عقیدۂ ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) ()

صلاح بن محمد البدیر

 

زیر نظر مختصر رسالہ ان مسائل پر مشتمل ہے جن کا علم حاصل کرنا اور جن کے مطابق عقیدہ رکھنا ایک انسان پر واجب اور ضروری ہے، جیسے توحید کے مسائل، دین کے بنیادی اصول اور اس سے متعلق بعض دیگر مسائل جو کہ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کے عقیدہ کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ یعنی امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور ان کے متبعین رحمہم اللہ نیز وہ لوگ جو اہلِ سنت وجماعت کے عقیدے پر متفق ہیں اور اس میں ان کا کوئی اختلاف نہیں ہے.

|

 عقیدۂ ائمہ اربعہ  (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ)


تالیف: چیدہ طلبۂ علم

تقديم: فضیلۃ الشیخ صلاح بن محمد البُدَير

ترجمہ ومراجعہ:    مرکز روّاد الترجمہ  


عقيدة الأئمة الأربعة رحمهم الله (أبو حنيفة ومالك والشافعي وابن حنبل)

 (باللغة الأردية)


إعداد: نخبة من طلبة العلم تقديم: فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير

ترجمة ومراجعة: مركز رواد الترجمة

 مقدمہ از: فضیلۃ الشيخ صلاح البدير۔حفظہ اللہ۔

تمام تعريفيں اس اللہ کے لیے ہیں جس نےنہایت مستحکم فیصلہ کیا، (چیزوں کو) حلال و حرام قرار دیا، متعارف کروایا، علم سے نوازا اور اپنے دین کی سمجھ بوجھ عطا کی۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے دین کے قواعد کو اپنی محکم کتاب کے ذریعہ استوار کیا، جو ساری امتوں کے لیے باعث ہدایت ہے، ساتھ ہی اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں جنہیں ملت حنیفیت اور مکلفین کے لیے جامع شریعت دے کر عرب وعجم اور تمام جہاں کے لیے نبی بنا کر مبعوث فرمایا، پس آپ ﷺ (لوگوں کو) ہمیشہ اسی شریعت کے ذریعہ اور اسی كى دعوت دیتے رہے، اس کے براہین ودلائل سے معترضین سے محاذ آرائی کرتے اور اسی کی حجتوں کے ذریعہ اس کی نگہبانی وپاسداری فرماتے رہے۔ اللہ کی رحمتیں نازل ہوں آپ پر اور آپ کے ان اصحاب پر جو اسی راستے پر چلتے رہے اور ان تمام لوگوں پر بھی جنہوں نے اس طرزِ زندگی کو حرزِ جاں بنایا۔ حمد و صلاة کے بعد:

”عقیدۂ ائمہ اربعہ“ نامی کتاب سے مطلع ہوا جسے طلباء کی ایک جماعت نے تیار کیا ہے۔ اور میں نے اسے صحیح عقیدہ کے مطابق پایا، جس میں مسائل کا اثبات اور ان کی توضیح، ہمارے سلف صالحین کے منہج پر کی گئی ہے جو کتاب وسنت پر مبنی ہے۔ اس کتاب کے موضوع کی اہمیت اور اس میں موجود مسائل کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے میں اس کتاب کو چھاپنے اور شائع کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ سے اس بات کا سوالی ہوں کہ وہ اس کتاب کے ہر قاری کو نفع پہنچائے اور اس کتاب کے تیار کرنے والوں کو بہتر اور پورا پورا بدلہ عطا فرمائے۔

وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

امام وخطيب مسجدِ نبوی

وقاضی ’جنرل کورٹ‘ مدینہ منورہ

صلاح بن محمد البُدَير

 مقدمہ از مؤلفین

الحمدُ للهِ رَبّ العَاَلمِينَ وَالصَّلاةُ والسَّلامُ عّلى نبينا مُحمَد سَيّدِ المُرْسَلينَ، وعَلى آَلِهِ وَأصْحَابهِ أجْمَعين، أمَّا بَعْدُ:

زیر نظر مختصر رسالہ ان مسائل پر مشتمل ہے جن کا علم حاصل کرنا اور جن کے مطابق عقیدہ رکھنا ایک انسان پر واجب اور ضروری ہے، جیسے توحید کے مسائل، دین کے بنیادی اصول اور اس سے متعلق بعض دیگر مسائل جو کہ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کے عقیدہ کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔

یعنی امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور ان کے متبعین رحمہم اللہ نیز وہ لوگ جو اہلِ سنت وجماعت کے عقیدے پر متفق ہیں اور اس میں ان کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ جیسے امام ابوحنیفہ (المتوفی  150 ھ) کی کتاب الفقہ الاکبر، امام طحاوی (المتوفی  321 ھ) کی کتاب عقیدہ طحاویہ، جس کی شرح علامہ ابو العِزحنفی (المتوفی  792 ھ) نے کی ہے۔ اور ابن ابی زید القیروانی المالکی (المتوفی  386 ھ) کے الرسالة کا مقدمہ، ابن ابی زمنین المالکی (المتوفی  399 ھ) کی کتاب اصول السنہ، ابن عبدالبر (المتوفی  463  ھ) کی کتاب التمہید جو کہ مؤطا کی شرح ہے،

اسماعیل بن عبد الرحمن الصابونی الشافعی (المتوفی   449 ھ) کی کتاب الرسالہ فی اعتقاد اھل الحدیث، امام شافعی کے شاگرد امام مزنی (المتوفی  264 ھ) کی شرح السنہ، امام احمد بن حنبل (المتوفی  241 ھ) کی کتاب اصول السنہ، اور ان کے صاحبزادے عبداللہ (المتوفی  290 ھ) کی کتاب السنہ، ابوبکر الخلال حنبلی (المتوفی  311 ھ) کی کتاب السنہ، ابن وضاح اندلسى (المتوفی  287 ھ) كى كتاب البدع والنهي عنها، ابوبکر طرطوشی مالکی (المتوفی  520 ھ) کی کتاب الحوادث والبدع، اور ابوشامہ مقدسی شافعی (المتوفی  665 ھ) کی کتاب الباعث علی انکار البدع والحوادث، اس کے علاوہ اصول اورعقائد سے متعلق وہ کتابیں جنہیں ائمہ اور ان کے متبعین نے حق کی دعوت، سنت اور عقیدہ کی حفاظت نیز بدعات وخرافات کی تردید میں تالیف کی ہیں۔

اے میرے مسلمان بھائی! جب آپ ان ائمۂ مذاہب میں سے کسی ایک کی اتباع کر رہے ہیں تو یہ آپ کے امام کا عقیدہ ہے لہذا جس طرح سے آپ فقہی احکام میں ان کی اتباع کر رہے ہیں ٹھیک اسی طرح سے عقیدے میں بھی ان کی پیروی کریں۔

معلومات پہنچانے میں آسانی اور انہیں ذہن نشین کرانے کے لیے اس کتاب کو سوال وجواب کے طرز پر مرتب کیا گیا ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو حق قبول کرنے، اس میں مخلص ہونے اور رسول ﷺ کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم تسلیما ۔

 س: جب آپ سے یہ سوال كىا جائے کہ تمہارا رب کون ہے؟

ج: تو آپ کہیں: میرا رب اللہ ہے جو کہ مالک، پیدا کرنے والا، تدبیر کرنے والا، صورت بنانے والا، پالنہار، اپنے بندوں کی اصلاح کرنے والا اور ان کے معاملات کی دیکھ ریکھ کرنے والا ہے، اس کے حکم کے بنا کوئی چیز وجود میں نہیں آتی اور نہ ہی کوئی ساکن چیز اس کی اجازت اور ارادہ کے بغیر حرکت کرتی ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ آپ نے اپنے رب کو کیسے پہچانا؟

ج: تو آپ کہیں کہ میں نے اپنے رب کو اس فطری علم کے ذریعہ پہچانا ہے جس پر اس نے میری تخلیق فرمائی، نیز فطری طور پر اس کے وجود کے اقرار، اس کی عظمت کی معرفت اور اس سے خوف کے سبب اسے پہچانا ہے، بعینہ میں نے اسے اس کی نشانیوں اور اس کی مخلوقات میں غور وفکر کر کے پہچانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَمِنْ آَيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ. یعنی ”دن و رات اور سورج و چاند بھی اسی کی نشانیوں میں سے ہیں“۔ (سورۃ فصلت:37) چنانچہ اس قدر عمدہ نظم و نسق، باریکی و لطافت اور حسن وجمال کے ساتھ یہ عظیم ترین مخلوقات خود بخود وجود میں نہیں آسکتیں بلکہ ایسے خالق کی ضرورت ہے جو انہیں عدم سے وجود میں لائے اور یہ اس خالق کے وجود پر قطعی دلیل ہے جو قادر، عظیم اور حکیم ہے، چند ملحدوں کو چھوڑ کر جملہ مخلوقات اپنے خالق، مالک، رازق اور ان کے امور کی تدبیر کرنے والے کا اقرار کرتی ہے۔ اور یقیناً اسی کی مخلوقات میں ساتوں زمین و آسمان ہیں، اور وہ ساری مخلوقات جو ان کے مابین بستی ہیں، جن کی تعداد، حقیقت اور صفت وکیفیات کو کوئی جاننے والا نہیں ہے اور نہ ہی ان کی ضرورتوں کو پوری کرنے والا اور انہیں روزی دینے والا کوئی ہے سوائے اس اللہ کے جو زندہ، سب کا تھامنے والا اور عظیم خالق ہے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے: إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ.”بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر قائم ہوا، وہ شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وہ شب اس دن کو جلدی سے آلیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا درآنحالیکہ وہ سب اس کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لیے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے“۔ (سورۃ الاعراف:54)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ آپ کا دین کیا ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ میرا دین اسلام ہے، یعنی اللہ کی توحید پر سرتسلیم خم کر دینا، اطاعت وفرمانبرداری کے ذریعہ اس کی مکمل بندگی بجالانا اور شرک اور اہلِ شرک سے براءت ظاہر کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ. یعنی ”بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے“۔(سورۃ آل عمران:19) نیز فرمان باری تعالی ہے: وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآَخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ. ”جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے، تو اس کا وہ دین ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا“۔ (سورۃ آل عمران:85)

اللہ تعالیٰ اپنے اس دین کے سوا کسی اور دین کو قبول نہیں کرے گا جسے دے کر اُس نے ہمارے نبی محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے، کیوں کہ اسلام نے جملہ سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے چنانچہ جو شخص دین اسلام کے سوا کسی اور دین کی پیروی کرے گا وہ راہ راست سے بھٹک جائے گا نیز آخرت میں ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوگا، جو نہایت بدترین جگہ ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ ایمان کے ارکان کیا کیا ہیں؟

ج: تو آپ جواب دیں: ایمان کے چھ ارکان ہیں اور وہ یہ ہیں: آپ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائیں اور اس بات پر بھی ایمان لائیں کہ ہر اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔

اور کسی کا ایمان اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک کہ وہ ان تمام باتوں پر اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق ایمان نہ لائے۔ اور جس نے ان میں سے کسی بھی چیز کا انکار کیا وہ ایمان کے دائرے سے نکل جائے گا، اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آَمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآَخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآَتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآَتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ. ”ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ صحیح معنوں میں اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتابُ اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوة کی ادائیگی کرے، جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں“۔ (سورۃ البقرة:177)

نیز نبیﷺ کا یہ فرمان جب آپ سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ. ”تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ“۔ (صحیح مسلم)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر ایمان لانے کی کیفیت کیا ہوگی؟

ج: تو آپ جواب دیں کہ اللہ تعالی پر ایمان اس طرح لانا کہ اس بات کی تصدیق کرنا، یقین رکھنا اور اقرار کرنا کہ اللہ کی ذات موجود ہے اور یہ کہ وہ اپنی ربوبیت، الوہیت اور اسماء وصفات میں اکیلا اور یکتا ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ فرشتوں پر کیسے ایمان لائیں گے؟

ج: تو آپ کہیے کہ فرشتوں کے وجود، ان کی صفات، ان کی طاقت وقوت، ان کے کام اور جن پر وہ مامور ہیں ان تمام امور کی تصدیق کرنے اور ان پر یقینِ جازم رکھنے کا نام ایمان بالملائکہ ہے، نیز اس بات کی تصدیق اور یقین كامل کہ وہ معزز اور عظیم مخلوق ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا کیا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ. ”جو حکم اللہ تعالیٰ انہیں دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجالاتے ہیں“۔ (سورة التحريم:6) اور یہ کہ ان کے دو دو، تین تین، چار چار اور اس سے زائد پر ہیں اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے علاوہ ان کی تعداد کو کوئی نہیں جانتا ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں عظیم ترین ذمہ داریاں دی ہیں، ان میں سے کچھ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں تو کچھ رحمِ مادر کی حفاظت پر مامور ہیں، کچھ اعمال کی حفاظت پر تو کچھ بندوں کی حفاظت پر مامور ہیں، اسی طرح کچھ جنت تو کچھ جہنم اور کچھ اس کے علاوہ کی حفاظت پر مامور ہیں۔ ان میں سب سے افضل جبريل علیہ السلام ہیں جو انبیائے کرام پر نازل ہونے والی وحی کے ذمہ دار ہیں، ہم ان تمام فرشتوں پر اجمالاً اور تفصیلاً اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح اللہ تبارک وتعالی نے ہمیں اپنی کتاب اور اپنے رسول ﷺ کی حدیث میں خبر دی ہے۔

جس نے فرشتوں کا انکار کیا یا یہ گمان کیا کہ ان کی حقیقت اس طرح نہیں ہے جس طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خبر دی ہے تو وہ شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی خبر کو جھٹلانے کی وجہ سے کافر ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ نازل کردہ کتابوں پر ایمان لانے کی کیفیت کیا ہوگی؟

ج: تو آپ کہیں کہ آپ یقین کریں اور اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء ورسل عليهم الصلاة والسلام پر کتابیں نازل فرمائیں جن میں سے کچھ کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ جیسے صحیفۂ ابراہیم، تورات، انجیل، زبور اور قرآن۔ چنانچہ صحیفۂ ابراہیم کو ابراہیم علیہ السلام پر، تورات کو موسی علیہ السلام پر، انجیل کو عیسی علیہ السلام پر، زبور کو داؤد علیہ السلام پر اور قرآن کو محمد ﷺ پر نازل کیا جو انبیاء عليهم الصلاة والسلام کے سلسلے کی آخری کڑی ہیں۔

ان کتابوں میں سب میں افضل قرآن ہے جو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ کلام فرمایا ہے، اس کے الفاظ و معانی دونوں اللہ تعالیٰ کے ہیں، جسے اس نے جبریل علیہ السلام کو سنایا اور اپنے نبی محمدﷺ کو اس کی تبلیغ کا حکم فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ نےفرمایا: نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ.”اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے“۔ (سورۃ الشعراء:193)

نیز فرمایا: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآَنَ تَنْزِيلًا.”بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے۔“ (سورۃ الإنسان:23)

نیز اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے: فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ.”(اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناه طلب کرے) تو اسے پناہ دے یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے“۔ (سورۃ التوبة:6)

اللہ تعالی نے تحریف وتبدیلی اور کمی وزیادتی سے اس کی حفاظت فرمائی ہے۔ یہ قرآن کتابوں اور سینوں میں محفوظ رہے گا تاوقتیکہ آخری زمانے میں قیامت قائم ہونے سے قبل اللہ تعالیٰ مومنوں کی روحوں کو قبض نہ کرلے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف اٹھالے گا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ انبیاء اور رسولوں پر کس طرح ایمان لائیں گے؟

ج: تو جوابا عرض کریں کہ آپ اس بات کا پختہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام بشر ہیں اور بنی آدم میں سب سے افضل ہیں، نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے رسولوں کو اپنی اس شریعت کی تبلیغ کے لیے چنا اور منتخب فرمایا ہے جسے اس نے اپنے بندوں پر نازل فرمایا ہے، چنانچہ انبیاء ورسل لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلاتے رہے جس کا کوئی شریک نہیں اور شرک اور اہلِ شرک سے براءت ظاہر کرنے کی تبلیغ کرتے رہے۔

نبوت اللہ کا انتخاب اور اختیار ہے۔ اسے کوشش، کثرتِ طاعت، نیکی اور دانشمندی سے حاصل نہیں کیا جاسکتا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ.”اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وہ اپنی پیغمبری رکھے؟“ (سورة الأنعام:124)

سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام اور سب سے پہلے رسول نوح علیہ السلام ہیں اور تمام انبیاء ورسل میں سب سے آخری اور سب سے افضل محمد بن عبداللہ قرشی ہاشمی ﷺ ہیں۔ پس جس نے کسی اىك بھی نبی کا انکار کیا اس نے کفر کیا اور جس نے محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کیا وہ کافر اور اللہ کی تکذیب کرنے والا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ما كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ. یعنی ”(لوگو) محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں“۔ (سورہ احزاب:40) اور آپﷺ نے فرمایا: وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي. کہ ”میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے“۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ آخرت پر کس طرح ایمان لائیں گے؟

ج: تو جواب دیں کہ آپ اس بات کا پختہ اعتقاد اور ایسا یقین رکھیں جس میں کسی طرح کا کوئی شک وشبہ نہ ہو اور ان تمام چیزوں کا اقرار کریں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ یہ مرنے کے بعد واقع ہوں گی۔ جیسے قبر میں سوال وجواب اور اس میں نعمتوں اور عذاب کا دیا جانا، دوبارہ اٹھایا جانا اور حساب وکتاب کے لیے مخلوق کا اکٹھا کیا جانا نیز جو کچھ میدانِ قیامت میں پیش آئے گا جیسے لمبا وقوف، ایک میل کے بقدر سورج کا نزدیک ہونا، حوض، میزان، صحیفے، جہنم کی پشت پر پل صراط کا لگایا جانا اور اس کے علاوہ بہت سے حوادث اور اس عظیم دن کی ہولناکیاں، یہاں تک کہ جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل نہ ہوجائیں، جیساکہ تفصیلی بیان کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ میں وارد ہے، اسی طرح آخرت پر ایمان لانے میں ان چیزوں کی تصدیق بھی شامل ہے جو کہ ثابت ہیں جیسے قیامت کی علامتیں اور اس کی نشانیاں، فتنوں کی کثرت، قتل، زلزے، زمین کا دھنسنا، دجال کا نکلنا، عیسی علیہ السلام کا نزول، یاجوج ماجوج کا نکلنا، مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور اس کے علاوہ دیگر ثابت شدہ علامتوں کی تصدیق کرنا۔

اور یہ سب اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی ان حدیثوں سے ثابت ہیں جو صحیح ہیں اور صحاح، سنن اور مسانید کی کتابوں میں مذکور ہیں۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا عذابِ قبر اور اس کی نعمتیں کتاب وسنت سے ثابت ہیں؟

ج: تو جواباً عرض کریں: جی ہاں، اللہ تعالیٰ نے قومِ فرعون کے بارے میں فرمایا: النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آَلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ.”آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (فرمان ہوگا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو۔(سورة غافر:46)، اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ.”کاش کہ تو دیکھتا جب فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں ان کے منہ پر اور سرینوں پر مارتے ہیں (اور کہتے ہیں) تم جلنے کا عذاب چکھو“۔ (سورۃ الأنفال:50)، نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آَمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآَخِرَةِ.”ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی“۔ (سورۃ إبراهيم:27)

اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی لمبی حدیث میں ہے کہ ...پھر آسمان سے ندا لگانے والا ندا لگائے گا کہ میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لیے جنتی بستر لگاؤ اور اسے جنتی لباس پہناؤ اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو تاکہ اس کی مہک اور خوشبو اسے ملتی رہے، اور اس کی قبر تاحدِ نگاہ کشادہ کردی جاتی ہے۔ اور پھر کافر کی موت کا تذکرہ کیا، اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آکر بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے سوال کرتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے کچھ نہیں معلوم!، پھر وہ دونوں پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے کچھ نہیں معلوم!، پھر وہ دونوں پوچھتے ہیں: یہ کون شخص ہیں جوتمہارے درمیان نبی بنا کر بھیجے گئے؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے کچھ نہیں معلوم!، پس آسمان سے ایک آواز لگانے والا آواز لگاتا ہے: یہ جھوٹ بول رہا ہے، اس کے لیے جہنم کا بستر لگاؤ اور اسے جہنم کا لباس پہناؤ، اور اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو تاکہ اس کی گرمی اور گرم ہوا اسے ملتی رہے، پھر اس کی قبر تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر اس پر ایک اندھا گونگا فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے جس کے پاس لوہے کا ایسا ہتھوڑا ہوتا ہے کہ اگر اسے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی بن جائے پھر وہ اس ہتھوڑے سے اسے ایسی مار مارتا ہے جس کی آواز جن وانس کے علاوہ مشرق ومغرب میں رہنے والی ہر مخلوق سنتی ہے۔ (ابو داود)

اسی وجہ سے ہر نماز میں عذابِ قبر سے پناہ مانگنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا اہل ایمان آخرت میں اپنے رب کو دیکھیں گے؟

ج: تو آپ کہیں: جی ہاں اہل ایمان آخرت میں اپنے رب کو دیکھیں گے، اور اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ، إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ.”اس روز بہت سے چہرے تر وتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے“۔ (سورۃ القيامة:22-23)، اور نبی ﷺ نے فرمایا: إِنَّكُمْ تَرَوْنَ رَبَّكُمْ. ”بے شک تم سب اپنے رب کو حقیقت میں دیکھو گے“۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

مومنوں کے دیدارِ الہی کے اثبات میں رسول اللہ ﷺ سے متواتر حدیثیں وارد ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اور اخلاص و راستبازی کے ساتھ ان کی اتباع کرنے والوں کا اس پر اجماع ہے۔ جس نے اہل ایمان کا آخرت میں دیدارِ الہی کرنے کا انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور مومنین یعنی رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اور اخلاص وراستبازی کے ساتھ ان کی اتباع کرنے والوں کے طریقے کی خلاف ورزی کی۔ البتہ دنیا میں اللہ تعالی کا دیدار ممکن نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّكُمْ لَنْ تَرَوْا رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا. کہ ”تم اپنے رب کو دیکھ نہ سکوگے یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے“۔

اور جب اللہ کے نبی موسی علیہ السلام دیدار الہی کے طالب ہوئے تو اللہ نے کہا تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کے اس فرمان میں ہے: وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي. ”اور جب موسی ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے“۔ (سورۃ الأعراف:143)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ قضاء اور قدر پر ایمان کس طرح رکھنا چاہیے؟

ج: تو آپ کہیں: قضاء وقدر پر ایمان اس بات پر پختہ یقین کے ذریعہ ممکن ہے کہ ہر چیز اللہ کی قضاء وقدر سے ہوتی ہے، پس کوئی بھی چیز اللہ کی مرضی کے بغیر وجود میں نہیں آتی ہے، وہ بندوں کے اچھے برے اعمال کا خالق ہے، اور اس نے بندوں کو خیر اور حق کی قبولیت پر پیدا فرمایا ہے، انہیں تمیز کرنے والی عقلوں سے نوازا اور انہیں ارادہ کا اختیار دیا ہے، ان کے لیے حق کو واضح فرمایا اور انہیں باطل سے ڈرایا، پس اپنے فضل سے جسے چاہا ہدایت سے سرفراز کیا اور اپنے عدل وانصاف سے جسے چاہا گمراہ کیا، وہ حکمت والا، جاننے والا اور رحم کرنے والا ہے، وه اپنے کاموں کے لئے (کسی کےآگے) جواب ده نہیں جبکہ سب (اس کےآگے) جواب ده ہیں۔

قدر کے چار مراتب ہیں اور وہ مندرجہ ذیل ہیں:

پہلا مرتبہ: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے، وہ اسے بھی جانتا ہے جو ہوچکا ہے اور اسے بھی جو ہونے والا ہے اور جو نہیں ہوا اسے بھی جانتا ہے کہ اگر وہ ہوتا تو کیسا ہوتا۔

دوسرا مرتبہ: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی نے ہر چیز کو لکھ رکھا ہے۔

تیسرا مرتبہ: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ کی مرضی کے بغىر کوئی چیز وجود میں نہیں آسکتی۔

چوتھا مرتبہ: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، وہ ذوات، افعال، اقوال، حرکات وسکنات اور عالمِ بالا اور عالمِ دنیا کی ہر صفات کا خالق ہے۔ اور کتاب وسنت میں ان مراتب پر دلالت کرنے والے وافر ادلہ موجود ہیں۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا انسان بے اختیار ہے یا با اختیار؟

ج: تو جواب میں کہیں کہ مطلق طور پر نہ تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان بے اختیار ہے اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ با اختیار ہے۔ یہ دونوں قول غلط ہیں۔ کتاب وسنت کے نصوص اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ انسان کا اپنا ارادہ اور اس کی اپنی مرضی ہوتی ہے اور حقیقت میں انسان فاعل (کرنے والا) ہوتا ہے، لیکن یہ ساری چیزیں اللہ کے علم، اس کے ارادہ اور اس کی مشیت سے باہر نہیں ہیں، جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ، وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِين.”اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا چاہے اور تم بغیر پروردگارِ عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے“۔ (سورۃ التكوير:28-29)

اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے: فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ، وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ.”جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے اور وہ اس وقت نصیحت حاصل کریں گے جب اللہ تعالیٰ چاہے گا، وہ اسی لائق ہے کہ اس سے ڈریں اور اس لائق بھی کہ وہ انہیں بخشے“ (سورۃ المدثر:55-56)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا عمل کے بغیر ایمان صحیح ہے؟

ج: تو آپ جواب میں کہیں کہ بغیر عمل کے ایمان صحیح نہیں ہوگا بلکہ عمل ضروری ہے کیونکہ عمل ایمان کا رکن ہے، جیسا کہ ”قول“ اس کا دوسرا رکن ہے، اور ائمہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایمان قول وعمل کا نام ہے، جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَا. ”اور جو بھی اس کے پاس ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس نے اعمال بھی نیک کیے ہوں گے اس کے لیے بلند وبالا درجے ہیں“۔ (سورۃ طه:75)

پس اللہ تعالیٰ نے دخول جنت کے لیے ایمان اور عمل دونوں کی شرط لگائی ہے۔

 س: جب آ پ سے یہ سوال کیا جائے کہ ارکان اسلام کتنے ہیں؟

ج: تو آپ جواب دیں کہ اركان اسلام پانچ ہیں: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکاة دينا اور اللہ کے حرمت والے گھر کا حج کرنا۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ. کہ ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا ، زکاة دينا، حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا“۔ (متفق عليہ)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ ”لاالہ الا اللہ“ اور ”محمد رسول اللہ“ کی شہادت کا کیا مفہوم ہے؟

ج: تو آپ جواب دیں کہ ’’لاالہ الا اللہ‘‘ کی شہادت کا مطلب ہے ”اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ، إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ، وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ. ”اور جب کہ ابراہیم نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے کہا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو، بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی دے گا، اسی کو اپنی اولاد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں“۔ (سورۃ الزخرف:26- 28)

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ. ”یہ سب اس وجہ سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور اس کے سوا جن جن کو لوگ پکارتے ہیں سب باطل ہیں اور یقینًا اللہ تعالیٰ بہت بلندیوں والا اور بڑی شان والا ہے“۔ (سورة لقمان:29)

اور ”محمد رسول اللہ“ کی شہادت کا مفہوم یہ ہے کہ ہم یقین کریں اور اس بات کا اقرار کریں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ بندہ ہیں آپ کی عبادت نہیں کی جاسکتی، آپ نبی ہیں آپ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا، آپ کے حکم کی پیروی کی جائے گی اور آپ کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کی جائے گی اور جن چیزوں سے آپ نے روکا اور ڈانٹا ہے اس سے اجتناب کیا جائے گا نیز اللہ کی عبادت نہیں کی جائے گی مگر جس طریقے پر آپ نے اسے مشروع قرار دیا ہے۔

اور امت پر آپ ﷺ کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کی تکریم وتعظیم کریں، آپ سے محبت کریں اور ہر وقت طاقت بھر آپ کی مطلق طور پر اتباع کریں، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ. ”کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا“۔ (سورۃ آل عمران:31)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ ”لاالہ الا اللہ“ کی کیا شرطیں ہیں؟

ج: تو آپ جواب دیں: کلمۂ توحید مجرد ایک کلمہ نہیں جسے بلا اعتقاد اور بغیر اس کے مقضیات پر عمل کیے اور بغیر اس کے نواقض سے اجتناب کیے صرف زبان سے اس کی ادائیگی کی جائے، بلکہ اس کی سات شرطیں ہیں جنہیں علمائے کرام نے شرعی دلائل میں تتبع اور تلاش کے بعد مستنبط كىا ہے اور اسے کتاب وسنت سے مدلل کر کے لکھا اور جمع کیا ہے اور وہ درج ذیل ہیں:

1-          نفی اور اثبات دونوں اعتبار سے اس کلمہ کے معنی کا علم ہونا چاہیے، یعنی اس بات کا علم ہو کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہی عبادت کا مستحق ہے، نیز اس بات کا بھی علم ہو جس پر اللہ تعالی کی الوہیت دلالت کرتی ہے یعنی اللہ تعالی کی ذات کے ما سواہ سے الوہیت کی نفی کرنا اور کلمہ کے تقاضوں، اس کے لوازم اور اس کے نواقض کو جاننا جو جہالت کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. ”سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“۔ (سورۃ محمد:19)،

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ.”مگر جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو“۔ (سورۃ الزخرف:86)،

نیز نبی ﷺ نے فرمایا: مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَن لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ. کہ ”جس کی موت اس حال میں ہو کہ وہ جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا حقیقی معبود نہیں، تو وہ جنت میں داخل ہوگا“۔ (صحیح مسلم)

2- ایسا پختہ یقین جو شک وشبہ کے بالکل منافی ہو یعنی وہ کلمہ دل میں راسخ اور ثابت ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آَمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ. ”مومن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان لائیں پھر شک وشبہ نہ کریں، اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہیں، (اپنے دعوائے ایمان میں) یہی سچے اور راست گو ہیں“۔ (سورۃ الحجرات:15)

اور آپ ﷺ نے فرمایا: مَنْ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، لَا يَلْقَى اللهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ. کہ ”جس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحقِ سوائے اللہ کے، اور یہ کہ میں (محمد ﷺ) اللہ کا رسول ہوں، پس جو بندہ اللہ سے ملے اور ان دونوں باتوں میں اس کو شک نہ ہو تو وہ جنت میں جائے گا“۔ (صحیح مسلم)

3- اخلاص جو شرک کے منافی ہو اور یہ عبادت کو شرک کے شائبہ یا ریاکاری سے پاک وصاف رکھنے سے ممکن ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ. ”خبردار اللہ تعالی ہی کے لیے خالص عبادت کرنا ہے“۔ (سورۃ الزمر:3)، اور اللہ تعالی کا یہ فرمان: وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ.”انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے“۔ (سورۃ البينة:5)

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ، مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ أو نفسه. ”قیامت کے دن لوگوں میں میری شفاعت کا سب سے زیادہ مستحق وہ خوش نصیب شخص ہوگا جس نے اپنے دل یا نفس سے خلوص کے ساتھ ’لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‘ کہا ہوگا“۔(صحیح بخاری)

4- اس کلمہ اور جس پر یہ کلمہ دلالت کرے اس سے محبت کرنا، اس پر خوش ہونا اور اس کلمہ والوں (مسلمانوں) سے محبت اور ان سے وفاداری کرنا، نیز اس کلمہ کے منافی امور سے بغض اور نفرت کرنا اور کافروں سے براءت کا اظہار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّـهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّـهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّـهِ. کہ ”بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اوروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہئے، جب کہ ایمان والے سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں“۔ (سورۃ البقرة: 165)

اور رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ، وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ؛ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ. کہ ”تین خصلتیں ایسی ہیں جن میں وہ پائی جائیں گی، وہ ان کی بدولت ایمان کی لذت اور مٹھاس محسوس کرے گا: یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اسے ان کے ما سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو، اور یہ کہ وہ کسی آدمی سے صرف اللہ کے لیے محبت رکھے، اور یہ کہ وہ دو بارہ کفر میں لوٹنے کو، جب کہ اللہ نے اسے بچا لیا ہے، اسی طرح برا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو وہ برا سمجھتا ہے“۔ (صحیح مسلم)

5- ایسی سچائی جو جھوٹ کے منافی ہو، یعنی جس کلمۂ توحید کا زبان سے اقرار کیا ہے اس پر دل اور اعضاء موافق ہوں، پس دل جس کا اقرار کرے اعضاء اس کی شہادت دیں، اور ظاہری و باطنی ہر طرح سے اطاعت اور فرمانبرداری کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فلَيَعْلَمَنَّ اللهُ الَّذين صَدَقُوا ولَيَعْلَمَنّ الكاذبين. کہ ”یقینا اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں“۔ (سورۃ العنكبوت:3)؛ اسی طرح فرمان باری تعالی ہے: والَّذي جاء بالصِّدق وصدَّق به أولئك هُمُ الْمتَّقون.”اور جو سچے دین کو لائے اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پارسا ہیں“۔ (سورۃ الزمر:33)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ. ”جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دیتے ہوئے مرا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا“۔ (مسند أحمد)

6- صرف اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کو خاص کرتے ہوئے اخلاص، رغبت، امید، خوف الہی، اوامر کی بجاآوری اور منع کردہ چیزوں سے رک کر اُس پر سرِ تسلیم خم کر دینا اور اس کے حقوق کو بجا لانا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ. کہ ”تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ“۔ (سورۃ الزمر:54)؛ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّـهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ. ”جو اپنے آپ کو اللہ کے تابع کردے اور ہو بھی وہ نیکوکار یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا“۔ (سورۃ لقمان:22)

7- ایسا قبول جو رد کے منافی ہو یعنی کلمہ اور جس معنی پر وہ دلالت کرے اور جس کا تقاضا کرے اسے دل سے قبول کرنا۔ لیکن جس شخص کو اس کلمہ کی طرف بلایا جائے اور وہ اسے تعصب اور تکبر سے قبول نہ کرے تو ایسا شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ. کہ ”یہ وہ ( لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے ہیں“۔ (سورۃ الصافات:35)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ آپ کے نبی کون ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ ہمارے نبی محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف ہیں، جنہیں اللہ تعالی نے قریش سے منتخب فرمایا اور آپ ﷺ اسماعیل بن ابراہیم علیھما السلام کی اولاد میں سب سے افضل ہیں، اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو انسانوں اور جنات کی طرف (نبی بنا کر) بھیجا، آپ پر کتاب وحکمت نازل کی، اور آپ علیہ الصلاة والسلام کو سب سے بہتر اور افضل رسول بنایا۔

 س: اور جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر سب سے پہلے کس چیز کو فرض قرار دیا؟

ج: تو آپ کہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے بندوں پر اُس پر ایمان لانے اور غیرُ اللہ سے کفر کرنے کو فرض قرار دیا ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں یہ بات ہے: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ. ”یقینا ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی، پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟“ (سورۃ النحل:36)

طاغوت: ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے انسان اپنی حد سے تجاوز کرلے چاہے کسی کو معبود مان کر یا اس کی پیروی کرکے یا اس کی اطاعت کرکے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس لیے پیدا کیا ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نہایت واضح طور پر یہ بیان کر دیا ہے کہ اس نے انسانوں اور جنات کی تخلیق محض اپنی خالص عبادت کے لیے کی ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ عبادت اس کی اطاعت کرکے یعنی جن چیزوں کے کرنے کا اس نے کا حکم دیا ہے انہیں انجام دے کر اور جن چیزوں سے روکا ہے اُن سے رُک کر ممکن ہے۔ ارشاد الہی ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ. ”میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں“۔ (سورۃ الذاريات:56)؛ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا. ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں“ (سورۃ النساء:36)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ عبادت کا کیا مفہوم ہے؟

ج: تو آپ کہیں: عبادت کہتے ہیں ہر اس ظاہری اور باطنی قول وفعل کو جو اللہ تعالی کو محبوب اور پسندیدہ ہو اور جس کے اعتقاد یا جس کے کہنے یا کرنے کا اللہ سبحانہ وتعالی نے حکم دیا ہو، جیسے اللہ سے ڈرنا، اس سے امید لگانا، اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے محبت کرنا، اس سے مدد طلب کرنا، اس سے فریاد کرنا، نماز پڑھنا، روزہ رکھنا وغیرہ۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا ’دُعا‘ عبادت ہے؟

ج: تو آپ کہیں: یقیناً دعا عبادت کی اہم ترین قسموں میں سے ایک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ. ”اور تمہارے رب كا فرمان (صادر ہو چكا) ہے كہ مجھ سے دعا كرو، میں تمہاری دعاؤں كو قبول كروں گا، یقین مانو كہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری كرتے ہیں وہ عنقریب ہی ذلیل ہو كر جہنم میں پہنچ جائیں گے“۔ (سورۃ غافر:60)، اور حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ. کہ ”دعا ہی عبادت ہے“۔(ترمذی)

دعا کی اہمیت اور دین میں اس کی عظمت کے پیشِ نظر قرآن کریم کی تین سو سے زائد آیتوں میں اس کا ذکر ہے۔ دعا کی دو قسمیں ہیں: دعائے عبادت اور دعائے سوال اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کو مستلزم ہے۔

1- دعائےعبادت: یعنی حصولِ مطلوب، دفعِ ضرر، یا مصیبت اور پریشانی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی غرض سے تنہا اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کو خالص کرکے اس کا قرب حاصل کرنا۔ ارشاد الہی ہے: وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ، فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ. ”مچھلی والے کو یاد کر جب کہ وہ غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اس پر ہرگز تنگی نہیں کریں گے۔ بالآخر وہ اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں ہو گیا، تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچالیا کرتے ہیں“۔ (سورۃ الأنبياء:87-88)

2- دعائے طلب: یعنی ایسی چیزوں کا طلبگار ہونا جو طلب کرنے والے کے لیے نفع بخش ہوں خواہ وہ حصولِ منفعت کے لیے ہو یا دفعِ مضرت کے لیے۔ ارشاد الہی ہے: رَبَّنَا إِنَّنَا آَمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ. ”اے ہمارے رب! ہم ایمان لا چکے اس لیے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا“۔ (سورۃ آل عمران:16)

دعا کی یہ دونوں قسمیں عبادت کا لب لباب اور اس کا خلاصہ ہیں، اور دعا ایسی عبادت ہے جس کی ادائگی بلکل آسان اور سہل ہے جبکہ اس کا مقام ومرتبہ بہت ہی بلند اور اس کے آثار ونتائج عظیم ترین ہیں، اور یہ دعا اللہ تعالیٰ کی اجازت سے دفعِ مکروہ اور حصولِ مطلوب کے لیے قوی ترین اسباب میں سے ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عمل کی قبولیت کے لیے کیا شرطیں ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عمل مقبول نہ ہوگا تا وقتیکہ اس میں دو شرطیں نہ پائی جائیں:

پہلی شرط: وہ عمل اللہ کے لیے خالص ہو، اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ. ”انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں، بندگی کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے، یکسو ہوکر“۔ (سورة البينة:5)؛ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا. ”تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے“۔ (سورۃ الكهف:110)

دوسری شرط: وہ عمل رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے موافق ہو، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ.”(اے نبی!) کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تم سے محبت کرے گا“۔ (سورۃ آل عمران:31)،

