النّصارى ابن مريم إنما أنا عبد فقولوا عبد الله ورسوله)

ترجمہ:’’میری تعریف میں اس طرح مبالغہ آرائی نہ کرو جس طرح نصاریٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا، میں تو صرف ایک بندہ ہوں، لہذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو ([15]) ۔‘‘

اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ ان میلادوں اور بدعت کے کاموں میں شرکت اور ان کا دفاع کرتے ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں جمعہ اور نماز باجماعت سے پیچھے رہتے ہیں، جبکہ اس میں حاضری اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دی ہے، اور انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ انھوں نے ایک بہت بڑے منکر کام کا ارتکاب کیا ہے، یقیناً یہ ایمان کی کمزوری ، بصیرت کی کمی اور دل میں جاگزیں مختلف النوع گناہوں اور معاصی کا نتیجہ ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اور مسلمانوں کو اپنی عافیت میں رکھے۔

 (جشنِ میلاد کے موقع پرآپﷺ کی تعظیم میں کھڑے ہوکردرود وسلام پڑھنا):

اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ رسول ﷺبہ نفس نفیس ان میلاد کی محفلوں میں شرکت فرماتے ہیں، اس لئے وہ لوگ آپ کے احترام وتعظیم میں کھڑے ہوکر آپ کو سلام کرتے ہیں اور آپ کا خیر مقدم کرتے ہیں حالانکہ یہ سراسر غلط اور بدترین جہالت ہے، کیونکہ رسول اکرم ﷺ نہ لوگوں سے براہ راست تعلق قائم کرتے ہیں اور نہ ان کی مجلسوں میں حاضر ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنی قبر سے قیامت سے پہلے نکلیں گے جہاں آپ آرام فرما ہیں، جب کہ آپ کی روح مبارک اپنے رب کے پاس اعلیٰ علیین میں دارالکرامت میں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے :

 (ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ *ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ)

ترجمہ:’’اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مرجانے والے ہو، پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤگے ([16])۔‘‘

اور آپ ﷺ نے فرمایا :

(أنا أوّل من ينشقّ عنه القبر يوم القيامة،وأنا أول شافع وأوّل مشفّع)

ترجمہ:’’قیامت کے روز سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی اور میں اس سے باہر نکلوں گا اور قیامت کے دن سب سے پہلا سفارش کرنے والا (شافع) اور سفارش قبول کیا جانیوالا (مشفع)

شخص بھی میں ہی ہوں گا ([17])۔‘‘

مذکورہ آیت وحدیث کے علاوہ دوسری بہت سی آیات واحادیث سے ثابت ہے کہ محمد ﷺ اور دوسرے وہ تمام لوگ جو وفات پاچکے ہیں، اب قیا مت کے دن ہی اپنی اپنی قبروں سے نکلیں گے۔ اور اس بات پر تمام علمائے اسلام کا اتفاق ہے ۔

اس لئے تمام مسلمانوں کو ان امور سے متعلق خبر دار رہنا چاہئے اور جاہلوں کی ایجاد کردہ ان بدعات وخرافات سے بچنا چاہئے جن کے بارے میں اللہ کی طرف سے کوئی حجت نازل

نہیں ہوئی۔

جہاں تک رسول اکرم ﷺ پر درود وسلام بھیجنے کا تعلق ہے ، تو یہ افضل ترین عبادت اور اعمال صالحہ میں سے ہے، چنانچہ ارشاد باری تعا لیٰ ہے :

(إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو ([18]) ۔‘‘

اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے :

 (من صلى علي واحدة صلى الله عليه بها عشراً)

ترجمہ:’’ جو مجھ پر ایک مرتبہ درود وسلام بھیجے گا ، اللہ اس کے بدلے میں اس پر دس مرتبہ اپنی رحمت نازل فرمائے گا ([19])۔ ‘‘ نبی اکرم ﷺ پر درود وسلام بھیجنا ہر وقت مشروع ہے، نماز کے آخر میں سنت مؤکدہ اور بہت سے اہل علم کے نزدیک ہر نماز کے قعدہ اخیرہ میں درود پڑھنا واجب ہے۔

