شیخ محمد بن عبد الوہابؒ کی سیرت، دعوت اور اثرات ()

 

|

 شیخ محمد بن عبد الوہابؒ کی سیرت،

  دعوت اور اثرات

(مختصرنسخہ)


تالیف: جمال الدین زرابوزو

ترجمہ: اسد اللہ مدنی

مراجعہ: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

ناشر:شعبۂ مطبوعات وعلمی تحقیقات

وزارت برائے اسلامی امور واوقاف ودعوت وارشاد

؁۱۴۳۳ھ

نبذة مختصرة عن الكتاب:

محمد بن عبدالوهاب، حياته، تعاليمه، وتأثيره: كتاب من ۳۷۹ صفحة، ولا يعنى بالسياسة و لا تفضيل نظام عن آخر، إنما يعنى ببيان حقيقة الإسلام كما دعى إليه النبي صلى الله عليه وسلم، ثم العناية بحق أحد علماء المسلمين الشيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

 ۱۔ تعارف

مصنف کی یہ کتاب در اصل ان کی اصل کتاب ’’امام محمد بن عبدالوھاب ؒ کی سیرت، دعوت اور اثرات‘‘کا اختصار شدہ نسخہ ہے. بوجوہ اختصار اصل کتاب میں مذکور بہت ساری تفصیلات ترک کردی گئی ہیں اور طویل بحثوں کو مختصر کردیا گیاہے تاہم بیشتر عناوین اپنی جگہ برقرارہیں (شیخ محمدبن عبدالوھاب ؒ سے متعلق انگریری مواد پر نظرثانی کو زیر مطالعہ کتاب سے یکسر حذف کردیا گیا ہے).

تمام موضوعات کو مختصر اور جامع انداز میں پیش کرنے کے علاوہ اس کتاب کا بھی وہی مقصد ہے جو اصل کتاب کا ہے.

اس کتاب کا نہ کوئی سیاسی مقصد ہے. اور نہ ہی کسی متعین حکومت یا کسی مخصوص پالیسی کی ہنموائی یا تنقید ، بلکہ اس کے پیچھے جو قوت عاملہ ہے وہ ان سب سے بڑھ کر ہے. اس کا مقصد دین اسلام کی تشریح ووضاحت ہے جیسا کہ خود محمد ﷺ نے اس دین کی تشریح وتبلیغ فرمائی. اس کا دوسرا مقصد بحیثیت ایک مسلم فرد شیخ محمد بن عبدالوھابؒ کی قدر ومنزلت اور آپ کے حق کو بیان کیا جائے.

گزشتہ دو صدیوں سے شیخ محمد بن عبدالوھابؒ کا نام (اور آپ سے منسوب ’’وہابی‘‘ اور ’’وہابیت‘‘ کے الفاظ) عالم اسلام میں اور غیر مسلم علاقوں میں بھی کافی سنا جارہا ہے. حقیقت میں شیخ محمدؒ ایک’’پر اسرار شخصیت ‘‘ کا نام نہیں ہے بلکہ آپ کی تصانیف اور آپ کے قریبی تلامذہ کی اور آپ کی اولاد واَحفادکی تصانیف مشہور ومعروف ہیں اور دنیا کے ہر گوشہ میں بہ آسانی دستیاب ہیں. گرچہ آپ کی شخصیت اسرار کے پردوں میں چھپی ہوئی نہیں ہے مگر اس کے باوجود جو کچھ آپ کے بارے میں اب تک کہا گیا اس میں ضرور حقیقت وافسانہ دونوں کا رنگ بھرا گیا ہے.

شیخ محمد بن عبدالوھابؒ چونکہ ایک انسان تھے لہذا اس ناطے آپؒ کا یہ حق بنتا ہے کہ آپ کی زندگی کا مطالعہ غیر جانبدارانہ اور مخلصانہ طور پر کیا جائے. آپ کا حق ہے کہ آپ کے معاملہ میں منصفانہ مقدمہ کی کاروائی کی جائے، کوئی کتنا ہی آپ کی دعوت کا مخالف ہو لیکن کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ آپ کے حق میں ظلم وستم روا رکھے.

ویسے تمام معاملات میں غیر جانبداری، عدم تعصب، علمی امانت اور صداقت ہر ایک سے مطلوب ہے اور خصوصاً مسلمانوں سے اور زیادہ ان باتوں کی توقع بڑھ جاتی ہے اوراسلامی نقطۂ نظر سے بھی ان باتوں کی اہمیت اور زیادہ ہوجاتی ہے اگر چہ مد مقابل آپ کا حریف یا دشمن ہی کیوں نہ ہو. چنانچہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ بِٱلۡقِسۡطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ وَلَوۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۡ أَوِ ٱلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَۚ إِن يَكُنۡ غَنِيًّا أَوۡ فَقِيرٗا فَٱللَّهُ أَوۡلَىٰ بِهِمَاۖ فَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلۡهَوَىٰٓ أَن تَعۡدِلُواْۚ وَإِن تَلۡوُۥٓاْ أَوۡ تُعۡرِضُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا ١٣٥ ’’اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودئ مولا کے لئے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ. گو وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے، وہ شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہوتو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیادہ تعلق ہے. اس لئے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کروگے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح با خبر ہے([1])۔‘‘

زیر نظر کتاب میں شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ کی سوانح حیات اور تعلیمات کو منصفانہ طور پر صحیح انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے. اس مقصد کی خاطر مختلف بحثوں سے جو نتائج اخذ کئے گئے وہ مستند( اسلامی وغیر اسلامی)مصادر ومراجع سے ماخوذہیں جو تاریخی، علمی ومنطقی دلائل پر مبنی ہیں.

۲۔ شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ کی زندگی

سر زمین نجد:

شیخ محمد بن عبدالوھابؒ کا تعلق ’’نجد الیمامہ‘‘ کی سرزمین سے ہے. نجد کی شمالی جانب ’’شمّر‘‘ کے پہاڑ ہیں یا پھر نفود کا عظیم صحراء ہے. مغربی جانب ’’حجاز‘‘ اور جنوب کی طرف صحرائی علاقہ ہے جس کو ’’الربع الخالی‘‘ کہا جاتاہے. اسی طرح مشرقی جانب ’’الاحساء‘‘ اور ’’الدھناء‘‘ واقع ہے.

317ھ؁سے لے کر شیخ محمد بن عبدالوھابؒ کے ظہور پذیر ہونے تک سرزمین نجد کی کوئی متحدہ حکومت نہیں تھی. یہی وجہ ہے کہ مؤرخین حضرات نے اس علاقہ کا بالخصوص کوئی ذکر نہیں کیا. شیخ محمد ؒ کے زمانے میں نجد چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا جس کے حکام بحرین سے یا علاقے کے چھوٹے امیر ہوا کرتے تھے

سلطنت عثمانیہ کے حکام نے بالخصوص کبھی نجد پر توجہ دینے کے بارے میں غور نہیں کیا یہی وجہ تھی کہ نجد پر ان کا کوئی اثر نہ تھا.حکومت عثمانیہ کی ایک دستاویز جس کو یمین علی آفندی(1018ھ موافق 1609ء) نے تحریر کیا تھا یہ بتلاتی ہے کہ سلطنت عثمانیہ ’’بتیس صوبوں‘‘ میں منقسم تھی جن میں سے چودہ عرب صوبے تھے مگر ان میں نجد شامل نہ تھا ([2]

حقیقت میں جیساکہ واسی لیف کہتا ہے کہ جب وہابیت کا ظہور ہوا اس وقت خطۂ عرب کئی دہائیوں تک کسی کی حکومت میں شامل نہ تھا ([3]

تاہم نجد کے علاقے کو سیاسی تسلط کے زیر اثر لانے کی کچھ کوششیں ہوتی رہیں بالخصوص حجاز کے ’’شرفاء‘‘ او ر الاحساء کے قبیلۂ خالد نے اس خطے پر قبضہ کرنے کی کوششیں کیں، قبائل خالد کا شمال میں شمّر کے پہاڑی علاقے پر مضبوط تسلط تھا اور عیینہ کا امیر اس کے اقتدار کو کسی حد تک تسلیم کرتا تھا. تاہم بحیثیت مجموعی یہ تمام کاوشیں کامیاب نہ ہوسکیں چنانچہ نجد کسی مضبوط حکومت کے بغیر ہی رہا ([4]) ۔

بارہویں صدی ہجری تک نجد متعدد چھوٹی خود مختار ریاستوں میں منقسم رہا. ان میں سے ہر ایک کا حاکم موروثی طریقے پر متعین ہوتا تھا. ان میں سے ہر ریاست دوسری سے بالکل آزاد اور خود مختار تھی. عیینہ خاندانِ معمر کے زیر اقتدار تھا. غالباً یہ اس علاقے کا سب سے طاقتور قبیلہ تھا. اسی طرح درعیہ آل سعود کے زیر اقتدار، ریاض آل دواس کے زیر تسلط، حائل آل علی کے ما تحت، قصیم الحجیلان خاندان کے اور شمالی نجد شبیب خاندان کے زیر اقتدار رہا.

بدقسمتی سے یہ مختلف ’’مہذب ریاستیں‘‘ اکثر اوقات سنگین باہمی تنازعات میں دست وگربیان رہتی تھیں، ہلاکت خیز حملے، لوٹ مار، جنگ وجدال اور معمولی وجوہات کی بنا پر چھوٹی چھوٹی نوک جھونک میں ہمیشہ بر سر پیکار رہتی تھیں([5]

 شیخ محمد بن عبدالوھابؒ کا خاندان اور ابتدائی زندگی

امام محمد بن عبدالوھابؒ شہر عیینہ میں 1115ھ؁ موافق؁1703 ء یا 1704 ؁ء([6])میں قبیلہ بنو تمیم کے مشرف خاندان میں پیدا ہوئے، دسویں صدی ہجری سے ہی یہ خاندان علماء وقائدین کے حوالے سے معروف ومشہور تھا ([7]

گیارھویں صدی ہجری میں شیخ کے دادا سلیمان بن علی غالباً نجد کے علاقے کے سب سے بڑے عالم تھے، وہ عیینہ شہر کے قاضی تھے اور اس علاقے کے علماء کے مابین جب فقہی مسائل میں اختلاف ہوتا تو لوگ انہی کی طرف رجوع کرتے تھے. آپ کے شاگردوں میں آپ کے بیٹے عبدالوھاب، ابراہیم اور احمد شامل ہیں([8]

شیخ محمدؒ کے والد عبدالوہاب بھی شہرِ عیینہ کے عالم اور قاضی تھے، وہ فقہ کے علم میں ماہر تھے. انہوں نے فقہ کے مختلف مسائل پر کچھ کتابیں بھی لکھیں تاہم بحیثیت ایک عالم آپ کی قدرو منزلت اپنے والد سلیمان کے درجہ تک نہ پہنچ سکی ([9]).

اس طرح شیخ محمد ؒ ایک ایسے خاندان کے چشم وچراغ تھے جو علم دوست اور تحصیل علم کی خاطر اپنے آپ کو وقف کرچکا تھا اور اس حوالہ سے مشہور ومعروف تھا. چنانچہ اس خاندانی پس منظر نے آپ کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی جس کی بناپر آپ نے ایمان و اخلاص اور مستقبل میں عملی میدان میں عروج حاصل کیا. مزید برآں مختلف ذرائع سے پتہ چلتاہے کہ آپ بہت ذہین تھے اور حافظہ بھی آپ نے کمال کا پایا تھا. دیگر بچوں کی طرح آپ اپنے اوقات کھیل کود میں ضائع نہیں کرتے تھے. دس سال کی عمر میں آپ نے حفظ قرآن کی تکمیل کی ([10]

شیخ اپنے والد کے ساتھ مطالعہ میں مصروف رہا کرتے تھے. آپ کی صلاحیتوں کے آپ کے والد خود بھی معترف تھے اور انہوں نے آپ کے بارے میں یہ کہا کہ ’’میں نے چند مسائل میں محمد سے استفادہ کیا ہے([11])‘‘۔

بارہ سال کی عمر میں آپ بلوغت کو پہنچ گئے اور جب آپ کے والد نے آپ کے اندر امامت کی اہلیت محسوس کی تو آپ کو امام مقرر کردیا اور اسی عمر میں آپ کا نکاح بھی کردیا (اس دور میں ایسی کم سنی میں شادی کا عام رواج تھا) اور حج کی ادائیگی کے لئے آپ کو روانہ کردیا ([12]

آپ کے والد سے آپ نے فقہ حنبلی کی تعلیم حاصل کی. مزید آپ نے تفسیر، حدیث اور توحید کی کتابوں کا بھی علم حاصل کیا ([13]

بالخصوص امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم رحمہما اللہ کی کتابوں نے آپ کو کافی متاثر کیا اور آپ نے خود ابن تیمیہ ؒ کی بہت سی کتابوں کے نسخے تیار کئے جن کے کچھ نسخے آج بھی برطانوی عجائب گھر میں محفوظ ہیں([14]

مذکورہ دونوں اماموں نے آپ پر بڑا گہرا اثر چھوڑا جیساکہ آپ کی کتابوں اور خطوط سے واضح ہے اور غالباً انہی اماموں کی کتابوں سے آپ نے توحید اور ایمان کے دیگر پہلوؤ ں کا صحیح ادراک حاصل کیا جس سے بیشتر فقہاء نے چشم پوشی برت رکھی تھی. اس ادراک نے آپ پر یہ حقیقت عیاں کی کہ اس وقت کے مسلمانوں کے اکثر معاملات قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روشنی میں بالکل غلط ہیں تاہم ابھی آپ کے لئے مناسب وقت نہیں تھا کہ آپ ان تمام غلط باتوں پر تنقید واعتراض کرنا شروع کردیں کیونکہ یہ کام تو آپ اسی وقت کرسکتے جب آپ مکمل مرد اور ایک عالم کی حیثیت سے ابھر جاتے. اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ آپ نے ان ابتدائی ایام میں شہر عیینہ کی اصلاح کی خاطر کوئی قابل ذکر قدم اٹھایا ہو ([15]

 لہذا آپ نے پہلے اپنی علمی قابلیت میں اضافہ کرنے کی طرف توجہ دی اور اس مقصد کے لئے اس زمانے کے مروجہ طریقے کے مطابق حصول علم کے لئے اپنے علاقے سے علوم کے مرجع دوسرے شہروں کا رخ کیا.

طلبِ علم کا سفر

پہلے حج سے واپسی کے بعد آپ نے اپنے آبائی وطن ہی میں علم حاصل کیا پھر اس کے بعد حجاز کے سفر پر روانہ ہوئے اور وہاں علماء مکہ سے استفادہ کیا ([16])مکہ مکرمہ میں مختصر قیام کے بعد آپ مدینہ منورہ منتقل ہوگئے۔

مدینہ میں آپ کو ایک ایسا علمی ماحول میسر آیا جو عیینہ کے ماحول سے یکسر مختلف تھا. مثال کے طور پر عیینہ میں فقہ حنبلی کے علم پر زور تھا جبکہ مدینہ چونکہ پوری دنیا کے علماء وطلباء کا سنگم تھا لہذا وہاں مختلف فقہی مسائل کی تعلیم کے علاوہ دیگر اسلامی علوم سے بھی بہرور کیا جاتا تھا. مدینہ میں قیام کے دوران آپ نے متعدد علماء سے استفادہ کیا جن میں شیخ علی الداغستانی اور شیخ اسماعیل العجلونی بھی ہیں، تاہم وہ علماء کرام جن سے شیخ محمدؒ بہت زیادہ قریب ہوئے ان میں پہلے نمبر پر شیخ عبداللہ بن ابراہیم بن سیف ہیں اور پھر شیخ محمد حیات سندھی ([17]) ہیں جنہوں نے (شیخ عثیمین کے مطابق) آپ کے ذہن کو بہت متأثر کیا. آپ ان دونوں کے بہت قریب رہے اور ان دونوں نے جہاں آپ کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا وہیں آپ کو اصلاحی طریقۂ کا ر کی بھی آگہی دی ([18]

مذکورہ علماء میں سے اول الذکر شیخ عبداللہ بن ابراہیم فقہ حنبلی اور حدیث کے بڑے عالم تھے. انہوں نے اپنے تمام اعمال شیخ البالی سے شیخ محمد بن عبدالوھاب کی طرف منتقل کردئے جن میں احادیث مع شروحات بھی تھیں جن کی اسانید ان کے اصل مؤلفین سے جا ملتی تھیں ([19])۔ دونوں حضرات شیخ عبداللہ اور شیخ البالی امام ابن تیمیہ سے بہت زیادہ متاثر تھے اور غالباً شیخ عبداللہ ہی نے شیخ محمد بن عبدالوھاب کو ابن تیمیہ ؒ کی کتابوں کی طرف راغب کیا. مزید یہ کہ شیخ عبداللہ کو نجد کے حالات کا بخوبی علم تھا کیونکہ ان کا اصل تعلق نجد ہی سے تھا ، نجد کے علاقہ میں مروجہ تمام خرافات کے بارے میں وہ شیخ محمدؒ سے گفتگوکیا کرتے تھے۔

ایک دفعہ شیخ عبداللہ نے شیخ محمد سے دریافت کیا کہ ’’کیا تم وہ ہتھیار دیکھنا پسند کروگے جو میں نے ’’المجمع‘‘ والوں کے لئے تیار کیا ہے؟ (المجمع شیخ عبداللہ کا آبائی وطن تھا) شیخ محمد کے اثبات میں جواب دینے پر شیخ عبداللہ آپ کو اپنے گھر لے گئے جہاں کافی کتابیں رکھی ہوئی تھیں. ان کو دکھلاکرآپ نے کہا :’’یہی وہ ہتھیار ہیں جن کو میں نے جمع کیا ہے ([20])‘‘۔

اس طرح شیخ عبداللہ نے شیخ محمد کو یہ ذہن نشین کرایا کہ وہاں کے لوگوں کے غلط رسم ورواج کے خلاف سب سے طاقتور ہتھیار حقیقی علم ہے جس کے ذریعے ان کی بری باتوں سے ان کو آگاہ کیا جائے اور ان کو صحیح راہ کی طرف راہنمائی کی جائے.

یہ شیخ عبداللہ ہی تھے جنہوں نے شیخ محمد کو شیخ سندھی سے متعارف کروایا اور ان سے درخواست کی کہ وہ شیخ محمد کو اپنی شاگردی میں قبول کرلیں. اس کے بعد شیخ محمد شیخ سندھی کے قریب تر ہوتے گئے اور آپ کے ساتھ کچھ عرصہ تک رہے. شیخ سندھی علم حدیث کے ایک عظیم عالم تھے اور بدعتوں کے مخالف کی حیثیت سے کافی معروف تھے. وہ شرکیہ طور طریقوں کی مخالفت کرتے اور اجتہاد کی طرف دعوت دیتے تھے. یہی وہ چیزیں تھیں جو آگے چل کر شیخ محمد کے دعوت کی امتیازی اوصاف بنیں([21])۔آپ کے پڑپوتے شیخ عبداللطیف بن عبدالرحمن فرماتے ہیں: شیخ سندھی نے شیخ محمد کو جن موضوعات میں بہت زیادہ متاثر کیا وہ یہ ہیں: توحیدِ عبادت، اندھی تقلید سے نجات اور قرآن وحدیث کی تعلیم وتدریس میں انہماک ([22]) ۔ عیینہ کو واپسی اور بصرہ واحساء کا سفر

حجاز میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد شیخ محمد بن عبدالوھابؒ عیینہ واپس آگئے، اس وقت آپ خاصے کم عمر تھے (غالباً بیس یا پچیس سال کے درمیان تھے). ایک خبر کے مطابق آپ عیینہ میں تقریباً ایک سال رہے پھر مزید حصولِ علم کی غرض سے عازم سفر بنے. شاید انہیں اس بات کا احساس رہا ہو کہ امت کی کارِ اصلاح کے لئے مزید علمی پختگی اور کمال کی ضرورت ہے ([23]

وہ دمشق کے لئے عازم سفر بنے جو مسلک حنبلی کا مرکز تھا. راستے میں پہلی منزل بصرہ بنی جہاں آپ نے کچھ عرصہ قیام کیا. اس وقت بصرہ ایک خوشحال تجارتی شہر تھا اور وہاں کی آبادی زیادہ تر شیعہ تھی. یہاں کے قیام کے دوران آپ نے بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ کیا جو در حقیقت نجد میں نہیں تھیں)البتہ ان میں سے کچھ آپ نے حجاز میں دیکھی تھیں(.

یہاں آپ نے فقہ، حدیث اور عربی زبان پر عبور حاصل کیا. یہ علوم آپ نے شیخ محمد المجموعی سے سیکھے. یہاں کے قیام کے دوران اس ماحول کے اندر مروجہ بدعات وشرکیات اور آبائی رسم و رواج میں سے بعض کو روکنا شروع کیا اور اکیلے اللہ کی خالص عبادت کرنے پر زور دیا (درحقیقت ایک اطلاع کے مطابق آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’کتا ب التوحید‘‘ اسی دوران آپ نے لکھی) ایسا لگتا ہے کہ شیخ المجموعی نے آپ کے ان کاموں میں آپ کی پشت پناہی کی چنانچہ آپ کی حمایتیوں کی تعداد آپ کے مخالفین سے زیادہ ہوگئی تھی اور اکثر ان دونوں فریقین کے درمیان گرما گرم بحثیں چھڑجاتی تھیں ([24]

شیخ محمد العثیمینؒ فرماتے ہیں کہ شیخ محمد بن عبدالوھاب بصرہ کے قیام کے دوران درج ذیل تین باتوں سے بہت مستفید ہوئے:

۱۔ حدیث، فقہ اورعربی زبان میں آپ کا علمی اضافہ ہوا۔

۲۔ شیعہ کے عقائد اور طور طریقوں کو بڑے قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقعہ ملا.

۳۔ مخالفین کے دلائل اور شبہات کا سامنا کرنے کی وجہ سے ان کارد اور جواب دینے کی تربیت حاصل ہوگئی.

وقت کے ساتھ ہی شیخ محمد بن عبدالوھابؒ کی مخالفت اتنی بڑھ گئی کہ دوپہر کی سخت گرمی میں ننگے پاؤں بصرہ چھوڑنے پر مجبور کردئے گئے. بصرہ اور الزبیر کے درمیان پیاس سے نڈھال ہوکر جاں بلب ہوگئے، الزبیر کے ایک باشندے نے جس کا نام ابو حمیدان تھا آپ کو اس حالت میں پایا . یہ محسوس کرتے ہوئے کہ آپ ایک معزز شخصیت ہیں آپ کو پانی پلایا اور الزبیر تک آپ کو لے کر چلا. آپ نے وہاں چند دن قیام کیا اور وہاں سے آپ ملک شام کا سفر کرنا چاہتے تھے مگر آپ کی زاد راہ اور آپ کا مال آپ سے گم ہوگیا (غالباً کسی نے چوری کرلی) چنانچہ آپ نے مشرقی صوبہ الاحساء کی راہ سے واپس اپنے وطن نجد کو پہنچنے کا فیصلہ کیا ([25]

اس وقت الاحساء چاروں فقہی مذاہب کی تعلیم کا مرکز تھا. نجد سے کافی طلباء حصول علم کے لئے یہاں پہنچے تھے. یہاں رہتے ہوئے شیخ محمدؒ نے مختلف فقہی مذاہب کے علماء سے علم حاصل کیا. آپ نے یہاں شیخ عبداللہ بن محمد بن عبداللطیف الشافعی سے کافی استفادہ کیا (ان کے ساتھ آپ اشاعرہ کے عقیدے سے متعلق بعض ان مسائل پر گفتگو کی جن کو صحیح بخاری کی شرح میں علامہ ابن حجرؒ نے ذکر کیا ہے) ([26]

کچھ عرصہ الاحساء میں گزارنے کے بعد شیخ محمد نے نجد میں حریملا کا رخ کیا جہاں آپ کے والد منتقل ہوچکے تھے.

حریملا اور آغاز دعوت

شیخ محمد بن عبدالوھابؒ کے ان اسفار کے دوران آپ کے والد محترم کا عیینہ کے نئے امیر محمد بن حمد بن معمر سے کسی مسئلہ پر جھگڑا ہوگیا جس کے بعد آپ قاضی کے منصب سے معزول کر دئے گئے. لہذا آپ نے شہر عیینہ کو چھوڑ دیا اور حریملا آباد ہوگئے جہاں آپ کو پھر سے قاضی کا منصب عطا کیا گیا ([27]

 شیخ محمد اپنے اسفار (جو 1144 ؁ ھ اور 1149 ؁ھ درمیان تھے) سے واپس اپنے والد کے نئے گھر پہنچے.

حریملا میں آپ نے کھلم کھلا دعوتی کام کی شروعات کی، پہلے پہل آپ نے ایک مسجد میں درس کا سلسلہ شروع کیا. کافی تعداد میں لوگ آپ کے دروس کو سننے کے لئے آنے لگے جس کی وجہ سے آپ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ([28]

ان دروس کا سلسلہ آپ کے ساتھ زندگی بھر رہا حتی کہ جب آپ ریاست کے قائد بنے تب بھی اس سے سبکدوش نہیں ہوئے، مشرکانہ طور طریقے اور آبائی رسم ورواج جو آپ کے ماحول میں پایا جارہا تھا ان پر انکار کرنا شروع کردیا. ابتدائے دعوت سے ہی آپ کے کچھ حامی بنے (جو تعداد میں بہت کم تھے) اور کچھ مخالفین بھی پیدا ہوگئے. اور یہ صورتحال ان کی پوری زندگی میں رہی بلکہ آج بھی(اس دعوت کے ساتھ) قائم ہے.

جب تک آپ کے والد بقید حیات رہے آپ ان کے مرتبہ کا پاس ولحاظ کرتے ہوئے دعوتی امور میں اتنی سرگرمی نہیں دکھائی جس طرح کی سرگرمیوں میں آپ ۱۱۵۳ھ؁ میں والد کی وفات کے بعد مصروف ہوئے. جب آپ کے والد کا انتقال ہوا اس وقت آپ کی عمر اڑتیس سال تھی، اب آپ علاقہ کے سب سے بڑے عالم کی حیثیت سے ابھر گئے اور زیادہ کھلے انداز میں اپنی دعوت کی تبلیغ شروع کردی، اور لوگوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی تاکید کرنے لگے. بدعات وخرافات پر کھلم کھلا تنقید کرنے لگے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے لگے. اطراف واکناف کے علاقوں میں آپ کی شہرت پھیلتی چلی گئی.آپ سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے طلباء حریملا کا رخ کرنے لگے. اردگرد علاقوں کے کچھ امراء بھی آپ سے متأثر ہونے لگے یا آپ کی طرف مائل ہونے لگے جن میں امیر عیینہ عثمان بن معمر بھی تھے ([29]

کئی وجوہات کے پیش نظر (غالباً ان وجوہات میں آپ کے خلاف قتل کی ایک سازش بھی تھی) شیخ محمد نے عیینہ منتقل ہوجانے کا فیصلہ کیا. ( اور وہ وجوہات یہ تھے کہ) وہاں کے امیر پہلے سے ہی آپ کی طرف مائل اور آپ کی دعوت سے متأثر تھے. امیر عثمان کی حمایت آپ کی دعوت کے لئے یقیناکافی مددگار ومعاون ہوگی اورعیینہ خود بھی حریملا کی بہ نسبت زیادہ مضبوط حیثیت کا حامل تھا ([30]

مزید یہ کہ یہ آپ کی جائے پیدائش تھی اور آپ کا خاندان وہاں کا ایک محترم ومعزز گھرانہ تھا ([31])۔اس پر متزادیہ کہ دو باہم دست وگریباں قبیلوں کے تنازعہ کی وجہ سے حریملا کی صور تِ حال انارکی کے قریب تھی چنانچہ یہ جگہ شیخ محمدؒ کی دعوت اور آپ کے مشن کے لئے یقیناًمناسب نہ تھی۔

چنانچہ جب عیینہ آپ کے دسترس میں آگیا (جب اس کے امیر نے آپ کی دعوت قبول کرلی) تو آپ کے لئے عاقلانہ اقدام یہی تھا کہ آپ وہاں منتقل ہوجائیں تاکہ آپ کی دعوت کو خوب پھلنے اور پھولنے کا موقع نصیب ہو. لہذا آپ 1155ھ؁ میں اس شہر میں اقامت پذیر ہوگئے.

عیینہ میں قیام

شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی عیینہ میں آمد پر امیر عیینہ نے آپ کا کافی گرمجوشی سے استقبال کیا. امیر سے ملاقات پر شیخ نے ان کے سامنے اپنی دعوت کے اصول ومبادئ بیان کئے اور فرمایاکہ یہی عقیدہ حاکم ورعایا دونوں کے لئے دنیا وآخرت کی کامیابی کا ضامن ہے، آپ نے مزید اس بات کی وضاحت فرمائی کہ آپ کے اور ان کے تعلقات کی بنیاد کلمہ لا إلہ إلا اللہ کی حمایت ہے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ’’مجھے امید ہے کہ جب آپ اس عقیدۂ توحید (کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں) کی حمایت میں اخلاص کے ساتھ لگ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو طاقتور بنادے گا اور نجد کے تمام علاقوں اور ان کے تمام بدؤوں پر غالب کردے گا ([32]

امیر عثمان نے آپ کے ان اصولوں کو قبول کرلیا اور صحیح اسلام کی دعوت وتبلیغ کی کھلی اجازت دے دی، دونوں کے مابین تعلقات مضبوط تر ہوتے گئے یہاں تک کہ شیخ نے امیر عثمان کی پھوپھی جوہرہ بنت عبداللہ بن معمر سے نکاح کرلیا جو علاقہ کی نہایت ہی با اثر خاتون تھیں([33]

شخصی اثرورسوخ اور مطلوبہ سیاسی تعاون کے مہیا ہوتے ہی شیخ ؒ نے اسلامی تعلیمات کو شہر عیینہ میں حقیقی طور پر نافذ کرنا شروع کردیا. آپ کے پیروکار اور حمایتیوں کی تعداد شہر عیینہ میں اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں بڑھتی چلی گئی. اس نئی حیثیت اور اقتدار کے حصول کے بعد ہر کسی کی زبان پر یہی تھا کہ اب شیخ ؒ کے لئے کوئی جواز نہیں کہ ماحول میں پھیلی ہوئی سماجی برائیوں کا آپ بذات خود خاتمہ نہ کریں. چنانچہ آپ اس کے لئے کمر بستہ ہوگئے.

اس وقت عیینہ کے لوگ اس علاقہ کے متعدد درختوں اور جھاڑیوں کو متبرک ومقدس سمجھتے تھے. قریب ہی کے ’’الجبیلہ‘‘ کے علاقہ میں ایک قبر کے بارے میں یہ اعتقاد تھا کہ یہ زید بن الخطاب ؓ ( عمر بن الخطابؓ کے بھائی) کی قبر ہے جنہوں نے اس جگہ مسیلمہ الکذاب سے جنگ کرتے ہوئے جامۂ شہادت نوش کیا تھا.لوگ ان کی قبر پر جاکر اپنی مرادوں کے لئے منتیں کرتے ، جانور ذبح کرتے اور قسمیں کھاتے تھے. تھوڑے ہی عرصہ میں شیخ ؒ نے اس سرزمین سے ان تمام شرکیہ اعمال کی جڑوں کو ختم کردیا اور یہ تمام کام آپ نے امیرعیینہ کے تعاون سے انجام دیا اور آپ پر(جاہلوں کے عقیدے کے برعکس) کوئی غضب الہی کا نزول نہ ہوا. چنانچہ جو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف لوگ تھے انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ شیخ ؒ نے جو کچھ کیا ہے وہ کوئی غلط کام نہیں ہے.

اس طرح شیخ ؒ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئے([34])، اس مرحلے میں لوگ عمومی طور پر یا تو آپ کے حامی وناصر بننے والے تھے یا پھر آپ کے مخالف ودشمن کی حیثیت اختیار کرنے والے تھے.

شیخ ؒ نے جب مشرکانہ طور طریقوں کے ازالہ سے فرصت پائی تو آپ عیینہ میں صحیح اسلامی معاشرے کے قیام کی کوششوں میں مصروف ہوگئے جس کے اندر ہر گوشۂ زندگی میں اسلامی شریعت کے قوانین کا نفاذ ہو، اور ہر مخالف قانون ورواج کو زیر کردیا جائے، اور بالخصوص باجماعت نماز کی ادائیگی مسجد میں قائم کی جائے.

اس زمانے میں ایک عورت شیخ ؒ کے پاس پہنچی اور زنا کے جرم کی مرتکب ہونے کا اعتراف کیا اور اپنی رغبت کا اظہار کیا کہ اس کو پاک کیا جائے بالکل اسی طرح جس طرح ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکراپنے جرم زنا کا اعتراف کیا اور آپ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اپنے گناہ سے پاک کردیا جائے، تو شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ نے بھی رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کی پیروی کرتے ہوئے پہلے آپ نے اس بات کی تحقیق کی کہ وہ عورت پاگل تو نہیں ہے؟ اور اس کے ساتھ زنا بالجبر والا معاملہ تو نہیں ہوا ؟اور یہ اقرار وہ اپنے پورے ہوش وحواس کے ساتھ کررہی ہے؟ اور پھر تمام لازمی ثبوت وشرائط کی تکمیل کے بعد آپ نے اس عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا اور امیر عیینہ نے اس عورت پر پہلا پتھر پھینکا. اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ اس عورت کو غسل دے کر کفنا یا جائے اور پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی. یہ سب کچھ اس خاتون کی رغبت کے مطابق تھا اورعین اسلامی قانون بھی اسی حکم کا متقاضی تھا ([35]

شیخ العثیمین فرماتے ہیں کہ اس خاتون کا یہ عمل اس بات کا مظہر ہے کہ کس پر تاثیر انداز میں شیخ محمد بن عبدالوھابؒ کی دعوت لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکی تھی. حقیقت میں اب ایک ایسا معاشرہ قائم ہو چکا تھا جو شیخ ؒ کی آمد سے قبل معاشرے سے یکسر مختلف تھا کیونکہ اس معاشرہ میں تو زنا جیسی بدکاری کو نہ جرم سمجھا جاتا تھا اور نہ گناہ. لیکن اب ایسی صورت حال ہوگئی کہ ایک عورت (اسلامی تعلیمات کے زیر اثر) اپنے گناہ پر اس بری طرح پچھتاتی ہے کہ اس سے پاک وصاف ہونے کے لئے اپنے آپ کو حد کے لئے پیش کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتی .

جیساکہ عام طور پر کسی بھی تحریکِ اصلاح وتزکیہ کے مقابلہ میں غلط کاریوں میں ڈوبے ہوئے لوگ انتہائی خوف وتشویش کا اظہار کرتے ہیں ابو حکیمہ کی کتاب سے درج ذیل اقتباس اس بات کا مظہر ہے کہ یہ واقعہ عیینہ کے باشندگان کے لئے کس قدر تشویشناک تھا:

’’شیخ محمد بن عبدالوھابؒ اور ان کے متبعین نے عیینہ میں زنا کی مرتکب ایک خاتون کو سنگسار کرنے کا حکم نافذ کیا. چنانچہ اس تحریک کے دشمنوں نے نجد کے دوسرے علاقوں تک اس خبر کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں کیں([36]) لیکن شیخ چونکہ امیر عثمان حاکم عیینہ کی حمایت میں تھے لہذا دیگر پڑوسی شہروں کے کمزور حکام نے قبیلہ بنو خالد کے امیر کی طرف رجوع کیا. بنو خالد کا امیر اتنا با اثر تھا کہ وہ امیرعیینہ سے وہ سب کچھ کروا سکتا تھا جو یہ کمزور حکام چاہ رہے تھے، چنانچہ بنوخالد کے حاکم امیر سلیمان کے اقتدار کے آگے امیر عیینہ عثمان بن عمر نے گھٹنے ٹیک دیئے اور اس کے احکامات کی فوری تعمیل کی ([37])‘‘۔

بنو خالد ’’الاحساء‘‘ علاقے کے حاکم تھے جب کبھی خطۂ نجد قحط سالی سے دوچار ہوتا تو یہاں کے بدو لوگ مشرقی علاقہ الأحساء کی جانب کوچ کرتے اوروہاں کے باشندوں کی میزبانی سے مستفید ہوتے تھے.اس طرح ان دونوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ استوار ہوچکا تھا. اس کے علاوہ مالیاتی اعتبار سے بھی ان کے مابین مضبوط رابطہ تھا. ابو حکیمہ اس مضبوط تعلق کے بارے میں لکھتے ہیں جو اصل خطرہ کا متحمل بننے والا تھا.

’’نجد کے بہت سارے لوگ الاحساء کے علاقے کے زرخیز کھیتوں کے مالک تھے، اس چیز نے اس علاقے کے حاکموں کے لئے بہت سی پیچیدگیاں پیدا کردی تھیں. مثال کے طور پر امیر عیینہ عثمان بن معمر الاحساء کے علاقے ا لاَ رِد میں کھجوروں کے ایک باغ کا مالک تھا جس کی سالانہ آمدنی ساٹھ ہزار طلائی ریال تھی جب اس نے شیخ محمد کو پناہ دی تو سلیمان بن محمد الحمید بنو خالد کے حاکم نے دھمکی دی کہ شیخ محمد کو اپنی پناہ میں رکھنے کی صورت میں اس خطیر منافع سے محروم ہوجائے گا اس دھمکی کے نتیجہ میں شیخ ؒ محمد کو شہر بدر کردیا گیا ([38])‘‘۔

ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ بنو خالد کے حاکم کو ناراض کرنے سے اور بڑا خطرہ یہ رونما ہوا کہ انہوں نے نجد کے شہروں پر حملہ کردیا اور بہت سا مال لوٹ کر اپنے وطن الاحساء کو لے گئے([39]

ایک اور بات یہ تھی کہ عیینہ کی کچھ تجارت الاحساء کی بندرگاہ کے ذریعہ ہوا کرتی تھی([40]

اس نئے اخلاقی رجحان کی خطرناکی اور حاکم قبیلۂ خالد امیر سلیمان کے سامنے جو شکایتیں کی گئیں ان کے پیش نظر اس نے امیر عثمان کو حکم دیا کہ وہ شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ کو قتل کردے یا ان کو اپنے حدود سے باہر نکال دے([41]) امیرعثمان اس کی اس بات کو مان گیا ،شیخ محمد نے عثمان کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ صبر اور تحمل سے کام لے اور ایمان پر ثابت قدم رہے تو اللہ اس کی مدد فرمائے گا. چنانچہ آپ نے اس سے فرمایا:

’’جس دعوت کا آغاز میں نے کیا ہے اور جس کی طرف میں لوگوں کو بلارہا ہوں وہ کلمۂ لا إلہ إلا اللہ (اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں)، اسلام کے ارکان ، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے. اگر تم اس کو لازم پکڑ لو اور اس کے حامی وناصر بن جاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں پر تمہیں غالب فرمادے گا. تم سلیمان کی دھمکیوں سے خوفزدہ یا غم زدہ نہ ہو جاؤ. مجھے امید ہے کہ اللہ تمہیں ایسا غالب کرے گا کہ تم کو اس کے علاقہ کا اور اس کے آگے اور پیچھے کے علاقوں کا بھی حاکم بنادے گا ([42])‘‘۔

امیر عثمان شرمندہ تو تھا مگر اس کے بدکردار درباریوں نے اس کو یہی مشورہ دیا کہ وہ الاحساء کے حاکم کے مطالبے کو تسلیم کرلے. بالآخرسبب (اپنی دولت میں کمی کا خدشہ، بزدلی، قبیلۂ خالد کے حملے کے نتیجہ میں اپنی رعایا اور ملک کو نقصان ہونے کا اندیشہ ) کچھ بھی ہو امیر عثمان نے شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ سے کہا کہ وہ آپ کو مزید تحفظ فراہم نہیں کر سکتا تاہم یہ عربوں کی روایات کے خلاف تھاکہ اپنے تحفظ میں رکھتے ہوئے آپ کو وہ قتل کروادیتا . لہذا اس نے آپ کو شہر چھوڑ دینے کا حکم دیا چنانچہ شیخ نے1157ھ؁ میں درعیہ کو ہجرت کی جس کے نتیجہ میں امیر درعیہ کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ طے پا یا گیا جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جارہے ہیں.

اگر چہ درعیہ میں شیخ کا سکونت پذیر ہونا دراصل آپ کے عیینہ سے شہر بدر کردینے کا نتیجہ تھا مگر حقیقت میں یہ آپ کے لئے ناکامی ثابت نہ ہوئی بلکہ آپ کے مساعی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا چنانچہ جب آپ شہر چھوڑنے لگے تو امیر عثمان نے آپ کے ساتھ متعدد گھوڑسواروں پرمشتمل ایک محافظ دستہ روانہ کیا تاکہ نئی قیام گاہ تک پہنچنے میں آپ کی وہ حفاظت کرے([43]

مزید جیسا کہ ابن غنام نے ذکر کیا کہ امیر عثمان کے علاقے میں اب کوئی صنم باقی نہ رہا اور حقیقی اسلام تمام لوگوں پر واضح ہو چکا تھا جس کو انہوں نے قبول کرلیا ([44]

ہجرت درعیہ

عیینہ سے شیخ ؒ کو شہر بدر کرنے کے بعد آپ کے لئے منطقی طور پرمناسب جگہ درعیہ ہی تھی جہاں آپ منتقل ہو سکتے تھے. گر چہ یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا جس کی آبادی بمشکل ایک ہزار نفوس پر مشتمل تھی اور تقریباً پچہتر خاندان اس میں آباد تھے مگر یہ ایک مستحکم ریاست تھی جس کے امیر محمد بن سعود تھے. شیخ کی اس شہر میں آمد سے بیس سال پہلے سے وہ یہاں کے امیر تھے اور آپ کی کافی اچھی شہرت تھی. شہر درعیہ قبیلۂ خالد کے زیر اثر بھی نہ تھا بلکہ حقیقت میں ان دونوں کے درمیان چپقلش جاری تھی جس کی بنا پر 1133ھ؁ میں ان دونوں کے درمیان ایک جنگ بھی ہو چکی تھی. چنانچہ قبیلۂ خالد کے لوگ جس کسی کو بھی ڈراتے دھمکاتے اس کی مدد کے لئے درعیہ کے لوگ فوراً پہنچ جاتے ([45]

شیخ کے درعیہ منتقل ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہاں کے بہت سے معزز حضرات نے شیخ کی دعوت کو قبول کرلیا تھا؛ جن میں خاندان سویلم بھی تھا اور خاندان سعود کے بھی کچھ افرا د شیخ کے پیغام کی طرف راغب ہو چکے تھے جن میں خود امیر کے دو بھائی ثنیان اور مشاری اور امیر کے فرزند عبدالعزیز بھی شامل تھے([46]

اس بات کے بھی شواہد پائے جاتے ہیں کہ شیخ ؒ امیر درعیہ محمد بن سعود کی دعوت پر ہی درعیہ منتقل ہو ئے ([47]امیر محمد بن سعود نے شیخ کا پر جوش استقبال کیا اور آپ کی حمایت وحفاظت کا وعدہ کیا اور کہا: ’’آپ کے علاقہ سے بہتر علاقے کی خوشخبری آپ کو پیش کرتا ہوں اور عزت وتمکین کی مسرت کن خبر آپ کو سنارہا ہوں ‘‘۔

 شیخ نے جواباً عرض کیا: ’’میں بھی آپ کو عزت وفضیلت کی بشارت دیتا ہوں او ریہ نوید سناتا ہوں کہ آپ کی حکومت مضبوطی سے قائم رہے گی کیونکہ جو بھی کلمۂ لا إلہ إلا اللہ پر ثابت قدمی کے ساتھ عمل پیرا ہوجاتا ہے اور اس کی حمایت میں لگ جاتا ہے وہ زمین اور اہل زمین دونوں پر اقتدار پاتا ہے‘‘.اس ملاقات میں شیخ ؒ نے امیر کو اپنی دعوت کے اصولوں کی وضاحت فرمائی اور بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کن اصولوں پر کار بند تھے، چنانچہ آپ نے فرمایا:’’مشرکانہ کام ہدایت کا مخالف ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد ہی کے ذریعہ عزت عطا فرمائی ہے اور نجد کے لوگ اس وقت جن کاموں میں ملوث ہیں وہ شرک، گمراہ کن رسم ورواج، ظلم وزیادتی اور بدکاریوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے ‘‘۔

دونوں (شیخ اور امیر) نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ دونوں ان نیک اصولوں کی تبلیغ کریں گے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دین کی بنیادوں پر باہم ایک عہد میں داخل ہوگئے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور اسلام کے اصولوں کو نافذ کریں گے اور نیک کاموں کا حکم دیں گے اور برائیوں کو مٹائیں گے([48]

ساتھ ہی امیر ابن سعود نے شیخ ؒ سے اس بات کی درخواست کی کہ فصلوں کی کٹائی پر جو ٹیکس کسانوں سے اصول کیا جاتاہے اس پر وہ اعتراض نہ کریں مگر شیخ ؒ نے اس معاملہ میں امیر سے اتفاق نہ کیا بلکہ یہ فرمایا :’’اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے بھی اچھا مال عطا فرمائے گا جس کے ذریعہ آپ کو اس ٹیکس سے بے نیازی ہوجائے گی([49]) ‘‘۔

شیخ عثیمین کے مطابق شیخ محمد بن عبدالوھابؒ نے اس طرح ایک غیر حتمی جواب دیا جس میں انہوں نے صرف یہ کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اللہ مال غنیمت سے نوازے گا جو ان کی حاجتوں کے لئے کافی ہو جائے گا.

شیخ عثیمین آخر میں فرماتے ہیں کہ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ دوسری شرط مبنی بر صحت تھی تو گویا شیخ محمد نے اپنے پیغام کے عمومی مفاد کو ایک مخصوص مسئلے کے خلاف ترجیح دی اور انہیں اس بات کا یقین تھا کہ وہ اس مسئلہ کو مستقبل میں بہ آسانی حل کردیں گے([50]

دوسری جانب عطار نے مذکورہ دوسری شرط کو ایک اور طرح سے سمجھا ہے وہ اس واقعہ کو مندرجہ ذیل انداز میں نقل کرتے ہیں:’’شیخ نے امیر کی پیش کردہ دونوں شرائط کو درخوء اعتناء نہ سمجھا.وہ تو اسی چیز کو حلال سمجھتے تھے جس کو اللہ نے حلال ٹھہرایا اور ہر اس چیز کو حرام ٹھہراتے تھے جس کو اللہ نے حرام قرار دیا.

آپ کا مقام اور امیر کی رضامندی کے حصول کی ضرورت آپ کو اس بات سے باز نہ رکھ سکتی تھی کہ آپ کی نظر میں جو بات صحیح نہ ہواس کے صحیح نہ ہونے کا آپ اعلان نہ کریں. لہذا آپ نے پہلی شرط سے اتفاق کیا، لیکن دوسری شرط کو مسترد کردیا. سادہ الفاظ میں آپ نے جواب دیا.’’جہاں تک پہلی شرط کا تعلق ہے تو آپ اپنا ہاتھ بڑھایئے، ہم تنگدستی اور آسودگی ہر دوحالت میں ساتھ ساتھ ہیں (خون کا بدلہ خون اور بربادی کا بدلہ بربادی)اور دوسری شرط کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ وہ آپ کو فتوحات سے سرفراز فرمائے جن کا مال غنیمت آپ کے اس ٹیکس کی کمی پوری کردے۔‘‘

 شیخ الاسلام محمد بن عبدالوھاب کا یہ اسلوب اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ آپ قرآن وسنت کے مطابق عمل کرنے میں کس قدر سنجیدہ تھے([51]

اب شیخ ؒ کو اپنی دعوت کا پیغام پھیلانے کی پوری آزادی تھی. آپ نے مسجد میں اپنی تعلیمات بیان کرنے پر اور طلباء سے خطاب کرنے پر زور دینا شروع کیا. بہت سارے لوگ اسلام کے بنیادی اصولوں سے متعلق آپ کی وضاحتوں سے مستفید ہوئے، بدقسمتی سے (اس وقت کے مسلمان) ان بنیادی ارکان کی معرفت سے نا آشناتھے (اور آج کے دور میں بھی بہت سارے مسلمان ان بنیادی باتوں سے ناواقف ہیں).

