تصنيف: فاتن صبري

 1- تعارف                                                  

This book is a brief summary in which I wish to clarify the origin of Christianity and its present day reality. It is to lead the Christians to know the roots of their beliefs (to believe in One God and unifying Him in worship). In this summary, I have made an effort to cite the Qur'anic verses which mention the story of Jesus Christ and his mother, and to give the evidence from the current texts of the Torah and the Gospel to illustrate to the Christian readers The True Message of Jesus Christ using their own sources.

يہ کتاب ایک مختصر خلاصہ ہے جس میں میں عیسائیت کی اصل اور اس کے موجودہ دور کی حقیقت کو واضح کرنا چاہتي ہوں- یہ عیسائیوں کو اپنے عقائد کی بنياد جاننے کے لئے رہنمائی کرنا ہے (ایک خدا پر ايمان لانا اور اسے عبادت میں یکجا کرنا)- . اس خلاصہ میں ، میں نے قرآنی آیات کا حوالہ دینے کی کوشش کی ہے جس میں حضرت عیسیٰ مسیح اور اس کی والدہ کی کہانی کا تذکرہ ہے ، اور تورات اور انجیل کی موجودہ تحریروں سے ثبوت پیش کرنے کے لئے مسیحی قارئین کو ان کے اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے عیسیٰ مسیح کا حقیقی پیغام بیان کرنا ہے ۔    

This book helps all freethinkers, open-minded and the seekers of the truth to know that what was sent by the Creator (Allah)[1] to all nations with all messengers throughout the history was one unique message i.e. Pure Monotheism. Prophet Jesus was also one of those pious messengers who endeavored to guide their people to the truth, but many people followed their desires and thus went far from the prophetic teachings.

یہ کتاب تمام آزادی پسندوں ، کھلے ذہنوں اور حق کے متلاشیوں کو یہ جاننے میں مدد دیتی ہے کہ خالق (اللہ)1 نے تمام اقوام کو تمام رسولوں کے ساتھ  تاریخ میں ایک انوکھا پیغام بھیجا تھا یعنی خالص توحید۔  حضرت عیسیٰ بھی ان متقی رسولوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنے لوگوں کو حق کی طرف رہنمائی کرنے کی کوشش کی ،  لیکن بہت سے لوگوں نے اپني خواہشات کی پیروی کی اور اس طرح انبياء کی تعلیمات سے بہت دور ہوگئے۔

I pray to God that this book will be beneficial and a source of guidance and blessing, in this life and in the hereafter

میں الله سے دعا کرتي ہوں کہ یہ کتاب دنيا اور آخرت میں ، فائدہ مند اور ہدایت و برکت کا ذریعہ ثابت ہو۔

2. An answered Supplication of Virgin Mary's Mother

 2- ورجن( کنواری ) مریم کی والدہ کی دعا كا جواب    

Qur'an[2]3: 33-37 قرآن2 3:33-37                                                       

God chose Adam, Noah, the family of Abraham and the family of Imran above all the worlds.

33- بے شك الله نے آدم ، نوح ، آل ابراہیم اور آل عمران كو تمام جہانوں میں سے منتخب  كر ليا  هے-

Offspring, one of the other, and God is the All-Hearing, All-Knowing.

يه ایک دوسرے كي  اولاد ( نسل سے  ) تهے ، اور الله  خوب سننے والا ، جاننے والا ہے۔

Remember when the wife of Imran said: "O my Lord! I have pledged to You the child that is in my womb, to be dedicated for Your service (free from all worldly work, to serve in Your Place of Worship), so accept this from me. Verily, You are the All-Hearing, the All-Knowing."

35-  جب عمران کی بیوی  نے کہا: "اے میرے رب! بے شك میں نے  منت ماني  هے كہ  جو (بچہ )  میرے  پيٹ  میں هے، وه تيرے  هي لئے وقف  ہے  (  تمام دنياوي كاموں سے  دور تيري بارگاہ میں) بس تو یہ مجھ سے قبول فرما-  بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے۔

Then when she delivered her child (Mary), she said: "O my Lord! I have delivered a female child," - and God was All-knowing of what she had delivered - and the male is not like the female.“And I have named her Mary, and I seek refuge with You (God) for her and for her offspring from Satan the outcast."

36-  پهر جب بچی (مريم) کو جنا تو کہنے لگی کہ:" پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی ہے "،  خوب  اللہ جانتا ہے کہ کیا اوﻻد ہوئی ہے اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں "اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے ، میں اسے اور اس کی اوﻻد کو شیطان مردود سے تیری پناه میں دیتی ہوں"۔

So her Lord (God) accepted her (Mary) with goodly acceptance. He made her grow in an upright manner and put her under the care of Zachariah. Every time he entered the place of worship to visit her, he found her with sustenance. He said: "O Mary! From where have you got this?" She said: "This is from God." Verily, God provides sustenance to whom He wills, without measure."

37- پس اسے اس کے پروردگار نے اس ( لڑکی مريم) كو احسن طريقے سے قبول فرمایا اور اسے بہترین پرورش دی۔ زکریا کوا س کا سرپرست بنا دیا ، جب بھی زکریا  ان کے پا س محراب (عبادت كی جگہ )  میں جاتا ان کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتا، وه پوچھتا اے مریم! یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ وہ جواب دیتی اللہ سے (آئی ) ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔

3. The Status of Virgin Mary and the Glad Tidings

 3- ورجن (كنواري) مریم کا مقام اور خوشخبری

Qur'an 3:42-47

And [mention] when the angels said, "O Mary, indeed God has chosen you and purified you and chosen you above the women of the worlds.

42-اور ياد كرو جب (مریم سے) فرشتوں نے کہا، "اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چن لیا ہے۔

 O Mary, be devoutly obedient to your Lord and prostrate and bow with those who bow [in prayer]."

43- اے مریم! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ، اس کے آگے سر بسجود  ہو، اور جو اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا"

That is from the news of the unseen which We reveal to you, [O Muhammad]. And you were not with them when they cast their pens as to which of them should be responsible for Mary. Nor were you with them when they disputed.

44-یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو(اے محمد! )  وحی کے ذریعہ سے بتا رہے ہیں، ورنہ تم اُس وقت وہاں موجود نہ تھے جب( ہیکل کے خادم )یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ مریم کا سر پرست کون ہو اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے، اور نہ تم اُس وقت حاضر تھے، جب اُن کے درمیان جھگڑا برپا تھا۔

Remember when the Angels said: "O Mary! Verily God gives you glad tidings of a Word from Him ‘Be!’ - And he was! (i.e. Jesus son of Mary). His name will be the Messiah Jesus son of Mary, held in honor in this world and in the hereafter, and he will be one of those who are near to God."

