شیعہ اثنا عشریہ کون ہیں؟ ()

 

|

  شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے کی حقیقت خود اُن کی زبانی

 شیعہ اثنا عشریہ کون ہیں؟

تالیف: شیخ عبد اللہ بن محمد سلفؔی ۔حفظہ اللہ۔

ترجمہ: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنیؔ

مراجعہ: جمشید عالم عبد السلام سلفیؔ،

 عزیزالرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

نبذة مختصرة عن الكتاب:

من هم الشيعة الاثناعشرية؟:كتاب قيِّم مترجَم إلى اللغة الأردية يتناول عقائد الشيعة وبدعهم المنكرة من الشرع، موضّحا الفرق الشاسع بينهم وبين المسلمين الموحدين، وموضحا أكاذيب بعض وسائل الإعلام الغربية التي تصور المسلم على أنه هو من يقطع ظهره بالسكاكين وما إلى ذلك.

 عرضِ مُترجم

الحمد لله وكفىٰ وسلامٌ على عباده الذين اصطفىٰ، أمابعد:

 زیر مطالعہ کتاب(من هم الشيعة الإثنا عشرية)’’شیعہ اثنا عشریہ کون ہیں؟ ‘‘ شیعیت کے بارے میں گہرا مطالعہ رکھنے والےعالم عرب کی مشہور علمی شخصیت شیخ عبد اللہ بن محمد سلفی ۔ حفظہ اللہ۔ کی عربی تالیف ہے،جس میں اختصار کے ساتھ اہل تشیع کے عظیم فرقہ’’ شیعہ اثناعشریہ‘‘ کے اعتقاد ونظریات سے مسلمانوں کو آگاہ کیا ہے،اوراس مذہب کی حقیقت کوخود انہی کےمستند مصادرومآخذ سے بے نقاب کیا گیا ہے،اوریہ واضح کیا گیا ہے کہ ان کے عقائد ونظریات اسلام کے اصول ونظریات سے پورے طورپرمتصادم ہیں،بلکہ سراسرخرافات کا ملغوبہ ہیں۔ لہذا ایک سچے مسلمان کیلیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کی حفاظت کرے،اورباطل عقائد ونظریات کے دام فریب میں نہ آئے،کیونکہ عقیدہ کی اصلاح ودرستگی پر ہی اخروی کامیابی اورجنت کے حصول کاانحصارہے ،اوراسلام کی فلک بوس عمارت کی اساس ہی عقیدہ کی اصلاح ودرستی پر قائم ہے۔اسی لیےآدم علیہ السلام سے لے کرمحمدﷺ تک تمام انبیائے کرام نے عقیدہ ہی کو اپنی دعوت کا محورومرکزبنایا،اوررسول ﷺ نےتیرہ سال تک عہد مکی میں اسی عقیدہ کی درستگی پراپنی توجہ کو مرکوز رکھا،اورآپﷺ کے بعد سلف صالحین صحابہ کرام،تابعین،تبع تابعین،اورائمہ عظام اورعلمائے کرام نے بھی اسی منہج پرگامزن رہے، اوراپنی زبان وقلم کے ذریعہ عقیدہ توحید کی آبیاری کرتے رہے،اورباطل ومنحرف عقائد ونظریات سے لوگوں کو آگاہ کرتے رہے۔اورزیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک زرّیں کاوش ہے۔یہ کتاب مختصرہونے کے باوجود اپنے موضوع پر نہایت ہی مفید وجامع ہے،لیکن عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے اردو داں حضرات کے لیےاس سے استفادہ مشکل تھا،بنابریں اسلام ہاؤس ڈاٹ کام کے شعبہ ٔ ترجمہ وتالیف نے افادۂ عام کی خاطراسےاردو قالب میں ڈھالاہے،حتیٰ الامکان ترجمہ کو درست ومعیاری بنانے کی کوشش کی گئی ہے،اور مؤلّف کے مقصود کا خاص خیال رکھا گیا ہے،اور آسان، عام فہم زبان اور شُستہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے تاکہ عام قارئین کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہو،مگرکمال صرف اللہ عزوجل کی ذات کا خاصہ ہے، لہذا کسی مقام پر اگر کوئی سَقم نظر آئے تو ازراہ کرم خاکسار کو مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ اس کی اصلاح کی جاسکے۔

ربّ کریم سے دعا ہے کہ اس کتاب کو لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے،اس کے نفع کو عام کرے، والدین اور جملہ اساتذۂ کرام کے لئے مغفرت وسامانِ آخرت بنائے، اور کتاب کے مولّف، مترجم،مراجع ،ناشراور تمام معاونین کی خدمات کو قبول کرکے ان سب کے حق میں صدقۂ جاریہ بنائے۔آمین۔

وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 مقدّمہ

 تمام تعریفات صرف اللہ کے لئے ہیں، اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے رسول پر، آپ سے محبت کرنے والوں،آپ کے آل واصحاب،تابعین اور آپ کے طریقہ کو اختیار کرنے والوں پر:

حمد وصلاۃ کے بعد:

یہ ایک مختصر سلسلہ ہےجو منحرف و گمراہ کن فرقوں کے اعتقادات سےمسلمانوں کو آگاہ و متنبہ کرے گااوران کے لیے منحرف فرقوں کے اعتقادات کی نقاب کشائی کرے گا تاکہ مسلمان اس سے بچ سکیں۔خصوصاً ان ایام میں جب کہ ان میں سے اکثر کی آوازبہت بلند ہے،اور وہ اپنے باطل عقائد کی نشرواشاعت میں کافی فعّال وسرگرم ہیں۔

اور ہم نے اس سلسلہ کو شیعہ فرقوں میں سےخصوصی طور سے’’ شیعہ اثنا عشریہ‘‘ فرقہ سے آغاز کیا ہے،کیونکہ یہ فرقہ ایران ،عراق،اور خلیج میں بکثرت موجودہے۔

اسی طرح یہ فرقہ اکثر کہتا رہتا ہے کہ اس کا مذہب اہل سنت کے مذہب سے مختلف نہیں ہے،اور یہ مظلومیت اورافتراپردازی کا شکار ہے۔ اور یہ اپنے مذہب کے دفاع کا کافی اہتمام کرتا ہے،اور اس کے پرچار میں بہت ساری کتب ورسائل کی نشرواشاعت کرتا ہے۔

 اور اہل سنت کی کتابوں کوچھان بین کرکے ان کی تردید کرنے کی سعی وکوشش اس فرقہ کی طرح کسی دوسرے کے یہاں نہیں پائی جاتی ہے۔

اور موجودہ وقت میں شیعہ کی کتابیں اس قدر متوفّر ہیں جو اس سے قبل نہیں تھیں، اور مختلف وسائل کے ذریعہ ہرجگہ ان کی نشرواشاعت کی جارہی ہے، بنابریں ہمارے لیے یہ ضروری ٹہرا کہ (لوگوں کے سامنے) ان کے باطل ومنحرف عقائد کو بے نقاب کریں جسے انہوں نے لوگوں سے پوشیدہ رکھا ہے۔اور جیسا کہ کہنے والے نے کہا ہے:

’’تمہارے منہ سے ہی تمہاری مذمّت کرتے ہیں‘‘!!

اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ سنّت اوراس کے پیروکاروں کےپرچم کو بلند کرے،اورباطل اوراس کے پرستاروں کو رسوا کرے۔

اور اللہ تعالیٰ ہی نیّتوں کو جاننے والا ہے، اور وہی (سیدھے)راستہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔

 تحریر:

عبد اللہ بن محمّد سلفیؔ

 اثنا عشری مذہب کی اصل وبنیاد

 ٭ شیعہ اثنا عشریہ کے اعتقادات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ:وہ اس بات کا اعتراف واقرار کرتے ہیں کہ: شیعیت کی اصل یہودیت ہے جو ابن سبا یہودی کی طرف لوٹتی ہے، اور یہ کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں آگ سے جلادیا تھا اور ان سے براءت کا اظہار کیا تھا۔ (دیکھیں: کتاب (فرق الشیعہ) للنویختی، ص۲۲،اور کتاب(اختیار معرفۃ الرجال) للطوسی ص۱۰۷۔

٭ وہ اپنے آپ کو رافضہ کہلایے جانے کے قائل ومعترف ہیں اور اس پر فخرمحسوس کرتے ہیں۔

(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار) للمجلسی ۶۵؍۹۷)۔

 اللہ کے بارے میں شیعہ اثنا عشریہ کا اعتقاد

٭شیعہ اثناعشریہ کہتے ہیں کہ:

ہم( اہل سنّت کے ساتھ) ایک اللہ، ایک نبی، ایک امام پر اکھٹا نہیں ہوسکتے ،اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ: ان کا رب وہ ہے جس کےنبی محمدﷺ ہیں اوران کا ہونے والاخلیفہ ابوبکر ہے، جبکہ ہم(شیعہ اثنا عشریہ) اس رب اور اس نبی کے قائل نہیں ہیں، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ: وہ رب جس کے نبی کا خلیفہ ابوبکر ہے وہ ہمارا رب نہیں ہے اور نہ ہی وہ نبی ہمارا نبی ہے۔ دیکھیں: کتاب (الأنوار النعمانیہ) لنعمۃ اللہ جزائری ۲؍۲۷۸)۔

٭اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

بے شک اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن نہیں دیکھا جا سکتا، اور نہ ہی اسے کسی مکان وزمان سے متصف کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے، اور جو کہتا ہے کہ وہ(اللہ تعالیٰ) نچلے آسمان پر اترتا ہے ،یا یہ کہ وہ اہل جنّت کے لئے چاند یا اس جیسے ظاہر ہوگا تو وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا ہوگا۔ (دیکھیں:کتاب (عقائد الإمامیۃ) لمحمد رضا مظفر ،ص۵۸)۔

٭ اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

 اللہ تعالیٰ بروز قیامت بندہ مومن سے مخاصرہ کرے گا، اسی طرح مومن بھی اپنے رب سے مخاصرہ کرے گا اور اسے اپنے گناہوں کو یاد دلائے گا، پو چھا گیا مخاصرہ کیا ہے؟ فرمایا: اس نے اپنے ہاتھ کو میری کھوکھ پر رکھا، اور کہا: اسی طرح ہم سے آدمی اپنے بھائی سے خوش کن بات پر مناجات وسرگوشی کرتا ہے۔ (دیکھیں: کتاب (الأصول الستۃ عشر) تحقیق: ضیاء الدین المحمودی ،ص ۲۰۳)۔

٭ اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

بےشک اللہ تعالی ٰیوم عرفہ کو روئے زمین پر زوال کے شروع ہوتے ہی چوڑی پیشانی والے اونٹ پر نازل ہوتا ہے،اور اس کی دونوں رانوں سے اہل عرفات کو دائیں وبائیں سے روندا جاتا ہے۔(دیکھیں: کتاب (الأصول الستۃ عشر) تحقیق: ضیاء الدین المحمودی، ص ۲۰۴)۔

٭ اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

قبر کا استقبال کرنا ضروری ہے، گرچہ وہ قبلہ کے موافق نہ ہو،اسی طرح زائر کے لئے قبر کا استقبال کرنا قبلہ کے استقبال کے درجہ میں ہے اور وہ (اللہ کا چہرہ) ہے یعنی اس کی جہت ہے جس کا اس حالت میں لوگوں کو استقبال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار ) للمجلسی، ۱۰۱؍۳۶۹)۔

٭ اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

 تمہارا (آہ) کہنا یہ اللہ کے اچھے ناموں میں سے ہے، پس جس نے (آہ) کہا تو گویا اس نے اللہ سے فریاد طلب کیا۔(دیکھیں: کتاب (مستدرک الوسائل) للنوری طبرسی، ۲؍۱۴۸)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اللہ تعالیٰ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی زیارت کرتا ہے اور ان سے مصافحہ کرتا ہے، اور ان کے ساتھ چارپائی پر بیٹھتا ہے۔(دیکھیں: کتاب (صحیفۃ الأبرار) محمد تقی، ۲؍۱۴۰)۔

 تحریف قرآن کے سلسلے میں شیعہ اثناعشریہ کے اقوال

٭شیعہ اثناعشریہ قرآن میں تحریف وکمی کے قائل ہیں،اور کہتے ہیں کہ صحیح قرآن ان کے غائب امام مہدی کے ساتھ ہے۔

شیعہ امامیہ کے مشہور علماجو تحریف قرآن کے قائل ہیں وہ درج ذیل ہیں:

علی بن ابراھیم القمی، نعمۃ اللہ جزائری، فیض کاشانی، احمد طبرسی، محمد باقر مجلسی، محمد بن نعمان ملقّب بالمفید،ابو الحسن عاملی عدنان بحرانی، یوسف بحرانی، نوری طبرسی، حبیب اللہ خوئی، محمد بن یعقوب کلینی، محمد عیاشی اور ان کے علاوہ بہت سارے لوگ ہیں۔ (دیکھیں: کتاب (الشیعۃ الاثني عشریۃ وتحریف القرآن) تالیف: محمد سیف، وکتاب( موقف الرافضۃ من القرآن الکریم) تالیف: ماما دو کارا میری)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

لفظ( آل محمد وآل علی) قرآن سے ساقط ہے۔(دیکھیں: کتاب (منہاج البراعۃ شرح نہج البلاغۃ) لحبیب اللہ الخوئی ،۲؍۲۱۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

قرآن کو صرف ائمہ (اثناعشریہ) نے ہی جمع کیا ہے، اور انہیں قرآن کا پورا علم حاصل ہے۔ (دیکھیں: کتاب (اصول الکافي) للکلینی، ۱؍۲۲۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

 قرآن نہیں حجّت ہوگا مگر قیّم(یعنی امام علیؓ رضی اللہ کی تقییم) کے ذریعہ (دیکھیں: کتاب (أصول الکافي) للکلینی، ۱؍۱۶۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ایک سورت ہے جس کا نام سورہ ولایت ہے جس کی ابتدا (يا أيها الذين آمنوا آمنوا بالنّورين)سے ہوتی ہے، ان کے گمان کے مطابق اسے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے قرآن سے ساقط کردیا ہے۔ (دیکھیں: کتاب (فصل الخطاب في تحریف کتاب ربّ الأرباب) للنوری طبرسی ،ص۱۸)۔

٭ اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ :

ایک مصحف ہے جس کا نام مصحف فاطمہ رضی اللہ عنہا ہے، اور اس کے اندر ہمارے اس قرآن کی طرح تین بار ہے۔ (دیکھیں: کتاب (اصول الکافي) للکلینی، ۱؍۲۳۹)۔

٭اسی طرح وہ اللہ کے قول﴿ يَا أَيُّهَا الرَّ‌سُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِ‌سَالَتَهُ ﴾[المائدہ:۶۷]’’ اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی ‘‘ کو : (بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ -في علي- وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِ‌سَالَتَهُ ) الآیۃ’’ اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے۔ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ۔نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی ‘‘ ، سے تحریف کے قائل ہیں، چناں چہ اس آیت میں انہوں نے اپنی گمان کے مطابق (في علي) کا لفظ بڑھا دیا ہے!!

یعنی: نبیﷺ بھول گئے یعنی چھوڑدیا ،اور ایسا منا فقین سے خوف کی بناپر کیا ،جیسا کہ بہت ساری خبروں(حدیثوں) میں انہوں نے اس بات کی صراحت کی ہے۔ (دیکھیں: فصل الخطاب في تحریف کتاب رب الأرباب ) للنوری طبرسی، ص۱۸۲)۔

٭اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ: وہ اس شخص کا انکار نہیں کرتے جو شیعہ کے نزدیک تحریف قرآن (ثقل اکبر) کا قائل ہے، بلکہ اسے مجتہد مانتے ہیں، لیکن جو شیعہ کے نزدیک ولایت علیؓ (ثقل اصغر)کا انکا ر کرتا ہے وہ کافر ہے جس کے کفر کے بارے میں کوئی شک نہیں۔(دیکھیں: کتاب(الاعتقادات) لابن بابویہ القمی، ص۱۰۳)۔

٭اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

انہوں نے اپنے شیعوں کو نماز وغیرہ میں موجودہ قرآن کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ مولانا صاحبِ زمانہ کا ظہور ہوگا جو موجودہ قرآن کو لوگوں کے ہاتھ سے آسمان کی طرف اٹھا دیں گے، اور اس قرآن کو لائیں گے جسے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے تالیف کیا ہے، چناں چہ اسی نسخہ کو پڑھا جائے گا اور اس کے احکام کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ (دیکھیں: الأنوار النعمانیہ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۲؍۳۶۳)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اپنی عورتوں کو نہ تو سورہ یوسف سکھاؤ اور نہ ہی اسے پڑھاؤ، کیوں کہ اس میں فتنے ہیں، بلکہ انہیں سورہ نور سکھاؤ کیوں کہ اس میں عبرتیں ونصیحتیں ہیں۔ (دیکھیں: کتاب ( الفروع من الکافی) للکلینی،ص۵؍۵۱۶)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کے یہاں امامت رُکن ہے اور اس کا منکر کافر ہے

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جوشخص امامت کا اعتقاد نہیں رکھتا تو اس کا ایمان بغیر اس پر ایمان واعتقاد کے نا مکمل ہے۔(کتاب (عقائد الإمامیۃ) لمحمد رضا مظفر ،ص۷۸)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