درعیہ کے مقامی باشندوں کے علاوہ کثیر تعداد میں طلباء، آپ کے مؤیدین او رجن تک بھی آپ کی دعوت پہنچی ان میں سے بہت سارے لوگ جوق در جوق درعیہ کا رخ کرنے لگے. ان میں سے کچھ حکمران خاندانوں سے بھی تعلق رکھنے والے تھے اور کچھ دیگر ایسے بھی تھے جو غربت کی وجہ سے رات کو محنت مزدوری کرتے اور دن کے اوقات میں شیخ کے خطابات ودروس میں شریک ہوتے تھے ([52]

شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ نے جب ملاحظہ کیا کہ یہ لوگ کس طرح کی صعوبتوں کا سامنا کررہے ہیں تو آپ ان غریب طلبہ کی حاجت روائی کے لئے مالداروں سے رقم ادھار لینے لگے.

یہ طلباء جو اسلام کے سچے شیدائی تھے ان کی رفاقت میں شیخ ؒ محمد بن عبدالوھاب نے ایک نئی اسلامی ریاست اور سوسائٹی کی تشکیل دی .اس خطۂ زمین کا قانون اسلامی قانون بن گیا. لوگ اب قرآن وسنت کا احترام کرنے لگے، نمازیں قائم کرنے لگے، زکاۃ ادا کرنے لگے اور اسی طرح کے دوسرے دینی امور انجام دینے لگے ،شیخ کے لئے یہ بات شرح صدر کردی گئی کہ ایسا معاشرہ قائم کرنا آپ کی ذمہ داری کا ایک حصہ ہے. یہ ایک ایسا معاشرہ تھا جس میں لوگ آپ کی باتوں کو غور سے سنتے اور آپ کے احکامات کی تعمیل کرتے تھے اور جب آپ پر یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ ایسی شخصیت بن چکے ہیں جس کی ہدایات لوگ تسلیم کرتے ہیں تو آپ نے اپنے خطوط میں ہدایات لکھ بھیجی . آپ نے لکھا: ’’جو میری ما تحتی میں ہیں ان کے لئے لازمی ہے کہ وہ نماز قائم کریں، زکاۃ کی ادائیگی کریں اوردیگر فرائض انجام دیں جو صرف اللہ کی رضامندی کے لئے ہوں. اور میں ان کو سود لینے سے، شراب پینے سے اور دیگر حرام کاریوں سے منع کرتا ہوں([53])‘‘۔

درعیہ میں ابتدائی دوسالوں میں شیخ نے درس وتدریس وخطبات کے علاوہ دیگر علماء وحکام وامراء کو بذریعہ خطوط دعوت دینے کا سلسلہ تیز تر کیا اور اپنی اس نئی ریاست میں آنے کی انہیں دعوت دی نتیجۃً آپ کے کچھ خطوط بار آور ثابت ہوئے.

حریملا اور منفوحہ (جنوبی ریاض) درعیہ میں شامل ہونے کے لئے بالکل تیا ر تھے، تاہم دوسری ریاستوں نے آپ کی دعوت مسترد کردی. اس موقعہ پر لوگ آپ کو جادوگر، بدعتی، جھوٹا اور اسی طرح کے دوسرے الزامات آپ پر چسپاں کرنے لگے بالکل اسی طرح جس طرح لوگوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معاملہ کیا ([54]) ۔

دعوت کا نیا مرحلہ: جہاد

۱۱۵۹ء؁ میں دعوت کے کام نے ایک نئی کروٹ لی، نجد کے لوگوں کوان کے مشرکانہ طور طریقے اور آبائی رسم ورواج کو چھوڑنے کے لئے پر امن ذرائع سے سمجھانے اور قانع کرنے کی کوششوں کے بعد اب طاقت کے استعمال کا وقت آچکا تھا.

ابن غنام نے اس یادگار انقلابی فضا کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے:’’ابن عبدالوھاب اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کوواضح دلائل اور خوبصورت تنبیہات کے ذریعے بلاتے رہے. ابتدامیں نہ انہوں نے کسی کو کافر کہا اور نہ کسی کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام کیا کیونکہ وہ اپنے اس کام کو نیک عمل سمجھ کر انجام دے رہے تھے. اور اللہ تعالیٰ سے پر امید تھے کہ وہ ان گمراہ لوگوں کو ہدایت سے نوازے گا، آپ کا یہ دعوتی عمل جاری رہا یہاں تک کہ کچھ لوگ آپ کے خلاف دشمن بن گئے اور تمام علاقوں میں آپ اور آپ کے رفقاء کو کافر کے لقب سے مشہور کیا اور آپ کے خون کو حلال قراردیا. چونکہ وہ اپنے باطل الزامات اللہ کی کتاب یا رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے ثابت نہیں کرسکتے تھے لہذا وہ آپ پر جھوٹے الزامات لگانے اور آپ کی عزت کو اچھالنے کے سلسلے میں غیر سنجیدہ ہوگئے اور ان کو اس کی کوئی پرواہ نہ تھی کہ آپ کو اور آپ کے رفقاء کو سزادلانے اور آپ کا سماجی بائیکاٹ کروانے سے کس قدر سنگین نتائج مرتب ہوں گے جبکہ اس کے برعکس شیخ محمد بن عبدالوھاب نے ان کے خون کو حلال جانا اور نہ ان سے جنگ کرنے کی آپ نے اجازت دی تاوقتیکہ خود ان ہدایت سے محروم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ شیخ اور آپ کے رفقاء سے جنگ کی جائے کیونکہ وہ کافر ہیں، ایسی صورت حال میں شیخ نے اپنے گروہ کو جہاد کرنے کا حکم دیا اور ان کو اس کے لئے ترغیب دلائی اور آپ کے رفقاء نے آپ کے حکم کی تعمیل کی([55]) ‘‘۔

اس وقت شیخ کے متبعین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہورہاتھا (جن میں کئی افراد درعیہ کو ہجرت کرنے کی حالت میں نہیں تھے) اور ساتھ ہی ساتھ ایمان والوں کی اس جماعت کے اکھٹے ہونے سے پورے علاقے میں ایک خوف کی لہر دوڑ گئی. شیخ کے معتقدین نے اسلام کے حقیقی پیغام کو عام کرنے کا نصب العین بنا لیا تھا. چنانچہ درعیہ کے مسلمان جہاد کے لئے بالکل تیار تھے. ان میں مقامی باشندے بھی تھے اور دیگر مہاجرین بھی . ان کے درمیان ایمان وعقیدہ کا مضبوط رشتہ تھا جوقبائلی، شہری، ریاستی، خاندانی ہر رشتہ سے بالا تر تھا.

سر زمین نجد اپنے قبائل کے مابین جنگوں اور لڑائیوں سے پہلے سے ہی مانوس تھی. قریہ اور شہر کے باشندوں کے درمیان جھگڑے اور چپقلشیں جاری رہا کرتی تھیں (ان کے خیال میں) دراصل یہی ایک طریقہ تھا جس کے ذریعہ کسی قبیلہ کا اقتدار مضبوط اور وسیع کیا جا سکتا تھا. تاہم دور ماضی میں یہ مہمات صرف دنیوی مقاصد کے تحت ہوا کرتی تھیں، اسلام کے نام پر جہاد سے یہ لوگ نا آشنا تھے جس سے اسلامی ریاست وسیع ہوجائے اور مزید لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں.

اس نئی ریاست کا بھی طریقۂ کار کم وبیش وہی تھا جس سے سرزمینِ نجد پہلے سے ہی مانوس تھی مگر جنگوں کا مقصود بالکل جدا گانہ تھا.

 اس پس منظر کی وضاحت کرتے ہوئے شیخ محمد بن عبدالوہاب نے ان لوگوں کو خطوط ارسال فرمائے جو جنگوں میں تو پہلے شریک ہوا کرتے تھے مگر اب جہاد میں حصہ لینے سے پیچھے ہٹ رہے تھے. آپ نے لکھا: ہائے اللہ! یہ کیسی عجیب سی بات ہے! تم لوگ ابراہیم بن سلیمان (سرمدہ کے امیر) کے خلاف جنگ کرتے تھے صرف اس بناء پر کہ اس نے تمہارے ہمسایہ کے بارے میں ایک لفظ کہہ دیا یا ایک گدھا تم سے چھین لیا جس کی قیمت بیس سکوں سے زیادہ نہ ہوتی. اس طرح کی باتوں کے لئے تم اپنی زندگی اور مال قربان کردیتے تھے اور آج جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں انبیاء کرام کا دین عطا فرمایا جو جنت میں داخلہ اور جہنم سے آزادی کی قیمت ہے تو تم بزدلی کا مظاہرہ کررہے ہو؟!! ([56]

مزید برآں یہ ریاست سچے معنوں میں ایک عالم اور مصلح کی زیر قیادت تھی، اگرچہ امیر محمد بن سعود اور ان کے بعد عبدالعزیز بن محمد رسمی طور پر سیاسی حکام تھے مگر شیخ کا ریاستی امور پر خاصہ اثر تھا. عمومی طور پر متعدد اہم امور آخری اور حتمی فیصلہ کے لئے آپ کے رو برو پیش کئے جاتے تھے. ابن غنام اور ابن بشر کے بیان کے مطابق ان امور میں زکاۃ، مالیات، امن کے معاہدات، تشکیل افواج وغیرہ ہوا کرتے تھے ([57]

شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کے دور سے قریب ترین مؤرخ ابن غنام لکھتے ہیں :

شیخ محمد کے حامیوں اور آپ کے مخالفین کے مابین پہلا معرکہ اس وقت پیش آیا جب دھام بن دواس، ریاض کے سردار نے منفوحہ (جنوبی ریاض) کے علاقہ پر حملہ کردیا، چونکہ منفوحہ اور درعیہ کے مابین فوجی معاہدہ تھا جس کی وجہ سے درعیہ کے پاس اپنے حلیف کی مدد کے لئے آگے بڑھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، چنانچہ یہ پہلا معرکہ صرف مدافعانہ تھا جو دعوت کے حامیوں کی مدد ونصرت کے لئے تھا.

خود شیخ اپنے ایک خط میں رقم طراز ہیں جو آپ نے عبدالرحمن السویدی کو لکھ بھیجا: ’’جہاں تک لڑائی کا تعلق ہے ہم نے آج تک اپنی زندگی اور عزت نفس کی مدافعت میں کسی سے لڑائی نہیں کی([58]

۱۱۶۵ھ؁ میں شہر حریملا میں شیخ محمد بن عبدالوھاب کے خلاف ایک شورش بپا ہوئی جس کی پشت پناہی خود شیخ کے بھائی سلیمان بن عبدالوہاب نے کی جو وہاں کا قاضی تھا. اس نے اہل درعیہ کو بھی بغاوت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی. اس نے ایک کتاب لکھی جس میں شیخ کی تعلیمات او ر دعوت پراعتراضات کئے. بالخصوص مسلمان کو کافر قرار دینے اور جنگی امور سے متعلق مسائل کا اس میں تذکرہ کیا تھا، اوراہل درعیہ تک اس کتاب کو اس نے پہنچایا . شیخ تک جب یہ کتاب پہنچی تو آپ نے فوراً ہی اس کاجواب لکھا ([59]) امیر عبدالعزیز بن محمد نے حریملا کی شورش کو دبانے کے لئے آٹھ سو افراد پر مشتمل ایک فوجی دستہ کی قیادت کی جس کے نتیجہ میں سلیمان ’’سدیر‘‘ کی طرف نکل بھاگا ([60]

اسی طرح کی شورشیں چھوٹے پیمانے پر ’’منفوحہ‘‘ اور ’’ضرما‘‘ میں بھی اٹھیں لیکن ان دونوں کو دبا دیا گیا.

یہ کہا جا سکتا ہے کہ نجد میں تمام کوششیں ۔ باطل دلائل اور طاقت کا استعمال ۔ ان مسلمانوں کے گروہ کی بڑھتی ہوئی طاقت روکنے میں ناکام ثابت ہوئیں.

 خارجی دشمن

تقریباً تیرہ سال تک درعیہ نے جن مخالفوں کا سامنا کیا وہ سب کی سب اندرونِ نجد ہی کی مخالفتیں تھیں لیکن نجد کے باہر کے دو بڑے دشمن بھی تھے جن کی دشمنیاں افق پر منڈلارہی تھیں. ان میں سے ایک الأحساء کا قبیلۂ خالد اور دوسرا مکہ کا شریف. ان دونوں ہی کو اس نئی دعوت اور نئی ریاست سے بیر تھا، اور یہ دونوں ہی نجد میں دلچسپی رکھتے تھے، یہ اور بات ہے کہ قبیلہ خالد زیادہ قریب اور طاقتور دشمن تھا.

شروع ہی سے قبیلۂ خالد نے اس دعوت کے خلاف دشمنی کا مظاہرہ کیا مگر جب سلیمان (قبیلۂ خالد کا سردار جو عیینہ سے شیخ کے نکالے جانے کا اصل سبب تھا) کو ۱۱۶۶ھ؁ مطابق ۱۷۵۲ ؁ء میں الأحساء سے ملک بدر کردیا گیا تو عریعر بن دجین نے اقتدار سنبھالا اور درعیہ کے خلاف پہلی کاروائی کی . اس کا اقتدار بیس سال رہا اور اس پوری مدت کے دوران وہ نجد کی اس ریاست کا دشمن بنارہا.

درعیہ کے لوگوں کو جب یہ خبر ملی کہ عریعرحملہ کی تیاریاں کررہا ہے تو شیخ اور آپ کے رفقاء نے درعیہ اور دیگر شہروں کا حصار مضبوط کرنا شروع کردیا، ۱۱۷۲ھ؁ مطابق ۱۷۵۸ ؁ء میں قبیلۂ خالد کے پہلے دستہ نے کچھ نجد ی قبائل کی مدد سے حملہ کیا. شیخ اور آپ کے رفقاء کے ہاتھوں اس دستے نے الجبیلہ کے مقام پر شکست کھائی جو عیینہ سے مشرقی جانب ساڑھے چھ کیلو میٹرکے فاصلے پر ہے چنانچہ یہ طاقتور لشکر واپس ہونے پر مجبور کردیا گیا. اس سے شیخ کی جماعت کا حوصلہ یقیناًبڑھا ہوگا کیونکہ انہوں نے علاقے کی ایک طاقتور فوج کو شکست سے دوچار کیا.

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے قبائل درعیہ کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے لئے آگے بڑھے اور درعیہ کی اس نئی مرکزی حکومت کی اطاعت قبول کرلی. اس صورتحال سے ان لوگوں کے حوصلے اتنے بلند ہوئے کہ ۱۱۷۶ھ؁ میں خود ہی آگے بڑھ کرالأحساء پر انہوں نے چڑھائی کردی اگرچہ یہ ایک معمولی سا حملہ تھا مگر اس کا مقصد محض اپنی خود اعتمادی اور طاقت کا مظاہرہ تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا ایک طاقتور دشمن دھام بن دواس خود ہی ان سے معاہدہ کرنے کے لئے درعیہ آ پہنچا ([61]

۱۱۷۸ھ؁ مطابق ۱۷۶۴ ؁ء میں ایک غیر متوقع مخالف اس نئی ریاست پر حملہ آور ہوا . جنوبی علاقہ نجران کا شیعی حاکم حسن بن ہبت اللہ المکرمی (غالباًعجمان کے بدؤوں کی درخواست پر جوشیخ اور آپ کے رفقاء سے خطرہ محسوس کرتے تھے) حملہ آور ہوا اور شیخ کی افواج کو درعیہ کے قریب شکست دی. اس معرکہ میں شیخ کے پانچ سو رفقاء مارے گئے اور دو سو قیدی بنالئے گئے. یہ معرکہ شیخ کے جمتے ہوئے قدموں پر کاری وار ثابت ہوا. آخر کار فریقین کے مابین مصالحت پر معاملہ اختتام پذیر ہوا، اس مصالحت میں شیخ نے خاصی سیاسی دانشمندی کا مظاھرہ کیا. کچھ زر تعاون کی ادائیگی اور قیدیوں کے باہمی متبادلہ پر یہ مصالحت طے ہوئی ([62]

’’لمع الشہاب‘‘ نامی کتا ب کے ایک غیر معروف مصنف کے مطابق حاکم نجران المکرمی کے ساتھ حاکم الاحساء عریعر ایک معاہدہ کرنا چاہتا تھا جس کا مقصود درعیہ کو شکست فاش دینا تھا لیکن المکرمی درعیہ سے کئے گئے صلح نامہ پر قائم رہا، اس طرح عریعر کی افواج کو اس نے میدان جنگ میں تنہا ہی چھوڑ دیا جس کا نتیجہ یہ رہا کہ قبیلۂ خالد کے افواج کو ایک بار پھر شکست سے دوچار ہونا پڑا ([63]) ۔

ابو حکیمہ رقمطراز ہیں: اگرچہ عریعر عیینہ پر قابض ہونے میں ناکام رہامگر اس لڑائی سے ’’وہابیوں‘‘ کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ بنی خالد کو جب بھی موقع مل جائے وہ ان کی بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے. اس طرح یہ بات بھی ان پر منکشف ہوگئی کہ بنی خالد کی جانب سے پیش کردہ کوئی بھی معاہدۂ امن قابل اعتماد نہیں ([64]) ۔

عریعر نے جب دیکھا کہ دھام درعیہ پر حملہ کررہا ہے تو وہ اپنے معاہدہ کی خلاف ورزی پر اُتر گیا. مزید برآں اس جنگ میں دھام (جس نے غالبًا درعیہ سے معاہدہ امن کر رکھا تھا) نے عریعر کی افواج کا ساتھ دیا، آخر کاروہ پھر سے درعیہ کے حکام سے معاہدہ امن کی درخواست کرنے پر مجبور کردیا گیا ([65]

۱۱۷۹ھ ؁ مطابق ۱۷۶۵ء ؁ میں امیر محمد بن سعود کا انتقال ہوگیا ([66]) انہوں نے ۳۰؍سال سے زیادہ اپنے عوام کی قیادت کی، (مینگن کے مطابق) اس وقت درعیہ کے لوگوں نے امیر محمد بن سعود کے فرزند عبدالعزیز کو اپنانیا امیر منتخب کرلیا ([67]) ۔

نئی ریاست درعیہ امیر عبدالعزیز کی قیادت میں وسعت پاتی رہی. ۱۱۸۳ھ ؁ مطابق ۱۷۶۹ء ؁ میں شمالی علاقہ کے صوبۂ القصیم کے لوگوں نے شیخ محمد بن عبدالوہاب کے ہاتھوں بیعت کی اور ایک طویل مدت تک آپ کے شدید ترین حمایتی بن کر رہے.

۱۱۸۷ھ؁ مطابق ۱۷۷۳ ؁ء میں دھام بن دواس پر یہ حقیقت آشکارا ہوگئی کہ وہ درعیہ کے لشکر کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا، چنانچہ اس نے ریاض سے راہِ فرار اختیار کرلی اور امیر عبدالعزیز بن محمد بن سعود شہر ریاض میں بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہوگئے ([68]) ۔

بلا شبہ یہ ایک اہم ترین اور بڑی فتح تھی . نجد کا سب سے بڑا دشمن ہزیمت سے دوچار ہوچکا تھا، علاوہ ازیں اس کا مطلب یہ تھا کہ نجد کے دور دراز علاقوں میں اب فوجیں بغیر کسی مزاحمت کے بھیجی جاسکتی تھیں، مزید یہ کہ کافی مال غنیمت بھی ہاتھ آیا، ابن بشر کے بیان کے مطابق یہ کافی رقم تھی جس سے شیخ نے اپنے تمام قرضے چکادیئے جو انہوں نے غریب طلباء اور دیگرمتعاونین کے اخراجات کی خاطر لئے تھے ([69]

اس وقت ریاست کی حالت مضبوط ہوچکی تھی اور معاملات درست ہوچکے تھے، چنانچہ شیخ ؒ نے ریاست کے امور امیر عبدالعزیز کے حوالے کردیئے اور خود کو عبادتِ الٰہی اور درس وتدریس میں مشغول کرلیا، تاہم امیر عبدالعزیز شیخ ؒ سے ہمیشہ مشورے طلب کرتے تھے اور اپنے فیصلوں پر آپ کی موافقت کے خواہاں رہتے تھے ([70]) ۔

شیخ ؒ کے معتقدین کی بڑھتی ہوئی قوت جب ظاہر ہونے لگی تو متعدد شہروں کے باشندوں پر یہ حقیقت منکشف ہوگئی کہ نئی ریاست کے ساتھ اتفاق کرنے ہی میں ان کا مفاد ہے ، چنانچہ درعیہ میں وفود در وفود پہنچنے لگے جو شیخ ؒ اور امیر عبدالعزیز سے بیعت وفاداری کرنے کے لئے خواہاں تھے ، یہ وفود حرمہ، المجمعہ، اور الحریق سے تھے ([71]

۱۱۹۰ھ؁ مطابق ۱۷۸۶ ؁ء میں جنوبی علاقہ(جوافلاج اور وادی دواسر پرمشتمل تھا) درعیہ کے زیراقتدار آگیا، تاہم وہابی مخالف شورشیں وادی دواسرمیں ایک عرصہ دراز تک جاری رہیں ([72]

تیرہویں صدی ہجری کے آغاز میں نجد ایک متحد طاقتور ریاست کی حیثیت سے اُبھر چکی تھی گرچہ قبیلۂ خالد سے داخلی اختلافات تھے، مگر اس کے باوجود اس علاقہ کی غالباً یہ سب سے بڑی طاقت تھی.اب یہ وقت آچکا تھا کہ صرف دفاعی پوزیشن اختیار کئے رہنے کے بجائے اپنے پیغام کو دور دراز علاقوں تک پہنچایا جائے، اس کا مطلب یہ تھا کہ حکام الأحساء کے ساتھ مزید ایک بار پھر ٹکر لی جائے. آخر کار شیخ ؒ کی وفات تک تقریبا پورا الأحساء اس نئی ریاست کے زیر اقتدار آچکا.

جزیرہ نما عرب کا دوسرا اہم خطرہ مکہ کے ’’شریف‘‘ کا تھا جو حجاز کا حاکم تھا.

 ترک مؤرخ سلیمان عزی لکھتا ہے کہ ۱۱۶۳ھ؁ میں شریف مکہ نے سلطنت عثمانیہ کو نجد کے علاقہ میں شیخ ؒ کے ظہور پذیر ہونے کی اطلاع دی، سلطنت عثمانیہ نے مکہ کے علماء سے اس سلسلہ میں مشورہ لیا،ان علماء نے آخر کار یہ مشورہ دیا کہ شیخ ؒ محمد بن عبدالوہاب کو اپنے افکار تبدیل کرنے پر آمادہ کیاجائے اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کو قتل کردیا جائے، چنانچہ اس مشورہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے شریف مکہ نے شیخ ؒ کو ایک مکتوب ارسال کیا جس کا جواب دینے میں شیخ ؒ نے تاخیر کی .شریف مکہ نے (ناراضگی کے اظہار کے طور پر) شیخ ؒ کے۶۰ معتقدین کو گرفتارکرلیا جو فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے وہاں پہنچے ہوئے تھے اور ان کو سزا دینے کے بعد مکہ سے باہر نکال دیا ([73]

علامہ العثیمین ؒ فرماتے ہیں کہ العزّی کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شریف مکہ کو شیخ ؒ کے بارے میں جواطلاعات ملی تھیں وہ تمام ترافواہوں پر مبنی تھیں جس کی تائید خود دحلان کے بیان سے بھی ہوتی ہے، ابن غنام نے بھی بیان کیا ہے کہ اس وقت شیخ ؒ کے نجدی مخالفین حجاز میں آپ کے خلاف غلط پروپیگنڈاپھیلانے میں سرگرم تھے ([74])، لہذا شیخ ؒ کے متعلق جو ابتدائی خبریں حجاز میں پہنچی تھیں وہ سب غلط بیانی پر مبنی تھیں ([75]

۱۱۸۵ھ؁ میں شریف احمد نے درعیہ کے قائد ین سے درخواست کی کہ وہ اپنے کسی عالم کو بھیجیں تاکہ ان کے سامنے وہ اپنی دعوت کی حقیقت واضح کرے چنانچہ انہوں نے شیخ عبدالعزیزالحسین کو ان کے پاس بھیجا جو شیخ ؒ کی جانب سے ایک مکتوب بھی ساتھ لے کرچلے تھے، شیخ عبدالعزیز نے شیخ ؒ کے پیغام کو مکہ کے علماء کے سامنے کھول کر بیان کیا، انہوں نے شریف احمد کے روبرو علماءِ مکہ کے ساتھ مناظرہ بھی کیا اور اپنے ساتھ لائی ہوئی فقہ حنبلی کی کتاب(الاقناع) بھی پیش کی اور ثابت کیا کہ شیخ ؒ کی دعوت حنبلی مکتبۂ فکر کے عین مطابق ہے. شیخ عبدالعزیز ایک مسلم کو کافر قرار دینے کے مسائل، قبروں پر مزارات بنانے اور مُردوں سے دعائیں مانگنے کے مسائل پر ان علماء سے بحث کی. اور مذکورہ مسائل سے متعلقہ تمام دلائل پیش کئے، آخر کار علماءِ مکہ کے نزدیک لائق عزت واحترام قرار دیئے گئے ، کیونکہ وہ آپ کے کسی دعوے کی مخالفت نہ کرسکے. چنانچہ شیخ عبدالعزیز وہاں سے واپس ہوگئے ([76]) ۔

۱۱۸۶ھ؁ میں شریف احمد کو اقتدار سے سبکدوش کردیا گیا اور اس کی جگہ اس کے بھائی نے اقتدار سنبھالا جس کے ساتھ ہی مکہ اور درعیہ کے درمیان خوشگوار تعلقات کا ایک مختصر دور اختتام کو پہنچا. سرور (شریف مکہ) نے شیخ ؒ کے معتقدین کو حج کی ادائیگی سے روک دیا. صرف ۱۱۹۷ھ؁ میں اس نے اہلِ درعیہ کو حج کی اجازت دی جب انہوں نے بڑے قیمتی تحائف کا نذرانہ اس کو پیش کیا ([77]

 ۱۲۰۲ھ؁میں جب سرور کا انتقال ہوا تو اس کی جگہ غالب تحت نشین ہوا. اس دورمیں اہلِ درعیہ اور شریف مکہ کے مابین تعلقات اور کشیدہ ہوگئے. اپنے اقتدار کے ابتدائی دو سالوں میں غالب نے اپنی داخلی قوت مزید مستحکم کرنے میں مصروف رہا، اس کے بعد اس نے اہلِ درعیہ سے درخواست کی کہ وہ اپنے وہاں سے کسی عالم کو روانہ کریں تاکہ وہ علماء مکہ سے مناظرہ کرسکے. چنانچہ اس مرتبہ بھی شیخ عبدالعزیز الحسین ہی کو بھیجالیکن علماء مکہ اس مرتبہ آپ سے مناظرہ کرنے سے کتراگئے ([78]). العثیمین کے مطابق یہ سب کچھ خود غالب ہی کی ہدایات پر کیا گیا اور غالباً یہ حرکت اگلے سال درعیہ پر حملہ آور ہونے کے لئے ایک تمہید تھی ([79]) ۔

اس وقت تک نئی قائم شدہ ریاست درعیہ پورے نجد کو اپنے زیر اقتدار کرچکی تھی الأحساء کا علاقہ بھی تقریبًا اس کی ماتحتی میں آچکا تھا، یہاں تک کہ نجد اور مکہ کے درمیان آباد قبائل پر بھی اس کا اثر ونفوذ قائم ہوجانے کی صورت حال پیدا ہوچکی تھی جب کہ یہ قبائل شریف مکہ کے ماتحت تھے.لہذا اس صورت حال کو ختم کرنے کے لئے شریف مکہ کا درعیہ پر فوج کشی کرنا کوئی تعجب خیز معاملہ نہیں تھا. چانچہ شیخ ؒ کے متبعین کے خلاف جب شریف مکہ کی جانب سے پہلا لشکر بھیجا گیا تو شیخ کے حامیوں نے اس کو شکست فاش سے دوچارکیا.

 شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی وفات

شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ ماہ شوال 1206اھ مطابق۹۲۔۱۷۹۱ ؁ء میں انتقال فرماگئے. اس وقت آپ کی عمر تقریبًا ۹۲؍ سال تھی. اپنے پیچھے اپنے ورثاء کے لئے کوئی مال ومتاع بطور ترکہ نہ چھوڑا. یہ بات مخفی نہیں کہ آپ کے ساتھیوں کو کافی مال غنیمت ہاتھ آیاتھا مگر شیخ کے پاس جو کچھ بھی آیا وہ سب دعوتی امور اور دوسروں کی اعانت میں آپ نے صرف کردیا .

شیخ ؒ کی وفات کے بعد آپ کی دعوت وتعلیمات کی اشاعت وتبلیغ کا سلسلہ جاری رہا اورآپ کی نئی ریاست کچھ عرصہ تک پھلتی اور پھولتی رہی یہاں تک کہ ۱۷۹۳ ؁ء میں الأحساء کا پورا علاقہ امیر سعود بن عبدالعزیز کے زیر اقتدار آگیا ؁۱۷۹۰ء کے اواخر تک

 عراق کے پاشا (حاکم) اور سعودی ریاست کے مابین جھڑپیں جاری تھی جن میں سعودی ریاست کو فتوحات ملتی رہیں، ۱۸۰۳ ؁ ء میں سعودی ریاست نے آسانی سے مکہ فتح کرلیا ، تاہم مختلف بیماریوں کے زیر اثر جولائی ۱۸۰۳ ؁ء میں حاکم ریاست سعودی نے عثمانی افواج کے ساتھ ہتھیار ڈال دیئے اور اسی سال کے اواخر میں امیر عبدالعزیز کو درعیہ ہی میں قتل کردیا گیا. یہ واضح نہیں ہے کہ آپ کا قتل کس نے کیا گرچہ اس ضمن میں بہت سارے شبہات کا اظہار کیا گیا ہے.

ان کے فرزندامیر سعود (جوایک فوجی قائد تھے) درعیہ واپس آکر اپنے عوام سے بیعت وفاداری حاصل کی اور درعیہ کے فرماں روا بن گئے . ۱۸۰۵ ؁ء اور ۱۸۰۶ ؁ء میں سعودی افواج نے پھر سے حجاز فتح کرلیا، ریاست نو نے ملک عمان میں بھی اپنا اثر ورسوخ بڑھانا شروع کردیا جس کا نتیجہ برطانوی استعمار کے مفادات سے براہ راست ٹکراؤ کی شکل میں نکلا.

عرصۂ دراز تک سرزمین عرب میں قحط، غلہ کی کمی اور ہیضہ جیسی متعدی بیماری کے پھیلنے سے ۱۸۰۹ ؁ء تک یہ نئی ریاست کافی کمزور ہوگئی. اس صورت حال میں اس کے دشمنوں کو اس پر حملہ کرنے کا موقع مل گیا، ۱۸۱۴ء؁ میں امیر سعود کی وفات ہوگئی. آپ کے بعد آپ کے فرزند عبداللہ تخت نشین ہوئے. ان کے انتخاب کی درعیہ میں کچھ داخلی مخالفتیں ہوئیں. اس اثناء میں البانی محمد علی پاشا (جو مصر کا عثمانی حاکم تھا) نے اپنے قبضے میں ان علاقوں کو پھر سے واپس لینا شروع کردیا جن پر درعیہ کی حکومت قبضہ کرچکی تھی.

۱۸۱۱ ؁ء میں محمد علی نے حجاز کی جانب پیش قدمی کی اور شیخ ؒ کے ساتھیوں کو شکست سے دو چار کیا. ۱۸۱۸ ؁ء میں محمد علی کا بیٹا ابراہیم (اپنے لشکر کے ساتھ) درعیہ پہنچ گیا. امیر عبداللہ نے اس سے صلح کی درخواست کی اور بالآخر چھ ماہ کی شدید جنگ کے بعد ہتھیار ڈال دیئے. اس موقعہ پر درعیہ کو خوب لوٹا گیا اور بربادکیا گیا. شیخ ؒ کی نسبی اولاد میں سے چند کو قیدی بناکر مصر بھیج دیا گیا جن میں سے کچھ کو قتل کرنے کے لئے ترکی روانہ کردیا گیا. اس شکست کے ساتھ ہی ’’پہلی سعودی ریاست‘‘ اپنے اختتام کو پہنچ گئی.

 شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی شخصیت

شیخ محمد بن عبدالوہابؒ بہت زیادہ عبادتِ الٰہی میں مشغول رہا کرتے تھے اور مسلسل اللہ کے ذکر میں لگے رہتے تھے. آپ کو اکثر قرآن کی اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا جاتا:

رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَصۡلِحۡ لِي فِي ذُرِّيَّتِيٓۖ إِنِّي تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَإِنِّي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ١٥

’’اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسا نیک عمل کروں جس سے تو خوش ہوجائے، اور تو میری اولاد بھی صالح بنا ،میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں([80])۔‘‘

آپ تہجد گزار تھے اور نماز باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کرتے تھے حتی کہ جب آپ مریض اور لاغر ہوگئے تب بھی لوگوں کی مدد سے نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے مسجد میں تشریف لاتے ([81]

شیخ ؒ ایک بہادر انسان تھے اوراللہ کے دین کے سلسلہ میں مخلص تھے. اللہ تعالیٰ کی مدد اور پھر آپ کی نیک سیرت نہ ہوتی تو یہ تصوربھی محال تھا کہ ان سب کامیابیوں سے آپ سرفراز ہوتے. واسی لیف آپ کا ان الفاظ میں تذکرہ کرتا ہے:

’’آپ اپنے زمانے اور معاشرہ کی اہم شخصیت تھے، آپ نہایت جری انسان تھے، اس زمانے میں ایک حیرت انگیز شجاعت کی ضرورت تھی جس کے ذریعہ تمام سرزمین عرب کے مذہبی نظام کو للکارا جاسکے اور آباء واجداد کے نقشِ قدم پر چلنے والوں کا مقابلہ کیا جاسکے. چنانچہ آپ کی زندگی ہمہ وقت خطرے میں رہتی تھی اور آپ کو تین دفعہ ملک بدر کیا گیا، لیکن اس سے آپ کی قوتِ ارادی میں کوئی فرق نہ آیا۔‘‘

مینگن کے مطابق’’ آپ نہایت ہی بہتر طور پر اپنی بات سے لوگوں کو قائل کروانے والے اور اپنے خطابات کے ذریعہ لوگوں کے دلوں کوجیتنے والے تھے([82])۔‘‘

آپ کے اندر منکسر المزاجی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، لوگوں کے درمیان آپ کی شخضیت بڑی محبوب تھی، ابن بشر لکھتا ہے: ’’ہم نے کسی اور کے بارے میں نہیں سنا کہ آپ ؒ سے زیادہ کوئی طلباء، سائلین اور حاجت مندوں کے ساتھ نرم گو اور شفیق رہاہو([83])۔‘‘

 آپ بڑے مخیر اور سادگی پسند تھے. غربت وافلاس کا ڈر آپ کو کبھی نہ تھا. دنیوی مال ومتاع کی جانب کبھی راغب نہ ہوئے حالانکہ چند ہی ایام کے بعد درعیہ کے خزانوں میں کافی اضافہ ہوچکا تھا. آپ نےصف اوّل کے روحانی قائد اور استاد ہونے کے باوجود سرکاری خزانے سے کبھی وظیفہ نہ لیا ([84]

جو کچھ مال آپ کو ملتا اس کو فوراً تقسیم کردیتے اور خود طلباء، مہمانوں اور مسافروں کی ہمیشہ خبر گیری کی وجہ سے اکثر مقروض رہا کرتے تھے ([85]

اپنی وفات پر آپ نے کوئی مال نہ چھوڑا بلکہ انتقال کے وقت آپ مقروض تھے، آپ کے قرضے کو آپ کے رفقاء نے ادا کیا ([86]

جب رائے دہی کا موقعہ ہوتا تو آپ بے لاگ مشورہ دیتے، آپ کو اگر کسی بات کا علم نہ ہوتا تو بلا تأمل اس کا اعتراف کرلیتے اور فرماتے: ’’اس مسئلہ کے بار ے میں مجھے کوئی علم نہیں ہے([87])۔‘‘

علماء کی ایک جماعت کو آپ نے ایک مکتوب ارسال کیا جس میں خود اپنے بارے میں لکھا:’’میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میں غلطیوں سے مبرا ہوں ([88])‘‘۔

اپنی رائے پر بضد نہ رہتے اور نہ کسی بھی عالم کی رائے یا کسی بھی مکتبۂ فکر کی اندھی تقلید کرتے. مذکورہ مکتوب میں آپ نے یہ بھی لکھا : ’’اگر میں کوئی فتوی دوں یا کوئی کام کروں جو آپ لوگوں کی نظر میں غلط ہو تو آپ لوگوں پر یہ واجب ہے کہ آپ صحیح بات کی وضاحت اپنے مسلم بھائی پر کریں ([89]

ایک اور مکتوب میں آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر حق ہمارے مخالفین کے پاس ہو یا ہمارے پاس جو حق ہے اس میں باطل کی آمیزش پائی جائے یا ہم کسی معاملہ میں اگر انتہا پسند بن جائیں تو آپ لوگوں پر واجب ہے کہ آپ اس کی نشاندہی کریں اور ہمیں مشورہ دیں اور علماء کے اقوال وآراء سے ہمیں مطلع کریں شاید اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ ہمیں حق کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت سے نوازدے ([90]) ۔

آپ کی یہ گراں قدر خوبی تھی کہ آپ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ کرنے کی کوشش کرتے خواہ وہ معاملہ چاہے آپ کے سب سے بڑے دشمن ہی کا کیوں نہ ہو. ایک دفعہ آپ نے قرآن کریم کی اس آیت: وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَ‍َٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعۡدِلُواْۚ ٨ ’’کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کردے([91]) ‘‘۔

کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس میں اس نفرت کا ذکر ہے جو ایک مسلمان کافر کے خلاف رکھتا ہے . (یعنی ایک مسلمان طبعی طور پر ان کا فروں سے نفرت رکھنے کے باوجود یہ نفرت اس کو ان کے ساتھ منصفانہ فیصلہ کرنے سے باز نہ رکھے) آپ نے فرمایا کہ جب کافروں سے ایسا معاملہ ہو تو پھر آدمی کو اور زیادہ محتاط ہونا چاہئے اور انصاف کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنا چاہئے، خصوصاً جب اس کا تعلق ایسے مسلمان کے ساتھ ہو جو غلط بیانی یا غلط فہمی کا شکار ہو یا خواہشات کی پیروی میں ڈوبا ہوا ہو ([92]

مزید آپ اپنے مخالفین کی اچھی صفات کا اکثر وبیشتر تذکرہ فرماتے اور اپنے دائرۂ تنقید کوصرف متعلقہ مسائل ہی تک محدود رکھتے. مثال کے طور پر آپ نے اہل کلام (علماء منطق) کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عرض کیا:

 ’’اہل منطق اور ان کے ہمنوا بڑے ذہین اور باریک بین ہوا کرتے ہیں . واقعتًا وہ حیرت انگیز ذہانت، حافظہ اور فہم کے مالک ہوتے ہیں ([93])۔‘‘

شیخ علیہ الرحمہ ہمیشہ پر امید رہتے کہ آپ کے دشمن بھی (آخر کار) حق کو قبول کرلیں گے، اور خلوص دل کے ساتھ رسول اللہﷺ کی اتباع کرنے لگیں گے مثلاً آپ نے اپنے ایک مکتوب میں عبدالوہاب بن عبداللہ بن عیسیٰ کو لکھا جس کے والد نے آپ کو کافی تنگ کیا تھا: ’’میں سجدے میں تمہارے لئے دعا کروں گا، تم اور تمہارے والد تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب اور اہم ہیں ([94])‘‘ ۔

درحقیقت جن حالات کی وجہ سے شیخ ؒ نے اعلانِ جہاد کیا تھا ان کا تذکرہ کرنے کے بعد ابن غنام رقمطراز ہیں :

’’آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے جس نے آپ کو عظیم ترین نعمتوں سے سرفراز کیا دعا کیا کرتے تھے کہ جس طرح آپ کے لوگوں کے دلوں کو اس نے حق کے لئے کھول دیا اسی طرح وہ اپنی قوت سے لوگوں کی شرارتوں سے محفوظ رکھے اور ان سے پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے بچالے، آپ ہمیشہ ایسے لوگوں پر مہربان تھے اور ان کو معاف کردیتے تھے، آپ کے نزدیک سب سے زیادہ وہ شخص محبوب تھا جو آپ سے دشمنی کرنے کے بعد آپ کے پاس معافی کا خواستگار بن کر آتا. ایسے شخص کو آپ فوراً معاف کردیتے. آپ نے ایسے کسی شخص کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا جس پر آپ نے کامیابی وفتخ حاصل کی برخلاف اس کے کہ اگر اس شخص کو آپ پر فتح مل جاتی تو وہ آپ کی جڑیں کاٹ دیتا اور آپ کو اہانت آمیز سخت ترین سزا دیتا.آپ ہمیشہ اپنے دشمنوں پر مہربان رہتے اور ان کی زیادتیوں کو بھول جاتے گویا انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں. آپ اپنے چہرے پر مسکراہٹوں اور بشاشتوں کو سجا کر ان سے ملتے، آپ بڑے فیاض اور دوسروں پر اپنا مال خرچ کرنے والے تھے، ایسے بلند اخلاق کے حامل لوگوں ہی کو اللہ تعالیٰ اپنی خشیت ، علم اور ہدایت سے نوازتا ہے([95])۔‘‘

الغرض شیخ ؒ صرف ایک عالم ہی نہ تھے بلکہ اپنے کتاب وسنت کے گہرے علم کی بنا پر لوگوں کو مسکت دلائل سے حق پر قائل کردیتے تھے. آپ دانشمندی کے ساتھ عقیدہ کی دعوت دینے والے ایسے داعی تھے کہ سب سے پہلے اس عقیدہ کو اپنے آپ پر اور اپنے قریب ترین رفقاء کی زندگیوں پر نافذ کرنے والے تھے جس کی وجہ سے آپ بے شمار لوگوں کے دلوں کے فاتح بن گئے اور کثیر تعداد میں لوگوں کو صراط مستقیم کی جانب رہنمائی کرنے میں کامیاب ہوئے. آپ نے اپنی پوری زندگی اس دعوت کے لئے وقف کردی تھی ، آپ کی زندگی کے بارے میں سچائی کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی دعوت ہی سے عبارت تھی.

 شیخ محمد کی کوششوں کے نتائج

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:مَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَنُحۡيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةٗ طَيِّبَةٗۖ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَجۡرَهُم بِأَحۡسَنِ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٩٧ ’’جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت ، لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناًنہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے، اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور دیں گے ([96]) ۔‘‘

تمام شواہد یہ بتلاتے ہیں کہ شیخ ؒ اور آپ کے پیروکار آیت میں مذکور صفات کے حامل تھے. یہ بہترین زندگی دنیا وآخرت دونوں جہانوں پر مشتمل ہے، ابو حکیمہ نے شیخ ؒ اور آپ کے رفقاء کے بارے میں خوب لکھا ہے :

’’شیخ ؒ اور آپ کے متبعین (توحید کے متوالوں) کا یہ ایمان ویقین تھا کہ اگر وہ شرک اور بدعت کا خاتمہ کردیں تو تمام عالم اسلام میں اکیلے اللہ کی عبادت عمل میں آجائے گی اور لوگ اس سیدھے راستے پر گامزن ہوجائیں گے. امن کا ڈنکا بجے گا اور عالم اسلام ترقی کی راہ پر آگے بڑھے گا([97]) ‘‘۔

یہ حقیقت ہے کہ شیخ ؒ کی قیادت میں نجد کی زندگی کی صوت حال یکسر بدل گئی.

مریم جمیلہ نے لکھا ہے ([98]) :

’’امیر محمد بن سعود کی حکومت میں لوگوں کی طرز زندگی، اعتقادات وکردار سب کچھ بدل گئے تھے، ماضی میں ان لوگوں کی اکثریت ۔ حتیٰ کہ مقدس جگہوں پر بھی۔ صرف برائے نام مسلمان تھے، لیکن اب ہر شخص سے مطالبہ کیا جاتا تھا کہ نماز باجماعت ادا کریں، ماہ رمضان کے روزے رکھیں، اپنی زکاۃ ادا کریں ، تمباکو نوشی، ریشم اور زندگی کے تمام عیاشیوں پر پابندی لگادی گئی. تمام غیر اسلامی ٹیکس ختم کردیئے گئے، کئی صدیوں کے بعد اب پہلی مرتبہ نجد میں اتنا امن اور اتنی خوشحالی عود کر آئی کہ ایک بدو اپنے مویشی اور اپنے گھر کا سامان چرائے جانے سے بے خوف وخطر چین کی نیند سوسکتا تھا، سیاہ فام غلام اپنی شکایت کسی بھی طاقتور قبیلے کے خلاف حاکم کے روبرو پیش کرسکتا تھا اور اس کے ظلم وستم کا حساب چُکا سکتا تھا، فرقہ وارانہ تعصبات ختم ہوگئے، فقہی اختلافات مٹادیئے گئے اور مسلکی علماء اپنی اپنی باری کے اعتبار سے نماز کے لئے امامت کرنے لگے. شیخ ؒ نے خود کو صف اول کے مجدد اور امام احمد بن حنبل ؒ اورامام ابن تیمیہ ؒ کے لائق وارث کی حیثیت سے ثابت کردیا‘‘۔

آخرمیں ابن بشر لکھتا ہے: ’’شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کے کمالات اور خوبیاں گنی نہیں جاسکتیں اوریہ اتنی زیادہ مشہور ہیں کہ ان کے بیان کی ضرورت نہیں ہے ، اگر ان کو ضبط تحریر میں لانا چاہوں تو کتاب کے صفحات کم پڑجائیں گے. ان کے اعمالِ حسنہ میں سب سے عظیم ترین نیکی تو یہ ہے کہ شرک پرستی ختم ہوگئی، مسلمان متحد ہوگئے، فرض نمازیں اور جمعہ کی نماز باہم جماعت کے ساتھ ادا ہونے لگیں. اسلام مردہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہوگیا اور شرک کی مضبوط جڑوں کا قلع قمع کردیا گیا ([99])‘‘۔

 ۳۔شیخ ؒ کی اہم اصلاحی تعلیمات

 شیخ ؒ کے دور میں اسلام:

چند مؤرخین کے قول کے مطابق ساتویں صدی ہجری میں سقوط بغداد کے بعدسے مسلمانوں کی حالت تیزی سے زوال پذیر ہونے لگی، اورشیخ ؒ کے زمانے تک اسلام اپنے کئی پہلوؤں سے تاریخ کی بالکل نچلی سطح پر پہنچ چکا تھا. سیاسی اعتبار سے سلطنت عثمانیہ اپنا بیشتر اقتدار اور دبدبہ کھوچکی تھی. مذہبی اعتبار سے عباسیوں کے دور سے جب علوم فلسفہ کا عربی میں ترجمہ کیا جانے لگا تو خالص اسلامی تعلیمات سے دوری بڑھتی چلی گئی، ان کی جگہ یونانی، ہندوستانی اورایرانی افکار ونظریات کا غلبہ ہونے لگا جنہوں نے عام مسلمانوں کے اعتقاد اور طور طریقوں کو کافی متأثر کیا.اس کے ساتھ ساتھ فقہی مکاتب اپنا حقیقی اثرکھوچکے تھے کیونکہ علماء کی ایک بڑی تعداد کی نظر میں اجتہاد کا دروازہ اب بند ہوچکا تھا.

