ماہِ محرّم اور عاشوراء سے متعلق ۳۳ فائدے ()

 

|

 ماہِ محرّم اور عاشوراء سے متعلق ۳۳ فائدے

تالیف: شیخ محمد صالح المنجد۔حفظہ اللہ۔

ترجمہ: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنیؔ

مراجعہ: جمشید عالم عبد السلام سلفیؔ،

 عزیز الرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

نبذة مختصرة عن الكتاب:

۳۳ فائدة في المحرّم وعاشوراء:كتاب قيِّم مترجَم إلى اللغة الأردية جمع فيه مؤلفه-أثابه الله-فوائد وخلاصات مجموعة في فضل شهرالمحرَّم ويوم عاشوراء.

 عرضِ مُترجم

الحمد لله وكفىٰ وسلامٌ على عباده الذين اصطفىٰ، أمابعد:

ماہِ محرّم اسلامی سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے،اوران چار حرمت والے مہینے میں سے ایک ہے جنہیں آسمان وزمین کی تخلیق کے وقت سے ہی محترم قراردیا گیا ہے۔اس ماہ کے روزے کو رمضان کے بعد سب سے بہتر نفلی روزہ قراردیا گیا ہے،اوراس کی دسویں تاریخ کے روزہ کو گذشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہ کی بخشش کا سبب بتایا گیا ہے، البتہ یہود کی مخالفت میں دسویں محرّم کے ساتھ نویں محرّم کو بھی روزہ رکھنے کا استحبابی حکم دیا گیا ہے۔

مگرافسوس! کہ مسلمان اس ماہ کے سلسلے میں افراط وتفریط اوربے راہ روی کےشکار ہیں۔چناں چہ بعض توایسے ہیں جنہوں نے اس ماہ کو ماتم وعزاداری اورنالہ وشیون کا مہینہ بنارکھاہے اور شہادت حسین ؓ کے نام پر اس ماہ کی دسویں تاریخ کو شرک وبدعات اورغیرشرعی رسومات کا ایسا طوفان برپا کرتے ہیں کہ الأمان!والحفیظ!

جبکہ بعض نے اس ماہ اورخاص کرکے اس کی دسویں تاریخ کو جشن اورگانے کا دن بنا لیا ہے، وہ اس دن پارٹیاں کرتے ہیں ،اورمخصوص قسم کے کھانے اورمٹھائیاں تیار کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ساری چیزیں بدعات کی قبیل سے ہیں، اوراس میں یہود ونصاریٰ کی مشابہت پائی جاتی ہے۔

زیر مطالعہ کتاب(۳۳فائدة في المحرّم وعاشوراء)’’ماہِ محرّم وعاشوراء سے متعلق ۳۳ فائدے‘‘عالم اسلام کی مشہورعلمی شخصیت علامہ محمد صالح المنجد۔ حفظہ اللہ۔ کی عربی تالیف ہے،جس میں اختصار کے ساتھ ماہِ محرّم اورعاشوراء سے متعلق اہم فوائد وخلاصے کو یکجا کردیا گیا ہے۔ اوراس ماہ میں اورخاص طور سے اس کی دسویں تاریخ کو شہادت حسینؓ کے نام پر کیےجانے والے غیر شرعی اعمال اورجاہلانہ رسومات سے پردہ اٹھا کر ان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ کتاب مختصرہونے کے باوجود اپنے موضوع پر نہایت ہی مفید وجامع ہے،لیکن عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے اردو داں حضرات کے لیےاس سے استفادہ مشکل تھا،بنابریں اسلام ہاؤس ڈاٹ کام کے شعبہ ٔ ترجمہ وتالیف نے افادۂ عام کی خاطراسےاردو قالب میں ڈھالاہے،حتیٰ الامکان ترجمہ کو درست ومعیاری بنانے کی کوشش کی گئی ہے،اور مؤلّف کے مقصود کا خاص خیال رکھا گیا ہے،اور آسان، عام فہم زبان اور شُستہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے تاکہ عام قارئین کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہو،مگرکمال صرف اللہ عزوجل کی ذات کا خاصہ ہے، لہذا کسی مقام پر اگر کوئی سَقم نظر آئے تو ازراہ کرم خاکسار کو مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ اس کی اصلاح کی جاسکے۔