امامت نبوّت کی بقا کے لئے ہے، اور وہ دلیل جورسولوں کو بھیجنے اور انبیاء کو مبعوث کرنے کو واجب ٹہراتی ہے وہ دلیل بعینہ رسول کے بعد امام کے تعیین کو واجب کرتی ہے۔ (دیکھیں: کتاب (عقائد الإمامیۃ) لمحمد رضا مظفر ،ص۸۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

امامت سے ان کی مراد ایک ایسا الٰہی منصب ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کےبارے میں اپنے سابق علم سے اختیار کرتا ہے، جس طرح کہ وہ نبی کا انتخاب کرتا ہے ، اور نبی کو اس بات کا حکم دیتا ہے کہ امّت کو اللہ کی طرف رہنمائی کریں، اور امّت کو ان کی اتباع کا حکم دیتا ہے۔ (دیکھیں: کتاب (أصل الشیعۃ وأصولھا) لمحمد حسین کاشف الغطاء، ص۱۰۲۹)۔

بلکہ یہ (امامت) دین کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے جس کا اعتقاد رکھے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ، اور دوسری عبارت میں وہ یوں کہتے ہیں: امامت نبّوت کے استمرار وبقا کے لئے ہے۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جس نے امیر المومنین علی بن ابی طالب کی امامت اور ان کے بعد کے ائمہ کا انکار کیا تو گویا اس نے تمام انبیاء کی نبوّت کا انکار کیا، اور جس نے امیر المومنین کا اقرار کیا او ر ان کے بعد کے ائمہ میں سے کسی ایک کا انکار کیا تو وہ تمام انبیاء کےاقرار کرنے والے کے درجے میں ہوگا اور محمد ﷺ کی نبوّت کا انکار کرنے والاٹھرے گا۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 جس نے( ائمہ اثنا عشریہ میں) سے کسی ایک امام کا انکار کیا تو وہ تمام انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی نبوت کے انکارکرنے والے کےدرجے میں ہوگا۔ (دیکھیں: کتاب (منھاج النجاۃ) للفیض الکاشانی، ص ۴۸)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

شیعہ امامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس نے کسی ایک امام کا انکار کیا اور ان ائمہ کے تئیں اللہ تعالیٰ نے اس پر جو اطاعت فرض کی ہے اس کا انکار کیا تو وہ کافر اور گمراہ ہے، اور خلود فی النار کا مستحق ہے۔ (دیکھیں: کتاب (حق الیقین في معرفۃ أصول الدین) لعبد اللہ شبر۲،؍۱۸۹)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ایسے شخص پر شرک و کفر کا اطلاق کرنا جو امیرالمومنین (علی رضی اللہ عنہ) کی امامت کا اعتقاد رکھتا ہےاور نہ ہی ان کی اولاد میں سے(دیگر) ائمہ کی امامت کا، اور ان پر دیگر لوگوں کو فوقیت دیتا ہے تو یہ اس کے خلود فی النّار ہونے پر دلالت کرتا ہے۔(دیکھیں : کتاب (بحار الأنوار) للمجلسی، ۲۳؍۳۹۰)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کانبیﷺ،آپ کی بیٹیوں اور آل بیت کے ساتھ اساءت وبد سلوکی

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جب نبی ﷺ پیدا ہوئے تو کئی دنوں تک دودھ پئے بغیر رہے، تو ابوطالب نے ان کو اپنے پستان سے لگایا تو اللہ نے اس کے اندر دودھ پیدا کردیا ، چناں چہ کئی روز تک آپ ابو طالب(کی چھاتی )سے دودھ پیتے رہے یہاں تک کہ ابوطالب کوحلیمہ سعدیہ مل گئیں تو آپ نے نبیﷺکو ان کے حوالے کردیا ۔ (دیکھیں: کتاب (أصول الکافی) للکلینی، ۱؍۴۴۸)۔

 ٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے زیادہ بہادر تھے، بلکہ آپﷺ کو سرے سےبہادری دی ہی نہیں گئی تھی۔ (دیکھیں: کتاب (الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۱؍۱۷)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 نبی ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک کہ وہ فاطمہ کا رخساریا سینہ کا بوسہ نہیں دے لیتے تھے۔(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار) للمجلسی ۴۲؍۴۳)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 نبیﷺکی بیٹیوں میں سے صرف فاطمہ رضی اللہ عنہا(حقیقی) بیٹی تھیں، اور رقیہ ،ام کلثوم اور زینب یہ آپﷺ کی ربائب(پرورش کردہ بیٹی) تھیں۔ (دیکھیں: دائرۃ المعارف الإسلامیۃ الشیعیۃ) ج۱؍۲۷)

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

حسن بن علی رضی اللہ عنہ مومنوں کو ذلیل کرنے والے تھے کیونکہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کرلی تھی۔(دیکھیں: کتاب (رجال الکشي) ص۱۰۳)۔

 شیعہ اثناعشریہ کا امہات المومنین عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو کا فر قراردینا

٭ شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ :

بے شک نبی ﷺ کی بیوی نوح اور لوط علیہما السلام کی بیوی کی طرح کافر ہوسکتی ہے۔

اور ان کے نزدیک نبیﷺ کی بیوی سے مراد ام المومنین عائشہ ہیں اللہ ان سے اور ان کے باپ سے راضی ہو۔(دیکھیں: کتاب (حدیث الأفک) لجعفر مرتضی ،ص۱۷)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 عائشہ رضی اللہ عنہا نبیﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہوگئیں تھیں جس طرح کہ بہت سارے صحابہ مرتد ہوگئے تھے۔ (الشھاب الثاقب في بیان معنی الناصب) لیوسف بحرانی، ص۲۳۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

عائشہ رضی اللہ عنہا نے خیانت ودھوکہ سے چالیس دینار جمع کیا تھا ، اور اسے علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والوں میں تقسیم کردیا تھا!! (دیکھیں: کتاب (مشارق أنوار الیقین) لرجب البرسي ،ص۸۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ۔نعوذ باللہ۔ زناکا صدور ہوا تھا، چناں چہ اللہ کے اس قول:﴿ أُولَـٰئِكَ مُبَرَّ‌ءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ﴾ [النور:۲۶] ’’ ایسے پاک لوگوں کے متعلق جو کچھ بکواس (بہتان بازی) کر رہے ہیں وه ان سے بالکل بری ہیں، ‘‘ کے بارے میں کہتے ہیں کہ: اس آیت میں نبیﷺ کی زنا سے تنزیہہ(پاک قراردینا) ہے نہ کہ ان کی تنزیہہ مقصود ہے (اور اس سے ان کا مقصود عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں)۔(دیکھیں : کتاب (الصراط المستقیم) لزین الدین النباطي البیاضي ۳،؍۱۶۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے قول: ﴿ مَنْ أَنبَأَكَ هَـٰذَا ﴾[التحریم:۳] ’’ تو وه کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی۔‘‘ میں کفر کیا،اور اللہ نے ان کے اور عائشہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا: ﴿ إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾[التحریم:۴] ’’ (اے نبی کی دونوں بیویو!) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو (تو بہت بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ‘‘ صاغت یعنی زاغت ، اور زیغ کفر کو کہتے ہیں۔ اور عائشہ اور حفصہ دونوں نبیﷺ کو زہر پلانے پر متفق تھیں، پس جب اللہ نے دونوں کے اس فعل سے آپ کو باخبر کردیا جس میں آپ کے قتل کا ارادہ کیا گیا تھا تو ان دونوں نے جھٹ سے قسم کھا لیا کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا ہے تو اللہ نے اپنے اس قول کو نازل فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَا تَعْتَذِرُ‌وا الْيَوْمَ ﴾ [التحریم: ۷]’’ اے کافرو! آج تم عذر وبہانہ مت کرو ‘‘۔ (دیکھیں: کتاب( الصراط المستقیم) لزین الدین النباطي البیاضي،۳؍۱۶۸)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو کرنا

٭ شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

 اللہ تعالیٰ نے شب معراج میں رسول ﷺ سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی آواز اورزبان میں گفتگو فرمایا تھا۔(دیکھیں: کتاب (کشف الیقین في فضائل أمیر المؤمنین) لحسن بن یوسف بن مطہّر الحلي،ص۲۲۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

 بے شک اللہ تعالیٰ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے طائف میں سرگوشی فرمائی اور ان کے درمیان جبرئیل علیہ السلام تھے۔ (دیکھیں: کتاب( بصائر الدرجات) للصفّار ،۸؍۲۳۰)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

 علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جنت وجہنم کے تقسیم کار ہوں گے ، اہل جنّت کو جنت میں داخل کریں گے، اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کریں گے۔ (دیکھیں : کتاب (بصائر الدرجات) للصفّار،۸؍۲۳۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اللہ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا جو علی کا اطاعت گزار ہوگا گرچہ وہ رب کا نافرمان ہو، اوراللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا جو علی کا نافرمان ہوگا گرچہ وہ رب کا اطاعت گزار ہو۔

