اصولِ ایمان

وصف

اصولِ ایمان

Download

کامل بیان

 اصولِ ایمان

تصنیف : امام مجدد شیخ الاسلاممحمد بن عبد الوہابرحمہ اللہ تعالی

 باب : اللہ عزّ وجلّ کی معرفت اور اُس پر ایمان

1- ابو ہریرہ -رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:{اللہ تعالی کا ارشاد ہے: میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔} [15]

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

2- ابوموسیٰ -رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے درمیان پانچ باتیں کہنے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا :

{اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور اس کے شایان شان بھی نہیں ہے کہ وہ سوئے۔ وہ ترازو کو پست اور بلند کرتا ہے۔ اس کی جانب، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اٹھایا جاتا ہے۔ اس کا پردہ نور ہے۔ اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کے انوار ان تمام مخلوقات کو جلا دیں، جن تک اس کی نگاہ پہنچے۔} [32]

اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔

3- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے :

{اللہ کا دایاں ہاتھ [37] بھرا ہوا ہے۔ خرچ کرنے سے اس میں کمی نہیں آتی[38]۔ اس کا فیض صبح و شام جاری ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے لے کر اب تک کتنا کچھ خرچ کیا؟ اس کے باوجود اس کے داہنے ہاتھ میں جو کچھ ہے، اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے۔ وہ اسے اٹھاتا اور جھکاتا ہے۔}

اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔

4- ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:{رسول اللہ ﷺ نے دو بکریوں کو ایک دوسرے کو سینگ مارتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: ابوذر کیا تمہیں معلوم ہے کہ کیوں یہ ایک دوسرے کو سینگ مار رہی ہیں؟ میں نے کہا: نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور عنقریب ہی ان کے مابین فیصلہ فرما دے گا۔} [39]اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

5- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: {اللہ کے رسول ﷺ نے یہ آیت {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا} [42] سے لے کر {إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا} [43] تک پڑھی۔ (اس کا ترجمہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ! اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو، تو عدل وانصاف سے فیصلہ کرو! یقیناً وه بہتر چیز ہے، جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ سنتا ہے، دیکھتا ہے۔) اُس وقت آپ ﷺ نے اپنے دو انگوٹھوں کو اپنے دونوں کانوں اور اس کے بعد والی انگلیوں کو اپنی دونوں آنکھوں پر رکھا ہوا تھا (تاکہ سماعت وبصارت کی طرف اشارہ کر سکیں)۔}

امام ابوداؤد، ابن حبان اور ابن ابی حاتم نے اسے روایت کیا ہے۔

6- ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{غیب کی کنجیاں پانچ ہیں، انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ رحم مادر میں کیا پل رہا ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب ہوگی، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون جگہ میں مرے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب ہوگی؟} [52]

اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

7- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{یقیناً جب اللہ کا کوئی بندہ اس کی طرف لوٹ آتا ہے، تو اس کو اپنے بندے کی توبہ پر اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے، جتنی خوشی تم میں سے کسی کو اس وقت ہوتی ہے، جب وہ بیاباں جنگل میں اپنی سواری پر سوار ہوکر سفر کر رہا ہو اور سواری گم ہو جائے، اُس کے کھانے اور پینے کا سامان بھی اسی پر ہو، پھر وہ سواری سے ناامید ہو کر ایک درخت کے پاس آئے اور اس کے سایہ میں لیٹ جائے کہ اب سواری نہیں ملے گی، وہ ابھی اپنی اسی حالت میں ہو کہ اچانک اپنی سواری کو اپنے پاس کھڑی پائے، تو اس کی نکیل پکڑ لے اور شدتِ مسرت میں بے ساختہ کہہ اٹھے : اے میرے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں! یعنی بے پایاں خوشی کی بنا پر الفاظ غلط بول جائے۔} [53]

اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔

8- ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

{الله تعالی رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے، تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے، تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے۔ (یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا) جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔} [54]

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

9- صحیحین میں عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:{رسول اللہ ﷺ کے پاس ہوازن قبیلے کے کچھ قیدی لائے گئے۔ دیکھا گیا کہ قیدیوں میں ایک عورت دوڑ رہی تھی کہ اتنے میں قیدیوں کے بیچ اسے ایک بچہ ملا، تو اسے اٹھا کر اپنے پیٹ سے لگا لیا اور دودھ پلانے لگی۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں سے پوچھا : کیا تم کو ممکن لگتا ہے کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے؟ ہم نے عرض کیا : اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ رحم کرنے والا ہے، جتنا یہ عورت اپنے بچے پر مہربان ہے۔} [55]

10- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{جب اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا کیا، تو ایک کتاب میں، جو اس کے پاس عرش پر موجود ہے، لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔} [56] .

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

11- صحیحین میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

{اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کیے۔ ان میں سے ننانوے حصے اپنے پاس روک لیے اور ایک حصہ زمین میں اتارا۔ اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک جانور بھی اپنا کھر اپنے بچے سے اٹھا لیتا ہے کہ کہیں اسے تکلیف نہ پہنچے۔} [59]

12- اسی معنی کی ایک حدیث صحیح مسلم میں سلمان کی روایت سے روایت سے موجود ہے، جس میں ہے:

{ہر رحمت زمین وآسمان کے درمیان واقع خلا جتنی عظیم ہے۔} [62] اُس حدیث میں یہ بھی ہے: {جب قیامت کا دن آئے گا، تو اللہ اسے اس رحمت کے ذریعے مکمل فرمادے گا۔} [62]

13- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{کافر جب کوئی نیک عمل کرتا ہے، تو اس کے بدلے میں دنیا ہی میں اسے رزق دے دیا جاتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالی مؤمن کی نیکیوں کو آخرت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں اور اس کی نیکی پر اسے دنیا میں بھی رزق دیتے ہیں۔} [64]

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

14- صحیح مسلم میں انس رضی اللہ عنہ ہی سے مرفوعًا روایت ہے:

{اللہ تعالیٰ بندے کی اس بات سے راضی ہوتا ہے کہ وہ لقمہ کھائے اور اس پر اللہ کی حمد و ثنا کرے اور پانی کا گھونٹ پیے اور اس پر اللہ کی حمد و ثنا کرے۔} [65]

15- ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{آسمان چرچرا اٹھا اور اس کا چرچرانا بجا بھی ہے۔ اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں، جہاں کوئی فرشتہ اللہ کے حضور اپنا سر سجدہ ریز کیے ہوئے نہ ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم اس چیز کو جان لو، جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنسو کم اور رؤو زیادہ اور تم بستروں پر اپنی عورتوں سے لذت حاصل کرنا چھوڑ دو اور اللہ سے نالہ و فریاد کرتے ہوئے راستوں میں نکل پڑو۔} [67] .

اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے۔

آپ ﷺ کا فرمان: {اگر تم اس چیز کو جان لو، جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنسو کم اور رؤو زیادہ۔} [68] صحیحین میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [69]

16- صحیح مسلم میں جندب رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

{ایک شخص بولا کہ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا۔ تو اللہ عزّ وجلّ نے فرمایا کہ وہ کون ہے، جو قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ میں نے اس کو بخش دیا اور (جس نے قسم کھائی تھی) اس کے سارے اعمال ضائع کر دیے۔} [70]

17- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

{اگر مؤمن یہ جان لے کہ اللہ کے یہاں کس قدر عذاب ہے، تو کوئی اس کی جنت کی امید نہ رکھے اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کس قدر وسیع ہے، تو کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو۔} [71]

18- صحیح بخاری میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

{جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔} [72]

19- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

{ایک فاحشہ عورت نے گرمی کے دنوں میں ایک کتے کو ایک کنویں کے گرد چکر لگاتے دیکھا، جس نے پیاس کی وجہ سے زبان باہر نکال رکھی تھی۔ چنانچہ اس نے اپنے موزے میں پانی لے کر اسے پانی پلایا، تو اس کی بخشش کردی گئی۔} [75]

20- آپ ﷺ نے مزید فرمایا : {ایک عورت صرف اس لیے جہنم چلی گئی کہ اس نے ایک بلی کو قید کر رکھا تھا۔ اس نے نہ تو اسے کھانے کو کچھ دیا اور نہ چھوڑا کہ زمین کے چھوٹے موٹے جانوروں سے پیٹ بھر لیتی۔} [76]۔

زہری کہتے ہیں: تاکہ کوئی بھروسہ کرکے نہ بیٹھ جائے اور کوئی مایوس نہ ہو۔ [77]

اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔

21- اور انہیں سے مرفوعًا روایت ہے:

{میرے رب کو ایسے لوگوں پر تعجب ہوا، جو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے [79] جنت کی طرف لے جائے جاتے ہیں۔} [80]اسے احمد اور بخاری نے روایت کیا ہے۔22- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:{تکلیف دہ باتوں کو سُن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ لوگ اس کے بیٹا ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور وہ اس کے باوجود ان کو عافیت کے ساتھ رکھتا اور ان کو رزق دیتا ہے۔} [81] .

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

23- صحیح بخاری ہی میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{بے شک اللہ تبارک تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے، تو جبریل علیہ السلام کو پکار کر فرماتا ہے کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے، پس تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر جبریل آسمان میں پکار کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے، پس تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد زمین والوں کے دلوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے۔} [82]

24- جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ نے چودھویں کی رات میں چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا:

{تم عن قریب ہی اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے، جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور تمہیں اسے دیکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ اس لیے اگر تمہارے مقدور میں مقدور میں ہو کہ طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب کے بعد کی نمازوں پر کسی چیز کو حاوی نہ ہونے دو، تو ایسا ضرور کرو۔} [84]اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت کریمہ پڑھی: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} [85] (اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔)[سورہ طه : 130].

اس حدیث کو محدثین کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔

25- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

{اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس شخص نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میرا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ میرا بندہ جن چیزوں سے مجھ سے قریب ہوتا ہے، ان میں سب سے محبوب وہ چیزیں ہیں، جو میں نے اس پر فرض کی ہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، تو پھر مَیں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں، اگر وہ کسی چیز سے میری پناہ چاہتا ہے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔ کسی چیز کے کرنے میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا، جتنا تردد مؤمن کی روح قبض کرنے پر ہوتا ہے، جو موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اسے غمگین کرنا نا پسند ہوتا ہے۔ لیکن اسے اس مرحلے سے گزرنا ہی ہوتا ہے۔} [87]

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

26- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

{ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات، جب کہ رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جا تا ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے: کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں؟ کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں؟} [88]۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم

27- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں۔ جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر حائل ہو گی، جو دیدار سے مانع ہو گی۔} [89] .