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ. کہ ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے“۔ (صحیح مسلم)

اگر عمل رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق نہیں ہے تو وہ قابلِ قبول نہیں ہے اگرچہ صاحبِ عمل اپنے اس عمل میں مخلص ہو۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا عمل کے درست ہونے کی ضرورت نہیں ہے، صرف نیت کا درست ہونا ہی کافی ہے؟

ج: تو آپ کہیں: نہیں، بلکہ نیت کی درستگی یعنی عمل کا اللہ کے لیے خالص ہونے کے ساتھ ساتھ اُس عمل کا رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے موافق ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا. ”تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے“۔ (سورة الكهف:110)

پس اللہ تعالی نے آیت میں عمل کی قبولیت کے لیے نیت کی درستگی کو شرط قرار دیا ہے، اور یہ کہ عمل صالح ہو، رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے موافق ہو۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ توحید کی کتنی قسمیں ہیں؟

ج: تو آپ کہیں: توحید کی تین قسمیں ہیں:

1-توحیدِ ربوبیت: یعنی اس بات کا پختہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرنے والا، روزی دینے والا اور تمام مخلوق کے لیے تدبیر کرنے والا ہے، نہ تو اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی مددگار، دوسرے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے افعال میں تنہا اور اکیلا جاننا توحید ربوبیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّـهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ.” کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم کہاں الٹے جاتے ہو“۔ (سورۃ فاطر:3) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ.”اللہ تعالیٰ توخود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے“۔ (سورۃ الذاريات:58) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ. کہ ”وہ آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے“۔ (سورۃ السجدة:5) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ. ”یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے“۔ (سورۃ الأعراف:54)

2- توحید اسماء وصفات: اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اچھے اچھے نام اور کامل صفات ہیں جو کتاب وسنت سے ثابت ہیں، تکییف، تمثیل، تحریف، اور تعطیل کے بغیر ۔ اور یہ کہ اُس جیسی کوئی چیز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ.”اس جیسی کوئی چیز نہیں، وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے“۔ (سورۃ الشورى:11)؛ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا.”اچھے اچھے نام اللہ کے لیے ہیں، سو تم اللہ کو انہی ناموں کے ساتھ پکارو“۔ (سورۃ الاعراف:180)

3- توحیدِ اُلوہیت: عبادت کو صرف اللہ کے لیے خاص کرنا ہے جو تنہا ہے اور جس کا کوئی شریک نہیں، مطلب یہ ہے کہ بندے کے تعبدی افعال کا مستحق صرف اللہ کو مانا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ.”انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص رکھیں“۔ (سورۃ البينة:5)، اور فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ. ”تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجے ان کی طرف یہی وحی فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو“۔ (سورۃ الأنبياء:25)۔

یہ تقسیم علمی وضاحت کے لیے ہے ورنہ تو یہ اس موحِّد کے اعتقاد میں متلازم ہیں جو کتاب وسنت کی پیروی کرنے والا ہو۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ سب سے بڑا گناہ جس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے، کون سا ہے؟

ج: تو آپ کہیں: سب سے بڑا گناہ شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: قَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ. ”بے شک وہ لوگ کافر ہوگئے جن کا کہنا ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے حالانکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے، یقین مانو کہ جو شخص اﷲ کے ساتھ شریک کرتا ہے ﷲ تعالیٰ نے اس پرجنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے، اور گناہ گاروں کی مددکرنے والا کوئی نہیں ہوگا“۔ (سورۃ المائدة:72) نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ.کہ ”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے“۔ (سورۃ النساء:48)

ﷲ تعالیٰ کا اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہ بخشنا اس بات کی دلیل ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اس کی وضاحت رسول اللہ ﷺ کے قول سے ہوتی ہے، جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ. کہ ”تم اللہ کا شریک بناؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے“۔ (متفق عليہ)

الند: یعنی ہمسر اور مساوی۔

شرک یہ ہے کہ کسی کو اللہ کے مساوی اور اس کے برابر قرار دیا جائے، خواہ وہ فرشتہ ہو یا رسول یا ولی وغیرہ، چنانچہ وہ اس شریک کے متعلق صفات ربوبیت یا ربوبیت کی خصوصیات جیسے پیدائش، بادشاہت یا تدبیر کا اعتقاد رکھے یا اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اس کو پکارے، اس سے لو لگائے، ڈرے، اس پر بھروسہ کرے یا اللہ کو چھوڑ کر یا اللہ کے ساتھ اُن سے امید باندھے، اور مالی یا ظاہری وباطنی بدنی عبادت میں سے کچھ اس شریک کے لیے روا رکھے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ شرک کی کتنی قسمیں ہیں؟

ج: تو آپ کہیں: شرک کی دو قسمیں ہیں:

1- شرک اکبر: یعنی عبادت کی کسی بھی قسم کو غیراللہ کے لیے کرنا جیسے غیراللہ پر بھروسہ کرنا، یا مُردوں سے مدد طلب کرنا، یا غیرُاللہ کے لیے ذبح کرنا یا غیراللہ کے لیے نذر ماننا یا غیرُاللہ کے لیے سجدہ کرنا یا ایسی چیزوں کے متعلق غیرُاللہ سے فریاد کرنا جس کی طاقت صرف اللہ کو ہے جیسے غیر موجود لوگوں یا مُردوں سے فریاد کرنا، ایسی جہالت وہی کرے گا جو اس بات کا اعتقاد رکھتا ہو کہ انہیں ان کی فریاد قبول کرنے اور ایسی چیزوں کے کرنے پر قدرت حاصل ہے جس کی طاقت اور قدرت اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے، اس طرح سے وہ مخلوق میں بعض خصائصِ ربوبیت کا اعتقاد رکھے گا، اس کے سامنے جکھے گا اور اس کے آگے ایسے ہی فروتنی اختیار کریگا ہے جیسا کہ حالت بندگی میں اختیار کرنا ہوتا ہے، پس وہ اس پر بھروسہ رکھے گا، اس کے آگے گڑگڑائے گا، اس سے فریاد کرے گا، اس سے مانگتے ہوئے نداء لگائے گا جس (کو عطاء کرنے) کی طاقت کسی مخلوق میں نہیں ہے، اور یہ بات عجیب وغریب ہے کہ کسی ایسے عاجز سے فریاد طلب کی جائے جو اپنے لیے بھی نفع ونقصان کا مالک نہیں ہے، نہ وہ موت وزندگی کا مالک ہے اور نہ ہی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے اور جو شخص اپنی پریشانی کو دور نہیں کرسکتا وہ غیر کی پریشانی کو کیسے دور کرسکتا ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کہ ایک ڈوبنے والا دوسرے ڈوبنے والے سے فریاد کرے، سبحان اللہ! کس طرح کچھ لوگوں کی بصارت کھو گئی ہے اور ان کی عقلیں زائل ہو گئی ہیں کہ وہ اس شرک کے مرتکب ہوئے جو شریعت کے عین متضاد ہے، عقل سے متناقض اور محسوسات کے مخالف ہے۔

2- شرکِ اصغر: جیسے تھوڑی سی ریاکاری جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”أخوفَ ما أخافُ علَيكم الشِّركُ الأصغرُ، فَسُئلَ عنه، فقال: الرياء. کہ ”میں تم پر جس چیز سے سب سے زیادہ ڈرتا ہوں، وہ شرکِ اصغر ہے، آپﷺ سے شرک اصغر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ریاکاری ہے“۔ (صحیح مسلم) [*صحیح یہ ہے کہ اسے امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے] اسی طرح غیراللہ کی قسم کھانا بھی شرک اصغر ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: مَن حَلَف بغيرِ اللهِ فقد كَفَر أو أشْرَك. کہ ”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا“۔ (ترمذی)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کفر کی کتنی قسمیں ہیں؟

ج: تو آپ کہیں: کفر کی دو قسمیں ہیں:

1- کفرِ اکبر یعنی بڑا کفر: یہ آدمی کو ملت یعنی دین اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ كفر اكبر اصلِ دین کے مُناقض ومخالف ہے، جیسے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ یا اس کے دین یا اس کے نبی کو برا بھلا کہے یا مذاق اڑائے یا دین وشریعت کی کسی بھی چیز کا استہزاء کرے یا اللہ کی خبر یا اس کے امر ونہی کا مذاق اڑائے، پس وہ اللہ اور اس کے رسول کی خبروں کو جھٹلائے یا کسی ایسی چیز کا انکار کرے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے یا اللہ اور رسول اللہﷺ کی حرام کردہ چیزوں میں سے کسی چیز کو مباح سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:قُلْ أَبِاللَّهِ وَآَيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ، لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ. ”کہہ دیجیے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لیے رہ گئے ہیں، تم بہانے نہ بناؤ یقینا تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے“۔ (سورۃ التوبة:65-66)

2- کفرِ اصغر یعنی چھوٹا کفر: کفر اصغر وہ کفر ہے جسے شرعی دلیل کفر کا نام دے پر وہ کفر کفرِ اکبر نہ ہو۔ اسے کفرانِ نعمت بھی کہا جاتا ہے۔ کسی مسلمان سے قتال کرنا، اپنے نسب سے براءت ظاہر کرنا، نوحہ خوانى كرنا وغیرہ جیسے زمانہ جاہلیت کی عادات، کفر اصغر ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: سِبَابُ المُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ. ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جنگ وقتال کرنا کفر ہے“۔ (صحیح بخاری)؛ اسی طرح ایک اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا: اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ، ‏‏‏‏‏‏الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ. ”لوگوں میں پائی جانے والی دو چیزیں کفر ہیں، ایک نسب میں طعن کرنا، دوسرا میت پر نوحہ کرنا“۔ (صحیح مسلم)

الغرض یہ گناہ انسان کو دین اسلام سے خارج تو نہیں کرتے لیکن یہ تمام گناہ کبیرہ ہیں۔ والعیاذ باللہ!

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ نفاق کی کتنی قسمیں ہیں؟

ج: تو آپ کہیں: نفاق کی دو قسمیں ہیں: نفاق اکبر اور نفاق اصغر۔

1- نفاقِ اکبر: یعنی ایمان ظاہر کرنا اور کفر کو چھپانا۔ دین اسلام سے بغض رکھنا، اس کی فتح ونصرت کو ناپسند کرنا اور مسلمانوں سے عداوت رکھنا اور ان سے لڑائی کرنا اور ان کے دین کو بگاڑنے کی کوشش کرنا نفاق اکبر کے عظیم آثار میں سے ہے۔

2- نفاقِ اصغر: منافقین کے اعمال جیسا عمل کرے البتہ دل میں کفر نہ ہو، مثلاً جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اُسے امانت دی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ.”منافق کی تین علامتیں ہیں :جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب اُسے امانت دی جائے تو اس میں خیانت کرے اور جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے“۔ (صحیح بخاری)

 س: جب آ پ سے یہ سوال کیا جائے کہ نواقضِ اسلام کسے کہتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں: ناقض کا مطلب باطل اور فاسد کرنے والا ہے، جب یہ کسی چیز پر طاری ہوگا تو اسے باطل اور فاسد کردے گا، جیسے نواقضِ وضو کا ارتکاب کرلینے سے وضو باطل ہوجاتا ہے اور اس کا اِعادہ لازم ہو جاتا ہے، بالکل یہی مثال نواقضِ اسلام کی ہے جب کوئی شخص نواقضِ اسلام کا ارتکاب کرے گا تو اس کا اسلام باطل اور فاسد ہو جائے گا اور اس کا مرتکب دائرہ اسلام سے نکل کر کفر میں داخل ہوجائے گا۔

علمائے کرام نے ارتداد اور مرتد کے حکم کے بارے میں بہت ساری قسموں کا تذکرہ کیا ہے جن کی وجہ سے ایک مسلمان اپنے دین سے مرتد ہو جاتا ہے اور اس کا خون اور اس کا مال حلال ہو جاتے ہیں، ان میں سب سے زیادہ خطرناک اور بہت زیادہ پیش آنے والے، جن پر علماء کا اتفاق ہے وہ دس نواقض ہیں:

اوّل: اللہ کی عبادت میں شرک کرنا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ.”یقیناً ﷲ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے“۔ (سورۃ النساء:116)؛ نیز فرمان باری تعالی ہے:إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ. ”یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا“۔ (سورۃ المائدۃ:72)

شرک میں غیرُاللہ کو پکارنا، ان سے فریاد کرنا، منت ماننا اور ان کے لیے ذبح کرنا بھی شامل ہے، جیسے وہ شخص جو جلبِ منفعت اور دفعِ مضرت کے لیے کسی جِن، قبر یا ولی کے لیے ذبح کرے خواہ وہ ولى زندہ ہو یا مردہ جیسا کہ گمراہ دھوکے باز، مکار دجالوں کے جھوٹ اور شبہات سے دھوکہ کھا کر جاہل لوگ ایسا کرتے ہیں۔

دوم: جو شخص اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان غیر الله كو واسطہ ووسیلہ بناتا ہے، ان کو پکارتا ہے، ان سے شفاعت کا طلب گار ہوتا ہے اور اپنے مطالب ومقاصد اور دنیوی واخروی چاہتوں کے حصول میں انہیں پر توکل رکھتا ہے، وہ بالاجماع کافر ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا. ”(اے نبی!) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا“۔ (سورۃ الجن:20)

سوم: جو شخص مشرکوں کو کافر نہیں سمجھتا ہے، یا ان کے کفر میں شک کرتا ہے، یا ان کے مذہب کو صحیح سمجھتا ہے تو وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ. ”یہود کہتے ہیں عُزَیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ قول صرف ان کے منہ کی بات ہے۔ اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے، اللہ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹائے جاتے ہیں“۔ (سورۃ التوبة:30)

کیونکہ کفر پر رضامندی کفر ہی ہے، اور طاغوت کا انکار اور دین اسلام کے علاوہ ادیان کے بطلان کا اعتقاد، اور اس سے بغض رکھنا اور کفر اور اہل کفر سے براءت ظاہر کرنا اور طاقت بھر ان سے جہاد کیے بنا دین درست نہیں ہوسکتا۔

چہارم: جس کا یہ اعتقاد ہو کہ نبی ﷺ کے علاوہ کسی اور کا طریقہ زیادہ کامل ہے یا پھر آپﷺ کے فیصلے کے بجائے کسی اور کا فیصلہ زیادہ بہتر ہے، جیسے وہ شخص جو غیراللہ کے حکم اور بشری قوانین اور ان کے فیصلوں کو اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر فوقیت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا. ”سو قسم ہے تیرے پروردگار کی یہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس کے تمام اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں ، پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں“۔ (سورۃ النساء:65)؛ اور جو شخص غیر کے طریقۂ حیات اور ان کی بدعات وخرافات کو صحیح سنتوں پر مقدم کرے گا جب کہ وہ جانتا ہے کہ یہ نبوی سنت ہیں تو ایسا شخص بالاتفاق کافر ہے۔

پنجم: جس نے رسول اکرم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت میں سے کسی بھی حکم کو ناپسند کیا، اگرچہ بظاہر وہ اس پر عمل بھی کرے، وہ کافر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ.”یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی نازل کردہ چیز سے ناخوش ہوئے، پس اللہ تعالی نے بھی ان کے اعمال ضائع کر دیے“۔ (سورۃ محمد:9)

ششم - جس نے رسول اکرم ﷺ کے دین میں سے کسی بھی حکم کا استہزا اور مذاق اڑایا، جیسے وہ شخص جو دین کے بعض احکام وشرائع، اس کی سنتوں یا اس کی خبروں کا مذاق اڑائے یا فرمانبرداروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو ثواب متعین کیا ہے اور گنہگاروں کے لیے جو عقاب متعین کیا ہے اس کا مذاق اڑائے جس کی خبر اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے دی ہے تو وہ کافر ہو گیا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآَيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ، لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُم. ”کہہ دیجیے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لیے رہ گئے ہیں؟ تم بہانے نہ بناؤ، یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہو گئے“۔ (سورۃ التوبة:65-66)

ہفتم: جادو۔ اس لیے کہ جادو جن وشیاطین کی مدد اور ان کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے اور ان کی رضاجوئی کے لیے کفر کرنے کے بغیر ممکن نہیں؛ اور اسی قبیل سے ”صرف(جدائی پیدا کرنے والا جادو) و”عطف(میل جول پیدا کرنے والا جادو) ہے جو لوگوں کے مشاعر اور عواطف میں اثر انداز ہوتا ہے، سو جس نے یہ کام کیا یا اس پر رضامندی کا اظہار کیا، وہ کافر ہو گیا، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ. ”وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک (جادو) نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں، پس تو (جاود سیکھ کر) کفر نہ کر“۔ (سورۃ البقرة:102)

ہشتم: مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی پشت پناہی اور ان کی نصرت وحمایت کرنا۔ اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ. ”تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ ہرگز راہِ راست نہیں دکھاتا“۔ (سورۃ المائدة:51)

نہم: جو یہ اعتقاد رکھے کہ بعض لوگ محمد ﷺ کی شریعت کی پابندی سے نکل سکتے ہیں، جیسا کہ خضر علیہ السلام موسی علیہ السلام کی شریعت کی پابندی سے نکل گئے تھے تو وہ کافر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآَخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِين. ”جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے، تو اس کا وہ دین ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا“۔ (سورۃ آل عمران:85)

دہُم: اللہ کے دین سے اعراض کرنا، بایں طور کہ انسان نہ تو اسے سیکھے اور نہ ہی اس پر عمل کرے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآَيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ. ”اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ اُن سے منہ پھیر لے، (یقین مانو) کہ ہم بھی گنہگاروں سے انتقام لینے والے ہیں“۔ (سورۃ السجدة:22)۔

اللہ کے دین سے اعراض کرنے کا مطلب ہے ان چیزوں کو نہ سیکھنا جن کا سیکھنا لازمی ہو بایں طور کہ اُن دینی اصولوں کی معرفت کے بغیر انسان کا دین صحیح نہ ہو۔

ان نواقضِ اسلام کو ذکر کرنے کے بعد بہتر ہوگا کہ دو اہم تنبیھات کا بھی تذکرہ کردیا جائے:

1- ان نواقضِ اسلام کا تذکرہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ان سے بچا جائے اور لوگوں کو ان سے ڈرایا اور بچایا جائے کیونکہ شیاطین اور ان کے گمراہ اور خرافی مددگار مسلمانوں پر گھات لگائے ہوئے ہیں پس وہ بعض اشخاص کی جہالت اور ان کی غفلتوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر انہیں دائرۂ حق سے نکال کر باطل تک پہنچا دیتے ہیں اور انہیں جنت سے جہنم کی طرف پھیر دیتے ہیں۔

2- ان نواقض کو واقعہ حال پر چسپہ کرنا پختہ ومضبوط علم رکھنے والے علماء کرام کا کام ہے، اس لیے کہ راسخ فی العلم علماء ہی لوگوں پر حکم لگانے کے شرعی دلائل اور احکام وضوابط کا صحیح علم رکھتے ہیں، جب کہ ہر ایک کے لیے یہ جائز نہیں ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا کسی مسلمان کے جنتی یا جہنمی ہونے کا حکم لگایا جا سکتا ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کا حکم نہیں لگایا جا سکتا سوائے ان لوگوں کے جن کے متعلق نص وارد ہے، البتہ نیکوکار کے لیے ثواب کی امید کی جائے گی اور بُرے کے لیے عذاب سے ڈرا جائے گا، اور ہمارا ماننا ہے کہ جس شخص کی موت ایمان پر ہوگی اس کا انجام کار جنت ہے اور ہر وہ شخص جس کی موت شرک وکفر پر ہوگی وہ جہنمی ہے اور جہنم بڑا بُرا ٹھکانہ ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا گناہ کی وجہ سے مسلمان پر کفر کا حکم لگایا جاسکتا ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ گناہ اور معاصی کے ارتکاب کی وجہ سے ایک مسلمان پر کفر کا حکم نہیں لگایا جاسکتا خواہ وہ گناہِ کبیرہ ہی کیوں نہ ہو، جب تک کہ وہ گناہ ان کفریہ گناہ میں سے نہ ہو جن پر کتاب وسنت کے شرعی نصوص دلالت کریں، اور جس گناہ کے کفر ہونے کے قائل صحابہ اور ائمہ ہیں، چنانچہ ایسا شخص اپنے ایمان پر برقرار رہے گا اور گنہگار اہل توحید میں شمار ہو گا تاحالیکہ وہ کفر اکبر یا شرک اکبر یا نفاق اکبر میں مبتلا نہ ہوجائے۔