45- اور جب فرشتوں نے کہا، "اے مریم! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی خوش خبری دیتا ہے  ,هو جا! اور وه تها ‘(عيسي ابن مريم).  اُس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا،وه دنیا اور آخرت میں معزز اور اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا"

"He (Jesus) will speak to the people in the cradle and in manhood, and he will be one of the righteous."

46- "وه (عیسیٰ ) لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، اور وہ نيكو كاروں  ميں ہوگا"

She said: "O my Lord! How shall I have a son when no man has touched me." He said: "So it will be, for God creates what He wills. When He decrees something, He just says to it: ‘Be!’ and it is! "

47- مریم  نے کہا، "پروردگار! میرے ہاں لڑكا کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی آدمی  نے ہاتھ تک نہیں لگایا"؟  جواب ملا، "ایسا ہی ہوگا، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے!"

4. The Miraculous Conception and Birth of Jesus      

    4- معجزاتی حمل اور عیسیٰ کي پیدائش

Qur'an 19:16-35

And mention in the Book (The Qur'an), the story of Mary, when she withdrew to be in seclusion from her family to a place facing eastwards.

16-(اور اے محمدؐ) اس کتاب میں مریم کا ذکر کرو، جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق كی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی.

 She placed a screen to conceal herself from them; then We[3] sent Our spirit to her (Angel Gabriel), and he appeared before her in the form of a man, in all respects.

17-اور پردہ ڈال کر اُن سے چھپ بیٹھی تھی( پهر اس حالت میں) ہم3 نے اس کے پاس اپن روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور و اس کے سامنے ایک مكمل آدمی کی شکل میں نمودار ہوا. 

She said: "Verily! I seek refuge with the Most Beneficent God from you, if you do fear God."

18-مریم  بولی کہ"اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن (خدا) کی پناہ مانگتی ہوں.

The Angel said: "I am only a Messenger from your Lord, to give you the glad tidings of a righteous son."

19-اس (فرشتے) نے جواب دیا کہ" میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تجھے ایک صا لح لڑکے كی خوشخبری دینے آیا ہوں."

She said: "How can I have a son, when no man has touched me, nor am I unchaste?"

20-اس (مریم) نے کہا "میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں.

He said: " ‘So it will be’, your Lord said: 'That is easy for Me: We shall make him a sign to mankind and a mercy from Us  (God), and it is a matter already decreed by (Allah).' "

21- اس (فرشتے) نے کہا "ایسا ہی ہوگا، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے. اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت. اور یہ کام الله كی  طرف سے ہو کر رہنا ہے.

So she conceived him, and she withdrew to a far place (i.e. Bethlehem Valley, about 4-6 miles from Jerusalem).

22- مریم کو (اس بچے کا) حمل  ہوا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے  دُور چلی گئی (بيت اللحم كی وادی يروشلم سے تقريبا 4-6 ميل دور).

And the pains of childbirth urged her to the trunk of a date-palm tree. She said: "Would that I had died before this and had long been forgotten."

23- پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھُجور کے درخت کے تنے تک پہنچا دیا وہ کہنے لگی " کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا"

Then a voice called her from below, saying: "Grieve not! Your Lord has provided a stream at your feet.

24- پھر ایک آواز نے اسے نیچے سے پکارا ، کہتے هوے "غم نہ کر تیرے رب نے تیرے(قدموں) كے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے.

And shake the trunk of the date-palm towards you; it will let fall fresh, ripe dates for you.

25- اور تو ذرا اِس درخت کے تنے کوا پنی طرف ہلا، وه پکی ہوئی کھجوریں  گرا دے گا. 

So eat and drink and be glad, and if you see any human being, say: 'Verily! I have vowed to God the Most Merciful to abstain from conversation, so I will not talk to any human being this day.'"

26- پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر پھر اگر کوئی شخص  تجھے نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ "میں نےرحمان(خدا)  کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی انسان سے گفتگو نه كروں گی."

Then she brought him (the baby Jesus) to her people, carrying him. They said: "O Mary! Indeed, this is a monstrous thing that you have committed.

27- پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی. (لوگ) کہنے لگے " اے مریم، یہ تو تُو نے بڑا پاپ کر ڈالا".

O sister of Aaron! Your father was not an immoral man, nor was your mother an unchaste woman.

28- اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی.

 Then she pointed towards the baby. The people said: "How can we talk to one who is a child in the cradle?"

29- اس (مریم) نے بچے کی طرف اشارہ کیا تو لوگوں نے کہا " ہم اِس سے کیسے بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟"

 Whereupon the baby spoke: "Verily! I am a servant of God, He has granted me the Scripture and He has made me a Prophet.

30-  پس بچہ بول اٹھا " بيشک  میں اللہ کا بندہ ہوں اُس نے مجھے کتاب عطا كی ، اور نبی بنایا."

And He has made me blessed wherever I may be, and has commanded me to pray and to give alms as long as I live.

31- "اور بابرکت بنا يا جہاں بھی میں رہوں، اور نماز اور زکوٰۃ  قائم کرنے  کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں".

And made me dutiful to my mother, and made me not arrogant, or unblessed.

32- "اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا(نيک سلوک  کرنے والا) بنایا، اور مجھ کو جبّار اور  بد بخت نہیں بنایا."

And peace be upon me the day I was born, and the day I die, and the day I shall be raised up alive!"

33- سلام ہے مجھ پر جب میں پیدا ہوا، اور جب میں  وفات پاوں گا، اور جب زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گ".

This is Jesus, son of Mary. It is a statement of truth, concerning that which they doubt or dispute.

34- یہ ہے عیسٰی ،ابن مریم .اور یہی حق بات ہے ،جس میں لوگ شک کرتے ہیں.

It befits not the Majesty of God that He begets a son for He is far above this. Glorified and Exalted be He above all that they associate with Him. When He decrees a thing, He only says to it, ‘Be!’ and it is.

35-اللہ کے شا يان شان نہیں  کہ وہ( کسی کو) بیٹا بنائے وہ(اس سے) پاک ہے جب وہ کسی كام کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا، اور وہ ہو جاتا ہے.

5. The Prophethood of Jesus and his Miracles

   5- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے معجزات

Qur'an 5:75-76

The Messiah Jesus son of Mary, was no more than a Messenger; many were the Messengers that passed away before him. His mother Mary was a Supporter of Truth (i.e. she believed in the words of God and His Books). They both used to eat food as any human being would, while God does not eat. Look how We make the signs clear to them, and yet they are deluded from the truth.