ربّ کریم سے دعا ہے کہ اس کتاب کو لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے،اس کے نفع کو عام کرے، والدین اور جملہ اساتذۂ کرام کے لئے مغفرت وسامانِ آخرت بنائے، اور کتاب کے مولّف، مترجم،مراجع ،ناشراور تمام معاونین کی خدمات کو قبول کرکے ان سب کے حق میں صدقۂ جاریہ بنائے۔آمین۔

وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 مقدّمہ

تمام تعریفات صرف اللہ کے لیے ہیں،اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے رسولﷺ پر۔

قارئین کرام:

ماہِ محرّم اور عاشوراء(دسویں محرّم) سے متعلق جمع کردہ یہ چند فوائد وخلاصے ہیں،اللہ سے دعا ہے کہ ا نہیں نفع بخش بنائے،اورہراس شخص کو جزائے خیرسے نوازے جو اس کی نشر و اشاعت کرنے اور اعداد و ترتیب دینے میں معاون و مشارک بنے۔

 محمد صالح المنجد

 ماہِ محرّم اور عاشوراء (دسویں محرّم)سے متعلق ۳۳ فائدے

 ۱۔ماہِ محرّم ہجری سال کا سب سے پہلا مہینہ ہے،اور مسلسل تین حرمت والے مہینوں میں کا آخری مہینہ ہے یعنی : ذوالقعدہ،ذوالحجہ،محرّم، اور پھر رجب حرمت والا مہینہ ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:(إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّـهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّـهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ)

ترجمہ:’’مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں باره کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے اس میں سے چار حرمت وادب کے ہیں۔ یہی درست دین ہے، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پرظلم نہ کرو اورتم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وه تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے([1])۔‘‘

  اورحدیث رسولﷺ ہے:
 (إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ:السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ:ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبٌ شَهْرُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ)

ترجمہ:’’بے شک زمانہ گھوم گھما کراسی حالت پر لوٹ آیا ہے جس پر وہ اس وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی ۔سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں، تین تو لگاتار ہیں یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اورمحرّم اور چوتھا مضر قبیلے کا ماہِ رجب، جو جُمادیٰ الاُخریٰ اور شعبان کے درمیان ہے ([2])۔‘‘

 ۲۔اس ماہ کی فضیلت میں سے یہ ہے کہ اسے نبیﷺ نے ’’اللہ کا مہینہ([3])‘‘ قراردیا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی اضافت ،اضافتِ تعظیمی ہے،جواس کے شرف وفضیلت پر دلالت کرتا ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات میں سے مخصوص وچنیدہ لوگوں کی ہی اضافت اپنی طرف کرتا ہے،جیسا کہ محمد، ابراہیم، اسحاق، یعقوب وغیرہ انبیائے کرام کو اپنی عبودیت کی طرف منسوب کیا ہے،اوراپنے گھر اوراونٹنی کو اپنی طرف منسوب کیا ہے ([4])۔‘‘

۳۔بعض علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ محرّم حرمت والے مہینے میں سب سے بہتر مہینہ ہے،چنانچہ حسن بصریؒ فرماتے ہیں:’’حرمت والے مہینے میں سب سے افضل:اللہ کا مہینہ محرّم ہے۔‘‘ نیز فرمایا: ’’اللہ نے سال کا آغاز حرمت والے مہینہ سے کیا ہے، اورحرمت والے مہینہ سے ختم کیا ہے، لہذا اللہ کے نزدیک سال میں ماہ رمضان کے بعد محرّم سے بڑھ کر کوئی ماہ نہیں ہے ([5])۔‘‘

۴۔محرّم میں سب سے افضل:ابتدائی دس دن ہیں،ابو عثمان النہدیؒ فرماتے ہیں: (سلف صالحین) تین عشروں کی کافی تعظیم کرتے تھے:رمضان کا آخری عشرہ،ذوالحجہ کا پہلا عشرہ،اورمحرّم کا پہلا عشرہ ([6])۔‘‘

۵۔حرمت والے مہینوں میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے نفسوں پر ظلم کرنے سے منع فرمایا ہے،چنانچہ ارشاد باری ہے: (...فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ )

ترجمہ:’’...تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پرظلم نہ کرو([7])۔‘‘

چناں چہ دیگرماہ کی بہ نسبت گناہ میں یہ زیادہ بلیغ وموکد ہے،کیونکہ اس کی حرمت وعظمت بہت زیادہ ہے۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’حرمت والے مہینے میں ظلم کرنا دیگرماہ کی بہ نسبت ظلم کرنے سے زیادہ گناہ اورغلطی کا کام ہے،اگرچہ ظلم کرنا ہرحال میں عظیم (گناہ) ہے،مگر اللہ اپنے امر میں سے جسے چاہتا ہے عظیم بنادیتا ہے ([8])۔‘‘

 ۶۔اس عظیم ماہ میں کثرت سے روزہ رکھنا مستحب ہے، چناں چہ حدیث میں ہے:

(أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ:شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ:صَلَاةُ اللَّيْلِ)

ترجمہ:’’رمضان المبارک کے بعد اللہ کے مہینے محرم کے روزے سب روزوں سے افضل ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات (یعنی تہجد) کی نماز ہے([9])۔‘‘

ابن رجبؒ فرماتے ہیں کہ:’’اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ رمضان کے بعد سب سے بہتر نفل روزہ:اللہ کے مہینہ محرّم کا روزہ ہے([10])۔‘‘

اوریہ مطلق نفلی(روزہ) پر محمول ہے۔

۷۔محرّم میں روزےکا استحباب کثرت سے روزہ رکھنے پر محمول ہے نہ کہ پورے ماہ روزہ رکھناہے۔

کیوں کہ رسولﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کبھی بھی کسی ماہ کا مکمل روزہ نہیں رکھا،اور نہ ہی شعبان سے زیادہ کسی ماہ میں روزہ رکھا ([11])۔‘‘

 ۸۔علماء کا اشکال:

 نبیﷺنے شعبان سے زیادہ کسی ماہ میں (نفلی)روزہ نہیں رکھا، جب کہ آپﷺ کا واضح فرمان ہےکہ: رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ، ماہ محرّم کا روزہ ہے۔

جواب:

٭ کہا گیا ہے کہ: ہوسکتا ہے آپﷺ کو محرّم کی فضیلت کا علم اس کا روزہ رکھنے سے پہلے آخری زمانہ میں ہوا ہو۔

٭ یا ہوسکتا ہے کہ: آپ ﷺ کومحرم کے مہینے میں کچھ ایسی عذر لاحق ہو گئی ہوں جو اس ماہ میں کثرت سے روزہ رکھنے میں مانع رہی ہوں،جیسے سفر،بیماری وغیرہ ([12])۔‘‘

 ۹۔عاشوراء جمہور علمائے سلف وخلف کے نزدیک محرّم کا دسواں دن ہے،اوریہ احادیث کے ظاہر اورلفظ کے اطلاق کے مطابق ہے،اور اہل لغت کے یہاں معروف ومشہورہے ([13])۔‘‘

  ۱۰۔عاشوراء یہ اسلامی نام ہے جو جاہلیت میں معروف نہیں تھا ([14]) ۔

 ۱۱۔ عاشوراء (دسویں محرّم) کا روزہ رکھنا بہت زیادہ مستحب ہے،چناں چہ حدیث پاک میں ہے:

(صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ)

ترجمہ:’’مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یوم عاشوراء کاروزہ گذشتہ ایک سال کے(صغیرہ) گناہوں کا کفارہ بن جائےگا ([15])۔‘‘

 ۱۲۔عاشوراء کے روزے سے تمام چھوٹے گناہ معاف ہوجاتے ہیں لیکن بڑے گناہ معاف نہیں ہوتے(بلکہ ان کے لیے توبہ ضروری ہے)۔

 چناں چہ اگر کوئی صغیرہ گناہ موجود ہوا تو وہ مٹ جائے گا، اور اگر صغیرہ یا کبیرہ کوئی بھی گناہ نہ ہوا تو اس کے بدلے میں نیکیاں لکھ دی جائیں گی، اور اس کے درجات بلند کر دئیے جائیں گے، اور اگر کوئی ایک یا متعدد کبیرہ گناہ ہوئے، لیکن کوئی صغیرہ گناہ نہ پایا گیا ، تو ہمیں امید ہے کہ ان کبیرہ گناہوں میں کچھ تخفیف ہو جائے گی ([16])۔‘‘