 س: جب آ پ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا زبان کی چوک اور زبان سے نکلنے والے بُرے کلمات توحید پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ اور کیا یہ کلمات سیئہ اس کے قائل کو صراط مستقیم سے ہٹا دیتے ہیں؟، یا یہ کہ ان کا شمار صغیرہ گناہوں میں ہوتا ہے؟

ج: تو آپ جواب دیں کہ زبان کامعاملہ بہت ہی خطرناک ہے، چنانچہ ایک لفظ کی وجہ سے آدمی اسلام میں داخل ہو جاتا ہے اور ایک لفظ کی وجہ سے اسلام سے خارج بھی ہو جاتا ہے۔ (اللہ بچائے) زبان کی بھول چوک کے متعدد درجے ہیں، ان میں سے کچھ ایسے کفریہ کلمات ہیں جو ایمان کو باطل اور اعمال کو اکارت کر دیتے ہیں، مثلاً: اللہ اور اس کے رسول کو گالی دینا، یا بڑی شخصیتوں اور اولیاء کو ربوبیت کے اوصاف سے نوازنا، ان سے فریاد کرنا، یا خیر اور انسان کو حاصل ہونے والی چیزوں کی نسبت ان کی طرف کرنا ہے، اور انہی کلمات سیئہ میں سے ایسے مدح سرائی کے الفاظ بھی ہیں جن میں مبالغہ کی آمیزش ہو اور انہیں بشریت سے اوپر کا درجہ دے دیا جائے، ان کی قسمیں کھائی جائیں۔ یا یہ کہ شریعت اور اس کے احکام کا مذاق اڑایا جائے، نیز انہی برے کلمات میں اللہ کے احکامِ شرعیہ پر ناراضگی کا اظہار یا تقدیر کے ان فیصلوں پر ناراضگی اور اعتراض کرنا ہے جو تکلیف کا باعث بنتے ہوں جن سے دنیا میں سابقہ پڑتا ہے جیسے بدنی مصائب یا مال اور اولاد وغیرہ سے متعلق مصائب وپریشانیاں۔

اسی طرح وہ کبیرہ گناہ جو ایمان کو نقصان پہنچاتے اور اسے کمزور کر دیتے ہیں غیبت اور چغل خوری ہے، لہذا ہمیں حد درجہ اس سے بچنا چاہیے اور ہمیں اپنی زبانوں کی ہر اس لفظ سے حفاظت کرنی چاہیے جو اللہ کی شریعت اور اس کے نبیﷺ کی سنت کے مخالف ہو، نبی ﷺنے فرمایا: إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، ‏‏‏‏‏‏يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، ‏‏‏‏‏‏يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ. ”بے شک بندہ اللہ کی رضامندی کی ایک بات زبان سے نکالتا ہے، اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اسی کی وجہ سے اللہ تعالی اس کے درجے بلند کر دیتا ہے، اور بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے“۔ (صحیح بخاری)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ مومن کا عمل کب منقطع ہوجاتا ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ مومن کا عمل موت سے منقطع ہوجاتا ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ. ”اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو یقین آجائے“۔ (سورۃ الحجر: 99) اور یقین کے معنی یہاں موت کے ہیں۔ اس کی دلیل نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے جس کو آپﷺ نے عثمان بن مظعون کی وفات پر فرمایا تھا: أمَّا عُثمانُ فقَدْ جَاءَهُ وَاللهِ اليَقِينُ. کہ ”واللہ عثمان کو یقین آگیا“ (صحیح بخاری)؛ اور اس لیے کہ نبیﷺ نے اپنی زندگی میں عمل کو ترک نہیں کیا۔ یہاں پر یقین کا مطلب ایمان کا کوئی درجہ نہیں ہے کہ وہاں مومن عمل سے رک جائے یا اس کا عمل اس سے اٹھ جائے جیسا کہ راہِ راست سے بھٹکے ہوئے کچھ لوگوں کا خیال ہے۔

 س: جب آ پ سے یہ سوال کیا جائے کہ آسمان وزمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی تدبیر کون کرتا ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ آسمان وزمین اور جو کچھ ان میں ہے نیز جو ان کے درمیان ہے اس کی تدبیر کرنے والا تنہا اللہ تعالی ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے علاوہ نہ تو کوئی مالک ہے، نہ ہی کوئی اس کا ساجھی اور نہ ہی کوئی اس کا معین ومددگار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پاکیزہ ہے اور ساری تعریفیں اسی کے لیے سزاوار ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ. ”کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے اُن (سب) کو پکار لو نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذرہ کا اختیار ہے نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے“۔ (سورۃ سبأ:22)

 س: جب آ پ سے یہ سوال کیا جائے کہ ایسے شخص کا کیا حکم ہے جو یہ اعتقاد رکھے کہ کائنات کی تدبیر چار یا سات قطب کر رہے ہیں، یا یہاں پر کچھ بڑی شخصیتیں اور کچھ غوث ہیں جن کی طرف اللہ کو چھوڑ کر یا اللہ کے ساتھ متوجہ ہو سکتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ جس کا اعتقاد ایسا ہو اس کے کفر پر علماء کا اجماع ہے کیونکہ ایسا شخص اللہ کی ربوبیت میں شریک کا قائل ہے۔

 س: جب آ پ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا اولیاء غیب جانتے ہیں اور مُردوں کو زندہ کرتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ اللہ کے سوا نہ تو کوئی غیب جانتا ہے اور نہ ہی اللہ کے سوا کوئی مُردوں کو زندہ کرسکتا ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ. ”اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کرلیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا“۔ (سورۃ الأعراف:188)۔ جب رسول اللہ ﷺ جو مخلوق میں سب سے افضل ہونے کے باوجو غیب نہیں جانتے تو جو آپﷺ سے کم تر ہیں بدرجہ اولی غیب کو نہیں جانتے ہیں۔

اور ائمہ اربعہ کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے گا کہ رسول اللہ ﷺ غیب جانتے ہیں یا مردوں کو زندہ کرتے ہیں وہ دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، کیونکہ اس نے اس اللہ کی تکذیب کی جس نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ جنات اور انسانوں سے یہ کہیں: قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ. ” آپ کہہ دیجیے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم میں سے کسی سے کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے اس کا اتباع کرتا ہوں“۔ (سورۃ الأنعام:50) نیزاللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ. ”بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس سر زمین پر وہ مرے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور خوب خبردار ہے“۔ (سورۃ لقمان:34)

نبی ﷺ غیب نہیں جانتے تھے بجز اس کے کہ جو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کرے اور آپ کو سکھلائے۔ اور نبی ﷺ نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ انہوں نے اپنے اصحاب میں سے کسی صحابی یا اپنی اولاد میں سے کسی کو زندہ کیا ہو جن کی وفات آپ ﷺ سے پہلے ہوگئی تھی تو وہ لوگ کیسے زندہ کرسکتے ہیں جن کا مقام ومرتبہ نبیﷺ سے کہیں کمتر ہے۔

 س: جب آ پ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا ولایت صرف بعض مومنوں کے ساتھ ہی خاص ہے اور بعض کے ساتھ نہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ جو شخص مومن اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ، الَّذِينَ آَمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ. ”یاد رکھو اللہ کے دوستوں کے تئیں نہ تو کوئی اندیشہ ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور( برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں“۔ (سورۃ يونس:62-63) ولایت صرف کچھ اہل ایمان کے ساتھ خاص نہیں ہے، البتہ اس کے درجے الگ الگ ہیں۔

تقوی کا مطلب ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جن چیزوں کا حکم دیا ہے ان پر عمل کیا جائے، اور جن چیزوں سے منع کیا ہے ان سے باز رہا جائے۔ اور ہر مومن کو اس کے ایمان اور طاعت کے بقدر ولایت حاصل ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا اللہ تعالیٰ کا فرمان: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

  (یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں) کا مطلب اولیاء کو پکارنے کا جواز ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اولیاء سے دعا کرنا، ان سے فریاد کرنا یا ان کی پناہ طلب کرنا جائز ہے، بلکہ اس میں اولیاء اللہ کی منزلت اور مقام کا بیان ہے اور یہ کہ وہ دنیا اور آخرت میں خوف نہیں کھائیں گے اور نہ وہ آخرت میں غمگین ہوں گے۔ نیز اس میں اللہ کی توحید اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کر کے ولی بننے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ بشارت اور خوشخبری حاصل ہوسکے جس کا ذکر اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے: لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ. کہ ”ان پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں“۔ غیر اللہ کو پکارنا شرک ہے جیسا کہ اس کا بیان گزرچکا ہے۔

 س: جب آ پ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا انبیاء کے علاوہ اولیاء بھی گناہِ کبیرہ اور گناہ صغیرہ سے معصوم ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ انبیاء کے علاوہ اولیاء گناہ کبیرہ یا صغیرہ میں پڑنے سے معصوم نہیں ہیں، بہتیرے بڑے بڑے اولیاء اور صالحین غلطیوں، معصیت اور گناہ میں مبتلا ہوئے لیکن انہوں نے توبہ اور اللہ کی طرف رجوع کرنے میں جلدی کی پس اللہ تعالیٰ انہیں بخش دے گا۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا خضر علیہ السلام زندہ ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ صحیح بات تو یہ ہے کہ خضر علیہ السلام اللہ کے نبیوں میں سے ایک نبی ہیں، اور نبی ﷺ کی ولادت سے قبل آپ کی وفات ہوچکی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُون. ”آپ سے پہلے کسی انسان کو بھی ہم نے ہمیشگی نہیں بخشی، کیا اگر آپ مرگئے تو وہ ہمیشہ کے لیے رہ جائیں گے؟(سورۃ الأنبياء:34) اور اگر وہ زندہ ہوتے تو رسول ﷺ کی اتباع کرتے اور آپﷺ کے ساتھ جہاد کرتے، کیونکہ ہمارے نبی محمدﷺ تمام جن وانس کی طرف نبی بنا کر مبعوث کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا. ”آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں“۔ (سورۃ الأعراف:158) اور نبی ﷺ نے فرمایا: أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ. ”اس رات کے متعلق تمہیں کچھ معلوم ہے؟ آج اس روئے زمین پر جتنے انسان زندہ ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔“ (صحیح بخاری)

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ خضر علیہ السلام وفات پانے والے لوگوں میں سے ایک ہیں، اس بنا پر وہ پکارنے والے کی نہ پکار سنتے ہیں اور نہ راستہ بھٹکنے والے کو راستہ دکھاتے ہیں جب وہ راستہ کی رہنمائی طلب کرے۔ اور بعض لوگوں کی ان سے ملاقات کی خبر ان کے دیدار اور ان کی مجلسوں میں بیٹھنے اور بعض کا ان سے علم حاصل کرنے کے جو قصے بیان کیے جاتے ہیں وہ سب خیالی اور صریح جھوٹی باتیں ہیں جن کی تصدیق وہ شخص نہیں کرے گا جسے اللہ تعالیٰ نے علم اور عقل وبصیرت سے نوازا ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا مردے سنتے ہیں یا پکارنے والے کی دعا قبول کرتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ مُردے نہیں سنتے، اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُور. ”آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں“۔ (سورۃ فاطر:22)، اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے:إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى. ”بے شک آپ مُردوں کو نہیں سنا سکتے“۔ (سورۃ النمل:80) اور نہ ہی مردے پکارنے والے کی دعا قبول کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ، إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ. ”جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں، اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کر جائیں گے، آپ کو کوئی بھی حق تعالی جیسا خبردار خبریں نہ دے گا“۔ (سورة فاطر:13-14)، نیز اللہ تعالی نے فرمایا: وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ. ”اور اس سے بڑھ کر بھلا گمراہ اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بے خبر ہوں“۔ (سورۃ الاحقاف:5)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ بعض وہ مردے جن کی جاہل لوگ تعظیم کرتے ہیں بسااوقات ان کی قبروں کے پاس کچھ آوازیں سنی جاتی ہیں تو وہ کیسی آوازیں ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ وہ جنی شیطانوں کی آوازیں ہوتی ہیں جو جاہلوں کو اس وہم میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ یہ صاحب قبر کی آواز ہے تاکہ وہ انہیں فتنے میں مبتلا کردیں اور ان کے دین کو ان پر الٹ دیں اور انہیں گمراہ کردیں، اور قرآن کی نص سے یہ ثابت ہے کہ مُردے نہ تو سنتے ہیں اور نہ ہی وہ پکارنے والے اور ندا لگانے والے کی دعا قبول کرتے ہیں۔ فرمان باری تعالی ہے: إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ. ”بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے“۔ (سورۃ النمل:80) اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے: إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ. ”اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں۔(سورۃ فاطر:14)۔ نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ. ”آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں“۔ (سورۃ فاطر:22)

پس وہ کیسے ان کی دعاء وپکار کو قبول کریں گے جب کہ وہ عالم برزخ میں ہیں، دنیا والوں سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ. ”بلکہ ان کے پکارنے سے وہ محض بے خبر ہیں“۔ (سورۃ الأحقاف:5)

 س:جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا مردے خواہ اولیاء ہوں یا غیر اولیاء وہ فریاد کرنے والے کی فریاد رسی اور ان سے مدد طلب کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں: وہ پکارنے والوں کی دعا کو قبول نہیں کرتے اور نہ ہی پکارنے والے کی دعا قبول کرنے اور فریاد کرنے والے کی فریاد رسی کرنے کی وہ طاقت ہی رکھتے ہیں۔ اللہ تعالی فرمان ہے: وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ، إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ. ”جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں، اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے“۔ (سورة فاطر:13-14)

ہائے اس شخص کی بربادی جسے شیاطین اور گمراہ داعیوں نے دھوکہ میں رکھا اور ان کے لیے مُردوں اور قبروں میں مدفون انبیاء، اولیاء اور صالحین کی دعا کو مزین کردیا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ. ”اس شخص سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں بلکہ ان کے پکارنے سے بالکل بے خبرہوں“۔ (سورۃ الاحقاف:5)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ”جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے ہیں ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دئے جاتے ہیں“۔ (سورة آل عمران:169) اس آیت میں ”زندہ ہیں“ سے کیا مراد ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ اس آیت میں ”زندہ ہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ شہداء برزخی زندگی میں نعمتوں سے پُر زندگی گزار رہے ہیں جو دنیوی زندگی سے مختلف ہے، کیونکہ شہیدوں کی روحیں جنت میں ناز ونعم میں ہوتی ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ. ”اپنے رب کے پاس سے انہیں روزی عطا کی جاتی ہے“۔ چنانچہ وہ اخروی دنیا میں ہوتے ہیں جہاں ان کی زندگی اور حالات ومعمولات دنیوی زندگی اور اس کے حالات ومعمولات سے یکسر مختلف ہوتے ہیں، وہ پکارنے والے کی پکار نہ تو سن سکتے ہیں اور نہ ہی اسے قبول کرسکتے ہیں جیسا کہ آیتوں میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے اور ان میں کوئی تعارض بھی نہیں ہے۔ اسی لیے آیت میں ”يُرْزَقُونَ“ ہے یعنی انہیں روزی دی جاتی ہے نہ یہ کہ ”يَرْزقون“ ہے کہ وہ روزی دیتے ہیں۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ غیرُاللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ یہ شرک اکبر ہے، اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ. ”پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر“۔ (سورۃ الكوثر:2) نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ. ”کہہ دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں“۔ (سورۃ الأنعام:162-163)

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ. ”اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جس نے غیراللہ کے لیے ذبح کیا“۔ (صحیح مسلم)

اور قاعدہ یہ ہے کہ ”اللہ کے لیے جس چیز کا کرنا عبادت ہے اسے غیر اللہ کے لیے کرنا شرک ہے“۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ غیر اللہ کے لیے نذر ماننے کا کیا حکم ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ یہ شرک اکبر ہے۔ اس لیے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلاَ يَعْصِهِ. ”جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو وہ اسے پوری کرے اور جس نے اللہ کی معصیت کی نذر مانی تو وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے“۔ (صحیح بخاری)

نذر ماننے والے کے اعتبار سے ’نذر‘ قولی، مالی یا بدنی عبادت ہے۔ نذر: نفس پر ایسی چیز کا لازم کرنا ہے جو اس پر شرعاً لازم نہیں تھی، یہ حصولِ مطلوب یا دفعِ مرہوب (جس چیز کا خوف ہو) یا ملنے والی نعمت پر شکر ادا کرنے کے لیے یا کسی مصیبت کے ٹل جانے پر مانی جاتی ہے۔ اور یہ ان عبادتوں میں سے ہے جسے غیرُاللہ کے لیے کرنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے والوں کی تعریف کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا.”جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے“۔ (سورۃ الإنسان:7)

اور قاعدہ یہ ہے کہ ”ہر وہ فعل جس کے کرنے والے کی اللہ تعالیٰ تعریف کرے وہ عبادت میں داخل ہے اور جو فعل عبادت ہے غیرُاللہ کے لیے اس کا کرنا جائز نہیں“۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا ہم غیر اللہ کی پناہ طلب کر سکتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ استعاذہ (پناہ طلب کرنا) کے تینوں قسموں کی معرفت سے جواب کی وضاحت ہوگی اور وہ یہ ہیں:

1- استعاذۂ توحیدیہ تعبّدیہ: یعنی ہر وہ چیز جس سے آپ ڈرتے ہیں اُن سے اللہ کی پناہ میں آنا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. ”آپ کہہ دیجیے کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اُس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے“۔ (سورة الفلق:1-2) نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، إِلَهِ النَّاسِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ. ”آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں، لوگوں کے مالک کی، لوگوں کے معبود کی (پناہ میں)، وسوسہ ڈالنے والے اور پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے“۔ (سورة الناس: 1-4)

2- مباح استعاذہ: یعنی زندہ ، حاضر اور قادر مخلوق سے ایسی چیزوں کے متعلق پناہ طلب کرنا جس کی وہ قدرت رکھتے ہوں اور جو شرعی دائرہ سے باہر نہ ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَفعلْ بِه. ”جو شخص کوئی جائے پناہ یا جائے حفاظت پالے تو وہ اسے اختیار کرلے“۔ (صحیح مسلم)

3- شرکیہ استعاذہ: یعنی ایسی چیزوں سے غیرُ اللہ کی پناہ طلب کرنا جس کی طاقت اللہ کے سوا کسی اور میں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَأنَّهُ كانَ رِجالٌ مِنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ برجالٍ مِنَ الْجِنِّ فزادُوْهُمْ رَهْقًا. ”بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے“۔ (سورۃ الجن:6)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ جب آپ کسی منزل پر اتریں گے تو کیا پڑھیں گے؟

ج: تو آپ کہیں: میں وہی کہوں گا جس کی طرف رسول اللہ ﷺ نے میری رہنمائی فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ، حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ. ”جو شخص کسی منزل پر اترے اور پھر یہ کلمات کہے: ”أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ“ (میں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں، اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی) تو اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔ (صحیح مسلم)

 س:جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا جلبِ منفعت اور دفعِ مضرت کے لیے غیرُ اللہ سے فریاد کی جاسکتی ہے ان چیزوں میں جن کی طاقت اللہ کے سوا کسی کو نہ ہو؟