(دیکھیں: کتاب( کشف الیقین في فضائل أمیر المومنین) لحسن بن یوسف بن مطہّر الحلی ،ص۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ انبیاء کے راز دار ہیں، اور اللہ نے فرمایا: اے محمد ! میں نے علی کو انبیاء کے ساتھ باطن طور پر بھیجا ہوں اور تمہارے ساتھ ظاہر میں بھیجا ہوں۔ (دیکھیں: کتاب (الأسرار العلویۃ) لمحمد مسعودی، ص۱۸۱)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی رضی اللہ عنہ محمد ﷺکے لئے ایک نشانی تھے، اور محمد ﷺعلی رضی اللہ عنہ کی ولایت کی طرف بلاتے تھے۔ (دیکھیں: کتاب (بصائر الدرجات) لمحمد الصفّار،ص۹۱)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی نبی بھیجے سب نے ولایت علی کی طرف خوشی سے یا ناخوشی سے دعوت دیا۔ (دیکھیں: کتاب (الأسرار العلویۃ) لمحمد مسعود ،ص۱۹۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

دین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ولایت کے بغیر نا مکمل ہے۔(دیکھیں: کتاب (الاحتجاج) للطبرسی،۱؍۵۷)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

رسول ﷺ نے فرمایا : خبر دار ! میرے پاس جبرئیل آئے اور کہا: اے محمد، تمہارا رب تمہیں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے اور ان کی ولایت کا حکم دیتا ہے۔(دیکھیں: کتاب (بصائر الدرجات) لمحمد الصفّار، ص۹۲)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

 علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔(دیکھیں: کتاب(علل الشرائع) لابن بابویہ القمی،ص۲۰۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک گرج وکڑک (بجلی وبادل کی آواز)تمہارے ساتھی کے حکم سے ہوتا ہے ، لوگوں نے کہا کہ: ہمارا ساتھی کون ہے؟ فرمایا: امیرالمومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ (دیکھیں: کتاب (الاختصاص) للمفید ،ص۳۲۷)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مردہ کو زندہ کرتے ہیں، اور بے چین لوگوں کی بے چینی کو دور کرتے ہیں۔(دیکھیں: کتاب( عیون المعجزات) لحسن عبد الوہاب ص۱۵۰، ورسالہ (حلا ل المشاکل) وقصۃ عبد اللہ الحطّاب الخرافیۃ)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اجازت و پرمٹ کے بغیر کوئی بھی شخص جنت میں نہ داخل ہوسکے گا۔(دیکھیں: کتاب (مناقب امیرالمومنین) لعلي بن المغازلي ،ص۹۳)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرنے والا کا فر ہے، اور ان پر دوسروں کو ترجیح دینے والا مرتد ہے۔(دیکھیں: کتاب ( بشارۃ المصطفیٰ لشیعۃ المرتضیٰ)، ۲؍۷۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سےعلی رضی اللہ عنہ پرفخر کرتا ہے۔(دیکھیں: کتاب ( بشارۃ المصطیٰ لشیعۃ المرتضیٰ) ،۱؍۶۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

 انبیاء ورسل علی رضی اللہ عنہ کی ولایت کا اعتراف کرنےکے لئے بھیجے گئےتھے۔(دیکھیں: شیعہ اثنا عشریہ کے شیخ ہاشم بحرانی کی کتاب (المعالم الزلفی) ،ص۳۰۳ کو) ۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے فضا کی طرف اشارہ کیا، چناں چہ بادل متوجّہ ہوکر بلند ہوا، اور پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سلام کیا، پھر انہوں نے عمار سے کہا: ( ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ اور کہو: ﴿بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَ‌اهَا وَمُرْ‌سَاهَا﴾ [الھود:۴۱] ، ’’ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے‘‘، چناں چہ عمار سوار ہوئے اور وہ دونوں ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔(دیکھیں: کتاب( بحار الأنوار) للمجلسی)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ایک کتّےنے عربی نخوت اور خودداری وغیرت کی وجہ سےعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے انتقام میں دو صحابہ کو دانت سے کانٹ لیا۔اور ایک گدھے نے یہ گواہی دی کہ علی رضی اللہ عنہ اللہ کے ولی ہیں، اور اس کےرسولﷺ کے وصی ہیں۔(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار) للمجلسی ،۴۱؍۲۴۷،و۱۷؍۳۰۶)۔

 شیعہ اثناعشریہ کا فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں غلو کرنا

٭ شیعہ فاطمہ ،حسن، حسین اوراولاد حسن کو چھوڑ کربقیہ اولاد حسین کی عصمت کے قائل ہیں (دیکھیں: کتاب (عقائد الإمامیۃ) لمحمد رضا مظفر ،ص۸۹و۹۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اگر علی نہ ہوتے تو محمد ﷺ کی پیدائش نہ ہوتی، اور اگر فاطمہ نہ ہوتیں تو تم دونوں کو نہ پیدا کرتا۔(دیکھیں: کتاب (الأسرار الفاطمیۃ) لمحمد مسعودی ،ص۹۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

فاطمہ رضی اللہ عنہا الٰہی عظمت و قوت کا زندہ وجود ہیں جو عورت کی شکل میں نمودار ہوا (دیکھیں: کتاب (الأسرار الفاطمیۃ) لمحمد مسعودی ،ص۳۵۵)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

 فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی ماں سے گفتگوکرتی تھیں حالاں کہ وہ ان کی پیٹ میں تھیں ۔(دیکھیں: کتاب (فاطمۃ الزھراء من المھد إلی اللحد) لمحمد قزوینی ،ص۳۸)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کا اپنے اماموں کو نبیوں پر فوقیت دینا اور ان کے حق میں غلو کرنا

٭ شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

 ائمہ اثنا عشریہ انبیاء ورسل سے افضل ہیں۔ (دیکھیں: کتاب (الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری،۳؍۳۰۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شیعہ کے ائمہ ماکان وما یکون(ازل سے ابد تک) کی بات جانتے ہیں، اور ان پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے، اور وہ اپنی اختیار سے ہی موت پاتے ہیں۔ (دیکھیں: کتاب( أصول الکافي) للکلینی،۱؍۲۵۸،۲۶۰)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک امام کے لئے مقام محمود،بلند درجہ اور ایسی تکوینی خلافت ہوتی ہے جس کی ولایت اور تسلط و سطوت کے لئے دنیا کے تمام ذرّے تابع ہوتے ہیں۔(دیکھیں: کتاب (تحریر الوسیلۃ) للخمینی، ص۵۲)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ائمہ اثنا عشریہ کے لئے خالق کے علاوہ تکوینی ولایت حاصل ہے، اور یہ ولایت اسی طرح ہے جس طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی ولایت ہے۔( دیکھیں: کتاب (مصباح الفقاھۃ) لابی القاسم خوثی، ۵؍۳۳)۔

٭اسی طرح و ہ کہتے ہیں کہ:

ہمارے (یعنی ائمہ اثنا عشریہ) کے اللہ کے ساتھ ایسے حالات ہیں جہاں تک کسی مقرّب فرشتہ اور نبی مرسل کی پہنچ نہیں ہوسکتی ہے۔(دیکھیں: کتاب (تحریر الوسیلۃ) للخمینی، ص۹۴)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ائمہ اثنا عشریہ کو اپنی اجازت سے معاملات جاری کرنے اور شب قدر وغیرہ میں اسے تنفیذ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، اور اس امر کے ثبوت میں کوئی مانع نہیں ہے۔(دیکھیں: کتاب (البرھان القاطع) ،لمحمد تقی بہجت ،ص۱۴، یہ شرعی وعقدی سوالوں کے جوابات کا مجموعہ ہے جسے شیعہ اثنا عشریہ کے شیخ محمد تقی بہجت نے دئیے ہیں)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک اوصیاء یعنی(ائمہ اثنا عشریہ) پہلؤوں میں اٹھائے جاتے ہیں،اور رانوں سے نکالے جاتے ہیں، اور انہیں کوئی نجاست نہیں لگتی۔ (دیکھیں: کتاب (مدینۃ المعاجز) لہاشم بحرانی، ۸؍۲۲)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک اللہ،اس کے فرشتے، اور انبیاء ومومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کرتے ہیں۔(دیکھیں: کتاب (الفروع من الکافي) للکلینی ،۴؍۵۸۰)ْ