 ۱۳۔انسان کو چاہیے کہ اپنے اہل وعیال ،بچوں اوراپنی کفالت ونگرانی میں رہنے والوں کو یومِ عاشوراءکا روزہ رکھنے اور اس کےلیے بیدار ہوکر سحری کھانے کی وصیت و تلقین کرے۔

ربیع بنت معوّذ رضی اللہ عنہا عاشوراء کے روزہ۔جورمضان سے پہلے فرض تھا۔ کےبارے میں فرماتی ہیں:

(فَكُنَّا نَصُومُهُ بَعْدُ،وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا،وَنَجْعَلُ لَهُمْ اللُّعْبَةَ مِنْ الْعِهْنِ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهُ ذَاكَ، حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الْإِفْطَارِ)

’’ہم خود اس کاروزہ رکھتی تھیں،اوراپنے بچوں کو بھی روزہ رکھواتی تھیں،اورہم ان کے لیے اون کا گڑیا بنادیتی تھیں، چناں چہ ان میں سے جب کوئی کھانا کے لیے روتا تو ہم اسے وہ دے دیتیں،یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوجاتا([17])۔‘‘

 ۱۴۔یہود ونصاریٰ کی مخالفت کرتے ہوئے نو اور دس کا روزہ رکھنامستحب ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: (حِيْنَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ :إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلى الله عليه وسلَم -: "فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ[أي:مع العاشر] قَالَ: فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم)

 جب رسول ﷺ نے یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا اوردوسروں کو بھی اس کا حکم دیا تو صحابۂ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہودی اورعیسائی تو اس دن کی تعظیم کرتے ہیں ۔تواللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’اگر اللہ نے چاہا تو آئندہ برس ہم (دسویں کے ساتھ) نو محرم کا روزہ (بھی) رکھیں گے‘‘ ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ آئندہ برس آنے سے قبل ہی رسول اکرم ﷺ فوت ہوگئے ۔

اور دوسری روایت میں ہے کہ:

(لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ)’’اگرمیں اگلے(سال) زندہ رہا تو نو محرّم کا(بھی) روزہ رکھوں گا ([18])۔‘‘

۱۵۔جس کا نویں محرّم کا روزہ چھوٹ جائے،تواس کے لیے یہود کی مخالفت کرتے ہوئےدسویں کے ساتھ گیارہویں کا روزہ رکھنا مشروع ہے۔

۱۶۔ہلالِ محرّم کے گھٹنے،یا ماہ محرّم کے دخول میں اشتباہ پائے جانے،یا کسی غلطی میں واقع ہونے کے اندیشہ کے سبب عاشوراء کے لیے احتیاط کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے،چناں چہ نویں تاریخ کو دسویں تاریخ شمار کیا جائے گا۔اوراحتیاط کا اعتباردسویں سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد روزہ رکھ کر ہوگا۔

 ۱۷۔ بعض علماء کے یہاں عاشوراء کے روزے کےتین مراتب ہیں:

۱ول:تین دن(نویں،دسویں،گیارہویں محّرم کا) روزہ رکھنا۔ اوراس سلسلہ میں ضعیف([19])حدیث مروی ہے۔اوربعض سلف سے بطور احتیاط ایسا کرنا منقول ہے([20]

دوم:نویں اور دسویں محرّم کا روزہ رکھنا: اوراسی پر اکثراحادیث دلالت کرتی ہیں،اوریہی سنّت میں وارد ہے۔

سوم:صرف دسویں محرّم کا روزہ رکھنا،اوریہ بلاکراہت جائز ہے ([21]) ۔

۱۸۔یوم عاشوراء اگر جمعہ یا سنیچر کے روز ہوتو صرف اس دن اس کا روزہ رکھنے میں کوئی ممانعت و کراہت نہیں ہے،چناں چہ عاشوراء کا روزہ رکھا جائے گا کیوں کہ یہ ان ایا م میں سے ہے جس کا روزہ رکھنا مشروع ہے،نہ یہ کہ جمعہ یا سنیچر کا دن ہونے کی وجہ سے روزہ رکھا جارہا ہے ([22])۔‘‘