ج: تو آپ کہیں کہ یہ شرک اکبر ہے، جو شخص اس کا مرتکب ہو جائے اور مرنے سے قبل اس سے توبہ نہ کرلے تو وہ اس کے اعمال کو اکارت کردیتا ہے اور دین اسلام سے نکال کر ابدی اور ہمیشگی والی ہلاکت تک پہنچا دیتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ. ”بے کس کی پکار کو جب وہ پکارے کون قبول کر کے سختی کو دور کردیتا ہے؟(سورۃ النمل:62) یعنی اللہ کے علاوہ نہ تو کوئی اس کی پکار کے جواب دے سکتا ہے اور نہ ہی اللہ کے سوا کوئی پریشانی کو دور کرسکتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا سے استغاثہ کرنے پر صیغۂ استفہام کے ذریعہ توبیخ کی ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ اللہ سے فریاد کرنا عبادت اور استعانت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ. ”اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے“۔ (سورۃ الأنفال:9) اور صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يجيءُ يَوْمَ القِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللہِ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يجيءُ يَوْمَ القِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللہِ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ. کہ ”میں تم میں سے کسی شخص کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ ہو جو بلبلا رہا ہو، پس وہ کہے: اے اللہ کے رسول میری مدد کیجیے تو میں کہوں گا کہ: میں نے تمہیں بتلادیا تھا کہ میں تمہارے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں تم میں سے کسی شخص کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہو جو ہنہنا رہا ہو، پس وہ کہے :اے اللہ کے رسول میری مدد کیجیے تو میں کہوں گا کہ میں تمہارے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں نے تمہیں بتلادیا تھا“۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

اور یہ بات معلوم ہے کہ ہمارے لیے یہ جائز ہے کہ ہم زندہ اور حاضر شخص جو غائب نہ ہو، جسے ہم دیکھ رہے ہوں اس سے ان چیزوں میں فریاد کر سکتے ہیں جن پر وہ قادر ہو۔ اور زندہ مخلوق سے فریاد کرنے کا مطلب اس سے ایسی چیزوں کی مدد طلب کرنا ہے جس کی انسان طاقت رکھتا ہے، جیسا کہ موسی علیہ السلام کى قوم کے ایک آدمی نے ان کے دشمن کے خلاف موسی علیہ السلام سے مدد کی گہار لگائی۔ جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ. ”اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی“۔ (سورۃ القصص:15)

ہاں البتہ انسان اور جنات میں سے غیر موجود شخص، اسی طرح قبر والوں سے فریاد کرنا، تو اس کے باطل، حرام اور شرک ہونے پر امت کا اجماع ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال  کیاجائے کہ کیا ایسے نام جن میں عبدیت کی نسبت غیر اللہ کی طرف ہو، رکھنا جائز ہے؟ مثلاً عبدالنبی، یا عبد الحسین وغیرہ؟

ج: تو آپ کہیں کہ ایسے نام رکھنا جائز نہیں ہے۔ غیرُاللہ کی طرف عبد کی اضافت والے نام رکھنے کی حرمت پر ائمہ کا اجماع ہے اور ہر وہ نام جس میں عبدیت کی اضافت غیرُاللہ کی طرف ہو جیسے عبدُالنبی، عبدُالرسول یا عبدُ الحسین یا عبدُ الکعبہ وغیرہ تو ان کا بدلنا واجب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہے جیسا کہ رسولﷺ سے وارد حدیث میں موجود ہے: إِنَّ أَحَبَّ الأسْماء إِلَى اللهِ عَبْدُ اللهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ. ”بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبد اللہ اور عبدالرحمن ہے“۔ (صحیح مسلم)

وہ نام جن میں عبدیت کی اضافت غیرُاللہ کی طرف کی گئی ہو بدلنا واجب ہے اور یہ حکم ان زندہ شخصیتوں سے متعلق ہے جن کے ناموں میں عبدیت کی اضافت غیرُاللہ کی طرف کی گئی ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کڑا پہننے یا ہاتھ پر یا گلے میں یا جانور یا گاڑی وغیرہ میں نظر، حسد، یا بلا ومصیبت سے بچنے یا اسے دور کرنے کی غرض سے دھاگا باندھنے کا کیا حکم ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ یہ شرک ہے۔ نبی ﷺ کی مندرجہ ذیل احادیث کی روشنی میں:

مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ. ”جس نے تعویذ لٹکائی اس نے شرک کیا“ (مسند احمد)

لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ وَلَا قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ. ”جس شخص کے اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا ہو یا گنڈا ہو تو اسے باقی نہ چھوڑے بلکہ اسے کاٹ ڈالے“۔ (صحیح بخاری)

مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا أَوْ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا ﷺ بَرِيءٌ مِنْهُ. ”جس نے اپنی داڑھی میں گرہ لگائی یا تانت کا گنڈا باندھا یا چوپائے کی لید یا ہڈی سے استنجا کیا تو بے شک محمد ﷺ اس سے بری ہیں“۔ (مسند احمد)

إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ. ”جھاڑ پھونک (جو عربی زبان میں نہ ہو یا جس کا معنی ومفہوم غیر واضح ہو) گنڈا (تعویذ) اور تولہ شرک ہیں“۔ (ابو داود)

مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَه. ”جو شخص تعویذ لٹکائے، اللہ تعالیٰ اس کی آرزو پوری نہ کرے“۔ (صحیح ابن حبان)

جو شخص اوہام وخرافات سے اپنے تعلقات استوار کرلے وہ نامراد ہوتا ہے، جیساکہ حدیث میں ہے: مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ. کہ ”جو شخص کوئی چیز لٹکاتا ہے وہ اسی کے سپرد کردیا جاتا ہے“۔

تِوَلہ: ایک جادوئی عمل ہے جس کے بارے میں ان کا گمان ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے شوہر بیوی کی نگاہ میں محبوب بن جاتا ہے یا دونوں کے مابین جدائی واقع ہوجاتی ہے، نیز تولہ کا عمل احباب اور قرابت داروں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

تمائم (تعویذ گنڈے): ایسی چیزیں جو نظرِبد اور حسد سے بچانے کے لیے اولاد کے گلے میں لٹکائی جائیں۔

تمیمہ (تعویذ) کا معنی بیان کرتے ہوئے امام منذری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”موتی جسے لوگ اس نیت سےلٹکاتے ہیں کہ یہ ان سے مصیبتوں اور آفتوں کو دور کرے گی“۔ یہ جہالت وگمراہی ہے، کیونکہ یہ نہ تو شرعی سبب ہے اور نہ ہی کوئی قدرتی سبب۔ اسی قبیل سے کنگن (کڑا)، چیتھڑے اور وہ چھوٹے زیورات ہیں جنہیں انسان نظر بد سے بچنے کے لیے پہنتے ہیں، یا چوپائے، گاڑی اور گھروں میں لٹکائے جاتے ہیں۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ تبرُّک کسے کہتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ ایسے اسباب کے واسطہ سے خیر وبرکت طلب کرنا جسے انسان اپنے لیے حصولِ خیر، حصولِ مراد اور حصولِ محبوب کے ارادے سے اختیار کرتا ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا تبرُّکْ کی صرف ایک قسم ہے یا پھر ایک سے زائد؟

ج: تو آپ بتائیں کہ تبرک کی دوقسمیں ہیں:

پہلی قسم: مشروع وجائز تبرّک: جس کی مشروعیت اور اس سے تبرک لینے والے کے لیے فائدہ کے حصول پر کتاب وسنت میں دلیلیں وارد ہیں، اور بغیر کتاب وسنت کی دلیل کے کسی چیز میں برکت کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں ہے، اس میں عقل واستحسان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، پیدا کرنے والے، حکمت والے اللہ تبارک وتعالیٰ یا اس کے رسول ﷺ کے بتلائے بغیر ہم نہیں جانتے کہ یہ چیز مبارک ہے یا اس میں برکت ہے۔ اور کتاب وسنت کی پیروی میں ہی ہر طرح کی خیر وبرکت مضمر ہے، انہی کے ذریعہ ہمیں مبارک چیزوں کا علم ہوتا ہے، اور یہ بھی کہ کس طرح ان سے برکت حاصل کی جائے جیسے رسول ﷺ کی ذات اور ان سے الگ ہونے والی چیزیں مثلاً تھوک، بال اور آپ کے بدن سے مس کیے (چھوئے) ہوئے لباس سے تبرّک حاصل کرنا۔ تبرّک کا حصول نبی ﷺ کے ساتھ خاص ہے اور ان چیزوں کے ساتھ جن کا تعلق آپ ﷺ کی ذات سے ثابت ہے نیز اسی قبیل سے آپ کے بال اور لباس بھی ہیں۔

خرافی لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کے پاس نبی ﷺ کے بال اور آپ ﷺ کے کپڑے ہیں، یہ سب مسلمانوں کی عقلوں سے کھلواڑ، ان کے دین کو برباد کرنے اور ان کے مال ودولت کو سلب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

دوسری قسم: ممنوع تبرک: جو حرام اور شرک باللہ تک پہنچاتا ہے، جیسے صالحین کی ہستیوں اور ان سے الگ ہونے والی چیزوں سے تبرک حاصل کرنا، ان کی قبروں پر نماز ودعا کے ذریعہ تبرک حاصل کرنا، ان کی قبروں کی مٹی سے دوا کے عقیدے سے تبرک حاصل کرنا بعینہ ہر اُس مقام، یا پتھر یا درخت سے تبرک حاصل کرنا یا طواف کرنا یا اُس پر چیتھڑا باندھنا جس کی فضیلت کا وہ اعتقاد رکھتا ہے، جب کہ یہ بات معلوم ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس کا بوسہ لینا اور چھونا (بغرض تبرک) مشروع ہو سوائے کعبہ میں موجود حجرِ اسود اور اس کے رکن کے، اس کے علاوہ کسی بھی چیز کو چھونا، بوسہ لینا اور اس کا طواف کرنا منع ہے۔ اور یہ شرکِ اکبر ہے اس صورت میں جبکہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ یہ خود برکت دیتے ہیں، یا وہ شرک اصغر ہے اس صورت میں جبکہ وہ یہ اعتقاد رکھے کہ یہ برکت کا سبب ہیں۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا صالحین کے آثار تلاش کرنا اور ان کی ذات اور آثار سے تبرّک حاصل کرنا مشروع عمل ہے یا بدعت وگمراہی ہے؟

ج: تو آپ بتائیں کہ یہ اعتقاد وعمل من گھڑت اور مبنی بر بدعت ہے کیوں کہ ہمارے نبی محمدﷺ کے صحابہ امت میں سب سے زیادہ جاننے والے، سب سےافضل، سب سے زیادہ سمجھنے والے اور سب سے زیادہ خیر کی حرص رکھنے والے اور اہل فضل کو سب سے زیادہ پہچاننے والے تھے اس کے باوجود انہوں نے ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے آثار سے تبرّک حاصل نہیں کیا اور نہ ہی ان کے آثار کو تلاش کیا جب کہ وہ انبیاء کے بعد امت کے افضل ترین لوگ تھے، کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ تبرّک نبی ﷺ کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بیعتِ رضوان کے درخت کو اس میں غلو واقع ہونے کے خوف سے کاٹ دیا تھا، اور اسلاف کرام لوگوں میں سب سے زیادہ خیر وبھلائی کے فروغ کے لیے کوشاں تھے۔ اگر صالحین کے آثار تلاش کرنے میں خیر اور فضل مضمر ہوتا تو وہ اس کی طرف ہم سے پہلے سبقت کرتے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا شجر وحجر اور مٹی سے تبرّک حاصل کرنا جائز ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ یہ شرک ہے۔ امام احمد اور ترمذی نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ حنین کے لیے نکلے اور ہم کفر کے زمانے سے ابھی بہت قریب سے گزرے تھے، کفار کا ایک بیری کا درخت تھا جہاں وہ جا کر رُکتے تھے اور اس پر اپنے اسلحہ لٹکایا کرتے تھے، اسے ”ذات انواط“ کہا جاتا تھا چنانچہ راستے میں ہم لوگ ایک بیری کے درخت سے گزرے تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اللہ اکبر! یہ تو (سابقہ قوموں کے) راستے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کہہ دی جو بنی اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے کہی تھی ”اجْعَلْ لَنَا إِلٰھًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ“ کہ اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجیے جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (سورۃ الأعراف:138)، پھر نبی ﷺ نے فرمایا:بے شک تم بھی پہلی امتوں کے طریقوں پر چلو گے“۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ غیرُاللہ کی قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لِيَصْمُتْ. ”جو شخص قسم کھانا چاہتا ہے تو وہ اللہ ہی کی قسم کھائے یا خاموش رہے“۔ (صحیح بخاری) نیز نبی ﷺ نے غیرُاللہ کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ نبی ﷺ کے اس فرمان میں ہے: لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلَا بِالطَّوَاغِي. ”نہ اپنے باپ داداؤں کی قسم کھاؤ اور نہ بتوں کی“ (صحیح مسلم)۔

طواغی طاغوت کی جمع ہے۔

بلکہ آپ ﷺ نے غیراللہ کی قسم کھانے کو شرک گردانا ہے، جیسا کہ آپﷺ کے اس فرمان میں ہے: مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَر أو أَشْرَكَ. ”جس نے غیرُ اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر یا شرک کیا“۔ اسی طرح آپﷺ نے فرمایا: مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا. ”جس نے امانت کی قسم کھائی وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ (مسند احمد، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم، بسند صحیح)

مسلمان کو نبی، ولی، شرف، امانت اور کعبہ اور دیگر مخلوقات کی قسم کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا یہ اعتقاد رکھنا جائز ہے کہ ستارے اور تارے حصولِ خیر اور حصولِ توفیق وسعادت یا شر اور مصیبت وبلا کو ٹالنے میں عالَمْ اور لوگوں پر اثر انداز ہوتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ ایسا اعتقاد رکھنا جائز نہیں ہے، کیونکہ قطعی طور پر یہ اثر انداز نہیں ہوتے، اور اس کی تصدیق ارباب باطل میں سے صرف کم عقل اور اوہام وخرافات کے پیچھے چلنے والے ہی کریں گے، اور ایسا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔ اس لیے کہ حدیث قدسی میں نبی ﷺ کے فرمان ہے: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ. ”بےشک اللہ تعالی فرماتا ہے: جس نے یہ کہا کہ اللہ کے فضل ورحمت سے ہم پر بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان لایا اور ستارے کا انکار کیا اور جس نے یہ کہا کہ فلاں فلاں نچھتر (ستارے) کی وجہ سے بارش ہوئی اس نے میرا کفر کیا اور ستارے پر ایمان لایا“۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

اہل جاہلیت اس بات کا اعتقاد رکھتے تھے کہ بارش لانے میں ستاروں کا دخل ہوتا ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا اس بات کا اعتقاد رکھنا جائز ہے کہ ابراج جیسے برج دلو وغیرہ یا نجوم وکواکب انسان کی زندگی پر خوش بختی اور بدبختی کا اثر چھوڑتے ہیں اور کیا ان سے مستقبل کی غیبی خبریں حاصل کی جاسکتی ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ اس بات کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں ہے کہ ابراج اور نجوم وکواکب انسان کی زندگی پر اپنا اثر چھوڑتے ہیں اور ان سے مستقبل کی خبریں معلوم کی جاسکتی ہیں، کیونکہ علمِ غیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ. ”کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا“۔ (سورة النمل:65) اور اس لیے بھی کہ تنہا اللہ تعالیٰ ہی جلبِ خیر اور دفعِ شر کا مالک ہے، اور جس نے یہ اعتقاد رکھا کہ غیبی خبروں کے حصول اور سعادت وشقاوت کے مؤثر ہونے میں ان ستاروں کا اثر ہے بایں طور کہ اس برج کے وقت میں یا ستاروں کے ظہور کے زمانے میں جو پیدا ہوا (وہ سعید یا پھر شقی ہے)، یا اس کے نیک بخت اور بدبخت بنانے میں ستاروں کا اثر ہے تو اس نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا ان چیزوں میں جو اللہ کا حق اور اس کی ربوبیت کی خصوصیات میں سے ہیں اور جو ایسا کرتا ہے وہ کفر کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اللہ کی پناہ!

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی کے مطابق فیصلہ کرنا ہمارے اوپر واجب ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ تمام مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی کے مطابق فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ. ”آپ ان کے معاملات میں اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق ہی فیصلہ کیا کیجیے، ان کی خواہشوں کی تابعداری نہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ کردیں، اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو یقین کریں کہ اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا دے ہی ڈالے اور اکثر لوگ نافرمان ہی ہوتے ہیں“۔ (سورة المائدة:49) نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول کے ذریعہ اس شخص کی مذمت کی ہے جو بشری قوانین کے پیچھے چلتا ہے، فرمایا: أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ. ”کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہوسکتا ہے“۔ (سورۃ المائدة:50)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ شفاعت کسے کہتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ نفع اور خیر کے حصول یا شر اور تکلیف کو دور کرنے کے لیے واسطہ بننا یا کسی دوسرے کا واسطہ لینا شفاعت کہلاتا ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ شفاعت کی کتنی قسمیں ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ شفاعت کی تین قسمیں ہیں:

1- ثابت شدہ (جائز) شفاعت جسے اللہ کے علاوہ کسی اور سے طلب نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قُلْ لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا. ”آپ کہہ دیں کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے“۔ (سورۃ الزمر:44)

اس سے مراد  عذابِ جہنم سے سلامتی اور جنت کی نعمتوں کے حصول کی شفاعت ہے۔ اس کی دو شرطیں ہیں:

الف: شافع (اللہ تعالی) کا شفاعت کی اجازت دینا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ. ”کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے“۔ (سورۃ البقرة:255)

ب: جس کی شفاعت کی جارہی ہے اس سے اللہ کا راضی ہونا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى. ”وہ کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو“۔ (سورۃ الأنبياء:28)

اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں اُن دونوں شرطوں کو جمع کردیا ہے: وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى. ”اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے“۔ (سورۃ النجم:26)

پس جو شخص شفاعت کی خواہش رکھتا ہے وہ اسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی سے مانگے، وہی اس کا مالک اور اجازت دینے والا ہے، اللہ کے علاوہ کسی اور سے شفاعت نہ طلب کرے، اس لیے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ. کہ ”جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو“۔ (ترمذی)

چنانچہ آپ اس طرح دعا کرسکتے ہیں : ”يَا الله! اِجْعَلْنِي مِمَّنْ يَشْفَعُ فِيهِمْ نَبِيُّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ القِيَامَةِ“ ”اے اللہ مجھے ان لوگوں میں کردے جن کی شفاعت قیامت کے دن تیرے نبی ﷺ فرمائیں گے“۔

2- ناجائز شفاعت: غیر اللہ سے ایسی چیزوں میں شفاعت طلب کی جائے جن کی طاقت اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے اور یہی شرکیہ شفاعت ہے۔

3- مخلوق کے درمیان دنیوی شفاعت: اور وہ ایسی شفاعت ہے جو دنیا میں زندہ مخلوقات کے درمیان ان چیزوں میں کی جاتی ہے جن کی وہ طاقت رکھتے ہیں اور جن دنیاوی ضرورت کی چیزوں میں بعض لوگ بعض لوگوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہ شفاعت مستحب ہے اگر اس کا استعمال خیر کے لیے ہو، اور اگر اس کا استعمال بُرے مقصد کے لیے ہو تو حرام ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا وَمَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُنْ لَهُ كِفْلٌ مِنْهَا. ”جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے، اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا اور جو برائی اور بدی کی سفارش کرے اس کے لیے بھی اس میں سے ایک حصہ ہے“۔ (سورۃ النساء:85)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا رسول ﷺ، انبیاء، صالحین، اور شہیدوں سے شفاعت طلب کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ قیامت کے دن شفاعت کریں گے؟

ج: تو آپ کہیں کہ شفاعت اللہ کی ملکیت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قُلْ لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا. ”کہہ دیجیے کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے“۔ (سورۃ الزمر:44)، تو ہم اسے اللہ ہی سے طلب کریں گے جو اس کا مالک اور اس کی اجازت دینے والا ہے، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتے ہوئے جس نے فرمایا: إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ.کہ ”جب مانگو تو اللہ سے ہی مانگو“۔ (ترمذی)

لہذا ہم اس طرح دعا کریں گے کہ ”اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کی تیرے رسولﷺ بروز قیامت شفاعت کریں گے“۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ جو شخص مطلب براری کے لیے اپنے اور اللہ کے درمیان مردوں کو سفارشی بناتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ یہ شرک اکبر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو اپنے اور اللہ کے درمیان کسی کو سفارشی بناتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا: وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ. ”اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے“۔ (سورۃ يونس:18)

نیز اللہ تعالیٰ نے اسے شرک قرار دیا ہے، اسی لیے فرمایا: عَمَّا يُشْرِكُونَ. کہ ”(وہ پاک اور برتر ہے) ان لوگوں کے شرک سے“۔ اس کے بعد ان پر کفر کا حکم لگاتے ہوئے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ. کہ ”جھوٹے اور ناشکرے کو اللہ راہ نہیں دکھاتا“۔ (سورۃ الزمر:3)۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ان کا قول نقل کرتے ہوئے جبکہ انہوں نے سفارش کرنے والوں کے بارے میں کہا: وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى. ”اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم اُن کی عبادت محض اس لیے کرتے ہیں تاکہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبے تک ہماری رسائی کرادیں“۔ (سورۃ الزمر:3)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا.