علاوہ ازیں دوسرے بہت سے مواقع پر درود پڑھنا سنت مؤکدہ ہے، جیسے اذان کے بعد، آپ ﷺ کے تذکرہ کے وقت اور جمعہ کے دن اور اس کی رات میں۔ اس سلسلے میں بہت سی احادیث وارد ہیں۔

 میرا اصل مقصد اس سلسلے میں ضروری تنبیہ کرنا تھا اور امید ہے کہ جو کچھ عرض کیا گیا وہ ان شاء اللہ صاحب بصیرت اور توفیق

الٰہی سے بہرہ یاب شخص کے لئے کافی ہے۔

اس سلسلے میں زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ خلاف شرع میلاد کی محفلوں اورجشنوں کا انعقاد ایسے مسلمانوں کی طرف سے عمل میں آتا ہے جو اپنے عقیدے کے پابند اور محبت رسول ﷺکے دعویدار ہیں۔

 ہم ایسے لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر آپ سنی اور رسول اکرم ﷺ کے تابعدار وفرماں بردار ہیں تو بتائیں کہ کیا کبھی خود آپ ﷺ نے یا صحابہ وتابعین میں سے کسی نے یہ کام کیا ہے ؟ یا آپ لوگ یہ عمل صرف یہود ونصاریٰ اور ان جیسے دوسرے دشمنان اسلام کی اندھی تقلید میں انجام دے رہے ہیں ؟

 محبّت رسولﷺ کا حقیقی معیاروتقاضا:

رسول اکرم ﷺ کی محبت آپ کے یوم ولادت کا جشن منانے میں نہیں ، بلکہ آپ پر ایمان وتصدیق اور اچھے اور برے کاموں کے سلسلے میں آپ کی ہدایات پرعمل کرنے میں مضمر ہے۔

 اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اس کے مشروع کردہ طریقوں سے کی جائے اور نمازوں میں آپ ﷺ کے تذکرے کے وقت اور ہر مناسب موقع پر آپ پر درود وسلام بھیجاجائے۔

وہابیت کا عقیدہ:

مقالہ نگار کی تعبیر کے مطابق’’وہابیت‘‘ بدعات وخرافات کا انکار کرنے میں کوئی نیا فرقہ نہیں ہے، بلکہ وہابیت کا عقیدہ اصلاً یہ ہے کہ کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھاما جائے، نبی اکرم ﷺ کی سنت ، نیز خلفائے راشدین اور تابعین کے طریقے پر چلاجائے اور سلف صالحین اور ائمہ دین وہدایت اور ارباب فقہ وفتاویٰ کی معرفت الٰہی اور اللہ کے ان صفات وکمالات کو اس کے لئے ثابت کرنے میں پیروی کی جائے جن کا ذکر کتاب اللہ اور صحیح حدیثوں میں آیا ہے اور جنہیں صحابہ کرام نے قبول وتسلیم کیا ہے۔

یہ وہابی لوگ ذات وصفات الہی کو جوں کا توں ثابت کرتے اور ان پر عقیدہ وایمان رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں کسی تحریف (ظاہری مفہوم میں تبدیلی) تعطیل (صفات الٰہی کی نفی) تکییف (صفات الٰہی کی کیفیت کی تعیین ) اور تمثیل (صفات الٰہی کو مخلوق کی صفات کے مثل بنانا) سے کام نہیں لیتے، بلکہ تابعین وتبع تابعین اور دیگر علمائے سلف اور ائمہ دین کی پیروی کرتے ہیں۔