۱۹۔جس کے ذمے ایام رمضان کی قضا ہو تو نفل کی نیت سے عاشوراء کے روزے رکھنےمیں کوئی ممانعت نہیں ہے،پھروہ اپنے ذمے روزوں کی قضا کرے گا،کیونکہ راجح قول کے مطابق رمضان کی قضا کرنے سے پہلے نفلی روزہ رکھنا جائزہے،اوراس لیے بھی کہ یہ ایک متعین روزہ ہے جواس دن کے گزرنے کے بعد ختم ہوجاتاہے،اورقضا کے لیے کافی وقت ہے۔

۲۰۔جس کے ذمے ایامِ رمضان کی قضاہو،اوراس نےعاشوراء کا روزہ رمضان کے بعض دن کی قضا کی نیت سے رکھا تو بعض اہل علم کے نزدیک اس کا قضا صحیح ہے، اوربعض اہل علم کے نزدیک عاشوراء کے ثواب پانے کی امیدہے،چناں چہ اسے قضا کے ساتھ ساتھ عاشوراء کا بھی ثواب حاصل ہوگا،اوریہی شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ ہے ([23])۔‘‘

لیکن بہتر یہ ہے کہ:وہ یومِ عاشوراء کے علاوہ دنوں میں اپنے ذمے باقی روزوں کی قضا کرے،چناں چہ وہ عاشوراء کی نفل کی نیت سے روزہ رکھے، پھراپنے ذمے باقی روزوں کی قضا کرے، تاکہ وہ دونوں فضیلتوں یعنی :یوم عاشورا ء کے روزہ کی فضیلت اور قضا کی فضیلت کوجمع کرسکے۔

۲۱۔نویں اور گیارہویں محرّم کا روزہ قضائے رمضان کی نیت سے، اورعاشوراء کے روزے کو نفل کی نیت سے رکھنا جائز ہے،اوراس طرح سے اسے قضا اورنفل دونوں کا ثواب حاصل گا۔

۲۲۔مسافرشخص اگرمشقت نہ محسوس کرے تواس کے لیے عاشوراء کا روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۲۳۔حائضہ یا نفاس والی عورت یا بیمار شخص کے لیےعاشوراء کا روزہ چھونٹنے کےبعد اس کا قضا کرنا مشروع نہیں ہے،کیوں کہ یہ روزہ متعین دن میں مخصوص کیا گیا ہے اوراس دن کے فوت ہونے سے اس کا حکم بھی فوت ہوجائے گا۔([24])

۲۴۔جوشخص کسی عذر کی بنا پر یوم عاشوراء کا روزہ نہ رکھ پائے،جیسے:بیمار،حائضہ اور مرضعہ(دودھ پلانے والی عورت) وغیرہ،اوران کی ہرسال اس دن روزہ رکھنے کی عادت رہی ہو تو اس کی نیت کرنے کی وجہ سے اسے ثواب ملے گا،چناں چہ حدیث شریف میں ہے:(إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا)

’’جب بندہ بیمارہوجائے،یا سفرپے ہو تو اقامت وصحت کی حالت میں عمل کرنے کی طرح اس کے لیے اجر لکھا جائے گا ([25])۔‘‘

۲۵۔رمضان سے پہلے عاشوراء کا روزہ رکھنافرض تھا،پھراس کی فرضیت کو استحباب کی طرف منسوخ کردیا گیا ہے۔

چناں چہ امّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

(كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأمُرُ بِصِيَامِهِ، قبلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ ،فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ: كانَ مَنْ شَاءَ صامَ يومَ عاشوراءَ،وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ)

’’رسول اللہ ﷺ رمضان کے فرض ہونے سے پہلے عاشوراء کے روزہ کا حکم دیتے تھے،پھرجب رمضان کی فرضیت ہوئی تو جوچاہتا عاشوراء کا روزہ رکھتا،اور جوچاہتا نہ رکھتا([26])۔‘‘

اورایک دوسری حدیث میں ہے: (هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يَكْتُبِ اللهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ أحبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ)

’’یہ عاشوراء کا دن ہے،اللہ نے تم پر اس کے روزے کو فرض نہیں کیا ہے،لیکن میں روزہ سے ہوں،لہذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے رکھے، اورجو افطار کرنا چاہے افطار کرے ([27])۔‘‘