75-  مسیح ابن مریم رسول کے سوا کچھ نہیں، اُس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں ، اس کی ماں ایک راستباز عورت تھی (یعنی وہ خدا اور اس کی کتابوں پر یقین رکھتی تهی)، اور وہ دونوں( مریم اور اسكا بیٹا عیسیٰ  ) انسانوں   طرح کھانا کھاتے تھے جبكہ خدا کھاتا نہیں ، دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے  واضح  نشانیاں بيان کرتے ہیں، پھر دیکھو یہ كيسے حق سے پھرے جاتے ہیں.

Say (O Muhammad to mankind): "How do you worship besides God something which has no power either to harm or to benefit you? While it is God Who is the All-Hearing, All-Knowing."

76-  کہو(اے محمد لوگوں سے) ، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ حالانکہ اللہ سب سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے.

Qur'an3:48-50

And He (God) will teach Jesus the Book, the Wisdom, the Torah and the Gospel.

48- اور وه (اللہ) عیسیٰ  كو  کتاب، حکمت ، تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا.

And will make him a Messenger to the Children of Israel (saying): "I have come to you with a sign from your Lord, that I design for you out of clay the shape of a bird and breathe into it, and it becomes a real bird by God's permission; and I will heal who was born blind and the leper, and I will bring the dead back to life by God's permission. And I will inform you of what you eat, and what you store in your houses. Surely, therein is a sign for you, if you believe.

49- اورا سے بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا" ( وہ کہے گا) "میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں ،میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی شكل میں ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے حقيقی پرندہ بن جاتا ہے. میں اللہ کے حکم سے پيدايشی اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مُردے کو زندہ کرتا ہوں میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو. بے شک  اس میں تمہارے لیے نشانی  ہے اگر تم مومن  ہو.

And I have come confirming that which was before me of the Torah, and to make lawful to you part of what was forbidden to you, and I have come to you with a sign from your Lord. So fear God and obey me. "

50- اور میں اُس (تعلیم و ہدایت )کی تصدیق کرتا  ہوں  جو تورات  مجھ   سے پہلے (نازل کی  کی گئی) ہے  تا کہ تمہارے لیے بعض وه  چیزيں حلال کر دوں جو تم پر حرام گئی ہیں ،اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے  نشانی لے کر آیا ہوں، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میر ی اطاعت کرو.

Qur'an 5:112-115

Remember when the disciples said: "O Jesus son of Mary! Can your Lord send down to us a table spread with food from heaven?" Jesus said: "Fear God, if you are indeed believers."

112- اور جب حواریوں نے کہا :اے عیسیٰ ابن مریم! کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک  دسترخوان اتار سکتا ہے؟ تو عیسیٰؑ نے جواب ديا : "اللہ سے ڈرو اگر تم مومن  ہو. "

They said: "We wish to eat thereof and let our hearts be stronger in faith, and to know that you have indeed told us the truth and that we ourselves be its witnesses."

113-  انہوں نے کہا ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اس دستر خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہو جائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں.

Jesus, son of Mary, said: "O God, our Lord! Send us from heaven a table spread (with food) that there may be for us - for the first and the last of us - a feast and a sign from You; and provide us sustenance, for You are the Best of Sustainers."

114-  اس پر عیسیٰ ابن مریم نے کہا "خدایا! ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دستر خوان نازل کر جو ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق ہے."

God said:" Indeed I will send it down unto you, but if any of you after that disbelieves, then I will punish him with a torment such as I have not inflicted on anyone among all (beings)."

115- اللہ نے( جواب  میں)  فرمايا "میں اُس کو تم پر نازل کرنے والا ہو ں، مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسا عزاب دوں گا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا.

Qur'an 3:52-53

Then when Jesus came to know of their disbelief, he asked: "Who will be my helpers in God's Cause?" The disciples said: "We are the helpers of God; we believe in God, and bear witness that we are Muslims (i.e. we submit to God)."

52- جب عیسیٰ نے  ان  میں کفر محسوس کیا تو ان سے کہا: "کون اللہ کی راہ میں میرا مدد گار بنے  گا ؟" حواریوں نے جواب دیا، "ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اور گواہ رہو کہ ہم مسلمان (اللہ کے فرمانبردار) ہیں.

" Our Lord! We believe in what You have sent down, and we follow the Messenger (Jesus); so write us down among those who bear witness (to the truth that none has the right to be worshipped but God)."

53- اے ہمارے رب! ہم اس پر ایمان  لائے جو فرمان تو نے نازل کیا ہے اور ہم نے رسول ( عیسیٰ  ) کی پیروی  کی، ہميں گواہی دینے والوں میں لکھ  لے.

Qur'an 61:14  

O you who believe! Be you helpers in the Cause of God as Jesus, son of Mary, asked the disciples: "Who are my helpers in the Cause of God?" The disciples said: "We are God's helpers" (i.e. we will strive in His Cause!). Then a group of the Children of Israel believed and a group disbelieved. So We gave power to those who believed against their enemies, and they became prevalent.

14- اے ایمان والو! تم اللہ کے مددگار بن جاؤ۔ جس طرح مریم کے بیٹےعیسیٰ  مسيح نے حواریوں سے کہا کہ اللہ کی راه میں میرا مددگار كون ہے ؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں ( يعنی ہم اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے!  )، پس بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت تو ایمان ﻻئی اور ایک جماعت نے کفر کیا تو ہم نے ان  لوگوں كو جو ايمان لائے  انکے دشمنوں پر  تقويت دی پس وه غالب آ گئے.

6. The Plot against Jesus and God’s Protection     

         6- عیسیٰ کے خلاف سازش اور خدا کا تحفظ

Qur'an 3:54-59

And they (disbelievers) plotted to kill Jesus, and God planned too. And God is the Best of the Planners.

54-  اور  انهوں  (کافروں) نے مکر(تدبير) کیا اور اللہ نے بھی (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے.

Remember when God said: "O Jesus! I will take you and raise you up to Myself and clear you [of the false allegation that Jesus is God's son] and free you from those who disbelieve. And I will make those who follow you (monotheists)superior to those who disbelieve till the Day of Resurrection. Then you will return to Me and I will judge between you in the matters in which you used to dispute."

55- جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا اپنی جانب اٹھانے واﻻ ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے واﻻ ہوں(  جھوٹے الزام سے کہ عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے  ) اور جن لوگو نے تیری  پیروی  كی ، ا نہيں قیامت تک غا لب ركهوں گا ، پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے اور  میں ہی فیصلہ کروں گا جس  میں تم اختلاف کر تے  ہو.

