• PDF

    بے شک شریعت کے ماموربہ تمام اعمال میں نیت اورقصد الہی کا پایا جانا ضروری ہے، اگر عمل میں خلوص وللہیت پائی جائے گی تو وہ رب کے یہاں مقبول ہوگا،ورنہ وہ ضائع وبرباد ہو جائے گا۔ ؛کیونکہ نیت عمل کی روح اور مغز ہےِ،اورعمل کی درستگی نیت کی اصلاح و درستگی پر منحصر ہے۔ امام ابن قیّم الجوزیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"... عبادات سب نیّت پرہی موقوف ہیں۔کوئی فعل بغیر نیّت وقصد کے معتبرہوتا ہی نہیں،مثلاً کوئی شخص پانی کے تالاب یاکنویں میں اترا لیکن واجب غسل ادا کرنے کی نیّت سے نہیں اترا یا غسل خانہ میں گیا لیکن صرف مَیل دور کرنے کی غرض سے گیا ہے یا تیرنے اور ٹھنڈک حاصل کرنے کی غرض سے پانی میں اترا ہے تو نہ غسل ادا ہو گا نہ ثواب حاصل ہوگا،اور نہ عبادت میں یہ غسل داخل ہوگا کیونکہ اسکا قصد و نیّت یہ نہیں ،اس لئے اسے یہ حاصل نہ ہوگا۔ اورہرشخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے ۔ اگر کسی شخص نے دن بھر کچھ بھی نہ کھایا پیا لیکن بطورعادت کے یا بسبب کسی مشغولیت کے توظاہر ہے کہ اس کا روزہ نہ ہوگا،نہ اسے روزے کا ثواب ملے گا،کیونکہ اسکی نیّت نہیں، اگرکسی شخص کی کوئی چیزبیت اللہ میں گرپڑے اور اسے ڈھونڈتے ہوئے بیت اللہ شریف کے سات چکرلگاچکا تو اسے طواف کا ثواب ہرگزنہیں مل سکتا۔ اگر کسی فقیرکوہِبہ یا ہدیئے کی نیّت سے کوئی رقم دی توظاہر ہے کہ وہ زکاۃ میں شمار نہ کی جائے گی۔ اگرمسجد میں ہی بیٹھا رہا لیکن بہ نیّت اعتکاف نہیں بیٹھا توظاہرہے کہ اعتکاف نہ ہوگا۔ پھر جیسے کہ یہ چیزجائزہونے اور حکم برداری میں معتبر ہے ثواب وعذاب میں بھی اسکا پورا اعتبار رکھا گیا ہے،... پس یاد رکھوکہ نیّت روح عمل ہے ،نیت لبؔ ولباب عمل ہے ،نیّت ہی عمل کی جڑہے،عمل وقول نیت کے تابع ہیں۔ اس کی صحت سے صحت ہے اور اس کے فساد سے فساد ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث جس میں صرف دو کلمے ہیں۔ اس معاملہ میں ہر طرح اور ہر وجہ سے بالکل کافی شافی ہے۔ ہمیں کہنے دیجئے کہ جملہ علوم کے خزانے ان دو جملوں میں مخفی ہیں۔ فرماتے ہیں :"کہ تمام اعمال كا دارومدارنیتوں پرہیں،اورہرشخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے"۔ پہلے جملے میں تو بیان ہے کہ عمل نیّت کے ساتھ ہی واقع ہوتا ہے، کوئی عمل بلا نیّت ہوتا ہی نہیں۔ پھر دوسرے جملے میں بیان ہے کہ عامل کے لئے اس کے عمل سے وہی ہوتا ہے جو اس کی نیّت میں ہو۔ پس یہ فرمانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم تمام عبادات ،تمام معاملات،تمام قسمیں،تمام نذریں،تمام لین دین اورکل افعال کوشامل ہے"۔(اعلام الموقعین ، جلد دوم ،ص:۱۳۳) ۔ لہذا معلوم ہوا کہ تمام عبادات کی درستگی کیلئے نیت کا پا یا جانا ضروری ہے، اور نیت ہی کی بنیاد پر ان پر ثواب حاصل ہوسکتا ہے۔ پیش نظر کتاب ‘‘عبادات میں نیت کا اثر’’میں ریاض احمد محمد مستقیم ۔ حفظہ اللہ۔ نے کتاب وسنت اور اقوال سلف کی روشنی میں نیت کی اہمیت وفضیلت اور عبادات وغیرہ میں نیت کے اثرات کا عمدہ تذکرہ فرمایا ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اردو زبان میں نیت کے موضوع پرمستقل پہلی تصنیف ہے جسے قدیم وجدید مستند علمی مصادرومآخذ سے ترتیب دیا گیا ہے۔

  • PDF

    خضرعلیہ السلام کے نبی یا ولی ہونے اور ان کے اب تک زندہ رہنے نیز بعض لوگوں کے خضر علیہ السلام سے ملاقات کرنے اور خضر علیہ السلام کے ان کی رہنمائی کرنے کا مسئلہ عرصہ دراز سے موضوع بحث بنا ہوا ہے،اور لوگوں کے درمیان سیدنا خضر کے حوالے سے بے شمار بے تکی،غیر مستند اور جھوٹی کہانیاں زیر گردش ہیں۔ اس سلسلے میں عربی زبان میں اگرچہ کچھ کتابیں موجود ہیں ،لیکن اردو زبان کا دامن اب تک اس سے خالی تھا،اور اس امر کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ اس نازک موضوع پر اردو میں بھی کچھ لکھا جائےتاکہ لوگوں کے عقائد کی اصلاح کی جاسکے۔ مقام مسرت ہے کہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو انڈیا کے ایک عالم دین محترم جناب مولانا عبد اللطیف اثری حفظہ اللہ نے اس ضرورت کو محسوس کیا اور صحیح بخاری کے شارح علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی کتاب"الزھر النضر فی حال الخضر " کا اردو ترجمہ کر کے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے اس ترجمہ کا اردو نام " کیا خضرعلیہ السلام ابھی زندہ ہیں؟"رکھا ہے۔جس پر تحقیق ،تخریج اور تحشیہ کاکام شیخ صلاح الدین مقبول احمد ہندی نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں خضر کا قصہ، خضر کے بارے میں خلاصہ بحث، خضر سے کون مراد ہیں؟ خضر فرشتہ ہیں یا ولی یا نبی ؟،نبوت ورسالت پر ولایت کی برتری کی تردید،شارح العقیدہ الطحاویہ کی ایک نفیس بات، قرآن وحدیث سے نبوت خضر پر دلائل،استمرار حیات کا سبب اس کے قائلین کی نظر میں، استمرار حیات خضر کے قائلین کی آراء وغیرہ جیسی مباحث بیان کی ہیں۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف،مترجم ،محقّق اور تمام معاونین کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

فیڈ بیک