۲۶۔عرفہ کا دن عاشوراء کے دن سے افضل ہے،اور اس کا روزہ دوسال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

اوراس کی حکمت کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ:عاشوراء کادن موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب ہے،اورعرفہ کا دن نبیﷺ کی طرف منسوب ہے،اوریہ ہماری شریعت کی خصائص میں سے ہے،اس لیے یہ افضل ہے،اورمحمد مصطفیٰﷺ کی برکات کی وجہ سے دوگُنا اجر دیا گیا ہے۔

اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ: یومِ عرفہ ایسے حرمت والے ماہ میں ہے کہ اس سے پہلے(ذی القعدہ) بھی حرمت والا ماہ ہے،اور اس کے بعد(محرّم)بھی حرمت والا مہینہ ہے،بخلاف عاشوراء کے (کیوں کہ اس کے بعد کوئی حرمت والا مہینہ نہیں ہے) ([28]

اوراس کی حکمت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ:یومِ عاشوراء میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کے دشمن سے نجات دے کراپنی نعمت کی تکمیل فرمائی،اوریومِ عرفہ میں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر ان کی رسالت تکمیل کرکے اپنی نعمت پوری کی۔اوردین کی نعمت کی تکمیل جسم کی نعمت کی تکمیل سے بڑھ کرہے،چناں چہ ثواب میں برتری کاحصول نعمت کی نوعیت میں تفاضل کی بناء پر ہے،تو یہ دین کی نعمت ہے اور وہ جسم کی نعمت ہے۔

۲۷۔یومِ عاشوراء اللہ تعالیٰ کے عظیم دنوں میں سے ایک ہے۔جیسا کہ حدیث میں وارد ہے ([29])۔،

اوراللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 )وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللَّـهِ(

 ترجمہ:’’اور انہیں اللہ کے احسانات یاد دلا ([30])۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس دن موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی،اورفرعون اوراس کی قوم کو غرق کردیا، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس نعمت کا شکرکرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لیے روزہ رکھا،اوراللہ کے رسولﷺنے خود روزہ رکھا اورصحابہ کرام کو استحباب کے طور پر روزہ رکھنے کا حکم دیا،اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کی متابعت میں،’’نعمت کےتجدّد کے اوقات میں اس کا شکر سے مقابلہ کرنے کے باب سے ([31])۔‘‘

چناں چہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:

(أن رسولَ اللهِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدَ الْيَهُودَ صياماً يَوْمَ عَاشُورَاءَ فقال لهم:(مَا هذَا اليومُ الذي تَصومُونَه؟)؟ فَقَالُوا:هذا يومٌ عظيمٌ،أَنجَى اللهُ فيه موسى وقَومَه،وغرَّق فرعونَ وقَومَه-، وفي روايةٍ:هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللهُ فِيهِ مُوسَى، وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ، فَصَامهُ موسى شُكراً؛ فَنَحْنُ نَصُومُهُ.، فَقَالَ رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَحْنُ أحقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ) فصامه رسول الله صلى الله عليه وسلم، وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ)

رسول اللہ ﷺجب مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کوعاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا،توآپ نے ان سے فرمایا:’’یہ کیسا دن ہے جس میں روزہ سے ہو‘‘؟،توان لوگوں نے کہا: یہ ایک عظیم دن ہے،اسی دن اللہ نے موسیٰ اور ان کی قوم کو نجات دیا تھا،اورفرعون اور ان کی قوم کو غرق کردیا تھا،۔اورایک روایت میں ہے: یہ ایسا دن ہے جس میں اللہ نے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا کیا تھا۔، چناں چہ موسیٰ نے بطورشکراس دن روزہ رکھا،لہذا ہم بھی اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ہم تمہارے بہ نسبت (اس طرز عمل کو اپنانے میں) موسی علیہ السلام کے زیادہ قریب ومستحق ہیں ‘‘،چناں چہ اللہ کے رسولﷺ نے اس دن کا روزہ رکھا اور (صحابۂ کرام) کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ([32]) ۔‘‘