"As to those who disbelieve, I will punish them with a severe torment in this world and in the hereafter, and they will have no helpers.

56- پھر  جن لوگوں نے کفر کیا ، انہیں میں دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا.

And as for those who believe and do righteous deeds, God will pay them their reward in full. And God does not like the polytheists and wrong-doers."

57- اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے الله ان کو ان کا پورا اجر دے گا۔ اور الله ﻇالموں كو پسند نہیں کرتا.

اThis is what We recite to you (O Muhammad) of the Verses and the Wise Reminder (i.e. the Qur'an).

58- (اے محمد) یہ جو ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں ،  آیتیں ہیں اور حکمت والی نصیحت  (یعنی قرآن) ہے .

Verily, the likeness of Jesus to God is like that of Adam. He created him from dust, then He said to him: ‘Be!’ - And he was.

59-  بے شک ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم کی سی  ہے ، الله نے اسے خاک سے پیدا کیا ، پھر اس نے اس سے کہا: ‘ہو جا! اور وہ ہوگيا ۔

7. The Refutation of the Killing and Crucifixion of Jesus     

  7- عیسیٰ کے قتل اور مصلوب کی تردید۔

Qur'an 4:157-159

And because of their saying (in boast), "We killed the Messiah Jesus, son of Mary, the Messenger of God," but they killed him not, nor did they crucify him, but it appeared so because of his resemblance to a man they mistook for Jesus. Those who differ therein are full of doubts. They have no certain knowledge; they follow nothing but conjecture. For surely they killed him not (i.e. Jesus, son of Mary).

157- اور ان  کے (  فخریہ دعوٰی  ) کہنے كی  وجہ  سے کہ  ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا‘ حاﻻنکہ انہوں نے نہ تو اسے قتل کیا  اور نہ سولی پر چڑھایا بلکہ انہیں شہبے میں ڈال دیا گیا تھا۔ بے شک  جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف كيا  وه ضرور ان کے بارے میں شک میں ہیں.  ان لوگوں کے پا س ان  کے بارے میں کچھ علم نہیں‘ سواے  گمان کی پیروی کے، اور انہوں نے یقیناً عیسٰی کو قتل نہیں کیا.

Rather God raised him (Jesus) up unto Himself. And God is Ever All-Powerful, All-Wise.

158- بلکہ اﷲ نے انہیں( عیسیٰ كو  ) اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا، اور اﷲ غالب حکمت والا ہے.

And there is none of the people of the Scriptures (the Gospel and the Torah) but must believe in him (Jesus, son of Mary, as only a human Messenger of God) before his death. And on the Day of Resurrection, Jesus will be a witness against them.

159- اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہ بچے گا جو عیسیٰ پر  ان کی موت سے پہلے ایمان نہ لے آئے( عیسیٰ ابن مریم ، محض ایک  انسان  اور خدا کے رسول ہیں) اور قیامت کے دن ان پر گواه ہوں گے.

8. Monotheism - The Core of the Message of Jesus 

 توحید یسوع کے پیغام کا بنیادی مرکز تھا۔  8-

Qur'an 3:51

Truly! God is my Lord and your Lord, so worship Him Alone. This is the straight path.

51- بیشک اﷲ میرا رب اور تمہارا رب ہے، پس اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے.

Qur'an 9:31

They took their rabbis and their monks as their lords besides God (by obeying them in things which they made lawful or unlawful according to their own desires) and they also took as their Lord the Messiah, son of Mary. And they were commanded (in the Torah and the Gospel) to worship none but One God. None has the right to be worshipped but Him. Praise and Glory be to Him, far above is He from having the partners they associate with Him.

31- انہوں نے الله كو چھوڑ كر اپنے علماء اور درویشوں کو رب بنا لیا ( ان کی جائز اور ناجائزچیزوں میں اطاعت کرتے جو انہوں نے اپنی خواہشات کے مطابق بنا لي تهيں) اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انہيں يہي حكم  ديا گیا تھا ( تورات اور انجیل میں ) کہ ایک معبود (الله) کی عبادت  كريں . جس کے سوا  کوئی  معبود نہیں. وه اس شرک سے پاک ہے جو وه کرتے ہیں.

Qur'an 5:116-118

And remember when God will say (on the Day of Resurrection): "O Jesus! Did you say to the people: 'Worship me and my mother as two gods besides God?’" He will say: "Glory be to You! It was not for me to say what I had no right to say. Had I said such a thing, You would surely have known it. You know what is within myself and I do not know what is within Yours. Truly You, only You, are the All-Knowing of all that is hidden and unseen.

116- اور جب اﷲ کہے گا ( قیامت کے دن) : اے عیسٰی ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم مجھ کو اور میری ماں کو اﷲ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہیں گے : تو پاک ہے ، میرے لئے جائز نہیں  کہ میں وه  کہوں جس كا  مجھے  حق نہیں، ا گر میں نے يہ بات کہی ہو تو  يقينا تو اسے جا نتا ہے ۔ تو ہر اس (بات) کو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں اسے نہیں جانتا جو کچھ  تیرے نفس میں ہے. بے شک تو ہی سب سے بڑھ  كرغیب جاننے والا ہے. 

۔Never did I say to them aught except what You (God) did command me to say: 'Worship God my Lord and your Lord.' And I was a witness over them while I dwelt amongst them, but when You took me up, You were the Watcher over them, and You are a Witness to all things.

117- میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا مگر صرف وہی جو تو نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ میں ان پر گواه رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو، تو ہی ان پر نگران رہا۔ اور تو ہر چیز پرگواه ہے.

If You punish them, they are Your servants, and if You forgive them, verily You, only You are the All-Mighty, the All-Wise."

اگر توانہیں عذاب دے تو وہ تیرے  بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی غالب بڑی  حکمت والا ہے.

Qur'an 4:171-173

O People of the Scripture, do not exceed the limits in your religion, nor say of God aught but the truth. The Messiah Jesus, son of Mary, was no more than a Messenger of God and His Word, ‘Be! ‘which He bestowed on Mary and a spirit created by Him; so believe in God and His Messengers. Say not: ‘Three (trinity)!’ Cease! It is better for you. For God is the only One God, Glory be to Him. Far Exalted is He above having a son. To Him belong all that is in the heavens and all that is on the earthand sufficient is God as the Disposer of Affairs.

171- اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارے میں حد سے تجاوز نہ كرو جاؤ اور اللہ کے بارے میں حق با ت کے  سوا اور کچھ نہ کہو.، بيشک مسیح عیسیٰ ابن مریم تو اللہ کا رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شده) ہیں، جسےاس نے مریم کی طرف ڈالا ، اور وه  اس کی  طرف سے  ایک روح ہے.   چنا چہ تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان  لاو اور يہ  نہ کہو کہ معبود تین ہیں. اس سے باز آجاؤ کہ تمہارے لئے بہتر ہے، بيشک اللہ ہی واحد معبود ہے . وه اس(امر) سے پاک ہے کہ اس کی اوﻻد ہو، آسمانوں اور زمین  میں  جو کچھ  ہے اسی کا  ہے. اور الله كار ساز كافي ہے .

The Messiah will never disdain to be a servant of God, nor will the Angels who are near to God. And whosoever rejects His worship and is arrogant, God will gather them together unto Himself.

172- مسیح  کو اللہ کا بنده ہونے میں کوئی عار نہیں اور نہ فرشتوں كوعار ہے ، اور جو کوئی الله کی بندگی کو عار خيال کرے اور تکبر کرے،  تو اللہ جلد ان سب کو اپنی طرف جمع کرے گا.

As for those who believed in the Oneness of God and did righteous deeds, He will give them their due rewards, and more, out of His Bounty. But as for those who refused His worship and were proud, He will punish them with a painful torment. And they will not find for themselves besides God any Protector or Helper.

173- پهر جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نيک عمل کئے تو الله  انہیں ان کا پورا  اجر دے گا اور انہیں  اپنے فضل سے زیاده عطا  کرے گا. اور جن لوگوں نے الله کی   عبادت كوعار خيال کیا اور تكبر كيا تو وه انہیں  بہت دردناک عذاب دے گا .اور وه اللہ کے سوا  اپنے لئے  کوئی حمایتی اور  کوئی مداد  کرنے واﻻ نہ پائیں گے.

9. The Prophecy of Prophet Muhammad by Jesus

  9-حضرت مسیح سے پيغبر محمد کی آمد کی پیشنگوئی۔

Qur'an 61:6

And remember when Jesus (son of Mary) said: "O Children of Israel, surely I am God's Messenger unto you, confirming what came before me of the Torah, and giving glad tidings of a Messenger who will come after me. His name will be ‘Ahmad’". And when he came to them with clear proofs, they said: "This is obvious magic."

6- اور جب عیسیٰ ابن مریم  نے کہا: اے  بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں . تصدیق کرنے واﻻ ہوں اس (كتاب) تورات کی  جو مجھ سے  پہلے ہے.  ایک رسول کی  بشارت د ينے واﻻ ہوں وه میرے بعد آئے گا اسکا نام احمد ہے۔ پھر جب وه  (رسول) ان کے پاس کھلی نشانیوں كے ساتھ آیا  وه بولے:"یہ  کھلا جادو ہے۔"

10.  Notes                                         

                  10- نوٹ

§The story of Jesus Christ began with the supplication of the mother of Mary to her Lord to give her a child, so she can raise him up to serve God. 

- یسوع مسیح کی کہانی کا آغاز مریم کی والدہ کی دعا سے ہوتا ہے. جب وه  رب سے بچے كے لئے دعا كرتی ہے تاکہ اسكو پال كر خدا کی خدمت میں صرف كر سكے. 

§The guardianship of Mary was granted to Prophet Zachariah, Mary's maternal uncle, after they disputed as to who should take charge of her. They considered this guardianship to be a religious duty because Mary's mother had dedicated her to serve in the House of God. 

- مریم کی سرپرستی مریم کے ماموں حضرت زکریا کوسونپی گی . جب ان میں اختلاف ہوا کہ كون اسکی ذمہ داری لے گا. ۔ انہوں نے اس سرپرستی کو دينی فریضہ سمجھا کیونکہ مریم کی ماں نے اسے ( مریم كو) خدا كے گھر میں خدمت کے لئے وقف کیا تھا۔

§Zachariah was known for his knowledge and piety, so he raised her up on strong faith and submission to God.

- زکریا اپنے علم اور تقویٰ کے لئے جانے جاتے تھے. پس انهوں نے  اسکی خدا پرستی اور مضبوط  ایمان پر پرورش کی.

§One of the special favors that God bestowed upon Mary because of her piety was giving her miraculous sustenance which no one had at that time.

- خدا نے مریم کو اسکے تقوی کے باعث ایک خاص انعام یہ عطا کیا تھا کہ اسكو معجزاتی رزق ديا جو اس سے  پہلے  (اس دور میں) كسی كو عطا نہیں ہوا.

§When the Angel Gabriel came to her in the form of a man with the glad tidings, she sought refuge in God from him. This was a proof of her modesty and chastity.

- جب فرشتہ جبریل اس کے پاس  خوشخبری لے کر آدمی کی شکل میں حا ظرہوا. اس (مريم) نے اس سے خدا کی پناہ مانگی تھی. یہ اسکی شائستگی اور عفت کا ثبوت تھا۔

§When she became pregnant with the infant Jesus, she surrendered herself to God and went far away from her people.

(5)- جب وہ نومولود  یسوع( مسيح  ) کے ساتھ حاملہ تھی . تو اس نے خود کو خدا کے حوالے کردیا اور اپنے لوگوں سے بہت دور چلی گئی۔

§God's care and protection was bestowed on Mary by preparing for her a safe place for her delivery, near a date-palm tree, to provide her with good nourishment.

- مر يم پر بچہ کی ولادات کے لئے خدا کا  خاص كرم اور حفاظت عطا ہوئی تھی تا كہ بچه کی ولادات کے لئے،ایک محفوظ جگہ کی تیاری کر لے، کھجور کے درخت کے قریب ، اسے اچھی غذا فراہم هو۔   

§When Mary was unjustly accused of committing fornication, God commanded her to stay silent and to let the baby Jesus speak. The baby spoke with the permission of God and that proved his mother’s innocence and chastity.

- جب مریم پر بدکاری کا الزام لگایا گیا تھا، خدا نے اسے چپ رہنے اور نومولود( بچے) عیسیٰ کو بولنے کا حکم دیا۔ بچہ خدا کے حكم سے بولا اور یہ اس کی والدہ کی بے گناہی اور عفت کا ثبوت تھا۔

§The baby confirmed his Prophet hood, his submission to God, his servitude to God, and his status as a Human Messenger:

- بچے نے اپنی نبوت، خدا کی فرمانبرداری، خدا کی بندگی،  اور اپني انساني رسول     هو نے  کی تصدیق کی. ( حوالہ  قرآن پاک 19: 30-33 ( يوحنا 7:40, 8:40 ), مثي 12:18, اعمال3:13,  مرقس 6:4)

§ Monotheism was the main point of the message of Jesus.