 ان کا ایمان ویقین ہے کہ ایمان کی اصل بنیاد واساس

توحید الٰہی اور رسالت محمدی ﷺ کی شہادت ہے اور یہی ایمان کی افضل ترین شاخ ہے۔

 اور اس اصل کے لئے علم وعمل اور اجماع امت کا اقرار واعتراف ضروری ہے، اور اس کا تقاضا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے علاوہ ہر چیز کی بندگی سے براء ت اختیار کی جائے ۔

 ان کا ایمان ہے کہ اسی عبادت الٰہی کے مقصد کی تکمیل کے لئے انسانوں اور جنات کی تخلیق عمل میں آئی، نبیوں اور رسولوں کی بعثت ہوئی اور کتابیں نازل کی گئیں، اور یہ کہ اس عبادت کا مطلب صرف اللہ کے لئے کمال اطاعت ومحبت اور کمال عجز ونیاز کا اظہار واعتراف ہے، اور یہی دراصل وہ دین اسلام ہے جس کے علاوہ دوسرا کوئی بھی دین اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں ۔ تمام انبیا ء اسی دین اسلام پر تھے اور انھیں اسی کی طرف لوگوں کو دعوت دینے کے لئے مبعوث کیا گیا۔ اس اسلام کا تقاضا صرف اللہ کے سامنے سرنگوں ہونا ہے ۔

 چنانچہ اگر کوئی شخص اللہ کے سامنے سرنگوں ہونے کے ساتھ ہی کسی اور کے سامنے سرنگوں ہو یا اللہ کے ساتھ ہی کسی اور کو پکارے تو وہ مشرک ہوجائے گا۔

 اور اگر کسی نے اللہ کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار کیا تو وہ اس کی عبادت وبندگی سے رو گردانی کرنے والا شمار ہوگا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ)

ترجمہ:’’ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو !) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو ([20])۔‘‘

توحید کے ساتھ ان کا عقیدہ کلمے کے دوسرے جز ’’ محمد رسول اللہ ‘‘ کی تطبیق وشہادت ، اور بدعات وخرافات اور نبی اکرم ﷺ پر نازل شدہ شریعت کے مخالف ہر امر کے ترک پر مبنی ہے ۔

یہی وہ عقیدہ ہے جس پر شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ ایمان رکھتے اور اس کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے، اس کے خلاف جو چیز بھی ان کی طرف منسوب کی جاتی ہے وہ تہمت والزام اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ، اور ایسا کرنے والا اللہ کی طرف سے اس سزا کا مستحق ہے جو اس نے اس قسم کی غلط تہمت لگانے

والوں کے لئے مقرر کر رکھی ہے ۔

شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے اپنی کتابوں اور تحریروں میں اخلاص وتوحید پر بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ کتاب وسنت اور اجماع امّت کی روشنی میں لاالٰہ الا اللہ کی شہادت کا کیا مفہوم ہے ۔ شیخ نے واضح کیا ہے کہ اس کلمہ کا مفہوم عبادت والوہیت کو صرف اللہ کی ذات کے لئے خاص کرنا اور اس کے علاوہ ہر ایک سے اس کی نفی کرنا ہے۔

جوشخص بھی شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی کتابوں کا مطالعہ کرے گا اور ان کی مشہور ومعروف دعوت اور ان کے رفقاء وتلامذہ کی تاریخ پڑھے گا اسے اندازہ ہوگا کہ توحید واخلاص کی نشر واشاعت اور بدعات وخرافات کی مخالفت کے سلسلے میں آپ کی دعوت دراصل ائمہ دین وہدایت اور سلف صالح کی ہی دعوت ہے، اور یہی وہ دعوت ہے جس پر سعودی حکومت قائم ہوئی اور سعودی علماء ومشائخ اللہ کے فضل وتوفیق سے اسی دعوت توحید پر کاربند ہیں۔

سعودی حکومت کو شدت پسند اورمتعصب کہنا صحیح نہیں ، ہاں وہ دین اسلام میں بدعات وخرافات کے رواج اور ایسے غلو کے سلسلے میں ضرور سخت ہے جس سے رسول اکرم ﷺ نے منع فرمایا ہے۔