واسی لیف کے تبصرہ میں اس وقت کے حالات کی واضح جھلک دیکھی جاسکتی ہے. چنانچہ وہ شیخ ؒ کی وفات کے قلیل عرصہ بعد عثمانی علاقوں کی حالت زار کا نقشہ درج ذیل الفاظ میں کھینچتا ہے:

’’1803 ؁ءمیں سلطنت عثمانیہ سے آنے والے بالخصوص شام اور مصر سے آنے والے حاجیوں کے راستے میں ’’وہابیوں‘‘نے ہر قسم کی رکاوٹیں پیدا کیں، دراصل ان حجاج کے ساتھ موسیقار ہوتے جو گانے بجانے کے آلات اپنے ہمراہ لے آتے، بہت سے حجاج اپنے ساتھ شراب لے کر آتے تھے. قافلۂ حجاج کے ساتھ رنڈیوں اور طوائفوں کا ہونا عام سی بات تھی. چنانچہ ان تمام خرافات کے خلاف ’’وہابی‘‘ خاموش نہ بیٹھ سکے کیونکہ مذکورہ اعمال دراصل وہابیوں کے دینی اور اخلاقی معیار کے خلاف تھے([100]) ‘‘۔

شیخ ؒ نے مکہ مکرمہ پر قبضہ کرنے کے بعد جن اصلاحات کی طرف توجہ فرمائی ان کا تذکرہ کرتے ہوئے واسی لیف لکھتا ہے:

’’مکہ میں جو سخت اخلاقی ضوابط متعارف کئے گئے وہ مکہ کے لوگوں کی تقالید وعادات سے متصادم تھے. شہرِ مقدس کے باشندے ہونے کے ناطے یہاں کے لوگ اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے اعلیٰ وارفع گردانتے تھے جس کی وجہ سے کچھ غیر اخلاقی حرکتیں ان کے اندر سرایت کر گئی تھیں، اس شہر کے کچھ علاقے طوائفوں سے بھرے ہوئے تھے حتی کہ کچھ طوائفیں اپنے اس دھندھے پر باقاعدہ ٹیکس ادا کرتی تھیں. اغلام بازی کا دور دورہ تھا، شراب تقریبا کعبہ کے دروازے پر فروخت ہوتی تھی اور نشہ بازی ایک عام سی بات تھی ([101]

چنانچہ نئے ضوابط وقوانین (جن کو شیخ ؒ کی جانب سے نافذ کیا گیا) متقی وپرہیزگار علماء اور مخلص مسلمانوں کے لئے تو قابل قبول تھے مگر عوام کی اکثریت کے لئے یہ وبال جان تھے. ان کے لئے سب سے زیادہ وبال جان جو بات بنی جس کووہ اپنے لئے عار وہتکِ عزت کے مترادف سمجھنے لگے وہ یہ کہ صدیوں کے بعد پہلی مرتبہ وہ نجدیوں کے تابع وفرمانبردار بن کر زندگی گزاریں. مذکورہ تمام معاشی، سیاسی اور نفسیاتی عناصر نے حجاز میں ’’وہابیوں‘‘ کے خلاف حالات پیدا کردیئے ([102])‘‘ ۔

امریکی مؤرخ لوتھروپ اسٹوڈرڈنے اٹھارہویں صدی عیسوی (بارہویں صدی ہجری ) میں اسلام کے متعلق لکھا:

’’جہاں تک مذہب کا تعلق ہے یہ ایسا ہی زوال پذیر تھا جیسے اور باقی چیزوں کا حال تھا محمدکی صاف وشفاف توحید پر تو ہم پرستی اور خرافات کی تہ چڑھ گئی تھی. تصوف در آیاتھا. مسجدوں کو لوگوں نے جانا چھوڑ دیا تھا جس کی بنا پر مسجدیں ویران ہوچکی تھیں. جاہلوں نے ان کو ویران بنادیا تھا کیونکہ یہ لوگ تعویذ گنڈوں اورجادو ٹونوں میں ملوث ہوگئے تھے. ناپاک فقیروں اور درویشوں کے مرید بن گئے تھے اور اولیاء کے مزاروں کی زیارت کو حج کی طرح ادا کرنے کے لئے جایا کرتے تھے. ان ’’اولیاء‘‘ کو دیوتاؤں کی طرح پوجا جاتا او ران کو (اللہ کے ہاں) سفارشی سمجھا جانے لگا. اگر محمد ﷺ ایسے وقت زمین پر واپس آجاتے تو یقیناًآپ اپنے امتیوں کو کافر ومشرک کہہ کر پکارتے([103]) ‘‘۔

مزید برآں صوفی حضرات جو خود کو سچے دین کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے تھے مگر ایسے ایسے کام کرتے کہ ان کی تائید کرنے والاوہی شخص ہوگا جو قرآن وسنت سے ناآشنا ہوگا ، چنانچہ واسی لیف لکھتا ہے:’’صوفی حضرات آلات موسیقی بجاتے اور گانے گاتے تھے، اور کچھ تو ان میں سے شراب بھی پیتے تھے اور تمباکو نوشی اور افیون کا استعمال کرتے تھے اور جادو اورستاروں کی چال کے ذریعے غیب کی خبریں بتاکر عوام سے پیسے اینٹھتے تھے، اور یہ کوئی حیرت کی بات نہ تھی([104]) ‘‘۔

اور واقعۃً یہ کوئی حیرت زدہ کرنے والی بات نہ تھی کیونکہ نجد کے لوگوں کے درمیان اس وقت سخت گمراہی پھیلی ہوئی تھی، نجد میں زیادہ تر آبادی چونکہ بدؤوں کی تھی اور مغربی حوالوں سے واسی لیف نے نقل کیا کہ: یہ لوگ چاند ،سورج وستاروں کی پرستش اور آبائی رسم ورواج کے شیدائی بن چکے تھے جو اسلامی تعلیمات کے بالکل مخالف تھیں، بزرگوں کی پرستش ،ان کی قبروں پر قربانیاں کرنا، روحوں اور پراسرار طاقتوں کی پوجا کرنا وغیرہ ان کی زندگی میں شامل ہوچکا تھا ([105]) ۔

مذکورہ صورت حال کی روشنی میں دین اسلام سے گمراہی کی طرف نکل جانے والوں کو درج ذیل مجموعات میں بالاختصار بانٹا جاسکتا ہے:

۱۔ قبر پرست اور قبروں کی تعظیم وتقدیس کرنے والے.

۲۔ صوفیوں، سنیاسیوں اور اولیاء کی پرستش کرنے والے.

۳۔ درخت اور دیگر بے جان اشیاء کو مقدس سمجھنے والے.

عقائد فاسدہ کے علاہ اسلامی تعلیمات کے خلاف سماجی برائیوں کا بھی دور دورہ تھا، خاص طور پر سودی لین دین کافی رواج پاچکا تھا. واسی لیف کہتا ہے:’’ڈاوٹی نجد کے کاشتکاروں کے بارے میں لکھتا ہے : ’’وہ اور ان کی اس خطہ کی زمینیں دونوں کو نجد کے ساہوکار ہڑپ کرچکے تھے(اور یہی صورت حال مصر اور شام کے علاقوں کی بھی تھی) جس کی وجہ سود کا وہ بوجھ تھا جو ان کے سروں پر چڑھ چکا تھا جس کو اتار پھینکنے سے وہ عاجز تھے ‘‘۔

 وہابی تحریک کے آغاز کے وقت یہ حالات ہر سُو پھیلے ہوئے تھے. اسی وجہ سے ’’وہابیوں‘‘نے قرضوں پر سود لینے اور دینے کی سخت ممانعت کردی ([106]) ۔

دراصل نجد کے بیشتر علاقوں میں خاص طور پر جہاں بدؤوں کا اقتدار تھا شریعت کا نفاذ نہ تھا بلکہ مقامی عادات وتقالید تھے جن کو عرف عام میں ’’عرف‘‘ یا ’’سالفہ‘‘ کہا جاتا تھا.

اگرچہ یہ مسائل ہر طرف پھیلے ہوئے تھے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں نے اسلام کو یکسر خیر باد کہہ دیا تھا یا نجد میں علماء اور طلبائے اسلام ناپید ہوچکے تھے، بلکہ ان سب کے باوجود نجد کی موجودہ صورت حال برقرار تھی جس کی بنا پر یہ سوال اُبھرتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ نجد میں علم دین اور علماء دونوں کی موجودگی کے باوجود اس طرح کے غلط کام ہر سُو پھیلے ہوئے تھے ؟ اور یہی سوال آج کے مسلمانوں کی حالت پر بھی چسپاں کیا جاسکتا ہے.

دراصل اس کا جواب ہمیں شیخ ؒ کی زندگی کے حالات پر غور کرنے سے ملتا ہے کہ عمومی طور پر علماء اور دانشوروں کی تھوڑی سی تعداد اس قابل نہیں ہوتی کہ عوام کو ان کے دلعزیز رسم ورواج سے علیٰحدہ کرسکے گرچہ وہ کتنے ہی اسلام مخالف باتیں کیوں نہ ہوں کیونکہ ایک طرف عوام الناس کا عدم ادراک کہ وہ اسلام مخالف امور کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور دوسری طرف مسلم معاشرہ کا سماجی دباؤ خاص مؤثر رہتا ہے جو ان کو اپنے اس آبائی نظام پر چلنے پر مجبور کردیتا ہے.

اس مقام پر ’’نصیر‘‘ ایک اور اہم نکتہ کا اضافہ کرتی ہیں :

 ’’شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کے اثر ورسوخ سے پہلے علماء کی آگہی وعلم انہیں مطلوبہ تبدیلیوں کی ضرورت پر غور وخوض کرنے کی طرف راغب نہیں کیا تھا، ان کا علم صرف اسلاف کے علم کو اگلی نسل تک منتقل کرنے تک محدود تھا جس کو انہوں نے حاصل کیا تھا، انہیں اس سے کوئی دلچسپی نہ تھی کہ اس علم کو عمل کے دائرہ میں کیسے لایا جائے ([107]) ۔

قابل علماء جو لوگوں کی رہنمائی وقیادت کرتے ہیں اور انہیں صحیح مشوروں سے نوازتے ہیں اگر کالعدم ہوجائیں تو نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ جاہل اور طاقتور لوگ آگے بڑھ کر عوام کو ایسے طور طریقوں کی طرف لے چلتے ہیں جو اکثر وبیشتر قرآن وسنت کے خلاف ہوتے ہیں.

سماجی اصلاح وتبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کا گہرا علم ہو ، ایمان پر ثبات قدمی ہو، اللہ کی راہ میں بڑی سی بڑی قربانی دینے کا حوصلہ ہو، اور جو لوگ قرآن وحدیث کے مطابق تبدیلی نہیں چاہتے ان کی تنقیدوں وطعنوں کی بوچھاڑ کا مقابلہ کرنے کی ہمت ہو. اس کام کے لئے شیخ محمدبن عبدالوہاب ؒ جیسی صاحب ایمان اور ذی فہم وفراست شخصیت کی ضرورت پڑتی ہے جو معاشرہ کی پوری بنیاد اور ڈھانچے کو بدل کر رکھ دے.

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ حقیقت لوگوں پر آشکارا کی جائے کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ اور ان کے ساتھیوں نے اس کار عظیم کو کیسے انجام دیا، جس کی روشنی میں آج کے مسلمان اپنی کامرانی وکامیابی کے لئے لائحہ عمل مرتب کرسکیں۔

 شیح محمد بن عبدالوہاب ؒ اور عقیدہ

قرآنی اصطلاح’’الایمان‘‘کے لئے ‘‘عقیدہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو دراصل انسانی زندگی کے تمام اعمال کی اساس ہے. عقیدہ کے مسائل میں گمراہی انسان کے فہم وادراک اور مقاصد وسلوک پر اثر انداز ہوتی ہے.

 شیخ کا طریقۂ کار:

شیخ ؒ کے ’’عقیدہ‘‘ کے اہم گوشوں کا تذکرہ کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ عقیدہ کے مسائل کے طریقہ ہائے کار کا مطالعہ کیا جائے. ایمان کے بنیادی اصول دراصل قرآن وسنت سے بڑی آسانی کے ساتھ اخذ کئے جاسکتے ہیں ، تاہم عرصۂ دراز سے کئی مسلمانوں نے اس اہم اور بنیادی طریقۂ کار کو پس پشت ڈال دیا اور فلاسفہ وعلماء منطق، صوفیوں، یہودیوں اور نصرانیوں کے طریقۂ کار کو اپنالیا، چنانچہ شیخ ؒ گمراہی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے. آپ کی بیشتر اصلاحی تعلیمات اسی بات سے متعلق تھیں کہ لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کروائی جائے کہ ایمان وعقیدہ کی بنیاد کس پر قائم ہو؟

عقیدہ کے باب میں شیخ ؒ کا طریقۂ کاردرج ذیل نکات میں بالاختصار بیان کیا جارہا ہے ([108]) ۔

۱۔ تمام عقائد کا مأخذ ومصدر اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی (قرآن وحدیث) سے ہو:

عقیدہ کے تمام ضروری وبنیادی مسائل کی رہنمائی کے لئے قرآن وسنت کافی ہیں، لہذا قرآن وسنت کو ہر ’’مأخذ علم‘‘ پر مقدم رکھنا چاہئے،اسی طرح جب کسی مسئلہ میں قرآن وسنت اور عقل انسانی کے مابین تصادم وٹکراؤ پایا جائے تو ایسی صورت حال میں لازمی طور پر قرآن وسنت ہی کو مقدم رکھا جائے ([109]

شیخ علیہ الرحمۃ کی تعلیمات اور مکتوبات سے یہ بنیادی اور اہم اصول واضح طور پر ظاہر ہے.

۲۔ عقیدہ کے معاملہ میں ’’سنت‘‘ پر زور دینا:

شیخ ؒ نے اس بات پر کافی زور دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تمام صحیح احادیث پر ایمان لانا ضروری ہے (چاہے ان کا تعلق کسی بھی موضوع سے ہو).

۳۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال اور علمائے تابعین کے بیانات سے استدلال کرنا:

صحابہ رضوان اللہ عنہم نے براہ راست رسول اللہ ﷺ سے اسلامی تعلیم وتربیت حاصل کی اور اس امر میں سرِ مو کوئی شک نہیں کہ وہ ایمانی اخلاص اور فہم نصوص میں اپنے بعد آنے والی نسلوں سے کافی بلند مقام رکھتے ہیں. اس بارے میں خود رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت کی بہترین نسل میرے زمانے کی نسل ہے اور اس کے بعد وہ جو اس کے بعد آئے گی اور اس کے بعد وہ جواس کے بعد آئے گی ([110]) ۔‘‘

اسی وجہ سے شیخ ؒ نے اپنے بے شمار خطوط اور تحریروں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ سلف صالحین کے طریقے کی پیروی کی جائے.

۴۔ کسی بھی مسئلہ کے تمام متعلقہ نصوص کو جمع کرنا تاکہ ان سب پر عمل کیا جاسکے اور ان کے درمیان موجود ظاہری اختلاف کو مٹایاجاسکے:

عقیدے کے باب میں یہ نہایت ہی اہم نکتہ ہے اور اس اصول سے آگاہ نہ ہونے کی بنا پرکتنے ہی سابقہ گروہ گمراہی کے دلدل میں گرگئے، دراصل اگر کوئی ان غلطیوں کو بطور خلاصہ بیان کرنا چاہے جن کی بنا پر تاریخ میں مختلف فرقے معرضِ وجود میں آئے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب کچھ مسئلہ سے متعلق تمام نصوص کو یکجا نہ کرنے اور ان تمام کو ایک لڑی میں پرو کر ان پر غور وخوض نہ کرنے کا نتیجہ ہے.

۵۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے ما سوا کسی کی بھی تعلیم کے آگے سرتسلیم خم نہیں کیا جاسکتا:

اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ ہر انسان خطا کا مرتکب ہے سوائے رسول ﷺکے لہذا کسی بھی شخص کے قول کی مکمل اتباع نہیں کی جاسکتی سوائے رسول ﷺ کی.

چنانچہ شیخ ؒ نے اپنے ایک مکتوب میں لکھا:’’تمام تعریفیں محض اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ، میں کسی صوفی، فقہی یا مذہبی مکتبۂ فکر کی دعوت نہیں دے رہا ہوں اور نہ ابن قیم ؒ ، ذہبی ؒ اور ابن کثیر ؒ جیسے کسی امام کی طرف بلا رہا ہوں جن کا میں بہت احترام کرتا ہوں ، ان سب کے بجائے میں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف تمہیں بلارہا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں ،میں اللہ کے نبی ﷺ کی سنت کی دعوت دے رہا ہوں، جس کی پیروی کرنے کی آپ نے اپنی امّت کو پہلی اور آخری وصیت فرمائی. اور مجھے امید ہے کہ میں کسی بھی حق بات کا منکر نہیں بنوں گا اگر وہ میرے سامنے واضح ہوجائے ([111])‘‘۔

۶۔ دین میں تمام بدعات سے احتراز کیا جائے:

محمدﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’اور دین میں نئے نئے کام کرنے سے بچو یقیناًہر نیا کام (دین میں) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے([112]) ‘‘۔

شیخ ؒ نے خود فرمایا : ’’تم لوگ (بدعتوں کے حمایتی) ان حرکتوں کو ’’بدعت حسنہ‘‘ سے موسوم کرتے ہو جب کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے‘‘۔

 آپ ﷺ نے ہمارے لئے کسی کا بھی استثناء نہیں کیا ([113]

۷۔ فلسفیوں اور منطقی استدلال کرنے والوں سے عقیدے کے بارے میں بحث کرنے سے احتراز کرنا چاہئے، اور صرف قرآن وسنت کی تعلیمات پر ہی عمل کرنا چاہئے ([114]) ۔

شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کے مطابق جب عقیدہ کے علم کے حصول کا مسئلہ ہو تو علوم فلسفہ وغیرہ کی طرف رجوع نہ کرنا چاہئے. اس باب میں وہ بہت سارے علمائے سلف کی تحریروں سے اقتباسات پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس کی مذمت کی ہے بلکہ اس بارے میں ان سب کے اجماع کو انہوں نے نقل کیا ہے. شیخ محمد رحمۃ اللہ علیہ کا اللہ پر ایمان جس پہلو پر شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ زندگی بھر زور دیتے رہے وہ ہے اللہ پر صحیح ایمان رکھنا اور اس چیز کا علم حاصل کرناکہ کن کن باتوں پر ایمان لایا جائے اور اپنی زندگی میں کس طرح ان کو نافذ کیا جائے.

توحید پر صحیح ایمان تین باہم مربوط اجزاء پر مشتمل ہے ([115]) :

۱۔ اس بات پر ایمان کہ اکیلا اللہ ہی اس پوری کائنات کا رب وخالق ہے.

۲۔ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء وصفات پر اس طرح ایمان رکھنا کہ وہ اپنی تمام صفات میں کامل اور یکتا ہے . نہ وہ اپنی کسی مخلوق کی کسی صفت میں شریک ہے اور نہ اس کی کوئی مخلوق اس کی کسی صفت میں اس کے ساتھ شریک ہے.

۳۔ ایمان اور اعمالِ عبادت خالص اللہ ہی کے لئے ہوں جن میں کسی کوشریک نہ گردانا جائے ( اس کو توحید الوہیت کہا جاتا ہے) .

مذکورہ یہ تینوں باتیں ہی کسی کو مسلمان اور صاحب ایمان بناتی ہیں. شیخ ؒ نے ان تینوں باتوں پر کافی زور دیا اور ان کی تعلیم آپ دیتے رہے.

شیخ ؒ نے اس امر پر بھی کافی زور دیا کہ اللہ تعالیٰ پر صحیح ایمان ہی عبادت کا اصل مقصود ہے . چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی توحیدکا صرف یہ مطلب نہیں کہ اس کے سوا کوئی خالق نہیں ، کوئی رازق نہیں، کوئی مدبر نہیں، کوئی زندگی دینے والا اور موت دینے والا نہیں، کیونکہ جو کافر رسول اللہﷺ سے جنگ کرتے تھے وہ بھی مذکورہ ان تمام باتوں کے معترف تھے ([116]) ، لہذا جو چیز کسی کو اسلام کے دائرہ میں داخل کرتی ہے وہ توحید الوہیت ہے یعنی انسان اللہ کے سوا کسی کی بھی عبادت نہ کرے، چاہے وہ اللہ کا رسول ہو یا اس کا مقرب ترین فرشتہ ([117]

توحید الوہیت کے سلسلہ میں شیخ ؒ فرماتے ہیں کہ لوگ اس کے بارے میں کافی بے خبر ہیں حالانکہ یہی اصل توحید ہے . عوام اور ان کے قائدین یا تو اس مسئلہ کی اہمیت سے ہی لا علم ہیں یا اس کے نفاذ کے بارے میں اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کررہے ہیں . چنانچہ قائدین کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے لکھا :

جو بات زیادہ حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ آپ لوگ اس کلمۂ ’’لا إلہ إلااللہ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے) کو سمجھتے نہیں ہو اور آپ لوگ ’’الخرج‘‘ اور دوسری جگہوں پر جو لوگ بتوں کی پوجا کررہے ہیں ان پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کرتے حالانکہ علماء کے اجماع کی روشنی میں یہ ’’شرک اکبر‘‘ ہے ([118]) ۔

شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی مذکورہ بات کی صحت پر قرآن وحدیث شاہد ہیں، مثال کے طور پر ایک مسلمان اپنی ہر نماز میں کہتا ہے؛

إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ ٥

’’اے اللہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اورتجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں([119]) ‘‘۔.

قرآن کی ایک اور آیت میں ارشاد باری ہے:

وَأَنَّ ٱلۡمَسَٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدۡعُواْ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدٗا ١٨

’’اور یہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں بس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو([120]) ‘‘۔

اور رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:(الدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادَةِ)

 ’’دعا ہی عبادت کی اصل ہے([121]) ‘‘۔

درحقیقت اسلام میں توحید، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانے کی ضد ہے، جواللہ کی بات کو سنتا اور سمجھتا ہو اور اس کے آگے سرتسلیم خم کرتا ہو اس کو دوسرے معبودوں کی حاجت نہیں اور نہ اللہ کے شریکوں وغیرہ کی کوئی ضرورت ہے (نعوذ باللہ) ،جو اللہ کی معرفت حاصل کرے اس کا دل محبتِ الٰہی سے لبریز ہو جاتا ہے ، اسی سے امید لگاتا ہے اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہے، وہ مسرتوں کے حصول کے لئے کسی اور در کی تلاش نہیں کرتا، لیکن جو اللہ کے کلام اور اس کی سچی توحیدسے دوری اختیار کرلے وہ اپنی زندگی کی ضروری حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے یقیناًکسی اور در کا متلاشی بنتا ہے.

 شیخ محمدؒ اور مسئلہ مسلمانیت

شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کے زمانے میں ایک عام تأثر یہ تھا ، اور بدقسمتی سے آج بھی یہ تأثر موجود ہے کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھ لے اور زکاۃ اداکردے تو اس کو کسی بھی صورت میں کافر نہیں کہا جاسکتا ، چاہے اس کا عقیدہ یا عمل ان باتوں پرہو جن کو شریعت میں کفر کہا گیا ہو، چنانچہ شیخ ؒ نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ کوئی بھی شخص خود کو مسلمان کہہ لینے یا محض کلمہ کی گواہی دینے کی بنیاد پر اللہ کے ہاں سچا مسلمان نہیں قرار دیا جاتا، شیخ ؒ نے احادیث رسول ﷺکی روشنی میں یہ واضح کیا کہ ایمان کے بھی کچھ شرائط ہیں اورچند اعمال ایسے ہیں جن کے کرنے کی وجہ سے آدمی دائرۂ اسلام سے خارج بھی ہوجاتا ہے خواہ وہ نمازی ہو، روزہ دار ہو، اور مسلمانیت کا دعویدار بھی ہو.

 آپ ﷺنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ان اعمال کا حوالہ دیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عقیدۂ ایمان کے بھی کچھ عملی تطبیقات لازمی ہیں جن کو پورا کرنا ازحد ضروری ہے.

چنانچہ آپ ؒ نے ابو بکرؓ کی مثال دی جنہوں نے یہ فیصلہ کیا : ’’میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو زکاۃ ادا کرنے سے انکار کریں گے، کیونکہ زکاۃ کی ادائیگی اس کلمہ کا حق ہے جس کا انہوں نے اقرار کیا ہے اور وہ کلمۂ (لا إلہ إلااللہ) ہے ([122])‘‘۔

شیخ نے دوسرا حوالہ قبیلۂ بنو حنیفہ کا دیا جنہوں نے اسلام توقبول کرلیا مگر مسیلمۃ الکذاب کو بھی نبی تسلیم کرنے لگے،چنانچہ صحابہ کرام نے ان لوگوں کے اس کفر کی وجہ سے ان کے ساتھ جنگ کی .

مزید برآں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں منافقین نماز کی ادائیگی کرتے تھے اورروزہ بھی رکھتے تھے، حتی کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں بھی شریک ہوتے تھے، مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ اعلان کیا کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں عذاب دیئے جائیں گے.

درحقیقت یہ سوال کہ مسلمان کون ہے؟ کا جواب فقہائے اسلام کی ہر فقہی بڑی کتاب میں ’’مرتد کے باب‘‘ میں ملے گا، لیکن چونکہ اکثر جگہوں پر اس مسئلہ کوصرف علمی ونظریاتی طور پر پڑھا جاتا ہے اس لئے عام لوگ اس مسئلہ سے بے خبر ہیں جس کی بنا پر وہ کفریہ اعمال کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور علماء میں سے بھی کوئی ان پراعتراض کرنے والا نہیں ہوتا.

شیخ ؒ نے ہمیشہ علماء کے اس رویہ پر بارہا اپنی تشویش کا اظہار فرمایا کہ جب لوگ کفرو شرک کے دلدل میں پھنسے ہوں تو علماء حضرات ایسی صورت میں کیسے خاموشی اختیار کرسکتے ہیں؟ ان کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی اصلاح کریں گرچہ وہ جہالت کی وجہ سے ان افعال کے مرتکب ہوئے ہوں.

انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی جہالت کی بنا پر اپنی سگی بیٹی یا پھوپھی سے شادی کرلے تو یہ علماء حضرات خاموش نہیں رہ جاتے بلکہ اس حرکت پر اعتراض کرتے ہیں ، لیکن جب سب سے بڑی برائی شرک کی بات آتی ہے تو یہی علماء لوگوں کو اپنی جاہلانہ روش پر برقرار رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ([123]) ۔

شیخ ؒ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ کسی کو کافر قرار دینے کے لئے کیا شرائط ہیں ([124]): آپ کے نزدیک پہلی چیز جو ایک انسان کو معلوم ہونی چاہئے یا جس کی تعلیم دی جانی چاہئے وہ توحید ہے ، کسی بھی شخص کو کافر نہیں قرار دیا جاسکتا جب تک کہ اس کو توحید کا مفہوم نہ سمجھا دیا جائے اور اس کے بعد بھی اگر وہ شرک وکفر کے اعمال پر مصر رہے تو اس صورت میں آپ فرماتے ہیں :

’’ہم ان کو کافر کہتے ہیں جو اللہ کی الوہیت میں شرک کرتے ہیں بعد اس کے دلائل کی روشنی میں شرک کے باطل ہونے کو ہم ان کے سامنے واضح کردیں ([125]) ‘‘۔

مزید یہ کہ صرف شبہ کی بنیاد پر کسی کو کافر نہیں کہا جاسکتا. چنانچہ شیخ ؒ فرماتے ہیں: جو شخص ظاہری طور پر اسلام کی پیروی کرتا ہے ، لیکن ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اسلام سے نکل چکا ہے تو صرف ہمارے اس شبہ وخیال کی بنا پر ہم اس کو کافر نہیں گردانتے اس لئے کہ ظاہر کو شبہ وخیال کے ذریعہ رد نہیں کیا جاسکتا. اسی طرح ہم اس کو بھی کافر نہیں کہتے جس کے کفر کو ہم نہیں جانتے یا جس کے کفریہ عمل کا ہم سے ذکر کیا گیا مگر اس کے بارے میں ہم نے تصدیق نہ کی ہو ([126]) ۔

مزید برآں کسی شخص کو کسی ایسے عمل کی بنا پر کافر نہیں گردانا جاسکتا جس عمل کو قرآن وسنت میں کفر نہ کہاگیا ہو مثلاً: زنا جیسے گناہ کبیر ہ کے ارتکاب کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا مرتکب کافر ہوگیا، برخلاف خوارج اور دیگر انتہاء پسند فرقوں کے جن کے نزدیک گناہ کبیرہ کا مرتکب اسلام سے خارج ہوجاتا ہے. لہذا ہم کسی بھی مسلمان کو محض اس کے کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے کافر نہیں گردانتے ([127]) ۔

 شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ اور فقہ اسلامی، اجتہاد اور اندھی تقلید

جیساکہ پہلے بیان کیا جاچکا کہ شیخ ؒ کا کامل ایمان تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان پر جس طرح اس کی اطاعت فرض کی ہے اسی طرح اس کے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی بھی فرض کی ہے ، چنانچہ رسول اللہﷺکے علاوہ کسی کی بھی کامل تابعداری نہیں کی جاسکتی ،بنی نوع انسان کو گمراہی کی تاریکی سے نکال کر ہدایت کے نور کی طرف لے آنے کے لئے رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا لہذا اس وحی ربانی سے اعراض درحقیقت کفر کے علاوہ کچھ نہیں ، فرمان باری تعالیٰ ہے: قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَايُحِبُّ ٱلۡكَٰفِرِينَ٣٢

’’کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو، اگر یہ منہ پھیرلیں تو بے شک اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا ([128]) ‘‘۔

رسول اللہ ﷺ کی سنت وحی الٰہی کا ایک حصہ اور اس کی تکمیل ہے جو احکام الٰہیہ کی مزید تفصیلات فراہم کرتی ہے.

شیخ محمد ؒ فرماتے ہیں:’’اگر نبی ﷺ کا کوئی مستند عمل ہم پر واضح کیا جاتا ہے تو ہم اس کے مطابق عمل کرتے ہیں، کسی اور شخص کا قول ہم اس پر مقدم نہیں کرتے چاہے وہ کوئی بھی ہو بلکہ مکمل قبولیت واذعان کے ساتھ ہم طریقۂ رسول ﷺ کے آگے سرتسلیم خم کردیتے ہیں کیونکہ ہمارے دلوں کے اندر رسول اللہ ﷺ ہی عظمت والے ہیں جن کے آگے ہم کسی بھی شخصیت کو مقدم نہیں سمجھتے ، ہمارا اسی پر ایمان ہے اور اسی طریقے سے ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں ([129]) ‘‘۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن وسنت ہی اصل سند ہیں، اگر کوئی بات واضح طور پر قرآن میں یا سنت میں بیان کردی گئی ہو تو پھر اپنی ذاتی فکر یا کسی اور نظریہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی،کسی رائے کے اختلاف کی صورت میں قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں اس کوحل کیا جائے. اسی حقیقت کی جانب اللہ رب العزت اپنے کلام پاک میں نشاندہی فرماتا ہے:

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا ٥٩

’’اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی ، اور فرمانبرداری کرو رسول اللہ ﷺ کی اور تم میں سے اختیار والوں کی . پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تواسے لوٹاؤ اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول اللہ ﷺ کی طرف، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے، اور یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے ([130]) ‘‘۔

عمومی طور پر شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ اور ان کے قریبی رفقاء حنبلی مسلک پر تھے مگر وہ اندھے مقلد نہ تھے، اس ضمن میں شیخ ؒ فرماتے ہیں : ’’تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، ہم فقہی مسلک میں امام احمد بن حنبل ؒ کی پیروی کرنے والے ہیں، اور بدعتی نہیں ہیں ([131]) ‘‘۔

اگر چہ شیخ ؒ اپنی عہد جوانی سے ہی اسی فقہی مسلک کے پیروکار تھے مگر وہ ایک اندھے اور متعصب مقلد نہ تھے کہ تمام دوسرے مسالک کے خلاف صرف اپنے ہی مسلک کی حمایت کرتے . وہ اسی وقت مسلک حنبلی کے مسائل کو اپناتے جب وہ کسی دلیل سے ثابت ہوجاتے ([132]).بصورت دیگر وہ کسی اور مسلک کی بات کو اپناتے اگر وہ دلیل کی روشنی میں زیادہ قوی نظر آتی.

چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’ہم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ اور سلف صالحین کے پیروکار ہیں.نیز چاروں ائمہ فقہ: امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت ؒ ، امام مالک بن انس ؒ ، امام محمد بن ادریس شافعیؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ کی آراء میں سے جو مستند ہواس کو قبول کرتے ہیں ([133]) ۔

حتی کہ آپ کے سب سے زیادہ محبوب دونوں اماموں کے سلسلے میں بھی یہی اسلوب آپ نے اپنایا تھا، چنانچہ آپ رقمطراز ہیں: ’’ہماری رائے میں امام ابن القیم ؒ اور ان کے استاذ ( ابن تیمیہ ؒ ) اہل سنت کے امام ہیں اور ان کی کتابیں افضل ترین اور مستند ہیں مگر ہر مسئلہ میں ہم ان کی بھی اندھی تقلید نہیں کرتے، ہر شخص کے کچھ اقوال کو لیا جاسکتا ہے او رکچھ کو ترک کیاجاسکتا ہے سوائے ہمارے نبی ﷺکے([134]) ‘‘۔

مزید برآں شیخ ؒ دوسرے لوگوں کا یہ حق تسلیم کرتے تھے کہ وہ اپنی مرضی کے مسلک کی تقلید کریں.وہ فرماتے تھے کہ جہاں تک ہمارے مسلک کا تعلق ہے تو یہ امام احمد بن حنبل ؒ کا مسلک ہے جو اہل سنت کے امام ہیں، ہم چاروں مسالک میں سے کسی پر بھی اعتراض نہیں کرتے جب تک وہ قرآن وسنت کے نصوص، اجماع اور جمہور کے مخالف نہ ہو([135]) ‘‘۔

شیخ ؒ نے اس بات کی بھی صراحت فرمادی کہ اختلاف رائے کی صورت میں ہر شخص کا مقصود اطاعت الٰہی ہو چنانچہ اس طرح شیخ ؒ اور آ پ کے رفقاء دراصل ائمہ مسالک فقہیہ ہی کی تعلیمات پر عمل پیرا تھے جنہوں نے اندھی تقلید سے منع فرمایا اور ہر اس قول کو ترک کرنے کا حکم دیا جو قرآن وحدیث کے مخالف ہو([136]

شیخ ؒ ’’اجتہاد‘‘ کو ازسر نو زندہ کرنے کے خواہاں اور حامی تھے تاکہ دور جدید کے مسائل کا حل قرآن وسنت سے تلاش کیا جائے ، بایں طور آپ نے کوئی نئی اورجدید راہ نہیں نکالی بلکہ امت مسلمہ کو سلف صالحین کے فہم کی طرف واپس لوٹایا.

نصیر کے مطابق مسلمانوں کا پہلا دور جب گزرا توان کا اس بات پر اجماع تھا کہ اجتہاد واجب ہے اور امت مسلمہ کے لئے فرض کفایہ ہے یعنی ترک اجتہاد پر پوری امت گناہ گار ہوگی اور اگر کچھ اہل علم اس ذمہ داری کو نبھائیں تو پوری امت کے لئے کافی ہوجائے گا ([137]

اگرچہ ’’اجتہاد‘‘ اور ’’تقلید‘‘ کو عمومی طور پر فقہی روشنی میں دیکھا جاتا ہے مگر ان کی تاثیر فقہ کے دائرہ سے ہٹ کر بھی مرتب ہوتی ہے . ’’اجتہاد‘‘ کے دروازے کے بند ہونے کے تصور نے متعدد طریقوں سے لوگوں کی سوچ وفکر کے دروازوں پر قدغن لگادیئے . امت اور وحی کے درمیان یہ تصور بہت بڑی دیوار بن گیا. امور عقیدہ اور مسائل روحانیت (تصوف) میں کتنے ہی لوگ وحی کے الفاظ میں شک وتذبذب کا شکار ہوگئے، چنانچہ فکری تجدید کے لئے یہ بات ازحد ضروری ہوگئی کہ عمومی طور پر ہر مسلمان اور خصوصیت کے ساتھ علماء اور کتاب وسنت کے مابین تعلق اجتہاد کی نشأۃ ثانیہ ہو . صرف اسی طریقہ سے امت کے فقہی، ایمانی اور روحانی انحطاط کا مداوا ہوسکتاتھا.

بعینہ یہی بات نصیر نے بھی لکھی ہے کہ ’’یہ ہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعہ انسانی فکر کی تعمیر اور قرآن وسنت کی بالادستی کے درمیان ایک موزوں ترین پُل کی تعمیر کی جاسکتی ہے‘‘ موصوفہ مزید لکھتی ہیں کہ ’’کوئی شخص ا س کا اہل نہ تھا کہ ان رکاوٹوں کو منہد م کرسکے یہاں تک کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کا ظہور ہوا، اور آپ نے اس کا راستہ ہموار کیا، حقیقی توحید شرک کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں ڈوب گئی تھی. لوگ ہدایت کے مصادر کی طرف رجوع کرنے کے بجائے بعد میں لکھی جانے والی تحریروں کی اتباع میں لگے ہوئے تھے، یہ شیخ محمدبن عبدالوہاب ؒ تھے جنہوں نے اپنے متبعین کو قرآن وسنت کی طرف واپس لے آئے ([138]

خلاصہ یہ کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کا فقہی اسلوب دراصل مصادر اصلیہ کی بنیاد پر مقاصد شریعت کے عین مطابق تھا جو متأخرین علماء کے خود ساختہ فیصلوں کے ذریعے لگائے گئے قدغنوں سے آزادی کا ضامن تھا اور اس طریقہ کے اندر ایسی لچک ہے جس کے ذریعے ہر جگہ اور ہر وقت کے انسانی حاجتوں اور بشری تقاضوں کی تکمیل کی جاسکتی ہے ([139]) ۔

 شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ اور دعوت امر بالمعروف ونہی عن المنکر

شیخ محمدرحمہ اللہ کی نظر میں حقیقی توحید کو لاز م پکڑنے اور اپنی زندگی میں شرک سے بچنے کے بعد سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ اس راہ کی طرف دعوت دی جائے جو رضائے الٰہی کی طرف لے جائے. اپنی اس بات کے لئے اس آیت سے دلیل دیتے تھے کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: وَمَنۡ أَحۡسَنُ قَوۡلٗا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا ٣٣

’’اور اس سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے ([140]) ‘‘۔

اور بخاری ومسلم کے حوالے سے اس حدیث کا بھی ذکرفر ماتے تھے جس میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’اللہ کی قسم! تمہارے ذریعہ کسی ایک آدمی کا بھی ہدایت پاجانا اعلیٰ ترین نسل کے اونٹوں (کو پانے) سے بہتر ہے([141])‘‘۔

یہی وجہ تھی کہ شیخ ؒ نے دین کی تعلیم ودعوت پر کافی زور دیا، آپ نے امت کے تمام طبقات چاہے علماء ہوں یا عوام، مرد ہوں یا عورتیں، جوان ہوں یا بوڑھے ہر ایک پر اس کی تعلیم ودعوت لازمی قرار دی. مثال کے طور پر آپ نے ایک مقام پر دین کی بنیادی باتوں کو بیان کرتے ہوئے اور شرک کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ہم پر واجب ہے کہ ہم اس حق کو لوگوں تک پہنچائیں چاہے وہ مرد ہوں یا خواتین. اللہ اپنی رحمتیں ان پر نازل فرماتے ہیں جو اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرتے ہیں([142])‘‘۔

شیخ ؒ کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی اہمیت اور معاشرہ کو اس کی ضرورت کا بخوبی اندازہ تھا. اس بات کی طرف مریم جمیلہ نے اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے:

’’شیخ ؒ محض اسلام کی تبلیغ کرنے سے مطمئن نہ تھے بلکہ یہ عزم مصمم لئے ہوئے تھے کہ ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں اسلام اپنی اصل شکل میں ظاہر ہو اور عملی زندگی میں نافذ ہو([143]) ‘‘۔

اس ہدف کے حصول کے لئے یہ کافی نہ تھا کہ کوئی ایک شخص صرف اپنا تزکیۂ نفس کرلے، بلکہ یہ بات لازمی تھی کہ ہر آدمی دوسرے تک ان تعلیمات کو پھیلائے تاکہ ہر ایک اپنے اپنے نفس کا تزکیہ کرے اور اس کے بعد دوسرے قدم پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل انجام دے.

شیخ ؒ کی رائے میں دراصل امر بالمعروف اور نہی عن المنکروہ فریضہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے امت پر فرض کیا جس سے رک جانے کی درخواست بھی اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی ہے ، آپ نے ایک مرتبہ فرمایا:’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں کفر اور منافقت کا خاموش تماشائی بنا رہوں تو آپ کو ایسی درخواست نہیں کرنی چاہئے اس لئے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی فرمانبرداری جائز نہیں ہوسکتی ([144]) ۔

 اوّل ترین مسائل

شیخ ؒ کے دعوتی منہج کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اہم ترین معاملات کواولیت اور ترجیح دی جائے، جیساکہ اب تک یہ بات آپ کے سامنے واضح ہوچکی کہ سب سے اہم ترین مسئلہ ’’اللہ پر صحیح ایمان‘‘ ہے. آپ نے اس اسلوب کو نبی کریم ﷺ کی اس مشہور حدیث سے اخذ کیا جس میں نبی کریم ﷺ معاذ بن جبل ؓ کو بحیثیت معلم یمن روانہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’تم اہل کتاب کے پاس جارہے ہو لہذا پہلی بات جس کی طرف تم ان کو دعوت دو وہ یہ کہ وہ ایک اللہ کی عبادت کرنے والے بن جائیں اور اگر وہ اس کو قبول کرلیں تو ان کو بتلاؤکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں‘‘.

شیخ ؒ فرماتے ہیں : لہذا کسی بھی شخص کو پانچ وقت کی نمازوں کا حکم نہ دیا جائے جب تک وہ اصل توحید کو نہ جان لے اور اس کو قبول نہ کرلے. اور جب یہ صورت حال نماز کے ساتھ ہے تو دیگر اختلافی مسائل کا کیا حال ہوگا؟!! ([145]

اور مزید فرماتے ہیں: ’’جان لو کہ انسان کے لئے سب سے اہم فریضہ یہ ہے کہ وہ اس بات کا ادراک کرلے کہ اللہ ہی تمام جہانوں کا رب ہے جو اپنی مرضی کے مطابق ان میں تدبیر کرتا ہے ، جب اس بات کی معرفت ہوجائے تو اس بات پر غور کرے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے سلسلے میں اس پر کون سے حقوق عائد ہوتے ہیں . ان حقوق میں عبادت وتعظیم،خوف وخشیت، امید ورجا داخل ہیں. اور اس طرح اس بات کا اعتراف کیا جائے کہ وہی اللہ ہے جس کی عاجزانہ تابعداری کی جائے اوراوامر ونواہی میں صرف اسی کی اطاعت مطلقًا کی جائے. اور ان تمام باتوں پر (ایمان) نماز وزکاۃ جیسے فرائض سے بھی پہلے ہے([146]) ‘‘۔

 شیخ محمدؒ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا عمل انجام دینے والے کی صفات

مذکورہ بالا امور سے یہ بات واضح ہوچکی کہ بحیثیت مجموعی ’’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘ کی اہمیت کافی زیادہ ہے، شیخ ؒ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ یہ کوئی ایسا عمل نہیں جس کو بے ترتیب اوربے ہنگم طریقے سے کیا جائے اور نہ ہر شخص اس فریضہ کو صحیح طور سے انجام دینے کاا ہل ہے.

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے کچھ اصول وضوابط ہیں جن کے ساتھ اس کو انجام دیا جائے اور اس طرح اس کو انجام دینے والے کچھ اوصاف بھی ہیں جن سے اس کو متصف ہونا چاہئے. شیخ ؒ کی تحریروں میں جابجا امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضہ کو انجام دینے والے کی صفات کا تذکرہ ملتا ہے ([147])۔ منجملہ صفات میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ اخلاص: یعنی صرف اور صرف اللہ کے لئے یہ کام کرے. خالص وپاک نیت سے اس عمل کو انجام دے. یہ ایسی صفت ہے کہ جس کو شیخ ؒ نے تمام اعمال میں اختیار کرنے کے لئے زور دیا .

۲۔ شیخ ؒ نے حصول علم پر بھی بہت زور دیا. حقیقت یہ ہے کہ ایک جاہل آدمی اگر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے لئے اٹھ کھڑا ہو تو وہ لوگوں کو خیر سے زیادہ شر پہنچاسکتا ہے اسی وجہ سے شیخ نے علم کی شرط پر کافی زور دیا. چنانچہ آپ فرماتے ہیں:’’ایک شخص کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ کسی بات پر اعتراض کرے جب تک اسے علم نہ ہو، ایک برے کام کو روکنے والے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اسے اس بات کا علم ہو کہ مذکورہ کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہے ([148])‘‘۔

۳۔ حکمت: امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے سلسلے میں حکمت سے مراد یہ ہے کہ اس بات کا علم حاصل کیا جائے کہ کس کام کو کس طرح قرآن وسنت کی ہدایت کے مطابق مناسب وقت پر انجام دیا جائے.مثال کے طور پر یہ بات معلوم ہو کہ کب سختی کے بجائے نرمی اختیار کی جائے اور سخت اسلوب کی ضرورت کن حالات میں جائز ہے وغیرہ. چنانچہ اپنے ایک مکتوب میں شیخ ؒ لکھتے ہیں: ’’کچھ دیندار لوگ نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں (اور اپنے عمل میں وہ حق بجانب ہیں) مگر ان کی غلطی ان کے لہجہ کی درشتگی میں ہوتی ہے جو بھائیوں کے درمیان بھی تفرقہ پیدا کردیتی ہے ([149])‘‘۔

مذکورہ بالا صفات کا ذکر کرتے ہوئے شیخ ؒ نے امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے متعلق چند زریں اصولوں کو قلم بند فرمایا ([150]) ۔ جن میں سے چندکا تذکرہ درج ذیل سطور میں کیا جارہا ہے:

۱۔ شیخ ؒ نے اس بات پر زور دیا کہ جس برائی کو مٹانا ہے وہ یقینی اور واضح ہونی چاہئے، چنانچہ آپ محمد بن سویلم اور ثنیان بن سعود کو ہدایت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ان کو دو باتیں بتلائیں: اولاً یہ کہ عجلت کے ساتھ یہ کام نہ کریں اور بغیر معاملہ کی تصدیق کے گفتگونہ کریں کیونکہ آج کل غلط بیانی اور جھوٹ کی فراوانی ہے.

ثانیًا یہ کہ رسول اللہ ﷺمنافقین کو فرداً فردًا پہچانتے تھے اور اس کے باوجود آپ ان کے ظاہری اعمال کو قبول فرمالیتے تھے، اور ان کے باطن اور اندرونی رازوں کواللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتے تھے.اگر کوئی بات بالکل واضح اور ظاہر ہو جس کے خلاف لڑائی کی ضرورت ہوجائے تو صرف اسی وقت لڑائی کریں ([151]) ‘‘۔

۲۔ شیخ نے یہ اصول ذکر کیا کہ کسی بھی شر کو مٹانے کی اجازت اس وقت نہ ہوگی جب اس کے مٹانے سے اس سے بڑے شر کے جنم لینے کا خطرہ ہو. چنانچہ آپ فرماتے ہیں: علماء کے قول کے مطابق اگر کسی برائی پر اعتراض لوگوں میں تفرقہ کا باعث بنے تو اس وقت اس پر اعتراض نہ کیا جائے. اللہ کی قسم!تمہیں یہ اصول سمجھنا چاہئے اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہئے ورنہ تمہارا یہ اعتراض دین کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا([152]) ‘‘۔

۳۔ تیسرا اہم اصول یہ ہے کہ جب کسی شخص کا عمل اجتہاد پر مبنی ہو یاکسی فقہی مسلک کے مطابق ہو تو ایسی صورت میں اس پر اعتراض نہ کیا جائے ،چنانچہ شیخ ؒ نے ان لوگوں پر ناراضگی کا اظہار کیا جنہوں نے علماء کے ہاتھ چومنے پر اعتراض کیا.آپ نے ان سے فرمایا کہ اس پر اعتراص نہ کریں کیونکہ اس میں علماء کا اختلاف ہے اور یہ بات مروی ہے کہ زید بن ثابتؓ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاتھ کو چوما اور فرمایا کہ ’’ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم اہل بیت کے ساتھ ایسا سلوک کریں ([153]

تاہم اس اصول کا اطلاق ہر مسئلہ پر نہیں ہوگا جس میں علماء نے اختلاف کیا ہے بلکہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس مسئلہ میں نص صریح موجود ہے یا نہیں ؟ اگر حکم صریح یا نص قطعی موجود ہو تو پھر اس بارے میں کوئی رائے قابل قبول نہ ہوگی اورجس مسئلہ میں صراحت کے ساتھ نص قطعی موجود نہ ہووہاں اختلاف آراء کی گنجائش قبول کی جائے گی، لہذا اس تفصیلی فرق کو مد نظررکھا جائے.

شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی زندگی اور آپ کی دعوت کا ایک نہایت ہی اہم پہلو یہ ہے کہ وہ زندگی کے کسی ایک خاص پہلو کی اصلاح پر محدود ومرتکز نہ تھی جب کہ بہت ساری تحریکات اور اس کے قائدین ایسے ہیں جو صرف کسی ایک خاص حصے جیسے نماز پر سارا زور صرف کردیتے ہیں اور زندگی کے اور دیگر پہلوؤں کو نظر انداز کردیتے ہیں .ایسی اصلاحی کاوشیں کچھ مثبت نتائج تو پیش کرتی ہیں مگر بالغ نظری کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ صرف چند جزوی نتائج ہوتے ہیں جو حقیقت میں پائداری سے محروم ہوتے ہیں.

اس طرح شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ رسول اللہ ﷺکی اقتدا ء کرتے ہوئے خود کو زندگی کے کسی ایک پہلو کی اصلاح کے لئے محدود نہ کیا بلکہ آپ نے پورے معاشرے کی عمارت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی. فرد اور اس کے کردار سے لے کر حکومت اور اس کے رہنما قوانین تک کی آپ نے اصلاح فرمائی.

 خلاصہ:مختصرًا یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی ’’اصلاحی دعوت‘‘ کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ یہ بغیر کسی آمیزش کے خالص کتاب وسنت کی طرف واپس آنے کی دعوت تھی تاہم آپ نے ان معاملات کو زیادہ اجاگر کیا جن کی طرف آپ کے زمانے میں زیادہ توجہ کی ضرورت تھی.

آپ نے اپنی دعوت کا آغاز سب سے اہم ترین مسئلہ سے کیا یعنی انسان کو شرک کی نجاست سے پاک کیا جائے، تاہم آپ کی دعوت صرف ایک پہلو کو لئے ہوئے نہ تھی بلکہ تعلیم وتربیت، سیاست وتبلیغ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور جہاد سب پر مشتمل تھی اور یہ تمام خصوصیات نبی کریم ﷺ کی دعوت میں موجو دہیں.

اس کے علاوہ شیخ ؒ نے اجتہاد کا دروزاہ کھولا اور دینی مسائل سے متعلق صحیح فہم پر زور دیا . آپ نے لوگوں کی توجہ قرآن وحدیث کی طرف مبذول کراوائی جو تمام اسلامی تعلیمات کی اصل وبنیاد ہیں. اس طرح ایک بار پھر آپ نے مسلمانوں کو صحیح اسلام میں داخل ہونے کی راہ دکھلائی جب کہ وہ صراط مستقیم سے دور آبائی رسم ورواج اور غیر اسلامی طور طریقوں میں گم ہوچکے تھے.

 ۴۔شیخ محمد ؒ کی تأثیراور اثرات ’’وہابی‘‘ اور ’’وہابیت‘ ‘ کے الفاظ پر ایک نوٹ

شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ اور آپ کے متبعین نے اپنے عقائد وتعلیمات کے حوالہ سے کبھی بھی ’’وہابی‘‘ یا ’’وہابیت‘‘ کے الفاظ استعمال نہیں کئے، عام طور پر وہ اپنے لئے ’’مسلم‘‘ اور ’’موحد‘‘کے الفاظ استعمال کرتے تھے.اور اپنی دعوت کو دعوتِ توحید یا دین اسلام یا سلف صالحین کی طرف نسبت کرتے ہوئے’’ دعوت سلفیہ‘‘ یا صرف ’’دعوت‘‘ جیسے الفاظ سے موسوم کرتے تھے ([154]) موحدین کی اصطلاح شیخ ؒ کو پسند تھی جس کو وہ استعمال کرتے تھے. اس اصطلاح سے خود کو دیگران مسلمانوں سے الگ کرتے تھے جوایسے شرکیہ اعمال میں ملوث تھے جو توحید کی جڑوں کے کاٹنے کی مترادف تھیں ([155]

یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ محمد رسول اللہﷺ، صحابۂ کرام،تابعین، امام احمد، امام ابن تیمیہ، امام ابن القیم اور امام ابن کثیررحمہم اللہ جیسے بڑے علماء دین کے نقش قدم پر گامزن تھے. تاہم شیخ محمد ؒ کو ایسے کاموں سے موسوم نہیں کیا گیا جو آپ کے مقصد کی صحیح نمائندگی کریں جیسے لفظ ’’سلفی‘‘ (یعنی سلف صالحین کے منہچ پر چلنے والے) اور ظاہر ہے کہ اس طرح کے الفاظ ان لوگوں کے اہداف ومقاصد کے مطابق نہ ہوں گے جنہوں نے آپ کو’’ وہابی ‘‘کے نام سے موسوم کیا.

شیخ محمد العثیمین ؒ فرماتے ہیں کہ کوئی شبہ نہیں کہ پہلے وہ اشخاص جنہوں نے اس اصطلاح کو استعمال کیا تھا وہ یقیناًدعوت شیخ ؒ کے مخالف تھے تاہم اس بات کی اطلاع نہیں ہے کہ کس شخص نے پہلی مرتبہ اس اصطلاح کا استعمال کیا.

لیکن یہ صراحت ملتی ہےکہ محمد علی پاشا کے درعیہ پر حملہ کے وقت یا اس سے کچھ عرصہ بعد ہی یہ اصطلاح عام طور پر استعمال ہونے لگی ([156]) ۔

لہذا اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ پہلے پہل یہ اصطلاح اسی مقصد سے استعمال کی گئی کہ لوگوں کو آپ ؒ کی اس دعوت سے متنفر کیا جائے، اسی ضمن میں ’’وہابی‘‘ کے علاوہ ’’بدعتی‘ ‘ ، ’’کافر‘‘ اور ’’خارجی‘‘ جیسے اور نام بھی آپ کے لئے استعمال کئے گئے ([157]) ۔

علی بوطامی غالباً حسن ظن کا پہلو اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نکتہ پر محمد بن عبدالوہاب کے دشمنوں کا منصوبہ انہی لوگوں کے خلاف ہوگیا ،جو اصطلاح ان کی بدنامی کے لئے وضع کی گئی تھی خود وہی نبی کریم ﷺ کے سچے پیروکاروں کی علامت قرار دی گئی.آج کل جو شخص بھی لفظ ’’وہابی‘‘ سنتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو قرآن وسنت کی اتباع کی طرف دعوت دیتا ہے ، جو دلیل کی پیروی کرتا ہے ، جوامر بالمعروف ونہی عن المنکر کا حامل ہے، جو اپنے آبائی رسم ورواج اور توہم پرستی کے عقائد کو مٹانے والا اور سلف صالحین کے طریقے کی طرف دعوت دینے والا ہے ([158]) ۔

تاہم آج کل دوبارہ ’’وہابی‘‘ کی اصطلاح عوام الناس کو اصل اسلام سے گمراہ کرنے لئے پھر سے استعمال کی جارہی ہے ، آج بھی بے شمار لوگ یہ جرأت نہیں کرپاتے یا اس کو دانشمندانہ نہیں سمجھتے کہ اسلام پر کھلے طور پر حملہ آور ہوں اس لئے وہ اسلام پر حملہ کرنے کے لئے اور طریقے اختیار کرتے ہیں جب کہ دوسری حیثیت سے وہ کسی نہ کسی صورت میں اپنے آپ کواسلام کے ہمدرد ظاہر کرتے ہیں، دراصل انہیں کوئی ’’دخانی پردہ‘‘ چاہئے ( جس کے پیچھے چھپ کر یہ وار کریں).

یہ کاوش دراصل ایسے اسلام کو نافذکرنے کے خلاف جنگ ہے جس کی تأثیر مسلمانوں کی زندگی میں حقیقی ہو. مغرب میں بہت سے لوگ اسلام سے خوف زدہ ہیں اور واحد طریقہ جو صدیوں سے اسلام کو شکست سے دو چار کرنے کے لئے اختیار کیا گیاوہ یہ ہے ممکن حد تک اسلام کی بدترین تصویر پیش کی جائے.

آج کل اس کی صورت یہ ہے کہ جو قرآن وسنت کی حقیقی معنوں میں پیروی کرے اس کو بنیاد پر ست( Fundamentalist)، شدت پسند(Extremist)، دقیانوس(Backward) اور دہشت گرد(Terrorist) کے ناموں سے موسوم کیا جائے . دراصل جن طریقوں کو ’’ وہابی مخالف لوگ‘‘ استعمال کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ چیزیں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں کہ وہ عوام کے نزدیک قابل قبول نہیں ان کو و’’ہابیوں‘‘ کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور یہ کبھی صراحت نہیں کرتے کہ یہ وہ باتیں ہیں جو قرآن وحدیث میں کھلے طور بیان کی گئی ہیں.

لہذا درحقیقت ان کی دشمنی ’’وہابیوں ‘‘ کے ساتھ نہیں بلکہ ان کی دشمنی کتاب وسنت کی واضح تعلیمات کے ساتھ ہے، ایک مزید اہم نکتہ یہ ہے کہ کوئی ضروری نہیں کہ متبعین ہمیشہ ہی اپنے قائد کے موقف کو پیش کریں اور کسی بھی قائدکے ساتھ یہ معاملہ ہوسکتا ہے ، کسی بھی دعوت وتحریک کے ایسے پیروکار ومتبعین ہوسکتے ہیں جو(بظاہر اس سے منسلک ہوں مگر درحقیقت) اس دعوت وتحریک کے پیغام کو پوری طرح نہ سمجھے ہوں یا اس سے لاعلم ہوں یااس سے ان کا معاملہ مخلصانہ نہ ہو.

دراصل کسی بھی دعوت وتحریک کے ضمن میں یہ بات نہایت اہم اورضروری ہے کہ اس دعوت کو آگے بڑھانے والے علماء جو سچے معنوں میں اس کو مخلصانہ طور پر (قولاً وعملاً) دوسروں تک پہنچاتے ہیں ان میں اور ان لوگوں میں فرق کیا جائے جو اس دعوت کے جاہل پیروکار ہوں(جو اس کے مقاصد کو نہ سمجھے ہوں) لہذا جہاں کام میں خرابی وخلل پایاجائے تو اس کے لئے اس دعوت کے مؤسس اول یا ان کی تعلیمات کو فی الفور مورد الزام نہ ٹھہرایاجائے، چنانچہ شیخ العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس مسئلہ کا آغاز شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی دعوت کے ابتدائی مرحلہ سے ہی ہو چکا تھا . شیخ رحمہ اللہ کی زندگی ہی میں ان کے کچھ’’ متبعین‘‘ نے رسول اللہﷺ کے آل بیت کے خلاف آواز اٹھائی جب انہوں نے اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز بنانے کے لیے ایک مخصوص قسم کا لباس پہننے لگے.تاہم شیخ رحمہ اللہ نے اس معاملہ پر کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ وہ اپنے ’’متبعین ‘‘کی اصلاح میں لگے رہے.

ایک دوسری بڑی اہم مثال شیخ العثیمین ؒ نے یہ ذکر فرمائی کہ شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی وفات کے بعدجب آپ کے متبعین نے طائف فتح کرلیا تو انہوں نے جوش میں شہر میں موجود دینی کتابوں کو برباد کردیااور اس وقت یہ شیخ ؒ کے فرزند شیخ عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب ؒ تھے جنہوں نے اس عمل پر ناراضگی ظاہر فرمائی اور ان کے اس عمل کی اصلاح فرمائی ([159]) ۔

دور حاضر میں دو باتیں وقوع پذیر ہیں: ۱۔ بہت سے لوگوں پر ’’وہابی‘‘ کا لیبل لگایا جارہا ہے اور ’’وہابیوں‘‘ کو ہر چیز کے لئے قصوروار ٹھہرایا جارہا ہے. ۲۔ بہت سے لوگ شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی تعلیمات ودعوت کے خلاف اعمال انجام دے رہے ہیں، اور اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں جب کہ ان کا تعلق اس دعوت سے صرف برائے نام ہے . لہذا اس صورت حال میں بہتر یہی ہے کہ’’وہابی‘‘ یا ’’وہابیت‘‘ کی اصطلاح کو ترک کیا جائے اور مذکورہ لوگوں کے دعوؤں کو کتاب وسنت کی کسوٹی پر پرکھا جائے.

 نجد کے باہر شیخ محمد ؒ کے اثرات

دنیا کے مختلف گوشوں میں شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی دعوت بے شمار لوگوں کو کتاب وسنت کی حقیقی تعلیمات کی طرف واپس آنے میں مددگار ثابت ہوئی اور بہت سارے لوگوں کی ہدایت کا سبب بنیں، آپ کی دعوت نے اسلام کی احیائے نو کا کام کیا جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں. اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ محمد ؒ کی دعوت کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے تمام گوشوں تک پہنچ چکی. چنانچہ دینی جماعتیں اور دین کے حامل اشخاص معاشرہ کی کھلی آزادی وبے راہ روی اور شرکیات وبدعات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور لوگوں کوایمان وعقیدے کی صحیح تعلیم دے رہے ہیں.

 دعوت شیخ محمدؒ کی تأثیر سے متعلق چند تمہیدی باتیں

شیخ محمد ؒ کی دعوت کی تأثیر کی وسعت پر حتمی طور پر تو کچھ لکھنا مشکل ہے جس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

۱۔ جو لوگ آپ ؒ کے طالب علم بنے اور حقیقی طور پر آپ کی دعوت سے متأثر ہوئے ان کو ان تمام لوگوں سے الگ کرنا مشکل ہے جو صرف آپ کے حمایتی بن کر آپ کے راستے پر چلے جب کہ وہ براہ راست آپ کی دعوت سے متأثر نہ ہوئے.

۲۔ ایسی شخصیات کا پایا جانا جنہوں نے شیخ محمدؒ کے صرف چند اصلاحی کاموں کو پسند کیا حالانکہ وہ حقیقت میں آپ کے متبعین میں شامل نہ ہوئے. جیسے شاعر محمد اقبال اور شیخ محمد عبدہ جیسی شخصیات بطور مثال پیش کی جاسکتی ہیں . درحقیقت کسی ایک جزء سے متأثر ہونا (اس بات کی دلیل نہیں کہ انہوں نے پوری دعوت کو قبول کرلیا) جب کہ وہ آپ کی دیگرتعلیمات کے خلاف عمل پیرا ہوں.

۳۔’’ وہابی‘‘ کا لقب عام ہوجانا، یعنی جب کبھی کوئی فرد یا ادارہ یا جمعیت یا جماعت سامراجی طاقتوں کے خلاف یا کسی مسلم فرقہ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو اس کو فورًا ’’وہابی‘‘ کے لقب سے نواز دیا جاتا ہے جب کہ ان لوگوں کا شیخ محمد ؒ کی دعوت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا یا ممکن ہے کہ کبھی کبھار ان کے اور شیخ ؒ کی دعوت کے درمیان ایک آدھ چیز قدر مشترک کے طور پر پائی جائے . دراصل یہ سب ایک پروپیگنڈہ کے تحت کیا جاتا ہے جو حقائق سے خالی دعوؤں پر مبنی ہوتا ہے تاکہ مسلمانوں کو اس دعوت سے دور کیا جائے.

ایسے بھی چند واقعات ہوئے ہیں کہ کبھی کسی تحریک کے اندر وہی کچھ باتیں پائی گئیں جو شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی دعوت میں موجود ہیں جن کے ذریعہ لوگوں کو کتاب وسنت کی طرف لوٹانا مقصود ہے تو اب یہ سوال پیدا ہوا کہ لوگوں کو کس طرح اس تحریک سے روکا جائے جس کی تعلیمات واضح طور پر کتاب وسنت پر مبنی ہیں اور (اس بات کا خدشہ ہے ) کہ کافی تعداد میں لوگ اس تحریک کی طرف راغب ہوجائیں گے تو اس کا ایک ہی جواب ہے کہ اس تحریک کو ’’وہابیت ‘‘ کا نام دے دو جس کے ساتھ ہی لوگ اس سے دور ہوتے چلے جائیں گے. چنانچہ ماضی میں متعدد جماعتوں وجمعیتوں کو ’’وہابیت‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا، ان کو پہلے ہی بہت سے منفی پہلوؤں سے اور جھوٹے پروپیگنڈوں سے بدنام کیا گیا اور پھر اس نام سے ان کی نسبت کردی گئی تاکہ لوگ اس نام کو سنتے ہی ان سے دور ہوجائیں اور یہ تک نہ دیکھیں کہ اس تحریک کی تعلیمات کیا ہیں.

۴۔ کئی ایسے لوگوں کا پایا جانا جو اس دعوت سے اپنے تعلق کا کھل کر اظہار نہ کرتے ہوں، دراصل ’’وہابیوں‘‘ پر مسلسل حملوں نے ایک ایسی صورت حال پیدا کردی کہ لوگوں کے لئے یہ بات خطرناک ہوگئی کہ وہ اس دعوت سے کوئی لگاؤ یا تعلق کا اظہار کریں چنانچہ کچھ لوگ شیخ محمد ؒ کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں، اور آپ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں ، لیکن اس کے باوجود اپنے اندر اتنی ہمت نہیں پاتے کہ اپنے اس تعلق کو وہ علی الإعلان ظاہر کریں یا بسا اوقات اس طرح کھل کر اس تعلق کا اظہار دانشمندی کے خلاف ہوتا ہے.

۵۔ غیر منصفانہ تحریروں کا پایا جانا، بہت سارے قلم کاروں نے اس دعوت سے متعلق قلم اٹھاتے ہوئے شدت پسندی کی طرف مائل ہوگئے ان میں سے کچھ نے شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کے زمانے سے لے کر آج تک جتنی تحریکیں اٹھیں ان سب کو شیخ محمد ؒ کی دعوت کا براہ راست نتیجہ ظاہر کیا. مثال کے طور پر عبدالحلیم الجندی رقمطراز ہے:

’’محمد بن عبدالوہاب ؒ کی وفات کے بعد ہر اصلاحی تحریک جوگزشتہ دو صدیوں میں اٹھی وہ سب آپ ہی کے فکرکے طلباء ہیں جو عمومی اور تفصیلی طور پر آپ ہی کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارے ہیں ([160])‘‘۔

’’العبود‘‘ نے متعدد ان تحریکوں کو ذکر کیا جن کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ وہ شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ سے متأثر ہوئی ہیں اور کہا کہ بغیر معقول شہادت اور ثبوت کے یہ دعوی نہیں کیا جاسکتا کہ یہ تمام تحریکیں شیخ محمد ؒ سے متأثر ہوئی تھیں. ان کے بیان کے مطابق بیشتر صورتوں میں یہ مبینہ اثر مغربی قلم کاروں سے منقول کردہ بیانات پر مبنی ہے جو محض ظن وتخمین کی بنیاد پر لکھے گئے ہیں، ان میں سے بہت ساری تحریکیں اپنے اپنے علاقوں میں موجود ماحول کے نتیجہ کے طور پر از خود معرض وجود میں آئی ہیں ، العبود یہاں تک لکھتے ہیں کہ ان میں کچھ تحریکوں کے قائدین ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے شیخ محمدؒ کے خلاف پھیلائے گئے جھوٹے پروپیگنڈوں کے علاوہ کچھ نہ سنا ہوگا ([161]

دوسری جانب کچھ لوگ شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی دعوت کا اثر نجد کے باہر تسلیم نہیں کرتے ([162]) مثلاً عبدالکریم الخطیب کہتے ہیں کہ ایسی تحریکیں حالات کی فطری پیداوار تھیں اور اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ یقین کیا جائے کہ شیخ محمد ؒ کی دعوت کا دوسری اصلاحی تحریکوں پر بھی کوئی اثر ہوا ہے ([163]

علامہ شیخ بن باز ؒ شیخ محمد ؒ کی دعوت کے اثرات کے بارے میں ان مختلف نتائج کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بظاہر یہ بڑا فرق دو وجوہات کی بنا پر ہے : اول یہ کہ ’’اثر‘‘ کا مفہوم سمجھا نہیں گیا، آیا اس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی بھی آپ کے طریقۂ کار کو اپنالے جس کو اس نے آپ کی کتابوں سے حاصل کیا یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ عمل اور طریقۂ کار کے مابین یکسانیت پیدا ہوجائے.واضح رہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ اس دور کے پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ عمل اور طریقۂ کار پیش کیا.

دو م یہ کہ تمام شخصیات وتحریکات پر علی الاطلاق ایک ہی حکم لگانے کی کوشش کرنا جب کہ ان میں سے ہر ایک اپنی کیفیتِ آغاز، ماحول اور طریقۂ کار کے لحاظ سے مختلف ہے، مثال کے طور پر نائجیریا کے عثمان دان فودیو اور شمالی سوڈان کے مہدی کے درمیان ایک ہی حکم لگانا مشکل ہے ، عثمان دان فودیونے براہ راست شیخ محمد بن عبدالوہاب کی دعوت وتعلیمات آپ کے طلباء سے حاصل کی اور کچھ عرصہ حجاز میں مقیم بھی رہے اور اس دوران شیخ محمد کے اعمال کا جائزہ بھی لیا جب کہ مہدی کا پس منظر ان سے بالکل مختلف رہا وہ خو د کو مہدی تصور کرتا تھا حالانکہ وہ مہدی والی حدیث کے اوصاف سے کوسوں دور تھا، مزید یہ کہ اس نے کبھی حجاز کا سفر نہیں کیا اور نہ ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے کبھی شیخ محمدؒ کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہو.

اس طرح اگر مؤثر ہونے کامفہوم شیخ محمدبن عبدالوہاب کی تعلیمات اور آپ کی پیروی ہے تو پھر یہ حقیقت ہے کہ بیشتر تحریکیں جو شیخ محمد ؒ کے بعدظہور پذیر ہوئیں وہ اس مفہوم کے اعتبار سے آپ ؒ سے متأثر نہیں ہوئیں.مگر مؤثر ہونے کا مفہوم صرف عمومی یا دینی اثرات مراد ہوں جس میں شیخ محمد ؒ نے اسلام کی روح کو دوبارہ زندہ کیا یعنی اسلامی اخوت کا تصور اور اسلام کا اس کے حقیقی مصادر کی روشنی میں نفاذ کا تصور تو یقیناًجن دیگر تحریکوں نے شیخ محمد ؒ کی دعوت کے بارے میں سنا تھا وہ آپ کے نتائج اور طریقۂ کار سے ضرور متأثر ہوئی تھیں. اگرچہ عالم اسلام میں یہ بات کسی بھی مؤثر تحریک کے بارے میں کہی جاسکتی ہے کہ جب اس کی خبر عالم اسلام کے دوسرے علاقوں میں پہنچتی ہے تو وہاں کے مسلمانوں میں اسلام کی نشأت ثانیہ کی نوید پیدا ہوجاتی ہے اور حقیقی اسلام کے نفاذ کے لئے ان کی کاوشیں تیز سے تیز تر ہوجاتی ہیں. مزید یہ کہ جب ان کو شیخ محمد ؒ کے مشن کی سچی خبر ملی تب بلاشبہ ان کے دلوں میں آپ سے محبت کا جذبہ پیدا ہوا اور اپنے مسلمان بھائی کے اس مشن کی حمایت میں فی سبیل اللہ اٹھ کھڑے ہوئے. اگر تاثیر سے یہ صورت حال مراد ہے تو پھر یہ سچ ہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ اپنے بعدظاہر ہونے والی بیشتر تحریکوں پر اثر انداز ہوئے ([164]

جو شخص بھی شیخ محمد ؒ کی دعوت کی طرح دعوت لے کر اُٹھے کوئی ضروری نہیں کہ وہ آپ ؒ سے متأثر ہوا ہو، درحقیقت جو بھی کتاب وسنت کے سچے راستے کی جانب رجوع ہوگا اور عملاً رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو نافذ کرنے لگے گا وہ اسی نتیجے پر پہنچے گا جس نتیجے پر شیخ محمد ؒ پہنچے تھے.

چنانچہ شیخ محمدؒ اکثر کہا کرتے تھے:’’وہ کوئی نئی چیز نہیں پیش کررہے ہیں‘‘. لہذا یہ حقیقت ہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ سے متأثر ہوئے بغیر آزادانہ طور پر کوئی اور بھی ان تعلیمات اور نتائج کو حاصل کرسکتا ہے جن کو شیخ ؒ نے حاصل کیا تھا.

آخرمیں یہ بات قابل غور ہے کہ اس باب کا بیان 1900ء ؁ کی نصف صدی سے پہلے کی تحریکوں اور ان کے حامیوں تک ہی محدود ہے . اس نکتہ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اس وقت ذرائع نقل وابلاغ اتنے وسیع پیمانے پر نہ تھے ، سعودی عرب میں ‘‘ تیل کی آمدنی‘‘ کے آغاز سے بہت پہلے ہی شیخ محمد کی تعلیمات اور آپ کی دعوت بہت سارے ملکوں میں پہنچ چکی تھی، اور بہت حد تک لوگوں نے اس کو قبول بھی کرلیا تھا.البتہ نئی دولت اور وسیع ذرائع نقل وابلاغ کے انقلاب نے یہ ممکن بنادیا کہ آپ کی دعوت بعید ترین علاقوں میں بھی پہنچ گئی.اب اگر کوئی آپ کی دعوت کے اثرات کا جائزہ لینا چاہے تو یہ اتنے وسیع تر ہوچکے ہیں کہ ان کا احاطہ مشکل ہے. آج تقریبًا ہر ملک اور ہر مسلم معاشرہ شیخ ؒ کی تعلیمات سے خوب واقف ہے . مزید یہ کہ چونکہ آپ کی تعلیمات کتاب وسنت کے عین مطابق ہیں اس لئے جوں ہی مسلمان ان کو سنتے ہیں ان کے دل ودماغ کے اندر اس کی صدا گونجنے لگتی ہے اور وہ فوراً ان تعلیمات کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں، قطع نظر اس سے کہ ان کا بتلانے والامحمد بن عبدالوہاب ؒ ہو یا کوئی اور!! ([165]

اس تمہید کے بعد ذیل میں شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی دعوت کے براہِ راست اثرات بیان کئے جاتے ہیں:

 عرب علاقے

عراق میں متعدد علماء پر شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی دعوت کا اثر ہوا. عراقی عالم عبدالعزیز بک الشادی جب حج کے لئے تشریف لے گئے تو سعود خاندان کے قائدین سے ملاقات کی. عراق کو واپس ہوتے ہوئے الدرعیہ سے گزرے، آپ شیخ ؒ کی دعوت کے قائل ہوگئے اور عراق واپسی پر شیخ کی دعوت کے ایک فعال مبلغ بن گئے. کافی سالوں تک وہ بے شمار لوگوں کو اسلام کے صحیح عقائد کی تعلیم دیتے رہے ([166]) ۔

علی بن محمد بن سعید السویدی البغدادی ایک محدث اور مؤرخ تھے، آپ بغداد میں پیدا ہوئے اور 1232 ؁ ھ میں دمشق میں وفات پائی. آپ نے شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی دعوت قبول کرلی اور گورنر بغداد سلیمان پاشا الصغیر کو اس دعوت پر قائل کرنے کی کوشش کی. آپ کا طریقۂ کار وہی تھا جو شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کا تھا ([167]

انہوں نے اپنے شاگردشہاب الدین الآلوسی ؒ (1802 ؁ء ۔1854 ؁ء) کو شیخ محمد ؒ کی تعلیمات پر راغب کیا اور آلوسیؒ کے علم دوست خاندان کو شیخ محمدؒ کی دعوت کی مدافعت پر مامور کیا ([168]

غالباً آلوسی خاندان عراق میں شیخ محمد ؒ کی تعلیمات اور آپ کی دعوت کی نشر واشاعت میں سب سے زیادہ مؤثر رہا، علامہ محمود الآلوسی (متوفی 1835 ؁ء) نے مشہور قرآنی تفسیر لکھی، نعمان (متوفی 1899 ؁ء) شیخ ابن تیمیہؒ کے پُرجوش حمایتی تھے ([169]) محمود شکری ؒ (1857 ؁ء۔1924 ؁ء) شیخ محمدؒ کے عظیم حمایتی او رمتبع تھے آپ نے تاریخ نجد لکھی اور شیخ محمد ؒ کی کتاب (المسائل الجاہلیۃ) پر شرح لکھی اور آپ ؒ کے مخالفین کے دلائل کے رد میں (ابن جرجیس اور النبہانی کے رد میں)دو کتابیں لکھیں ([170]

1793 ؁ء میں ملک شام میں عبدالعزیز بن محمد بن سعود کی افواج شام کے ایک حصہ پر قابض ہوگئیں ،1791؁ء تک کچھ بدو قبائل شیخ محمدؒ کے متبعین کی حکومت قبول کرچکے تھے . ان میں سے کچھ قبائل وہی تھے جن سے بعد میں ’’برک ہارٹ‘‘ نے ملاقات کی تھی اور ان کے معلمین، قضاۃ اور قائدین پر ’’وہابیت‘‘ کے اثرات کا مشاہدہ کیا، ’’الجمعہ ‘‘ کے بیان کے مطابق 1806ء؁ کے بعد شیخ محمد ؒ کے متبعین بحیثیت مبلغین اور علماء شام کے خاص خاص شہروں میں دیکھے جاسکتے تھے ([171]

سلفی علماء میں شام میں سب سے زیاد بااثر جمال الدین القاسمی (1866 ؁ء ۔1914 ؁ء) تھے، جب انہوں نے مصر اور مدینہ کا سفر کیا تو اسی وقت وہ خاصے مشہور عالم تھے.( مدینہ کے سفر کے علاوہ وہ بہت سارے شامی علماء اور عراقی علماء سے اور آلوسی خاندان کے افراد سے بھی رابطے میں تھے جو شیخ محمد ؒ کے پرجوش حمایتی تھے) ([172]) ۔

ملک شام واپسی پر ان کو ایک نیا مدرسہ ( جس کا نام’’ المذہب الجمالی‘‘ رکھا گیا) قائم کرنے کا موردِ الزام ٹھہرایا گیا. اور 1313 ؁ھ میں آپ کو گرفتار کرلیا گیا. آپ کے خلاف جو الزامات لگائے گئے وہ یہ تھے کہ آپ کا ’’اجتہاد‘‘ کی طرف رجحان تھا اور ’’وہابیوں‘‘ کی حمایت کرتے تھے اور ’’عرب قومی مجلس ‘‘ کے رکن تھے ، تاہم آپ پر سب سے بڑا الزام آپ کے ’’وہابی‘‘ ہونے کا تھا. اور یہ ایسا بڑا الزام تھا کہ جس کے بارے میں آپ عثمانیہ (ترکی) سلطنت کے آگے جوابدہ بنے.

دوسرے بااثر مذہبی قائدین جنہوں نے ’’سلفی‘‘ اور ’’وہابی‘‘ دعوت کی اپنے علاقوں میں اشاعت کے لئے حمایتی بنے وہ عبدالرزاق البتار، طاہر الجزائری،محمد کامل القصاب، امیر شکیب ارسلان اور محمد کُرد علی تھے. اس وقت شام میں محمد بن عبدالوہاب ؒ کی دعوت سے علی الإعلان اتفاق کرنے کے لئے سیاسی اور سماجی حالات بہت ہی نامناسب تھے، لیکن اس کے باوجود ان میں سے بہت سے علماء خود کو علی الإعلان ’’وہابی‘‘ کہتے تھے (جیسے امیر ارسلان اور کُرد علی)،ان کا دعویٰ تھاکہ وہ لوگوں کو محض قرآن وسنت کی جانب دعوت دے رہے ہیں ([173]

اس دور کے ان سلفی علماء (بشمول القاسمی )کے روابط محمد رشید رضا سے بھی اچھے تھے جو ابن تیمیہ ؒ اور شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی کتابوں کی اشاعت اور آپ کی دعوت کی تبلیغ میں مشہور اور پیش پیش تھے ([174]

مصر میں ازہری مؤرخ اورعالم عبدالرحمن الجبرتی (1167ھ؁۔1237ھ؁) شیخ محمد کے متبعین سے بہت زیادہ متأثر ہوئے اور انہوں نے ان کی دعوت کو مصر میں پھیلایا. انہوں نے عالمِ اسلام کی حیات نو کے لئے مطلوب عوامل کو ان لوگوں کے اندر محسوس کیا جس کی بنا پر ان کی دعوت کا ساتھ دیا ([175]) ۔

بیسوی صدی کے اوائل میں ایک انتہائی بااثر اور متنازع فیہ شخصیت محمد عبدہ کی تھی جو غالباً شیخ محمدپ ان کی دعوت کا ساتھ دیا ([176]

بیسوی صدی کے اوائل میں ایک انتہائی بااثر اور متنازع فیہ شخصیت محمد عبدہ کی تھی جو غالباً شیخ محمد ؒ کی دعوت سے واقف تھے . مصر میں سب سے پہلے سعودی سفیر فوزان السابق نے ان کی تعریف کی کیونکہ وہ بدعات اور شرکیات کے مخالف تھے اور اجتہاد کا دروازہ کھولنے اور آزادی رائے کے حامی تھے اور اسی بنا پر وہ صوفیت کے مخالفین میں سے تھے. شاید اسی حد تک ان میں اور شیخ محمد ؒ کی دعوت میں مشابہت تھی بہت سے لوگ انہیں سلفی کے نام سے یاد کرتے ہیں مگر درحقیقت شیخ عبدہ اس منہج پر نہ تھے جس میں اسلام کو فہم صحابۂ رسول کے مطابق سمجھا جائے، اس کے بجائے وہ اسلام کا جدید تصور جدید فہم کے مطابق پیش کرنا چاہتے تھے جو دراصل عصر حاضر کے یورپی اور مغربی تصورات سے میل کھاتا ہو.

شیخ محمد رشید رضا(۱۸۶۵ ؁ء۔۱۹۳۵ ؁ء) اصل میں شام کے رہنے والے تھے، مگر۱۸۹۱ ؁ء میں وہ مصر میں آباد ہوگئے اور شیخ محمد عبدہ کے بہت قریب ہوتے چلے گئے اور ایک مدت تک وہ ان کے افکار کی نشر واشاعت کرتے رہے تاہم بہت سے مسائل میں وہ اپنے استاذمحمد عبدہ سے اختلاف رکھتے تھے خاص طور پر سلف کی جانب رجحان میں وہ شیخ ابن تیمیہ ؒ کے کافی مداح تھے اور آپ کی کتابوں کی نشرواشاعت کرتے تھے. اور اپنے میگزین میں بھی ان کی کتابوں کے بہت سے مضامین چھاپتے تھے . آپ نے ایک مستقل مجموعہ بعنوان’’مجموعۃ الرسائل والمسائل النجدیہ‘‘ کی اشاعت کی. ’’سہسوانی کی دحلان پر تردید‘‘ کے تعارف میں ایک طویل مقالہ لکھا جس میں آپ نے محمد بن عبدالوہابؒ کو ایک ’’مجدد‘‘ کے لقب سے موسوم کیا. اس میں آپ نے اسلامی طرز زندگی میں بدعات اور اسلام مخالف باتوں پر اعتراض کیا ([177]

اپنے میگزین ’’المنار‘‘ کے ذریعہ محمد رشید رضا نے شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی دعوت کو تمام مسلم دنیامیں پھیلانے میں ایک اہم رول ادا کیا. میگزین کے کچھ اقتباسات کو بعنوان’’الوہابیون والحجاز‘‘ ایک کتابی شکل میں بھی شائع کیا، فکر وشہرت کے اعتبار سے اپنی نوعیت کا یہ اکیلا میگزین تھا . چونکہ ’’جامعۃ الأزہر‘‘ میں تمام دنیا سے حصول علم کے لئے طلباء آیا کرتے تھے. ان کے ذریعہ یہ میگزین شمالی افریقہ، شام، اور برصغیر ہندوپاک اور ملیشیا کے جزیروں میں بھی مقبول ہوگیا ([178]

 بعد ازاں مصر میں محمد حامد الفقی شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی دعوت کے پرجوش حامی رہے. انہوں نے مصر میں ’’جمعیۃ انصار السنۃ المحمدیۃ،، قائم کی.

الجزائر کے بارے میں اویس کہتا ہے کہ الجزائر میں ہمیشہ سے ایسی اصلاحی تحریکیں اٹھتی رہی ہیں جن کا مقصد لوگوں کو کتاب وسنت کی طرف بلانا تھا،بالفاظ دیگر یہ تحریکیں اپنی ماہیت میں شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی دعوت کے مماثل تھیں تاہم الجزائر میں پہلی شخصیت جو علی الإعلان شیخ ؒ کی دعوت کی علمبردار بنی وہ ابو رواس الناصر (مؤرخ) کی تھی شمالی افریقہ کے چند لوگوں کے ہمراہ آپ نے شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کے شاگردوں سے مکہ میں ملاقات کی اور ان کی تعلیمات کے قائل ہوگئے.

تاہم بعد میں تیرہویں صدی ہجری کے نصف اول میں شیخ محمد ؒ کی دعوت نے قوی تر اثر مرتب کیا حالانکہ فرانسیسی غاصبوں نے بہت دلیری سے اسلام کے وجود کومٹانے کی کاوشوں میں لگے رہے. اس کے باوجود وہ الجزائر کے لوگوں کو فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے جانے سے روک نہ سکے.حج کے ذریعے الجزائر کے لوگوں کوحجاز جاکر وہاں شیخ محمدبن عبدالوہابؒ کی تعلیمات سیکھنے کا موقع فراہم ہوتا تھا.

فرانسیسی مؤرخ جولیان کے مطابق مراکش میں سید محمد عبداللہ العلوی (1757 ؁ء۔1790 ؁ء) مکہ سے واپس آنے والے حاجیوں سے بہت متأثر ہوئے جنہوں نے ’’وہابی علماء‘‘ سے علم حاصل کیا تھا. انہوں نے خود اپنے بارے میں کہا:’’میں اپنے مسلکِ فقہ کے لحاظ سے مالکی ہوں اور عقائد کے لحاظ سے’’ وہابی‘‘ ہوں‘‘. انہوں نے عقائد باطلہ سے بھری کتابوں کو اور چند صوفی خانقاہوں کوختم کرنے کا ارادہ کیا اور لوگوں کو ’’اجتہاد‘‘ اور ’’سنت‘‘ کی طرف دعوت دی ([179]

مولی سلیمان بن محمد بن عبداللہ (1792 ؁ء۔1822 ؁ء) کے بارے میں الزرکلی اور متعدد مغربی حوالے بیان کرتے ہیں کہ 1810 ؁ء میں وہ ’’وہابیوں‘‘ سے بہت زیادہ متأثر ہوگئے تھے اور اس کے بعد انہوں نے سارے صوفی سلسلوں کی مخالفت شروع کردی. وہ امیر عبداللہ بن سعود کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھے، چنانچہ حج کی ادائیگی اور دینی معلومات کے حصول کی خاطر مکہ مکرمہ وفود روانہ کئے. تاہم انہیں شیخ محمد ؒ کے عقائد وتعلیمات کو پھیلانے میں زیادہ کامیابی نہ ہوئی ([180]

 صحرائے افریقہ

عثمان دان فودیو (پیدائش 1754ء) کا تعلق فولانی قبیلہ سے تھا. کم عمری میں انہوں نے قرآن کی تعلیم حاصل کی اور عربی زبان بھی سیکھ لی. انہوں نے ارض طوارق کا سفر کیا اور وہاں مزید اعلیٰ تعلیم شیخ جبریل بن عمر سے حاصل کی. اس سے قبل شیخ جبریل جب حج کے لئے تشریف لے گئے تو مکہ میں شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کے متبعین سے کافی متأثر ہوئے ، پھر عثمان نے بھی جب سفر حج کیا توحجاز میں شیخ محمدؒ کے متبعین سے ملاقات کی . یہاں رہتے ہوئے انہوں نے شیخ محمد کی متعدد کتابوں کا مطالعہ کیا اور اپنے لئے ان کتابوں کے نسخے بھی تیار کر لئے. حجاز میں ایک سال قیام کے بعد وہ اپنے واطن واپس آئے اور جلد ہی انہوں نے اصلاحی تحریک کا آغاز کیا.

اپنے قبیلہ میں موجود آبائی رسم ورواج کے خلاف انہوں نے مہم چلائی، اپنے علاقے سے بت پرستی، ارواح پرستی اور اجداد پرستی کے آثار کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی. انہوں نے اپنی تحریک کا آغازلوگوں کے ساتھ نرم گفتاری سے، بار بار یاد دہانی اور نصیحت سے اور امربالمعروف ونہی عن المنکر سے کیا، جیسے جیسے ان کے عقیدت مندوں اور پیروکاروں میں اضافہ ہوتا گیا تو (شیخ محمد بن عبدالوہاب ہی کے طرز پر) سیاسی قوت کے حصول کے لئے سیاسی اقتدار کے حامل مقامی لوگوں کی طرف رجوع کیا. انہوں نے شاہ نفطا سے ملاقات کی جو ہوسا کے فرمانرواؤں میں سب سے زیادہ طاقتور شمار کیا جاتا تھا. انہوں نے اس کے سامنے اسلام کی تشریح کی اور جن اصولوں کے لئے وہ کام کرنا چاہتے تھے ان کی تفصیلات بیان کی. چنانچہ دونوں آپس میں متفق ہوگئے حالانکہ وہاں ایسے لوگ بھی تھے جوعثمان کی مخالفت پر تلے ہوئے تھے مگر بالآخر وہ لوگوں کو اپنے سیاسی اقتدار کے تحت متحد کرنے میں کامیاب ہوگئے. وہ بہت سے جہادی معرکوں میں اپنی اس دعوت کو پھیلانے میں شریک ہوئے.ان معرکوں کا آغاز 1802ء؁ میں ہوا ، 1804 ؁ء میں’’سوکونو‘‘کی سلطنت قائم کرلی جو ایک بڑی سلطنت بن گئی. یہ سلطنت عثمان دان فودیو کی وفات کے بعد بھی قائم رہی.

ان تمام تحریکوں میں جو شیخ محمد بن عبدالوہابؒ سے متأثر ہوئیں عثمان دان فودیو یقینی طور پر سب سے زیادہ شیخ محمد ؒ کی تعلیمات اور طریقۂ کار سے قریب تر تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر شیخ محمد ؒ کا بہت قوی اثر ہوا.عثمان کے بھائی عبداللہ بن محمد نے واضح طور پر کہا کہ عثمان نے اپنی تحریک حج سے واپسی پر شروع کی اور اس وقت اپنے علاقے کے لوگوں کے تمام عادات وتقالید کو ترک کردیا جو شریعت کے منافی تھے ([181]

قریب ہی کے علاقۂ سوڈان سے ایک اور مشہور تحریک’’مہدی تحریک‘‘ اُٹھی،اس تحریک کو محمد احمد بن عبداللہ کرکا (پیدائش1885ء؁ ) نے قائم کیا۔وہ تمام صوفی سلسلوں اور مختلف فقہی مسالک کو مٹاکر تمام لوگوں کو کتاب وسنت کے جھنڈے تلے جمع کرنا چاہتے تھے. انہوں نے جہاد کیا اور اپنی ایک حکومت قائم کرلی. ان کی یہ کوشش رہی کہ اپنے ملک کو مغربی تسلط سے آزاد کروایا جائے. ان کی حکومت کا نظم ونسق ہو بہودرعیہ کی حکومت کی طرح تھا. شیخ محمد بن عبدالوہابؒ ہی کے نہج پرچلتے ہوئے انہوں نے صوفیوں کی پھیلائی ہوئی بدعات وخرافات کے خاتمہ کے لئے پہلی فرصت میں توجہ دی. حسن احمد محمود اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ ’’شیخ محمد ؒ کا مہدی پر بڑا واضح اثر رہا([182]) ‘‘الزحیلی بھی اسی نتیجہ پر پہنچا ہے کہ ’’گو دونوں کی تعلیمات کے مجموعہ میں چند بڑے اختلافات ہیں مگر مہدی یقیناًابن عبدالوہابؒ کی تعلیمات سے متأثر ہوا تھا ([183]

 برصغیر ہند وپاک

سید احمد عرفان بریلوی (۱۲۰۱ھ؁ ۔1246ھ؁) رائے بریلی میں پیدا ہوئے. آپ کا تعلق صوفیت کے نقشبندی سلسلہ سے رہا مگر بعد میں آپ ایک فعال سلفی کارکن بن گئے. 1219ھ؁میں لکھنؤ میں (جہاں ایک شیعہ قائد کی حکومت تھی) حصول علم کے بعد وہ دہلی منتقل ہوگئے. دہلی میں آپ شاہ عبدالعزیز ؒ (شاہ ولی اللہؒ کے بڑے صاحبزادے) کے زیر تعلیم رہے. اس وقت ہندوستانی علماء اپنی دینی بحثوں میں فلسفہ (علم کلام) کو استعمال کرنے کے بڑے شوقین تھے. یہ شاہ ولی اللہ ؒ کا مکتبۂ فکر تھا جس نے اس بات پر اصرار کیا کہ دین کی سمجھ کے لئے قرآن ، حدیث اور فقہ کا علم حاصل کرنا ضروری ہے . یہ بات نقل کی گئی کہ سید احمد نے 1236ھ؁ مطابق ۱۸۲۲ ؁ء میں فریضۂ حج ادا کیا اور وہاں (مکہ) کے علماء سے بہت متأثر ہوئے. واپسی پر انہوں نے نظام شریعت کے مطابق خود اپنی حکومت کی داغ بیل ڈالی جو کابل سے پشاور تک محدود تھی. ۱۸۲۶ ؁ء میں سید احمد نے سکھوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور بعد میں برطانوی افواج سے بھی جنگ کی. چار سال کی لگاتارجنگ کے بعد ۱۸۳۱ ؁ء میں بالاکوٹ کے مقام پر شیر سنگھ سے لڑتے ہوئے شہید(ان شاء اللہ ) کردیئے گئے . ان کے معتقدین کچھ عرصے تک ‘‘ستانا‘‘ میں برسراقتدار رہے. ۱۸۶۳ ؁ء میں امبیلا کی جنگ میں بالآخر انگریزوں نے انہیں شکست دے دی ([184]) اس وقت ان کی حکومت کا اختتام ہوگیا گرچہ ان کی تحریک کا اثر کچھ عرصے تک باقی رہا جس نے آگے چل کر آزادی میں ایک قوی کردار ادا کیا.

سید احمد بریلوی ؒ کی تعلیمات شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی تعلیمات سے قریب تر ہیں جو اسلامی توحید اور شریعت کے اقتدار پرزور دیتی ہیں . تاہم اس بات میں آراء کا اختلاف ہے کہ آیا وہ واقعی شیخ محمد ؒ کی تعلیمات سے متأثر تھے؟ گرچہ دونوں کی تعلیمات میں کچھ اختلاف ہے مگر دونوں میں یکسانیت کا عنصر بھی بہت زیادہ ہے . چنانچہ کافی مصنفین کی رائے ہے کہ یہ ہندوستانی تحریک شیخ محمد ؒ کی تعلیمات سے یقینی طور پر متأثر تھی.