 (اور اگر یہ لوگ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، تیرے پاس آجاتے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے، تو یقیناً یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے) (سورۃ النساء:64) سے یہ سمجھا جائے کہ رسول ﷺ سے استغفار طلب کرنا حتی کہ آپ ﷺ کے مرنے کے بعد بھی درست ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ نبی ﷺ سے استغفار طلب کرنا (کہ آپ ہمارے لیے استغفار کریں) آپ ﷺ کی حیات کے ساتھ خاص ہے آپ ﷺ کی وفات کے بعد یہ درست نہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اور قرون مفضلہ والوں سے کسی صحیح روایت سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے آپ کی وفات کے بعد بھی استغفار طلب کرتے رہے ہوں، اور اس لیے بھی کہ جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے دعا اور مرنے کے بعد استغفار کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرَ لَكِ وَأَدْعُوَ لَكِ. ” اگر ایسا میری زندگی میں ہو گیا (یعنی تمہارا انتقال ہو گیا) تو میں تمہارے لیے استغفار اور دعا کروں گا“۔ پس حدیث آیت کی تفسیر بیان کر رہی ہے۔

بلاشبہ رسول ﷺ کا استغفار طلب کرنا آپ کی زندگی کے ساتھ خاص ہے آپ ﷺ کی وفات کے بعد نہیں، اور نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ سے طلب استغفار کا تصور قرون مفضلہ کے گزر جانے اور بدعات کے رائج ہونے نیز غلبۂ جہالت کے بعد چند متاخرین سے یہ غلطی سرزد ہوئی، چنانچہ ان میں سے بعض نے سلف صالحین کی جو علم میں قوی تھے، ہدایت یافتہ صحابہ اور بھلائی کے ساتھ ان کی اتباع کرنے والوں کی خلاف ورزی کی۔

 س: جب آپ سے یہ سوال  كىاجائے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ. کہ مسلمانو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو۔ (سورة المائدة:35) کا کیا مفہوم ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ اس کا مفہوم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اتباع کرکے اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ یہی وہ وسیلہ ہے جس کا اللہ نے حکم فرمایا ہے تاکہ ہم اس کا تقرب حاصل کریں۔ کیونکہ وسیلہ کہتے ہیں: اس چیز کو جو مطلوب تک پہنچائے، اور مطلوب تک پہنچانے والی چیز وہی ہے جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مشروع قرار دیا ہے، جیسے توحید اور اطاعت وفرمانبرداری۔

وسیلہ کا مطلب اولیاء اور قبروں میں مدفون لوگوں کی طرف متوجہ ہونا ہرگز نہیں ہے۔ یہ مسمیات کے بدلنے اور چیزوں کے ناموں کو ان کے نامون کے سوا نام دینے کے قبیل سے ہے۔ یہ تو صرف انسانی اور جنی شیاطین کا دھوکا ہے تاکہ لوگوں کو ہدایت کے اس راستے سے بھٹکا دیں جو انہیں جنت تک پہنچاتا ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ توسُّل کسے کہتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ توسل اصل میں تقرب حاصل کرنا ہے، اور شرعاً توسُّل کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی اطاعت وعبادت اور اس کے نبی ﷺ کی اتباع کر کے اللہ کا قرب حاصل کرنا اور ایسا عمل کرنا جو اللہ کو محبوب اور پسندیدہ ہو۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ وسیلہ کی کتنی قسمیں ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ وسیلہ کی دو قسمیں ہیں: (۱) مشروع وسیلہ (۲) ممنوع وسیلہ۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ مشروع وسیلہ کسے کہتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ درجہ ذیل مشروع وسائل ہیں:

(أ) اللہ تعالی کے اسماء حسنی کے ذریعہ اس کا وسیلہ لینا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وللهِ الأسماءُ الحُسْنیٰ فأدْعُوْهُ بِھا. ”اور اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں، پس تم اسے ان ناموں سے پکارو“۔ نیز اللہ تعالیٰ کی صفات سے اس کا وسیلہ لینا، جیسا کہ نبی ﷺکے اس قول میں ہے: يا حيُّ يا قيومُ برحمتكَ اَستَغِیْثُ. کہ ”اے زندہ اور سب کو تھامنے والے میں تجھ سے تیری رحمت کے وسیلہ سے فریاد کرتا ہوں“۔ تو یہ صفت رحمت کے ذریعہ اللہ کا وسیلہ لینا ہے۔

(ب) ایسے نیک عمل کا وسیلہ جو اللہ کے لیے خالص ہو اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے موافق ہو، جیسے کوئی شخص یہ کہے: اے اللہ میرا تیرے لیے مخلص ہونے اور تیرے نبی ﷺ کا متبع ہونے کا وسیلہ مجھے شفایابی اور روزی عطافرما، اور جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کا وسیلہ اختیار کرنا۔ اللہ نے فرمایا: رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آَمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآَمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ. ”اے ہمارے رب ہم نے سنا کہ منادی کرنے والا بآواز بلند ایمان کی طرف بلارہا ہے کہ لوگو اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لائے۔ یا الہی تو اب ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیاں ہم سے دور کردے اور ہماری موت نیکوں کے ساتھ کر“۔ (سورۃ آل عمران:193)

اور اس وسیلہ کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے انہوں نے کہا: رَبَّنَا وَآَتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ. ”اے ہمارے پالنے والے معبود ہمیں وہ دے جس کاوعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، یقینا تو وعدہ خلافی نہیں کرتا“۔ (سورۃ آل عمران:194)

اور جس طرح سے چٹان والوں نے اپنے نیک عمل کے وسیلہ سے اپنے اوپر آنے والی آفت سے خلاصی چاہی جیسا کہ صحیحین میں وارد ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے صحابہ سے ان تین لوگوں کا قصہ بیان کیا جنہیں غار میں چٹان نے ڈھک لیا تھا، پس انہوں نے اپنے نیک اعمال کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس چٹان کو ان سے ہٹا دے یہاں تک کہ وہ چٹان ہٹ گئی۔

(ج) نیک، موجود (زندہ) اور قادر بندے کی دعا کا وسیلہ لینا جیسے کوئی نیک آدمی سے یہ گزارش کرے کہ وہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عباس رضی اللہ عنہ سے گزارش کی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بارش کے لیے دعا کریں اور عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اویس القرنی رحمہ اللہ سے اپنے لیے دعا کی درخواست کی تھی نیز جیسا کہ یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے یعقوب علیہ السلام سے دعا کرنے کی درخواست کی تھی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ. ”انہوں نے کہا: اباجی آپ ہمارے لیے گناہوں کی بخشش طلب کیجیے بے شک ہم قصور وار ہیں“۔ (سورة يوسف:97)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ  توسّلِ ممنوع کسے کہتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ توسّلِ ممنوع وہ وسیلہ جسے شریعت نے باطل قرار دیا ہے۔ جیسے مردوں سے وسیلہ اور ان سے مدد اور شفاعت طلب کرنا۔ یہ باتفاقِ ائمہ شرکیہ وسیلہ ہے، اگرچہ جس کا وسیلہ لیا جارہا ہو وہ انبیاء یا اولیاء میں سے ہوں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى. ”اور جن لوگوں نے ان کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ تاکہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرادیں“۔ (سورۃ الزمر:3) پھر اللہ تعالی نے ان کے کرتوت پر ان کے خلاف فیصلہ کرتے ہوئے کہا: إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ. ”یہ لوگ جس میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ اللہ کرے گا، یقینا جھوٹے اور ناشکرے کو اللہ راہ نہیں دکھاتا“۔ (سورۃ الزمر:3) نیز ان پر کفر اور دین سے خارج ہونے کا حکم بھی صادر فرمایا۔

اسی طرح وہ وسیلہ بھی ممنوع ہے جس وسیلہ کا ذکر شریعت نے نہیں کیا ہے کیونکہ توسل عبادت ہے اور عبادت توقیفی ہے۔ جیسے جاہ ومنزلت یا ذات وغیرہ کا وسیلہ لینا جیسے بعض لوگوں کا یہ کہنا: اے اللہ! حبیب ﷺ کی جاہ ومنزلت کا واسطہ مجھے بخش دے۔ یا یوں کہے اے اللہ تیرے نبی کے واسطے سے یا صالحین کی جاہ ومنزلت یا فلاں کی تربت کے واسطے سے ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں...الخ اس لیے کہ ان وسائل کو نہ تو اللہ نے مشروع قرار دیا ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے، پس یہ بدعت ہے جس سے اجتناب کرنا واجب ہے۔ سلف صالحین میں سے صحابہ کرام، تابعین عظام اور ہدایت یافتہ ائمہ کرام کے یہاں وسیلہ کی یہ قسم اور اس سے پہلے والی قسم کا لینا معروف نہیں تھا۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ مَردوں کے لیے قبروں کی زیارت کی کتنی قسمیں ہیں؟

ج: تو آپ کہیں: دوقسمیں ہیں: 1- مشروع زیارت جس پر زیارت کرنے والے کو دو وجہ سے اجر ملتا ہے۔ اور وہ دونوں حسبِ ذیل ہیں:

(ا) آخرت کی یاد دہانی۔ اس لیے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ألا فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُذَكِّر الْآخِرَةَ. ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کردیا تھا، اب تم قبروں کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے“۔ (صحیح مسلم)

(ب) مردوں کو سلام اور ان کے لیے دعا کرنا۔ اس طرح کہیں: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ... الخ ”اے مسلمان بستی والو! تمہیں سلام ہو...الخ تو یہ زائر اور جس کی زیارت کی جارہی ہے دونوں کے لیے نفع بخش ہے۔

2- غیر مشروع زیارت جس کا کرنے والا گنہگار ہوگا۔ اور اس سے مراد وہ زیارت ہے جس میں قبروں کے پاس دعا یا ان کے وسیلہ سے اللہ کی طرف توجہ مقصود ہو۔ یہ ایسی بدعت ہے جو اس کے کرنے والے کو شرک، مُردوں سے فریاد، ان سے طلبِ شفاعت اور طلبِ مدد تک پہنچاتی ہے، جو کہ شرکِ اکبر ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ، إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ. ”یہی ہے اللہ جو تم سب کا پالنے والا اسی کی بادشاہت ہے، جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں، اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سن ہی نہیں سکتے اور اگر سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے“۔ (سورة فاطر:13-14)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ قبروں کی زیارت کرتے وقت آپ کیا کہیں گے؟

ج: تو آپ کہیں کہ میں وہی کہوں گا جس کی طرف نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کی قبروں کی زیارت کے وقت رہنمائی فرمائی، کہ وہ کہیں: السلامُ عليكمُ دارَ قومٍ مؤمنينَ وَأتاكُمْ ما تُوْعَدُوْنَ غداً مؤجَّلُوْنَ وإنّا إنْ شاءَ اللهُ بِکُمْ لاحِقُوْنَ. ”اے مسلمان بستی والو! تمہیں سلام ہو، آ چکا تمہارے پاس جس کا تم سے وعدہ تھا کہ کل پاؤ گے ایک مدت کے بعد اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ملنے والے ہیں۔ (صحیح مسلم)

پھر میں ان کے لیے رحمت، مغفرت اور رفعِ درجات وغیرہ جیسی اچھی اچھی دعائیں کروں گا۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا نیک لوگوں کی قبروں کے پاس دعا کرکے ہم اللہ کا قرب حاصل کرسکتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ نیک لوگوں کی قبروں کے پاس دعا کرنا ایجاد کردہ بدعات میں سے ہے، اور یہ شرک کا وسیلہ ہے۔ علی بن حسین رحمہ اللہ نے ایک شخص کو نبی ﷺ کی قبر کے پاس دعا کرتے ہوئے دیکھا تو انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا“ کہ میری قبر کو عید (میلہ گاہ) نہ بناؤ۔ (الاحادیث المختارۃ:428 از الضیاء المقدسی)

یقیناً سب سے عظیم قبر وہ ہے جس میں سب سے زیادہ پاکیزہ ، سب سے زیادہ اشرف جسم، سب سے افضل انسان اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم شخص ہو اور وہ نبی ﷺ کی قبر ہے لیکن کبھی بھی بسند صحیح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی بھی صحابی سے یہ مروی نہیں ہے کہ انہوں نے قبرِ رسول ﷺ پر آکر اللہ سے دعا کیا ہو۔ یہی طرز عمل تھا تابعین عظام رحمہم اللہ کا جو عمدہ طریقے پر صحابہ کرام کی اتباع کرنے والے تھے کہ وہ صحابہ اور اکابر امت کی قبروں کے پاس دعا کے مواقع نہیں ڈھونڈتے تھے، یہ فقط شیطانی وسوسہ ہے جسے کچھ متاخرین کی عقلوں نے ہلکا سمجھا، جب کہ سلف صالحین نے اسے برا جانا، اس سے اجتناب کیا اور اس سے منع کیا کیونکہ اس کی برائی اور اس کے برے انجام سے وہ واقف تھے۔ جب کہ متاخرین جو علم، عقل وفہم اور فضل میں ان سے کمتر تھے اس سے غافل رہ گئے اور شیطان کے دام میں پھنس گئے اور اس بدعت کو اچھا سمجھنا انہیں شرک کے عمیق گڑھے میں ڈھکیل دیا۔ اللہ کی پناہ!

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ غلو کسے کہتے ہیں اور کیا اس کے اقسام بھی ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ غلو کہتے ہیں: اللہ تعالی نے جس چیز کا حکم دیا اس سے تجاوز کر کے مشروع حد کو پار کرجانا۔ شرعا جو مطلوب ہے اور جس کی شرعی طور پر اجازت دی گئی ہے اس پر زیادتی کرنا غلو ہے نیز شرعا مطلوبہ ومأذون فیہ میں سے کسی شے کو عبادت سمجھ کر ترک کرنا بھی غلو ہے۔

غلو کی وہ قسم جو بہت ہی خطرناک اور مہلک ہے: انبیاء وصالحین کی ذات میں غلو کرنا ہے۔ بایں طور کہ ان کو ان کے مقام ومرتبہ سے اوپر اٹھا کر اور جس محبت وتعظیم کے وہ مستحق ہیں اس میں زیادتی اور انہیں ربانی صفات عطا کر کے، یا ان کے لیے کسی طرح کی عبادت روا رکھ کر، اور ان کی مدح وثنا میں اس قدر مبالغہ کر کے کہ جو انہیں معبود کے درجے میں کردے۔

یہ بھی غلو ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت سمجھ کر دائمی طور پر ان مباح چیزوں کو ترک کردینا جنہیں اللہ تعالی نے لوگوں کی مصلحتوں کے لیے پیدا فرمایا ہے جیسے کھانا، پینا نیز جس چیز کی انسان کو حاجت ہوتی ہے مثلا نیند اور نکاح۔

اور ناپسندیدہ غلو میں: توحید پرست مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگانا بھی ہے، نیز تکفیر کے نتیجہ میں اس کے تابع امور کو انجام دینا مثلا: براءت کا اظہار، ترک تعلق، مقاتلت وباہم جنگ وجدل، دشمنی، اور جان ومالٖ عزت وآبرو کو مباح سمجھنا۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کچھ ایسے شرعی نصوص بیان کریں جو غلو سے خبردار کرتے ہوں؟

ج: تو آپ کہیں کہ غلو سے روکنے اور اس سے خبردار کرنے والے دلائل بکثرت کتاب وسنت میں وارد ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان: وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ.”میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں“۔ (سورة ص:86)؛ اسی طرح اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو دین میں غلو کرنے سے روکا ہے، فرمایا: لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ. ”اپنے دین کے بارے میں حد سے تجاوز نہ کرجاؤ“۔ (سورۃ النساء:171)؛ اور نبی ﷺ نے فرمایا: إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ. ”غلو سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو غلو نے ہلاک کردیا“۔ (مسند احمد)

اسی طرح آپﷺ کا فرمان ہے: هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ، هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ، هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ. ”دین میں غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے، دین میں غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے، دین میں غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے“۔ (صحیح مسلم)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا کعبہ کے علاوہ کسی اور چیز کا طواف جائز ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ کعبہ کے علاوہ کسی اور چیز کا طواف جائز نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے طواف کو اپنے گھر کعبۃ اللہ کے ساتھ خاص کیا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ. ”اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں“۔ (سورۃ الحج:29)

اللہ تعالی نے کعبۃ اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کے طواف کا حکم نہیں دیا، کیونکہ طواف عبادت ہے اور اللہ نے ہمیں کسی بھی عبادت کو ایجاد کرلینے سے متنبہ اور آگاہ کیا ہے۔ پس وہی عبادت قابل قبول ہوگی جو کتاب وسنت کی صحیح دلیل سے ثابت ہے، بغیر شرعی دلیل کے کسی عبادت کا ایجاد کرلینا (شریعت کی) مخالفت ہے۔ اور اسے غیرُاللہ کے لیے روا رکھنا شرک ہے جو کہ اعمال کو برباد کردیتا ہے اور دین اسلام سے نکال کر کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ اللہ کی پناہ!

