عمل کے قبول ہونے کی شرطیں ()

 

|

 عمل کے قبول ہونے کی شرطیں

(ماخوز از مذکّرہ فی العقیدہ)

[ أردو - اردو - urdu ]

جمع وترتیب: ڈاکٹرصالح سعد سحیمی ؔ

ترجمہ: عبد الخالق محمد عزیرؔ

مراجعہ وتصحیح: شفیق الرحمن ضیا ء اللہ مدنیؔ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 عمل کے قبول ہونے کی شرطیں

(پیش نظر مضمون ڈاکٹر صالح سعد سحیمی حفظہ اللہ کی کتاب مذکرہ فی العقیدہ سے ماخوز ایک اہم فصل ہے ۔واضح رہے کہ کتاب (مذکرہ فی العقیدہ ) مدینہ یونیورسٹی کی طرف سے مختلف ممالک میں منعق

د ہونے والے تدریبی کورس میں بطور نصاب پڑھایا جاتا ہے۔مولانا عبدالخالق بن محمد عزیرؔنے موضوع کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے افادہ عام کیلئے اردو قالَب میں ڈھالا ہے ،رب کریم اس مضمون کے نفع کو عام کرے اور ہم سب کے اعمال کو کتاب وسنت کی شرطوں کے مطابق بنائے آمین)۔

یہ بات معلوم ہے کہ تمام عبادتیں توقیفی ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کو شریعت کے دستور کے مطابق پہچانا جاتا ہے ۔ کسی آدمی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق عبادت کرے بلکہ اس طریقے کے مطابق عبادت کرے جس کو قرآن کریم اور سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے مثلاً عبادت میں ضروری ہے کہ وہ عمل خالص اللہ کے لئے ہو ۔

یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کوئی بھی عمل جس سے ہم اللہ تعالی کا قرب حاصل کرتے ہیں اس کے صحیح ہونے کے لئے دو بنیادی شرطوں کا ہونا ضروری ہے اور ان دونوں شرطوں کا ایک ساتھ پایا جانا ضروری ہے ۔ ایک شرط دوسری سے جدا اور علیحدہ نہ ہو ۔

پہلی شرط : اللہ تبارک و تعالی کے لئے عبادت کو خالص کرنا

دوسری شرط :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متا بعت کرنا

ان دونوں شرطوں کو سورۃ الکہف کی اس آیت نے جمع کردیاہے :

﴿فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾(الکہف : ۱۱۰)

‘‘تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے’’۔

اللہ سبحانہ و تعالی نے حکم دیا ہے کہ عمل سنت کے مطابق ہو پھر حکم دیا ہے کہ عمل کرنے والا خالص اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرے اور اس عمل کے ذریعہ اس کے سوا کسی کا قرب تلاش نہ کرے ۔

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں فرمایا ہے : قبول ہونے والے عمل کے دو رکن ہیں ۔

۱۔ عمل کا خالص اللہ تبارک و تعالی کے لئے ہونا ۔

۲۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی روایت قاضی عیاض وغیرہ سے بھی مروی ہے ۔

پہلی شرط: اکیلے اللہ تبارک و تعالی کے لئے عبادت کو خالص کرنا

شرط اول کا معنی یعنی اخلاص: وہ یہ کہ عمل کرنے والا اپنے عمل سے اللہ سبحانہ و تعالی کی رضا کا ارادہ کرے جو ریاکاری اور شہرت سے دور ہو، وہ اپنے اس عمل سے کسی قسم کا بدلہ اور شکرانہ نہ تلاش کرے اس سلسلہ میں قرآن و حدیث کی نصوص کثرت سے وارد ہیں ۔

اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا:

﴿فَاعْبُدِ اللَّـهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ ﴾ ) الزمر : ۲(

‘‘پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے’’

﴿وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ﴾) القصص: ۷۷(

‘‘اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو، یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے’’

 حدیث قدسی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(أنا أغنى الشركاء عن الشرك، من عمل عملاً أشرك معي فيه غيري تركته وشركه ) (مسلم کتاب الزھد ج۴ ص ۲۲۸۹)

‘‘میں تمام شرکاء کے شرک سے بے نیاز ہوں جس نے کوئی ایساعمل کیا جس میں میرے ساتھ غیر کو شریک کیا تو میں اس کواور اس کے شریک کے کام کو چھوڑدیتا ہوں’’۔ یعنی میں اپنی عبادات مالیہ، قولیہ اور بدنیہ میں پارٹنر شپ کو گوارہ نہیں کرتا ۔ جو کوئی عبادت گزار میری عبادات میں دوسروں کو حصہ دار بنائے میں اس کی اپنے حصہ والی عبادت بھی قبول نہیں کرتا ۔