دوسری جانب چند مصنفین کسی بھی ایسی تأثیر کے انکاری ہیں . چنانچہ عبدالکریم عثمان کی رائے یہ ہے کہ اس تحریک کو انگریزوں نے ’’وہابی‘‘ تحریک کا نام صرف اس مقصد سے دیا کہ اس اسلامی تحریک کی نشأۃ ثانیہ کو دبا دیا جائے اور بدنام کیا جائے. محمد اسماعیل ندوی کہتے ہیں کہ چونکہ سید احمد اور ان کے رفیق کار سید اسماعیل شہید کا تعلق صوفیت سے برقرار رہا اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیخ محمد ابن عبدالوہاب ؒ کی تعلیمات سے ان کا براہ راست کوئی تعلق نہ تھا ([185]

قیام الدین احمد نے ہندوستان میں اس تحریک کے سلسلہ میں مفصل لکھا جس میں انہوں نے نجد کے شیخ محمدبن عبدالوہاب ؒ اور ہندوستان کے ’’وہابیوں ‘‘ کے مابین کسی مضبوط تعلق کی موجودگی پر شک کا اظہار کیا. سید احمد بریلوی ؒ اور شیخ محمد بن عبدالوہابؒ دونوں ہی نے چونکہ اپنی تعلیمات کا ماخذ قرآن وحدیث کو بنایا جس کی بنا پر ان کے درمیان کئی امور مشترک بن گئے مگر کئی باتیں واضح طور پر دونوں کے مابین مختلف بھی تھیں. مثال کے طور پر سید احمد بریلوی پر صوفیانہ مکتبۂ فکر غالب تھا. لگتا ہے کہ قیام الدین احمد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ان دونوں دعوتوں کے درمیان کسی حقیقی تعلق کی موجودگی کا اقرار یاانکار ایک مشکل امر ہے ([186]

برصغیر ہندوپاک کے باہر اور بھی نسبتاً کم شہرت یا فتہ علماء تھے جو شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کے معتقدین اور حمایتی تھے. یہ لوگ ’’اہل حدیث‘‘ تحریک کا ایک حصہ تھے. ان میں بشیرالدین القنوجی (۱۲۳۴ھ۔۱۲۹۶ھ؁)، عبداللہ الغزنوی (۱۲۴۵ھ؁ ۔۱۳۲۶ھ؁ ) ، محمد بشیر السہسوانی اور عبدالحلیم لکھنوی (۱۲۷۲۔۱۳۴۵ھ) قابل ذکر ہیں. عبدالحلیم پہلے عالم تھے جنہوں نے ’’کتاب التوحید ‘‘ کا اردو میں ترجمہ کیا. ان کے علاوہ اور دیگر علماء بھی ہیں (جو اس دعوت کے حمایتی بنے) ([187]

اس خطے میں اور بھی تحریکیں چل رہی تھیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھی شیخ محمد ؒ سے متأثر ہوئی تھیں. ان میں کچھ وہ تھیں جو برطانوی تسلط کی مخالفت کررہی تھیں بالخصوص ان میں سے ایک ‘‘الفریدی تحریک‘‘ تھی جو 1804؁ء میں الحاج شریعت اللہ 1178ھ؁ کی قیادت میں قائم ہوئی، آپ کا تعلق بنگال سے تھا، (۱۷۹۹ھ۔۱۸۱۸ھ؁) کے مابین آپ نے مکہ مکرمہ میں ایک طویل عرصہ قیام کیا. اس اثناء میں شیخ محمد ؒ کی تحریک روز بروز طاقتور ہوتی جارہی تھی. الفریدی تحریک شیخ محمد ؒ کی تحریک جیسی ہی تھی کیونکہ وہ شرک وبدعت ، آبائی رسم ورواج اور مختلف خرافات کو مٹانے کے درپے اور برطانوی تسلط کے خلاف تھی.

شریعت اللہ نے اپنے وطن کی سرزمین کو ’’دار الحرب‘‘ قرار دیا کیونکہ یہ مسلم مملکت کے بجائے انگریز کا مقبوضہ ملک تھا. شریعت اللہ کی وفات کے بعد دودھو میاں نے اس تحریک کی قیادت کی تاہم 1860ء؁ میں ان کو شکست ہوگئی . علماء کی ایک بڑی تعداد یقینی طور پر یہ کہتی ہے کہ یہ تحریک شیخ محمدؒ کی دعوت سے کاملاً متأثر تھی. شریعت اللہ نے اسلام کو ہندوانہ اور صوفیانہ عقائد وافکار سے پاک کرنے کی کوشش کی حتی کہ وہ صوفی اصطلاحات مثلاً ’’پیر‘‘ کے بجائے ’’معلم‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے ([188]

 جنوب مشرقی ایشیا

سمترا میں تین افراد 1802 ؁ء میں فریضۂ حج کی ادائیگی سے واپس ہوئے اور سلفی ’’وہابی‘‘ تحریک کا آغاز کیاجس کے قائد الحاج مسکین تھے، ان لوگوں نے انڈونیشیا میں مسلمانوں کے طور طریقوں کی اصلاح کی کوشش کی اور ہالینڈ کے لوگوں سے بھی جہاد کیا جو ان پر غالب تھے ہالینڈیوں کوجب یقین ہوگیا کہ یہ تحریک ان کی نو آباد کا ر قوت کے لئے ایک بڑا خطر ہ ہے تو انہوں نے فورًا ہی اس کو کچل دینے کی ٹھان لی.بدقسمتی مسلمانوں کی یہ رہی کہ اصلاح پسند سلفی مسلمانوں اور مشرکانہ اور بدعتی کاموں میں ملوث مسلمانوں کے درمیان باہمی جنگ چھڑ گئی جس کا فائدہ براہ راست ہالینڈیوں کو پہنچا.اس طرح سولہ سال کی طویل جدوجہد کے بعد 1837 ؁ء میں اس تحریک کو شکست ہوئی اور اس عرصہ میں اس تحریک کے کافی قائدین ختم کردیئے گئے. اس کے بعد اس کے معتقدین اس تحریک کے پیغام کو پرامن طریقہ سے پھیلاتے رہے جس کے نتیجہ میں یہ انڈونیشیا کے دوسرے جزیروں میں بھی پھیلتی چلی گئی ([189]

1910 ؁ء اور 1920 ؁ء کی دہائیوں میں جاوا کے جزیرے میں بہت سی جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئیں جن کی تعلیمات وہی تھیں جو شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی تھیں. ان میں سے ایک تحریک کے قائد الحاج احمد داہکلان تھے. 1902 ؁ء میں انہوں نے اپنا کچھ وقت حجاز میں گزارا اور شیخ محمد ؒ کی تعلیمات سے کافی متأثر ہوئے وہ جامع سلطان جکارتا میں خطیب تھے. اپنے اس منصب کو انہوں نے اپنی تحریک کی تعلیمات کو پھیلانے اور وہاں مروجہ بدعات کے خاتمہ کے لئے استعمال کیا. اپنی وفات (1923ء؁) تک وہ اپنے پیغام کو پھیلاتے رہے.ان کی تحریک ’’جمعیت محمدیہ‘‘ تمام جزیروں میں پھیل گئی یہاں تک کہ انڈونیشیا کے ہر شہر میں اس تحریک کی ایک شاخ، مسجد، ہسپتال اور یتیم خانہ قائم ہوگیا اور انڈونیشیاکی سب سے بڑی دعوتی تحریک کی حیثیت اختیارکرگئی.

ایک اور تحریک ’’جمعیت الوحدۃ الإسلامیہ‘‘ بھی اس پیغام کو بڑے ہی فعال انداز سے پھیلارہی تھی . گرچہ ’’وہابیوں‘‘ کے خلاف کافی منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا، لیکن انڈونیشی مسلمان جب فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے جاتے تو انہیں شیخ محمد ؒ کی تعلیمات سیکھنے کو ملتیں اور حقیقت کا علم ہوجاتا. اس طرح یہ تحریک پورے انڈونیشیا میں پھلتی اور پھولتی رہی ([190]

1919 ؁ء میں ایک انڈونیشی نوجوان نے بنکاک کی مساجد اور مسلم جماعتوں کا دور ہ کیا. اور آہستگی کے ساتھ مگر ٹھوس انداز میں شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی تعلیمات کو پھیلانا شروع کیا. اس نے مقامی علماء سے ان کی ایجاد کردہ بدعات کو ثابت کرنے کا مطالبہ کیا.اس نے اپنی اصلاحی تحریک کی داغ بیل ڈالی اور ایک ماہنامہ’’البدایہ‘‘ کا اجراء کیا جس کے ذریعے سے اس نے شرکیہ اور بدعیہ اقوال وافعال سے مسلمانوں کو آگاہ کیا. اس سے مسلم برادری وہاں دو حصوں میں منقسم ہوگئی، ایک قسم تو ان لوگوں کی جو اپنے آبائی اور بدعتی طور طریقوں پر قائم تھے اور دوسری ان لوگوں کی جنہوں نے اس نئی تحریک یعنی شیخ محمدؒ کی تعلیمات کے مطابق عمل کرنا شروع کردیا. دونوں فریق میں خاصہ تناؤ پیدا ہوا ، لیکن اس کے باوجود کافی برسوں تک یہ تحریک طاقتور رہی جس کے دوران اس نے متعدد کتابیں اور لٹریچر کی اشاعت بھی کی.

بنکاک میں جاری صورت حال سے الگ جنوبی تھائی لینڈ میں ایک تحریک معرضِ وجود میں آئی. آغاز ہی سے اس اصلاحی(وہابی) تحریک پر حملے کئے جانے لگے جیسے یہ کوئی’’ نیا دین‘‘ ہو. اس تحریک کے قائد اسماعیل احمد تھے جنہوں نے 1943؁ء میں اس کی بنیاد ڈالی. اسماعیل احمد نے ہندوستان میں لکھنؤ کے ندوۃ العلماء میں ابو الحسن ندوی ؒ کی زیر نگرانی دین کا علم حاصل کرنے کے بعد اس تحریک کا آغاز کیا. ان کی دعوت بھی عین شیخ محمد ؒ کی سلفی دعوت تھی ([191]

 خلاصہ:

بلا شک وشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی تأثیر صرف اپنے وطن کی سرزمین تک محدود نہ رہی بلکہ مسلم دنیا کے مختلف گوشوں میں پہنچ گئی، کم از کم آپ نے مسلم اذہان میں یہ بات داخل کردی کہ صحیح طریقہ یہی ہے کہ اسلام کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کیا جائے اور یہ دین اللہ کی رحمتوں سے پھرسے غالب ہوسکتا ہے. لہذا آج بھی سرزمین سعودی عرب ہو یا کہیں اور شیخ محمد بن عبدالوہاب کی خالص توحید کی دعوت کے اثرات محسوس کئے جاسکتے ہیں.

 ۵۔شیخ محمد بن عبدالوہابؒ پر تنقید اور الزامات کا جائزہ

مختلف سیاسی اور مذہبی وجوہات کی بنا پر متعدد لوگوں نے شیخ محمدؒ پر الزامات عائد کئے ہیں جن میں سے مشہور چند کا اس باب میں تذکرہ کیا جائے گا. ان میں سے بیشتر دعوؤں کا کھوکھلاپن یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ اپنے مخالف کو (جس کا اپنا دعویٰ انتہائی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے) شکست دینے کے لئے کس طرح آخری حد تک گرجاتے ہیں ([192]

 ۱۔ یہ الزام کہ شیخ محمدؒ نے نبوت کا دعویٰ کیا:

شیخ محمد ؒ نے لکھا کہ’’میرا ایمان یہ ہے کہ ہمارے پیغمبر محمد ﷺ خاتم النبیین اور آخری رسول ہیں ، کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل نہیں جب تک وہ یقین کے ساتھ یہ گواہی نہ دے کے آپ نبی اور رسول تھے ([193])‘‘۔

آپ نے یہ بھی لکھا کہ : ’’ہر مسلمان پر رسول اللہ ﷺ کے حقوق سب سے زیادہ ہیں. تمہارے ایمان کی گواہی کا تقاضا ہے کہ تم جہاں محمد ﷺکے بارے میں اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دو وہیں یہ بھی گواہی دو کہ آپ آخری رسول ہیں. تمہیں یہ علم ہونا چاہئے کہ اگر تم کسی صحابی کو بھی نبی کا درجہ دوگے تو کافر ہوجاؤگے ([194])‘‘۔

آپ کی تمام تحریروں میں آپ کا یہ عقیدہ واضح ہے اور یہی عقیدہ آپ کی نسبی اولاد، آپ کے تلامذہ اور آپ کے معتقدین کی تحریروں میں بھی مذکور ہے . کوئی بھی شخص ہوشمندی کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ شیخ محمد ؒ کا اس معاملے میں کوئی اور عقیدہ تھا ([195]

اب آپ پر الزام تراشنے والوں پر ایک نظر ڈالئے: مثال کے طور پر ‘‘الحداد‘‘ نے لکھا ہے جو درحقیقت ناقابل یقین ہے کہ’’ وہ یعنی شیخ محمدبن عبدالوہاب اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ چھپاتے تھے.زبانی الفاظ کے بجائے ان کے احوال اس دعوے کی منہ بولتی تصویر تھے. اس کے ثبوت میں علماء کے اس بیان کو پیش کیا کہ: آغاز میں عبدالوہاب ([196]) ان لوگوں کے بارے میں بہت شوق سے مطالعہ کرتے تھے جنہوں نے خود اپنے بارے میں پیغمبر ہونے کا جھوٹا دعوی کیا تھا. مثلاً مسیلمہ الکذاب، سجاح، اسود العنسی، طلیحہ الأسدی وغیرہ([197])‘‘.دحلان نے بھی ’’خلاصۃ الکلام‘‘ اور الدرر السنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ‘‘ میں اسی قسم کا الزام تراشا ہے ([198]).اور دیگر لوگوں نے بھی اس الزام کو اپنی تحریروں میں نقل کیا ہے.

غور کریں اگر شیخ ؒ یہ دعویٰ اپنے دل ودماغ میں چھپاکر رکھتے تھے تو دوسرے کسی شخص کواس کا علم کیونکر ہوا تاوقتیکہ وہ خود غیب کا علم رکھتا ہو یا خو د پیغمبر ہونے کا مدعی ہو. درحقیقت یہ دعویٰ خود اس کے مدعی کو شک وشبہ کی لپیٹ میں لے رہا ہے جس نے اس طرح کا الزام عائد کیا ہے ([199]

مزید یہ کہ کہاں ہیں وہ ثبوت اور علامتیں جو زبان حال سے اس دعوے کی تصدیق کررہی ہیں . مذکورہ بالا مصنفین (جنہوں نے یہ الزام تراشا ہے) ان میں سے کسی نے بھی ایسے کسی ثبوت کو نقل نہیں کیا.

درحقیقت شیخ محمد ؒ کی پوری زندگی اور آپ کی دعوت کتاب وسنت کی طرف واپسی تھی. آپ نے اپنے کسی بھی قول میں یہ دعویٰ نہیں کیا کہ آپ کے اقوال یا آپ کی قدر ومنزلت رسول اللہ ﷺسے بلند یا مساوی ہے. بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آپ نے بارہا اقرار کیا کہ ’’میں تو ایک انسان ہوں اورمیں غلطیاں کرسکتا ہوں اور میرے ارد گرد میں جو علماء ہیں ان کے مشوروں کا میں طلب گار ہوں‘‘۔

مزید یہ کہ آپ کی آل واولاد، تلامذہ اورمعتقدین کی کتابیں اب بھی دستیاب ہیں او ران میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جو ان جھوٹے دعوؤں اور بے بنیاد باتوں کی تائید کرے.

مذکورہ کلام کا خلاصہ یہ کہ شیخ ؒ کے مخالفین سے بحث ومباحثہ کے دوران جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ کہ یہ الزام دراصل انہی لوگوں کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے اور ان کے معیار سے ہمیں آگاہ کررہا ہے ([200]

 ۲۔ یہ الزام کہ شیخ محمد ؒ نے رسول اللہ ﷺ کی توہین کی:

یہ الزام شیخ ؒ کے خلاف اولین الزامات میں سے ہے .ابن سحیم نے شیخ ؒ پر اسی قسم کے الزامات عائد کئے ہیں . گرد ونواح کے علاقوں میں اس نے ایسے خطوط ارسال کئے جن میں ان الزامات کو اس نے لکھ بھیجا چنانچہ اس نے لکھا کہ ابن عبدالوہاب نے کتاب ’’دلائل الخیرات‘‘ کونذر آتش کردیا صرف اس لئے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے ’’ہمارے سردار‘‘ اور ’’ہمارے آقا‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے. اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نے کہا کہ ’’اگر میں رسول اللہ ﷺکے حجرے پر قبضہ کرلوں تو اس کو مسمار کردوں گا([201]) ‘‘۔

عراق کے علماء کے نام خط لکھتے ہوئے ابن سحیم نے مزید لکھا کہ ’’ابن عبدالوہاب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے رتبے کا احترام نہیں کرتا‘‘ بعد میں دحلان اور الحداد نے بھی ابن سحیم کی تائید کی.

شیخ محمد ؒ نے خود ابن سحیم کے لگائے ہوئے الزامات کی ابتدا میں تردید فرمائی اور لکھاکہ ’’یہ خالص جھوٹے الزامات ہیں جو صرف ’’دلائل الخیرات‘‘ کی مخالفت کی وجہ سے لگائے گئے ہیں اور میری مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ لوگ اس کو تلاوت قرآن سے زیادہ مقدس سمجھ کر پڑھنے لگے تھے ([202]

حقیقت میں شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی تحریریں اورکاوشیں آپ کے خلاف لگائے گئے الزامات کے جھوٹے ہونے کے دلائل خود ہی فراہم کرتی ہیں. اپنی متعدد کتابوں میں شیخ محمد ؒ نے رسول اللہ ﷺپر ایمان کو بڑی وضاحت کے ساتھ تحریر کیا ہے اور مذکورہ باتوں کے علاوہ شیخ نے یہ بھی تحریر فرمایاکہ’’ اس سے ہم کو معلوم ہوا کہ تمام ضرورتوں سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص کو رسول اللہ ﷺکی معرفت ہونی چاہئے اور یہ علم ہونا چاہئے کہ آپ کی بعثت کا کیامقصد ہے ، آپ ہی کے ہاتھوں کامیابی کی راہ ہے ، نیکی اور بدی کی شناخت صرف آپ کے طریقے پر چل کر حاصل کی جاسکتی ہے ، ایک فرد کے لئے معرفت رسول ﷺ کی ضرورت تمام موجودہ اورمتوقعہ ضرورتوں سے بدرجہا زیادہ ہے ([203])‘‘ ۔

مزید آپ نے یہ بھی تحریر فرمایاکہ’’ رسول اللہ ﷺ تمام سفارش کرنے والوں کے سردار اور مقام محمود پر فائز ہونے والی شخصیت ہیں. آدم علیہ السلام سے لے کر جو بھی آئے ہیں سب آپ کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے ([204])‘‘۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی تحریر کردہ مضامین جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہیں وہ تمام تر رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہی کا مجموعہ ہیں.ایک اور مجلدنبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا خلاصہ ہے ایک اور جلد علامہ ابن القیم ؒ کی کتاب ’’زاد المعاد‘‘ کا خلاصہ ہے جو رسول اللہ ﷺکی سنتوں کا بیان ہے.

لہذا کس طرح کوئی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ شیخ ؒ نے رسول اللہﷺ کی توہین اور ناقدری کی؟ جب کہ آپ نے رسول ﷺکی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے اور آپ کے اعمال واقوال کا علم حاصل کرنے پر ہمیشہ سے ہی زور دیا ہے.

ہاں جس کام کو شیخ ؒ اور آپ کے معتقدین نے نہ کیا وہ رسول ﷺ کی شان میں غلوہے جو درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے عین مطابق ہے. چنانچہ آپ اور آپ کے ماننے والے رسول اللہ ﷺ کے درجہ کو اس سے نہ بڑھایا جس پر اللہ عزوجل نے آپ کو فائز کیا. یہ وہ مسئلہ ہے جہاں شیخ ؒ کے مخالفین اور بالخصوص صوفیاء اور شیعہ کو پریشانی لاحق ہوتی ہے.

 لوگوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے اور ان سے جنگ کرنے کا مسئلہ

ایک مسلمان اور ایک مسلم سوسائٹی کی روحانی اور دینی استواری کے لئے اس بات کی معرفت نہایت ضروری ہے کہ کون اور کیا چیزیں اسلام کے اندر ہیں اور کون کون اسلام کے باہر ہیں.

اس مسئلہ میں غلط زاویۂ نظرانسان کو دو میں سے کسی ایک انتہا تک پہنچاسکتا ہے. ایک انتہا تو یہ ہے کہ کسی مسلمان کو غیر مسلم قرار دے ، جب کہ دوسری انتہا یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو مسلمانوں میں شامل کردے( جس کا نتیجہ شرک اور برائی کا عدم خاتمہ ہے) ، لہذا ان مسائل کو بڑی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے.

انہی وجوہات کی بنا پر (بالخصوص اُس زمانہ میں بت پرستانہ ومشرکانہ عادات وتقالید مسلم ممالک میں پھیل چکے تھے) شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ نے اس قسم کے مسائل پر زیادہ توجہ دی اور ان مسائل کوسامنے لائے جن کو صدیوں سے مسلم علماء فراموش کرچکے تھے.

یہ مسئلہ دراصل دوسرے مسائل سے ذرا مختلف ہے اس اعتبار سے کہ اس مسئلہ میں آپ کے بہت سارے مخالفین نظریاتی طور پر آپ سے اتفاق کرتے تھے مگر عملی طور پر نہیں . بالفاظ دیگر جیسا کہ خود شیخ ؒ نے اپنے بعض مکتوبات میں لکھا ہے کہ جن اعمال کو آپ نے کفر وشرک سے تعبیر کیا ان کے بارے میں ان لوگوں نے بھی حقیقت میں ان کے کفر یہ وشرکیہ اعمال ہونے کا (لفظًا) اقرار کیا، لیکن آپ ؒ سے اس کے عملی نفاذ پر وہ متفق نہ ہوئے کہ جو ان پر عمل کرے یا ان اعمالِ کفروشرک کی مدافعت میں لڑے اس کے ساتھ جنگ کی جائے ([205]

یہ بات شیخ محمدؒ کی تحریروں سے واضح ہے وہ علماء کی اس حالتِ زار سے بڑے مایوس ہوئے کہ وہ ان اعمال کے کھلے طور پر غلط وباطل ہونے کا اقرار تو کرتے مگر اس پر اتفاق نہ کرتے کہ ان اعمال کی مخالفت کی جائے اور ان کے خلاف محاذ آرائی کی جائے اور ان کا خاتمہ کیا جائے.

آپ کے خلاف اس طرح کے حملے دراصل تبلیغ کے نسبتًا پہلے ہی مرحلے میں ہونے لگے جب آپ عیینہ میں تھے . چنانچہ ابن افالق نے امیر ابن معمر کو لکھا : ’’یہ شخص امت مسلمہ کے کافر ہونے کا فتویٰ دے رہا ہے ، حقیقت میں وہ خود رسولوں کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے اور ان کے امتیوں سے شرکے کے صادر ہونے کا فتویٰ لگایا ہے ([206])‘‘ ۔

نیز القبانی، ابن سحیم، الحداد اوردحلان نے بھی اسی طرح کے الزامات آپ پر لگائے ہیں ، اور یہی الزامات آج بھی مخالفین کے نوکِ قلم پر جاری ہیں، مثال کے طور پر محمد جواد مغنیہ شیعی اور حسین حلمی اسک ترکی نقشبندی (کی تحریروں پر نظر کرلیں) ([207]) ۔

جیساکہ اوپر بیان ہوا کہ یہ الزامات شیخ ؒ کی زندگی ہی میں پہلے پہل آچکے ، لہذا آپ نے فورًا ہی اپنے متعدد مکتوبات میں ان کی وضاحت فرمائی. ایک موقعہ پر ان جھوٹے الزامات کی تردید کرتے ہوئے لکھا :

’’میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناکر کہتا ہوں اور وہ ہمارے دلوں کے رازوں سے بخوبی واقف ہے کہ جو شخص بھی شرک اور اس کی راہوں سے دور ہوکر خالص توحید پر گامزن ہوجائے وہ ہر وقت اور ہر مقام پر مسلمان ہے اور ہم صرف اسی کو کافر کہتے ہیں جو اللہ اور اس کی صفات میں کسی کو شریک بناتا ہے جب کہ شرک کا گناہ اور اس کی قباحت اس پر واضح کردی گئی ہو([208]) ‘‘۔

نیزآپ نے یہ بھی لکھا کہ ’’جب ہم ایسے شخص کو کافر نہیں کہتے جو اپنی جہالت یا حق بات اس تک نہ پہنچنے کی بنا پرشیخ عبدالقادر کی مزار پر یا احمد البدوی کی مزار پر یا اسی طرح دیگر مزاروں پر عبادت کے مراسم ادا کرتا ہے تو پھر ہم اس کو کیسے کافر کہہ سکتے ہیں جو شرک نہیں کرتا یا ہماری طرف ہجرت نہیں کرتا؟!!! ([209]

اس بات کو نوٹ کریں کہ شیخ محمد ؒ کے فرزند عبداللہ نے بھی تحریر فرمایا : ’’جہاں تک البوصیری(قصیدۂبردہ کا مؤلف) اور دیگر ان لوگوں کا تعلق ہے جن کی باتوں میں شرک اور دین میں غلو پایا جاتا ہے جو وفات پاچکے ہیں ان کے بارے میں شیخ محمد ؒ نے کبھی کافر نہیں کہا، تاہم یہ واجب ہے کہ ان کی ان باتوں پر اعتراض کیا جائے اور ان کی وضاحت کی جائے کہ جو شخص ان الفاظ کے ظاہری مفہوم پر ایمان رکھے وہ مشرک ہے ، لیکن جس سے یہ الفاظ صادرہوئے اور وہ اس دنیا سے جاچکا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے کیونکہ فوت شدہ لوگوں کے بارے میں کچھ کہنا ضروری نہیں کیونکہ یہ نہیں معلوم کہ انہوں نے توبہ کرلی تھی یا نہیں... ([210]) ‘‘۔

اسی طرح شیخ محمد ؒ کے پوتے شیخ عبداللطیفؒ لکھتے ہیں : ’’شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ بڑے ہی محتاط اور صبر وتحمل کے پیکر تھے خاص طور پر جب کسی ’’عمومی کفر‘‘کا فتویٰ صادر کرنا ہو ، اور درحقیقت آپ ؒ نے ان لوگوں کے ’’کافر‘‘ ہونے کا فتویٰ کبھی صادر نہ فرمایا جو اپنی جہالت کی وجہ سے قبرپرستی میں مبتلا ہیں اور نہ ہی ان کو کافر گردانا جن کو کسی نے نصیحت نہ کی ہو اور دلائل کے ذریعے ان پر ان کے کفر کو واضح نہ کیاہو([211]) ‘‘۔

 ۳۔ یہ الزام کہ شیخ محمد ؒ نے چند غیر کفریہ باتوں کو کفر قرار دیا

غالباً اس مسئلہ میں شیخ محمد ؒ اور آپ کے مخالفین کے مابین سب سے زیادہ اختلاف ہے ، قرآن وسنت کی روشنی میں آپ نے ان کاموں کو واضح طور پر نشاندہی فرمائی جو یقیناًایک شخص کو دائرۂ اسلام سے خارج کردیتے ہیں ، شیخ ؒ اور آپ کے رفقاء علماء نے کفر اکبر (جس کا مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے) اور کفر اصغر (جس کا مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا مگر گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوگا) کے درمیان میں فرق بیان کیا.اسی طرح انہوں نے شرک کے معاملے میں بھی شرک اکبر اور شرک اصغر کے فرق کو واضح کیا.

لیکن عام مسلم علاقوں میں علماء اور عوام کی بے حسی اس درجہ پہنچ چکی تھی کہ انہیں اس بات کی خبر ہی نہ تھی کہ ایک شخص جو خود کو مسلم سمجھتا ہے اور کلمہ کی گواہی بھی دیتا ہے مگر کچھ اعتقادات، اقوال واعمال ایسے بھی ہیں جو اس کو دائرۂ اسلام سے خارج کردیتے ہیں، مزید یہ کہ’’توحید‘‘ کی اصل تعریف لوگوں سے مفقود ہوچکی تھی جس کی وجہ علماء کی منطقی موشگافیاں اور صوفیاء کی پراسرار تعلیمات تھیں جو عرصۂ دراز سے ان کے درمیان موجود تھیں، لوگ اسلام کی اصل روح سے بیگانہ ہوچکے تھے. ان کے نزدیک اس بات میں کوئی حرج نہ تھا کہ عبادت کے طور طریقے اللہ کے سوا کسی اور کے لئے بھی کئے جائیں، صرف یہ کافی تھا کہ وہ اللہ کے خالق ورب ہونے پر ایمان رکھیں. انہیں اس کی آگہی نہ تھی کہ مشرکین مکہ بھی رسول اللہ ﷺ کے دور میں اسی طرح کے ایمان کے قائل تھے. مسلمان یہ بھول چکے تھے کہ ’’الہ‘‘ کا مطلب معبود (جس کی پرستش کی جائے) ہے، وہ کلمہ کی گواہی کا معنی بھی فراموش کربیٹھے تھے جس کا مطلب ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں یعنی اللہ کے سوا کسی کے لئے بھی عبادت کا کوئی طریقہ جائز نہیں.

جیساکہ اوپر عرض کیا جاچکا کہ شیخ محمد ؒ نے اس تصور کو اپنے بعض مکتوبات میں بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جو اہل علم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ:’’جو کوئی بھی ‘‘ لاإلہ إلا اللہ‘‘ کی گواہی دے دے اس کو دائرۂ اسلام سے خارج نہیں کیا جاسکتا چاہے وہ آخرت کایا پوری شریعت کا ہی منکر ہوجائے ([212]

شیخ محمد ؒ پر کی گئی تنقیدوں کے مطالعہ سے (ناقدین ہی کے الفاظ میں) یہ بات پائے ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ یاتو خود ان ناقدین نے شیخ محمدؒ کی اصل تعلیمات کو نہیں سمجھا یا پھر جان بوجھ کر اصل تعلیمات میں تحریف کررہے ہیں اور بدقسمتی سے یہاں اور کسی تیسری بات کا امکان باقی نہیں.

چنانچہ قبر پرستوں کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے شیخ محمد ؒ ؒ کا مخالف اور (قبر پرستی کا حامی) الحداد لکھتا ہے کہ : ’’ یہ لوگ (قبر پرست) رسولوں اور اولیاء کی تعظیم کرتے ہیں اور ان پر اللہ عزوجل کی طرح ایمان نہیں رکھتے جب مسئلہ مکمل سچی اور عمومی تخلیق سے متعلق ہو. وہ اس بات پرایمان رکھتے ہیں کہ ان لوگوں کی حیثیت کسی خاص معاملہ میں اللہ کے نزدیک بڑی معزز ومحترم ہے، صرف مجازی طور پر ان کی طرف قدرت کی نسبت کرتے ہیں جب کہ ان کا ایمان یہی ہوتا ہے کہ معالات کو صادر کرنے والا اور کاموں کو بنانے والااللہ ہی ہے([213])۔ ‘‘

دحلان نے یہ بھی صراحت کی کہ ’’آدمی مشرک تب ہوتا ہے جب وہ یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ کے سوا کوئی اور ہستی حقیقت میں اصل حاکم اور مؤثر ہے‘‘ اور مزید یہ بھی کہتا ہے کہ ’’اس طرح کا عقیدہ تو کسی مسلمان کا نہیں ہے([214]) ‘‘۔

اس مفروضہ تصور توحید کے مطابق اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کے نام پر جانوروں کی قربانی کرنا اور فوت شدہ لوگوں کی پناہ پکڑنا وہ اعمال شرکیہ نہیں ہیں جو ان کے کرنے والوں کو اسلام سے خارج کردیں. اس سے پہلے اس کا تذکرہ ہوچکا ہے کہ ابن افالق اس بات کا منکر تھا کہ یہ اعمال شرک ہیں بلکہ اس کا کہنا تھا کہ یہ صرف ممنوعہ اعمال ہیں.اپنے ایک خط میں شیخ محمد ؒ کے عقیدے پر رد کرتے ہوئے اس نے لکھا کہ : ’’امت کا اس پر اتفاق واجماع ہے کہ جانوروں کو (غیراللہ کے نام پر) قربان کرنا اور اللہ کے سوا دوسروں سے منت ماننا محض ممنوعہ کام ہیں، جو ایسا کام کرتا ہے ہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرتاہے([215])‘‘۔

سلیمان بن عبدالوہاب اور الأملی شیعی نے بھی ان اعمال کی مدافعت ووکالت کی ہے.

یہاں یہ مقصود نہیں ہے کہ اس قسم کے غیر عقلی دعوؤں کا مفصل طور پر جواب دیا جائے. تاہم ایک انتہائی سادہ اور واجبی سوال یہ ہے کہ کس طرح ان مخالفین کے دعوے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے مطابقت رکھتے ہیں؟ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد نہیں فرمایا:

 وَأَنَّ ٱلۡمَسَٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدۡعُواْ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدٗا ١٨ ’’اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو([216]) ‘‘۔

فَلَا تَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُعَذَّبِينَ ٢١٣’’پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے ([217]) ‘‘۔

نیزرسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’دعا کرنا عبادت کی روح ہے([218]) ‘‘۔

مزید یہ کہ عام مسلمانوں کا اگر یہ اعتقاد ہو کہ جن کی وہ عبادت کررہے ہیں دراصل ان کی کوئی تاثیر نہیں ہے تو پھر وہ ان سے مانگتے ہی کیوں؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ کے سوا کسی کے سامنے دعا کے لئے ہاتھ نہیں اُٹھائے اور نہ ہی کسی قبر میں مدفون مردہ اور نہ ہی سابقہ پیغمبروں میں سے کسی کی پناہ پکڑی اور نہ ان صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ سے دعا مانگی؟

اگر یہ اتنا نفع بخش عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں دعا کی قبولیت میں واقعی مدد دیتا ہے تو اس بہترین نسل (صحابہ) نے اس من گھڑت خوبصورت اور اہم عبادت کرنے کی مثال کیوں نہیں قائم کی؟ دراصل ان سوالوں کا جواب بہت ہی آسان اور واضح ہے.

کیا یہ حقیقت نہیں کہ ان امور میں عبادت اور دعاؤوں کا غیر اللہ سے مانگنا توحید سے روگردانی ہے؟ لہذا ایک مسلمان کے لئے یہ کیا دانشمندانہ بات نہیں کہ وہ اپنے ایمان کے تحفظ اور بقاء کی خاطر ایسی حرکتوں سے گریز کرے؟ تاہم شیخ محمد ؒ کے مخالفین کے دلائل (اُس دور میں بھی اور آج بھی) ان دلائل سے مختلف نہیں ہیں جن کواللہ رب العزت نے مشرکین مکہ کے دلائل کے اعتبار سے درج ذیل آیات میں ذکر فرمایا ہے: فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِ‍َٔايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ ١٧ وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِشُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِۚ قُلۡ أَتُنَبِّ‍ُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَافِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ١٨’’تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پرجھوٹ افتراء کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے،بے شک گنہگار فلاح نہیں پائیں گے.اور یہ (لوگ) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلاہی کرسکتی ہیں ،اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں، کہہ دو کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں؟ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے ([219]) ‘‘۔

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے:

أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ ٣

’’دیکھو خالص عبادت اللہ ہی کے لئے (زیبا) ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا ور دوست بنائے ہیں ( وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں، توجن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں اللہ ان میں ان کا فیصلہ کردے گا، بے شک اللہ اس شخص کو جو جھوٹا ناشکر ا ہے ہدایت نہیں دیتا([220]) ‘‘۔

 ۴۔ یہ الزام کہ شیخ محمد ؒ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی:

جیساکہ پہلے عرض کیا جا چکا کہ شیخ محمد ؒ کے دور میں سرزمین نجد سلطنت عثمانیہ کے زیر اقتدار نہ تھی بلکہ وہ ایک آزاد ریاست تھی جس کے ہر چھوٹے شہر یا بدو قبیلہ کا اپنا اپنا حاکم ووالی ہوا کرتا تھا. چنانچہ جب شیخ ؒ نے عیینہ میں قیام پذیر ہوکر اپنی دعوت کا آغاز کیا تو آپ نے وہاں کے مقامی حاکم کے ساتھ معاہدہ کیا اور اس کا تعاون حاصل کیا. اسی طرح جب آپ درعیہ منتقل ہوئے تو اس کے امیر محمد بن سعود کے ساتھ بھی آپ نے معاہدہ کیا جو تقریباً بیس سال رہا.

یہ بات بالکل واضح ہے کہ شیخ ؒ نے کسی بھی لمحہ مقامی حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کیا، اور چونکہ سرزمین نجد کبھی بھی سلطنت عثمانیہ کے ماتحت نہ رہی لہذا آپ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت بھی نہ کی.یہ مسئلہ اتنا کچھ واضح ہونے کے باوجود ابن افالق لکھتا ہے کہ’’تمہاری توحید میں چونکہ مسلم حکمرانوں کے خلاف بغاوت شامل ہے،اور یہ کفر ہے توحید نہیں([221])‘‘۔

اور جیساکہ پہلے عرض ہوچکا، ابن عابدین نے بھی ’’وہابیوں‘‘ کے باغی ہونے کا دعویٰ کیا، اسی طرح کے دعوے دحلان، الأمالی اور دیگر لوگوں نے بھی کئے ہیں ([222]

اس مقام پر شیخ ؒ نے اپنے عقائد کو واضح طور پر بیان کیا ہے کہ یہ وہی عقائد ہیں جو اہل سنت وجماعت کے ہمیشہ سے رہے ہیں. چنانچہ آپ نے اپنے ایک مکتوب میں القصیم کے لوگوں کو لکھا:

’’میں اس پر ایمان رکھتا ہوں کہ مجھ پر واجب ہے کہ میں مسلمان حکمرانوں کی سمع واطاعت کروں ، چاہے وہ نیک ہوں یا بد، تاوقتیکہ وہ اللہ کی معصیت کا حکم نہ دیں، یہ فرمانبرداری ہر اس شخص کے لئے ہے جو خلیفہ ہواور جس کے تقرر پر تمام لوگ متفق ہوں اور راضی ہوں حتی کہ اگر وہ بزور قوت خلیفہ بنا تو بھی واجب ہے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے اور اس کے خلاف بغاوت جائز نہیں ([223])۔ ‘‘

شیخ محمد ؒ اور عثمانی حکمرانوں کے مابین جو کچھ معاملہ ہواتھا محمد نسیب الرفاعی نے اس کو واضح کیا ہے جو کافی حد تک صحیح معلوم ہوتا ہے . چنانچہ انہوں نے لکھا کہ : ’’شیخ محمد بن عبدالوہاب نے کبھی مسلم خلافت کا تختہ الٹنے کے بارے میں نہیں سوچا، تاہم جو خلیفہ کے اردگرد تھے اور صوفی سلسلوں سے تعلق رکھنے والے تھے انہوں نے خلیفہ کو ’’وہابیوں‘‘ کے خلاف اکسانے کے لئے غلط خبریں پھیلائیں، انہوں نے یہ تاثر پھیلایا کہ یہ تحریک خلافت کی مخالف ہے جس کی کوشش یہ ہے کہ خلافت دوبارہ عربوں میں واپس آجائے.جب کہ شیخ ؒ کے عقائد عین اسلام کے مطابق ہیں، جس کی رو سے ایک حکمران کے خلاف بغاوت جائز نہیں جب تک کہ وہ واضح کفر کا مرتکب نہ ہو، شیخ ؒ کو خلیفہ میں ایسی کوئی بات نظر نہ آئی جس کی بنا پروہ خلیفہ کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے یہاں تک کہ اگر خلیفہ فاسق بھی ہو مگر خالص اور واضح کفر کی حد تک نہ پہنچا ہو تو ایسی صورت حال میں بھی اس کے خلاف بغاوت یا اس کی حکومت کو ہٹانے کی کوشش جائز نہیں ([224]) ‘‘۔

 مسئلہ توسّل اورغیراللہ سے استعانت

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ

ٱللَّهَ وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَيۡهِ ٱلۡوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ

لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٣٥

’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اور اس کا قرب تلاش کرو، اور اس کے راستے میں جہاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو ([225]) ‘‘۔

شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کے متعلق بار بار دہرائے جانے والے الزاموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ہر قسم کے توسل( اللہ سے مانگنے اور قربت حاصل کرنے کے مخصوص طور طریقے) کو منع کرتے تھے. بالفاظ دیگر ان (وسیلہ پکڑنے والوں )کے دعوے کے مطابق زندہ اور فوت شدہ لوگوں کے درمیان کوئی فرق نہیں. دونوں فریقوں کی یکساں صلاحیتیں ہیں اور اللہ کے روبرو دونوں کی حیثیت بھی یکساں ہے، اور اس سے بھی آگے فوت شدہ لوگوں سے مدد واعانت طلب کرنے میں کسی قسم کا وہ حرج محسوس نہیں کرتے.

 یعنی مخالفین جس چیز کی دعوت دے رہے تھے اس کو شیخ ؒ اور آپ کے معتقدین شرک اور کفر سمجھتے تھے.

جن شخصیات نے شیخ ؒ کے اس نظریہ پر اعتراض کیا ہے ان میں ابن افالق، عمر المحجوب، الحداد، اسماعیل التمیمی، احمد دحلان اور دیگر مصنفین شامل ہیں ([226]) ۔

مزید ان لوگوں کا یہ بھی نظریہ ہے کہ اگر کوئی یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ ہی حقیقت میں تمام کاموں کا کرنے والا ہے اور اس کے سوا کسی کی کوئی طاقت نہیں تو ساتھ ہی وہ یہ اعتقاد بھی رکھ سکتا ہے کہ کسی بھی نیک شخصیت یا پیغمبر سے حصول تقرب الٰہی کی نیت سے دعا مانگی جاسکتی ہے ، یا ان میں سے کسی کا نام بطور وسیلہ استعمال کیا جاسکتا ہے .

 چنانچہ دحلان رقمطراز ہے کہ:’’توسل اور استعانت ان دونوں کا مطلب یکساں ہے، ایمان والوں کے دلوں میں ان کا مطلب صرف ان (اولیاء) کو سفارشی بنالینا ہے . کیوں کہ یہ بات یقینی ہے کہ اللہ اپنے خاص بندوں پر مہربان ہے خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ. وہ ہستی جو حقیقت میں اثر پیدا کرتی ہے اور وجود بخشتی ہے وہ تو صرف اللہ ہے اور ان ارواح مقدسہ سے استعانت دراصل اسی طرح کا ایک عام ذریعہ ہے جس طرح کے دوسرے ذرائع ہیں جن کی کوئی حقیقی تاثیر نہیں ہوتی ([227]

لفظ’’توسل‘‘ یا ’’وسیلہ‘‘ کی اصطلاح براہ راست قرآن سے اخذ کی گئی ہے جیساکہ قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت میں وارد ہے ،تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس کے معانی بدلتے چلے گئے جو اس معنی سے مختلف بن گئے جس کو خود رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے سمجھا تھا. چنانچہ تفسیر طبری (دور اول کی ایک جامع تفسیر) میں سورۃ المائدہ کی آیت نمبر(35) میں(وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَيۡهِ ٱلۡوَسِيلَةَ) یعنی( وسیلہ چاہو اس کی جانب) کا مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ان نیک اعمال کو انجام دوجن کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، اس طرح ایک انسان اللہ تعالیٰ سے قریب تربن جاتا ہے. علامہ طبری اس آیت کی تفسیرمیں صرف یہی ایک مطلب پیش کرتے ہیں جب کہ آپ کا معمول ہمیشہ یہی رہتا ہے کہ دور اول کے علماء سے منقول تمام آراء وتفاسیر کو وہ نقل کرتے ہیں ([228]

بعد کے علماء کے نزدیک تقرب الٰہی کے حصول کے ذرائع مختلف بن گئے جن میں سے کچھ شرعی اور کچھ غیر شرعی طریقے تھے.

قرآن اور صحیح حدیث کی روشنی میں جائز اور شرعی وسیلے صرف یہ ہیں: اللہ کے اسماء وصفات کا وسیلہ ، خود کے کئے ہوئے کسی نیک عمل کا وسیلہ اور کسی زندہ صالح انسان سے اپنے لئے دعا کروانے کا وسیلہ‘‘۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اللہ سے تقرب کا ایک نیا طریقہ وضع کرلیا گیا جس کے مطابق اللہ سے اس کے کسی معزز بندے کا نام یا اس کے مقام ومنصب کا وسیلہ لے کر دعا کی جائے. مثال کے طور پر دعاکرنے والا اس طرح مانگے:’’اے اللہ! میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ محمد ﷺ کے حق یا آپ کی جاہ کے وسیلے سے آپ مجھے عطا کردیں‘‘ یا یوں کہے:’’اے اللہ! میں تیرے ولی عبدالقادر جیلانی ؒ کے واسطے سے مانگتا ہوں کہ تو مجھے عطا کردے‘‘۔

شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ اس طرح کے توسل کو بدعت سمجھتے تھے اور اس سے بچنا لازمی قرار دیتے تھے مگر وہ اس قسم کے توسل کو کفریہ عمل نہیں گردانتے تھے بالخصوص اگر یہ رسول اللہ ﷺ کے نام کا وسیلہ ہو کیونکہ درحقیقت اس قسم کے توسل میں انسان حقیقتًا اللہ ہی سے مانگتا ہے ، البتہ اس طریقۂ دعا کو ’’بدعت‘‘ قرار دیا گیا ، کیونکہ رسول اللہ ﷺنے کبھی اس طریقہ سے دعا نہیں فرمائی اور نہ ہی آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد کے تابعین رحمہم اللہ نے ایسا کیا.

اس وضاحت کے باوجود شیخ ؒ پر کھلی تہمت لگاتے ہوئے دحلان رقمطراز ہے:’’درعیہ میں ہر جمعہ کے خطبہ میں محمد بن عبدالوہاب کہا کرتے تھے کہ’’ جس نے رسول اللہﷺ کا وسیلہ لیا اس نے کفر کیا([229]) ‘‘۔

شیخ ؒ نے اپنے ایک مکتوب میں ابن سحیم کے قول پر رد کرتے ہوئے لکھاکہ: ’’یہ دعویٰ ( کہ آپ کسی نیک انسان کا وسیلہ لینے والے کو کافر سمجھتے ہیں) ایک تہمت کے علاوہ کچھ نہیں ہے([230]) ‘‘۔

دراصل شیخ ؒ کی رائے میں مسئلہ توسل ایک ایسا مسئلہ تھا جس میں اختلاف رائے کی گنجائش تھی. لہذا جب ایک معروف رائے کا اختلاف موجود ہو تواس کام کے انجام دینے والوں کے لئے شیخ ؒ سخت الفاظ استعمال نہیں کرتے تھے ([231]

مگر جیساکہ اوپر عرض کیا جاچکا کہ معاملات اس سے کہیں آگے چلے گئے،لوگ ’’وسیلہ‘‘ کے نام پر براہ راست فوت شدہ بزرگوں سے دعائیں مانگنے لگے اور ان سے فریاد کرنے لگے کہ وہ ان کے اور اللہ کے درمیان واسطہ اور وسیلہ بن جائیں، اور اس سے بھی بدترین شکل یہ تھی کہ وہ ان مردوں سے براہ راست اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنے لگے اس اعتقاد کے ساتھ کہ یہ فوت شدہ ہستیاں اس معاملہ میں اللہ کی طرف سے کچھ خصوصی اختیارات کی حامل ہیں، اور ان کے دعوے کے مطابق یہ سب جائز وسیلوں کی ایک عام سی شکل ہے، بالفاظ دیگر ان کا یہ دعویٰ ہے کہ غیر اللہ سے استغاثہ (مدد وپناہ طلب کرنا) جائز ہے کیونکہ یہ دراصل ’’وسیلہ‘‘ ہی کی ایک قسم ہے.

مؤخرالذکر مسئلے کے متعلق شیخ ؒ اپنے موقف پر قائم رہے کیونکہ یہ کوئی فقہی رائے کا اختلاف نہ تھا بلکہ یہ مسئلہ ایمان وعقیدہ سے متعلق تھا. حاجات کا طلب کرنا اور دعاؤں کا مانگنا ’’عبادت‘‘ میں داخل ہے لہذا طلب صرف اللہ سے ہونی چاہئے اور اسی کے سامنے دستِ دعا پھیلانا چاہئے.کوئی بھی انسان کسی اور سے ایسی چیز نہیں طلب کرسکتا جو ظاہراً بحیثیت ایک انسان اس کی دسترس اور اختیار سے باہر ہو، چنانچہ کسی فوت شدہ سے کسی بیماری کی شفاء مانگنا، گناہوں کی بخشش چاہنا، مصائب وآلام سے نجات طلب کرنا اور مشکلات میں دستگیری کی درخواست کرنا وغیرہ کھلم کھلا شرک ہے ، جن کو ’’وسیلہ ‘‘ کے نام پر چندملاؤوں نے جائز قرار دیا.