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

امام نبی کی طرح ہے، لہذا اس کے لئے ضروری ہے کہ طفولیت کی عمر سے لے کر موت تک عمدا یا سہوا تمام ظاہری وباطنی فواحشات ورزائل سے معصوم ہو، کیوں کہ ائمہ شریعت کے محافظ ونگراں ہیں، اس سلسلے میں ان کی حالت نبی کی حالت کی طرح ہے۔ (دیکھیں: شیعہ اثناعشریہ کے شیخ ابراھیم زنجانی کی کتاب (عقائد الإمامیۃ) ،۳؍۱۷۹ کو)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ملائکہ کی پیدائش اہل بیت کی خدمت کرنے کے لئے ہوئی ہے۔(دیکھیں: کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۲۶؍۳۳۵)۔

 شیعہ اثناعشریہ کا تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ بقیہ کوکافر قراردینا

٭ شیعہ اثنا عشریہ تین صحابہ کرام کو چھوڑ کر بقیہ تمام صحابہ کرام کو کافر ومرتد کہتےہیں، اور ان میں سر فہرست ابوبکر،عمر، عثمان،خالد بن ولید، معاویہ بن ابی سفیان اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم ہیں ۔(دیکھیں: کتاب( الروضۃ من الکافي) للکلینی، ۸؍۲۵۴)۔

شیعہ اثنا عشریہ کا ابوبکر،عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے بغض و عداوت رکھنا

٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

تبرّا کے سلسلے میں ہمارا (شیعہ اثنا عشریہ کا )عقیدہ یہ ہے کہ: ہم چار بتوں (ابو بکر، عمر، عثمان، معاویہ ) اور چار عورتوں(عائشہ، حفصہ، ہند، امّ الحکم )، اور ان کے تمام متبوعین وپیروکاروں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں، اور (ہم یہ کہتے ہیں کہ) یہ لوگ روئے زمین پر سب سے بُرے لوگ ہیں، اور اللہ ،اس کے رسول اور ائمہ پر ان کے دشمنوں سے تبرا بازی کئے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ (دیکھیں: کتاب(حق الیقین) للمجلسی ،ص۵۱۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کافر ہیں، اور ان دونوں سے محبّت کرنے والا بھی کافر ہے۔ (دیکھیں: کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۶۹؍۱۳۷،۱۳۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ابوبکر وعمر ملعون ہیں ،اور یہ دونوں اللہ عزوجل کے ساتھ کفروشرک کرکے مرے۔(دیکھیں: کتاب(بصائر الدرجات) للصفّار،۸؍۲۴۵)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

نبی ﷺ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ غار (ثور) اس وجہ سے لے گئے کیوں کہ خدشہ تھا کہ کہیں وہ کفار کو آپ ﷺکے بارے میں جانکاری نہ دیدیں۔(دیکھیں: کتاب (تفسیر البرھان) لہاشم بحرانی، ۲؍۱۲۷)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے حالاں کہ ان کی گردن میں بُت لٹکے ہوتے اور وہ ان کی سجدہ کر رہے ہوتے۔(دیکھیں: کتاب(الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۱؍۵۳)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 عمررضی اللہ عنہ کو ایک ایسی بیماری لاحق تھی کہ جسے آدمی کا پانی (منی)ہی شفا دے سکتا تھا، اور ۔معاذ اللہ۔ ان کی دادی زنا کی بیٹی تھیں۔ (دیکھیں: کتاب(الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۱؍۶۳، و کتاب (الصراط المستقیم) لزین الدین النباطی البیاضی،۳؍۲۸)۔

٭ اسی طرح یوم نیروز کی تعظیم کے قائل ہیں، اور عمر رضی اللہ کے قتل کیے جانے والے دن کا جشن مناتے ہیں، اور ان کے قاتل کو بابا شجاع الدین کا نام دیتے ہیں، اور عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کرنےکی وجہ سے بطور جزا اس کی قبر کی زیارت پر لوگوں کو ابھارتے ہیں۔(دیکھیں: کتاب (عقد الدرر في بقر بطن عمر) لیاسین الصوّاف،ص۱۲۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

قریش کے دوبت یعنی( ابوبکر وعمر) پر بد دعا کرنا عظیم ترین نیکی اور طاعات میں سے ہے، اور انہیں لوگوں نے ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما پر جبت اور طاغوت کا اطلاق کیا ہے۔ (دیکھیں: کتاب(إحقاق الحق) للمرعشی،۱؍۳۳۷)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ان کے من گھڑت وجھوٹے مہدی ابوبکر اور عمررضی اللہ عنہما کو زندہ کریں گے اور انہیں پھانسی دے کر جلائیں گے، پھر وہ امّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو زندہ کریں گے اور ان پر حد قائم کریں گے۔(دیکھیں: کتاب ( الرجعۃ) لاحمد احسائی ،ص۱۱۶، ۱۶۱)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

عثمان رضی اللہ عنہ زانی اور مخنّث(ہجڑے) تھے اور دف بجاتے تھے۔(دیکھیں: کتاب (الصراط المستقیم) لزین الدین النباطی البیاضی،۳؍۳۰)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کے من گھڑت (جھوٹے وخود ساختہ)مہدی اور قولِ رجعت

٭ شیعہ اثنا عشریہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

جبرئیل ،میکائیل، کرسی، لوح محفوظ اور قلم سب ان کے مہدی کے تابع ومطیع ہیں، یہ اس لئے کہ ان کے مہدی سفّاح (خون ریز )ہیں۔ (دیکھیں : کتاب( عقائدالإمامیۃ) لمحمد رضا مظفر ،ص۱۰۲)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

شیعہ کے نام نہادمہدی کا جسم اسرائیلی جسم ہے۔(دیکھیں: کتاب( الإمام المھدي من الولادۃ إلی الظھور) لمحمد قزوینی ،ص۵۳)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شیعہ کے مہدی نیا حکم ،نیا کتاب، نیا فیصلہ لے کر آئیں گے اور وہ عرب پر شدید ہوں گے،ان کا معاملہ صرف تلوار کاہوگا، نہ وہ کسی کا توبہ قبول کریں گے اور نہ ہی اللہ کی راہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کو خاطر میں لائیں گے۔(دیکھیں: کتاب( الغیبۃ) لمحمد نعمان ،ص۱۵۴)۔

٭اسی طر ح وہ کہتے ہیں کہ:

 جب مہدی خروج کریں گے تو ان کے اور عرب وقریش کے درمیان معاملہ صرف تلوار کا ہوگا۔ (دیکھیں: کتاب( الغیبۃ) لمحمد نعمان ،ص۱۵۴)۔

 ٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ہمارےاور عربوں کے درمیان صرف ذبح کا معاملہ باقی رہ گیا ہے، اور پھرہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔( دیکھیں: کتاب( الغیبۃ) لمحمد نعمانی ،ص۱۵۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ان کے مہدی مسجد حرام اور مسجد نبوی کو مسمار کریں گے، اور آل داؤد کے حکم کے مطابق فیصلہ کریں گے، اور اللہ سے اپنے عبرانی نام سے کلام کریں گے، بلکہ دوتہائی زمین کے لوگوں کو قتل کریں گے۔(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار) للمجلسی،۵۲؍۳۳۸، وکتاب(أصول الکافي) ،۱؍۳۹۷، وکتاب(الغیبۃ) للنعمانی،ص۳۲۶،وکتاب (الّرجعۃ) لاحمد احسائی ،ص۵۱)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جہاد اس وقت تک جائز نہیں جب تک ان کے نام نہادمہدی اپنے سرداب(غار) سےباہر نہ آجائیں۔(دیکھیں: کتاب (وسائل الشیعۃ) للحر العاملی،۱۱؍۳۷)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کا قبروں اور مزاروں کی عبادت کے بارے میں قبیح غلو

٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت بیت اللہ الحرام سے زیادہ بہتر ہے، بلکہ حسین کے زائرین پاک لوگ ہیں، اور ان کے بارے میں شک وتردّد(توقّف) کرنے والے اولاد زنا ہیں۔(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار للمجلسي) ،۹۸؍۸۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کرنا دو ملیون (بیس لاکھ) حج ،دو ملیون(بیس لاکھ) عمرہ اور دو ملیون(بیس لاکھ) غزوہ کے برابر ثواب ہے، اور ہر حج ،عمرہ اور غزوہ کا ثواب رسول اللہ ﷺ اور ائمہ راشدین کے ساتھ حج ،عمرہ اور غزوہ کے ثواب کی طرح ہے۔ (دیکھیں: کتاب( نور العینین في المشي إلی زیارۃ قبر الحسین) لمحمد الاصطھباناتی،ص۲۶۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 کربلا اسلام میں سب سے مقدّس جگہ ہے، نیز مکہ و مدینہ اور بیت المقدس سے زیادہ عظیم ہے۔(دیکھیں: شیعوں کے شیخ عباس کاشانی کی کتاب(مصابیح الجنان) ،ص۳۶۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کی مٹی کو کھانا ہر بیماری سے شفاہے۔(دیکھیں: شیعوں کے شیخ مفید کی کتاب(المزار) ،ص۱۲۵)۔

٭ اسی طرح وہ ۔جھوٹے طور پر۔ کہتے ہیں کہ:

ابو عبد اللہ (جعفر صادق) رحمہ اللہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر میں تمہیں حسین اور ان کے قبر کی زیارت کی فضیلت بیان کردوں، تو تم لوگ سرے سے حج ہی کرنا چھوڑ دوگے، تمہاری بربادی ہو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم بنانے سے پہلے کربلا کو امن والا اور مبارک حرم بنایا تھا؟! (دیکھیں: شیعوں کے شیخ ابن قولویہ قمی کی کتاب(کامل الزیارات) ، ص۴۴۹)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 بے شک مقبروں میں نماز ادا کرنا مسجد میں نماز ادا کرنے سےزیادہ بہتر ہے، بلکہ کہا گیا ہے کہ: مسجد حرام میں نماز ادا کرنے کے بالمقابل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی مسجد میں نماز ادا کرنا اس سے دوگُنا اجر کا باعث ہے۔ (دیکھیں: شیعوں کے شیخ علی سیستانی کی کتاب(منھاج الصالحین) ، ۱؍۱۸۷)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 اسلام میں سب سے بڑی عید ،عید الفطر اور عید الأضحٰی نہیں ہے، بلکہ عید غدیر ہے جو کہ بدعی(نئی ایجاد کردہ) ہے اور اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔(دیکھیں: شیعوں کے شیخ محمد شیرازی کا رسالہ(عید الغدیر) ،ص۱۱)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کی کفار سے دوستی ، اور ان کی خیانتوں اور بے وفائیوں کا بیان

٭شیعہ اثناعشریہ کہتے ہیں کہ:

اور اہل کوفہ پرملامت وناگواری کی وجہ یہ ہےکہ انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو طعن کا نشانہ بنایا، اورحسین کو دعوت دینے کے بعد قتل کرڈالا(دیکھیں: کتاب (تاریخ الکوفہ) ،ص۱۱۳)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک حسین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ کر دےجنہوں نے ہماری مدد کے لئے ہمیں دعوت دی لیکن انہوں نے ہمیں قتل کرڈالا۔(دیکھیں :کتاب( منتھی الآمال) ،۱؍۵۳۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں:

 حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں (یعنی کوفہ کے شیعوں) نے ہمیں خوفزدہ کیا، اور یہ اہل کوفہ کی کتابیں(خطوط) ہیں، اور یہی میرے قاتل ہیں۔ (دیکھیں: کتاب(مقتل الحسین) لعبد الرزاق المقرم،ص۱۷۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 علی بن حسین رحمہ اللہ نے اہل کوفہ کو روتے اور نوحہ کرتے دیکھ کر فرمایا: ہماری خاطر تم روتے اور نوحہ کرتے ہو! تو پھر وہ کون ہے جس نے ہم کو قتل کیا ہے؟؟(دیکھیں: کتاب (نفس المھموم) لعباس قمی،ص۳۵۷)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ( پھرحسین رضی اللہ عنہ سے اہل عراق کے بیس ہزار لوگوں نے بیعت کی جنہوں نے آپ کے ساتھ غداری کی، آپ کے خلاف خروج کیا جبکہ آپ کی بیعت ان کے گردنوں میں(لٹکی ہوئی) تھی، اور پھر انہوں نے آپ کو قتل کرڈالا۔(دیکھیں: کتاب (أعیان الشیعۃ) لمحسن امین،۱؍۳۲)۔

٭ اسی طرح وہ اسلامی ممالک کے خلاف دشمنوں کی نصرت ومدد کو واجب کہتے ہیں،اور قبضہ گرجنگجؤوں سے عدم تعرّض کے قائل ہیں۔

(دیکھیں: شیعوں کے بڑے مرجع سیستانی کے ۴ ؍۳؍۲۰۰۳ عیسوی کوجاری کردہ فتوی کو جس میں عراق پر حملہ کرنے والی امریکی فوجیوں سے جنگ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،اور شیعوں کے شیخ محمد مہری نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ عراق میں جو شیعہ کے مراجع کی طرف سے فتوی صادر ہوتا ہے اور جس میں ان اجنبی فوجیوں کے خلاف وجوب جہاد کا مطالبہ کیا جاتا ہےجوعراق کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں وہ فتوی دلیل سے خالی ہے، اور یہ فتاوےمحض تقیہ وخوف اور زندگی کی حفاظت کے طور پر ہیں،کیوں کہ یہ اکراہ واجبار کے تحت ہیں۔ اور اس کی تاکید شیعوں کے مرجع صادق شیرازی مقیم ’’قُم‘‘ کے فتوی سے ہوتی ہے جو عراقی نظامِ حکومت کے اسقاط کے لئے امریکہ کے ساتھ تعاون کو جائز سمجھتا ہے۔ (دیکھیں: جریدہ الوطن،کویت، بروز جمعہ، ۲۷؍۹؍۲۰۰۲م)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بےشک وہ مسلمان جو سرحدوں پر کفار سے لڑائی کرتے ہیں وہ دنیا وآخرت میں جنگجو ہیں، اور شہداء تو صرف شیعہ امامیہ ہیں گرچہ اپنی بستروں پر ہی وفات پائیں۔(دیکھیں: کتاب (تھذیب الأحکام) للطوسی، ۶؍۹۸)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کا مکہ اور مدینہ سے بغض و عداوت رکھنا

٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

اہل مکہ اعلانیہ طور پر اللہ کا انکار وکفرکرتےتھے، اور اہل مدینہ اہل مکہ سے ستّر گنازیادہ خبیث تھے۔(دیکھیں: کتاب(أصول الکافي) للکلینی، ۲؍۴۱۰)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کا مصر وشام سے بغض و عداوت رکھنا

٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

 مصر کے لوگ داؤد علیہ السلام کی زبانی لعنت کئے گئے ،چناں چہ ان میں سے بندر اور سور بنادئے گئے۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جب اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل سے ناراض ہوا تو انہیں مصر میں داخل کردیا، اور جب ان سے راضی ہوا تو اس سے باہر نکال دیا۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ان کے معصوم امام ابوجعفرؒ نے فرمایا کہ:میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ کسی ایسی چیز کو کھاؤں جو مصر کی پکی ہوئی مٹی سے بنائی گئی ہو، اور میں مصر کی مٹی سے اپنا سر دھونے کو نا پسند کرتا ہوں اس خوف سے کہ کہیں اس کی مٹی وراثت میں مجھے ذلت نہ دیدے،اور میری غیرت کو ختم کردے، مصرکو فتح کرو لیکن اس میں قیام کا مطالبہ نہ کرو، اور میرا گمان ہےکہ انہوں نے کہا: کہ وہ دیوثیت پیدا کردےگی۔(دیکھیں: کتاب(تفسیر القمي) للقمی،۲؍۲۴۱،وکتاب (تفسیر البرھان) لہاشم بحرانی ،۱؍۴۵۶،وکتاب(فروع الکافي) للکلینی،۶؍۵۰۱، وکتاب (بحار الأنوار) للمجلسی،۶۰؍۲۱۱)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شام کیا ہی بہتر زمین ہے، اور اس کے باشندے کتنے ہی برے ہیں، رومیوں نے کفر کیا لیکن ہم سے دشمنی نہیں کی، جبکہ شامیوں نے کفر کیا اور ہم سے دشمنی کی، اور یہ نہ کہو کہ اہل شام سے،بلکہ کہو اہل شؤم(منحوس ملک) سے۔(دیکھیں: کتاب (تفسیر البرھان) لہاشم بحرانی،۱؍۴۵۶، وکتاب (أصول الکافي) للکلینی،۲؍۴۱۰، وکتاب (تفسیر القمي) للقمی،۲؍۲۴۱)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کےاصحاب عمائم کا خُمس کھانا

٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

 خُمس کا مال جو خاندان نبی ﷺ کے لئے مختص تھا اسے اصحاب عمائم اس حجّت کی بنا پر لیتے ہیں کہ وہ ان کے سرداب(غار) میں روپوش غائب امام کے قائم مقام ہیں۔(دیکھیں: کتاب( وسائل الشیعۃ) للحر العاملی،۶؍۳۸۳)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کا رخسار پیٹنے اور کودنے واچھلنے کو عظیم ترین نیکی سمجھنا

٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

عاشوراء کے موقع پر رخسار نوچنا، کودنا واچھلنا اور کالا لباس پہننا اور حسین رضی اللہ عنہ کا نوحہ وماتم کرنا عظیم ترین نیکیوں میں سے ہیں، بلکہ یہ افعال پسندیدہ اعمال میں سے ہیں۔(دیکھیں: فتاوی محمد کاشف الغطا، والروحانی، والتبریزی، وغیرھم من مراجع الإمامیۃ)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کا مُتعہ پر ابھارنا اور بدکار عورتوں سے لطف اندوز ہونا