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا تین مساجد (مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی) کے علاوہ کسی خاص سرزمین یا کسی مقام کی تعظیم کی غرض سے سفر کرنا جائز ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ تین مساجد کے علاوہ کسی خاص سرزمین یا کسی مقام کی تعظیم کی غرض سے اس کی فضیلت کا اعتقاد رکھتے ہوئے سفر کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى. ”تین مساجد: مسجد الحرام، میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) اور مسجد الاقصیٰ کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب (ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے“۔ (صحیح مسلم)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا درج ذیل احادیث صحیح ہیں یا رسول اللہ ﷺ کی طرف ان کی نسبت جھوٹی ہے؟:

 إِذَا ضَاقَتْ بِكُمْ الأُمُورُ فَعَلَيْكُمْ بِزِيَارَةِ القُبُورِ. (جب تم اپنے اوپر تنگی محسوس کرو تو لازمی طور پر قبروں کی زیارت کرو)۔

 مَنَّ حَجَّ فَلَمْ يَزُرْنِي فَقَدْ جَفَانِي. (جس نے حج کیا لیکن میری زیارت نہ کی تو اس نے مجھ سے بدسلوکی کی)۔

 مَنْ زَارَنِي وَزَارَ أَبِي إِبْرَاهِيمَ فِي عَامٍ وَاحِدٍ ضَمِنْتُ لَهُ عَلَى اللهِ الجَنَّة. (جس نے میری اور میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ایک ہی سال میں کی میں اس کے لیے اللہ سے جنت کا ضامن ہوں)۔

 مَنْ زَارَنِي بَعْدَ مَمَاتِي فَكَانمَا زَارَنِي فِي حَيَاتِي. (جس نے میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی)۔

 مَن اعْتقدَ فِي شيئ نَفَعَهُ. (جس نے کسی چیز میں اعتقاد رکھا وہ اسے نفع پہنچائے گی)۔

 تَوَسَّلُوا بِجَاهي فَإنَّ جَاهِي عِنْدَ اللهِ عَظِيمٌ. (میری قدر ومنزلت کا وسیلہ بناؤ اس لیے کہ اللہ تعالی کے ہاں میرا شرف ومرتبہ بہت عظیم ہے)۔

 عَبْدِي أطعنِي فَأَجْعَلُكَ مِمَّنْ يَقُولُ لِلشَّيْءِ كُنْ فَيُكَوْن. (میرے بندے میری اطاعت کر، تو میں تجھے ان لوگوں میں شامل کرلوں گا جو کسی چیز کے ہونے کا حکم دے تو وہ چیز ہوجاتی ہے)۔

 إِنَّ اللهَ خَلَقَ الخُلْقَ مِنْ نُورِ نَبِيّه مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم-. (بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اپنے نبی محمد ﷺ کے نور سے پیدا فرمایا)۔

ج: تو آپ کہیں کہ ان تمام احادیث کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹی ہے۔ انہیں رواج دینے والے بدعتی اور قبروں کے پجاری ہیں۔ وہ ذات جو کسی چیز کے بارے میں کہتی ہے کُنْ (ہوجا) فيکون (اور وہ ہوجاتی ہے)، وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ اس کے برابر کوئی ہے اور نہ ہی اس جیسا۔ اللہ تعالیٰ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، اور کوئی اس کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ مخلوق میں سے کوئی اس کا مالک ہے، نہ انبیاء اور نہ اولیاء، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ. ”وہ جب کبھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے اتنا فرمادینا ( کافی ہے) کہ ہوجا، وہ اسی وقت ہوجاتی ہے“۔ (سورة يس:82)۔ اور اللہ تعالی نے فرمایا: أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ. ”یاد رکھو اللہ ہی کے لیے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے“۔ (سورۃ الأعراف:54) اس آیت میں”خلق وامر“ کو مقدم کیا گیا ہے حالانکہ اس کی جگہ موخر ہونے کی ہے تاکہ (تقدیم وتاخیر) حصر کا فائدہ دے، یعنی خلق اور تدبیر کو اللہ وحدہ لاشریک کے لیے خاص کرنا ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کیا مسجدوں میں مردوں کو دفن کرنا اور قبروں پر مساجد بنوانا جائز ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ مسجدوں میں مُردوں کو دفن کرنا اور قبروں پر مساجد بنوانا محرمات اور بڑی بدعتوں میں سے ہے، نیز اس کا شمار شرک تک پہنچانے والے عظیم ترین اسباب میں ہوتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مرض میں فرمایا جس کے بعد آپﷺ جانبر نہ ہوسکے: لعنَ اللَّهُ اليَهودَ والنَّصارى اتَّخذوا قبورَ أنبيائِهم مساجدَ. ”اللہ کی لعنت ہو یہود ونصاری پر انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ ﷺ ان کے عمل بد سے (مسلمانوں کو) ڈرا رہے تھے۔ (متفق علیہ)۔ اسى طرح جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی وفات سے پانچ دن قبل فرمایا: أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ.”خبردار تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ آگاہ رہو تم قبروں کو مساجد نہ بنا لینا، کیونکہ میں تمہیں اس سے منع کررہا ہوں“۔ (صحیح مسلم)

قبروں پر بنی مسجدوں میں نماز جائز نہیں ہے اور جب مسجد قبر یا چند قبروں پر بنی ہو تو اس کا منہدم کرنا واجب ہے، ہاں اگر مسجد قبر پر نہ بنی ہو بعد میں میت کو اس میں دفن کردیا گیا ہو تو مسجد کو منہدم نہیں کیا جائے گا، لیکن قبر کو کھولا جائے گا اور مسجد میں مدفون شخص کو عام قبرستان میں منتقل کردیا جائے گا۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ قبروں پر عمارت بنانے کا کیا حکم ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ قبروں پر عمارت بنانا قبیح بدعت ہے، کیونکہ ایسی صورت میں قبروں میں مدفون شخص کی تعظیم میں غلو پایا جاتا ہے۔ اور یہ شرک کا ذریعہ ہے، لہذا قبروں پر تعمیر شدہ عمارت کو اس بدعت کے ختم کرنے اور شرک تک پہنچانے والے ذریعہ کا سد باب کرنے کے لیے گرانا اور اسے برابر کرنا واجب ہے۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں ابوالہیاج الاسدی حیان بن حصین کی روایت بیان کی ہے، وہ کہتے ہیں : مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں اس کام کے لیے نہ بھیجوں جس کام کے لیے مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا تھا؟: ”(وہ یہ ہے کہ) کوئی بھی مجسمہ (تصویر) نہ جھوڑنا مگر اسے مٹا دینا، اور نہ کوئی اونچی قبر چھوڑنا مگر اسے برابر کر دینا“۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا ابتدا ہی میں رسول اللہ ﷺ کو مسجد کے اندر دفن کیا گیا تھا؟

ج: تو آپ کہیں کہ آپﷺ کو حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں دفن کیا گیا تھا اور آپﷺ کی قبر 80 سال تک مسجد سے باہر رہی یہاں تک کہ اموی خلفاء نے مسجد نبوی کی توسیع کی پس حجرہ عائشہ مسجد میں داخل ہو گیا۔ اس دور کے علماء نے اس سے منع کیا اور حجرہ کو مسجد میں داخل کرنے پر متنبہ کیا مگر خلیفہ نے ان کی بات کو قبول نہ کیا۔

نبی ﷺ نے قبروں پر مساجد بنانے پر متنبہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ.”خبردار تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ آگاہ رہو تم قبروں کو مساجد نہ بنا لینا، کیونکہ میں تمہیں اس سے منع کررہا ہوں“۔ (صحیح مسلم)

نیز آپ ﷺ نے قبروں پر مساجد بنانے والوں اور اس پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ جیسا کہ اصحاب سنن کی روایت کردہ حدیث میں موجود ہے۔ مگر رسول اللہ ﷺکو اپنی امت پرجس چیز کا خوف تھا اور جس چیز سے متنبہ کیا تھا وہ غلبۂ جہالت اور بدعات وخرافات کے خوگر مشائخ کی جعل سازی کی وجہ سے واقع ہوا، پس انہوں نے ان چیزوں سے تقرب حاصل کرنا شروع کیا جو دراصل رسول ﷺ کی مخالفت اور آپ ﷺ کی نافرمانی ہے- مثلاً مسجدوں میں قبریں اور مزار بنانا، اس پر پردے لٹکانا، چراغاں کرنا، اس کا طواف کرنا، اس پر نذر کے صندوق رکھنا، پس صالحین کی محبت، ان کی توقیر اور تاکہ مانگنے والوں کی دعا اللہ تعالی قبول کرے (یہ کہہ کر) ان صالحین کے واسطہ سے ربِ کائنات کی طرف متوجہ ہونے کے نام پر شرکیات اور گمراہیاں منتشر ہوگئیں، اور یہ سب ان لوگوں کی میراث ہے جو سابقہ زمانہ میں گمراہ ہوگئے تھے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حذْوَ القُذَّةِ بالقُذَّةِ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ خرِبٍ لدخَلتمُوهُ. ”تم ضرور پچھلے لوگوں کے طور طریقے مکمل طور پر اختیار کروگے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی داخل ہوجاؤ گے“۔ (متفق علیہ)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا رسول اللہ ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں، اور میلاد النبی کے موقع پر جسے الحضرة سے موسوم کیا جاتا ہے لوگوں کے سامنے نکلتے ہیں جیسا کہ کچھ لوگ اس کا عقیدہ رکھتے ہیں؟

ج: تو آپ کہیں کہ ائمہ اربعہ بلکہ پوری امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ کو قبر میں دفن نہیں کیا یہاں تک کہ آپ کی روح آپ کے جسم سے پرواز کر گئی، کیونکہ یہ بات غیر معقول ہے کہ آپ ﷺ کو صحابہ کرام نے دفن کر دیا حالانکہ آپﷺ بقید حیات تھے، اور اس لیے بھی کہ انہوں نے آپ ﷺ کے بعد آپ کا جانشین مقرر کیا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی وراثت کا مطالبہ کیا۔ اور کسی صحابی، تابعی یا ان کے تبع تابعی ائمہ اربعہ میں سے کسی سے منقول نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی موت اور تدفین کے بعد لوگوں کے سامنے نکلے ہوں! پس جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ نبی ﷺ اپنی قبر سے لوگوں کے سامنے آتے ہیں تو وہ عقل سے پرے اور جھوٹا ہے، شیاطین نے اس کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ وہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ پر بہتان باندھ رہا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے جب کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ. ”محمد ﷺ صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہوچکے ہیں، کیا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا یہ شہید ہوجائیں تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤگے؟“۔ (سورۃ آل عمران:144) نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ. ”یقینا خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں“۔ (سورۃ الزمر:30)

یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی خبرِ وفات کو لوگوں کی موت سے جوڑا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ آپ ﷺ کی موت حقیقی موت ہے اور آپﷺ اس دنیا سے دارِ برزخ کی طرف منتقل ہوگئے ہیں، جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے سوائے میدانِ حشر کے حساب وکتاب اور جزا کے لیے اور وہ بھی بعث ونشر اور قبروں سے نکلنے کے بعد۔

جاہل اور عقل سے نابلد لوگ جو نبی ﷺ کے متعلق ان کی قبر سے نکلنے کا اعتقاد رکھتے ہیں ان کی تردید کے لیے امام قرطبی مالکی (وفات:656 ھ) کا قول بہت ہی مناسب ہے جسے انہوں نے اپنی کتاب ”المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم “ میں ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں:اس قول کے فاسد اور باطل ہونے کو بنیادی عقل سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس قول سے یہ لازم آئے گا کہ آپ ﷺ کو اسی صورت پر دیکھا جائے جس پر آپﷺ کی موت واقع ہوئی ہے اور (آپ ﷺ کو) ایک ہی وقت میں دو جگہوں پر دو دیکھنے والے نہ دیکھیں، اور یہ کہ آپ ﷺ اب زندہ ہوں اور اپنی قبر سے نکلیں، اور بازاروں میں چلیں اور لوگوں سے باتیں کریں اور لوگ آپﷺ سے باتیں کریں، نیز اس سے یہ لازم آئے گا کہ آپﷺ کی قبر آپﷺ کے جسم اطہر سے خالی ہو، اور آپﷺ کی کوئی چیز قبر میں باقی نہ ہو، چنانچہ (جب آپ ﷺ کی قبر کی زیارت کی جائے تو گویا) ایک خالی قبر کی زیارت ہوگی اور (آپﷺ کو سلام کیا جائے تو گویا) کسی غائب کو سلام کیا گیا، اس واسطے کہ جائز ہے کہ آپﷺ کو رات اور دن میں اتصالِ وقت کے ساتھ حقیقی طور پر اپنی غیر قبر میں آپ کو دیکھا جائے۔ اور یہ سب ایسی جہالت کی باتیں ہیں جنہیں ادنی عقل والا بھی تسلیم نہیں کرے گا۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ بدعت کسے کہتے ہیں؟ اس کی کتنی قسمیں ہیں؟ ہر ایک قسم کا حکم کیا ہے؟ اور کیا اسلام میں بدعت حسنہ بھی ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ بدعت یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی عبادت بغیر کسی شرعی دلیل کے کرے۔

اس کی دو قسمیں ہیں: (1) کفریہ بدعت: جیسے قبر والے کی قربت حاصل کرنے کے لیے قبر کا طواف کرنا۔

(2) غیر کفریہ بدعت: کہ بدعت کرنے والا گنہگار تو ہوتا ہے پر کافر نہیں ہوتا، جیسے نبی یا ولی کا میلاد اس طور پر منانا کہ اس میں شرکیات اور کفریات نہ ہوں۔

دینِ اسلام میں بدعت حسنہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ جس کی دلیل نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے: إِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ. ”دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے“۔ اور ایک روایت میں ہے: وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ. ”اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے“۔ (مسند احمد، نسائی)

بعینہ نبی ﷺنے کسی بھی بدعت کو مستثنی نہیں کیا ہے۔ اور ساری بدعتیں حرام ہیں اور بدعتیوں کو کوئی اجر نہیں ملے گا کیونکہ یہ شریعت پر استدراک اور دین میں ایک اضافی چیز ہے، جب کہ دین کامل اور تمام ہو چکا ہے۔ پس بدعت بدعتی پر مردود ہے، جس کی دلیل نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ. ”جس نے کوئی ایسا کام کیا جس کی بابت ہمارا کوئی حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے“۔ (صحیح مسلم) اسی طرح نبی ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ. ”جس نے ہمارے دین میں از خود کوئی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے“۔ (متفق علیہ)

نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ ”ہمارے امر“ سے مراد دین اسلام ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ نبی ﷺ کا فرمان: مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا. (جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے اس کے (عمل) کا اجر وثواب ملے گا اور اس پر جو لوگ عمل کریں ان کے اجر کے برابر بھی اسے اجر ملتا رہے گا) اس سے کیا سمجھا جائے؟

ج: تو آپ کہیں: ”مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً“ یعنی جس نے کوئی ایسا عمل کیا جسے اسلام نے ثابت کیا پر لوگوں نے اسے بھلا دیا یا اس نے ایسی چیزوں کی دعوت دی جسے اسلام نے لایا پر لوگ اس سے جاہل رہے تو اسے ان تمام لوگوں کا اجر کے برابر اجر ملے گا جو اس کی اتباع کریں گے۔ کیونکہ اس حدیث کے وارد ہونے کا سبب لوگوں کو ان فقراء پرصدقہ کرنے کی دعوت ہے جو لوگوں سے دست سوال دراز کرتے تھے، اور جس ذات نے یہ فرمایا کہ:مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً(جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا)، اسی نے یہ بھی فرمایا کہ:كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ (ہر بدعت گمراہی ہے)

نیز سنت (طریقہ) کا مصدر کتاب وسنت ہے جب کہ بدعت کی کوئی اصل نہیں ہوتی نہ قرآن مجید میں اور نہ ہی سنت رسول ﷺ میں، بلکہ یہ تو صرف کچھ بعد کے لوگوں کی عقلوں کا استحسان (کسی شے کے متعلق حسن کا اعتقاد رکھنا) ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ تراویح کی نماز کے متعلق عمر رضی اللہ عنہ کا قول ”نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ“ (یہ بہترین بدعت ہے) اور عہدِ عثمان رضی اللہ عنہ میں جمعہ کے دن دوسری اذان کے ایجاد کرنےکا کیا مطلب لیا جائے؟

ج: تو آپ کہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کا قول ”نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ“ (یہ بہترین بدعت ہے) سے مقصود لغوی معنی ہے شرعی معنی نہیں، کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ کا قول تراویح کی نمازسے متعلق ہے جسے نبی ﷺ نے مسنون قرار دیا ہے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ کا فعل (نماز تروایح کے لیے لوگوں کو ایک امام کے پیچھے جمع کرنا) نبی ﷺ کے فعل کے موافق ہوا۔ اور نبی ﷺ کے فعل کو زندہ کرنا بدعت نہیں ہے بلکہ یہ سنت کی تجدید اور لوگوں کو متروکہ اور بھولی ہوئی سنت کی یاد دہانی کرنا اور شرعی فعل کی طرف بلانا ہے جس کی طرف رسول اللہ ﷺ نے دعوت دی ہے اور عملاً اسے کیا بھی ہے۔

رہا عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل تو آپ ﷺ نے دیگر خلفائے راشدین کے ساتھ عثمان رضی اللہ عنہ کی سنت کی اقتدا کی طرف دعوت دی ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ. (تم میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑلو)

خلفائے راشدین کے علاوہ دوسرے افراد اس درجہ کے نہ تھے کیونکہ نبی ﷺ نے سنت کو عثمان رضى الله عنہ اور خلفائے راشدین کی سنت کے ساتھ خاص کیا ہے اور ان کے علاوہ کا ذکر نہیں کیا، جب کہ صحابہ رضی اللہ عنہم لوگوں میں سب سے زیادہ بدعات اور دین میں نئی چیزوں کے ایجاد کرنے سے بچتے تھے۔ جیسا کہ صحابہ کرام میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قوم کے کچھ لوگوں سے کہا جنہوں نے خیر کی نیت سے دین میں ایک چیز ایجاد کی اور وہ لوگ معین ایجاد کردہ طریقے سے اجتماعی طور پر اللہ کا ذکر کرنے لگے، تو اس وقت انہوں نے کہا تھا: ”تم محمد ﷺ اور ان کے صحابہ کے علم سے آگے بڑھ گئے یا ناحق تم نے بدعت ایجاد کرلی“۔ اور جب ان لوگوں نے کہا کہ ” ہمارا ارادہ خیر کا ہے“ تو ان سے فرمایا: ”ہر کوئی ایسا نہیں ہے کہ وہ خیر کا ارادہ کرے اور خیر کو پالے“۔ (سنن دارمی)

اور اکثر بیشتر آپ رضی اللہ عنہ اپنی مجلسوں میں یہ کہا کرتے تھے: ”اتباع کرو اور بدعت سے گریز کرو“۔

اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہر بدعت گمراہی ہے اگرچہ لوگ اسے اچھا سمجھیں“۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا جشن میلاد النبی منانا سنت ہے یا بدعت؟

ج: تو آپ کہیں کہ میلاد النبی کے جشن کا ذکر کتاب وسنت میں نہیں ہے لہذا اس کے کرنے پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہے اور نہ اس کا ثبوت صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی صحابی سے ملتا ہے اور نہ ہی ائمہ اربعہ میں سے کوئی اس کے قائل ہیں۔ اگر یہ خیر اور طاعت کے کاموں میں سے ہوتا تو وہ ہم سے پہلے اس کی طرف سبقت کرتے۔

جشن کرنے والے کہتے ہیں کہ جشن میلاد النبی کا انعقاد ہم آپﷺ کی محبت کے اظہار میں کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی محبت ہر مسلمان پر فرض عین ہے، مسلمان کا ایمان نبی ﷺ کی محبت کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا۔ (جبکہ) نبی ﷺ کی محبت کا اظہار صرف اور صرف آپ ﷺ کی اطاعت سے ممکن ہے جشن میلاد سے نہیں۔

سب سے پہلے اس بدعت کا ارتکاب عُبیدیوں نے کیا جو باطنی اور زنادقہ میں سے تھے اور وہ اپنے آپ کو فاطمی کہتے تھے اور یہ سب نبی ﷺ کی وفات کے چار سو سال بعد ہوا۔ اور جشنِ میلاد منانے والے میلاد کا انعقاد بروز دوشنبہ کرتے ہیں جب کہ اسی روز آپ ﷺ کی وفات بھی ہوئی ہے، در اصل حقیقت یہ ہے کہ ’جشن میلاد النبیﷺ‘ عیسائیوں کے ’جشن میلاد عیسی علیہ السلام‘ (کرسمس) کی مشابہت ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بدعات وخرافات اور گمراہ لوگوں کی گھڑی ہوئی چیزوں سے صاف ستھری، پاکیزہ اور کامل واکمل شریعت دے کر بے نیاز کردیا ہے۔ ساری تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ جادو سیکھنے یا اس پر عمل کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ جادو سیکھنا اور سکھانا جائز نہیں ہے، نیز اس پر عمل کرنا کفر ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآَخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ. ”اور وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے۔اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پر جو (جادو) اتارا گیا تھا وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو (جادو سیکھ کر) کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور در اصل وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ لوگ وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پنہچاسکے اور بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کررہے ہیں“۔ (سورۃ البقرة:102)