- توحید یسوع کے پیغام کا بنیادی نکتہ تھا۔

§Jesus confirmed that there is only One God and He has no partners, nor a wife, and neither a son. Jesus invited people to worship God alone.

- یسوع نے تصدیق کی کہ خدا صرف ایک ہی ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، نہ ہی کوئی بیوی ، اور نہ ہی بیٹا ہے۔ یسوع نے لوگوں کو ايک خدا کی عبادت کرنے کی دعوت دی. (حوالہ  قرآن پاک19:36 )  

§Miracles were performed by Jesus by the permission of God to prove his Prophethood.

- يسوع مسيح  نے خدا کی اجازت سے اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے معجزات انجام دیئے تھے۔(حوالہ  قرآن پاک 3:49)

§Jesus came to confirm the message of Moses and to correct all the falsehoods and innovations that were made to the original message.

-  يسوع مسيح  موسیٰ کے پیغام کی تصدیق اوراس  پیغام میں هر باطل اور اور بدعات كي اصلاح کرنے کے لئے آئے تھے۔ (حوالہ  قرآن پاک 3:50).

§When God saved Jesus from the crucifixion and raised him up, He promised him that all who believed in his message will remain superior to those who disbelieved until the Day of Judgment.

- جب خدا نے عیسیٰ کو مصلوب سے بچایا اور اسے زندہ اٹھایا ، اس(خدا) نے اس  (عیسیٰ) سے وعدہ کیا کہ جو بھی اس کے پیغام پر یقین کرتا ہے قیامت تک ان سب  سے اعلی رہے گا جو ايمان نہ لاءے  ۔(حوالہ  قرآن پاک 3:55)

§The believer can understand that if God can create Adam from dust, without male and female parents, he can easily create Jesus without a male parent.

- مومن سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا، آدم کو خاک سے پیدا کرسکتا ہے،  مرد و زن کے کے بغیر تو وہ یسوع کو آسانی سے  والد کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ (حوالہ  قرآن پاک 3:59)

§Jesus was not killed nor crucified, but God raised him up.

- يسوع مسيح  کو نہ قتل گیا اور نہ ہی مصلوب کیا گیا ، بلکہ خدا نے اسے زندہ اٹھا لیا تها۔(حوالہ  قرآن پاک :157-158)

§Jesus did not call upon anyone to worship him, but he called his people to worship God alone, his Lord and the Lord of all.

- یسوع نے کسی كو بھی اپنی عبادت کرنے کي  دعوت نہیں دی ، بلكہ اس نے اپنی قوم کو بلا شريك  ، اس کا رب اور سب کا مالک خدا (واحد) کی عبادت کرنے کی دعوت  دی۔ (حوالہ متي4:10  اور قرآن پاک 3:51)

§The Qur'an honors and defends Jesus and his mother from profanity and obscenity. It calls upon us to pray to the Creator (God) alone just as Jesus and his mother did; it does not ask us to pray to them (as they were mere creatures of God).

- قرآن عیسیٰ اور اس کی والدہ کی بےحرمتی اور فحاشی كا دفاع کرتا ہے۔ یہ عیسیٰ اور اس کی والدہ کی طرح بلا شريك ہی خالق (خدا) کی عبادت کرنے کی طرف بلاتا ہے۔ یہ ہمیں ان کی دعبادت كرنے كو نہیں كہتا  (کیوں کہ وہ محض خدا کی مخلوق تھے)۔

§Jesus preached pure monotheism as seen in many verses in the Bible:

- یسوع نے خالص توحید کی تبلیغ کی تھی جیسا کہ بائبل میں بہت سی آیات میں دیکھا گیا ہے

"The most important one, answered Jesus, is this: ‘Hear, O Israel: The Lord our God, the Lord is One. Love the Lord your God with all your heart and with all your soul and with all your mind and with all your strength.’" (Mark12:29)

- یسوع نے جواب دیا ، سب سے اہم ، یہ ہے: سنو ، اے اسرائیل: خداوند ہمارا خدا ، ایک ہے۔ اپنے خداوند کو اپنے پورے دل سے ، اپنی ساری جان سے اور اپنے سارے دماغ سے اور اپنی ساری طاقت سے محبت کرو ۔ (مارک 12: 29)

"Now this is eternal life: that they know you, the only True God, and Jesus Christ whom you have sent." (John17:3)

- "ابدی زندگی يہ ہے: کہ وہ آپ کو جانتے ہیں ، سچے خدا واحد کو اور یسوع مسیح کو جسے آپ نے بھیجا ہے۔" (جان 17: 3)

§The prophecy of Prophet Muhammad was part of the message of Jesus:

- حضرت محمد کی پیشگوئی حضرت عیسیٰ کے پیغام کا حصہ تھی (يوحنه: 15:26,16:13, 16:14, 14:16اور قران 61:6).

11. Conclusion            

                                     11. نتیجہ

The message of Jesus was the message of all the prophets (Pure Monotheism). The Creator sent the same message to prophets of all the nations. The similarities between religions come from God and the differences arose from mankind.

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیغام (خالص توحید) تمام انبیاء کا پیغام تھا۔ خالق نے  تمام اقوام کے تمام انبیاء کو ایک ہی پیغام ديا ہے. مذاہب کے مابین مماثلت خدا کی طرف سے  ہے اور

  اختلاف انسان کی طرف سے .  

The message of God has to be one message for all His creatures. It should be simple and easy to understand. It should also be based on a direct connection with God.

خدا کا پیغام  تمام مخلوقات کے لئے ایک ہی پیغام ہونا چاہئے۔ وه ساده  اور آسان فہم ہونا چاہئے۔ وه خدا کے ساتھ براہ راست تعلق پر بھی مبنی ہونا چاہئے۔

Islam, which means total submission to the Creator and the worship of Him alone without any intermediary, was the religion of all the prophets throughout the history of mankind. It is the right of the Creator to be worshipped alone.

اسلام ، جس کا مطلب خالق کے مکمل تابع ہونا اور بغیر کسی وسيلے  کے تنہا اس کی عبادت كرنا ہے ، انسانیت کی پوری تاریخ میں تمام انبیاء کا مذہب اسلام  تھا۔ یہ خالق کا حق  ہے  کہ صرف خالق کی عبادت کی جا ئے (بغير شرک کے) ۔

At the beginning of the creation of mankind, a covenant was made between God and humans. God gathered all human beings together and made them testify to His Oneness and Unity. Therefore, there exists at the heart of each man’s consciousness, an acknowledgement of the Existence and Oneness of God, his Creator.