اس لئے کہ اس وقت اخلاص اور انسان کا اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرنے کے ساتھ ساتھ ممکن نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( إنما الأعمال بالنيّات ، وإنما لكل امريء مانوى ، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله ، فهجرته إلى الله ورسوله ، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها ، أو امرأة ينكحها ، فهجرته إلى ما هاجر إليه ) (رواه البخاري ومسلم)

‘‘اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ہر آدمی کے لئے وہی ہو گا جس کی اس نے نیت کی پس جس نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ اور اسکے رسول کیلئے ہو گی اورجس نے دنیا کے حصول کیلئے ہجرت کی یا کسی عورت سےنکاح کرنے کیلئے کی تو اس کی ہجرت اسی کیلئے ہوگی جس کی اس نے ہجرت کی’’۔ (بخاری ج ۱ ص ۹ مسلم ۳/۱۰۱۰)

دوسری شرط: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متا بعت کرنا ۔

اس کا معنی یہ ہے کہ وہ عمل جس کے ذریعہ ہم اللہ تبارک و تعالی کا قرب حاصل کرتے ہیں اس دستور اور آئین کے مطابق ہو جس کو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت میں بیان کیا ہے اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالی نے ہمارے اسلامی دین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق اعلی کی طرف منتقل ہونے سے پہلے پہلے کامل و مکمل کر دیا ہے ۔ اب اس دین محمدی میں کسی کمی و زیادتی کی حاجت نہیں رہی ۔

اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا :

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾) المائدہ: ۳(

‘‘آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور میں نے اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کوبحیثیت دین پسند کر لیا’’ ۔

ایسی بہت سی آیات قرآنیہ وارد ہوئی ہیں جو اتباع سنت کا حکم دیتی ہیں اور دین حنیف میں نئی باتیں اور بدعتیں ایجاد کرنے سے منع کرتی ہیں ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :

﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ﴾( الأحزاب :۲۱(

‘‘یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے’’ ۔

اور اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا :

 ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾(الحشر : ۷(

‘‘جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم کو دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے باز آجاؤ’’ ۔

﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ (آل عمران :۳۱(

‘‘(اے محمد!)کہہ دواگر تم اللہ تعالی سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری تابعداری کرو اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا’’ ۔

اس سلسلہ میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی کثرت سے وارد ہوئی ہیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

)عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين من بعدي,وعضوا عليها بالنواجذ، وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار)  (ترمذی ج ۴ ص ۱۴۹ ، سنن ابن ماجه ۱ /۱۶)

‘‘تم پر میری سنت اور میرے بعد خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے اس کو مضبوطی سے پکڑ لو اور نئی بدعتیں ایجاد کرنے سے بچ جاؤ اس لئے کہ (دین میں) ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں (لے جانے کا سبب)ہے ’’۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

)تركت فيكم أمرين لن تضلّوا بعدي ما تمسكتم بهما كتاب الله وسنتي))المؤطا ۲/۸۹۹ ابوداود ۱/۴۴۲، ابن ماجه ۲/۱۰۲۵(

‘‘میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک تم ان کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ۔ ایک کتاب اللہ ہے اور دوسری میری سنت ہے ’’۔

(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم میں اللہ تعالی کی کتاب یعنی قرآن کریم اور اپنی سنت چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے یہ حدیث مبارک منکرین حدیث کے منہ پر طمانچے مار رہی ہے اور ان کے فاسد عقیدے کا رد کر رہی ہے -ھداہم اللہ مترجم)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو ردّ) (بخاری ۳/۲۴۱ مسلم ۵/۱۳۲)

‘‘جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز گھڑی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے (يعنی اسی پر لوٹادی جائے گی)’’۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ما بعث الله من نبيّ إلا كان حقّاً عليه أن يدل أمته على خير ما يعلمه لهم وينذرهم شرّما يعلمه لهم))مسلم امارۃ ۴۶ ج ۳ /۱۴۷۲(

 ‘‘اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی نبی بھیجے ان کیلئے واجب تھا کہ وہ اپنی امت کو اس بھلائی کی طرف رہنمائی کریں جس کو وہ جانتے تھے ، اور اس شر سے انہیں ڈرائیں جس کو وہ جانتے تھے’’۔