۲۸۔عاشوراء ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان آپس میں گہرا تعلق استوار ہونا چاہیے،اگرچہ ان کےدرمیان زمان ومکان کی دوری ہو،اسی طرح مسلمانوں کے درمیان ایمانی اخوّت کے قیام کی ضرورت کی یاد دہانی کراتاہے،اوراللہ تعالیٰ،اس کے رسول اور اس کے مومن بندوں کے لیے موالات کے قیام کی یاددہانی کراتا ہے:(وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ)

ترجمہ:’’مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں([33])۔‘‘

۲۹۔یوم عاشوراء، شُکراوراللہ سے نصرت وکشادگی طلب کرنے کا دن ہے۔اسی دن موسیٰ سے کہا گیا:

(إِنَّا لَمُدْرَكُونَ)’’ ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے ([34]) ۔‘‘

 توموسی ٰ نےجواب دیا:

(كَلَّا ۖإِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ)

’’ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا ([35]) ۔‘‘

۳۰۔یومِ عاشوراء کی تعظیم اہل جاہلیت کے یہاں معروف تھی،چناں چہ وہ اس دن کی تعظیم کرتے،اس دن روزہ رکھتے ،اوراسی دن کعبہ پرغلاف چڑھاتے تھے،جیساکہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ([36]

۳۱۔یومِ عاشوراء کی تعظیم اس دن روزہ رکھ کرہوگا،دشمن سے نجات دلانے اوراسے ہلاک کرنے کی نعمت پراللہ کا شکراداکرکے،اوراس دن اللہ کےدشمنوں اور اس کے رسولوں کے دشمنوں کے بارے میں اللہ کے افعال وکارنامے کو یاد کرکے ہوگا۔

۳۲۔یومِ عاشوراء کے دن بعض لوگوں نے بہت ساری بدعات ایجاد کررکھی ہیں،ان میں سےبعض بدعتیوں نے۔شہادت  حسینؓ کی وجہ سے۔اس دن کو حزن وغم،نوحہ وماتم،نالہ وشیون،گردن زنی ،لباس پھاڑنے،سینہ کوبی وتماچہ مارنے وزنجیرزنی وغیرہ کادن بنارکھا ہے،حالاں کہ یہ چیزیں اللہ کے دین میں سے نہیں ہیں،بلکہ یہ جاہلیت کے افعال میں سے ہیں۔

اورحدیث پا ک میں ہے:

(لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ)

’’وہ شخص ہم سے نہیں ہے،جو رخسارنوچے،گریبان پھاڑے، اورجاہلیت کی پکار کرے([37])۔‘‘

 جب کہ مصیبت کے وقت مومن صبرواحتساب سے کام لیتا ہے اور قضائے الہی پر راضی ہوتا ہے۔

۳۳۔عاشوراء کےدن شیاطین نے بہتیرے لوگوں کی عقلوں سے خوب کھیل کھیلا ہے،اورانہیں مومنوں کے راستہ سے دور کردیا ہے،چناں چہ ان میں سے بعض نے اس دن کو ماتم وعزاداری کا دن بنالیا ہے،اوربعض نے اسے جشن وگانے کا دن بنارکھا ہے،اوربعض ایسے ہیں جو اس دن پارٹیاں کرتے ہیں ،اورمخصوص قسم کے کھانے اورمٹھائی تیار کرتے ہیں۔ اوران ساری چیزوں میں،اس دن کی تعظیم کے بارے میں یہود ونصاریٰ کی مشابہت پائی جاتی ہے۔اور یہ ساری چیزیں دین میں بدعات ومحدثات کی قبیل سے ہیں۔

ہم اللہ تعالیٰ سےدعا گوہیں کہ اللہ ہمیں اس چیز کی توفیق دے جسے وہ پسند فرمائے اوراس سے وہ راضی و خوش ہو،اورتمام تعریفات (صرف) رب العالمین کے لیے ہیں۔

وصلى اللہ وسلم علی نبینا محمد،وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔


([1])سورہ توبہ:۳۶

([2]) بخاری(ح۳۱۹۷)،مسلم(ح ۱۶۷۹)

([3])ٍصحیح مسلم(ح۱۱۶۳)

([4])لطائف المعارف لابن رجب(ص۳۶)

([5])لطائف المعارف لابن رجب(ص۳۴)

([6])لطائف المعارف لابن رجب(ص۳۵)

