صبح وشام کے اذکار ()

 

|

بك أصبحانا وبك أمسينا

 صبح وشام کے اذکار

ابن باز – ابن عثیمین – بکر ابوزید رحمہم اللہ

  ﴿اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ٢٥٥﴾

((اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے والا ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔)) [سورۃ البقرۃ: 255]

  ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ٢٨٥ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ٢٨٦﴾

((رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے، اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔)) [سورۃ البقرۃ: 285-286]

  ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾

مذکورہ تینوں سورتیں پوری کی پوری تین مرتبہ پڑھے۔

  أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ للهِ وَالْحَمْدُ للهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحَدْهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ربِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذَا الْيَومِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذَا الْيَومِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَسُوءِ الكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ.

ہم نے صبح کی اور اللہ کے ملک نے صبح کی، اور تمام تعریف اللہ کے لئے ہے، اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، واکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے ملک ہے، اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے میرے رب! اس دن میں جو خیر ہے اور جو اس کے بعد میں خیر ہے میں تجھ سے اس کا سوال کرتا ہوں، اور اس دن کے شر سے اور اس کے بعد کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے میرے رب! میں سستی اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے میرے رب! میں جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (شام کے وقت أَصْبَحْنَا کی جگہ أَمْسَيْنَا اور هَذَا الْيَومِ کی جگہ هـذهِ اللَّـيْلَةِ اور مَا بَعْدَهُ كى جگہ پر ما بَعْـدَهـا کہے۔) [مسلم]

  اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ.

اے اللہ! تیرے ہی حکم سے ہم نے صبح کی اور تیرے ہی حکم سے ہم نے شام کی، اور تیرے ہی حکم سے ہم جیتے ہیں، اور تیرے ہی حکم سے ہم مریں گے، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ (شام کے وقت اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا کہے) [ترمذی]

  اللّهُـمَّ ما أَصْبَـَحَ بي مِـنْ نِعْـمَةٍ أَو بِأَحَـدٍ مِـنْ خَلْـقِك ، فَمِـنْكَ وَحْـدَكَ لا شريكَ لَـك ، فَلَـكَ الْحَمْـدُ وَلَـكَ الشُّكْـر.

اے اللہ! مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جس نعمت نے بھی صبح کی ہے وہ صرف تیری طرف سے ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، پس تیرے ہی لئے حمد اور تیرے ہی لئے شکر ہے۔ (شام کے وقت ما أَمْسَى کہے۔) [ابوداود]

  اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ، وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ.

اے اللہ! میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرا عرش اٹھانے والوں کو، تیرے فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور بیشک محمد [ﷺ] تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ (شام کے وقت اللَّهُمَّ إِنِّي أَمْسَيْتُ کہے) (چار بار) [ابوداود]

  أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَعَلَى كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ، وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَى اللهُ عَلِيهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ، حَنِيفَاً مُسْلِماً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ.

ہم نے فطرت اسلام اور کلمہ اخلاص اور نبی محمدﷺ کے دین اور اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر صبح کی جو یک طرفہ خالص مسلمان تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔ (شام کے وقت أَمْسَيْنَا کہے) [احمد]

  اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي، وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي.

اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل اور اپنے مال میں تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میری پردہ والی چیزوں پر پردہ ڈال دے اور میری گھبراہٹوں کو امن میں رکھ، اے اللہ! میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں طرف سے، میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر، اور میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ اچانک اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔ [ابوداود]

  اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لّا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتَ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِر لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ.

اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا، اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں تیرے عہد ووعدے پر قائم ہوں جس قدر طاقت رکھتا ہوں، میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں، اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، کیوں کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔ [بخاری]

  اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّماوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءاً، أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ.

اے اللہ! اے غیب اور حاضر کے جاننے والے، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، ہر چیز کے پروردگار اور مالک! میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے، اور اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان کے لئے برائی کا سبب بنوں۔ [ترمذی]

  اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ.

اے اللہ! مجھے میرے جسم میں عافیت دے، اے اللہ! مجھے میرے کانوں میں عافیت دے، اے اللہ! مجھے میری آنکھوں میں عافیت دے، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، اے اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ (تین مرتبہ) [ابوداود]

  بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلاَ فِي السّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ.

اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین وآسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی، اور وہ خوب سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔ (تین مرتبہ) [ابوداود]

  رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبَّاً، وَبِالْإِسْلاَمِ دِيناً، وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – نَبِيّاً.

میں راضی ہو گیا اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کو دین اختیار کرنے پر اور محمدﷺ کو نبی تسلیم کرنے پر۔ (تین مرتبہ) [ترمذی]

  أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ.

میں اللہ تعالی کے مکمل کلمات کے ذریعہ ان تمام چیزوں کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جو اس نے پیدا کی ہیں۔ (تین مرتبہ) [ترمذی]

  حَسْبِيَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ.

مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا، اور وہ عرض عظیم کا رب ہے۔ (سات مرتبہ) [ابوداود]

  سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ.

اللہ پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے، اپنی مخلوق کی گنتی کے برابر، اپنے نفس کی رضامندی کے برابر، اپنے عرش کے وزن کے برابر، اور اپنے کلمات کی روشنائی کے برابر۔ (تین مرتبہ) [مسلم]

  اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْماً نَافِعاً، وَرِزْقاً طَيِّباً، وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً.

اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم اور پاکیزہ رزق اور قابل قبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔ [ابن ماجہ]

  لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.

اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے ملک ہے، اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سو مرتبہ) [بخاری]

  سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ.

اللہ پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے۔ (سو مرتبہ) [مسلم]

  أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ.

میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ (سو مرتبہ) [ابوداود]