مزید برآں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ یہ فوت شدہ بزرگ مذکورہ امور انجام دے سکتے ہیں جب کہ اس حقیقت کا علم تو غیب سے متعلق ہے ، اور قرآن وحدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ ایک مردہ شخص کسی زندہ انسان کی طرف سے کوئی کام انجام دے سکتا ہو. اس کے برخلاف رسول اللہﷺکی احادیث سے یہ ثابت ہے کہ مرد ہ شخص زندوں کی دعاؤوں کا محتاج ہوتا ہے نہ کہ اس کے برعکس.

مزید یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ فوت شدہ اولیاء اپنی قبروں میں حیرت انگیز طور پر نیک اعمال کرتے ہیں جیسے گناہ گاروں کے لئے سفارش کرنا وغیرہ.جب کہ رسول اللہ ﷺ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ : ’’جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے اعمال اپنے اختتام کو پہنچ جاتے ہیں سوائے تین باتوں کے؛ صدقہ جاریہ، ایسا علم جس کا فائدہ جاری رہے، وہ نیک اولاد جو اس کے لے دعا کرتی رہے([232])۔‘‘

مذکورہ بالا مسئلہ کے ساتھ ایک اور عمومی سوال گہرا تعلق رکھتا ہے اور وہ ہے غیر اللہ سے دعا واستعانت اور طلب شفاعت، گوکہ عصر حاضر میں مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے (غالبًا جزوی طور پر شیخ ؒ کے طلباء اور آپ کے معتقدین کے اثرات کی بنا پر) یہ بہت واضح مسئلہ ہے مگر اس مسئلہ پر بھی شیخ ؒ کو بہت سی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا، مثال کے طور پر القبانی نے غیر اللہ سے دعا مانگنے کے بارے میں لکھا کہ : ’’جہاں تک ان کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ غیراللہ سے استغاثہ عبادت کی ایک قسم ہے جو شرک اکبر ہے ، تو اس دعویٰ کے لئے کوئی ثبوت یا دلیل ان کے پاس نہیں ہے([233]) ‘‘۔

یہی بات الحداد نے بھی کہی ہے چنانچہ اس نے لکھا کہ : ’’یہ رائے کہ کوئی انسان ’’اولیاء‘‘ سے دعائیں نہیں مانگ سکتا یہ درحقیقت’’نجدی‘‘ (یعنی شیخ محمد بن عبدالوہاب) کی غلطیوں میں سے ایک غلطی ہے ([234]

شیخ کے پوتے سلیمانؒ نے آپ کے معتقدین کے خیالات اور نظریات کی بہت اچھی نمائندگی کی ہے چنانچہ وہ رقمطرازہیں:

’’بلاشبہ دعا، عاجزی وانکساری عبادت کی ایک قسم ہے بلکہ عبادت کی عظیم ترین قسم ہے ، درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی تمام عبادتوں میں سب سے زیادہ معزز عبادت ہے . اگر غیر اللہ سے دعا مانگنا ’’شرک ‘‘ کی قسم نہیں تو پھر زمین پر شرک کا کوئی وجود ہی نہیں. اگر زمین پر شرک موجود ہے تو پھر یقینی طور پر دعا میں شرک کسی اور عبادت میں اللہ کے ساتھ شریک بنانے سے کہیں زیادہ بڑا شرک ہے، درحقیقت دعا میں شرک کا ارتکاب کرنا شرک کی اعلیٰ ترین شکل ہے اور اس قسم کا شرک مشرکین مکہ کیا کرتے تھے جس کی اصلاح کی خاطر رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا گیا.یہ لوگ انبیاء، صالحین اور ملائکہ سے دعا کرتے اور ان کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تاکہ وہ اللہ کے ہاں ان کے شفاعت وسفارش کریں، اور مشکل اوقات میں تو یہ لوگ خالص اللہ ہی سے مانگتے اور اپنے خود ساختہ شریکوں کو بھول جاتے تھے. یہ بات مروی ہے کہ جب وہ سمندر کے سفر کے دوران مشکلات (آندھی اور طوفان) میں پھنس جاتے تو اپنے بتوں کو سمندر میں پھینک دیتے اور اے اللہ ! اے اللہ! پکارنے لگتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے (جھوٹے ) معبود کسی نقصان کو دور نہیں کرسکتے یا ضرورت کے وقت کسی کو مصیبت سے بچا نہیں سکتے ([235]

 انہدام مزارات اور زیارت قبور کے مسائل

طبقۂ صوفیہ اور شیعہ کے مطابق سب سے زیادہ خطرناک کام جو شیخ محمد ؒ اور ان کے معتقدین نے انجام دیا وہ ہے مزارات کا انہدام اور ان مزارات کی زیارت سے روکنا. ان کے نزدیک یہ وہ خطرناک عمل تھا جس کے ذریعہ شیخ ؒ انبیاء اور اولیاء کی توہین کے مرتکب ہوئے. ابن سحیم، المحجوب ، الحداد، دحلان اور متعدد دیگر مصنفین ’’ وہابیوں‘‘ پر اس حملے میں شریک کار ہوئے ([236]

درحقیقت شیخ ؒ کا یہ عمل کلی طور پر محمد ﷺ کی تعلیمات کے عین مطابق تھا گرچہ کہ لوگ آپ کے کتنے ہی مخالف کیوں نہ ہوں، ہر شخص یقینی طور پر یہ کہہ سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کبھی کوئی مزار یا گنبد کی تعمیر نہیں کی، اور نہ کبھی انہوں نے قبروں کو جائے عبادت قرار دیا اور نہ ان مقابر پر کوئی نشانی تعمیر کی. شیخ عبداللہ بن احمد بن عبدالوہاب نے اس مسئلہ میں ’’وہابیوں‘‘ کے موقف کی وضاحت فرمائی ہے چنانچہ آپ نے لکھا:

’’قبروں پرگنبد بنانا کفر کی نمایاں نشانی ہے. اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بتوں کو ڈھانے والا بناکر مبعوث فرمایا خواہ وہ نیک اورمتقی لوگوں کی قبروں کی شکل میں ہی کیوں نہ ہوں. ’’لات‘‘ (وہ بت جواللات کے نام سے معروف تھا جس کا حوالہ سورۃ النجم آیت ۹۱۔۳۲میں دیا گیا) ایک متقی اور نیک انسان تھا چنانچہ جب اس کی وفات ہوئی تو وہاں کے لوگ اس کی قبر کے ارد گرد جمع ہوگئے اور اس پر ایک عمارت تعمیر کردی اور اس کا بہت احترام کرنے لگے. جب طائف کے لوگ اسلام میں داخل ہوئے تو انہوں نے یہ درخواست کی کہ ’’لات‘‘ کے مزار کو ایک ماہ تک منہدم نہ کیا جائے تاکہ ان کی خواتین اور بچے خوف میں مبتلانہ ہوجائیں تاوقتیکہ وہ بھی مشرف بہ اسلام ہوجائیں. ان کی یہ درخواست رد کردی گئی اور رسول اللہ ﷺ نے مغیرہ بن شعبہ اور ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہما کو ان کے ہمراہ روانہ فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ اس مزار کو منہدم کردیں([237]) ‘‘۔

مزید برآں امام مسلم نے اپنی صحیح میں ذکر فرمایا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوالہیاج الأسدی سے فرمایا کہ : کیا میں تم کو اس مہم پر روانہ نہ کروں جس مہم پر مجھے رسول اللہ ﷺنے روانہ فرمایا تھا، وہ یہ کہ کسی بھی مجسمہ کو منہدم کئے بغیر نہ چھوڑنا اور زمین سے اُٹھی ہوئی ہر قبر کو سطح زمین کے برابر کردینا‘‘۔

 خلاصہ:

اس باب میں ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ ان اعتراضات کی حقیقت کیا ہے اور مزید یہ کہ وہ کس حیثیت کے حامل ہیں ؟ اکثر اعتراضات تو صرف شیخ ؒ کی ذات پر جھوٹے الزامات کے سوا کچھ نہیں ہیں اور باقی میں حق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے. یہی وجہ ہے کہ ان اعتراضات نے شیخ ؒ کی معنویت کو کمزور نہیں کیا اور نہ ہی ان کے غلط راستے پر ہونے کے لئے یہ دلیل بن سکے. اس کے برخلاف آپ جانتے تھے کہ اس طرح کی آزمائشیں تو آکر رہتی ہیں اور آپ کو اس بات کا بھی یقین تھا کہ جب تک وہ کلام الٰہی اور حدیث رسول ﷺ کے ساتھ مخلص رہیں گے انجام کار خیر ہی ہوگا.

چنانچہ آپ نے اپنے ایک خط میں اپنی اور اپنے احباب کی خیریت بیان کی اور آپ کے پیغام کے مخاطبین آپ کے شریک کاروان بن جانے پر فرحت ومسرت کا اظہار کرنے کے بعد رقمطراز ہوئے کہ:

’’امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس زندگی میں اور آخرت میں بھی خیر سے نوازے گا اور ہم کو اس معاملہ میں استقامت عطا فرمائے گا. تاہم اے میرے بھائیو! اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو فراموش نہ کرنا: وَجَعَلۡنَا بَعۡضَكُمۡ لِبَعۡضٖ فِتۡنَةً أَتَصۡبِرُونَۗ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرٗا ٢٠

’’اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنادیا ،کیا تم صبر کروگے؟ تیرا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے([238])‘‘۔

اورمزید اس کا یہ بھی فرمان ہے: أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتۡرَكُوٓاْ أَن يَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَنُونَ ٢ وَلَقَدۡ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡكَٰذِبِينَ ٣             

’’کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟ ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا یقیناًاللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گاجو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں ([239]) ‘‘۔

اس لئے آپ لوگوں کو یقین کے ساتھ یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ جو شخص بھی اس دین کی پیروی کرتا ہے اس کو آزما یا جائے گا، لہذا کچھ عرصے کے لئے صبر کرلو اور اس تھوڑے عرصے کے عوض اس زندگی کی بھلائیاں اور آخرت کی خوشخبریاں حاصل کرلو اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو یاد رکھو:إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُومُ ٱلۡأَشۡهَٰدُ ٥١

’’یقیناًہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانی دنیا میں بھی کریں گے، اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے([240])‘‘۔

اگر اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو صبر سے نواز دے اور آپ لوگ ’’اجنبی‘‘ بن جائیں جو دین کو مضبوطی سے پکڑے رہتے ہیں جب کہ لوگوں نے اس کو خیر باد کہہ دیا ہو تو پھر آپ لوگوں کے لئے بشارتیں ہی بشارتیں ہیں. ان لوگوں میں تمہارا شمار ہوگاجن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام ’’اجنبی‘‘ کی حیثیت سے شروع ہو، اور اسی حیثیت سے واپس ہوگا جس طرح اس کا آغاز ہوا تھا (یعنی اجنبی بن کر) لہذا اجنبیوں کے لئے طوبیٰ (جنت کے درخت) کی خوشخبری ہے ([241]) . صحابہ نے عرض کیا: یا رسو ل اللہ! اجنبی کون ہیں؟ آپ نے جواب دیا: وہ لوگ جو اپنی اصلاح کرنے میں لگے رہتے ہیں جب کہ لوگ فاسق وفاجر ہوگئے ہوں ([242]

کیا یہ حیرت انگیزر حمت نہیں ہے؟ کیا یہ عظمت والا کام نہیں ہے؟ اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ مجھے اور آپ کو ان میں شامل کردے جو رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرتے ہیں اور ہم سب کو آپ کے جھنڈے تلے جمع کردے، اور آپ کے حوض کوثر پر حاضر ہونے کی سعادت نصیب فرمائے اور یہ سعادت انہیں کونصیب ہوگی جو اس زندگی میں آپ کے طریقہ کی پیروی کرتے ہیں ([243]

یہ بات قابل غور ہے کہ مخالفین نے شیخ ؒ کی دعوت کی حسی اور معنوی (علمی) حیثیت ہر دو طرح سے ختم کرنے کی بہت کاوشیں کیں. (اگر کوئی ان کے دلائل کو علمی کہنا چاہے تو اور بات ہے ورنہ یہ دلائل علمی اعتبار سے کافی بودے ہیں) یہاں تک کہ جب وہ فوجی طاقت کی وجہ سے شیخ کے متبعین پر غالب ہوگئے تو اس کا مطلب یہ نہ ہوا کہ شیخ ؒ کی دعوت دم توڑ گئی.

زوال درعیہ کے بعد کے احوال ذکر کرتے ہوئے واسی لیف کہتا ہے: ’’مصری عرب کے حتمی مالک بن چکے تھے اور سعودیوں اور وہابیوں کے اثرات کو بندوق اور تلوار کے زور سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں لگ گئے. امراء، علماء اور فوجی قائدین پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اور ان کو فردًا فردًا اور گروہ درگروہ گولیوں اور توپوں کا نشانہ بنایا گیااور ان کے چیتھڑے بکھیر دیئے گئے ... کیپٹین جی ایف سیڈلیر ابراہیم کی فوجی مہم کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ ایک بہیمانہ ظلم کا سلسلہ تھا اور اس کے نہایت مقدس واجبات کی چیرہ دستی تھی([244]) ‘‘۔

گرچہ ریاست درعیہ کچل دی گئی مگر اس کی تعلیمات پھر بھی زندہ رہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ تعلیمات آج دنیا کے بہت سارے حصوں پرغالب ہیں.اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ مرضی نہیں ہے کہ اس کی روشنی ہمیشہ کے لئے بجھ جائے خواہ کافر اسکے کتنے ہی مخالف ہوں.

شیخ محمد ؒ کے مخالفین کی کتابوں کے مطالعہ کے دوران راقم الحروف کے ذہن میں بار بار یہ بات آتی رہی کہ جس کی یہ مخالفت کررہے ہیں وہ شیخ ؒ کی تعلیمات نہیں بلکہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات ہیں (جن کے یہ مخالف بنے ہوئے ہیں).

حقیقت میں ان مخالفین کے پاس شیخ ؒ کی مخالفت کے لئے قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کے دلائل مفقود ہیں. اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو رحمت بھرے اور تسلی آمیز کلمات کے ذریعے جس طرح تسلی دی ذرا اس پر غور فرمائیں:قَدۡ نَعۡلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحۡزُنُكَ ٱلَّذِي يَقُولُونَۖ فَإِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِ‍َٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ ٣٣ وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَىٰ مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمۡ نَصۡرُنَاۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِۚ وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِن نَّبَإِيْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٣٤’’ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقول مغموم کرتے ہیں سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں، اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے ہوئے ان کی بھی تکذیب کی جاچکی ہے سو انہوں نے اس پر صبر ہی کیا ، ان کی تکذیب کی گئی اور ان کو ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ہماری امداد ان کو پہنچی اور اللہ کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اور درحقیقت آپ کے پاس بعض پیغمبروں کی بعض خبریں پہنچ چکی ہیں([245])‘‘۔

درحقیقت شیخ ؒ کا راستہ رسول ﷺ اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا راستہ ہے اور جن لوگوں نے مخالفت کی اور مخالفت کررہے ہیں وہ اس معاملہ کے حق ہونے سے نابلد ہیں حالانکہ یہ بالکل واضح حقیقت اور سب کے لئے کھلی کتاب ہے.

 چنانچہ واسی لیف رقمطراز ہے:’’وہابی لوگ اپنے دینی نقطۂ نظر میں بڑے سخت معلوم ہوتے ہیں، یہ نہ صرف ان کی اپنی رائے ہے بلکہ عرب دنیااور اس کے باہر کے لوگوں کی اور ماہرین کی اکثریت بھی یہی رائے رکھتی ہے. اور یہ رائے تحریک کے اولین دور کے لوگ اور بعد کے دور کے علماء دونوں کے سلسلے میں ہے‘‘۔

اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ:

’’برک ہارٹ کی خبرکے مطابق قاہرہ کے علماء (جو عمومی طور پر وہابیوں کے مخالف تھے) نے خود کہا ہے کہ انہوں نے شیخ محمد بن عبدالوہاب کی تعلیمات میں کوئی شرک کے آثار نہیں پائے. چونکہ یہ بیان دینے والے علماء خود اپنے نقطۂ نظر کے خلاف بیان دے رہے ہیں، لہذا اس کے مشکوک ہونے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی ، شیخ محمد ؒ کی کتابوں کے مطالعہ کے بعد قاہرہ کے متعدد علماء نے علی الإعلان اس بات کا اظہار کیا کہ ’’گرچہ ان کتابوں سے ’’وہابی عقیدہ‘‘ ظاہر ہوتا ہے ، لیکن وہ لوگ فراخ دلی اور وسعت نظری سے ان کے اس عقیدے کی موافقت کرتے ہیں‘‘۔

اسی طرح ابو راس الناصری (ایک جزائری عالم) نے واضح کیا کہ وہابی عقیدہ بالکل عین اسلام ہے. ابن سند (بصرہ کا ایک تاریخ دان) نے لکھا کہ ’’وہابی ماضی کے حنبلی ہیں([246]) ‘‘۔

 شیخ ؒ کی سیرت سے آج کی دنیا کے لئے سبق

شیخ ؒ کے تجربات سے ہر کوئی بہت سے اسباق اخذ کرسکتا ہے.آپ جیسی شخصیات کے بارے میں معرفت درحقیقت ایک عظیم درس مہیا کرتا ہے، ہر کسی کے لئے یہ آسان نہیں کہ وہ اپنے آپ کو انبیاء اوران کے پیارے صحابہ کے درمیان تصور کرکے دیکھ سکے بلکہ ایک عام آدمی اپنے بارے میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہے کہ ان شخصیات کی طرح بننا نا ممکنات میں سے ہے، لیکن تاریخ اسلام میں ایسے بہت سے افراد ظہور پذیر ہوئے جو بالکل ویسی ہی نیک صفات کے حامل بنے مگر نہ وہ پیغمبر تھے، اور نہ صحابہ میں ان کا شمار تھا بلکہ اس امت کے وہ ایک عام فرد تھے.

مزید یہ کہ جس معاشرہ اور ماحول میں ان کی پرورش ونشونما ہوئی غالباً وہ ایسا ہی تھا جیسا کہ اس (کتاب) کا مطالعہ کرنے والوں کا معاشرہ وماحول ہے.

آج کے مسلمانوں کے لئے شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی مثال نہایت ہی مناسب ہے، دنیا کی جو حالت شیخ ؒ کے دور میں تھی اور جو حالت آج ہے ان دونوں میں بڑی مماثلت اور یگانگت پائی جاتی ہے، آپ کے دور میں مسلم دنیا بہت ہی دشوار گزار مرحلہ سے گزر رہی تھی، یورپی طاقتیں خلافت عثمانیہ پر روز بروز حاوی ہوتی جارہی تھیں، اور یہی کچھ دنیا کے دوسرے خطوں میں عالم اسلام کا حال تھا، عالم اسلام میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مسلمان اسلام کی حقیقی روح کھوچکے تھے، اور اس کے مطابق زندگی گزارنا بھول چکے تھے. ان میں سے بہت سے لوگ مغرب کی سائنسی ترقی سے مرعوب ہوچکے تھے، بہت سے علاقوں میں ’’شریعت اسلامیہ‘‘ ایک قصۂ پارینہ بن چکی تھی. اور آج بھی کم وبیش وہی حالات دوہرائے جارہے ہیں صرف ان کے طریقے اور ذرائع مختلف ہیں.

سیاسی اعتبار سے مسلم ممالک مجموعی طور پر بہت کمزور ہیں، بیشتر ممالک میں انسان کے وضع کردہ قوانین نے شریعت کے قوانین کی جگہ لے لی ہیں. بہت سی مسلم آبادیوں کو اختلافات اورنفرتوں نے گھیرلیا ہے، کچھ مسلمان مغرب کی مادہ پرستی کے جال میں پھنس چکے ہیں یعنی اسلام کا حقیقی مفہوم مسلمانوں کے درمیان سے غائب ہورہا ہے، بہت سے مسلم ممالک کے سرکاری اسکولوں میں دینی تعلیم نہیں دی جاتی ہے.

ایسی صورتحال میں جب لوگ قرآن وسنت کے مطابق سچے اسلام کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ان پر وہی لیبل چسپاں کئے جاتے ہیں جو شیخ محمد ؒ اور آپ کے معتقدین پر چسپاں کئے گئے تھے. اس دور میں ان کو خارجی، مشرک اور کافر کے ناموں سے پکارا گیا. اور آج ایسوں کو بنیاد پرست (Fundamentalist) یا اس سے برا لقب دہشت گرد(Terrorist)کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس کے باوجود شیخ ؒ اور آپ کے رفقاء حالات کو موڑنے میں کامیاب ہوئے، خطۂ ارض کے مختلف گوشوں میں اسلام کو واپس لانے میں کامیابی حاصل کی، ایک یادگار انقلاب جو رونما ہوا اس سے آج کے مسلمانوں کو سیکھنے کے لئے بہت سے اسباق ہیں جن کے سامنے ویسی ہی تاریک صورتحال ہے جس طرح کی صورتحال شیخ ؒ کے سامنے تھے.

ظاہر ہے کہ شیخ ؒ نہ پیغمبر تھے اور نہ ہی آپ کی اصلاح وحی کے ذریعہ کی گئی اور آپ کے معتقدین ورفقاء غلطیوں سے پاک نہیں تھے اور آپ کے اقوال واعمال اس طرح نافذ العمل نہیں تھے جس طرح قرآن وسنت کے احکام ہیں ، لیکن قرآن وسنت کے دائرہ میں رہتے ہوئے آپ کی کاوشوں پر نظر کرنا یہاں مقصود ہے اور یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس طرح آپ نے قرآن وسنت کی تعلیمات کو اپنے ماحول میں نافذ کیا. آپ کوئی نیا دین یانئی تعلیمات لے کر نہیں آئے بلکہ قرآن وسنت کی جانب آپ واپس لوٹے اور صحیح طور پر ان کو سیکھا اور آپ کے اندر اس بات کو سمجھنے کی صلاحیت تھی کہ اس دور میں اور اس ماحول اور علاقے میں ان تعلیمات کو کس طرح نافذ کیا جائے. حالات میں انقلاب پیدا کرنے والی یہ تھی وہ کنجی جو اللہ کی مہربانی سے اور مزید آپ کی کاوشوں اور جدوجہد کے ذریعہ معرض وجود میں آئی اور مندرجہ ذیل وہ اسباق ہیں جن کو اس ضمن میں پیش کیا جارہا ہے.

 نظریاتی اور عملی طور پر اپنے عقیدے کی اصلاح سے آغاز کرنے کی اہمیت

رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت کے تیرہ سال (مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے) مکہ میں صرف اور صرف توحید اور عقیدہ کے دیگر پہلوؤں کی تعلیم دینے میں صرف کئے. اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بالکل واضح طور پر بیان کیا ہے کہ ہر نبی کی بعثت بنیادی پیغام پہنچانے کے لئے کی گئی اور وہ توحید اور ایمان کا پیغام تھا. چنانچہ تمام انبیاء نے اپنی اقوام کو جو دعوت دی اللہ رب العزت ان کی اس دعوت کو اپنے کلام میں بیان فرمایاہے:(ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ٦٥ ’’اے میری قوم! صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی اور الٰہ نہیں ہے ([247]) ‘‘۔

حقیقی ثمرات ونتائج کی توقعات سے پہلے یہ واضح پیغام تمام مسلم نسلوں ، تحریکوں اور جماعتوں کے آگے ہونا چاہئے کہ صحیح ایمان (عقیدہ) لوگوں کے دلوں میں مضبوطی سے قائم ہوجائے.یہ سچا اور حقیقی ایمان ہے جو قرآن کریم کو قلب انسانی کے اندر اتاردیتا ہے اور اس کے احکامات پر اخلاص اور صحیح طریقے کے مطابق عمل کرواتا ہے اور ہر شرک کے کام سے دور ہٹا دیتا ہے، اسی طرح اقامت صلاۃ کا پابند کرواتا ہے نیز مسکرات ومنشیات کے ذریعہ خود کی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بچاتا ہے، اور یہ ہیں ایمان وتوحید کے حسین درخت کے ثمرات!

چنانچہ شیخ ؒ اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ عقیدہ کی اصلاح کے ذریعہ ہی آدمی کے اعمالِ عبادت، اخلاق وآداب اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں اور پہلوؤں کی اصلاح ہوسکتی ہے ، پہلے انسان کے ذہن اور اس کے دل کی کیفیت کی تبدیلی کے بغیر صرف خارجی اور ظاہری اصلاح کا حقیقی اور پائدار فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا. جیساکہ پہلے عرض کیا جاچکا کہ یہی وہ پہلو ہے جو شیخ ؒ کی تمام تعلیمات ومکاتبات، اورتمام تحریروں اور تقریروں میں نمایاں طور پر اجاگر تھا. خاص طور پر آپ نے اللہ پر صحیح ایمان (جو اصل بنیاد ہے) اور وہ باتیں جو اس کی مخالف ہیں ان کی تعلیم پر کافی زور دیا. اور اس امر میں کوئی دورائے نہیں کہ آپ ؒ کے دور میں اللہ کی عبادت کے صحیح طریقے اور اس سے متعلق صحیح ایمان ہی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا اور یہ واقعی دشوار گزار کام تھا جس کے لئے آپ کو کمربستہ ہونا تھا.

شیخ ؒ نے اپنے اس طریقۂ کار کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے. چنانچہ آپ رقمطراز ہیں: ’’پہلے نمبر پر جو بات ہے وہ ’’علم‘‘ ہے جس کا تعلق اللہ سے، اس کے رسول سے اور اس کے دین سے ہے. مذکورہ باتوں کا علم دلائل کی روشنی میں حاصل کیا جائے. دوسری بات:مذکورہ علم کے مطابق عمل کرنا اور تیسری بات: لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا اور چوتھی بات: ان تمام مصائب وآلام پر صبر کرنا جو اس دعوت کی راہ میں لاحق ہوں.

اس طریقۂ کار کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:وَٱلۡعَصۡرِ ١ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ ٢ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ ٣       

’’زمانے کی قسم، بے شک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک عمل کئے اور جنہوں نے آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی([248])‘‘، ([249]

 فسق وجہالت کے انتشار کے باوجود عدم مایوسی

جب محمد رسول اللہ ﷺ انسانیت کی طرف مبعوث ہوئے تو مذہبی لحاظ سے دنیا بالکل گھٹا ٹوپ تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی. پھر کچھ ہی عرصے میں انسانی معاشرے کا ایک حصہ اٹھ کھڑا ہوا اور انسانیت کو گمراہی کی تاریکی سے نکال کر ایک نئے (ہدایت کے) دور کی جانب لے کر رواں دواں ہوا جس کی امتیازی صفت ہدایت ربانی تھی.

گوکہ رسول اللہ ﷺ اب اس دنیا میں نہ رہے اور آپ کی قیادت جسمانی طور پر اس دنیا میں ممکن نہ رہی مگر جو ہدایت آپ کو دی گئی وہ انسانیت کی رہنمائی کے لئے ہمیشہ محفوظ بنادی گئی کہ جب بھی کوئی اس کی طرف رجوع کرنا چاہے وہ اس سے رہنمائی حاصل کرسکے.

شیخ ؒ کے دور میں اسلام بلکہ پوری انسانیت ایک بار پھر سے افسوسناک حالت پر پہنچ چکی تھی. شیخ ؒ نے نجد اور دوسرے علاقوں کے سفر کے دوران یہ اندازہ لگالیا کہ گمراہی کی تاریکی صرف نجد پر ہی نہیں بلکہ تمام مسلم علاقوں پر محیط ہے. اور جہاں یہ دبیز تاریکی کا تسلط تھا وہیں شیخ ؒ اس امر سے بھی واقف ہوگئے کہ اس کا علاج لوگوں کے عقائد کی اصلاح ہے. اگریہ اپنے عقائد اور طور طریقے درست کرلیں تو ان کی زندگیاں یکسر بدل سکتی ہیں.

جو مثالیں شیخ ؒ اور آپ کے متبعین نے قائم کی ہیں وہ آج بھی انسانیت کے لئے روشنی کے مینار ہیں، اور جب تک قرآن وسنت کی شکل میں راہ ہدایت اور رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کے مطابق اس کی دعوت موجود ہو جس کی شیخ ؒ نے پیروی کی اور اس کا نفاذ کیا یہ امید کی کرن ہمیشہ رہے گی کہ کسی نہ کسی دن انسانیت اپنی غفلت سے جاگ اٹھے گی اور ان عظیم تعلیمات کی جانب واپس پلٹ آئے گی. اس وحی ربانی کی یہ خصوصیت وصلاحیت ہے کہ خوابیدہ دلوں کوجگادے اور مردہ روحوں کو دوبارہ زندہ کردے.

اگر مسلمان دینی علماء کی قیادت میں وحی الٰہی کی طرف لوٹ آئیں تو نہ صرف امت مسلمہ بلکہ تمام انسانیت کے لئے امیدوں کے چراغ جل اٹھیں گے، لیکن جیساکہ شیخ ؒ نے شاہ محمد بن سعود ؒ کو بتلایاتھا کہ اس تبدیلی کے کچھ شرائط ہیں جس کے نتیجے میں یقیناًاللہ کی مدد ونصرت آئے گی. اللہ کی اطاعت اور دین کے مطابق زندگی بسر نہ کرتے ہوئے صرف اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے حالات میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوگی. بلکہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اللہ کی طرف رجوع ہوجائیں ، اپنے عقائد کو پاک وصاف کریں اور مکمل طور پر اللہ کی بارگاہ میں سرتسلیم خم کردیں.

قابل غور پہلو یہ ہے کہ اس طرح کا انقلاب رونما ہوسکتا ہے اور انسانی تاریخ میں ایک سے زائد بار رونما ہوچکا ہے اور پوری نسل میں تبدیلی آسکتی ہے.اس دعوت کو لے کر اٹھ کھڑے ہونے والے ایک عالم دین کے ذریعہ یہ تبدیلی ممکن ہے اگر وہ اخلاص، عقیدے کی درستگی کے ساتھ اس مقصد کے حصول کے لئے ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہوجائے. مسلمان خواہ کتنے ہی برے حالات کے شکار کیوں نہ ہوجائیں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے. ایک سچا مسلمان کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا. مسلمان کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اصلاح کو مقصود بناکر کام کرے. ان شاء اللہ دنیامیں اصلاح ہوکر رہے گی اور ہر حالت میں ایک مسلمان کی کاوشیں اللہ رب العزت کی قدردانی سے محروم نہ بنیں گی.

 ہر ایک کے لئے تعلیم کی اہمیت

رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ([250]

 آپ ﷺ کی اہم ترین تعلیمات ایمانیات وعقائد سے متعلق تھیں نہ کہ لٹریچر وسائنسی علوم سے . اور آپ نے اس علم کو ہر فرد کی طرف منتقل فرمایا. اعلیٰ درجہ کے حسب ونسب اور متقی لوگوں سے لے کر معمولی درجہ کی لونڈی تک ہر ایک کو اس علم سے نوازا. وقت کے ساتھ ساتھ مسلم دنیاسے رفتہ رفتہ یہ علم متاع گمشدہ بن گیا اور دین کا یہ علم کچھ خاص طبقوں کا اعزاز بن کر رہ گیا ([251]) ۔

شیخ ؒ کے کارناموں کے بارے میں ابن بشر لکھتا ہے کہ:

’’وہ نوجوان بوڑھے، تعلیم یافتہ وجاہل ہر طبقہ کے لوگوں کو توحید کی تعلیم دیتے تھے جب کہ اس سے پہلے اس کا علم صرف چند خاص لوگوں تک محدود تھا. اس علاقہ کے تمام لوگ آپ کے علم سے مستفید ہوئے اس اعتبار سے کہ جب آپ کسی بات کا حکم دیتے یا کسی چیزسے منع کرتے تو لوگ اس بارے میں آپ سے علم حاصل کرتے تھے  ([252]

آج کے دور میں ’’تعلیم ہر ایک کے لئے ‘‘ کے عنوان سے بڑے مباحثے اور بڑی کانفرنسیں منعقد ہورہی ہیں جن کے بارے میں ہم سنتے ہیں لیکن شیخ ؒ نے اس کی اہمیت کو سمجھ کر اس کا عملی طور پر نفاذ کیا. آپ نے تمام مسلمانوں کو زور دیا کہ وہ عقیدہ کا بنیادی علم حاصل کریں، اور درحقیقت یہ زیادہ اہم علم ہے جس کوسب سے زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے . قرآن وحدیث کے علم کو لکھنے اور پڑھنے کے اعتبار سے سکھلاکر ناخواندگی کو بھی دور کیا جاسکتا ہے . آپ ؒ فرماتے ہیں کہ :’’اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ توحید کے مسائل ایسے نہیں ہیں کہ جن کا تعلق صرف مذہبی علماء سے ہی ہو بلکہ ان مسائل پر تحقیق کرنا اور ان کو سیکھنا درحقیقت ہر عالم وجاہل اور ہر مرد وعورت پر واجب ہے([253]) ‘‘۔

ایمان وعقیدہ کے بنیادی مسائل محض چند علماء تک محدود نہیں رکھنا چاہئے، اگر ایسا ہوا تو عقیدے پر عمل معاشرے کے تمام طبقات میں نہ کیا جاسکے گا اوراس طرح پوری سوسائٹی حقیقی معنوں میں اسلامی نہ بن سکے گی، جہالت ولاعلمی کے باعث لوگ اس عقیدے کے ساتھ سچا لگاؤ اورسچی محبت نہ کرپائیں گے. اس کے برعکس اگر ہر شخص کو یا لوگوں کی اکثریت کو صحیح تعلیم دی جائے تو ہر ایک کے اندر عقیدے کے ساتھ تعلق مضبوط تر ہوتا جائے گا، اللہ سے متعلق صحیح ایمان کو سمجھے گا اور اس سے محبت کرے گا اور اپنی زندگی میں اس کے مطابق عمل پیرا ہوگا، نتیجۃً اس علم ، عمل اور عقیدے سے لگاؤ کے اعتبار سے اللہ کی رحمتوں سے بھی فیض یاب ہوگا، یہ ہیں اس معاشرے کی واضح خصوصیات جس کو شیخ ؒ قائم کرنا چاہتے تھے اور جس کی نشأت ثانیہ کے لئے آپ نے لائحہ عمل مرتب کیا. آپ نے عقیدے کی بنیادی تعلیم مساجد میں دینے کو لازمی قرار دیا. چھوٹے چھوٹے رسائل وکتابیں آپ نے خاص طور سے کم پڑھے لکھے لوگوں کے لئے تالیف کی . آپ کی ایک چھوٹی کتاب بعنوان’’ الأصول الثلاثہ‘‘ (تین بنیادیں) مساجد میں پڑھائی جانے لگی. نماز فجر کے بعد اس کے حفظ کا حلقہ ہوتا تھا. اور درحقیقت اس کتاب میں ایسا علم ہے جس کی اساس متأخرین علماء اور اولیاء کے اقوال وارشادات پر نہیں ہے بلکہ براہ راست کتاب وسنت پر ہے تاکہ ہر فرد کا تعلق براہ راست اللہ کی جانب سے نازل شدہ وحی کے ساتھ قائم ہوجائے.

علاوہ ازیں شیخ ؒ نے چھوٹے دیہاتوں کے اجڈوگنوار بدو قبیلوں تک اساتذہ ارسال کئے تاکہ ان کو عقیدے کی تعلیم سے آراستہ کریں . یہ اساتذہ ان کوبتلاتے تھے کہ ان کا رب کون ہے ؟ ان کا نبی کون ہے ؟ اور ان کا دین کیا ہے ؟ نیز انہیں ارکان اسلام اور ارکانِ ایمان سکھاتے تھے. اللہ اور اس کے رسول ﷺکے حقوق سے آگاہ کرتے تھے.

 علامہ شیخ بن باز رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ : ’’ اس طرح عام مسلمان اور بدو لوگ بھی عقیدۂ توحید کی بنیادوں کے بارے میں علم حاصل کرنے لگے اور یہ وہ چیزیں ہیں جن سے آج کے زمانے کے بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی بالکل لا علم ہیں.چنانچہ اس صحیح علم کے ذریعے لوگوں میں کتاب وسنت سے تعلق بڑھ گیا. شیخ ؒ ایمان کے نہ صرف ظاہری امور پر زور دیتے تھے بلکہ آپ لوگوں کو زہد، تزکیہ نفس، اعمالِ عبادت کی کثرت، ذکر الٰہی میں مشغولیت، اللہ ہی سے طلب ہدایت اور اسی سے استعانت، ہر نیک عمل میں اخلاص اور طاعت رسول جیسی دو اہم شرطوں کی تکمیل، اور دیگر باطنی امور کی بھی تعلیم دیتے تھے ([254])‘‘۔

آپ ؒ نے اس بات پر بھی کافی زور دیا کہ علم بغیر عمل کے کچھ معنی نہیں رکھتا. چنانچہ آپ نے فرمایا: ’’علم کو علم نہ کہا جائے اگر وہ بار آور نہ ہو (یعنی اس کے مطابق عمل نہ ہو) اگر اس کے کچھ ثمرات نہ ہوں تو یہ جہالت ہے . اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَٰٓؤُاْۗ ٢٨

’’اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں([255]) ‘‘،([256]

شیخ ؒ عورتوں کی صحیح اور بنیادی تعلیم کے بارے میں اتنی ہی دلچسپی رکھتے تھے جتنی مردوں کی تعلیم کے بارے میں آپ کی دلچسپی تھی. ہر سوسائٹی میں عورتوں کا اہم کردار ہوتا ہے، اور اسلامی معاشرہ میں ان کو اور بھی زیادہ اہم قرار دیا گیا ، یہی وجہ ہے کہ اسلام میں خاندانی اور اخلاقی اقدار پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے . اگر آئندہ نسلوں کی پاسبان ان خواتین کو دین اور معاشرے کی اخلاقیات کے بارے میں علم نہ ہو تو اس سے معاشرے کو نقصان کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا.

لہذا شیخ ؒ نے اپنے متعدد مکتوبات میں اس بات پر بہت زور دیا کہ مردوں اور عورتوں دونوں کو دینی تعلیم کے زیورسے آراستہ کیا جائے . بعض خطوط میں آپ نے لکھ بھیجا جس کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ : ’’توحید کے امور ان معاملات میں سے نہیں جو اہل دین ودانش حضرات کی دلچسپی کا باعث ہوں بلکہ ان امور کی تحقیق اور ان کا علم ہر عالم وجاہل اور ہر مرد وزن پر واجب ہے‘‘۔

ایک اور خط میں آپ نے لکھا: ’’عقیدہ کی تعلیم مردوں اور عورتوں دونوں میں عام کرنا چاہئے‘‘. اسی طرح ولاء وبراء (اللہ ہی کی خاطر تعلق جوڑنا اور اسی کی خاطر تعلق توڑنااور اللہ ہی کے لئے محبت کرنا اور اسی کے لئے نفرت کرنا)کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے لکھا کہ: ’’ہر فرد کو اس کا علم حاصل ہونا چاہئے اور مردوں پر ضروری ہے کہ وہ اپنی خواتین اور اپنے اہل وعیال کو اس کے بارے میں تعلیم دیں([257]) ‘‘۔

 اللہ پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے دنیوی اسباب کو اختیار کرنا

اس بات کو سمجھنے کے لئے رسولﷺ کی مثال سب سے بہترین ہے کہ کس طرح کوئی مادی اورظاہری اسباب کو اختیار بھی کرے اور ساتھ ہی ساتھ اللہ پر بھی کامل بھروسہ رکھے. رسول اللہ ﷺ کا فروں کے ساتھ جنگ کے لئے تمام تر اسباب اختیار فرمائے جو آپ کرسکتے تھے ، لیکن اس یقین کے ساتھ کہ نتائج اللہ کے حکم سے ہی مرتب ہوں گے.

اسی طرح شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ نے بھی اسباب اختیار کئے اور ہوشیاری کی راہ پکڑی جب کہ مضبوط توکل اور کامل یقین اللہ ہی پر تھا اور آپ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ پر توکل ایمان کا جزء ہے([258]

جہاں ظاہری اسباب کو ترک کردینا رسول اللہ ﷺ کے طریقے کی خلاف ورزی ہے وہیں ان مادی اسباب پر مکمل اعتماد کرلینا (یعنی یہ سمجھ لینا کہ یہی اسباب فائدہ دے سکتے ہیں اور یہ فراموش کردینا کہ اکیلا اللہ ہی فائدہ پہنچا سکتا ہے ) شرک کی ایک قسم ہے.

چنانچہ شیخ ؒ نے ذکر کیا کہ انہوں نے اللہ پر اعتماد کو اسباب کے ساتھ جوڑ کر اختیار کیا ہے جو درحقیقت متشدد مادہ پرستوں (جو صرف اسباب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں) اور غلو کرنے والے صوفیا ء (جو صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کا باطل تصور رکھتے ہیں) کے عقائد کے خلاف ہے.

ابتدا ہی سے شیخ کا ہدف بڑا واضح تھا، وہ یہ کہ مسلم معاشرے کی اصلاح. لہذا اس کے حصول کے لئے سب سے پہلے انہوں نے مطلوبہ علم حاصل کیا پھر آپ نے ضروری حمایت وتائید کے حصول کی کوشش کی جس کے ذریعہ مطلوبہ ہدف حاصل کیا جاسکتا تھا جس طرح رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منور چلے گئے تھے.

ایک معزز اور مقتدر شخصیت کی حمایت کے بغیر شیخ ؒ کی دعوت کی ناکامی یقینی تھی کیونکہ آپ کا اس دعوت کو لے کر اٹھنا درحقیقت آپ کی جاہل قوم کے عادات وتقالید کے خلاف ایک جارحانہ اقدام تھا اور یہ کوئی بعید از امکان بات نہ تھی کہ آغاز ہی میں ممکنہ طور پرآپ کو قتل کردیا جاتا.اور واقعۃً جب آپ زید بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے مزار کو منہدم کرنے چلے تو آپ نے حاکم وقت امیر عثمان سے کہا: ’’مجھے خوف ہے کہ الجبیلہ کے لوگ مجھ پر حملہ آور ہوں گے آپ کی موجودگی کے بغیر میں اس کو منہدم نہ کرسکوں گا([259])‘‘۔

مزید برآں شیخ ؒ کا حریملہ سے عیینہ منتقل ہونا اور اس کے بعد آپ کا درعیہ ہجرت کرنا (جہاں پہلے ہی سے آپ کے کچھ معتقدین موجود تھے اوروہاں کے لوگ قبیلۂ خالد کے مخالف بھی تھے) وہ مزیدمثالیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیخ ؒ نے اپنے مقصد میں کامیابی کے حصول کے لئے ظاہری اسباب اختیار کرنے سے گریز نہیں کیا. آپ نے صرف دعاؤوں اور امیدوں پر اکتفا نہیں کیا کہ اللہ خود ہی لوگوں کی حالت بدل دے گا.

اس باب میں جو باتیں ذکر کی گئی ہیں ان سے یہ بات واضح ہے یہ سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور سب اصل مسئلہ سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ : آدمی مکمل طور پر اپنے ایمانی ڈھانچے کی اصلاح کرلے اور صحیح ایمان اختیار کرلے. بالفاظ دیگر کچھ عوامل واسباب ایسے ہیں جو مادہ پرستوں کی نظر میں ممکن ہے کہ وہ حسی اسباب نہ ہوں مگر ان کا اختیار کرنا نہایت ہی اہم ہے. وہ یہ ہیں: عقیدہ کی اصلاح، جاہلیت اور شرک کے کاموں سے دوری بلکہ تمام نفسانی خواہشات کو ترک کردینا، اوراخلاق وسلوک کی درستگی.

مذکورہ عوامل کی تکمیل کے بغیر کسی بھی فرد کو جسمانی طور پرجہاد میں شرکت نہیں کرنی چاہئے. مثال کے طور پر کچھ مسلمان (نادانی سے دہشت گردی میں ملوث ہوجاتے ہیں) لشکری جہاد میں مذکورہ اسباب کو اختیار کئے بغیر فتحیاب ہونے کی توقع کرتے ہیں حالانکہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے. یہ پہلو محمد ﷺ کی زندگی میں اور اسی طرح شیخ ؒ کی زندگی میں بہت واضح تھا.

 دعوت کے لئے پُشت پناہی کی ضرورت

مذکورہ بالا نکتوں سے منسلک ایک اور نکتہ جو شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کے طریقۂ کار میں کارفرما نظر آتا ہے وہ یہ کہ : دعوت وتبلیغ کے لئے سیاسی پشت پناہی کی اہمیت. سیاسی قوت کی پشت پناہی نظریاتی وعملی حیثیت سے علم اور عمل دونوں کی دعوت پر مشتمل ہوسکتی ہے. سیاسی قوت اور اس کی پشت پناہی کی اہمیت قرآن کریم میں بھی واضح کی گئی ہے.

مثال کے طور پر لوط علیہ السلام جب اپنی ظالم قوم سے مخاطب ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی اختیار اور طاقت نہیں کہ میں تمہیں تمہاری ان خواہشات سے روک سکوں .اللہ رب العزت آپ کے الفاظ کو اپنے کلام میں نقل فرماتا ہےکہ : قَالَ لَوۡ أَنَّ لِي بِكُمۡ قُوَّةً أَوۡ ءَاوِيٓ إِلَىٰ رُكۡنٖ شَدِيدٖ ٨٠

’’لوط نے کہا کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑتا([260]) ‘‘۔

اور رسول اللہ ﷺ نے بھی مدینہ کو ہجرت کرنے سے پہلے اپنے لئے حمایت حاصل کرنے کی سعی فرمائی تھی جس کا ثبوت اس حدیث میں ہے کہ : ’’جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : رسول اللہ ﷺنے دس سال مکہ میں گزارے، آپ عکاظ اور مجنہ کے میلوں میں اور منیٰ میں لوگوں کی محفلوں میں جایا کرتے تھے اور ان لوگوں سے پوچھتے تھے کہ: ’’ کون میری مدد کرے گا؟ کون میری حمایت کرے گا؟ تاکہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچاؤں اور اس کے لئے جنت کی بشارت ہے ([261])‘‘۔

آج بھی آبائی رسم ورواج، فاسدعقیدے اور گمراہ کن طور طریقے معاشرے میں اس طرح در آچکے ہیں (جس طرح شیخ ؒ کے دور میں تھے) کہ اگر کچھ قوت نہ ہو تو اصلاح اور تزکیۂ معاشرہ کی تحریک بڑی آسانی سے کچل دی جاسکتی ہے، چنانچہ الأطرم لکھتے ہیں: ’’شیخ محمد بن عبدالوہاب کے دور میں غلط کاریوں کو محض علماء کی تقریروں سے ختم نہیں کیا جاسکتا تھا اس کے بجائے ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو ان کو ڈراسکے اور اس کے پیچھے ایسی قوت کی پشت پناہی ہو جو اس کی دھمکیوں کو عملی جامہ پہناسکے‘‘. اس کے بعد انہوں نے اس مشہور قول کو نقل کیا کہ ’’حکومتِ وقت کے ذریعہ اللہ ان برائیوں کو دور فرماتا ہے جن کو وہ قرآن کے ذریعے دور نہیں فرماتا ہے([262]) ‘‘۔

واضح طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شیخ ؒ اس مسئلہ کی اہمیت کو اچھی طرح جان چکے تھے. دین اسلام کا مقصد چونکہ معاشرہ کے تمام گوشوں کی اصلاح ہے ، لہذا افراد کے اخلاق کی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرہ کی صورت حال کی اصلاح بھی ضروری ہے. اگر کوئی سیاسی قوت نہ ہو تو اس بات کا عین امکان ہے کہ اس کے دشمن ایسی دعوت یا تحریک کو کچل دیں گے.