یہ تمام نصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہیں اورجوعمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے بغیر ہو اس کی کوئی قبولیت نہیں ہے ۔ بہت سے مسلمانوں نے نئی نئی چیزیں گھڑ رکھی ہیں جن کو یہ دین سمجھتے ہیں حالانکہ دین میں ان چیزوں کا کوئی تعلق نہیں ہے جن کو یہ لوگ اچھا سمجھتے ہیں اور خیال (فاسد) کرتے ہیں کہ یہ ان کو اللہ تعالی کے نزدیک کردیں گی ۔

حالانکہ انہوں نے قرآن کریم اور حدیث نبوی کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے چھوڑ دیا ہے گویا کہ یہ لوگ قرآن و حدیث کو سنتے ہی نہیں ہیں ۔ (اللہ تعالی ان کو ہدایت عطا فرمائے )

 ان بدعات کی مثالوںمیں سے وہ گھڑی ہوئی دعائیں اور اذکار اور کلمات وغیرہ ہیں جن کو ہر نماز کے بعد یا کسی خاص وقت میں گانے کی طرح سریں لگا لگا کر گاتے ہیں اور انہوں نے ہر نماز کے بعد ان اذکار اور دعاؤں کو چھوڑ دیا ہے جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو تمام اوقات میں پڑھی جانے والی دعاؤں اور اذکار کی تعلیم دی ہے ۔ پس مسلمانوں کو معلوم ہے کہ وہ اپنے گھر سے نکلتے وقت اور گھر کی طرف واپس آتے وقت کیا کیا پڑھیں گے اور سوتے وقت اور جاگتے وقت کیا پڑھیں گے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘ میں ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ تبارک و تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں’’۔ (بخاری ج ۱۱ ص ۱۰۱ )

اللہ تبارک و تعالی اولوالالباب کا عمل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَـٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾ (آل عمران:۱۹۱)

‘‘جو لوگ اللہ تعالی کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اور پہلوؤں کے بل یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں سوچتے ہیں (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب تو نے یہ سب کچھ باطل نہیں بنایا تو پاک ہے پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا ’’۔

قرآن کریم کی اس آیت نے واضح کر دیا کہ یہ لوگ اللہ تبارک و تعالی ٰکو تمام حالتوں میں یاد کرتے ہیں ۔

ان بدعتوں میں سے مخصوص دنوں اور وقتوں میں عیدیں اور میلے منانا بھی ہیں سوائے ان اسلامی عیدوں کے جن کو اللہ تبارک و تعالی نے مشروع کیا ہے اور وہ عید الفطر، عیدالاضحی اور جمعہ ہے اب ان کے علاوہ جو بھی عید ہو گی وہ جاہلیت کی عید ہو گی

اور ان میں نئی نئی عبادتیں گھڑی گئی ہیں سب مردود ہیں (انکے ایجاد کرنے والوں کے منہ پر دے ماری جائیں گی) ۔ کیونکہ یہ بدعتیں ہیں اور ان کے علاوہ جو اعمال دین میں نئے ایجاد کئے گئے ہیں مسلمانوں کے لئے مناسب ہے کہ وہ ان کو چھوڑ دیں اور جن اعمال کا ثبوت قرآن وحدیث میں ملتا ہے اسی پر اکتفاکریں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سنا کہ کچھ لوگ روزانہ مغرب کی نماز کے بعد جمع ہوتے ہیں اور اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ ، سبحان اللہ کو بیک آواز بار بار دہراتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان لوگوں پر نکیر فرمائی اور فرمایا:‘‘... قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یا توتم ایسی شریعت پر چل رہے ہوجونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے( نعوذوباللہ )بہترہے،یا گمراہی کا دروازہ کھول رہے ... ۔ (دارمی ، ابونعیم)([1] )

اب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لا الہ الا اللہ یا سبحان اللہ کہنے پر نکیر نہیں فرمائی اس لئے کہ یہ تو ذکر ہے بلکہ انہوں نے اس ھیئت پر جس کے ذریعہ ذکر کر رہے تھے نکیر فرمائی ہے اس لئے کہ اس حالت میں جمع ہو کر ذکر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم ، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اذکار کو سیکھا اور سنا ، کے نزدیک مشروع نہیں ہے ۔

نوٹ: (اس مضمون کو برادرم ابوبکر حفظہ اللہ نے صراط الہدی فورم پر نشر کیا تھا جسے مراجعہ وتصحیح کرکے افادہ عام کی خاطر اسلام ہاؤس ڈاٹ کام پر نشر کیا جارہا ہے)