 - انسان کی تخلیق کے آغاز میں ، خدا اور انسانوں کے مابین ایک عہد ہوا  تھا۔ خدا نے تمام انسانوں کو جمع کیا اور ان کو اپنی  وحدانیت  کا گواہ بنايا ۔ لہذا ، ہر انسان کے شعور میں، خدا کے وجود اور وحدانیت کا اعتراف  موجود ہے (قرآن: 7: 172) ۔

The differences among religions relate to the intermediaries and not to the Creator. If everyone worships the Creator God alone withoutpartners or intermediaries, we would all be united. This is the key to bringing harmony and unity to the world.

- مذاہب کے مابین اختلاف انسان كي تخليق سے۔ اگر ہر شخص بغیر کسی شریک یا ثالثيوں کے خالق خدا کی عبادت کرتا ہے تو ہم سب متحد ہوجائیں گے۔ یہی دنیا میں ہم آہنگی اور یکجہتی لانے کی کلید ہے(قرآن3:64 ) ۔

God is Self-Sufficient, it does not befit His Majesty to take a son or wife, or to beget or to be begotten, and there is no similitude to Him.

خدا (خود) کافیي ہے ، یہ  اسكے  شايان شان  نہیں كہ اسكا بیٹا یا بیوی هو،نہ وه پیدا هوا اور نہ كسي نے اس كو پیدا کيا ، اور اس کی کوئی مثال نہیں ۔

The term ‘Son of God’ was not used literally, because in the Bible, God refers to many of His chosen servants as ‘sons’. The Hebrews believed that God is One, and that He has neither wife nor son in any literal sense, so the term ‘Son of God’ meant servant of God. Some of the followers of Jesus who came from a Greek or Roman background misused this term. In their heritage the term‘Son of God’ signified an incarnation of a god or someone born out of a physical union between a male and a female goddess.

‘لفظ’ خدا کا بیٹا ‘لفظی طور پر استعمال نہیں ہوا تھا ، کیوں کہ بائبل میں خدا اپنے بہت سے بندوں کو’ بیٹے ‘سے تعبیر کرتا ہے. عبرانیوں کا ماننا تھا کہ خدا ایک ہے ، اور یہ کہ اس کی نہ تو کوئی لغوی معنی میں بیوی ہے اور نہ ہی بیٹا ، لہذا ‘خدا کا بیٹا’ کی اصطلاح سے خدا کا خادم مراد تھا۔ عیسیٰ کے پیروکاروں میں سے کچھ  جو یونانی یا رومی علاقوں سے آئے تھے نے اس اصطلاح کا غلط استعمال کیا۔ ان کے ورثہ میں ’’ خدا کا بیٹا ‘‘ اصطلاح میں کسی دیوتا یا مرد اور عورت دیوی کے مابین جسمانی اتحاد سے پیدا ہونے والے اوتار کی علامت ہے۔

God is Perfect; He has no need to die for us. He gives life and death, so He did not die nor was He resurrected. He saved His Prophet Jesus and protected him as He helps and protects His chosen believers.

-خدا کامل ہے۔ اسے ہمارے لئے مرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ زندگی اور موت دیتا ہے ، لہذا اسے  نہ مو ت آتی ہے  اور نہ ہی اسے زندہ کیا گیا تھا۔ اس نے اپنے نبی حضرت عیسیٰ کو بچایا اور اس کی حفاظت کی جس طرح وہ اپنے منتخب مومنین کی مد د اور حفاظت کرتا ہے.

God is Most Merciful to His creatures, more than a mother is to her children, so He forgives them whenever they sincerely repent to Him.

-خدا اپنی مخلوق پر مہربان ہے ، ماں سے زیادہ جتنا وه ا پنے بچوں پر شفيق ہے ، لہذا جب بھی وہ اس سے خلوص دل سے توبہ کرتے ہیں تو وہ ان کو معاف کرتا ہے۔

The lesson which God gives to all humanity when He accepted Adam's repentance for eating the forbidden fruit is the first instance of forgiveness of God to humanity. There is no issue of the original sin. Every soul bears the burden of its own sin. This shows the merciful nature of God.

خدا نے انسانیت کو  مغفرت كا سبق دیا ہے جب اس نے منع کیا ہوا پھل کھانے پر آدم کی توبہ قبول کی تھی. تو وہ انسانیت پر خدا کی مغفرت کی پہلی مثال ہے۔

Forgiveness does not negate justice, nor does justice preclude forgiveness.

معافی انصاف کی نفی نہیں کرتی اور نہ ہی انصاف معافی کو روکتا ہے۔

People are born free of sins; it is only after they reach the age of puberty or maturity that they are held accountable for their sins.

   لوگ گناہوں سے پاک پیدا ہوئے ہیں۔ بلوغت یا پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد ہی ان کو ان کے گناہوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

There is no superiority of one race over another. God tests each individual on the basis of their piety and righteousness and this reflects the manifestation of the names and attributes of God (The Most Just, The Most Wise, etc.).

-ایک نسل كو دوسرے پر فوقیت نہیں ہے۔ خدا ہر فرد کو ان کی تقویٰ اور راستبازی کی بنیاد پر پرکتا ہے اور یہ خدا کے ناموں اور صفات کے مظہر کی عکاسی کرتا ہے. (نہايت عدل والا, نہايت حكمت والا)

One of the greatest attributes of God is ‘The All-Wise’; He does not create anything in vain, exalted be He! He creates things for reasons that reflect His Great Wisdom.

خدا کی سب سے بڑی صفات میں سے ایک ’’ حکمت والا ‘‘ ہے۔ وہ رائیگاں نہیں پیدا کرتا ، وہی غالب ہے! وہ ایسی وجوہات کی بنا پر ایسی چیزیں تخلیق کرتا ہے جو اس کی عظیم حکمت کی عکاسی کرتے ہیں۔) (قرآن 21: 16)

Humans cannot be blamed for sins they did not commit, nor can they gain salvation for not attempting to be good. One's life is a test and each soul is responsible for its own actions.

"Parents are not to be put to death for their children, nor children put to death for their parents, each will die for his own sin." (Deuteronomy 24:16)

-انسانوں کو ان گناہوں کا قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے جو انہوں نے ارتکاب نہیں کیے ، اور نہ ہی وہ نیکی کی کوشش کے بغير نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ ہر کسی کی زندگی ایک آزمائش ہے اور ہر شخص اپنے اعمال کے لئے خود ذمہ دار ہے۔

بیٹوں کے بدلے والدين مارے نہ جائیں نہ والدين کے بدلے بیٹے مارے جائیں ہر ایک اپنے ہی گناہ كے سبب سے مارا جائے(استثنا 24: 16)

This life is not our final destination. God has not created human beings just to eat, drink, and reproduce. If that were the case, animals would be considered better than humans, as they also eat, drink, and reproduce, but they are not accountable for their actions. God honored human beings and favored them above many of His creatures.