کوئی شخص کسی چیز پر ایمان رکھے مگر جب اس کے پاس اس کے نفاذ کی طاقت نہ ہو تو وہ اس بات کو ضروری نہیں سمجھے گا کہ جو حق وہ جانتا ہے اس کو وہ بیان کرے یا اس کوعملاً نافذ کرے. شیخ ؒ نے اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے دور کے علماء کی صورت حال پر تبصرہ کیا. چنانچہ اپنے ایک مکتوب میں آپ نے لکھا کہ: ’’جہاں تک اس بات کا تعلق ہے جس کی وجہ سے لوگ مجھے برا بھلا کہتے ہیں ، مجھ سے نفرت کرتے ہیں یا میری مخالفت کرتے ہیں، اگر اس بارے میں کسی بھی عالم سے (خواہ وہ شام کا ہو یا یمن کا یا کہیں اور کا) وہ دریافت کریں تو وہ یہی جواب دے گا کہ ’’ یہ حق ہے اور یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا دین ہے مگر میں اپنے مقام پر کھلے طور پر اس کا اظہارنہیں کرسکتا، کیونکہ حکومت اس کی اجازت نہیں دیتی. لیکن چونکہ ابن عبدالوہاب کو ان کے علاقے کے حاکم کی پشت پناہی حاصل ہے اس لئے وہ کھلے عام اس بات کو بیان کرنے اور نافذ کرنے کے قابل ہیں([263]) ‘‘۔

اسی نقطۂ نظر سے جب پہلے پہل شیخ عیینہ ہجرت کئے تو آپ نے حاکم وقت امیر عثمان کے سامنے اپنے عقائد پیش کئے اور اس کو دعوت دی کہ وہ صحیح توحید کو اختیار کرلے اور اللہ کے دین کی حمایت کرے تو امیرعثمان نے شیخ ؒ کی دعوت قبول کرلی اور تبلیغ حق اور اس کی اشاعت میں آپ کی مدد کی چنانچہ یہ دعوت ایک مضبوط بنیادپر قائم ہوگئی اور بے شمار لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا اور یہ تحریک اس لائق ہوگئی کہ اپنی تعلیمات کا نفاذ کرواسکے اور آخر کار یہ اس قابل بن گئی کہ اس علاقے سے باطل چیزوں کی عبادت اور شرک کا خاتمہ کردے حتی کہ زنا کی حد بھی نافذ کردے.

یہ بات پھر سے حقیقت بن کر ثابت ہوئی جب شیخ ؒ عیینہ چھوڑنے پر مجبور کردیئے گئے اور درعیہ ہجرت کرگئے. درعیہ کے امیر محمد بن سعود نے شیخ ؒ کے پیغام کو قبول کرلیا اور آپ کی ہر طرح سے حمایت کی، اور غالبًا یہی وجہ تھی کہ شیخ ؒ کی تعلیمات کا نفاذ جس پیمانہ پر ہوا اور آپ کے متبعین جس طرح اثر انداز ہوئے اس طرح آپ کے روحانی پیشوا ابن تیمیہ ؒ اور دوسرے مصلحین نہ ہوسکے. چنانچہ دوسروں کی تاثیر کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے عطاران کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ: ’’ان کا اثر ایک محدود پیمانے پر تھا اور ذہنی طور پر چند مخصوص مفکرین سے آگے نہ بڑھ سکا جو ان کے اصلاحی افکار سے متأثر ہوئے تھے([264]) ‘‘۔

دوسری جانب شیخ ؒ نے ایک اسلامی ریاست کی تعمیر میں حصہ لیا جو آپ کی وفات کے بعد بھی قائم رہی.

 بنیادی عقائد پر سمجھوتا کرنے سے انکار     

اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کو فرماتا ہے:فَلَا تُطِعِ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٨ وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ ٩

’’پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان. وہ توچاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑجائیں([265]) ‘‘۔     

شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی زندگی میں آپ پر ہر محاذ سے یلغار کی گئی. گرچہ آپ کو حمایت وتائید کی اشد ضرورت تھی تاکہ دشمنوں کی یلغار سے بچ سکیں مگر ایک بار بھی آپ نے اسلام کے بنیادی عقائد کے سلسلے میں کسی سے کسی بھی قسم کا سمجھوتا نہ کیا اور بالخصوص آپ نے کبھی بھی ان نام نہاد علماء سے مصالحت نہیں کی جو شرک کے کے مفہوم میں آپ سے اختلاف رکھتے تھے. چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے مخالف عبدالوہاب بن عبداللہ بن عیسیٰ کو خط میں لکھا: ’’اگر آپ نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ آپ کی شخصیت میرے لئے زیادہ اہمیت کی حامل ہونے کی وجہ سے میں دین کے معاملہ میں آپ سے مصالحت پر اتر آؤں گا تو میں ایسا کبھی بھی نہ کروں گا...([266])۔         

یہ بھی حقیقت ہے کہ درعیہ پہنچ کر امیر محمد بن سعود کے ساتھ تاریخی معاہدہ کرتے وقت شیخ ؒ کے سامنے امیر نے دو شرطیں پیش کی تھیں ( جن کا ذکر اوپر آچکا ہے).     

شیخ ؒ نے مبینہ طور پر پہلی شرط منظور کرلی اور ضمنی طور پر دوسری شرط مسترد کردی حالانکہ اس وقت وہ امیر کی مددکی اور ایک پناہ گاہ کے شدید محتاج تھے.    

یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہر مسلمان کے ذہن میں واضح طور پر ہونا چاہئے، خودمحمد رسول اللہ ﷺ اور جو علماء آپ کے بعد اس امت میں آئے جیسے شیخ محمد ابن عبدالوہاب ؒ وغیرہ ان کی مثالوں سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ عقیدے کے امور ایسے ہیں کہ کسی بھی صورت میں مصالحت کا عنوان نہیں بن سکتے. دراصل ایسے امور پر مصالحت کرنے کا مطلب خود عقیدہ کی دھجیاں اڑادینے کے مترادف ہوگا. لہذا ضروری ہے کہ انسان ایسے امور میں اللہ اور اس کے دین کی خاطر حق پرست ہوجائے.         

داعی اور اس کے رفقاء بذات خوددعوت کے اصولوں کا نفاذ کریں     

ایک قائد بالخصوص نہ صرف افکار وگفتار کا قائد ہو بلکہ عملی طور پر بھی وہ قیادت کرے. یہ صورت حال رسول اللہ ﷺ پر بالکل صادق آتی ہے اور اسی طرح شیخ ؒ بھی اس مثال پر پورے اترتے ہیں. آپ ؒ نے حقیقی مفہوم میں قیادت اپنے عملی مثال کے ذریعے سے کی ، مثلاً آپ ؒ نے لوگوں کو صرف یہ حکم نہیں دے دیا کہ مزارات جو عبادت گاہیں بن چکی ہیں ان کو ڈھا دیا جائے اور معتقدین سے توقع لگاکر بیٹھ نہیں گئے کہ وہ جاکر آپ کے حکم کو نافذ کریں گے بلکہ جب زید بن الخطاب کے مزار کو ڈھانے کا وقت آیا تو یہ شیخ ؒ ہی تھے جنہوں نے اس کو منہدم کرنے میں پہل فرمائی اور اس کو مسمار کرنا شروع کیا.          

مزید برآں آپ سختی کے ساتھ ارکان ایمان پر عمل پیر ا تھے اور یہ بات یقینی بنادی کہ آپ کے متبعین بھی اس پر عملی طور پر پابند رہیں. ایک مرتبہ آپ نے اپنے ایک مکتوب میں لکھ بھیجا کہ:’’میں ان سب لوگوں پر جو میرے ماتحت ہیں لازم کرتا ہوں کہ وہ نماز قائم کریں، زکاۃ ادا کریں اور اللہ کے تمام احکامات پر عمل کریں اور میں ان کو سود کھانے، شراب پینے ، اور دیگر شہوانی کاموں سے منع کرتا ہوں([267]) ‘‘۔      

دعوت یا تحریک کی قیادت کے لئے مثال (آئیڈیل) پیش کرنے کی اہمیت کو کم نہ سمجھنا چاہئے. مثال پیش کئے بغیراگر کوئی لوگوں سے یہ کہے کہ دعوت کے اہداف اور مقاصد کو نافذ کیا جاسکتا ہے تو بہت سے لوگ یہ محسوس کریں گے کہ اس دعوت اور تحریک کے بلند دعوے صرف خواب ہیں اور آسمان میں بادلوں کے تعاقب سے زیادہ کچھ نہیں ہیں لیکن جب لوگ یہ دیکھیں گے یہ باتیں حقیقتًا اس کے قائداور اس کے متبعین کے ذریعے زیر عمل لائی جارہی ہیں تو ان کے پاس اب کوئی بہانہ نہ ہوگا اور اگر وہ مخلص صاحب ایمان ہیں تو خود اپنے آپ کو مجبور کریں گے کہ وہ بھی ایمان کے مقاصد اور دین کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کریں.           

دعوت حق سے متعلق شبہات اورالزامات کو رد کرنے کی اہمیت     

شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کے طریقۂ کار سے جو سبق ہمیں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ بے بنیاد اور (جھوٹے) الزامات کو بغیر جواب دیئے نہیں چھوڑنا چاہئے.           

کسی بھی دعوت یا تحریک کے خلاف الزامات بہت خطرناک ہوسکتے ہیں خواہ وہ دعوت یا تحریک کتنی ہی حق پر قائم ہو.ایسی صورت میں الزامات کا رد کرنا ضروری ہے، اسی بنا پر شیخ ؒ کا بہت سارا وقت آپ کی دعوت اور اس کے متبعین کے خلاف باطل الزامات کا جواب دینے اورغلط فہمیوں کا ازالہ کرنے میں صرف ہوا. اس طریقۂ کار سے دوست ودشمن ہر ایک کے سامنے حق کھل کر سامنے آئے گا اور معتقدین کے اذہان صاف ہوں گے، ان کے خیالات میں شبہات کی گنجائش باقی نہ رہے گی اگر مسائل کو واضح جوابات کے ذریعہ بیان کیا جائے.

جہاں تک دشمنوں کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو واضح دلائل کی روشنی میں حق کے لئے کھول دیں گے یا مکمل طور پر ان کے خلاف ثبوت قائم کردیں گے.        

آخری اہم بات جو قابل ذکر ہے وہ یہ کہ شیخ ؒ کے مخالفین غلط بیانی اور دُشنام طرازی تک اُتر آئے تھے مگر آپ نے کبھی اپنے دفاع میں اسی طرح کا جوابی سلوک روانہ رکھا. آپ صرف کتاب وسنت کی روشنی میں حق پیش کرتے رہے اور حق کا ایسا چہرہ دکھایا کہ خود حق بول اُٹھا. آپ کو اس بات کا ادراک تھا کہ رسول اللہ ﷺکی اتباع میں انہی ذرائع کوبروئے کار لائے جائے جن کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔ 

دشمنان حق کی تدبیروں سے واقفیت    

جن کی زندگی ہدایت سے دور اور خواہشات کی پیروی میں گزرتی ہے ان کے لئے کفر کی راہ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے . یہ اتنا آسان کام نہیں ہے کہ ایسوں کو قائل کیا جاسکے کہ وہ اس طرح کی طرززندگی چھوڑ دیں جس پر وہ ایک طویل عرصے سے چل رہے ہیں اور جس کو ان کے بزرگوں نے ان تک منتقل کیا تھا یا جس سے ان کی مادی منفعت وابستہ ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے دور کے مشرکین کا حال بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے قرآن میں فرماتا ہے: كَبُرَ عَلَى ٱلۡمُشۡرِكِينَ مَا تَدۡعُوهُمۡ إِلَيۡهِۚ ١٣’’جس چیز کی طرف آپ انہیں بلارہے ہیں وہ تو ان مشرکین پر گراں گزرتی ہے([268]) ‘‘۔       

اس حقیقت کا ادراک کرنے کے بعد ہر کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں آپ کی شخصیت کے خلاف ہر قسم کی محاذ آرائی کے لئے آپ کے مخالفین اُتر آئے تھے تاکہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اور آپ کے ہمنواؤں کو دعوت کے عمل سے باز رکھ سکیں. آپﷺ ان لوگوں کے درمیان کئی سال تک رہے اور ’’امین‘‘ کے لقب سے معروف تھے، لیکن جوں ہی آپ نے ان کو دعوت حق دینا شروع کیا اور ان کے گمراہ کن طور طریقوں کی نشاندہی کرنے لگے تو اس دعوت کی روک تھام کے لئے ان کافروں کی راہ میں کوئی پستی ان کے لئے رکاوٹ بن سکی یہاں تک کہ یہی لوگ آپ ﷺ کو کذاب کہنے لگے جب کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ آپﷺ جھوٹ بولنے کی پستی تک کبھی بھی نہیں جاسکتے.

یہی کچھ صورت حال شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کے ساتھ بھی پیش آئی، چنانچہ آپ کے دشمنوں کے لئے آپ کی مخالفت میں کوئی پستی رکاوٹ نہ بنی، آپ کے مخالفین کے الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ان لوگوں نے آپ کے بیانات توڑ مروڑ کر سراسر کذب بیانی اور دروغ گوئی کے ساتھ بیان کیا اورقرآن وسنت کے مفہوم کو غلط رنگ میں پیش کیا، اور یہ سب باتیں آپ کی زندگی ہی میں واقع ہوئیں ، تاہم یہ کوئی حیرت کی بات نہ تھی کیونکہ آپ کے مخالفین اسی قسم کے لوگ تھے جن کے نزدیک اللہ کے کلام کی اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے منہج کی کوئی اہمیت نہ تھی. اگر یہ لوگ ایک ’’صحرائے نجد کے ایک غیر مہذب غریب عرب‘‘ کے ساتھ غیر اخلاقی حرکتوں کا مظاہر کریں اور اس کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش نہ آئیں تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے           .

ہر مسلم داعی جو لوگوں کو قرآنی ہدایت کی طرف دعوت دے اس کو اس کا احساس ہونا چاہئے کہ ایسے لوگ ہمیشہ موجود ہوتے ہیں جو ا س کے خلاف جھوٹے الزامات لگائیں گے اور ان کی طرف سے دروغ گوئی اور طعنے سننے کو ملیں گے. اور جو بھی رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے ہیں جیسے شیخ محمد بن عبدالوہاب وغیرہ ان کو اس قسم کا مخالفانہ رویہ اللہ کے واضح اور سچے راستہ کی طرف جو ہر قسم کے شک اور شبہ سے پاک ہے دعوت دینے سے نہیں روکتا.         

آخر میں ایک سیدھا سادہ سوال عرض ہے کہ کیا وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دشمن، شیخ محمد بن عبدالوہاب کے دشمن اور تمام داعیان حق (جب کہ یہ تمام کتاب وسنت کی سچی دعوت کو لے کر اٹھے) کے دشمن ہمیشہ بے جاالزامات ، طعنوں اور کذب بیانی سے کام لیا؟ راقم کی دانست میں جواب ظاہر ہے کہ وہ یہ کہ حق کے دشمنوں کے پاس قرآن اور سنت کے واضح احکامات کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہوتی، یہ لوگ اپنے دعوے کھلی آیات اور احادیث حتیٰ کہ منطق کی مدد سے بھی ثابت نہیں کرسکتے اس لئے وہ مکروفریب اور دھوکہ کا سہارا لیتے ہیں جو خود کو بچانے کی ان کی آخری کوششیں ہوتی ہیں. ان شاء اللہ ان لوگوں کی دروغ گوئیاں اور مذموم منصوبے بالآخر شکست سے دوچار ہوں گے.          

کثرت وقلت معیار حق وباطل نہیں               

اللہ رب العزت نے اپنے کلام پاک میں متعدد بار اس حقیقت کی طرف نشاندہی کی ہے کہ کسی عقیدے کو ماننے والوں کی کثرت اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ حق ہے . مثلا اللہ کا یہ فرمان ہے:وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٖ فَأَبَىٰٓ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ إِلَّا كُفُورٗا٨٩

’’ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے سمجھنے کے لئے ہر طرح سے تمام مثالیں بیان کردی ہیں مگر اکثر لوگ انکار سے باز نہیں آتے([269]) ‘‘۔

اور مزید ارشاد ربانی ہے: وَإِن تُطِعۡ أَكۡثَرَ مَن فِي ٱلۡأَرۡضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا يَخۡرُصُونَ ١١٦

’’اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کردیں. وہ محض بے اصل خیالات پر چلتے ہیں اور بالکل قیاس باتیں کرتے ہیں([270]) ‘‘۔

چنانچہ محض کثرت تعداد سے دھوکہ نہیں کھاناچاہئے، بسا اوقات مسلمانوں کی جماعتیں بھی اس پہلو سے دھوکہ کھاجاتی ہیں اور باطل کی پیروی کرنے لگتی ہیں اور یہ عین ممکن ہے کہ حق پرست اقلیت میں ہوں جو اہم نکتہ مسلمانوں کے ذہن میں ہونا چاہئے کہ انہیں جس بات کی طرف نظر کرنی ہے وہ رفقاء کی تعداد نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ طریقۂ کار ’’صراط مستقیم‘‘ ہے یا نہیں جو درحقیقت اللہ کی پسندیدہ راہ ہے ، جب کسی شخص کو اس بات کا یقین ہے کہ اس کا اختیار کردہ عقیدہ کتاب وسنت کے ذریعہ ثابت ہے تو اس کو کبھی اس بات کی فکر نہیں ہونی چاہئے کہ عوام الناس کا طرز عمل اس سے موافقت کرتا ہے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا: وَمَآ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِينَ ١٠٣’’گوآپ لاکھ چاہیں لیکن اکثر لوگ ایمان دار نہ ہوں گے ([271]) ‘‘۔          

شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ایک ایسے عالم تھے جنہوں نے اس تصور کو صحیح معنوں میں سمجھا اور اس بات کا ادراک کیا کہ ایسی صورت حال کا مقابلہ کس طرح کرنا چاہئے اور صورت حال یہ ہوگی کہ وہ حق کی پیروی کرنے کے باوجود اقلیت میں رہیں گے، اور اس دعوت کی راہ میں ان کو برا بھلا کہا جائے گا تاہم مخالفت کتنی ہی زیادہ ہو مگر حق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے اور اس کی حمایت سے پیچھے ہٹنا نہیں چاہئے جو درحقیقت بڑا ہی نیک عمل ہے.

ایک سوال کے جواب میں شیخ نے لکھا کہ: ’’اولاً جان لو کہ جب حق واضح اور روشن ہو تو اس کے مخالفین کی کثرت اور اس کے قبول کرنے والوں کی قلت اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی، آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ کس طرح توحید کے کچھ پہلولوگوں کے لئے کتنے اجنبی بن چکے ہیں حالانکہ یہ صوم وصلاۃ سے بھی زیادہ واضح ہیں اور یہ کیفیت حق کو نقصان نہیں پہنچاسکتی ([272]

واسی لیف لکھتا ہے : ’’تاہم راقم کی رائے میں وہابی لوگ ایک فرقہ کی حیثیت رکھتے تھے کیونکہ ان لوگوں نے اس وقت کے سنی فرقہ کی مخالفت کی جو اکثریت میں تھا گرچہ وہ لوگ اس فرقہ کا تزکیہ چاہتے تھے([273]) ‘‘۔   

واسی لیف نے جس چیز کا تذکرہ کیا ہے وہ ’’وہابیوں‘‘ یا کسی بھی ’’تحریک‘‘ کا تجزیہ کرنے کے لئے بہت اہم ہے، ممکن ہے یہی وجہ ہو جس کی بنا پر کافی تنقید اور ان کے خلاف محاذ آرائی کی گئی، اجنبی لوگ ان لوگوں کو جو حق کی پیروی کرنے والے ہیں ’’فرقہ واریت‘‘ سے موسوم کرتے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ عوام الناس کس عقیدے کے علمبردار ہیں، حاالانکہ حقیقت میں یہ صحیح اور قابل قبول قسم کی ’’فرقہ واریت‘‘ ہے .اگر لوگ بحیثیت مجموعی حق کو تر ک کررہے ہیں تو بھی ایک مسلمان کو چاہئے کہ حق کو ترک نہ کرے خواہ وہ ایک ’’اجنبی فرقہ‘‘ ہی کیوں نہ نظر آئے.

وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ صحابئ رسول عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عمروبن میمونؓ سے فرمایا تھا کہ جماعت سے پیوستہ رہو اور اگر حاکم جماعت قائم کرنے میں دیر کرے تو تنہا نما زپڑھ لیا کرو. عمر وبن میمونؓ کے لئے اس میں بظاہر تضاد نظر آیا تو آپ نے ابن مسعود ؓ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ان کو سمجھایا کہ: ’’جماعت‘‘ پر وہ شخص ہے جو حق پر قائم ہو گرچہ تم اکیلے ہی رہ جاؤ  ([274])۔   

بالفاظ دیگر، انسان پر حق کی پیروی کرنی واجب ہے چاہے عامۃ الناس (جو ایک مختلف طریقے پر گامزن ہیں) کے نزدیک وہ ’’اجنبی‘‘ بن کر رہ جائے. رسول اللہ ﷺ نے اس وقت کے بارے میں ارشاد فرمایا جس زمانے میں ایک مؤمن کے لئے یہی صحیح طریقہ ہوگا. آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

 ’’اسلام کا آغاز ایک اجنبی کی حیثیت سے ہوا اور یہ اسی طرح واپس لوٹے گا جیسے اس کا آغاز ہوا تھا. لہذا اجنبیوں کے لئے طوبی(شجر جنت) کی خوشخبری ہے ([275]) ‘‘۔       

مسند احمد کی روایت میں ان ’’اجنبیوں‘‘ کی پہچان یوں بتلائی گئی کہ ’’وہ بُروں کے درمیان نیک لوگ ہوں گے اور ان کی مخالفت کرنے والوں کی تعدادان کی فرمانبرداری کرنے والوں سے زیادہ ہوگی ([276]) ‘‘۔         

اس ضمن میں شیخ ؒ نے مندرجہ ذیل نصیحت فرمائی: ’’اگر تم اس بات کو مشکل سمجھتے ہو کہ تم اس کے خلاف چلو جو دوسرے لوگ کررہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر نظر رکھو:

 ثُمَّ جَعَلۡنَٰكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡرِ فَٱتَّبِعۡهَا وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ ١٨ إِنَّهُمۡ لَن يُغۡنُواْ عَنكَ مِنَ ٱللَّهِ شَيۡ‍ٔٗاۚ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۖ وَٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلۡمُتَّقِينَ ١٩

’’پھر ہم نے آپ کو دین کی راہ پر قائم کردیا سو آپ اسی راہ پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں، (یاد رکھیں) کہ یہ لوگ ہرگز اللہ کے سامنے آپ کے کچھ کام نہیں آسکتے، ظالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہوتے ہیں اور پرہیزگاروں کا کارساز اللہ تعالیٰ ہے([277])‘‘۔

اور مزید ارشاد ہے:

وَإِن تُطِعۡ أَكۡثَرَ مَن فِي ٱلۡأَرۡضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا يَخۡرُصُونَ ١١٦

’’اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کردیں وہ محض بے اصل خیالات پر چلتے ہیں اور بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں([278]) ‘‘ ،([279])۔        

حالات حاضرہ کی حقیقت کا ادراک     

شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کے طرز عمل میں نمایاں طور پر یہ بات نظر آتی ہے کہ آپ نے اپنے ارد گرد کے لوگوں کے طور طریقوں ، ان کی خامیوں اور ان کی خوبیوں کا تجزیہ کیا، خود اپنے تجربہ اور مطالعہ سے معاشرہ کی مشکلات اور ان کے اسباب کا پتہ لگایا. آپ اپنی دعوت حق کو مجرد خیالی انداز سے پیش نہیں کرتے تھے ، بلکہ حق کی تعلیمات کو اپنے زمانے کے لوگوں کے مروجہ طور طریقوں کے ساتھ براہ راست جوڑ کر ان کے سامنے رکھتے تھے . یہ اسلوب آپ کے مدعووین کو مطمئن کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بنا، آپ اس طرح دعوت نہیں دیتے کہ ’’اللہ کی فرمانبرداری کرنی چاہئے‘‘ اور اس کے بعد(ان کے حالات پر تطبیق دیئے بغیر) خاموش نہیں رہ جاتے بلکہ آپ مثلاً کہتے :’’ اللہ کی فرمانبرداری کرنی چاہئے اور جو کچھ آپ لوگ آج کررہے ہیں وہ اس تعلیم کے مخالف ہے...‘‘۔   

ان اصل وجوہات کا علم آپ کے لئے اس بات کا باعث بناکہ ان مسائل کے حل کے لئے اہم وسائل کی جانب آپ توجہ دیں. ایسا کرنے کے دوران آپ لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے. مثال کے طور پر ضرورت پر آپ عوام کی مقامی زبان کو استعمال کرتے تاکہ وہ آپ کی بات کو اچھی طرح سمجھ سکیں.          

چنانچہ ادریس نے آپ کے اس طریقے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ: ’’آپ ابن تیمیہ ؒ کو پسند کرتے تھے اور ان کی کتابوں کے اقتباسات نقل کرتے تھے ، لیکن آپ کا اسلوب ابن تیمیہ ؒ سے بہت مختلف تھا‘‘.۔      

اور اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ: ’’ابن تیمیہ ؒ دمشق میں سکونت پذیر تھے اور اس دور میں فلاسفہ، فلسفیانہ ذہن کے مذہبی علماء، صوفیاء، عیسائی اور یہودی علماء اور اس وقت کے سائنسدان وغیرہ آپ کے اطراف موجود تھے. لیکن اس کے برعکس شیخ محمد بن عبدالوہابؒ ایک سیدھے سادے مہذب معاشرے میں سکونت پذیر تھے جہاں اس طرح کا کوئی وسیع علمی ماحول نہ تھا اس لئے آپ نے ابن تیمیہ سے مختلف اسلوب اختیار کیا. جہاں ابن تیمیہ ؒ بہت سے موقعوں پر تفصیلی بحثوں اور خالص منطقی اور عقلی دلائل کے ذریعہ دینی امور اور قرآنی تعلیمات کا دفاع کرتے تھے وہیں شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ عمومی طور پر دینی دلائل پر اکتفا کرتے تھے. دین کے عنوان پر فلسفیانہ گفتگو سے آپ بالکل گریز کرتے تھے. آپ کے ذاتی خطوط سے قطع نظر آپ کا عام اسلوب دلائل سے بھرپور، جامع، مختصر اور مہذب وشائستہ ہے([280]) ‘‘۔     

اللہ کے ساتھ شرک سب سے بڑا گناہ ہے       

اس سے بچنے کی تمام تدبیریں اختیار کرنی چاہئے       

شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کی زندگی کا عظیم ترین درس اور آپ کی دعوت کا سب سے نمایاں پہلو شرک (کسی بھی حیثیت سے دوسروں کو اللہ کا شریک بنانا) کی روک تھام ہے، جس کا کرنا سب سے بڑا گناہ ہے، اس باب کے اختتام کے ساتھ ہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہاں شیخ ؒ کی سیرت اورآپ کی تعلیمات کا بیان اختتام پذیر ہے وہیں شرک کے پہلو کومزید اُجاگر کیا جائے.       

اس موضوع پر بطور خلاصہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ وہ مسئلہ ہے جو شیخ ؒ کی دعوت کا اہم ترین موضوع رہا، شرک عظیم ترین گناہ ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا ضروری ہے اور تمام مسلمان بشمول افراد وعلماء اور پوری امت اسلامیہ شرک کے تمام ذرائع ووسائل کے خاتمہ کے لئے کمربستہ ہوجائے. ایک مسلمان ۔خواہ وہ عالم ہو یا نہ ہو۔ کی یہ خالص غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے کہ وہ اس مسئلہ میں لاپرواہ ہوجائے یا شرک کی کسی بھی شکل یا اس تک پہنچانے والے کسی بھی ذریعہ کی کوئی وجہ جواز تلاش کرے یا اس کو گوارہ کرے.          

یہ محض شیخ ؒ کا اپنا فیصلہ نہیں بلکہ یہ وہ بات ہے جو قرآن کریم میں پوری صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے. رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کی تعلیم دی اور اس پر عمل کرکےدکھایا اور چاروں فقہاء کے مسالک کا بھی یہی نظریہ رہا.     

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد جگہوں پر شرک کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے جن میں سے چند آیات یہاں بیان کی جارہی ہیں، تاہم یہ چند آیات بھی یہ بتلانے کے لئے کافی ہیں کہ شرک اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سب سے زیادہ قابل نفرت گناہ ہے ، اور درحقیقت اگر کوئی جانتے بوجھتے شرک پر عمل پیرارہے اور حالت شرک میں انتقال کرجائے تو یہ وہ گناہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہونے کے باوجود اس کو معاف نہیں کرتا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا ٤٨

 ’’یقیناًاللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتا ن باندھا([281])‘‘۔     

اور اسی تنبیہ کو اللہ تعالیٰ ایک دوسری آیت میں پھر سے دوہراتا ہے: إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا ١١٦     

’’اسے اللہ تعالیٰ قطعا نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک مقرر کیاجائے، ہاں شر ک کے علاوہ گناہ جس کے لئے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا بہت دور کی گمراہی میں جاپڑا([282])‘‘۔           

غالبًا بہت سے قائلین اس طرح کی اور آیات سے واقف ہوں گے جن میں اس بات پر بہت زور دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل نفرت اور عظیم ترین گناہ شرک ہے.          

دوسری بات جس کی طرف توجہ ضروری ہے وہ یہ کہ ہر اس بات سے اجتناب کیا جائے جو شرک کا ذریعہ بنے یا اس کو بڑھاوا دے.

یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ مسلمانوں نے ان باتوں سے لاپرواہی برتی ہے جن کے بارے میں رسول اللہﷺ نے خاص طور پر ڈراوا دیا. چنانچہ آپ ﷺ نے بہت سے اعمال کی ممانعت فرمائی جن کے بارے میں علماء فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت صرف اس وجہ سے کی گئی ہے کہ یہ سب درحقیقت وہ اعمال ہیں جو شرک کا ذریعہ بنتے ہیں اور اسی قسم کے اعمال پچھلی نسلوں کو شرک تک پہنچادیئے. اللہ رب العزت کا ارشاد ہے؛ وَقَالُواْ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدّٗا وَلَا سُوَاعٗا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسۡرٗا ٢٣

’’اور (نوح علیہ السلام کی قوم نے) کہا کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا([283])‘‘۔

یہ مختلف بتوں کے نام ہیں جن کی وہ لوگ عبادت کیا کرتے تھے.

قرآن کریم کی تفاسیر میں اس کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ نوح علیہ السلام کے زمانے میں ان ناموں کے کچھ نیک لوگ تھے جن کی وفات کے بعد شیطان نے ان لوگوں کو ورغلایا کہ وہ ان کی قبروں کو مزارات کی شکل دے دیں. چنانچہ ان پر عمارتوں کی تعمیر کے بعد وہ لوگ وہاں بیٹھ کر ان اولیاء وصلحاء کو ان کے ناموں سے یاد کیا کرتے تھے تاہم ان قبروں کی براہ راست عبادت ابھی شروع نہیں ہوئی تھی لیکن جب یہ لوگ مرگئے تو ان کے بعد والی نسل کے لوگ یہ بھول گئے کہ ان مزارات کی تعمیر کیوں کی گئی تھی، لہذا وہ ان مزارات کی براہ راست عبادت میں لگ گئے اور ان کو پکارنے لگے.   

یاد رہے کہ ان قبروں میں مدفون ہستیاں اپنی زندگی میں نیک اور پرہیزگار شخصیتیں تھیں ، لیکن چونکہ بعد والی نسلوں کو ان مزارات کی تعمیر کے مقصد کا ادراک نہ تھا اس لئے وہ شرکیہ اعمال کے مرتکب بن گئے.

سابقہ لوگوں کی مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فوت شدہ اولیاء وصالحین کے مزارات اور کبھی کبھار فاسقین کے مزارات بھی انسان کی توحید کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں اسی وجہ سے رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ وہ سارے ذرائع ووسائل بند کردیئے جو عبادت میں گمراہی کی جانب راغب کرسکتے ہوں . چنانچہ آپﷺ نے قبروں کو اونچا بنانے سے، ان پر لکھنے سے ، ان پر بیٹھنے سے ، ان کو سجدہ گاہ بنانے سے، ان کے سامنے عبادت کے اعمال انجام دینے او ران کی زیارت کی غرض سے سفر کرنے سے منع کردیا ([284])۔         

رسول اللہ ﷺکو خود بھی یہ تشویش لاحق تھی کہ آپ کی قبر کے ساتھ لوگ کس قسم کا برتاؤ کریں گے؟ یہ ایک فطری بات تھی کیونکہ ماضی میں انبیاء وصالحین کے انتقال کے بعد لوگ ان کی قبروں پر عبادت کرنے لگے تھے یا ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جو توحید کے منافی تھا چنانچہ آپ نے اپنی بہت ساری احادیث میں اس معاملہ کے متعلق کئی ہدایات دی ہیں جن میں اس بارے میں احتیاط کرنے کی تنبیہ فرمائی ہے.           

مثال کے طورآپ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’میرے مرتبے کو زیادہ نہ بڑھاؤجس طرح نصرانی لوگ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے مرتبے کو بڑھادیا، میں اللہ کا بندہ ہوں لہذا یہ کہو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں([285]) ‘‘       ۔

آپ ﷺنے اس سے بھی آگے بڑھ کر شرک کے ہر راستے پر قدغن لگادیئے . ایک موقعہ پر مسلمانوں کا لشکر حنین کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ایک درخت کے پاس سے گزر ہوا جس پر مشرکین برکت کے حصول کے لئے اپنی تلواریں لٹکایا کرتے تھے جس کو ’’ذات انواط‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا. کچھ مسلمان جن کو اسلام کے بارے میں زیادہ معلومات نہ تھیں رسول اللہ ﷺ سے عرض کرنے لگے . یار سول اللہ! ہمارے لئے بھی ’’ذات انواط‘‘ جیسا ایک درخت مقررفرمادیجئے. ان کے اس مطالبہ پر آپﷺ نے جواب دیا: ’’سبحان اللہ! تم نے ایسا مطالبہ کیا جیسا موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان سے مطالبہ کیا کہ : ’’ہمارے لئے بھی ایک ایسا ہی معبود بنادیجئے جیساان کے پاس ہے. اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم یقیناًان لوگوں کے راستہ پر چلوگے جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں([286]) ‘‘۔         

مذکورہ بالا سطور میں نصوص اسلامیہ کی روشنی میں اصل مسئلہ سے متعلق ایک چھوٹا سا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس میں یہ بتلایا گیا کہ کس طرح دین اسلام مسلمانوں کو شرک کے معاملہ سے دور رکھتا ہے . یہاں یہ نہیں سمجھنا چاہئے (جس طرح کچھ مخالفین سمجھتے ہیں کہ ) شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ سے پہلے تک امت مسلمہ کے لئے یہ تمام باتیں اجنبیت کی حامل تھیں اور صرف شیح ؒ نے ان باتوں کی تعلیم دی.     

ہرگز نہیں ، علماء کو ان باتوں کا بخوبی علم تھا، اور چاروں مکاتب فقہیہ نے یہ بات بالکل واضح طور پر بتلادی تھی کہ اس قسم کے کاموں سے پرہیز ضروری ہے ([287])۔          

عصر حاضر کے ایک مؤلف ، محمد الخمیس حفظہ اللہ نے چاروں مکاتب فقہیہ کے آراء کی تحقیق کی اور خاص طورپر شرک کے بارے میں ان مکاتب کے افکار وآراء کو اپنے مقالوں میں انہوں نے نقل کیا کہ چاروں مکاتب کے نزدیک شرک کیا؟ اور شرک کی طرف لے جانے والے ذرائع ووسائل کون سے ہیں جن سے روکا گیا ہے، ہر مشرکانہ عمل اور ہر وسیلۂ شرک کے بارے میں انہوں نے ہر مسلک کی معتبر کتاب کے مفصل حوالے پیش کئے اور اپنی تحقیق میں اس کا ذکر کیا کہ ان چاروں مکاتب فقہیہ کے علماء وفقہاء کی نظر میں (جن کے حوالہ جات مشہور ومحقق کتابوں میں موجود ہیں)اعمال شرک اور اقسام شرک کیا ہیں ([288]) ۔  

عمومی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن مشرکانہ اعمال کو شیخ ؒ نے ٹوکا ہے ان اعمال کوہر مکتبہ فقہ نے بھی ان شرکیہ اعمال کو اسی اعتبار سے ذکر کیا ہے کہ ان کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہے ([289]

 اس کا مطلب یہ ہوا کہ شیخ ؒ نے اپنی طرف سے کوئی نئی بات ایجاد نہیں فرمائی کہ پہلے کسی نے اس بارے میں نہ ذکر کیا ہو بلکہ وہ ہر مسلک فقہ کی تعلیمات کی گویا تجدید کررہے تھے جن کو یکسر فراموش کردیا گیا تھا. چونکہ یہ تعلیمات اسلام کی بنیاد اور اصل روح رواں ہیں لہذا جب کبھی ان سے غفلت برتی جائے یا ان کو پس پشت ڈال دیا جائے تو ضروری ہے کہ ان کو پھر سے بحال کیا جائے اور ان کی اہمیت اجاگر کی جائے.       

مذکورہ بالا نصوص اور علمی گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ شیخ اپنی تعلیمات میں حق بجانب تھے جس کے تحت آپ نے شرک اور اس کی تمام شکلیں اور اس کے تمام ذرائع ووسائل کی مخالفت کی اور ان تمام کے خاتمے کے لئے آپ کمربستہ ہوئے کیونکہ سب سے اہم چیزیہی ہے کہ انسان کو شرک جیسے عظیم گناہ سے بچایا جائے     .

یہ بات بے جا نہ ہوگی اگر ہم کہیں کہ تمام مسلم قائدین اور علماء حضرات کو چاہئے کہ لوگوں کو شرک میں ڈوبنے سے بچانے کے لئے پوری کوشش کریں. مزید برآں قرآن وسنت کی روشنی میں کسی بھی مسلمان کے لئے یہ ناقابل معافی بات ہے کہ اس گناہ کو ہلکا سمجھ لے چہ جائے کہ شرکیہ افعال وحرکات کا جواز پیش کرنے کی کوششوں میں لگ جائے جن کو رسول اللہﷺنے دین میں حرام ٹھہرادیا. اللہ تعالیٰ سے مدد وہدایت کی دعا کریں کہ وہ تمام مسلمانوں کو شرک کی ہر شکل سے بچائے جس میں وہ مبتلا ہیں.   

خلاصۂ کلام         

سیرت شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ دور حاضر کے مسلمانوں کے لئے متعدد دروس پیش کرتی ہے ، موجودہ دور کے مسائل کئی پہلوؤں سے شیخ ؒ کے زمانے کے مسائل سے مشابہت رکھتے ہیں، صحیح عقیدہ، اصول ایمان، ارکان اسلام اور صحیح تعلیم وتربیت کے لئے عرصۂ دراز تک آپ کی کاوشیں جاری رہیں تاکہ معاشرہ کی اصلاح ہوجائے اور اسی طریقۂ کار پر آج کے دور میں بھی معاشرے کی اصلاح ممکن ہے، آپ ؒ ہمیشہ کتاب وسنت اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے واضح اصولوں کی روشنی میں مخالف طاقتوں کے ساتھ برسرپیکار رہے.

یقیناًآپ ؒ کی شخصیت سے دور حاضر کے مسلمانوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے.      

خاتمہ

مذکوربالا سطور میں دراصل شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی سیرت، دعوت اور اثرات کا ایک مختصر مگر جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے ، یہاں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ موصوف اور آپ کے متبعین بشری غلطیوں سے مبرّا تھے مگر یہ حقیقت ہے کہ آپ کی سیرت ودعوت کے غیر متعصبانہ مطالعہ سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ آپ کی زندگی کتاب وسنت کی بنیادی تعلیمات سے عبارت تھی اور آپ کی دعوت بھی خالصۃً اسی کی طرف تھی.

اور فی الواقع اگر کوئی آپ کی زندگی سے نتیجہ اخذ کرنا چاہے تووہ یہ ہے کہ آپ کا مقصد اسلام کی خالص اور سچی تعلیمات کی طرف واپسی کی اہمیت اور اس کی ضرورت کا احساس جگانا تھا.       

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِي مُسۡتَقِيمٗا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِيلِهِۦۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٥٣’’اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو([290])‘‘۔         

یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے راستہ کی نشاندہی فرمادی اور دوسرے راستوں کو بھی بیان کردیا جو لوگوں کو اس کی راہ سے گمراہ کردیتے ہیں ۔جو شخص ایمان خالص کا حامل ہوگا وہ اللہ کے اکیلے سچے راستے پر گامزن رہنے کی شدت سے خواہشمند ہوگا. وہ اکیلا راستہ درحقیقت اللہ کی وحی کے ذریعہ رسول اللہﷺ پر اتارا گیا جو قرآن وسنت پر مشتمل ہے.          

امت مسلمہ پر اللہ تعالیٰ کی یہ بڑی کرم فرمائی ہے (جو دوسری امتوں سے ممتاز کرتی ہے) کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے ، نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ رب العزت کے اس فرمان سے آگاہ فرمادیا: إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ٩    

’’ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں([291])‘‘۔

لہذا یہ پیغام ہمیشہ ہمیش محفوظ رہے گا،حق کو پانے کے لئے اس پیغام کی طرف لوٹنا اور اس کے مفہوم کو آپ کے عمل اور آپ کی دعوت کے مطابق سمجھنا ضروری ہے مزید برآں آپ 1 نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ کچھ لوگ ہمیشہ ہر دور میں اس راستے پر گامزن رہیں گے، چنانچہ آپﷺ کا ارشاد ہے:            

’’میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت ایسی ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی فرمانبردار ہوگی اور جو لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اور جو ان کی مخالفت کریں گے وہ اس جماعت کو کوئی نقصان نہ پہنچاسکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی حالت میں ہوں گے ([292]) ‘‘۔  

صراط مستقیم پر گامزن رہنے والی یہ جماعت چھوٹی بھی ہوسکتی ہے اور بڑی بھی، اہم بات یہ کہ اس کا راستہ وہ ہوگا جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگا، بلاشبہ اس کا مقصداللہ کی رضامندی وخوشنودی ہوگا ،اسی بنا  پر لوگوں کا اس سے مقاطعہ کرلینا اور اس کی مخالفت کرنا اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اس جماعت کے لوگ ابدی مسرتوں کے حصول کی راہ پر لگے ہوں گے.           

مذکورہ بالا بیان شیخ محمد بن عبدالوہاب کی تعلیمات اور آپ کی دعوت کا خلاصہ ہے ، شیخ ؒ نے مسلمانوں کے ذہنوں کو کھولا اور اللہ کے پیغام حق کی طرف واپس بلایا، اور یہی نکتہ مخالفین کے لئے اصل خطرہ بنا جو آپ کی دعوت سے انہیں محسوس ہوا، کیونکہ آپ نے صحیح معنوں میں لوگوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑا اور ان کی اس طرز زندگی پر انہیں نظرثانی کرنے پر مجبور کیا جس پر وہ گامزن تھے ، کیا وہ صحیح راستے پر ہیں؟ کیا ان کا راستہ مقصد حیات کے مطابق ہے؟ کیا وہ کتاب وسنت کے احکامات کی پیروری کررہے ہیں؟  

مذکورہ سوالات کے جوابات انہیں اپنی زندگی میں تلاش کرنا تھا اور اس تلاش نے درحقیقت انہیں عمل کی جانب راغب کیا اور اس راہ پر عملی قدم بڑھانے پر مجبور کیا جس پر ان کا ایمان تھا چنانچہ وہ اس کے نفاذ کے لئے ہرقیمت پر ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے.

ایمان کی بنیادوں پر زور دے کر شیخ ؒ زندگیوں میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہوگئے، دین کی اساس توحید ہی وہ چیز ہے جوآدم علیہ السلام کے دور سے چلی آرہی ہے اور کائنات کے اختتام تک جاری وساری رہے گی. یہ وقت ، جگہ اور لوگوں کے اعتبار سے نہیں بدلتی، اللہ تعالیٰ کے تمام رسول اسی اہم اور ضروری پیغام کے ساتھ مبعوث ہوتے رہے. اس کے برعکس شرک اپنی تمام قدیم وجدید شکلوں کے ساتھ اس سچی توحید کا ضد ہے جو حقیقی گمراہی ہے.           

اگریہ حقیقت سمجھ لی جائے اور خاندان ومعاشرے کے ہر فرد کے دل میں یہ اترجائے تو پھر مکمل تبدیلی رونما ہوسکتی ہے، پھر تمنائیں ومقاصد، خواب واعمال سب ہی تبدیل ہوجائیں گے. ایسی انقلابی کیفیت میں روح پاکی کی متمنی ہوتی ہے . دل ہر نجاست سے پاک وصاف ہونے کے لئے مچل اٹھتا ہے اور حقیقی علم کی روشنی سے منور ہونا چاہتا ہے . دل میں اللہ کی سب سے زیادہ محبت اور اس کی خشیت سما جاتی ہے اور پھر ایسے پاک دل میں کوئی گندگی اور برائی داخل نہیں ہوتی، تب ایسے صاف دل کے لئے دین سب سے زیادہ مقدم بن جاتا ہے ، قربانی اس کے پیچھے پیچھے چلتی ہے، اور اللہ کی مہربانیاں وکرم فرمائیاں اور فتح ونصرت خوش آئند بن جاتی ہے. یہی وہ پیغام ہے جس کو لے کر رسول اللہ ﷺ تمام انسانیت کے لئے تشریف لائے تھے اور آپ کی پیروی کرتے ہوئے شیخ ؒ نے امت مسلمہ میں اسی پیغام کی تجدید کی تھی.  

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو قوی سے قوی تر بنادے اور تمام لوگوں کو اس کی مرضی کے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے نواز دے. آمین.

                                       حوالہ جات

 (انگریزی کتابیں)

* ابوحکیمہ، احمد مصطفی، ہسٹری آف ایسٹرن عریبییا، دی رائز اینڈ ڈیولیپمنٹ آف بحرین، کویت اینڈ وہابی سعودی عریبیا. لنڈن. پروبستھین 1988ء.

* احمد قیام الدین، دی وہابی موومنٹ ان انڈیا. نیودلہی. منوہر پبلیشرز 1994ء.

* ارنولڈ۔ ٹی ۔ وی . دی پریچنگ آف اسلام. لاہور. محمد اشرف 1975ء.

* عطار احمد عبدالغفور. محمد بن عبدالوہاب.مکہ پرنٹنگ اینڈ انفارمیشن 1979ء.

* کامنس. ڈیوڈ ڈین. دی سلفی اسلامک ریفارم موومنٹ ان ڈیماسکس 1855۔1914ء ریلجیس انٹلکچولس، پولٹکس اینڈ سوشیل چینجس ان لیٹ عثمان سیریا. پی۔ ایچ ۔ڈی ڈیسرٹیشن. یونورسٹی آف میشیگان 1985ء.

* الحقیل، سلیمان بن عبدالرحمن، محمد بن عبدالوہاب. ہس لائف اینڈ دی ایسنس آف ہس کال. ریاض. منسٹری آف اسلامک افیرس، اینڈومنٹس، دعوہ اینڈگائیڈنس 2001ء.

* ادریس جعفر. دی اسلامک فنڈمنٹلزم آف دی وہابی موومنٹ.

www.jaafridris.com/english/books/wahhabis.htm.

* جمیلہ مریم. اسلام ان تھیوری اینڈ پرکٹس، لاہور، پاکستان محمد یوسف خان 1976ء.

* واسی لیف الیکس. دی ہسٹری آف سعودی عریبیا. نیویورک . نیویورک یونیورسٹی پریس 2000ء.

     (عربی کتابیں)

* علي بوطامي، احمد بن حجر، الشیخ محمد بن عبدالوہاب، عقیدتہ السلفیۃ ودعوتہ وثناء العلماء علیہ. الکویت. الدار السلفیۃ 1983م.

* عبدالجلیل، أبوالمکرم، دعوۃ الإمام محمد بن عبدالوہاب بین مؤیدین ومعارضین فی شبہ القارۃ الہندیۃ. الریاض. دار السلام 1421ھ.

* العبداللطیف، عبدالعزیز، دعوۃ المناوئین لدعوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب، عرض ونقد. الریاض.دار الوطن 1412ھ.