([7])سورہ توبہ:۳۶

([8])تفسیرطبری(۱۴؍۲۳۸)،وتفسیرابن کثیر(۴؍۱۴۸)

([9])مسلم(ح۱۱۶۳)

([10])لطائف المعارف(ص۳۳)

([11])صحیح بخاری(۱۹۷۱،۱۹۶۹)،وصحیح مسلم(۱۱۵۶،۱۱۵۷)

([12])ملاحظہ فرمائیں:صحیح مسلم مع شرح نووی(۸؍۳۷،۵۵)،والمجموع(۶؍۳۸۷)

([13])ملاحظہ فرمائیں:صحیح مسلم مع شرح نووی(۸؍۱۲)،والمجموع(۶؍۳۸۳)

([14])ملاحظہ فرمائیں:مشارق الأنوار للقاضی عیاض(۲؍۱۰۲)،وکشَّاف القناع للبُھُوتی(۲؍۳۳۸)

([15])صحیح مسلم(ح۱۱۶۲)

([16])ملاحظہ فرمائیں:صحیح مسلم مع شرح نووی(۳؍۱۱۳، ۸؍۵۱)،والمجموع(۶؍۳۸۲)

([17])صحیح بخاری(۱۹۶۰)،وصحیح مسلم(۱۱۳۶)

([18])صحیح مسلم(۱۱۳۴)

([19])اوراس کے الفاظ یہ ہیں:(صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ، صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا، أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا)،وفي رواية:( صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا، وَ بَعْدَهُ يَوْمًا).’’یوم عاشوراء کا روزہ رکھو،اوراس میں یہود کی مخالفت کرو،اس سے ایک دن پہلے روزہ رکھویا اس کے ایک دن بعد‘‘،اورایک روایت میں ہے: ’’اس کے ایک دن پہلے اورایک دن بعد روزہ رکھو‘‘۔ تخریج: مسند احمد(ح۲۱۵۴)،سنن کبری للبیہقی(۴؍۲۸۷)،سلسلہ ضعیفہ للألبانیؒ(ح۴۲۹۷)،  مسند احمد کے محقیقین نے  اسے ضعیف قراردیا ہے، اورشیخ احمد شاکرؒ نے اسے حسن  کہاہے۔

([20])ملاحظہ فرمائیں: لطائف المعارف(ص۵۲)

([21])ملاحظہ فرمائیں:زادالمعاد لابن القیم(۲؍۷۲)،وفتح الباری لابن حجر(۴؍۲۶۴)َ

([22])ملاحظہ فرمائیں:فتح الباری(۴؍۲۳۴)،وفتاوی ابن باز(۱۵؍۴۱۴)،وفتاوی ابن عثیمین(۲۰؍۵۸)

([23])ملاحظہ فرمائیں:فتاوی ابن عثیمین(۲۰؍۴۸)

([24])ملاحظہ فرمائیں:فتاوی ابن عثیمن(۲۰؍۴۳).

([25])صحیح بخاری(ح۲۹۹۶)

([26])صحیح بخاری(ح۱۵۹۲)،وصحیح مسلم(۱۱۲۵)

([27])صحیح بخاری(ح۲۰۰۳)،وصحیح مسلم(۱۱۲۹)

([28])ملاحظہ فرمائیں:بدائع الفوائد(۴؍۲۱۱)،وفتح الباری(۴؍۲۴۹)

([29]) حدیث میں ہے:(إن عاشوراء يومٌ من أيّام الله)’’عاشوراء اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے۔‘‘ صحیح مسلم(ح۱۸۹۲)

([30])سورہ ابراہیم:۵

([31]) لطائف المعارف(ص۹۶)،معمولی تبدیلی کے ساتھ۔

([32]) صحیح بخاری(۳۹۴۳)،ومسلم(۱۱۳۰) اورلفظ مسلم کے ہیں۔

([33])سورہ توبہ:۷۱

([34])سورہ شعراء:۶۱

([35])سورہ شعراء:۶۲

([36])صحیح بخاری(۱۸۹۳،۱۵۹۲)،وصحیح مسلم(۱۱۲۵)۔

([37])صحیح بخاری(۱۲۹۴)،ومسلم(۱۰۳)