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ. کہ ”یہ جبت اور باطل معبود پر ایمان رکھتے ہیں“۔ (سورة النساء:51)

جِبْت: اس کی تفسیر جادو سے کی گئی ہے۔ اور اللہ نے جادو کو طاغوت سے ملایا ہے، تو جس طرح طاغوت پر ایمان کفر ہے، اسی طرح جادو کا عمل بھی کفر ہے، پس طاغوت کے انکار کے لوازم میں سے جادو کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھنا ہے اور یہ کہ جادو خبیث اور دین ودنیا دونوں کو برباد کرنے والا ہے، اس سے بچنا نیز جادو اور جادو کرنے والوں سے براءت ظاہر کرنا واجب ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ. ”اور گرہ (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)“۔ (سورۃ الفلق:4)؛ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ...الخ ”سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو“۔ پس آپ ﷺ نے ان مہلک اشیاء میں جادو کو بھی ذکر کیا۔

ایک اور حدیث میں ہے: مَنْ عَقَدَ عُقْدَةً ثُمَّ نَفَثَ فِيهَا فَقَدْ سَحَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَحَرَ فَقَدْ أَشْرَكَ. ”جس نے گرہ لگا کر اس میں پھونک ماری اس نے جادو کیا، اور جس نے جادو کیا اس نے شرک کیا“۔ (نسائی)

اور مسند بزار میں یہ روایت ہے: لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ، أَوْ تُطِيَّرَ لَهُ أَوْ تَكَهَّنَ، أَوْ تُكِهِّنَ لَهُ أَوْ سَحَرَ، أَوْ سُحِرَ لَهُ. ”وہ ہم میں سے نہیں ہے جس نے بدفالی لی یا جس کے لیے بدفالی لی گئی، یا جس نے غیب کی خبریں بیان کی، یا جس کے لیے غیب کی خبر بیان کی گئیں یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گیا“۔

جادوگر کی سزا قتل ہے، عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے حکمرانوں کو لکھا: أن اقتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَسَاحِرةٍ. ”ہر جادوگر اور جادو گرنی کو قتل کرو“۔ (صحیح بخاری)

اسی طرح جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حَدّ السَاحِر ضَرْبَةٍ بِالسَّيْفِ.”جادوگر کی حد اسے تلوار سے قتل کرنا ہے“۔(ترمذی)

نیز حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک لونڈی کو اپنے اوپر جادو کرنے کی وجہ سے قتل کیا تھا۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ شعبدہ باز جو کرتب دکھاتے ہیں مثلاً اپنے آپ کو نیزہ مارنا اور سخت مواد (پتھر وغیرہ) کھانا جادو اور شعبدہ بازی ہے یا کرامت ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ مذکورہ کرتب جسے شعبدہ باز دکھاتے ہیں ان میں شیاطین کا تعاون ہوتا ہے اور بعض شعبدہ باز لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیتے ہیں، پس انہیں غیر حقیقی چیز حقیقی نظر آتی ہے، جیسا کہ جادوگروں نے موسی علیہ السلام اور ان لوگوں کے ساتھ کیا تھا جو واقعہ کا مشاہدہ کر رہے تھے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے کہ موسی علیہ السلام کو خیال گزرنے لگا کہ جادوگروں کی رسیاں دوڑتی نظر آرہی تھیں، جب کہ حقیقت میں وہ دوڑ نہیں رہی تھیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى. ”موسی کو یہ خیال گزرنے لگا کہ (ان کی رسیاں اور لکڑیاں) ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں“۔(سورۃ طه:66) اور اگر شعبدہ بازوں کے پاس آیت الکرسی اور معوذتین، سورہ فاتحہ اورسورہ بقرہ کی آخری آیتیں اور اس کے علاوہ آیات پڑھی جائیں تو اللہ کی اجازت سے جادو اور شعبدہ بازی باطل ہوجائے گی اور شعبدہ بازوں کا کھوٹ اور دجل کھل جائے گا اوران کا باطل اور جھوٹ لوگوں کے سامنے عیاں ہوجائے گا۔

جب کہ کرامت نیک، موحِّد اور بدعات وخرافات سے پاک لوگوں کے ساتھ خاص ہے۔ اور کرامت کا مطلب مومن کے لیے خیر کا حصول یا اس سے شر کو دفع کرنا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ ان مومنوں سے افضل ہے جن کے ہاتھوں کسی کرامت کا ظہور نہیں ہوتا۔ نیز کرامت کے معاملہ کو چھپایا جائے نہ کہ اس کی تشہیر کی جائے، نہ ہی یہ جائز ہے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کا مال کھایا جائے اور لوگوں کو دھوکہ دیا جائے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ جادوگر کے پاس بغرض علاج جانے کا کیا حکم ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ جادوگر یا جادوگرنی کے پاس معلومات لینے اور ان سے علاج کرنے کے لیے جانا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے اس سے روکا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے نُشرۃ یعنی جادو کا توڑ جادو کے ذریعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ شیطانی عمل ہے“ یعنی جادو کا توڑ جادو کے ذریعہ۔ (ابوداؤد)

کوئی بھی شیطانی عمل جائز نہیں ہے اور نہ اس سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان سے خیر کی امید لگائی جاسکتی ہے۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ جادو میں مبتلا ہونے سے قبل اس سے کیسے بچا جاسکتا ہے اور اس میں مبتلا ہونے کے بعد علاج کا کیا طریقہ ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ صبح وشام کے اذکار کی پابندی کے ذریعہ اور خاص کر یہ دعا: بسمِ اللهِ الَّذِيْ لا يَضُرُّ مَعَ اِسِمِہِ شَیْءٌ في الأرضِ ولا في السماءِ وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ. ”اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین وآسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے“۔ تین تین بار صبح وشام پڑھنا۔ اسی طرح اس دعا کا اہتمام کرنا: أعوذُ بكلماتِ اللهِ التاماتِ مِنْ شَرِّ ما خَلَقَ. ”میں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ ان تما م چیزوں کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جو اس نے پیدا کی ہیں“۔ نیز اہل وعیال کو اس دعا کے ذریعہ اللہ کی پناه میں دینا: أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ. ”میں تم کو ہر شیطان اور زہریلا جانور سے اور ہر لگ جانے والی نظر سے اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ پناہ دیتا ہوں“۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔ اسی طرح سورہ اخلاص اور معوذتین تین تین بار صبح وشام پڑھنا۔ اور آیت الکرسی اور سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھنا اور صبح کے وقت سات عدد کھجور کھانا۔

جادو میں مبتلا ہونے کے بعد: جادو کیے ہوئے شخص پر فوراً قرآنی آیات اور سنت نبویہ میں وارد دعائیں پڑھنے، پچھنا لگوانے اور جن مواد کے ساتھ جادو کیا گیا ہے ان کے ظاہر ہوجانے کے بعد اسے مٹا دینے سے عنقریب جادو باطل ہوجائے گا اور جادو زدہ شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے شفایاب ہوجائے گا۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا غیب اور مستقبل کی خبریں بتانے والوں، جادو گروں، پیالہ اور ہتھیلی پڑھنے والوں اور ستاروں اور آسمانی برجوں کی معرفت کے ذریعہ مستقبل کی خبریں جاننے کا دعوی کرنے والوں کے پاس جانا جائز ہے؟

ج: تو آپ کہیں: ان کے پاس جانا، ان سے سوال کرنا، ان کی جھوٹی باتیں سننا ہمارے اوپر حرام ہیں سوائے ان قادر علماء کے جو ان کے جھوٹ کا بھانڈا پھوڑنے، ان کے دجل وفریب کو ظاہر کرنے اور ان کے باطل عقائد ونظریات کا پردہ فاش کرنے کے لیے جانا چاہیں۔ ہر غیب کے مدعی سے بچنا اور ان کے فریب سے غافلوں کو بچانا واجب ہے، ہائےاس کی بربادی جس نے ان کی جھوٹی اور باطل باتوں اور ان کے اٹکل پچو کی تصدیق کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: مَنْ أَتَى عَرَّافًا أَوْ كَاهِنًا، فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ”جو شخص کسی قیافہ شناس یا کاہن (غیب کی خبریں بتانے والے) کے پاس آئے اور اس کی کہی ہوئی باتوں کو سچ مانے تو یقیناً اس نے محمد ﷺ پر نازل کردہ چیزوں کا انکار کیا“۔ (سنن اربعہ)

نیز نبی ﷺ نے فرمایا: مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً. ”جو کسی قیافہ شناس کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرے، تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہ ہوگی“۔ (صحیح مسلم)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ آپ اس حدیث کے متعلق کیا کہتے ہیں ”تَعَلَّمُوا السِّحْرَ وَلَا تَعْمَلُوا بِهِ“ (جادو سیکھو لیکن اس پر عمل نہ کرو)؟

ج: تو آپ کہیں کہ یہ حدیث رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ اور بہتان ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ آپﷺ جادو سے منع کریں اور پھر اس کے سیکھنے کی اجازت بھی دیں؟!

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ انبیاء کے بعد سب سے افضل انسان کون ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ ابنیاء علیہم السلام کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم سب سے افضل ہیں، وہ اس لیے کہ جب ہمارے نبی محمد ﷺ انبیاء میں سب سے افضل ہیں تو آپﷺ کے صحابہ تمام نبیوں کے اصحاب سے افضل ہوئے۔ اور صحابہ میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اس لیے کہ نبیﷺ نے فرمایا: مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ عَلَى أَفْضَلَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ. ”انبیاء ورسل کے بعد ابو بکر سے افضل شخص پر سورج نہ ہی طلوع ہوا ہے اور نہ غروب“۔

ان کے بعد عمر رضی اللہ عنہ ہیں پھر عثمان رضی اللہ عنہ اور پھر علی رضی اللہ عنہ، ان کے بعد باقی عشرہ مبشرہ ہیں۔

صحابہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، اسی لیے علی رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد کا نام اپنے سے قبل خلفاء کے نام پر رکھا، آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد کے ناموں میں سے ابوبکر، عمر اور عثمان ہے اور وہ شخص جھوٹا ہے جو یہ کہتا ہے کہ صحابہ آل بیت کے مومنوں سے محبت نہیں کرتے تھے اور نہ آل بیت صحابہ سے محبت کرتے تھے۔

یہ سب آل بیت اور صحابہ رضوان الله عليهم کے دشمنوں کی افترا پردازیاں ہیں۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق ہم پر کیا واجب ہے؟ اور ان میں سے کسی ایک کو بھی گالی دینے کا کیا حکم ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرنا ،ان کا احترام کرنا، ان کی تعظیم کرنا اور ان سب سے راضی ہونا واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالی ان سے راضی ہے، اور اپنی رضامندی کے تئیں اللہ تعالی نے کسی بھی صحابی کو مستثنی نہیں کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ. ”اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے“۔ (سورۃ التوبة:100)؛ نیز فرمان الٰہی ہے: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ. ”یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جب کہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے“۔ (سورۃ الفتح:18)

اسی طرح ایک دوسرے مقام پر فرمان الٰہی ہے: وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى. ”اور بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ کا ان سب سے ہے“ (سورۃ الحديد:10)

امہات المومنین رضی اللہ عنہن سے بھی محبت کرنا اور ان کا احترام کرنا واجب ہے، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی گالی دینا حرام ہے کیونکہ یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ. ”اور پیغمبروں کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں“۔ (سورة الأحزاب:6) اور نبی ﷺ کی ساری بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کسی کا استثنا نہیں کیا ہے۔ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہے، کہتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ. ”میرے صحابہ کو گالی مت دو کیونکہ اگر تم میں کا کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے مد یا آدھے مد کے برابر نہیں ہوسکتا“۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

صحابہ کرام کے اس شرف وفضل اور عمدہ مقام ومنزلت کے حصول پر تعجب کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ انہوں نے اللہ کے دین کے لیے اپنی جان ومال کی قربانی دی اور رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی مخالفت کرنے والوں سے جنگ کی خواہ وہ کوئی قریبی ہو یا پھر کوئی دور کا، انہوں نے اہل وعیال کو چھوڑا، اور اللہ کے راستے میں اپنے وطن سے دوسری جگہ ہجرت کر گئے اور یہ ہر خیر اور ہر فضل کا سبب ہیں جس سے قیامت تک امت مستفید ہوگی، انہیں اپنے بعد آنے والے تمام مومنوں جیسا اجر ملتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالی زمین اور اس پر موجودہ چیزوں کاوارث ہو جائے، گزشتہ امتوں میں نہ ان جیسا کوئی ہوا اور نہ ہی بعد میں کوئی ان کی طرح ہوگا۔ اللہ ان سے راضی ہو اور انہیں راضی کرلے۔

بربادی اور ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ان سے دشمنی کی، انہیں گالی دی، ان پر طعن وتشنیع کی اور ان میں سے کسی کی عزت پر کیچڑ اچھالا۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ نبی ﷺ کے صحابہ یا امہات المومنین میں سے کسی ایک کو گالی دینے والے کی کیا سزا ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ اس کی سزا لعنت، پھٹکار اور اللہ کی رحمت سے دوری ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ. ”جس نے میرے اصحاب کو گالی دی اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے“۔ (طبرانی)

جو کسی صحابی یا امہات المومنین رضوان الله عليهم أجمعين میں سے کسی ایک کو بھی گالی دے اس پر شدت سے انکار کرنا واجب ہے۔ حاکم وقت اور مجاز حکام پر واجب ہے کہ وہ اس قسم کی حرکت کرنے والوں کے ساتھ سخت تادیبی کاروائی کریں اور انہیں سخت سزا دیں۔

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا وحدتِ ادیان کا اعتقاد رکھنا جائز ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ اس قسم کا قول واعتقاد جائز نہیں ہے۔ یہ کفر کی عظیم ترین قسم ہے۔ اس میں اللہ کی تکذیب اور اس کے حکم کو ٹھکرانا اور کفر وایمان اور حق وباطل کے درمیان برابری اور مصالحت ہے۔ کوئی عاقل شخص اللہ کے دین اور شیاطین کے دین کے درمیان برابری کے بطلان میں شک کیسے کرسکتا ہے؟

توحید وشرک اور حق وباطل ایک ساتھ کس طرح جمع ہوسکتے ہیں؟ دین اسلام ہی حق ہے اور اس کے سوا ادیان باطل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل اور اپنی نعمتیں پوری کردی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا. ”آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا“۔ (سورۃ المائدة:3)۔

لہذا دین میں کمی، زیادتی، یا مذاہب کفر اور شیطانی ادیان وغیرہ کو دین اسلام کے برابر کرنا یا اس کے ساتھ جمع کرنا جائز نہیں ہے، اور اس کے جواز کا کوئی بھی عقلمند مسلمان اعتقاد نہیں رکھ سکتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآَخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ.”جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے، تو اس کا وہ دین ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا“۔ (سورۃ آل عمران:85)۔

نیز نبی ﷺ نے فرمایا: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ. ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اس امت کا کوئی یہودی اور نصرانی ایسا نہیں ہے جو میرے متعلق سنے پھر مجھے دی ہوئی چیزوں پر ایمان لائے بغیر مرجائے مگر وہ جہنمی ہوگا“۔ (صحیح مسلم)

 س: جب آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ اللہ اور اس کی توحید پر ایمان رکھنے اور اس کے رسول ﷺ کی سنت پر پابند رہنے کا کیا فائدہ ہے؟

ج: تو آپ کہیں کہ ایمان کی وجہ سے فرد، جماعت اور امت کے لیے آسمان اور زمین کی برکتوں کا کھل جانا متحقق ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آَمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ. ”اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا“۔ (سورة الأعراف:96)

اسی طرح حقیقی ایمان اختیار کرنے سے انشراح صدر اور دل ودماغ کو اطمینان وسکون حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: الَّذِينَ آَمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ. ”جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے“۔ (سورة الرعد:28)

مومن اپنے رب کا موحد، اس کے رسولﷺ کی سنت کا حقیقی اور سچا متبع ہو کر بہترین زندگی گزارتا ہے، وہ خوشحال ہوتا ہے، اس کا دل مطمئن رہتا ہے، وہ تنگ دل نہیں ہوتا اور نہ رنجیدہ ہوتا ہے۔ وسوسے، دھمکیاں اور رنج وملال کے ذریعہ شیاطین اس پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتے، نہ تو وہ مایوسی کا شکار ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اپنی دنیوی زندگی میں پریشان ہوتا ہے۔ نیز وہ اپنی اخروی زندگی میں نعمت والے باغوں میں خوش وخرم ہوگا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ. ”جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا کریں گے اور ان کے نیک عمل کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور دیں گے“۔ (سورة النحل:97)

تو اے میرے مسلمان بھائی اور میری مسلمان بہن! اس بات کی کوشش کریں کہ آپ اس خوشخبری کو حاصل کرنے والوں میں سے ایک بنیں، جو ان لوگوں میں داخل ہیں جن سے یہ معزز ربانی وعدہ کیا گیا ہے۔

 خاتمہ

میرے محترم بھائی اور میری محترم بہن!

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے لیے دین کو مکمل کیا، ہم پر بھرپور نعمت کی اور ہمیں دین اسلام کی توفیق دی، جو دینِ حق ، دینِ توحید اور دنیوی اور اخروی سعادت کا دین ہے۔

معزز بھائی! کتاب وسنت سے ماخوذ شرعی علم کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا جو فہم صحابہ رضی اللہ عنہم کے موافق ہو ضروری امور میں سے ہے، تاکہ ہم ان لوگوں میں سے ہوجائیں جو بصیرت کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اور ہم شبہات اور گمراہ کن فتنوں میں پڑنے سے محفوظ رہ سکیں، اور ہر کوئی شخص چاہے جس بلند درجے پر فائز ہو اسے علم کے حصول کا حکم دیا گیا ہے اور وہ اس کا حاجت مند بھی ہے۔

اور یہ آپ کے نبی (محمد) ﷺ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم کے حصول کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. ”آپ جان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں“۔ (سورۃ محمد:19) نیز اپنے رب سے مزید علم کا سوال کرنے کی طرف راہنمائی کی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا. ”اور دعا کر کہ پروردگار میرا علم بڑھا“۔ (سورۃ طه:114)

تو اے توفیق سے نوازے گئے شخص اپنے نبی اور اپنے امام محمد ﷺ کے طریقے پر چل،اور خیر اور دنیا وآخرت میں سربلندی کی خوشخبری قبول کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آَمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ. ”اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جو علم دئے گئے ہیں درجے بلند کردے گا“۔ (سورۃ المجادلة:11)

اور حصول علم کے بعد اپنے علم پر عمل کرنے والوں میں سے بنیں ،اور خیر وعلم کے نشر کرنے میں جد وجہد کریں تاکہ آپ بھی نیک اور لوگوں کی اصلاح کرنے والوں میں سے ہوجائیں اور تاکہ آپ کو ان لوگوں کا بھی اجر ملے جنہیں آپ نے دعوت دی ہے، نیز آپ کے لئے اس شخص کے اجر وثواب کے برابر اجر لکھا جائے جس نے آپ کی دعوت قبول کی ہے۔ فرائض کی ادائگی کے بعد سب سے افضل عمل علم اور خیر کی دعوت کو عام کرنا ہے۔

لوگوں کو حق کی طرف بلانے والوں کا اثر عظیم ترین ہے، یہ لوگ اللہ کی اجازت سے جہالت، گمراہی اور خرافات میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو بچانے والے، اور لوگوں کو ان کا ہاتھ پکڑ کر سلامتی، نور، ہدایت اور جنت کے راستہ پر لانے والے ہیں۔

وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