یہ زندگی ہماری آخری منزل نہیں ہے۔ خدا نے انسانوں کو صرف کھانے ، پینے اور دوبارہ پیدا کرنے کے لئے تخليق نہیں کیا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جانوروں کو انسانوں سے بہتر سمجھا جاتا ، کیوں کہ وہ  بهي كهاتے پیتے اور دوبارہ پیدا کرتے ہیں ، لیکن وہ ان کے اعمال کا جوابدہ نہیں ہیں۔ خدا نے انسانوں کو معزز بنا يا  اور بہت سی مخلوقات  پر برتري دي۔

The wise human being is the one who plans for life after death.

"Every soul will taste death, and you will only be given your [full] compensation on the Day of Resurrection. So he who is drawn away from the Fire and admitted to Paradise has attained [his desire]. And what is the life of this world except the enjoyment of delusion."(Qur'an 3:185(

عقلمند انسان وہ ہے جو موت کے بعد زندگی کا سوچتا ہے.

ہر جان موت کا مزه چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤ گے، پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وه کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکا ہے"(قرآن 3: 185 ) .

I bear witness that there is no god but one God (Allah), that He has no partner or son, and I bear witness that Muhammad is His servant and His final messenger. I bear witness that Jesus Christ is His servant and His messenger.

میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک خدا (اللہ) کے سوا کوئی معبود نہیں ، اس کا کوئی شریک یا بیٹا نہیں ہے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے آخری رسول ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ یسوع مسیح اس کے بندے اور اس کے رسول ہيں۔



[1]The Christians, Jews, and Muslims in the Middle East use the word "Allah" to refer to God, which refers to The Only True God. The word Allah was mentioned in the earlier version of the Old Testament 89 times. (Refer to Genesis 2:4, Book of Daniel 6:20 Hebrew and Arabic Bible)

مسیحی ، یہودی ، اور مشرق وسطی کے مسلمان خدا کا حوالہ کرنے کے لئے "اللہ" کا لفظ استعمال کرتے ہیں ، جس سے مراد صرف سچا خدا ہے۔ عہد قدیم کے پہلے ورژن میں لفظ اللہ کا ذکر 89 بار ہوا تھا۔ (ابتداء 4: 2 ، دانیال کی کتاب 6:20 عبرانی اور عربی بائبل کا حوالہ )

[2]The Qur'an is the last holy book sent by God, but not the only book, as Muslims believe in all the earlier revelations of God (the scriptures of Abraham, the book of David, the Torah, the Gospel, etc.). Muslims believe that the original message in all the sacred books is Pure Monotheism (unifying God in worship). Unlike the Divine scriptures that preceded, the Qur'an has not been kept in the hands of any particular group or clergymen of Muslims which would lead to the misinterpretation or alteration of it. On the contrary, the Qur'an has always been within the reach of all Muslims who recite it in their daily prayers, and they refer to it for all their concerns.  Muslims read and recite the same Qur'anic text that was read and recited during the lifetime of the Prophet Muhammad and his companions. Not a single letter has been added or removed from the Qur'an. God the almighty challenged the Arabs and the non-Arabs to bring forth a book similar to the one He revealed, even though the Arabs at that time were masters of eloquence and rhetoric, they were unable to meet the challenge, and they realized that the Qur'an could not be from any other than God, the Lord of the universe.

قرآن پاک کی آخری مقدس کتاب ہے جو خدا نے بھیجی ہے ، لیکن صرف ایک ہی کتاب نہیں ہے ، کیوں کہ مسلمان خدا کي تمام پہلي وحيوں (صحیفہ ابراہیم ، داؤد کی کتاب ، تورات ، انجیل وغیرہ) پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلمان سمجھتے ہیں کہ تمام مقدس کتابوں میں اصل پیغام خالص توحید (خدا کو عبادت میں یکجا کرنا) ہے۔ پہلے کے آسمانی صحیفوں کے برخلاف ، قرآن کو کسی خاص گروہ یا مسلمانوں کے علماء کے ہاتھ میں نہیں رکھا گیا ہے جو اس کی غلط تشریح یا تغیرات کا باعث بنے گا۔. اس کے برعکس ، قرآن ہمیشہ ہی تمام مسلمانوں کی رسائ میں رہا ہے جو اپنی روزانہ کی نمازوں میں اس کی تلاوت کرتے ہیں ،اور وہ اپنے تمام امور کے ليے اس کا حوالہ دیتے ہیں۔ مسلمان اسی قرآنی متن کو پڑھتے اور سنتے ہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام کی زندگی میں پڑھتے تھے۔. قرآن مجید سے ایک خط بھی شامل یا خارج نہیں ہوا ہے۔ خداتعالیٰ نے عربوں اور غیر عربوں کو چیلنج کیا کہ وہ ايسی هي کتاب کو سامنے لائے جسا  کہ خدا نے نازل كي- اگرچہ اس وقت کے عرب فصاحت اور بیان بازی کے مالک تھے ، وہ چیلنج کا مقابلہ کرنے سے قاصر رھے ، اور انھوں نے محسوس کیا کہ قرآن خداوند عالم کائنات کے علاوہ کسی اور کا كلام نہیں ہوسکتا .

[3]The reference of God to Himself as WE or US in many verses of the Qur'an denotes Grandeur and Power in Arabic. In the English language this is known as the royal WE, where a plural pronoun is used to refer to a single person holding a high office, such as a monarch. For the avoidance of doubt, the Qur’an has consistently reminded us of the SINGULAR pronoun in reference to God, when called upon by His servants.

قرآن مجید کی متعدد آیات میں خدا کا ہم یا  خود کا حوالہ عربی میں شان و شوکت اور قدرت کی نشاندہی کرتا ہے۔ انگریزی زبان میں اسے شاہی ہم  کے نام سے جانا جاتا ہے ، جہاں ضمیر جمع کسی ایک فرد کے  ليے استعمال کیا جاتا ہےجو  کسی اعلی عہدے پر فائزهو جیسے بادشاہ۔ .شک سے بچنے کے لئے، قرآن مجید نے متعدد بار ہمیں خدا کے حوالے سے  واحد ضمیر کی یاد  دلائی ہے۔ جب اس کے بندوں نے بلایا.