 ورنہ سعودی عرب کے عام مسلمان، ذمہ داران حکومت اور علماء ومشایخ اپنے دلوں میں ہر مسلمان کے لئے بے پناہ محبت اور احترام کا جذبہ رکھتے ہیں ، خواہ ان کا تعلق دنیا کے کسی بھی حصے اور ملک سے ہو۔

ہاں جیسا کہ میں نے کہا وہ ان بدعات وخرافات ، تہواروں اور جشنوں کے منانے والے گمراہ عقیدہ لوگوں کی ضرور تردید کرتے ہیں جن کے منانے کی اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اجازت نہیں دی ہے، اور وہ ان چیزوں سے اس لئے روکتے ہیں کہ یہ بدعات ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے اور تمام مسلمانوں کو کتاب وسنت کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے اور دین میں نئی چیزیں ایجاد کرنے سے روکا گیا ہے ۔ کیونکہ دین اسلام اپنی جگہ مکمل ہوچکا ہے، اور وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی شریعت کے سوا کسی اور کا محتاج نہیں رہا۔ اور اس کو اسی شکل میں اہل سنت وجماعت، صحابہ وتابعین وغیرہم نے مانا اور قبول و اختیار کیا ہے۔

 پھر میلاد جیسی بدعت اور اس میں انجام پانے والے غلو اور شرک سے روکنا نہ کوئی غیر اسلامی عمل ہے اور نہ اس سے رسول اکرم ﷺ کی توہین لازم آتی ہے، بلکہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی عین اطاعت وفرمانبرداری ہے،کیونکہ آپﷺ نے فرمایا : (إياكم والغلو في الدين فإنما أهلك من كان قبلكم الغلو في الدين)

’’ تم دین کے معاملے میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلی قومیں دین کے سلسلے میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ([21])۔‘‘

اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا :

(لا تطروني كما أطرت النصارى ابن مريم إنما أنا عبد فقولوا عبد الله ورسوله)

’’تم میرے بارے میں اس طرح مبالغہ نہ کرو جس طرح نصاری ٰنے ابن مریم کے بارے میں مبالغہ سے کام لیا، میں تو بس ایک بندہ ہوں،لہذا مجھےاللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو([22]) ۔‘‘ مذکورہ مقالے کے تعلق سے میں نے یہ ضروری سمجھا کہ یہ معروضات بطور تنبیہ پیش کردوں ۔

 اللہ سے ہم دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنے دین کی سمجھ عطا کرے، اس پر ثابت قدم رکھے اور سب کو سنّت کی اتباع اور بدعت سے اجتناب کی توفیق سے نوازے۔

 وصلى الله وسلم على نبينا محمد وآله وصحبه۔



([1])یہ روایت متفق علیہ ہے۔     

([2])صحیح مسلم

([3]) سنن ابی داود،وصححہ الألبانی وغیرہ

([4])الحشر : ۷ 

([5])النور: ۶۳

([6])الاحزاب : ۲۱

([7])التوبہ : ۱۰۰   

([8])ا لمائدہ : ۳

([9])صحیح مسلم

([10])النساء : ۵۹

([11])الشوری : ۱۰                      

([12])البقرہ : ۱۱۱ 

([13])الانعام : ۱۱۶                       

([14])احمد،ابن ماجہ،نسائی،حاکم بروایت ابن عباسؓ

([15])صحیح بخاری بروایت عمربن الخطابؓ

([16])المومنون : ۱۵، ۱۶                 

([17]) صحیح مسلم

([18])الاحزاب : ۵۶                     

([19])سنن نسائی (1297)،اور البانیؒ نے اسے’’ صحیح سنن نسائی ‘‘میں صحیح قراردیا ہے۔

([20])النحل : ۳۶

([21])احمد،ابن ماجہ،نسائی،حاکم بروایت ابن عباسؓ

([22])صحیح بخاری بروایت عمربن الخطابؓ