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

 باب : فرمانِ باری تعالیٰ {حَتَّىٰ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا الْحَقَّ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ۔} (یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وه بلند وباﻻ اور بہت بڑا ہے۔) [94] [سورہ سبأ : 23]

28- ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اصحابِ رسول ﷺ میں سے ایک انصاری آدمی نے مجھ سے حدیث بیان کی کہ وہ ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک ستارا ٹوٹا اور بڑی چمک پیدا ہو‏گئی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:"جب اس طرح تارے ٹوٹتے تھے، تو اس کے بارے میں تم کیا کہتے تھے؟‘‘انہوں نے کہا: ہم کہتے تھے کہ آج کی رات کوئی بڑا آدمی پیدا ہوا ہے یا کوئی بڑا آدمی فوت ہوا ہے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا:"ستارہ کسی کے مرنے یا پیدا ہونے پر نہیں ٹوٹتا۔ دراصل ہوتا یہ ہے کہ ہمارا رب عزّ وجلّ جب کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے، تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح پڑھتے لگتے ہیں۔ پھر ان کی آواز سن کر ان کے پاس والے آسمان کے فرشتے تسبیح بیان کرنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ تسبیح کا سلسلہ آسمانِ دنیا والوں تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر جو لوگ عرش اٹھانے والے فرشتوں سے قریب ہوتے ہیں، وہ ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ تو وہ ان کو اللہ کی کہی ہوئی بات سے باخبر کرتے ہیں۔ اسی طرح آسمان والے ایک دوسرے سے دریافت کرتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ خبر آسمانِ دنیا والوں تک آتی ہے، تو جن ان سے چوری چھپے سن لیتے ہیں اور اپنے دوستوں کو آ کر سنا دیتے ہیں۔ اب یہ لوگ جتنا ہو بہو بتاتے ہیں، وہ صحیح ہوتا ہے، لیکن یہ اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں۔" [95] [96] .

اسے امام مسلم، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

29- نوّاس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{جب اللہ تعالی کسی کام کے سلسلے میں وحی کا ارادہ فرماتا ہے، تو وحی کے الفاظ بولتا ہے۔ اس پر اللہ کے خوف کی وجہ سے آسمانوں پر شدید لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ یا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ جب آسمان والے اس وحی کو سنتے ہیں، تو ان پر غشی طاری ہو جاتی ہے اور وہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ پھر سب سے پہلے جبریل علیہ السلام اپنا سر اٹھاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالی اپنی وحی پر مشتمل جو کلام چاہتا ہے، ان سے فرماتا ہے۔ پھر جبریل کا گزر فرشتوں کے پاس سے ہوتا ہے۔ وہ جب بھی کسی آسمان پر سے گزرتے ہیں، تو اس آسمان کے فرشتے ان سے پوچھتے ہیں: اے جبریل! ہمارے رب نے کیا فرمایا؟ جبریل علیہ السلام جواب دیتے ہیں: اللہ نے حق ہی فرمایا اور وہ بلند و برتر ہے۔ پھر سارے فرشتے جبریل کی بات کو دوہرانے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ جبریل علیہ السلام وحی لے کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں، جہاں تک کا حکم اللہ عزّ وجلّ نے انھیں دیا ہوتا ہے۔} [98]

اسے ابن جریر، ابن خزیمہ، طبرانی اور ابن حاتم نے روایت کیا ہے اور الفاظ ابن ابو حاتم کے ہیں۔

 باب : فرمانِ باری تعالیٰ: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ۔} (اوران لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے، جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔)[99] [ سورہ الزمر: 67]

30- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے:

|اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مُٹھی میں کر لے گا، آسمان کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور کہے گا: میں بادشاہ ہوں؛ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟) [100] اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

31- ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:{اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمینوں کو مُٹھی میں پکڑ لے گا اور آسمان اُس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے۔ پھر فرمائے گا: میں ہی بادشاہ ہوں!} [101]32- ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی کی ایک روایت میں ہے: {اللہ کے رسول ﷺ نے ایک دن منبر پر یہ آیت پڑھی:{وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ۔} [102] (اوران لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے، جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔)یہ آیت سناتے وقت اللہ کے رسول ﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے۔ اسے ہلا رہے تھے اور آگے پیچھے کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: "اللہ اپنی بزرگی اور عظمت بیان کرتے ہوئے کہے گا کہ میں ہی ‏زور آور ہوں، میں ہی بڑائی کا مالک ہوں، میں ہی ‏‏‏‏‏طاقت ور ہو اور میں ہی شرافت و نجابت کا مالک ہوں۔" اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا منبر آپ کو لے کر ڈولنے لگا۔ یہاں تک کہ ہم کہنے لگے کہ کہیں آپ ﷺ منبر سے گِر نہ پڑیں!

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

33 - جب کہ امام مسلم نے اسے عبیداللہ بن مقسم سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا کہ وہ کس طرح اللہ کے رسول ﷺ سے کس طرح حدیث نقل کر رہے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:

{اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہی بادشاہ ہوں! آپ ﷺ یہ کہتے ہوئے اپنی انگلیاں کھول اور بند کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ’’میں ہی بادشاہ ہوں۔‘‘ یہاں تک کہ میں نے منبر کی طرف دیکھا، جو نیچے سے ہِل رہا تھا۔ یہاں تک کہ میں کہنے لگا کہ منبر رسول اللہ ﷺ کو لے کر گِر جائے گا کیا ؟!} [103] .

34- صحیحین میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{اے بنو تمیم! بشارت قبول کرلو۔

انھوں نے جواب دیا کہ بشارت تو آپ ہمیں دے چکے۔ کچھ مال بھی دیجیے!

آپ نے فرمایا: اے یمن والو! (بنو تمیم کے لوگوں نے تو خوش خبری قبول نہیں کی، لہذا) تم بشارت قبول کر لو۔

انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا۔ آپ ہمیں بتائیں کہ سب سے پہلے کس چیز کی تخلیق عمل میں آئی؟

آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ ہر چیز سے پہلے موجود تھا۔ اُس وقت اُس کا عرش پانی پر تھا۔ اُس نے لوحِ محفوظ میں ہر چیز کی تفصیل لکھ دی ہے۔

اتنے میں ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ عمران! تمہاری اونٹنی رسی توڑ کر بھاگ گئی ہے۔

(عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) چنانچہ میں اس کی تلاش میں نکل پڑا۔ اس لیے مجھے نہیں معلوم کہ میرے جانے کے بعد کیا بات ہوئی؟} [104]۔

35- جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم سے مروی ہے، وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے یعنی جبیر کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:{ایک دیہاتی نے نبی ﷺ کے پاس آ کر کہا کہ یا رسول اللہ! جانیں مشکل میں پڑگئیں، بال بچے بھوک سے پریشان ہوگئے، اموال گھٹ گئے اور مویشی ہلاک ہو گئے۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب سے بارش کی دعا فرمائیں۔ ہم آپ کو اللہ کے حضور سفارشی کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اللہ کو آپ کے حضور سفارشی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

تجھ پر افسوس ہے! کیا تجھے پتہ بھی ہے کہ کیا کہہ رہے ہو؟ پھر آپ سبحان اللہ پڑھنے لگے اور اتنی دیر تک اسے دوہراتے رہے کہ اس کا اثر صحابہ کرام کے چہروں پر ظاہر ہونے لگا۔ پھر فرمایا: ’’تجھ پر افسوس! کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کیا ہے؟ (یعنی اس کا کیا مقام اور کیا شان ہے؟) اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر اس طرح ہے۔" پھر آپ ﷺ نے اپنے اوپر اپنی انگلیوں سے گنبد کی شکل بناکر دکھایا۔ "آسمان عرش کے وزن سے چرچراتا ہے، جیسے کجاوہ سوار کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے۔"}

اسے امام احمد اور ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

36- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{ اللہ عزّ وجلّ نے فرمایا: ”ابن آدم نے مجھے جھٹلایا، حالاں کہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس نے مجھے گالی دی، حالاں کہ اسے اس کا حق نہیں تھا۔ جہاں تک اس کا مجھے جھٹلانے کی بات ہے، تو وہ اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ مجھے پہلی بار پیدا کرنے کی طرح دوبارہ ہرگز پیدا نہیں کرے گا۔ حالاں کہ میرے لیے دوبارہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ جہاں تک اس کا مجھے گالی دینے کی بات ہے، تو وہ اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے۔ حالاں کہ میں ایک ہوں۔ بےنیاز ہوں۔ نہ میری اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ ہی کوئی میرے برابر ہے۔} [114]

37- ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک روایت میں ہے:

{جہاں تک اُس کے مجھے گالی دینے کی بات ہے، تو اس سے مراد اس کا یہ کہنا ہے کہ میری اولاد ہے۔ جب کہ میری ذات اس بات سے پاک ہے کہ میں کسی کو بیوی یا اولاد بناؤں۔} [115] .

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

38- صحیحین ہی میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم مجھے اذیت دیتا ہے۔ وہ زمانے کو گالی دیتا ہے۔ حالاں کہ میں ہی زمانہ ہوں۔ میرے ہی ہاتھ میں سارے معاملے ہیں۔ رات اور دن کو پلٹنے کا کام میں ہی کرتا ہوں۔} [117] .

 باب : تقدیر پر ایمان

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:{البتہ بے شک جن کے لیے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے، وه سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے۔} [118][سورہ الأنبياء: 101].مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے:{اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کیے ہوئے ہیں۔} [119][ سورہ احزاب: 38].مزید ارشاد ہے:{حاﻻنکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔} [120][سورہ الصافات: 96]مزید فرمانِ باری تعالیٰ ہے:{بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے۔} [121][سورہ قمر : 49]

39- صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:

{اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوق کی تقدیر لکھ دی تھی۔ آپ فرماتے ہيں کہاُس وقت اُس کا عرش پانی پر تھا۔} [122]

40- علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{"تم میں سے کوئی ایسا نہیں، جس کاجہنم کا ٹھکانا اور جنت کا ٹھکانا لکھ نہ دیا گیا ہو۔ "لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ! کیوں نہ ہم اپنے نوشتۂ تقدیر پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں؟! آپ ﷺ نے فرمایا :

’’عمل کرو، کیونکہ ہر ایک کو اسی کی توفیق دی جاتی ہے، جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ جو نیک بختوں میں سے ہوتا ہے، اسے نیک بختوں والے اعمال کی توفیق دی جاتی ہے اور جو بدنصیبوں میں سے ہوتا ہے، اسے بدنصیبوں والے اعمال کی توفیق دی جاتی ہے۔" پھر آپ ﷺ نے ان آیات کی تلاوت کی:{چنانچہ وہ، جس نے دیا، تقویٰ کی راہ اختیار کی اور اچھی راہ کی تصدیق کی، تو ہم اس کے لیے جلد آسانی کا سامان کریں گے۔} [134][سورہ الليل: 5-7]صحیح بخاری و مسلم41- مسلم بن یسار جہنی سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا:{اور جب آپ کے رب نے اوﻻد آدم کی پشت سے ان کی اوﻻد کو نکالا۔} [137][سورہ الأعراف: 172]تو عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو، جب آپ سے اس کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو فرماتے ہوئے سنا ہے:

{اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر اُن کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا اور اس سے ان کی کچھ اولاد کو نکال کر فرمایا:

’’میں نے انھیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ جنتیوں والے کام کریں گے۔" پھر ان کی پُشت پر ہاتھ پھیرا اور اس سے کچھ اولاد کو نکال کر فرمایا : "میں نے انھیں جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ جہنمیوں والے کام کریں گے۔" اس پر ایک آدمی نے پوچھا : یارسول اللہ! پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟

تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ جب کسی آدمی کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے، تو اسے جنتیوں والے کام پر لگا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنتیوں والے اعمال کرتے ہوئے مرتا ہے اور ان اعمال کے نتیجے میں جنت میں داخل ہو جائے گا۔ اس کے برخلاف جب کسی آدمی کو جہنم کے لیے پیدا کرتا ہے، تو اسے جہنمیوں کے کام پر لگا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کے اعمال کرتے ہوئے مرتا ہے اور اس کے نتیجے میں جہنم میں داخل ہو جائے گا۔}

اسے مالک اور حاکم نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے مسلم کی شرط پر بتایا ہے۔

ابوداؤد نے اسے ایک دوسرے طریق سے مسلم بن یسار سے روایت کیا ہے، جو نعیم بن ربیعہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ عمر رضی اللہ عنہ سے۔

42- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: ہم سے بقیہ بن ولید نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہم کو خبر دی زبیدی محمد بن ولید نے، جو روایت کرتے ہیں راشد بن سعد سے، وہ روایت کرتے ہیں عبدالرحمن بن ابی قتادہ سے، وہ اپنے والد سے اور وہ ہشام بن حکیم بن حزام سے کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اعمال شروع ہوتے ہیں یا ان کا فیصلہ پہلے ہی سے کیا ہوا ہوتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ نے جب اولادِ آدم کو اُن کی پُشت سے نکالا، تو انہیں خود اُن کے اوپر گواہ بنایا۔ پھر انہیں اپنی ہتھیلیوں پر پھیلایا اور کہا: یہ لوگ جنت کے لیے ہیں اور یہ لوگ جہنم کے لیے؛ چنانچہ اہلِ جنت کو جنت والوں کے عمل کی توفیق دی جاتی ہے اور اہلِ جہنم کو جہنم والوں کے عمل کی توفیق کی دی جاتی ہے۔"}

43- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے اللہ کے رسول ﷺ نے، جو سچے بھی ہیں اور جن کی سچائی کی گواہی بھی دی گئی ہے، فرمایا:

{تم میں سے ہر ایک کے مادۂ تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی شكل میں جمع كيا جاتا ہے، پھر وہ اتنے ہی دن جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے، پھر اللہ اس کی طرف ایک فرشتے کو چار باتوں کے ساتھ بھیجتا ہے، جو اس کے عمل، عمر، روزی اور نیک بخت یا بدبخت ہونے کی بات لکھتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے بیچ صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو اس پر نوشتهٔ تقدیر غالب آجاتا ہے اور وہ جہنم والوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور بالآخر جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح تم میں سے کوئی جہنم والوں کا عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے بیچ صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ جنت والوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور بالآخر جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔} [138]

صحیح بخاری و صحیح مسلم

44- حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جسے وہ نبی ﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

{رحمِ مادر میں جب نطفہ چالیس یا پینتالیس دن کا ہوجاتا ہے، تو فرشتہ اُس نطفے کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: اے رب! یہ بد بخت ہے یا نیک بخت؟ چنانچہ جیسا حکم ملتا ہے، دونوں فرشتے اسے لکھ دیتے ہیں۔ پھر وہ فرشتہ کہتا ہے: اے میرے رب! یہ مذکر ہے یا مؤنث؟ پھر جو حکم ملتا ہے، اسے دونوں فرشتے لکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح اس کا عمل، اس کا اثر، اس کی عمر اور اس کی روزی سب لکھ دی جاتی ہے۔ پھر صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں اور ان کے اندر نہ اضافہ کیا جاتا ہے اور کمی کی جاتی ہے۔} [141]۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

45 -صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:

رسول اللہ ﷺ کو ایک انصاری بچے کے جنازے میں بُلایا گیا، تو میں نے کہا کہ مبارک ہو! یہ تو جنت کے گوریوں میں سے ایک گوریّہ ہے۔ نہ کوئی بُرا کام کیا، نہ اُس کی عمر کو پہنچا۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا:

{اے عائشہ! کیا اس کے علاوہ نہیں ہو سکتا! اللہ نے جنت کے لیے اس میں جانے والے لوگ پیدا کر رکھے ہیں۔ انھیں جنت کے لیے اس وقت پیدا کیا گیا تھا، جب وہ اپنے آبا کی پُشت میں تھے۔ اسی طرح جہنم کے لیے اس میں جانے والے لوگ پیدا کر رکھے ہیں۔ انھیں جہنم کے لیے اس وقت پیدا کیا گيا تھا، جب وہ اپنے آبا کی پُشت میں تھے۔} [142]

46 - اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:{ہر چیز تقدیر کے مطابق ہوتی ہے، یہاں تک کہ عاجزی اور دانائی بھی!} [146]

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

47- قتادہ رضی اللہ عنہ سے فرمانِ باری تعالیٰ: {تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ} (اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبریل) اترتے ہیں)، [148] [القدر: 4] کے بارے میں مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ’’اُس رات ایک سال سے دوسرے سال کے بیچ ہونے والے امور کے فیصلے ہوتے ہیں۔‘‘

اسے عبد الرزاق اور ابن جریر نے روایت کیا ہے۔

اسی مفہوم کی روایتیں ابن عباس رضی اللہ عنہما، حسن، ابو عبد الرحمن السلمی، سعید بن جبیر اور مقاتل سے بھی مروی ہیں۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو ایک بڑے سفید موتی سے بنایا ہے۔ اس کی دونوں دفتیاں سُرخ یاقوت کی ہیں، اُس کا قلم نور ہے، اس کی کتابت نور ہے اور اس کا پھیلاؤ آسمان و زمین کی مسافت کے برابر ہے۔ ایک دن میں اللہ تعالیٰ اس پر تین سو ساٹھ بار نظر ڈالتا ہے؛ ہر بار کسی کی تخلیق کرتا ہے، کسی کو زندگی بخشتا ہے، کسی کو مارتا ہے، کسی کو عزت دیتا ہے، کسی کو ذلت سے دوچار کرتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اسی سلسلے میں اس کا یہ فرمان ہے:{ہر روز وه ایک شان میں ہے۔} [149][سورہ الرحمن: 29].

اسے عبدالرزاق، ابن منذر، طبرانی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ تعالیٰ ان احادیث اور اس معنی میں وارد دیگر روایات کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں [150] :

’’یہ یومیہ تخمینہ ہے، اس سے پہلے سالانہ تخمینہ ہوتا ہے، اُس سے پہلے جسم میں روح ڈالتے وقت پوری زندگی سے متعلق باتیں لکھی جاتی ہیں، اس سے پہلے جب آدمی گوشت کے ٹکڑے کی شکل میں ہوتا ہے، اس وقت پوری زندگی کے بارے میں فیصلے ہوتے ہیں، اس سے پہلے انسان کے وجود سے پہلے اور آسمانوں و زمین کی تخلیق کے بعد ایک بار فیصلے لیے جا چکے ہيں اور اسے پہلے بھی ایک بار آسمانوں اور زمیں کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے سارے باتیں طے کی جا چکی ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ تخمینہ اور فیصلہ کرنے کے ان مراحل میں سے ہر مرحلہ، اس سے پہلے مرحلے کی تفصیل کی حیثیت رکھتا ہے۔

ان ساری باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی کا علم کس قدر کامل ہے اور وہ کس قدر قدرت و حکمت کا مالک ہے!!"

وہ آگے کہتے ہیں:

"لہذا یہ ساری حدیثیں اور اسی طرح اس مفہوم کی دیگر روایتیں اس بات پر متفق ہیں کہ پہلے سے طے شدہ تقدیر انسان کو عمل سے قطعًا نہیں روکتی اور نہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان اس پر بھروسہ کرکے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جائے، بلکہ اس کے برعکس وہ کد و کاوش کی تعلیم دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب بعض صحابہ نے تقدیر کے بارے میں یہ باتیں سنیں، تو بولے : میں پہلے آج کے مقابلے میں زیادہ کد و کاوش نہیں کرتا تھا۔

اسی طح ابوعثمان نہدی نے سلمان سے کہا: میں اس سے، جو پہلے لکھا جا چکا ہے، اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوش ہوں، جو اب ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا یہ ہے کہ جب معاملہ ایسا ہے کہ اللہ نے پہلے سے سب کچھ لکھ رکھا ہے اور میرے لیے اس کے راستے پر چلنا آسان کر دیا ہے، تو مجھے ان اسباب کی بہ نسبت جو بعد میں ظاہر ہو رہے ہیں، اللہ کے لکھے فیصلے پر زیادہ خوشی ہے۔

49- ولید بن عبادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: {میں اپنے والد کے پاس گیا۔ وہ بیمار تھے اور مجھے اُن کی موت کا خدشہ تھا۔ لہذا میں نے اُن سے کہا: ابّاجان! مجھے کچھ وصیت کریں اور میرے لیے کچھ کوشش کریں۔ انہوں نے کہا: تم لوگ مجھے بٹھا دو۔ جب لوگوں نے ان کو بٹھا دیا، تو انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تم اس وقت تک ایمان کا مزہ چکھ نہیں سکتے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی حقیقی معرفت حاصل نہیں کرسکتے، جب تک اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ رکھو! میں نے کہا: ابّا جان! ذرا بتائیں، میں کیسے جانوں کہ بھلی بری تقدیر کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جان لو کہ جو مصیبت تم سے خطا کر گئی، تم اُس سے ہرگز دوچار ہونے والے نہیں تھے، اور جس میں تم مبتلا ہوگئے، تم اُس سے قطعی بچنے والے نہیں تھے۔ اے میرے پیارے بیٹے! میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا ہے:

’’اللہ تعالیٰ نے سب پہلے جس چیز کی تخلیق فرمائی، وہ قلم ہے۔ پھر اُس سے کہا کہ لکھ۔ چنانچہ وہ اُسی وقت رواں ہوگیا اور قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے، سب کچھ لکھ ڈالا۔‘‘ اے میرے بیٹے! اگر تم اس عقیدے پر نہ رہے اور اسی حالت میں مر گئے، تو جہنم میں جاؤ گے۔} [151]

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

50- ابو خزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، جو کہتے ہیں: {میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ جو ہم جھاڑ پھونک کراتے ہیں، دوا پانی کرتے ہیں اور بیماری سے بچاؤ کے دیگر طریقے اپناتے ہيں، تو کیا یہ اللہ کے کسی فیصلے کو ٹال سکتے ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا:

یہ سب کچھ تقدیر الہٰی کا حصہ ہیں۔} [152]

اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔

51- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{طاقتور مؤمن، کمزور مؤمن سے بہتر اور اللہ کے نزدیک زیادہ پیارا ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔ جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور ہرگز عاجز نہ بنو۔ دیکھو، اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہو جاتا۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ کیوںکہ لفظ 'اگر' شیطان کے عمل دخل کا راستہ کھولتا ہے۔} [153]

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

 باب : فرشتوں کا ذکر اور ان پر ایمان

اللہ تعالی کا فرمان ہے:{ساری اچھائی مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں؛ بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے، جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو۔} [154] الآية۔(سورہ بقرہ: 177)مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے:{جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اسی پر قائم رہے، ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو، (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو، جس کا تم وعده دیے گئے ہو۔} [155][سورہ فصّلت: 30]مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے:{مسیح (علیہ السلام) اور مقرب فرشتوں کو اللہ کا بنده ہونے میں کوئی ننگ و عار یا تکبر وانکار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا۔} [156][سورہ النساء: 172].مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے:{آسمانوں اور زمین میں جو ہے، اسی اللہ کا ہے اور جو اس کے پاس ہیں، وه اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔وه دن رات تسبیح بیان کرتے ہیں اور ذرا سی بھی سستی نہیں کرتے۔} [157][ سورہ الأنبیاء: 19، 20].مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے:{دو دو، تین تین، چار چار پروں والے فرشتوں کو اپنا پیغمبر (قاصد) بنانے واﻻ ہے۔} الآی‏ۃ [158][سورہ فاطر: 1]مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے:{عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس کے (فرشتے) اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استفغار کرتے ہیں} الآیۃ [159][سورہ المؤمن: 7].

52- عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

{فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، جنات کو آگ کے دہکتے شعلے سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم کو اس شے سے پیدا کیا گیا ہے، جس کی صفت (اللہ تعالیٰ نے) تم سے بیان فرمائی ہے (یعنی خاک سے)۔} [160]

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

53۔ {معراج سے متعلق بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ آپ ﷺ کو بیتِ معمور لے جایا گیا، جو ساتویں اور بقول بعض چھٹے آسمان پر ہے۔ اس کو وہاں وہی حیثیت حاصل ہے جو روئے زمین پر کعبہ کو۔ وہ کعبۃ اللہ سے سیدھے اوپر کی جانب واقع ہے۔ اس کا آسمان میں وہی احترام ہے، جو زمین میں کعبہ کا ہے۔ اس میں روزانہ ستّر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور پھر اُن کی باری دوبارہ قیامت تک نہیں آتی۔} [161]

54- عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:{آسمان میں قدم رکھنے کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے، جہاں کوئی فرشتہ سجدہ یا قیام کی حالت میں نہ ہو۔ اسی کی طرف اشارہ فرشتوں کے اس قول میں ہے [162] :{ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں۔} [163]۔[سورہ الصافات: 165، 166].

اسے محمد بن نصر، ابن ابی حاتم، ابن جریر اور ابوالشیخ نے روایت کیا ہے۔

55- طبرانی نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{ساتوں آسمانوں میں، قدم رکھنے کے برابر، بالشت بھر، بلکہ ہتھیلی جتنی بھی جگہ نہیں ہے، جہاں کوئی فرشتہ قیام کی حالت میں، کوئی فرشتہ سجدے کی حالت میں یا کوئی فرشتہ رکوع کی حالت میں موجود نہ ہو۔ اس کے باوجود جب قیامت کا دن آئے گا، تو سب لوگ کہیں گے: اے اللہ! تو پاک ہے، ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیے تھی، وہ ہم سے ادا ہو نہ سکی۔ البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا۔}

56۔ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:{مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کو اٹھائے رکھنے والے اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں۔ اس کے کان کی لو سے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت کا ہے۔} [165]

اسے ابو داؤد نے، بيهقي نے 'الأسماءِ والصِّفاتِ' میں اور ضیاء نے 'المختارة' میں روایت کیا ہے۔

جلیل القدر فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جبریل علیہ السلام ہیں، جن کی امانت، حُسنِ اخلاق اور قوت کی تعریف اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:{اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے،جو زور آور ہے۔ پھر وه سیدھا کھڑا ہو گیا۔} [166][سورہ النجم، آیت: 5، 6].

ان کی قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے قوم لوط کی بستیوں کو، جن کی تعداد سات تھی، ان کے چار لاکھ باشندوں، چوپایوں، جانوروں، کھیت کھلیانوں اور محلوں سمیت اپنے ایک بازو پر اٹھا کر اس طرح آسمان کے برابر اونچائی تک پہنچا دیا کہ فرشتوں نے ان کے کتوں کے بھونکنے اور مرغوں کے بانگ دینے کی آواز سنی اور پھر انھیں پلٹ کر تل پٹ کر دیا۔

دراصل یہ ان کے بڑی طاقت والے فرشتہ ہونے کی ایک مثال ہے۔

"ذو مِرّۃِِ" : یعنی اچھی ساخت، چمک دمک اور طاقت و قوت کا مالک۔

یہ معنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بتایا ہوا ہے۔

جب کہ دوسروں لوگوں کا کہنا ہے کہ ’ذو مرۃ‘ کے معنی قوت والے کے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اُن کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:{یقیناً یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے، جو قوت واﻻ ہے، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ والا ہے، جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے۔ پھر وہ امین ہے۔) [167][سورہ التكوير: 19 - 21]یعنی ان کے پاس زبردست طاقت وقوت ہے اور وہ عرش والے کے نزدیک بڑے مقام اور مرتبے کے حامل ہیں۔{ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ} [168]یعنی مقرب فرشتوں کے بیچ ان کی اطاعت کی جاتی ہے اور وہ بڑے امانت دار بھی ہیں۔ اسی لیے وہ اللہ اور اس کے رسولوں کے بیچ سفارت کا کام کرتے ہیں۔

57- جبریل علیہ السلام اللہ کے رسول ﷺ کے پاس مختلف شکلوں میں تشریف لاتے تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں ان کی اصلی شکل میں بھی دو بار دیکھا ہے۔ ان کے چھ سو پَر ہیں۔

اسے امام بخاری نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

58- امام احمد نے عبداللہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: {رسول اللہ ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے اور ان میں سے ہر ایک پر نے افق کو ڈھانپ رکھا تھا۔ اُن کے پَروں سے اتنے الگ الگ رنگ، موتی اور یاقوت جھَڑ رہے تھے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔} [169]

اس کی سند قوی ہے۔

59- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو ایک سبز جوڑے میں ملبوس دیکھا۔ انہوں نے آسمان وزمین کے مابین کی فضا کو بھر رکھا تھا۔} [170]

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

60- عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{میں نے جبریل کو اُترتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے زمین و آسمان کے بیچ کے خلا کو بھر رکھا تھا۔ انھوں نے ریشمی لباس زیب تن کر رکھا تھا، جس میں موتی اور یاقوت لگے ہوئے تھے۔} [173] .

اسے ابوالشیخ نے روایت کیا ہے۔

61- ابن جریر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جبریل کے معنی اللہ کے بندے کے ہیں، میکائیل کے معنی اللہ کے چھوٹے بندے کے ہیں اور ہر وہ نام جس میں لفظ ’ایل‘ ہو، تو اس کے معنی اللہ کے بندے کے ہیں۔

62- طبری ہی میں اسی جیسی ایک روایت علی بن حسین سے مروی ہے اور اُس میں یہ اضافہ ہے: ’اسرافیل‘ رحمن کے بندے کے معنی میں ہے۔

63- طبرانی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے:

{کیا میں تمہیں افضل ترین فرشتے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ جبریل ہیں۔}

64- {ابوعمران الجونی سے مروی ہے کہ اُن کو خبر پہنچی کہ جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس روتے ہوئے آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے اُن سے پوچھا:

آپ کیوں رو رہے ہیں؟

انہوں نے جواب دیا: کیوں نہ رؤوں! اللہ کی قسم! جب سے اللہ نے جہنم پیدا کی ہے، میری آنکھ اس ڈر سے خشک نہیں ہوئی کہ میں کوئی نافرمانی کا کام کربیٹھوں اور وہ مجھے جہنم میں ڈال دے۔}

اسے امام احمد نے 'الزھد' میں روایت کیا ہے۔

65۔ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل سے فرمایا:

’’آپ ہمارے پاس جتنا آتے ہیں، کیا اس سے زیادہ نہیں آ سکتے؟" [175]اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی: {وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ ۖ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا} [176] الآیۃ (یعنی ہم بغیر تیرے رب کے حکم کے اتر نہیں سکتے۔ ہمارے آگے پیچھے اور ان کے درمیان کی کل چیزیں اسی کی ملکیت میں ہیں)۔[سورہ مريم: 64].

جلیل القدر فرشتوں میں سے ایک میکائیل علیہ السلام بھی ہیں، جن کے ذمہ بارش برسانے اور پودے اُگانے کے کام ہیں۔

66- امام احمد نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل سے پوچھا :

{آخر بات کیا ہے کہ میں نے میکائیل علیہ السلام کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟ انہوں نے جواب دیا : جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے، اس وقت سے میکائیل کبھی نہیں ہنسے۔} [177]

جلیل القدر فرشتوں میں سے ایک اسرافیل علیہ السلام بھی ہیں۔ وہ حاملینِ عرش میں سے ہیں اور وہی صور میں پھونک ماریں گے۔

67- ترمذی نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے اور اسی طرح حاکم نے بھی ان سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:{میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں، جب کہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو منہ سے لگا رکھا ہے، اس کی پیشانی جھکی ہوئی ہے اور ہمہ تن گوش منتظر ہے کہ کب اسے حکم دیا جائے اور وہ صور پھونک دے؟صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسے میں ہم کیا کریں؟آپ ﷺ نے فرمایا: کہو ’’حسبنا اللَّه ونِعم الوكيل على اللَّهِ توكلنا‘‘ (ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ ہم اُسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔} [178]

68- ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{حاملینِ عرش میں سے ایک فرشتہ ہے۔ جسے اسرافیل کہا جاتا ہے، جس کے کندھے پر عرشِ الہی کا ایک کونہ ہے۔ اس کے دونوں قدم نچلی ساتویں زمین میں پہنچے ہوئے ہیں اور اس کا سر سب سے اوپر والے ساتویں آسمان سے نکلا ہوا ہے۔}اسے ابو الشیخ نے اور ابونعیم نے ’الحِلية‘ میں روایت کیا ہے۔

69- ابوالشیخ نے اوزاعی سے روایت کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں: اللہ کی کوئی مخلوق اسرافیل علیہ السلام سے زیادہ خوب صورت آواز والی نہیں ہے۔ جب وہ تسبیح پڑھتے ہیں، تو ساتوں آسمان والوں کی نمازیں اور تسبیحیں رک جاتی ہیں۔

بزرگ فرشتوں میں سے ایک ملک الموت علیہ السلام بھی ہیں

ان کا نام صراحت کے ساتھ نہ تو قرآن میں آیا ہے، نہ صحیح حدیثوں میں۔ البتہ بعض آثار میں ان کا نام عزرائیل آیا ہے [179] ۔ واللہ اعلم۔ یہ حافظ ابن کثیر کا قول ہے۔  وہ آگے کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو جو ذمے داریاں دی ہیں، ان کے اعتبار سے اُن کی کئی قسمیں ہیں:

کچھ فرشتے عرش الٰہی کو اُٹھائے ہوئے ہیں۔

کچھ کرّوبیاں ہیں [180]۔ یہ وہ فرشتے ہیں، جو عرشِ الہی کے اردگرد ہیں۔ یہ حاملین عرش کے ساتھ اونچے درجے کے فرشتے ہیں، جو مقرب فرشتے کہلاتے ہیں۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{مسیح (علیہ السلام) اور مقرب فرشتوں کو اللہ کا بنده ہونے میں کوئی ننگ و عار ہرگز نہیں ہو سکتا۔} [181][سورہ النساء: 172].کچھ فرشتے ساتوں آسمانوں میں رہ کر انھیں رات دن اور صبح وشام اللہ کی عبادت سے آباد رکھتے ہیں۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{وه دن رات تسبیح بیان کرتے ہیں اور ذرا سی بھی سستی نہیں کرتے۔} [182][سورہ الأنبياء: 20].

کچھ فرشتے باری باری بیت المعمور جاتے ہیں۔

میں کہتا ہوں: بظاہر یہی لگتا ہے کہ بیت المعمور میں یکے بعد دیگرے داخل ہونے والے فرشتے وہی ہیں، جو آسمانوں میں رہتے ہیں۔

کچھ فرشتے جنت میں مامور ہیں، جن کے ذمہ اہل جنت کے لیے نعمتوں کی تیاری اور ضیافت کا کام ہے؛ جس میں کپڑے، کھانے پینے کی اشیا، زیورات، گھر وغیرہ جیسی چیزیں، جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال آیا ہے، کا انتظام شامل ہے۔ اسی طرح کچھ فرشتے ایسے ہیں، جن کے ذمہ جہنم کی دیکھ بھال کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے۔ جہنم پر مامور ان فرشتوں کو زبانیہ کہا گيا ہے۔ ان کی اگلی صف میں انیس فرشتے شامل ہیں۔ جہنم کے داروغہ کا نام مالک ہے اور انھیں کا نام جہنم کی دربانی میں سب سے اوپر ہے۔ یہی وہ فرشتے ہیں، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے:{اور (تمام) جہنمی مل کر جہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وه کسی دن تو ہمارے عذاب میں کمی کردے۔} [183][سورہ المؤمنون: 49]ایک اور جگہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:{اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے، وه کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے۔} [184][سورہ الزخرف: 77]مزید ارشاد ہے :{جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں، جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اس کی نافرمانی نہیں کرتے، بلکہ جو حکم دیا جائے، اسے بجا ﻻتے ہیں۔} [185][سورہ التحريم: 6]مزید ارشاد ہے :{اور اس میں انیس (فرشتے مقرر) ہیں۔ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے رکھے ہیں۔} [186]یہاں سے اس فرمانِ باری تعالی تک:{تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔} [187][سورہ المدثر: 30، 31].کچھ فرشتے ایسے ہیں، جو بنی آدم کی حفاظت پر مامور ہیں۔ جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:{اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔} [188][سورہ الرعد: 11].