٭شیعہ اثنا عشری کہتے ہیں کہ:

آدمی بطور متعہ ہزار بار شادی کرسکتاہے، کیوں کہ متعہ والی عورت کو نہ طلاق دی جاتی ہے اور نہ وارث بنایا جاتا ہے،بلکہ یہ تو کرایہ پر لی ہوئی چیز ہوتی ہے۔ (دیکھیں: کتاب( الاستبصار) لابی جعفر طوسی،۳؍۱۵۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

متعہ کی اولاد دائمی بیوی کی اولاد سے افضل ہوتی ہے۔(دیکھیں: کتاب(منھج الصادقین) للملا فتح اللہ کاشانی،ص۳۵۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

بدکار اور فاجرہ عورتوں سے متعہ کرنا جائز ہے، بلکہ ان کے نزدیک ان (عورتوں سے متعہ)کے بارے میں ترغیب آئی ہوئی ہے۔(دیکھیں:کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۱۰۰؍۳۱۹،۳۲۰) ۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

متعہ شدہ عورت چار(بیویوں) میں سے نہیں ہے، کیونکہ نہ اس کی طلاق ہوتی ہے اور نہ وارث ہوتی ہے، بلکہ یہ کرایہ پر لی ہوئی چیز ہوتی ہے۔(دیکھیں:کتاب (الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۴۱۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

حسینہ عورتوں سے متعہ کرنا جائز ہے گرچہ وہ شادی شدہ یا بدکار ہوں۔(دیکھیں: الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۴۶۲)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ادنیٰ درجے کا متعہ یہ ہے کہ آدمی عورت سے ایک مرتبہ متعہ کرے۔(دیکھیں: کتاب (الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۴۶۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 زانیہ عورت سے کراہت کے ساتھ متعہ کرنا جائز ہے ،خاص طور سے جب وہ زنا وبدکاری سے مشہور ہو۔(دیکھیں: کتاب(تحریر الوسیلۃ) للخمینی،۲؍۲۵۶)۔

 تقیّہ (زبان سے کچھ کہنا اور دل میں کچھ رکھنا) اور جھوٹ شیعہ اثنا عشری مذہب کی اساس ہے

٭شیعہ اثنا عشری تقیّہ کے قائل ہیں،اور ان کے نزدیک تقیّہ کہتے ہیں ایسی چیز کا اظہار کرنا جو باطن کے خلاف ہو، یا جیسا کہ ان کے علما میں سے کسی نے یوں تعریف کی ہے: تقیہ یہ ہے کہ تو ایسی بات کہے یا ایسا کام کرے جس کا تو اعتقاد نہیں رکھتا ہے تاکہ اپنے نفس سے تکلیف دہ چیز کو دور کرسکے یا اپنی کرامت کی حفاظت کرسکے۔(دیکھیں: کتاب(الشیعۃ في المیزان) لمحمد جوّاد مغنیۃ،ص۴۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

دین کا دس میں سے نو حصّہ تقیّہ میں ہے، اور اس شخص کا کوئی دین نہیں ہے جو تقیّہ نہ کرے۔(دیکھیں: کتاب (أصول الکافي) للکلینی،۲؍۲۱۷)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

تم ایسے دین پر ہو جس نے اسے چھپایا اسے عزّت ملے گی، اور جس نے اسے ظاہر کیا اللہ اسے ذلیل کردے گا۔(دیکھیں: کتاب (أصول الکافي) للکلینی،۲؍۲۲۲)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 حسین نبی ﷺ کے انگھوٹے سے دودھ پیتے تھےجو دو تین دن کے لئے کافی ہوتا تھا۔ ((دیکھیں: کتاب (أصول الکافي) للکلینی،۱؍۴۶۵)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کا مسلمانوں کی تکفیر کرنا اور ان سے حقد وحسد کرنا

٭شیعہ اثناعشریہ کہتے ہیں کہ:

ائمہ اثنا عشریہ اور ان کے پیروکارشیعہ امامیہ کے علاوہ کوئی ملّت اسلام پر نہیں ہے۔ (دیکھیں: کتاب (أصول الکافي) للکلینی،۱؍۲۲۳،۲۲۴)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

امام مہدی عنقریب واپس آئیں گے اور شیعوں کے دشمن اہل اسلام سے انتقام لیں گے،رہی بات یہود ونصاریٰ کی تو ان سے وہ مصالحت ومسالمت کرلیں گے۔(دیکھں: کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۵۲؍۳۷۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ہماری تردید کرنے والا گویا اللہ کی تردید کرنے والا ہے، اور یہ شرک باللہ کی حد تک پہنچا ہواہے۔(دیکھیں: کتاب(أصول الکافي) للکلینی۱؍۶۷)۔

٭اسی طر ح وہ کہتے ہیں کہ:

شیعہ کے علاوہ سارے لوگ اولاد زنا ہیں۔ (دیکھیں: کتاب(الروضۃ من الکافي) للکلینی،۸؍۲۸۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جوبھی بچہ پیدا ہوتا ہے ابلیسوں میں سے کوئی نہ کوئی ابلیس اس کے پاس حاضر رہتا ہے، پس اگر اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ نومولود شیعہ میں سے ہے تو اسے اس شیطان سے روک دیتا ہے،اور اگر یہ نومولود شیعہ کی جماعت سے نہیں ہوتا تو شیطان اس کی شرمگاہ میں اپنی انگلی کو داخل کرتا ہےچناں چہ وہ مابون(متّہم) ہوجاتا ہے اور اسی طرح لونڈی کی شرمگاہ میں انگلی داخل کرتا ہے تو وہ فاجرہ وبدکارہوجاتی ہے۔ (دیکھیں: کتاب(تفسیر العیاشي) محمد العیاشی،۲؍۲۱۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 اگر کوئی شخص شیعہ اثناعشریہ نہیں ہے، یا ائمہ اثنا عشریہ میں سے کسی ایک پر ایمان نہیں رکھتا، یا ان میں سے کسی کا بھی انکار کرتا ہے تو وہ کافر ہے،اور آخرت میں اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ (دیکھیں:کتاب(جامع أحادیث الشیعۃ) للبروجردی، ۱؍۴۲۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اخبار سے زیادہ سے زیادہ یہی معلوم ہوتا کہ آخرت میں کافر اور مشرک کا حکم ہراس شخص پر جاری ہوگا جو اثناعشریہ میں سے نہیں ہوگا۔(دیکھیں: کتاب( تنقیح المقال) لعبد اللہ المامقانی،۱؍۲۰۸)۔

 شیعہ اثنا عشریہ کا اہل سنّت کےخلاف اس قدر حقد کرنا جو وصف سے باہر ہے

٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

بے شک ناصبی مسلم کا خون حلال ہے، لیکن میں تجھے تقیہ اختیار کرنے کو کہوں گا ،اگر تو اس ناصبی مسلم پر کسی دیوار کو گراسکے،یا اسےکسی پانی میں غرق کرسکے تاکہ تیرے خلاف اس فعل پر کوئی گواہی نہ دے تو اسے انجام دے، پوچھا گیا: تمہارا اس کے مال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فرمایا: جس مال پرتو قادرہو اسے ہلاک وبرباد کردے۔ (دیکھیں: کتاب( وسائل الشیعۃ) للحرّ العاملی ۱۸؍۴۶۳)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

سنّی کی دیت بکرا کی طرح ہے، بلکہ بکرااس سے بہتر ہے، اور یہ ان کے چھوٹے بھائی کی دیت کے مساوی نہیں ہے، اوروہ شکاری کتّاہے، اور نہ ہی ان کے بڑے بھائی کی دیت کے مساوی ہے، اور وہ یہودی ہے۔ (دیکھیں: کتاب (الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری،۳؍۳۰۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ناصبی مسلمان کے مال کو جہاں پاؤ لے لو اور اس کا خمس ہمیں ادا کرو۔(دیکھیں: کتاب (وسائل الشیعۃ) للحرّ العاملی ۶؍۳۴۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک روزِ قیامت سنیّوں کی نیکیاں شیعوں کو دیدی جائیں گی،اور شیعوں کی برائیاں سنّیوں پر لاد دی جائیں گی اور پھر انہیں جہنم میں ڈال دیا جائیگا۔(دیکھیں: کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۵؍۲۴۷،۲۴۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اہل سنت نجس ہیں اور ان کے خون ومال مباح ہیں، بلکہ وہ مخلّد فی النار ہیں، اوروہ اس میں سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ (دیکھیں: کتاب(الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۲؍۳۰۶، وکتاب (حق الیقین في معرفۃ أصول الدین) لعبد اللہ شبر۲؍۱۸۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

جب شیعی کسی شیعی سے کہے (اے سنُّی) تووہ اسے سزا دے رہا ہوتا ہے،اور شرعاً ثابت ہے کہ اس کی تعزیر کرنا اسے دھمکانا اور ڈانٹناہے۔(دیکھیں: کتاب(حیاۃ المحقق الکرکي وآثارہ) ،۶؍۲۳۷)۔