[1]) ) امام دارمی بیان کرتے ہیں کہ ہم سے حکم بن مبارک نے بیان کیا، حکم بن مبارک کہتے ھیں کہ ہم سے عمروبن یحی نے بیان کیا،عمروبن یحی کہتے ھیں کہ میں نے اپنے باپ سے سنا،وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا :

"ھم نمازفجرسے پہلے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازہ پر بیٹھ جاتے،اورجب وہ گھر سے نکلتے توان كے ساتھ مسجد روانہ ہوتے،ایک دن کا واقعہ هے کہ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ آئے اور کہا کیا ابوعبدالرحمن (عبداللہ بن مسعود) نکلے نہیں ؟ہم نےجواب دیا نہیں،یہ سن كر وه بهى ساتھ بیٹھ گئے،یہاں تک کہ ابن مسعود باہرنکلے،اورہم سب ان کی طرف کھڑے ہو گئے تو ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ ان سے مخاطب ہوئے اورکہا : ائے ابوعبدالرحمن ! میں ابھی ابھی مسجد میں ایک نئی بات دیکھ  کر آ رہاہوں،حالانکہ جوبات میں نے دیکھی وہ الحمد للہ خیر ہی ہے،ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ کونسی بات ہے؟ ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگرزندگی رہی توآپ بھی دیکھ لیں گے،کہا وہ یہ بات ہے کہ کچھ لوگ نمازكے انتظارميں مسجد کے اندرحلقہ بنائے بیٹھےہیں،ان سب كے ہاتوں ميں كنكریاں ہیں،اورہرحلقے میں ایک آدمی متعین ہے جو ان سے کہتا ہے کہ سو100 بار اللہ اکبر کہو،توسب لوگ سوباراللہ اکبرکہو،توسب لوگ سو بار اللہ اکبر کہتے ہیں،پھرکہتآ ہے سو بار لاالہ الااللہ کہو توسب لوگ لاالہ الااللہ کہتے ہیں ،پھرکہتا ہے کہ سوبارسبحان اللہ کہو توسب سوبارسبحان اللہ کہتے ہیں-ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھرآپ نے ان سے کیا کہا ،ابوموسی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ کی رائے کے انتظارمیں میں نے ان سے کچھ نہیں کہا؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ نے ان سے یہ کیوں نہیں کہ دیا کہ آپنے اپنے گناہ شمارکرو،اورپھراس بات کا ذمہ لےلیتے کہ ان کی کوئی نیکی بھی ضائع نہیں ہوگی-

یہ کہ کرابن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کی طرف روانہ ہوئے اورہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے،مسجد پہنچ کرابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حلقوں میں سے ایک حلقے کے پاس کھڑے ہوکرفرمایا: تم لوگ کیا کررہے ہو! یہ کنکریاں ہیں جن پرہم تسبیح وتہلیل کررہے ہیں ،ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اس کی بجائے تم اپنے اپنے گناہ شمارکرو،اورمیں اس بات کا ذمہ لیتا ہوں کہ تمھاری کوئی نیکی پھی ضائع نہیں ہوگی،

تمھاری خرابی ہے ائے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی توتمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کثیرتعداد میں موجود ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےچھوڑے ہوئے کپڑے نہیں پھٹے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن نہیں ٹوٹے اورتم اتنی جلدی ہلاکت کا اشکارہوگئے،قسم ہے اس ذات کی جسکے ہاتھ میں میری جان ہے! یا توتم ایسی شریعت پر چل رہے ہوجونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے -- نعوذوباللہ -- بہترہے،یا گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو-انھوں نے کہا ائے ابوعبدالرحمن ! اللہ کی قسم اس عمل سے خیر کے سوا ھماراکوئی اورمقصدنہ تھا-ابن مسعود نے فرمایا ایسے کتنے خیرکے طلبگار ھیں جوخیرتک کبھی پہنچ ہی نہیں پاتے- چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک حدیث بیان فرمائی کہ ایسی ايك قوم ايسى ہو گی جوقرآن پڑھے گی،مگرقرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا- اللہ کی قسم ! کیا پتہ کہ ان میں سے زیادہ ترشائد تمھیں میں ہوں-یہ باتیں کہ کرابن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے واپس چلے ئے-عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان حلقوں کے اکثرلوگوں کو ہم نے دیکھا کہ نہروان جنگ میں وہ خوارج کے شانہ بشانہ خم سے نیزہ زنی کررہے تھے۔