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: کچھ فرشتے ایسے ہیں، جو انسان کی اس کے آگے اور پیچھے سے حفاظت کرتے ہیں، مگر جب اللہ کا حکم آجاتا ہے، تو اسے اکیلا چھوڑ جاتے ہیں۔} [189] .

مجاہد کہتے ہیں: ہر بندے پر ایک فرشتہ مامور ہے، جو اُس کے سوتے جاگتے، جن و انس اور شیاطین سے اُس کی حفاظت کرتا ہے۔ ان میں سے جو بھی چیز اس کے قریب آتی ہے، اُس کہتا ہے: چل دور ہٹ! ہاں، اگر کوئی چیز اللہ کی اجازت سے آتی ہے، تو وہ پہنچ جاتی ہے۔

کچھ فرشتے بندوں کے اعمال کی حفاظت پر مامور ہیں۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:{جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں، ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے،(انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا، مگر یہ کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے۔} [190][سورہ ق: 17 ، 18]وہ مزید فرماتا ہے :{یقیناً تم پر نگہبان، عزت والے،لکھنے والے مقرر ہیں۔جوکچھ تم کرتے ہو، وه جانتے ہیں۔} [191] [الانفطار: 10-12].

70-بزار نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

{اللہ تمھیں عریاں ہونے سے منع کرتا ہے۔ لہذا تم اللہ کے اُن فرشتوں سے حیا کرو، جو تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔ وہ معزز لکھنے والے ہیں، جو صرف تین حالات میں تم سے الگ ہوتے ہیں۔ یعنی قضائے حاجت کے وقت، ہمبستری کے وقت اور غسل کے وقت۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی کھلے میدان میں غسل کرے، تو اپنے کپڑے، دیوار کی اوٹ یا کسی اور چیز سے پردہ کر لے۔}

حافظ ابن کثیر کہتے ہیں: ان کی عزت کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اُن سے حیا کی جائے اور وہ چوں کہ اعمال لکھتے ہیں، اس لیے ان سے برے اعمال نہ لکھوائے جائیں۔ کیوں کہ اللہ نے انھیں خلقت اور اخلاق دونوں اعتبار سے بزرگ اور باعزت بنایا ہے۔

پھر آگے انھوں نے جو کچھ لکھا ہے، اس کا مفہوم ہے: اُن کی عزت و شرافت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا، تصویر، جنبی آدمی یا مورتی ہو۔ اسی طرح ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں ہوتے، جن کے ساتھ کتا یا گھنٹی ہو۔

71- مالک، بخاری اور مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

{تمھارے پاس رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے جاتے رہتے ہیں، جو فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ جب تمھارے ساتھ رات گزارنے والے فرشتے اللہ کے حضور پہنچتے ہیں، تو ان سے سوال کرتا ہے، حالاں کہ وہ ان سے کہیں زیادہ واقف ہے، تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ جب ہم نے ان کو چھوڑا، تو نماز ادا کررہے تھے اورجب ہم ان کے پاس پہنچے، تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔} [194]

72- ایک روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو یہ آیتِ کریمہ پڑھ سکتے ہو:{اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی۔ یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے۔} [196][سورہ الإسراء: 78]۔

73- احمد اور مسلم نے یہ حدیث روایت کی ہے:

{جو لوگ اللہ کے کسی گھر میں اللہ کی کتاب کی تلاوت اور اسے پڑھنے پڑھانے کے لیے جمع ہوتے ہيں، ان پر سکینت اترتی ہے، ان کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے، ان کو فرشتے گھیر لیتے ہیں اور ان کا ذکر اللہ تعالیٰ اپنے پاس رہنے والوں یعنی فرشتوں میں کرتا ہے اور جس کا عمل اسے پیچھے کردے، اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جا سکتا۔} [198]

74- مسند اور سنن کی حدیث ہے:

{فرشتے طالبِ علم کی جستجوئے علم سے خوش ہوکر، اس کے لیے، اپنے پر بچھاتے ہیں۔} [199]

خلاصۂ کلام ایں کہ فرشتوں کے ذکر پر مبنی حدیثیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

 کتاب اللہ کی وصیت

اللہ تعالی کا فرمان ہے:{تم لوگ اس کا اتباع کرو، جو تمہارے رب کی طرف سے آیا ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو۔ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔} [200][سورہ الأعراف: 3].

75- زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے خطبہ دیا اور حمد وثنا کے بعد فرمایا:

"امّا بعد؛ خبردار! لوگو سنو! میں ایک انسان ہی ہوں۔ قریب ہے کہ میرے رب کا فرستادہ (ملک الموت) میرے پاس آئے اور میں اُس کے بلاوے پر چلا جاؤں۔ تاہم میں تمھارے بیچ دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں؛ اُن میں پہلی چیز اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت و روشنی ہے۔ لہذا اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لو‘‘۔ چنانچہ آپ نے اللہ کی کتاب کو لازم پکڑنے پر ابھارا اور اس کی ترغیب دی اور اس کے بعد فرمایا: ’’اور میرے اہلِ بیت!‘‘ دوسرے لفظوں میں ہے: ’’اللہ کی کتاب، وہ اللہ کی مضبوط رسّی ہے؛ جو اس کا اتباع کرے گا، وہ ہدایت پر ہوگا اور جو اسے چھوڑ دے گا، وہ گمراہی پر ہوگا۔} [201]

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

76- مسلم ہی میں جابر رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث میں ہے: {اللہ کے رسول ﷺ نے یومِ عرفہ کے خطبہ میں فرمایا:

"میں نے تمہارے پاس ایسی چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رہو گے، تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے؛ وہ اللہ کی کتاب ہے۔ تم سے (روزِ قیامت) میرے بارے میں پوچھا جائے گا، تو تم کیا کہو گے؟" صحابہ نے کہا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پیغامِ الہی کو پہنچادیا، اپنی ذمہ داری ادا کردی اور پوری خیر خواہی کی۔ آپ ﷺ نے اپنی انگشتِ شہادت کو آسمان کی طرف اٹھا کر اور اس سے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’اے اللہ! تو گواہ رہ۔" آپ ﷺ نے یہ بات تین بار دہرائی۔} [202]

77- علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں: {میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

"سن لو! عن قریب ایک بہت بڑافتنہ رونما ہو گا!"

میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہو گا؟

آپ ﷺ نے جواب دیا: ’’اللہ کی کتاب! اس میں پچھلی امتوں کی خبر ہے، آنے والے حوادث کی اطلاع ہے، تمھارے درمیان ہونے والے اختلافات کا فیصلہ ہے۔ وہ فیصلہ کن کتاب ہے، یاوہ گوئی نہیں۔ جو تکبر کی وجہ سے اسے چھوڑے گا، اسے اللہ ہلاک کر دے گا اور جو اس کے سوا کسی اور چیز سے ہدایت طلب کرے گا، اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔ وہ اللہ کی مضبوط رسی ہے، حکمت سے لبریز ذکر ہے اور سیدھا راستہ ہے۔ وہ ایسی شے ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے خواہشاتِ نفس گمراہ نہیں کر سکتیں، زبانیں اس میں التباس کی شکار نہیں ہو سکتیں، علما اس سے سیر نہیں ہو سکتے، تکرار سے اس میں بوسیدگی نہیں آتی اور اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے۔ وہی وہ کتاب ہے، جسے سننے کے بعد جنوں کو کہنے پر مجبور ہونا پڑا :{ہم نے ایک بہت خوب صورت قرآن سنا ہے،جو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ سو ہم اس پر ایمان لے آئے۔} [203][سورہ الجن: 1، 2 ]جس نے قرآن کی بنیاد پر بات کی اُس نے سچ کہا، جس نے قرآن پر عمل کیا وہ اجر کا مستحق بنا، جس نے قرآن کی بنیاد پر فیصلہ دیا اس نے عدل کیا اور جس نے قرآن کی طرف بلایا اُسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دی گئی۔}

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور ’غریب‘ کہا ہے۔

78- ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

{"اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس چیز کو حلال کیا ہے وہ حلال ہے، جسے حرام قرار دیا ہے وہ حرام ہے اور جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے اُس میں عفو و در گزر ہے۔ لہذا تم اللہ کے عفو و در گزر کو قبول کرو۔ کیوں کہ ایسا نہیں ہے کہ اللہ کچھ بھول جائے!" اُس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی:{تیرا پروردگار بھولنے واﻻ نہیں ہے۔} [204][سورہ مريم: 64].

اسے بزّار، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

79- ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

{اللہ تعالیٰ نے صراطِ مستقیم کی مثال بیان کی ہے کہ اس کے دونوں طرف دو دیواریں کھنچی ہوئی ہیں۔ دونوں دیواروں میں جابجا کھلے ہوئے دروازے ہیں، جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ راستے کے سرے پر ایک پکارنے والا پکار رہا ہے کہ اے لوگو! راستے پر سیدھے چلتے رہو اور اس سے نہ ہٹو۔ جب کہ ایک پکارنے والا اس کے اوپر سے پکار رہا ہے۔ جب جب کوئی بندہ ان دروازوں میں سے کسی کا پردہ اٹھانا چاہتا ہے، تو وہ پکار کر کہتاہے : خبردار ، پردہ نہ اٹھانا۔ پردہ اٹھاؤ گے تو اس کے اندر چلے جاؤ گے۔} [205] .

پھر آپ ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ سیدھے راستے سے مراد اسلام ہے، کھلے ہوئے دروازے اللہ کی حرام کردہ چیزیں ہیں، لٹکے ہوئے پردے اللہ کی حدود ہیں، راستے کے سرے پر پکارنے والا قرآن ہے، راستے کے اوپر سے پکار نے والا اللہ کا وہ واعظ ہے، جو ہر بندۂ مؤمن کے دل میں موجود ہے۔

اسے رزین نے روایت کیا ہے۔ احمد اور ترمذی نے بھی نواس بن سمعان سے اس سے ملتی جلتی حدیث روایت کی ہے۔

80۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وه کہتی ہیں:

{اللہ کے رسول ﷺ نے قرآنِ کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی:{وہی اللہ تعالیٰ ہے، جس نے تجھ پر کتاب اتاری، جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں، جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں۔}[206]آپ ﷺ نے یہ آیت اِس فرمانِ باری تعالیٰ تک پڑھی:{اور نصیحت تو صرف عقل مند حاصل کرتے ہیں۔} [207][سورہ آل عمران: 7]عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پس جب تم اُن لوگوں کو دیکھو، جو قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگتے ہیں، تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ نے 'فاحذروھم' کے ضمن میں لیا ہے۔}صحیح بخاری و مسلم

81- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: {اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمارے لیے اپنے ہاتھ سے ایک لکیر کھینچی اور اس کے بعد فرمایا:

’’یہ اللہ کا راستہ ہے۔‘‘ پھر اس کے دائیں اور بائیں کچھ لکیریں کھینچیں اور فرمایا: ’’یہ الگ لگ راستے ہیں۔ اِن میں سے ہر راستے پر شیطان بیٹھا ہے، جو اس کی طرف بلاتا ہے۔‘‘ پھر یہ آیتِ کریمہ پڑھی:{اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے۔ سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔} [208][سورہ انعام: 153]

اسے امام احمد، دارمی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

82- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: {نبی ﷺ کے کچھ صحابہ توریت کی کچھ باتیں لکھ لیا کرتے تھے۔ لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

’’سب سے بڑے احمق اور گمراہ ترین لوگ وہ ہیں، جو اپنے نبی کی لائی ہوئی باتوں سے اعراض کرتے ہوئے دوسرے نبی میں دل چسپی دکھائیں اور اپنی امت کو چھوڑ کر دوسری امت سے رشتہ گانٹھیں۔" پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:{کیا انہیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی، جو ان پر پڑھی جا رہی ہے؟ اس میں رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان والے ہیں۔} [209][سورہ العنكبوت: 51].