 شیعہ اثناعشریہ کے خُرافات

٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

 فرشتوں کی ایک جماعت نے کسی چیز کے بارے میں آپس میں اختلاف کیا تو انہوں نے آدمیوں میں سے کسی کو حکم بننے کا سوال کیا تو اللہ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ تم لوگ خود انتخاب کرو تو انہوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔ (دیکھیں: کتاب(مسند فاطمۃ) لحسین تویسرکانی،ص۲۹۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

عفیر گدھے نے رسولﷺسے ہم کلام ہوکر کہا: میرے ماں باپ آپ پرفداہوں، میرے باپ نے اپنے باپ کے واسطے سے،اپنے دادا کے ذریعہ، ان کے والد کے توسّط سے روایت نقل کی ہے کہ:وہ سفینہ نوح میں نوح علیہ السلام کے ساتھ تھے،نوح علیہ السلام ان کے پاس آئے،اور اس کے سرین پر ہاتھ پھیرا اور کہا:اس گدھے کی ذریت میں ایک ایسا گدھا ظاہر ہوگا جس پر سیدالمرسلین وخاتم النبیین سواری کریں گے،پس اللہ کی تعریف ہے کہ اس نے مجھے وہ گدھا بنایا (دیکھیں :کتاب(أصول الکافی)للکلینی،۱؍۲۳۷)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ان کے امام باقرؒ نےمٹی سے ایک ہاتھی بنایا اور اس پر سوار ہوکر مکّہ گئے۔ (دیکھیں: کتاب(مدینۃ المعاجز) لہاشم بحرانی،۵؍۱۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ائمہ (اثناعشریہ) کے پیشاب وپاخانہ میں کوئی خباثت،بدبواور گندگی نہیں پائی جاتی، بلکہ مشک عنبر کی طرح ہے،اورجس نے ان کے پیشاب وپاخانہ اور خون کو نوش کیا اللہ اس پر جہنم حرام کردے گا اور جنت میں دخول کو واجب کردے گا۔

(دیکھیں: أنوار البھیّۃ) لآیت اللہ الآخوند ملازین العابدین الکلبایکانی،ص۴۴۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ائمہ کے پیٹ سے خارج ہونے والی ہوا(ریح)یا غلیظ وغلاظت (گوز وپاخانہ)مشک عنبر کی طرح ہوتی ہے۔(دیکھیں: کتاب(أصول الکافي) للکلینی،۱؍۳۱۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

کالا جوتا پہننے میں تین باتیں پائی جاتی ہیں: میں نے کہا: تین باتیں کون سی ہیں آپ پر میری جان قربان ہو؟؟ فرمایا: نگاہ کمزور کرتا ہے، آلہ تناسل کو ڈھیلا کردیتا ہے، اور غم لاحق کرتا ہے۔ (أصول الکافي)للکلینی،۱؍۳۱۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

پیلا جوتا پہننے میں تین باتیں پائی جاتی ہیں: نگاہ صاف کرتا ہے، آلہ تناسل کو سخت کرتا ہے، اور غم کو دور کرتا ہے۔(دیکھیں: کتاب(الفروع من الکافي) للکلینی،۶؍۴۶۵)

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

گاجر کاکھانادونوں گردوں کو گرم کرتا ہے، اور آلہ تناسل کو سیدھا(کھڑا) رکھتاہے او رجماع میں مدد کرتا ہے۔(دیکھیں: کتاب( الفروع من الکافي) ،۶؍۳۷۲)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شیطان عورت کےپاس آکر اسی طرح بیٹھتا ہے جس طرح آدمی عورت کے پاس بیٹھتا ہے، اور اس سے اسی طرح بات کرتا ہے جس طرح آدمی بات کرتا ہے، اوراسی طرح جماع کرتا ہے جس طرح آدمی جماع کرتا ہے، میں نے کہا: یہ کیسے معلوم ہوتا ہے؟؟ فرمایا: ہم (شیعہ)سے محبت اور بغض کے ذریعے،پس جس نے ہم سے محبت کیا تو اس کا نطفہ بندے(انسان) کا ہوگا، اور جس نے ہم سے بغض وحسد کیا اس کا نطفہ شیطان کا ہوگا۔ (دیکھیں: کتاب( الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۵۰۲)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شرمگاہ دو ہوتی ہیں(قُبل اوردُبر) ،رہی بات دُبر کی تو وہ دونوں سُرین سے ڈھکی ہوتی ہے، پس جب تم آلہ تناسل اور دونوں انڈوں(خصیتین) کو ڈھاک لیتے ہو تو پوری طور سے شرمگاہ کا پردہ کردیتے ہو۔(دیکھیں: کتاب( الفروع من الکافي)للکلینی،۶؍۵۰۱)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

رہی بات دیگر لطف اندوزی کی جیسے شہوت سے چھونا،جسم کو ملانا وچمٹانا،رانوں کا بوسہ دینا تو اس میں کوئی حرج نہیں،چاہے شیرخوار (دودھ پیتی بچی) ہی کیوں نہ ہو۔(دیکھیں: کتاب( تحریر الوسیلۃ) للخمینی،۲؍۲۲۱)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

حائضہ کےغسل کرنے سے پہلے اس سےجماع کرنا جائز ہے۔(دیکھیں : کتاب(الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۳۹۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 عورت کے دبر میں جماع کرنا جائز ہے۔(دیکھیں : کتاب(الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۵۴۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

حائضہ عورت جنازہ پڑھے گی، لیکن لوگوں کے ساتھ صف میں نہیں رہے گی۔(دیکھیں: کتاب (من لایحضرہ الفقیہ) لابن بابویہ القمی،۱؍۱۷۹)۔

وصلی اللہ علی نبیّنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم

 رافضہ شیعہ کی تردید سے متعلق اہم مصادر

1- فتاوى شيخ الإسلام لابن تيمية رحمه الله.

2-منهاج السنة النبوية لشيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله.

3-الملل والنخل للشهرستاني رحمه الله.

4-الفرق بين الفرق للبغدادي رحمه الله.

5-مقالات الإسلاميين للأشعري رحمه الله

۔من الكتّاب المعاصرين:( علمائے معاصرین کی کتابیں):

1-جميع مؤلّفات الشيخ إحسان الهي ظهير رحمه الله.

2-مسألة التقريب للشيخ د.ناصر القفاري حفظه الله.

3-أصول مذهب الشيعة الإثنا عشرية للشيخ د.ناصر القفاري حفظه الله.

4-جميع مؤلفات الشيخ محمد مال الله حفظه الله.

5-بذل المجهود في مشابهة الرافضة لليهود لعبد الله الجميلي حفظه الله.

6-حتى لا ننخدع لعبد الله الموصلي حفظه الله.

7-الشيعة الاثناعشرية وتكفيرهم لعموم المسلمين لعبد الله السلفي حفظه الله.

8-من قتل الحسين رضي الله عنه؟ لعبد الله بن عبد العزيز حفظه الله.

9-البرهان في تبرئة أبي هريرة من البهتان لعبد الله الناصر حفظه الله.

10- الانتصار للصحب والآل للدكتور إبراهيم الرحيلي حفظه الله.

11-كشف الجاني محمد التيجاني للدكتورعثمان الخميس حفظه الله.

12-بل ضللت في رد أباطيل التيجاني للشيخ خالد العسقلاني حفظه الله.

13-مع الاثني عشرية في الأصول والفروع للدكتورعلى السالوس حفظه الله.

14-تبديد الظلام وتنبيه النيام على خطرالتشيّع على المسلمين والإسلام للشيخ سليمان الجبهان رحمه الله. (ان کے علاوہ بہت سارے مصادر ومراجع ہیں، یہ بطور اختصارہیں نہ کہ حصر کے طور پر)۔

 رافضہ اثناعشریہ کی تردید سے متعلق چند مشہور ویب سائٹس

۱۔شبکۃ الدّفاع عن السنّۃ: sunnah.net http://www.d

۲۔موقع فیصل نور: http://www.fnoor.com ۳۔موقع البرھان: http://www.albrhan.com

۴۔موقع مھتدون: http://www.wylsh.com

۵۔حقیقۃ الخمینی:http://www.khomainy.com ۶۔دلیل حقائق الرّافضۃ :http://dhr12.com ۷۔موقع البیّنۃ: http://www.albainah.net

۸۔موقع أنصارالسنّۃ: http://www.ansar.org

۹۔موقع المنھج:http://www.almanhaj.com ۱۰۔رابطۃ أھل السنّۃ في إیران:http://www.isl.rog.uk ۱۱۔موقع الإمام المھدي:http://www.almhdi.com ۱۲۔(موقع دار الإسلام بلغات العالم) :http://www.islamhouse.com