* عبداللہ نجیح، تأثر الدعوۃ الإصلاحیۃ فی أندونیسیا بدعوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب. الریاض. جامعۃ محمد بن سعود الإسلامیۃ ۱۹۹۱م.

* العبود، صالح، عقیدۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب والسلفیۃ وآثارہا فی العالم الإسلامی. المدینۃ. مکتبۃ الغرباء الأثریۃ 1996م.

* أبو سلیمان،عبدالوہاب خصائص التفکیر الفقہی عند الشیخ محمد بن عبدالوہاب، فی بحوث ندوۃ دعوۃ الشیخ محمد ابن عبدالوہاب. الریاض. جامعۃ محمد بن سعود الإسلامیۃ ۱۹۹۱م.

* الألبانی. محمد ناصر الدین، صیحیح الجامع الصغیر، بیروت. المکتب الإسلامی ۸۸۹۱م.

* صحیح سنن الترمذی. الریاض. مکتبۃ التربیۃ العربیۃ لدول الخلیج 1988م.

* الأنصاری. اسماعیل محمد، حیاۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب وآثارہ العلمیۃ فی بحوث ندوۃ دعوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب.الریاض. جامعۃ محمد بن سعود الإسلامیۃ 1991م.

* الأرناؤوط، شعیب وغیرہ. ہامش علی مسند الإمام أحمد بن حنبل . بیروت. مؤسّسۃ الرسالۃ 1997م.

* الأطرم، صالح، اعتماد فقہ دعوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب علی الکتاب والسنۃ، فی بحوث ندوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب، الریاض.جامعۃ محمد بن سعود الإسلامیۃ ۱۹۹۱م.

* البسام، عبداللہ، علماء نجد خلال ستۃ قرون . مکۃ. مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ 1398ھ.

* ظاہر، محمد کامل: الدعوۃ الوہابیۃ وأثرہا فی الفکر الإسلامی الحدیث، بیروت. دار السلام 1993م.

* الحسین، أحمد بن عبدالعزیز، دعوۃ الإمام محمد بن عبدالوہاب سلفیۃ لا وہابیۃ الریاض. دار العالم الکتب 1999م.

* ابن عبدالوہاب. محمد. مؤلفات الشیخ الإمام محمد بن عبدالوہاب، جمعہا عبدالعزیز الرومي وغیرہ، مکتبۃ ابن تیمیۃ.

* ابن باز، عبدالمحسن. رسائل الإمام محمد بن عبدالوہاب الشخصیۃ، دراسۃ دعویۃ الریاض دار الأشبیلیۃ 2000م.

* ابن بشر. عثمان، عنوان المجد فی تاریخ نجد. الریاض. دار الحبیب 1999م.

* ابن غنام، حسین، تاریخ نجد، ناصر الدین الأسد 1981م.

* جمعۃ، محمد کمال. انتشار دعوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب خارج الجزیرۃ العربیۃ.الریاض.مطبوعات دارۃ الملک عبدالعزیز 1981م.

* الخمیسں محمد، بیان الشرک ووسائلہ عند علماء الحنابلہ. الریاض دار الوطن 1413ھ.

* الخمیسں محمد، بیان الشرک ووسائلہ عند علماء الحنفیۃ الریاض دار الوطن 1413ھ.

* الخمیسں محمد، بیان الشرک ووسائلہ عند علماء المالیکۃ.الریاض دار الوطن 1413ھ.

* الخمیسں محمد، بیان الشرک ووسائلہ عند علماء الشافعیۃ. الریاض دار الوطن 1413ھ.

* الخطیب عبدالکریم، الشبہات التی أثیرت حول دعوۃ الإمام محمد بن عبدالوہاب والرد علیہا. ضمن بحوث ندوۃ دعوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب. الریاض. جامعۃ محمد بن سعود الإسلامیۃ ۱۹۹۱م.

* الندوي مسعود، محمد بن عبدالوہاب مصلح مظلوم ومفتریٰ علیہ 1977م.

* نصیر أمینۃ محمد، الشیخ محمد بن عبدالوہاب ومنہجہ فی مباحث العقیدۃ، بیروت. دار الشروق 1983م.

* القطان، أحمد ومحمد الزین. إمام التوحید الشیخ محمد بن عبدالوہاب الدعوۃ والدولۃ، الکویت، مکتبۃ السندس 1988م.

* السابق، فوزان، البیان والإشعار لشکف زیغ الملحد الحاج المختار 2001م.

* السہسوانی الہندي محمد بشیر، صیانۃ الإنسان عن وساوس الشیخ دحلان ط۳. 1378ھ.

* الشویعر محمد، تصحیح خطأ تاریخي حول الوہابیۃ. الریاض. دار الحبیب 2000م.

* الطبري محمد بن جریر، جامع البیان عن تأویل آي القرآن. عمان، الأردن دار العالم ۲۰۰۲م.

* أسرۃ. مسرفۃ بنت کامل. احتساب الشیخ محمد بن عبدالوہاب. الریاض. دار الوطن 1998م.

* العثیمین عبداللہ، الشیخ محمد بن عبدالوہاب حیاتہ وفکرہ. الریاض. دار العلوم.

* الزرکلی خیر الدین، الأعلام: قاموس تراجم لأشہر الرجال والنساء من العرب والمستعربین والمستشرقین. بیروت. دار العلم الملایین.

* الزحیلی وہبۃ، تأثر الدعوۃ الإصلاحیۃ الإسلامیۃ بدعوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب ضمن ندوۃ دعوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب، الریاض. جامعۃ محمد بن سعود الإسلامیۃ. ۱۹۹۱م.



([1]) سورۂ نساء:۱۳۵

([2])عقیدۃ الشیخ محمد بن عبدالوھاب السلفیہ واثرھا فی العالم الإسلامي، مؤلف: صالح بن عبداللہ العبود، ج۱ (ص ۴۱)

([3])      تاریخ سعودی عرب، ایلیکسی واسی لیف (ص ۶۰)

([4])دیکھے: رسائل الامام محمد بن عبدالوھاب الشخصیة:دراسة دعوية:مؤلف عبدالمحسن بن باز، ج۱ (ص ۵۴۔ ۵۳)

([5]) الشیخ محمد بن عبدالوہاب حیاتہ وفکرہ، تالیف: عبدالمحسن بن باز( ص ۵۲) . اور مزید دیکھئے: واسی لیف (ص۶۰۔ ۶۳).

([6])اکثر مؤرخین بالخصوص یورپی مؤرخین نے آپ کی تاریخ وجائے پیدائش کے بارے میں غلطی کی ہے ان کے بیانات سے واقفیت کے لئے دیکھئے (شیخ محمد، تالیف شیخ العثمین ص ۲۵)

([7])  ایسے علماء کی مثالوں کے لئے دیکھئے، الشیخ محمد، تالیف شیخ العثیمین (ص۲۴)

([8])دیکھے: الشیخ محمد، تألیف الشیخ العثیمین (ص ۲۵۔۲۴) مزید دیکھئے: علماء نجد خلال ستۃ قرون تالیف: عبداللہ البسام ج۱ (ص ۲۶).

([9])دیکھئے: الشیخ محمد، مؤلف شیخ العثیمین( ص: ۲۵)

([10])ملاحظہ ہو:تاریخ نجد، تالیف حسین بن غنام (ناصر الدین اسد)،ج ۱( ص ۷۵)

([11]) دیکھئے: کتاب مذکور، ج۱ (ص ۷۵).

([12])دیکھئے: کتاب مذکور ،ج۱ (ص ۷۵) (آپ کے والد نے آپ کے بارے میں جو خط لکھا وہ ملاحظہ ہو)

([13])دیکھئے: الشیخ محمد، تالیف: شیخ العثیمین (ص ۲۸)۔

([14])دیکھئے: احتساب الشیخ محمد بن عبدالوھاب، تالیف: مسرفۃبنت کامل .(ص ۹۳).

([15])دیکھئے:: الشیخ محمد، تالیف العثیمین (ص ۲۹).

([16])دیکھئے: ابن بشر، ج۱، ۲۰۔ ۲۱ ،مزید دیکھئے :الشیخ محمد، تالیف العثیمین( ص ۳۰).

([17])  شیخ محمد حیات بن ابراہیم سندھی برصغیر ہندوپاک میں پیدا ہوئے، سندھ میں حصول علم کے بعد وہ مزید تعلیم کے لئے مدینہ منورہ منتقل ہوگئے، تعلیم کے بعد درس وتدریس میں مشغول ہوگئےآپ حدیث کے بڑے عالم تھے اسی طرح فقہ حنفی کے اور علم قانون کے بھی ماہر تھے آپ کی متعدد تصانیف ہیں جن میں ’’شرح الترغیب والترھیب‘‘ اور’’ نووی کی چہل حدیث پر آپ کی تعلیقات‘‘ قابل ذکر ہیں ۱۱۶۳ ؁ھ میں مدینہ میں آپ کا انتقال ہوا (دیکھئے: الأعلام للزرکلی ج۱ ( ص ۱۱۱) آپ سے فیض یافتہ کئی طلبہ بعد میں عالم اسلام کے جید علماء اور نامور داعیان اسلام کی حیثیت سے مشہور ہوئے (دیکھئے: العثیمین کی کتاب الشیخ محمد( ص ۲۰۱).

([18])دیکھئے :شیخ عثیمین کی کتاب، الشیخ محمد( ص ۳۱).

([19])دیکھئے: الشیخ محمد بن عبدالوہاب: عقيدته السلفية ودعوته الإصلاحية وثناء العلماء عليه تالیف: احمد بن حجر علی بوطامی( ص ۱۶ )

([20])دیکھئے: ابن بشر، ج۱ (ص ۲۸۔ ۲۹).

([21]) دیکھئے: الشیخ محمد، تالیف العثیمین (ص ۳۱۔ ۳۲) اور عبدالمحسن بن باز ،ج۱( ص : ۷۷)

([22]) اسماعیل محمد انصاری نے اپنی کتاب ’’حیاۃ الشیخ محمد بن عبدالوھاب وآثارہ العلمیہ‘‘ میں شیخ عبداللطیف کے کلام کونقل کیا ہے.

([23]) الشیخ محمد، تالیف العثیمین (ص ۳۳).

([24])دیکھئے : الشیخ محمد، تالیف العثیمین (ص۳۴).

([25])۔ ملاحظہ ہو: ابن بشر، ج۱ (ص ۳۰) اور عبدالمحسن بن باز، ج۱ (ص ۸۳(

([26])ملاحظہ ہو : ابن بشر، ج۱ (ص ۳۰ ) مزید دیکھئے: شیخ محمد بن عبدالوھاب کی تالیف ’’مؤلفات ‘‘ ج۷ ،(ص ۲۵۰)، اس رسالہ میں شیخ محمد بن عبدالوھاب نے محمد کی تعریف کی ہے جنہوں نے اپنے اشعری معتقدات کے مخالف آراء کو اختیار کیا۔

([27])دیکھئے : عبدالمحسن بن باز،ج۱ (ص:۸۷)

([28])دیکھئے: ابن غنام، ج۱( ص۷۷).

([29])دیکھئے : ابن غنام ،ج۱( ص۷۸).

([30])ابوحکیمہ ،ص نمبر ۱۳۰ پر لکھتا ہے کہ ابن معمر امیر عیینہ ہونے کی حیثیت سے نجد کے دیگر امیروں سے زیادہ طاقتور تھا لہذا اگرشیخ محمد بن عبدالوھاب اس کی حمایت میں ہوں تو کوئی بھی دوسرا امیر آپ پر حملہ نہیں کر سکتا تھا

([31]) دیکھئے :الندوی(ص۴۴)

([32])دیکھئے: ابن بشر ج۱ (ص: ۳۳)َ

([33]) دیکھئے: ابن بشر ج۱ (ص: ۳۳)

([34])دیکھئے: العثیمین کی کتاب الشیخ محمد (ص ۴۳ ۔ ۴۴).

([35]) ملاحظہ ہو : ابن غنام ،ج۱( ص ۷۹۔ ۸۰)، اور ابن بشر، ج۱( ص ۳۲).

([36])متعدد محققین شیخ محمد بن عبدالوھاب کی’’ دعوت‘‘ کو ایک ’’تحریک ‘‘کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں تاہم بہت سے علماء نے اس اصطلاح پر اعتراض کیا اور اس کو ’’دعوت‘‘ ہی کے نام سے موسوم کیا کیونکہ شیخ نے لوگوں کو خالص قرآن وحدیث کی تعلیمات کی طرف دعوت دی چنانچہ زیر نظر کتاب میں شیخ کی تعلیمات، پیروی اور تاثیر کو’’ دعوت‘‘ ہی کے لفظ سے ذکر کیا جائے گا جو زیادہ صحیح اصطلاح ہے. اس کتاب میں’’ تحریک‘‘ کا لفظ محض دوسرے لوگوں کی کتابوں سے بطور اقتباس نقل کیا گیا ہے.

([37])ملاحظہ ہو: ابو حکیمہ (ص ۱۳۰).

([38]) ملاحظہ ہو: ابو حکیمہ (ص ۳۹).

([39])ملاحظہ ہو: ابو حکیمہ (ص ۱۳۸).

([40])دیکھئے: واسی لیف (ص ۸۱).

([41])  دیکھئے: ابن غنام ،ج۱(ص ۸۰).

([42]) دیکھئے: ابن بشر، ج۱ (ص ۳۳).

([43]) دیکھئے :ابن بشر ،ج۱ (ص ۳۳۔ ۳۴).

([44]) دیکھئے: ابن غنام، ج۱ (ص ۷۸).

([45])دیکھئے: شیخ العثیمین کی کتاب الشیخ محمد (ص ۵۳).

([46]) دیکھئے: شیخ العثیمین کی کتاب الشیخ محمد (ص ۵۳).

([47]) اس کی مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: الحسین (ص ۱۸۷).

([48]) ملاحظہ ہو: ابن بشر، ج۱ (ص ۳۵)

([49]) ملاحظہ ہو: ابن بشر، ج۱ (ص ۳۵)

([50])ملاحظہ ہو: العثیمین کی کتاب،الشیخ محمد(ص ۵۵).

([51])دیکھئے: کتاب محمد بن عبدالوہاب، مؤلف احمد عبدالغفور عطار(ص ۵۱)،واسی لیف نے بھی کچھ اسی طرح سمجھا ہے، اس کے الفاظ ملاحظہ ہوں: اگرچہ ابن عبدالوھاب نے پہلی شرط پر اعتراض نہیں کیا تاہم انہوں نے دوسری شرط مسترد کردی اس وعدہ کے ساتھ کہ جہاد کے ذریعہ جو مال غنیمت ملے گا وہ اس ٹیکس کی آمدنی سے کہیں زیادہ ہوگا. ( ص ۸۲).

([52])ملاحظہ ہو: ابن بشر،ج۱ (ص ۳۷).

([53])ملاحظہ ہو: شیخ محمد بن عبدالوھاب کی کتاب مؤلفات، ج۷ (ص ۱۵۰)

([54])  ملاحظہ ہو: ابن بشر، ج۱ (ص ۳۸).

([55])دیکھئے: ابن غنام، ج۱ (ص ۸۳(

([56]) ملاحظہ ہو: شیخ محمد بن عبدالوھاب کی مؤلفات، ج۷ (ص ۲۰۷).

([57]) ملاحظہ ہو: ابن غنام ،ج۱ (ص ۸۳ ۔ ۸۴) اور ابن بشر، ج۱ (ص ۳۹)

([58]) ملاحظہ ہو: شیخ محمد بن عبدالوھاب کی مؤلفات ،ج۷ (ص۳۸).

([59]) اس کتاب کا نام ’’المستفید فی کفرتارک التوحید‘‘ہے دیکھئے: العثیمین کی ’’الشیخ محمد‘‘ (ص ۶۱۔ ۶۲) مذکورہ کتاب مؤلفات میں شامل کردی گئی ج۱ (ص ۲۷۹۔ ۳۲۹).

([60])حریملا کے خلاف جنگوں کی مزید تفصیلات کے لئے دیکھئے : ابن غنام ،ج۱ (ص۱۰۰،۱۰۳،۱۰۱، ۱۰۴، ۱۱۰، ۱۱۱)

([61]) دیکھئے: ابن البشر، ج۱ (ص ۹۰).

([62]) دیکھئے: ابن البشر، ج۱ (ص ۹۳).

([63])  دیکھئے: ابو حکیمہ (ص۲۳۱).

([64]) ابوحکیمہ (ص۷۶) یہ بات نوٹ کی جائے کہ ابو حکیمہ شیخ محمد کے عقیدت مندوں کے لئے وہابی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جب کہ شیخ کے معتقدین خود اپنے لئے یہ اصطلاح استعمال نہیں کرتے.

([65])دیکھئے: ابن غنام، ج۱ (ص ۱۲۲).

([66]) اس سال امیر نے ایک وفد فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ جانے کی اجازت دی تاہم وفد کے لوگوں کو قیدی بنالیا گیاجن میں سے کچھ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اس سے پہلے بھی اسی قسم کا ایک حادثہ پیش آچکا تھا، ملاحظہ ہو: الندوی ، (ص ۹۵).

([67]) بالخصوص بدویانہ قبائل ایک مخصوص طریقہ سے اپنے امیر کا انتخاب کیا کرتے تھے ، دیکھئے: واسی لیف (ص۸۵).

([68]) ملاحظہ ہو: ابن بشر،ج۱ (ص۱۱۲).

([69]) ملاحظہ ہو: ابن بشر،ج۱ (ص۳۸).

([70])  ملاحظہ ہو: ابن غنام، ج۱ (ص۸۴).

([71]) ملاحظہ ہو: ابن غنام، ج۱ (ص۱۳۸)، اور ابن بشر، ج۱ (ص۱۱۴۔۱۱۵).

([72])دیکھئے: واسی لیف (ص۸۷).

([73])ملاحظہ ہو: العثیمین کی کتاب شیخ محمد (ص۶۶).

([74]) ملاحظہ ہو: ابن غنام ، ج۱(ص۱۶۰۔۱۶۱).

([75]) ملاحظہ ہو العثیمین کی کتاب شیخ محمد (ص۶۷).

([76]) ملاحظہ ہو: ابن غنام ، ج۱(ص۱۳۱۔ ۱۳۳).

([77]) ملاحظہ ہو: ابن غنام ج ۱ (ص:۱۵۷).

([78]) ملاحظہ ہو: ابن غنام ج ۱ (ص:۱۷۳).

([79]) ملاحظہ ہو: العثیمین کی کتاب الشیخ محمد (ص:۶۸).

([80])سورۂ احقاف:15

([81]) دیکھئے: ابن بشر، ج ۱ (ص62، 164)، ابن غنام ج۱ (ص84).

([82])ملاحظہ ہو: واسی لیف(ص89).

([83]) ملاحظہ ہو: ابن بشر، ج۱(ص 162).

([84])ملاحظہ ہو: عبدالمحسن بن باز، ج۱ (ص506). عبدالرحمن بن عبداللطیف آل شیخ کے حوالے سے منقول.

([85]) ملاحظہ ہو: ابن بشر، ج۱(ص163).

([86])ملاحظہ ہو: عبدالمحسن بن باز، ج۱ (ص507). عبدالرحمن بن عبداللطیف آل شیخ کے حوالے سے منقول.

([87])ملاحظہ ہو: ابن غنام، ج۱(ص213) مزید مثالوں کے لئے دیکھئے: العبود،ج۱ (ص319).

([88]) ملاحظہ ہو: مؤلفات محمد بن عبدالوہاب، ج۷(ص 241).

([89]) ملاحظہ ہو: مؤلفات محمد بن عبدالوہاب، ج۷(ص 240).

([90]) ملاحظہ ہو: مؤلفات محمد بن عبدالوہاب، ج۷(ص 301) اس جلد کے صفحات نمبر(42، 289 اور 318 بھی ملاحظہ کیجئے.

([91])سورہ ٔ مائدہ:۸

([92]) ملاحظہ ہو: مؤلفات محمد بن عبدالوہاب، ج13(ص52).

([93])ملاحظہ ہو: مؤلفات محمد بن عبدالوہاب، ج۷(ص 164).

([94]) ملاحظہ ہو: مؤلفات محمد بن عبدالوہاب، ج۷(ص280) اس قسم کی مزیدمثالوں کے لئے دیکھئے: العبداللطیف (ص36۔38).

([95])ملاحظہ ہو: ابن غنام، ج۱(ص283).

([96])  سورۂ نحل:۹۷

([97]) دیکھئے: ابو حکیمہ، (ص 127).

([98]) دیکھئے: مریم جمیلہ کی کتاب ’’اسلام نظری اور عملی اعتبار سے ‘‘ (ص: 118)بدقسمتی سے خود مریم جمیلہ نے بظاہر ’’ لمع الشہاب ‘‘نامی کتاب سے یا کسی اور شخص سے جس نے اس کا کتاب کا حوالہ دیا واضح طور پر غلط تأثر قبول کیا ہے، چنانچہ اس میں دی گئی معلومات غلط بیانی پر مبنی ہیں (مثلاً ص 119پر موصوفہ لکھتی ہیں کہ ابن عبدالوہاب ؒ نے ایران میں ’’تصوف ‘‘ کا مطالعہ کیا) تاہم موصوفہ کا فہم شیخ ؒ کی دعوت کے سلسلے میں اچھا ہے بہر حال یہ بات قابل نوٹ ہے کہ وہ شیخ ؒ کو بہت اچھے الفاظ کے ساتھ یاد کرنے کے بعد اپنی کتاب میں رسول اللہﷺ سے مخاطب ہو کر اس فریاد کے ساتھ ختم کرتی ہیں کہ وہ مسلم قوم کو موجودہ بدحالی سے نکال دیں.

([99]) ملاحظہ ہو: ابن بشر، ج۱(ص۱۶۴).

([100])  ملاحظہ ہو: واسی لیف،(ص۱۰۵).

([101])یہ مشاہدہ برکہارٹ کے سفر نامے سے اخذ کیا گیا ہے.ملاحظہ ہو: دی نیو ورڈ آف اسلام(ص۲۵۔۲۶) بحوالہ جمیلہ(ص۱۱۶)

([102])دیکھئے: واسی لیف(ص138۔139).

([103])  دیکھئے: واسی لیف(ص69۔ ۷۰).

([104])  دیکھئے: واسی لیف(ص72۔73).

([105])  دیکھئے: واسی لیف(ص38).

([106])ملاحظہ ہو: نصیر( ص59).

([107]) ملاحظہ ہو: نصیر(ص59) .

([108])  ملاحظہ ہو: عبدالمحسن بن باز، ج۱ (ص271۔286)  

([109]) اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شیخ ؒ کے نزدیک انسانی عقل وفکر کا کوئی کردار نہیں ہے ، تاہم جہاں معاملہ ’’غیب‘‘ کی باتوں کا ہو جو انسانی عقل سے ماوراء ہیں تو اس صورت میں انسان پر ضروری ہے کہ وہ علم وحی تک محدود ہوجائے بصورت دیگر آپ انسانی عقل وفکر کے مخالف نہ تھے. اسی منہج کی وضاحت آپ سے پہلے ابن تیمیہ ؒ نے بھی کی ہے . چنانچہ شیخ ؒ نے خود بھی اس کی وضاحت کرتے ہوئے بیان فرمایا : ’’ ہم ایسی کوئی بات پیش نہیں کرتے جو وحی کی مخالف ہو اور نہ وہ جس کو عقل سلیم رد کرتی ہو‘‘. ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد ؒ ج۷، (ص98) مزید کے لئے دیکھئے: العبود، ج۱ (ص334).

([110]) بخاری ومسلم

([111]) ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد ؒ ، ج۷(ص۲۵۲).

([112]) ابوداؤد وترمذی ، یہ حدیث صحیح ہے . اس کی صحت پر تفصیلی بحث کے لئے دیکھئے: الأربعین النوویہ، مؤلف زرابوزو کی شرح کے ساتھ ج۲(ص1043۔1045).

([113])  اس کا حوالہ شیخ عثیمین کی کتاب الشیخ محمد (ص129) دیکھئے.

([114])  شیخ کا علم کلام کے ساتھ موقف کے لئے دیکھئے: نصیر (ص102۔104).

([115]) شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ اس مسئلہ کی اس طرح تشریح کرتے ہیں کہ اللہ پر ایمان کا ایک حصہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات پر ایمان لائے جن سے خود اس نے اپنے آپ کو متصف کیا ہے اور جن کو اپنے رسول کے ذریعہ ہمیں بتلایا ہے ، بغیر ان کے معانی کی تبدیلی یا ان کے انکار کے. اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ نہیں اور وہ سمیع اور بصیر ہے اور میں ان صفات کا منکر نہیں ہوں جن کے بارے میں اس نے خود ہمیں بتلایا ہے اور نہ ہی میں ان کے صحیح معانی میں کوئی بگاڑ پیدا کرنے والا ہوں اور نہ میں اس کے اسماء حسنی اور اس کی آیات کا منکر ہوں.اس طرح نہ میں اس کی صفات کی کیفیت پر بحث کرتا ہوں اور نہ میں ان کو کسی مخلوق کے مشابہ ٹھہراتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر ہے اور نہ کوئی شریک. بلاشبہ اللہ خود اپنے بارے میں اور اپنی مخلوق کے بارے میں پورا پورا علم رکھتا ہے، وہ قول میں سب سے زیادہ سچا اور کلام میں سب سے زیاد فصیح وبلیغ ہے. (دیکھئے: محمد بن عبدالوہاب ج۷( ص۸) اس طرح شیخ محمد ؒ نے علمائے سلف کے منہج کی پیروی کی جو انتہائی محفوظ، دانشمندانہ اور عالمانہ منہج ہے

([116])  دیکھئے: مؤلفات محمد بن عبدالوہاب، ج۷ (ص ۱۸۷).

([117]) دیکھئے: مؤلفات محمد بن عبدالوہاب، ج۷ (ص150 ).

([118]) دیکھئے: مؤلفات محمد بن عبدالوہاب، ج۷ (ص178).

([119])  سورۂ فاتحہ: ۴

([120]) سورۂ جن: 18.

([121]) ابو داود، نسائی، ترمذی ، دیکھئے: صحیح الجامع الصغیر، ج ۱ (ص641) .

([122])ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص138).

([123])  ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص126).

([124]) سلیمان بن سحیم کا جواب دیتے ہوئے شیخ نے ان کی مذمت کی جب انہوں نے پورے فرقۂ قادریہ کوکافر قرار دیا، (دیکھئے: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص۸۸).

([125])دیکھئے: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص60).

([126]) ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص24).

([127]) ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہابؒ ، ج۷(ص۱۱).

([128]) سورۂ آل عمران: 32

([129])ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص۲۵۲).

([130])  سورۂ نساء:۵۹

([131]) ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص40).

([132]) ملاحظہ ہو: ابن غنام، ج۱(ص34).

([133])  ملاحظہ ہو:: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص96).

([134])  نصیرنے صفحہ نمبر( 79) پر اس کا حوالہ دیا ہے.

([135])  ملاحظہ ہو: محمد بن عبدالوہاب، ج۷(ص107).

([136])  ائمہ کرام کے اقوال اس ضمن میں ملاحظہ ہوں: اسرہ صفحہ (94) سے (96) تک.

([137])دیکھئے : نصیر(ص82).

([138]) ملاحظہ ہو: نصیر(ص10۔۱۱).

([139])  ملاحظہ ہو: ابو سلیمان، ج۱(ص413).

([140]) سورۂ فصلت:۳۳.

([141])مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ج۷(ص48).

([142]) مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ج۷(ص127).

([143])دیکھئے: مریم جمیلہ(ص117۔118).

([144]) ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص319).

([145])ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص166).

([146])ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص174).

([147])مزید تفصیلات کے لئے دیکھئے: اسرہ(ص۱۳۱۔۱۸۱).

([148]) ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص284).

([149])‘‘ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص296).

([150]) مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، اسرہ(ص182۔209).

([151]) ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص284).

([152])ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص296).

([153]) ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص284).

([154])  محمد حامد الفقی نے بیسویں صدی عیسوی کے اوائل کے حوالے سے لکھا کہ نجد کے لوگوں نے ’’وہابی‘‘ کی اصطلاح کبھی استعمال نہیں کی وہ تمام لوگ بشمول ان کے مذہبی قائدین جن میں بہت سے لوگ شیخ محمد بن عبدالوہاب کے خاندان سے تھے خود کو ’’نجدی‘‘ کہلاتے تھے، یعنی اپنے آبائی علاقے سے منسوب کرتے تھے اور مذہبی عقیدے کے حوالے سے خودکو ’’حنبلی‘‘ کہلاتے تھے. (تفصیل کے لئے دیکھئے: الظاہر،ص29).

([155]) ملاحظہ ہو: العثمین کی تالیف، الشیخ محمد(ص102)..

([156]) العثیمین، الشیخ محمد بن عبدالوہاب (ص۱۰۱) اور دیکھئے: الندوی (ص203).

([157])عیسائی مبلغ اویمر کہتا ہے کہ’’ابن القیم کے خیالات محمد بن عبدالوہاب جیسے تھے، ابن القیم خود کو ’’حنبلی‘‘ کہتے تھے مگر اصل میں وہ ’’وہابی‘‘ تھے‘‘ یہ حقیقت ہے کہ ابن القیم ؒ شیخ محمد بن عبدالوہاب سے صدیوں پہلے کے ہیں اور یہ بات اویمر کے ذہن سے مفقود ہوگئی، ملاحظہ ہو: الندوی ، (ص ۲۵۱). دراصل یہ اصطلاح عام ہوگئی کہ ہر وہ شخص جو قرآن وسنت کی پیروی کرے اور شرک کی مخالفت کرے اس کو ’’وہابی‘‘ کے لقب سے پکارا جائے. اس ضمن میں ’’السابق‘‘ لکھتے ہیں کہ میں کئی ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو امام احمد اور ابن تیمیہ اور دیگر لوگوں کو ’’وہابی‘‘ کہتے ہیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺکے صحابی ابوبکر ؓ بھی اگر ان لوگوں میں آجائیں تو ان کو بھی یہ ’’وہابی‘‘ ہی کہیں گے، (دیکھئے: فوزان السابق، البیان والإشعارلکشف زیغ الملحد الحاج المختارص60).

([158]) ملاحظہ ہو: علی بو طامی (ص65۔۶۶).

([159])لاحظہ ہو: ابن العثیمین، الشیخ محمد (ص103).

([160])‘‘اس کا حوالہ شیخ عبدالمحسن بن باز نے دیا ہے ، ملاحظہ ہو: عبدالحلیم الجندی، الإمام محمد بن عبدالوہاب وانتصار المنہاج السلفی ج۲ (ص711).

([161])ملاحظہ ہو : العبود، ج۲ (ص۴۶۳۔۴۶۴) جن اشخاص یا جماعتوں کا انہوں نے خاص طور پرذکر کیا ہے جن کا تعلق شیخ محمد کے ساتھ غیریقینی ہے وہ یہ ہیں: سنوسی تحریک، احمد بن عرفان کی تحریک ،فرائد تحریک، نظار علی کی تحریک، انڈونیشیا میں پدری تحریک، اخوان المسلمین، محمد عبدہ، جمال الدین افغانی، مہدی تحریک، عیسی محمد خول اور کچھ دیگر تحریکیں.

([162]) ملاحظہ ہو: عبدالمحسن بن باز، ج۲(ص711).

([163])ملاحظہ ہو: عبدالکریم الخطیب، الدعوۃ الوہابیۃ(ص۵).

([164])ملاحظہ ہو: عبدالمحسن بن باز ، ج۲(ص713۔718).

([165])یہ بات نوٹ کی جانی چاہئے کہ سعودی عرب کا دیندار طبقہ خود کو ایک ’’غیراطمینان بخش‘‘ کیفیت میں پاتا ہے، جب یہ اپنی دولت دوسرے علاقوں میں مساجد اور علمی مراکز کی تعمیر پر خرچ کرتے ہیں تو ان کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ وہ اپنی نوعیت کے ‘‘اسلام‘‘ کی تبلیغ کررہے ہیں اور اگر ان مقاصد پر وہ خرچ نہ کریں تو کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا کثیر مال عطا کرنے کے باوجود یہ اپنے مسلمان بھأئیوں پر کچھ خرچ نہیں کرتے.

([166])  دیکھئے: العبداللطیف: (ص25)، الجمعۃ (ص182).)

([167])دیکھئے: العبداللطیف: (ص25)،عبدالمحسن بن باز، ج۲ (ص688).

([168])ملاحظہ ہو: کومنس (ص59).

([169])  ملاحظہ ہو: کومنس (ص60۔63).

([170]) آلوسی خاندان سے متعلق مزید معلومات کے لئے دیکھئے: الزحیلی، ج۳(ص355۔336)، الجمعہ (ص183۔193).

([171])ملاحظہ ہو: الجمعہ(ص۱۲۴).

([172])  ملاحظہ ہو: کومنس (ص53۔131).

([173]) ملاحظہ ہو:العبود،ج۲(ص410۔411).

([174]) شام میں شیخ محمدؒ کے اثرات کے دیگرپہلوؤں کے لئے ملاحظہ ہو: العبود، ج۲(ص 395۔412).

([175])  ملاحظہ ہو: الزحیلی، ج۲(ص334).

([176]) ملاحظہ ہو: الزحیلی، ج۲(ص334).

([177]) ملاحظہ ہو: محمد رشید رضا، محمد بشیر السہسوانی کا تعارف، صیانۃ الإنسان عن وسوسۃ الشیخ دحلان (ص۶۔۷).

([178]) محمد رشید رضا کے بارے میں مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، الجمعہ، (ص159۔170).

([179])۔ ملاحظہ ہو: الحسین، ص425، الزحیلی، ج۲ (ص ۳۲۳)،الجمعہ (ص235) مزید. محمد الشویعر، تصحیح الخطأ التاریخی حول الوہابیۃ (ص24۔34) .

([180])۔ملاحظہ ہو: الحسین (426). الجمعہ (ص235۔237) الزحیلی ج۲(ص324).

([181])ملاحظہ ہو: الجمعہ(ص114).

([182])ملاحظہ ہو: الجمعہ(ص221).

([183])۔ ملاحظہ ہو: الجمعہ(ص221۔226) مزید دیکھئے: الزحیلی، ج۲ (ص329۔331).

([184]) دیکھئے: ہوگیز.’’ڈکشنری آف اسلام‘‘ (ص661).

([185])  ملاحظہ ہو: الجمعہ (ص63۔81).

([186])ملاحظہ ہو : قیام الدین احمد، ہندوستان میں تحریک وہابیت (ص31۔32).

([187]) ملاحظہ ہو: عبدالجلیل (ص59۔127).

([188]) ملاحظہ ہو: الجمعہ (ص82۔86).

([189]) ملاحظہ ہو: آرنولڈ (ص410) مزید: الزحیلی، ج۲(ص۳۲۳) الجمعہ (ص ۸۸۔103).

([190])انڈونیشیا میں شیخ محمد کی تأثیر کی تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو: نجیح عبداللہ . تأثر الدعوۃ الإصلاحیۃ فی اندونیسیا بدعوۃالشیخ محمد بن عبدالوہاب، فی بحوث ندوۃ دعوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب، ج۲ (ص391۔422)، الجمعہ (ص۲۰۲۔۲۱۲).

([191])تھائی لینڈ میں شیخ محمدؒ کی تأثیر کی تفصیلات کے لئے دیکھئے: اسماعیل احمد، تأثر الدعوۃ الإصلاحیۃ الإسلامیۃفي تایلاندبدعوۃمحمدبن عبدالوہاب في بحوث ندوۃ الشیخ محمدبن عبدالوہاب،ج۲ (ص369۔390).

([192]) اختصار کی خاطر الزام تراشنے والوں کے طویل اقتباسات یہاں نہیں پیش کئے جارہے ہیں سوائے جہاں ان کے تذکرے کی واقعۃً ضرورت پیداہوجائے. چنانچہ یہ الزامات (اپنی تفصیل کے ساتھ ) اس کتاب کے اصل (غیر اختصار شدہ) نسخے میں ملاحظہ کرسکتے ہیں.

([193])ملاحظہ ہو: شیخ محمد بن عبدالوہاب، مؤلفات ج۷ (ص10).

([194]) ملاحظہ ہو: العبداللطیف (ص81).

([195])مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو: العبداللطیف (ص78۔81).

([196]) ابن عبدالوہاب کے بجائے ’’عبدالوہاب‘‘ مذکور ہوا ہے.

([197]) ملاحظہ ہو: العبداللطیف (ص82۔83).

([198]) ملاحظہ ہو: الحسین(ص267).

([199])ملاحظہ ہو: العبداللطیف (ص83).

([200])الندوی نے لکھا ہے کہ دحلان کی کتابیں غلطیوں اور افتراء ات سے اس درجہ بھری ہوئی ہیں کہ کوئی شخص معمولی سے مسئلہ میں بھی اس پر اعتماد نہیں کرسکتا(ص40).

([201]) ملاحظہ ہو: الحقیل ، (ص168۔169) (دلائل الخیرات کا مصنف محمد بن سلیمان المغربی الشاذلی صوفی سلسلہ سے تعلق رکھنے والا ہے).

([202])۔ملاحظہ ہو: محمد بن عبدالوہاب، مؤلفات، ج۷(ص37).

([203]) ملاحظہ کیجئے: محمد بن عبدالوہاب، مؤلفات، ج6(ص13).

([204])‘‘۔ ملاحظہ کیجئے: العبداللطیف(ص90).

([205]) دیکھئے: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص24۔26).

([206])دیکھئے: العبداللطیف،(ص163).

([207])دیکھئے: العبداللطیف،(ص168۔169) اور مزید الزامات کے لئے دیکھئے: (ص163۔169) اور الحسین(ص۲۸۲۔285).                        

([208])  ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ، ج۷(ص60).

([209]) ملاحظہ کریں: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہابؒ ، ج۷(ص48).

([210]) ملاحظہ کریں: العبداللطیف(ص172).

([211])  اس کو العبداللطیف (ص173۔174) نقل کیا ہے.

([212]) ملاحظہ کیجئے: محمد بن عبدالوہاب، مؤلفات ج۷(ص۴۱).

([213]) ملاحظہ کیجئے: العبداللطیف (ص۱۹۵).

([214]) ملاحظہ کیجئے: العبداللطیف (ص۱۹۶) اور مزید اقتباسات اور دوسرے مؤلفین کے اقوال بھی آپ ملاحظہ کرسکتے ہیں اسی کتاب کے صفحات ۱۹۶۔۱۹۹) پر.

([215]) ملاحظہ ہو: العبداللطیف (ص۱۹۷).

([216]) سورۂ جن:۱۸

([217]) سورۂ شعراء:۲۱۳

([218])  اس کو ابوداؤد، ترمذی اور دیگر محدثین نے بھی روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ ا للہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے . دیکھئے: محمد ناصر الدین الألبانی، صحیح الجامع الصغیرج۱،(ص۶۴۱)

([219]) سورۂ یونس: 17۔18

([220]) سورۂ زمر:۳

([221]) العبداللطیف نے اس کو (ص۲۳۳) پر نقل کیا ہے.

([222]) العبداللطیف نے اس کو (ص۲۳۳) پر نقل کیا ہے.

([223])دیکھئے: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب، ج۷ (ص۱۱) اور ج۱(ص۳۹۴).

([224])  ملاحظہ کیجئے: العبداللطیف (ص۲۳۷۔۲۳۸).

([225])سورۂ مائدہ : ۳۵

([226])  ملاحظہ ہو : العبداللطیف (ص۲۴۲۔۲۵۶).

([227]) ملاحظہ ہو: العبداللطیف(ص۲۴۹) پر اس کو نقل کیا ہے.

([228]) ملاحظہ ہو: محمد بن جریر الطبری، جامع البیان عن تأویل آی القرآن، ج ۴( ۲۹۳۔۲۹۴).

([229])  العبداللطیف نے اس کو : (ص۲۵۵)پر نقل کیا ہے.

([230]) ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد، ج۷(ص۶۴).

([231])۔ ملاحظہ ہو: العبداللطیف(ص۲۵۵۔۲۵۶).

([232]) صحیح مسلم

([233]) دیکھئے: العبداللطیف: (ص۳۴۹).

([234])۔ العبداللطیف میں اول الذکر کا حوالہ دیا گیا ہے ملاحظہ ہو: العبداللطیف(ص۳۴۹) دیگر اور مخالفین ابن جرجیس، دحلان، ابن داؤد کے بارے میں دیکھئے : العبداللطیف (ص۳۵۰۔۳۵۷).

([235])ملاحظہ ہو: تیسیر العزیز الحمید في شرح کتاب التوحید، مؤلف سلیمان بن عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب (ص۲۱۹).

([236])ملاحظہ ہو: العبداللطیف( ص۳۰۲۔۳۱۱).

([237]) ملاحظہ ہو: العبداللطیف: ص۳۱۵.

([238])سورۂ فرقان:۲۰.

([239])سورۂ عنکبوت:۲۔۳.

([240])سورۂ غافر(المؤمن):۵۱

([241]) حدیث کا  یہ حصہ مسلم میں مروی ہے.

([242]) اس آخری حصے کو احمد نے روایت کیا ہے . شعیب الأرناؤوط کے مطابق مذکورہ الفاظ کے ساتھ یہ حدیث ضعیف ہے تاہم اسی معنی کی ایک اور حدیث اچھی سند کے ساتھ موجود ہے. ملاحظہ کیجئے: مسند احمد پر شعیب ارناؤوط کا حاشیہ :ج۲۷( ص۲۳۷۔۲۳۸).

([243]) ملاحظہ ہو:  مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب، ج۷ (ص۳۰۸۔۳۰۹).

([244])ملاحظہ ہو: واسی لیف (ص(۱۵۸).

([245]) سورۂ أنعام:۳۳۔۳۴.

([246])ملاحظہ ہو: واسی لیف ص(۷۵).

([247])  سورۂ  اعراف: 65،۷۳،85. سورۃ ہود:  ۵۰،۶۱،۸۴

([248]) سورۂ عصر : ۱۔۳.

([249]) ملاحظہ ہو : مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب: ج۱ (ص۱۸۵).

([250]) اس کوابن ماجہ اور دیگر محدثین نے نقل کیا ہے ، اور علامہ البانی کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے. دیکھئے: صحیح الجامع : ج۲ (ص۷۲۷).

([251])  دیکھئے القطان اور الزین (ص۱۷).

([252])ملاحظہ ہو: ابن بشر: ج۱ (ص۱۶۳).

([253])  ملاحظہ ہو : مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب: ج۷، (ص۱۸۹).

([254]) دیکھئے: عبدالمحسن بن باز: ج۲،( ص۷۲۹؍۷۴۷).

([255]) سورۂ فاطر:  ۲۸

([256]) دیکھئے :  مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب: ج ۷(ص۱۶۲).

([257])ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب: ج۷، ص(۱۲۷؍۱۸۹؍۳۲۳).شیخ ؒ نے کچھ ان مظالم کو بھی ختم کرنے کے لئے کام کیا جو آپ کے معاشرے میں عورتوں کے معاملے میں روا رکھا جاتا تھا. خواتین کی تعلیم کی پشت پناہی کے ساتھ ساتھ اس عام ظلم وستم کے خلاف بھی آپ نے آواز اٹھائی جس میں لوگ اپنے جائداد ایسے طریقے سے وقف کردیتے تھے جس میں عملی طور پر عورتوں کو ان کے حصے کی وراثت سے محروم کردیا جاتا تھا.      

([258])ملاحظہ ہو: نصیر ، (ص۱۷۲).

([259]) دیکھئے: ابن بشر: ج۱ ( ص۳۲).

([260])سورۂ ہود: ۸۰

([261]) اس حدیث کو احمد اور حاکم اور دیگر محدثین نے نقل کیا ہے . شعیب الأرناؤوط کے مطابق اس روایت کی سند صحیح ہے ، اور مسلم کی شرطوں کے مطابق ہے (ملاحظہ: شعیب الأرناؤط، حواشی مسند احمد بن حنبل (ج ۲۳، ص:۳۴۶۔۳۴۹،حدیث:۱۴۴۵۶).

([262]) ملاحظہ: یہ مشہور اثر خلیفہ دوم وسوم عمر وعثمان رضی اللہ عنہماکی طرف منسوب ہے،جوسندا ً ثابت نہیں ہے،اورنہ یہ کوئی حدیث ہے، البتہ اس کا مفہوم صحیح ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:(ابن شبة في «تاريخ المدينة لابن شبۃ (3 /988) وتاريخ بغداد للخطيب(5/ 173)

([263]) ملاحظہ ہو: الأطرم: ج۲ ، (ص۲۶۵).

([264]) دیکھئے:عطار: (ص۹۲).

([265])سورۂ قلم: ۸۔۹.

([266]) ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب: ج۷،( ص280)

([267])ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ : ج۷(ص36).

([268]) سورۂ شوریٰ : 13

([269]) سورۂ اسراء: 89.

([270]) سورۂ أنعام: 116

([271])  سورۂ یوسف: 103.

([272])ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب: ج۳، ص (۸۸)

([273])ملاحظہ ہو: واسی لیف: ص75

([274])ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب: ج۷،(ص 236).

([275]) مسلم نے اس کو روایت کیا ہے.

([276])مسند احمد، شیخ البانی نے اس کوصحیح کہا ہے، دیکھئے:صحیح الجامع: ج۲، (ص728)

([277])سورۂ جاثیہ: 18۔19

([278]) سورۂ أنعام:116

([279]) ملاحظہ ہو: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب: ج۷، (ص256۔257)

([280])  ملاحظہ فرمائیے: ادریس: ص (۵).

([281]) سورۂ نساء: 48

([282])سورۂ نساء: 116

([283])سورۂ نوح: 23  

([284])ملاحظہ ہو: بیان الشرک ووسائلہ عند علماء المالکیہ، محمد الخمیس: (ص28۔30)

([285]) بخاری نے اس کو روایت کیا ہے.

([286]) ترمذی اور احمد نے اس کو روایت کیا ہے، احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے جواب دیا کہ تم نے بالکل وہی کہا جو موسیٰ کی قوم نے کہا تھا. علامہ البانی اور شعیب ارناؤوط کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے : صحیح سنن الترمذی: ج ۲، (ص235) مسند پر حاشیہ جات ج36، (ص225۔227)

([287]) شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ ممکنہ طور پر مخالفین کے آراء کے جواب میں اپنی بات کے صحیح ہونے کے دلائل مکاتب فقہیہ کے علماء کے اقوال کے حوالے سے پیش کئے. آپ نے صاف طور پر کہا کہ مقلدین فقہاء کے لئے میں انہی کی فقہی کتابوں سے دلائل پیش کرتا ہوں، چنانچہ اس طور سے آپ نے ثابت کیا کہ ان کے یہ مشرکانہ اعمال خود ان کے فقہاء کے اقوال کی روشنی میں بھی مشرکانہ ہی ہیں جیساکہ ان کی کتابوں میں تحریر شدہ ہے (مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب، ج۷،(ص38). خاص طور پر آپ کے دوخطوط ملاحظہ ہوں جس میں آپ نے مختلف مکاتب فقہ کے حوالے مفصلاً پیش کئے . (دیکھئے: مؤلفات شیخ محمد بن عبدالوہاب:ج۷، (ص176۔ 180، 250۔267.

([288]) واضح رہے ان مکاتب فقہ کے بانیوں کے دور میں کوئی مشرکانہ عمل موجود ہی نہ تھا جس کی وجہ سے ان کی کتابوں میں ان شرکیہ اعمال کا تذکرہ موجود نہیں ہے، لہذا ان اعمال کے بارے میں اس وقت کوئی سوال ہی نہ تھا جس کا جواب دیا جائے.

([289]) ان شرکیہ اعمال میں فوت شدہ لوگوں سے مدد طلب کرنا، اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطے وسیلے بنانا، غیر اللہ کے لئے قربانی پیش کرنا، غیر اللہ کی مکمل اطاعت کرنا وغیر شامل ہیں (ملاحظہ ہو الخمیس کی کتابیں: الحنفیہ: (ص15۔26، 31۔68) المالکیہ: (ص 19۔25، 41۔58) الشافعیہ:( ص 23۔28، ۴۴۔68) الحنبلیہ: (ص13۔26،24۔57).

([290])سورۂ أنعام:153

([291]) سورۂ حِجر: ۹.

([292])  اس روایت کو بخاری نے نقل کیا ہے.