اسے اسماعیلی نے اپنے معجم اور ابن مردوَیہ نے روایت کیا ہے۔

83- عبد اللَّه بن ثابت بن حارث انصاري رضي الله عنه سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:{عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک کتاب لے کر حاضر ہوئے، جس میں توریت کی کچھ باتیں لکھی ہوئی تھیں اور عرض کیا کہ مجھے یہ کتاب ایک اہلِ کتاب سے حاصل ہوئی ہے اور اسے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ یہ دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ کا چہرہ اتنا زیادہ بدل گیا کہ اُس طرح آپ ﷺ کا چہرہ بدلتے ہوئے ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس پر عبداللہ بن حارث نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم رسول اللہ ﷺ کا چہرہ نہیں دیکھ رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کو رب ماننے پر، اسلام کو دین تسلیم کرنے پر اور محمد ﷺ کو نبی ماننے پر راضی و خوش ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور فرمایا:

"اگر موسیٰ (علیہ السلام) اتر آئیں، پھر تم ان کی پیروی کرنے لگو اور مجھے چھوڑ دو، تو تب بھی گمراہ قرار پاؤ گے۔ نبیوں میں سے میں تمہارے حصہ میں آیا ہوں اور اُمّتو ں میں سے تم میرے حِصّہ میں آئے ہو۔"}

اسے عبدالرزاق، ابن سعد اور حاکم نے ’الکنی‘ میں روایت کیا ہے۔

 باب : نبی ﷺ کے حقوق

اللہ تعالی کا فرمان ہے:{اے ایمان والو! اللہ کی فرماں برداری کرو اور رسول کی فرماں برداری کرو اور جو تم میں اختیار والے (حکام) ہیں، ان کی بھی فرماں برداری کرو۔} الآية [210][سورہ النساء: 59]مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے:{نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رسول ﷺ کی پیروی کرو؛ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔} [211]۔[سورہ النور: 56]ایک اور مقام پر اشاد ہے:{تمہیں جو کچھ رسول دیں، لے لو اور جس سے روکیں، رک جاؤ۔} الآیۃ [212][سورہ الحشر: 7].84۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:{مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور مجھ پر اور میری لائی ہوئی باتوں پر ایمان لائیں۔ جب وہ یہ کرلیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کرلیں گے، سوائے ان کے حق کے اور ان کا حساب اللہ عز و جل پر ہوگا۔} [213]۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

85- بخاری اور مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{تین باتیں ایسی ہیں کہ جس بندے کے اندر پائی گئیں، وہ ان کی وجہ سے ایمان کی چاشنی محسوس کرے گا۔ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک ساری دنیا سے بڑھ کر محبوب ہوں، وہ جس آدمی سے محبت کرے صرف اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرے اور اسے دوبارہ کفر میں لوٹ جانا، جب کہ اللہ نے اسے اس سے نکال لیا ہے، اسی طرح ناپسند ہو جس طرح اسے آگ میں ڈالا جانا نا پسند ہے۔} [219]

86- صحیحین ہی میں انس رضی اللہ عنہ ہی سے مرفوعًا روایت ہے:

{تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔} [220]

87- مقدام بن معدی کرب کِندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

{عن قریب ایسازمانہ آنے والا ہےکہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو گا۔ اُسے میری کوئی حدیث سنائی جائے گی، تو کہے گا: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ عزوجل کی کتاب ہے۔ ہمیں اس میں جو چیز حلال ملے گی، اسے حلال مانیں گے اور جو چیز اس میں ملے گی، اسے حرام قرار جانیں گے!! سُن لو! جو کچھ اللہ کے رسول ﷺ نے حرام فرمایا ہے، وہ بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا حرام کیا ہوا۔} [221]

اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

 باب : نبی ﷺ کا سنت کو لازم پکڑنے کی ترغیب دینا اور بدعت، اختلاف و انتشار سے خبردار کرنا

اللہ تعالی کا فرمان ہے:{یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔} [224][سورہ الأحزاب: 21 ].مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے:{بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلادیں گے۔} [225][سورہ الأنعام: 159].مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے:{اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کردیا ہے، جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا، کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔} [226][سورہ الشورىٰ: 13].88- عِرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں:{رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہمیں ایک موثر نصیحت فرمائی، جس سے لوگوں کی آنکھیں بہہ پڑیں اور دل لرز گئے۔ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول! یہ نصیحت، رخصت ہونے والے کی نصیحت جان پڑتی ہے۔ ایسے میں آپ ہمیں کس چیز کی وصیت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے، امیر کی بات سننے اور اسے ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو! کیونکہ تم میں سے جو زندہ رہے گا، وہ (امت کے اندر) بہت سارے اختلافات دیکھے گا۔ اس لیے تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر قائم اور جمے رہنا اور اسے اپنے کچلی کے دانتوں سے پکڑے رہنا۔ اور خبردار! تم (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزوں سے بچنا۔ کیونکہ (دین کے نام پر وجود میں آنے والی) ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔} [227]۔

اسے ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے صحیح کہا ہے۔

انہیں کی ایک دوسری روایت میں ہے:

{میں نے تمہیں روشن شاہراہِ (ہدایت) پر چھوڑا ہے، جس کی رات بھی اس کے دن کے مانند اجالی ہے۔ میرے بعد اس سے صرف وہی شخص برگشتہ ہوگا، جس کے مقدر میں ہلاکت لکھ دی گئی ہو اور میرے بعد جو زندہ رہے گا، وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا...} [228]-

اس کے بعد اس معنی کی دیگر روایتیں پیش کیں۔

89- صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{امّابعد؛ سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔} [229]

90- صحیح بخاری ہی میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{"میری امت کے سارے لوگ جنت میں جائیں گے، سوائے ان کے جو منع کر دیں گے۔"

کہا گیا : بھلا کون منع کرے گا؟

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اسی نے منع کیا۔} [233]۔

91- صحیحین ہی میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:{تین لوگ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس نبی کریم ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھنے آئے۔ جب انہیں نبی کریم ﷺ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا، تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم ﷺ سے کیا مقابلہ! آپ کے تو سارے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں! چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا : جہاں تک میری بات ہے تو میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا : میں ہمیشہ دن میں روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا ۔ تیسرے نے کہا : میں عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لے گ‏ئے اور پوچھا: "کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! میں تمھارے اندر اللہ کا سب سے زیادہ خوف رکھنے والا اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں۔ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ لہذا جس نے میرے طریقے سے بے رخی برتی، وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔} [237]۔

{تین لوگ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس نبی کریم ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھنے آئے۔ جب انہیں نبی کریم ﷺ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا، تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم ﷺ سے کیا مقابلہ! آپ کے تو سارے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں! چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا : جہاں تک میری بات ہے تو میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا : میں ہمیشہ دن میں روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا ۔ تیسرے نے کہا : میں عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لے گ‏ئے اور پوچھا: "کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! میں تمھارے اندر اللہ کا سب سے زیادہ خوف رکھنے والا اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں۔ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ لہذا جس نے میرے طریقے سے بے رخی برتی، وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔} [237]۔

92- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

{اسلام کی ابتدا اجنبیت کی حالت میں ہوئی تھی اور ایک بار پھر، ابتدائی دنوں کی طرح، اسلام اُسی اجنبیت کی حالت میں چلاجائے گا۔ سو مبارک باد ہے غرباء یعنی اجنبیوں کے لیے۔}

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

93- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{تم میں س کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔}

اسے امام بغوی نے ’شرح السُنّہ‘ میں روایت کیا ہے اور نووی نے صحیح کہا ہے۔

94- اور ان سے ہی مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:{"میری امت پر ایک زمانہ ضرور ایسا آئے گا، جیسا بنی اسرائیل پر آیا تھا۔ بالکل ویسے، جیسے ایک جوتی دوسری جوتی سے مشابہ ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر اُن میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ طور پر زنا کیا ہوگا، تو میری اُمت میں بھی ایسا شخص ہوگا، جو ایسا (گھناؤنا) کام کرے گا۔ بنو اسرائیل بہتّر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت کے لوگ تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائیں گے۔ اُن میں سب کے سب جہنمی ہوں گے، سوائے ایک فرقے کے۔"

{"میری امت پر ایک زمانہ ضرور ایسا آئے گا، جیسا بنی اسرائیل پر آیا تھا۔ بالکل ویسے، جیسے ایک جوتی دوسری جوتی سے مشابہ ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر اُن میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ طور پر زنا کیا ہوگا، تو میری اُمت میں بھی ایسا شخص ہوگا، جو ایسا (گھناؤنا) کام کرے گا۔ بنو اسرائیل بہتّر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت کے لوگ تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائیں گے۔ اُن میں سب کے سب جہنمی ہوں گے، سوائے ایک فرقے کے۔"

صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سا فرقہ ہوگا؟

آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس راستے کی پیروی کی، جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں۔"} [240]۔

اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔

95- صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے :

{جس نے ہدایت کی دعوت دی، اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے گمراہی کی دعوت دی، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ہوگا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔} [243]۔

96- صحیح مسلم ہی میں ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:{ایک شخص نبی اللہ ﷺ کے پاس آیا اور بولا : میرے پاس سواری نہیں رہی، لہذا میرے لیے سواری کا انتظام کر دیجیے۔۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”میرے پاس سواری نہیں ہے۔" اس پر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اِسے ایسے شخص کے پاس بھیج سکتا ہوں، جو اسے سواری دے سکتا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

{ایک شخص نبی اللہ ﷺ کے پاس آیا اور بولا : میرے پاس سواری نہیں رہی، لہذا میرے لیے سواری کا انتظام کر دیجیے۔۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”میرے پاس سواری نہیں ہے۔" اس پر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اِسے ایسے شخص کے پاس بھیج سکتا ہوں، جو اسے سواری دے سکتا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

”جس نے بھلائی کا راستہ دکھایا، اسے اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کہ اس کے کرنے والے کو ملتا ہے۔‘‘} [244]

97- عمرو بن عوف -رضي الله عنہ ۔ سے مرفوعًا روایت ہے:

{جس نے میری کسی سنت کو زندہ کیا، جس پر لوگوں نے میرے بعد عمل کرنا چھوڑ دیا تھا، اسے اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا بعد میں اس سنت پر عمل کرنے والے لوگوں کو ملے گا۔ لیکن اس سے ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اسی طرح جس نے کوئی بدعت جاری کی، جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند نہ ہو، اسے اس پر عمل کرنے والے لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہو گا اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔} [245]۔

اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن کہا ہے۔ اسی طرح ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے اور الفاظ ابن ماجہ کے ہیں۔

98- عبد اللہ بن مسعود -رضی الله عنه- سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں :

{اس وقت تمھارا کیا حال ہوگا، جب تمھارے بیچ فتنہ ایسے عام ہو جائے گا کہ چھوٹے اسی میں پروان چڑھیں گے، بڑے اسی میں ادھیڑ ہوں گے اور اسی کو سنت بناکر لوگ اس پر عمل پیرا ہو جائیں گے۔ جب اس میں سے کسی چیز کو بدلا جائے گا، تو لوگ کہیں کے کہ ایک سنت چھوڑ دی گئی۔ کسی نے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمن! یہ فتنہ کب رونما ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا : جب تمھارے اندر پڑھنے والے زیادہ اور سمجھنے والے کم ہوجائیں گے، مال ودولت کی کثرت ہوجائے گی اور امانت دار کم ہو جائیں گے، آخرت کے عمل سے دنیا طلبی کی جانے لگے گی اور دین کی بجائے دیگر مقاصد کے پیش نظر تفقہ حاصل کیا جانے لگے گا۔} [246] اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

99- زیاد بن حدیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز اسلام کو منہدم کردیتی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: اسے عالِم کی لغزش، منافق کا قرآن کے ذریعہ مباحثہ اور گمراہ کن حاکموں کی حکومت منہدم کرتی ہے۔ [247]

اسے بھی دارمی نے روایت کیا ہے۔

100- حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں :{ہر وہ عبادت، جسے محمد ﷺ کے صحابہ نے نہ کیا ہو، تم اسے نہ کرنا، کیوں کہ پہلے دور کے لوگوں نے بعد والوں کے لیے کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رکھی ہے۔ اس لیے اے علما کی جماعت! تم اللہ سے ڈرو اور اپنے پیش رو کے نقشِ قدم پر چلو۔}

{ہر وہ عبادت، جسے محمد ﷺ کے صحابہ نے نہ کیا ہو، تم اسے نہ کرنا، کیوں کہ پہلے دور کے لوگوں نے بعد والوں کے لیے کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رکھی ہے۔ اس لیے اے علما کی جماعت! تم اللہ سے ڈرو اور اپنے پیش رو کے نقشِ قدم پر چلو۔}

اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

101- ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس شخص کو طریقہ اختیار کرنا ہو، وہ گزرے ہوئے لوگوں کا طریقہ اختیار کرے؛ کیونکہ زندہ کے بارے میں فتنےکا اندیشہ ہے۔ جب کہ وہ لوگ محمد ﷺ کے صحابہ تھے۔ اس امت میں سب سے افضل، نیک ترین دل والے، گہرے علم کے مالک اور بے تکلف لوگ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی کی رفاقت اور اپنے دین کی اقامت کے لیے منتخب کیا تھا۔ لہٰذا ان کافضل پہچانو، ان کے نقش قدم کی پیروی کرو اور جس قدر ممکن ہو ان کے اخلاق اور سیرت کو اپنا‎ؤ۔ کیونکہ وہ لوگ سیدھے راستے پر گامزن تھے۔

اسے رزین نے روایت کیا ہے۔

102- عمرو بن شعيب سے روایت ہے، وہ اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:{نبیﷺ نے کچھ لوگوں کو قرآن کے بارے میں جھگڑتے ہوئے سُنا، تو فرمایا : ’’تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک کردی گئیں۔ انہوں نے اللہ کی کتاب کی بعض آیتوں کو بعض پر دے مارا۔ جب کہ اللہ کی کتاب اس طرح نازل کی گئی ہے کہ اس کی بعض آیتیں بعض آیتوں کی تصدیق کرتی ہیں۔ اس لیے تم کچھ آیتوں کے ذریعہ کچھ آیتوں کو مت جھٹلاؤ۔ جس کے بارے میں علم ہو، اس کے متعلق باتیں کرو اور جس کے بارے میں علم نہ ہو، اسے اُس کے جاننے والوں کے سپرد کردو۔} [248]۔

{نبیﷺ نے کچھ لوگوں کو قرآن کے بارے میں جھگڑتے ہوئے سُنا، تو فرمایا : ’’تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک کردی گئیں۔ انہوں نے اللہ کی کتاب کی بعض آیتوں کو بعض پر دے مارا۔ جب کہ اللہ کی کتاب اس طرح نازل کی گئی ہے کہ اس کی بعض آیتیں بعض آیتوں کی تصدیق کرتی ہیں۔ اس لیے تم کچھ آیتوں کے ذریعہ کچھ آیتوں کو مت جھٹلاؤ۔ جس کے بارے میں علم ہو، اس کے متعلق باتیں کرو اور جس کے بارے میں علم نہ ہو، اسے اُس کے جاننے والوں کے سپرد کردو۔} [248]۔

اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

 باب : طلب علم پر ابھارنے اور اس کی کیفیت کا بیان

103- اس باب سے متعلق ایک حدیث فتنۂ قبر کے حوالے سے صحیحین میں موجود ہے : {نعمت میں رہنے والا شخص کہے گا: وہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت کے ساتھ آئے، تو ہم ان پر ایمان لے آئے، ان کی بات مان گئے اور ان کی پیروی کرنے لگے۔ جب کہ عذاب میں گرفتار شخص کہے گا: میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا، تو میں نے بھی کہہ دیا۔} [249]

104- صحیحین ہی میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

{جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔} [254]۔

105-صحیحین میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{اللہ تعالیٰ نے مجھے جس علم و ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے، اس کی مثال زبردست بارش کی سی ہے، جو زمین پر خوب برسی۔ چنانچہ زمین کا کچھ حصہ زرخیز تھا، سو اس نے پانی کو جذب کر لیا اور گھاس اور ہریالیاں اگائیں۔ جب کہ اس کا کچھ حصہ سخت تھا، جس نے پانی کو روک لیا اور اللہ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔ چنانچہ لوگوں نے وہاں کا پانی خود پیا، اپنے جانوروں کو پلایا اور کھیتوں کو سیراب کیا۔ اس کے مقابلے میں زمین کے ایک ایسے حصے پر بھی بارش ہوئی، جو چٹیل میدانوں کی حیثیت رکھتا ہے، جو نہ پانی روکتا ہے اور نہ گھاس اگاتا ہے۔ تو یہ اس شخص کی مثال ہے جو اللہ کے دین میں سمجھ حاصل کرے اور اس کو وہ چیز نفع دے جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں کہ وہ اسے سیکھے اور سکھائے اور اس شخص کی مثال ہے جس نے اس پر توجہ نہیں دی اور جو ہدایت دے کر میں بھیجا گیا ہوں اسے قبول نہیں کیا۔} [255]

106- صحیحین ہی میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے:

{جب تم اُن لوگوں کو دیکھو، جو قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگتے ہیں، تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ نے {فاحذروھم} (اُن سے بچو) کے ضمن میں لیا ہے۔} [257]-

107- ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:{مجھ سے پہلے اللہ نے جتنے نبی بھیجے، ان کی امت کے اندر ان کے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو ان کی سنت پر عمل اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوئے، جو ایسی باتیں کہتے، جو وہ کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ کام تھے جن کا انھیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ پس جو شخص ان سے ہاتھ سے جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہے، جو ان سے دل سے جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہے اور جو ان سے اپنی زبان سے جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہے، اور اس کے علاوہ رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔} [259]

{مجھ سے پہلے اللہ نے جتنے نبی بھیجے، ان کی امت کے اندر ان کے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو ان کی سنت پر عمل اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوئے، جو ایسی باتیں کہتے، جو وہ کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ کام تھے جن کا انھیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ پس جو شخص ان سے ہاتھ سے جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہے، جو ان سے دل سے جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہے اور جو ان سے اپنی زبان سے جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہے، اور اس کے علاوہ رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔} [259]

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

108- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم یہود سے کچھ ایسی باتیں سنتے ہیں، جو ہمیں بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ تو کیا آپ مناسب سمجھتے ہیں کہ ہم ان میں سے کچھ باتوں کو لکھ لیا کریں؟! آپ ﷺ نے جواب دیا :

{کیا تم بھی یہود و نصاریٰ کی طرح تحیر کے شکار ہوکر مشکل میں پڑنا چاہتے ہو! میں تو تہمارے پاس اجلا اور صاف ستھرا دین لایا ہوں اور اگر آج موسیٰ بھی زندہ ہوتے، تو ان کے پاس بھی میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔}} [260]۔

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

109- ابو ثعلبہ خشنی-رضی الله عنه- سے مرفوعًا روایت ہے:

{اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں انھیں ضائع نہ کرو، کچھ حدیں مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، کچھ چیزیں حرام کی ہیں ان کا ارتکاب کر کے ان کی حرمت پامال نہ کرو اور کچھ چیزوں سے، تم پر شفقت کی بنا پر، نسیان کے شکار ہوئے بنا، خاموشی اختیار کی ہے۔ چنانچہ ان کے متعلق بحث و کرید نہ کرو۔}

یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔ اسے دار قطنی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

110- صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

{میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ، اس لیے کہ تم سے پہلے کے لوگوں کو بکثرت سوال اور اپنے انبیا سے اختلاف نے ہلاک کردیا۔} [261]

111۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے، جس نے میری کوئی بات سنی، پھر اسے یاد اور محفوظ رکھا اور دوسروں تک پہنچا دیا۔ کیوں کہ بہت سے فقہ کے حاملین غیر فقیہ ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ فقہ کو ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں، جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں۔ تین چیزیں ہیں کہ ان کے بارے میں کسی مسلمان کا دل راہ راست سے بھٹکتا نہیں ہے : اللہ کے لیے اخلاص عمل، مسلمانوں کے تئیں خیر خواہی اور ان کی جماعت کو لازم پکڑنا۔ کیونکہ ان کی دعا انہیں ان کے پیچھے سے گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔} [263]

اسے شافعی، بیہقی نے ’المدخل‘ میں، احمد، ابن ماجہ اور دارمی نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

112- اسے احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

113- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{علم تین ہیں : غیر منسوخ آیت کا علم، عملی تسلسل کی حامل سنت کا علم اور انصاف پر مبنی میراث کا علم۔ ان کے علاوہ باقی علوم زائد علوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔} [266]

اسے دارمی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

114- ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

{جس نے قرآن میں اپنی عقل و رائے سے کچھ کہا، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔} [267]

اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔

115- ایک اور روایت میں ہے:

{جس نے بغیر علم کے قرآن کی تفسیر کی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔} [268]

اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔

116- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{جس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا، اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہو گا اور جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے امر کا مشورہ دیا، جس کے بارے میں وہ جانتا ہو کہ بھلائی اس میں مضمر نہیں ہے، اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔} [269]

اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

117- معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: {نبی ﷺ نے دشوار اور مشکل مسائل میں پڑنے سے منع فرمایا ہے۔}

اس حدیث کو بھی ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

118۔ قیس بن کثیر کہتے ہیں: میں ابودرداء کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور بولا : اے ابو درداء! میں آپ کے پاس مدینہ سے ایک حدیث سننے آیا ہوں، جس کے بارے میں مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسے آپ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ میںکسی اور ضرورت کے تحت نہیں آیا ہوں۔ ابو درداء نے کہا : تو سنو! میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا ہے:

{جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے۔ بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ یقینًا عالم کے لیے آسمانوں و زمین کی ساری مخلوقات اور پانی کے اندر کی مچھلیاں مغفرت طلب کرتی ہیں۔ عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے، جیسے چودھویں کی رات کو چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔ بے شک علما، انبیا کے وارث ہیں اور انبیا کسی کو دینار اور درہم کا وارث نہیں بناتے، بلکہ وہ علم کا وارث بناتے ہیں۔ اس لیے جس نے علم حاصل کر لیا، اس نے نبوی میراث کا بھر پور حصہ حاصل کر لیا۔} [270]۔

اسے احمد، دارمی، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

119- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

{حکمت کی بات مؤمن کی گمشدہ چیز ہے۔ جہاں بھی اسے پائے، وہ اسے لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔} [275]

اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور غریب کہا ہے۔ ابن ماجہ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔

120- علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: {حقیقی فقیہ وہ ہے، جو نہ لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرے، نہ انہیں اللہ کی فرمانی ک چھوٹ دے، نہ اللہ کے عذاب سے مامون بنائے، نہ قرآن کو چھوڑ کر کسی اور کتاب کی طرف مائل ہو۔ ایسی عبادت میں کوئی بھلائی نہیں، جو علم پر مبنی نہ ہو، نہ ایسے علم میں کوئی بھلائی ہے، جس میں سمجھ داری نہ ہو اور نہ ایسی پڑھائی میں کوئی بھلائی ہے، جس میں تدبّر نہ ہو۔} [276]

121- حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{جسے اس حال میں موت آئے کہ وہ اسلام کے احیا کے لیے علم حاصل کر رہا ہو، جنت میں اُس کے اور نبیوں کے بیچ صرف ایک درجے کا فرق ہوگا۔} [277]

دونوں حدیثوں کو دارمی نے روایت کیا ہے۔

 باب : علم کا اٹھا لیا جانا

122- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:{ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ اچانک آپ نے اپنی نظریں آسمان پر گاڑ دیں۔ پھر فرمایا : ”ایسا وقت آ گیا ہے کہ جس میں لوگوں کے سینوں سے علم اچک لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے پاس کچھ بھی علم نہیں ہو گا۔} [278]

{ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ اچانک آپ نے اپنی نظریں آسمان پر گاڑ دیں۔ پھر فرمایا : ”ایسا وقت آ گیا ہے کہ جس میں لوگوں کے سینوں سے علم اچک لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے پاس کچھ بھی علم نہیں ہو گا۔} [278]

اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔

123- زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: {نبی اکرم ﷺ نے کسی بات کا ذکر کیا اور فرمایا : ”یہ اس وقت ہو گا، جب علم اٹھ جائے گا۔“ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! علم کیسے اٹھ جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں، پھر ہمارے بچے اپنے بچوں کو پڑھائيں گے اور یہ سلسلہ قیامت جاری رہے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا :زیاد! تمہاری ماں تم پر روئے، میں تو تمہیں مدینے کے سب سے سمجھ دار لوگوں میں شمار کرتا تھا! کیا ایسا نہیں ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ بھی توریت اور انجیل پڑھتے ہیں، لیکن ان دونوں کتابوں کی کسی بات پر عمل نہیں کرتے؟!} [279]

اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

124- ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وه کہتے ہیں:

{علم کو لازم پکڑو، قبل اس کے کہ اسے اٹھا لیا جائے۔ دراصل علم کے اٹھا لیے جانے سے مراد ہے علما کا دنیا سے رخصت ہو جانا۔ تم علم کو لازم پکڑو، اس لیےکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ خود اسے کب اس کی ضرورت پڑ جائے یا کسی اور کو اس کے علم کی ضرورت پڑ جائے۔ عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤگے، جو یہ دعوی کریں گے کہ وہ اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دے رہے ہیں، مگر انہوں نے اسے پس پشت ڈال رکھا ہوگا۔ تم علم کو لازم پکڑو اور بدعت، تکلف اور بال کی کھال نکالنے سے بچو اور قدیم باتوں (جن پر امت کا کاروانِ اول گامزن تھا اور وہ کتاب وسنت ہے) کو لازم پکڑ لو۔}

دارمی نے اسے اسی جیسے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

125- صحیحین میں ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعًا روایت ہے:

{اللہ تعالی علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں سے (یک بارگی) چھین کر ختم کردے، بلکہ علما کو وفات دے کر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا، تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنالیں گے۔ پھر لوگ ان سے مسائل پوچھیں گے، تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔ سو وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔} [281]

126- علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آجائے، جب اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کی صرف صورت باقی رہ جائے گی۔ مسجدیں آباد تو ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی۔ اُن کے علما آسمان کے نیچے ساری مخلوقات میں بدترین لوگ ہوں گے۔ انہی کے بیچ سے فتنے نکلیں گے اور انھی کے بیچ لوٹ جائیں گے۔}

اسے بیہقی نے 'شعب الایمان' میں روایت کیا ہے۔

 ریا و نمود اور بحث و تکرار کرنے کے لیے علم حاصل کرنے کی ممانعت

127- کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{جو شخص علم اس واسطے سیکھے کہ اس کے ذریعہ علما کے مقابلہ کرے ، کم علموں اور بے وقوفوں سے بحث کرے یا اس کے ذریعہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لے، تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل فرمائے گا۔} [282]

اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔

128- ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

{جب کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد گمراہ ہو جاتی ہے، تو بحث و تکرار میں پڑ جاتی ہے۔۔} [283]اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:{مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [284] (یہ لوگ تیرے سامنے صرف جھگڑے کے طور پر کہتے ہیں، بلکہ یہ لوگ طبعاً جھگڑالو ہیں۔}[سورہ الزخرف: 58]

اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

{مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [284] (یہ لوگ تیرے سامنے صرف جھگڑے کے طور پر کہتے ہیں، بلکہ یہ لوگ طبعاً جھگڑالو ہیں۔}

[سورہ الزخرف: 58]

اسے احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

129- عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسنديده وہ آدمی ہے، جو سخت جھگڑالو فطرت کا ہو۔} [285]

صحیح بخاری و صحیح مسلم

130- ابو وائل سے مروی ہے، وہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جو شخص چار وجوہات کی بنا پر علم حاصل کرتا ہے، وہ جہنم میں داخل ہوگا -یا اس طرح کا کوئی دوسرا لفظ استعمال کیا- : (1) تاکہ وہ اس کے ذریعہ علما سے فخر و مباہات کرے (2) یا بے وقوفوں سے بحث وتکرار کرے (3) یا اس علم کے ذریعہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لے (4) یا اس سے حکمرانوں سے کچھ بخشش حاصل کرے۔

اسے دارمی نے روایت کیا ہے۔

131- ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو دین کے بارے میں بحث وتکرار کرتے ہوئے سُنا، تو اُن سے مخاطب ہو کر بولے: کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کے کچھ بندوں کو محض اس کی خشیت نے خاموش کر رکھا ہے، حالاں کہ وہ نہ تو گونگے ہیں نہ بہرے۔ بلکہ وہ علما، فصحا، سلاست وروانی کے امام اور شریف لوگ ہیں؛ اللہ کے ایّام کے بارے میں جاننے والے ہیں۔ مگر جب اللہ کی عظمت کو یاد کر لیتے ہیں، تو اُن کے ہوش اُڑ جاتے ہیں، اُن کے دل سیپارہ ہوجاتے ہیں اور اُن کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ پھر جب وہ ہوش میں آتے ہیں، تو پاکیزہ اعمال کے ذریعہ اللہ کے حضور پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے آپ کو کوتاہ دست تصور کرتے ہیں، حالاں کہ وہ انتہائی زیرک اور ہوشیار لوگ ہیں۔ نیز اپنا شمار گمراہوں اور خطا کاروں میں کرتے ہیں، حالاں کہ وہ نہایت نیک اور گناہوں سے دور رہنے والے لوگ ہیں۔ سنو! وہ اللہ کے لیے کیے ہوئے اپنے کثیر عمل کو کثیر نہیں سمجھتے اور اس کی رضامند کے لیے کیے گئے قلیل عمل پر راضی نہیں ہوتے۔ وہ اپنے اعمال کا بکھان بھی نہیں کرتے۔ جہاں بھی نظر آتے ہیں، اہتمام کرنے والے، خدشہ سے دامن گیر رہنے والے اور ڈرے سہمے رہتے ہیں۔

اسے ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔

132- حسن بصری نے کچھ لوگوں کو بحث وتکرار کرتے ہوئے سُنا، تو ان سے فرمایا:{یہ ایسے لوگ ہیں، جو عبادت سے اُکتا گئے ہیں، بات بنانے کو آسان سمجھ بیٹھے ہیں اور پرہیزگاری میں پچھڑ گئے ہیں، اس لیے اس طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔}

{یہ ایسے لوگ ہیں، جو عبادت سے اُکتا گئے ہیں، بات بنانے کو آسان سمجھ بیٹھے ہیں اور پرہیزگاری میں پچھڑ گئے ہیں، اس لیے اس طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔}

 باب : مختصر گفتگو کرنے اور تکلف و غلو آمیز بات سے بچنے کا بیان

133- ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

{حیا اور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں، جب کہ فحش کلامی اور کثرت کلام نفاق کی دو شاخیں ہیں۔} [288]

اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔

134- ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

{میرے نزدیک تم میں سب سے محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے نزدیکی حاصل کرنے والے لوگ وہ ہیں، جو تمھارے اندر سب سے اچھے اخلاق والے ہیں۔ میرے نزدیک تمھارے اندر سب سے قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور رہنے والے لوگ وہ ہیں، جو باتونی، بلااحتیاط بولنے والے اور منہ بھر بھر کر بولنے والے ہیں۔} [289]۔

اسے بیہقی نے 'شعب الایمان' میں روایت کیا ہے۔

135- ترمذی نے بھی اسی طرح کی حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

136- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک ایسے لوگ ظاہر نہ ہوں، جو اپنی زبانوں سے کھائیں گے، جس طرح گائے اپنی زبان سے کھاتی ہے۔} [290}

اسے احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

137- عبداللہ بن عمرو -رضي الله عنہ ۔ سے مرفوعًا روایت ہے:

{اللہ تعالیٰ ایسے بلیغ شخص کو ناپسند کرتا ہے، جو اپنی زبان سے اسی طرح کھاتا ہو، جیسے گائے اپنی زبان سے کھاتی ہے۔} [291] اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

138۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{جو شخص مختلف انداز میں بات کرنا اس لیے سیکھے، تاکہ اس سے آدمیوں یا لوگوں کے دلوں کو گرفتار کر لے، قیامت کے دن اللہ نہ اس کی نفل (عبادت) قبول کرے گا اور نہ فرض (عبادت)۔} [292] اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

139- عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وه بیان کرتی ہیں:{رسول اللہ ﷺ کی گفتگو کے الفاظ الگ الگ ہوتے تھے، جسے ہر سننے والا سمجھ لیتا تھا۔ وہ مزید کہتی ہیں: آپ ﷺ ہم سے اس طرح بات کرتے کہ اگر کوئی آپ کے لفظوں کو گننا چاہتا، تو گن سکتا تھا۔ وہ آگے کہتی ہیں: آپ ﷺ تمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے۔} [293]

{رسول اللہ ﷺ کی گفتگو کے الفاظ الگ الگ ہوتے تھے، جسے ہر سننے والا سمجھ لیتا تھا۔ وہ مزید کہتی ہیں: آپ ﷺ ہم سے اس طرح بات کرتے کہ اگر کوئی آپ کے لفظوں کو گننا چاہتا، تو گن سکتا تھا۔ وہ آگے کہتی ہیں: آپ ﷺ تمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے۔} [293]

ابوداؤد نے اس کے بعض حصے کو روایت کیا ہے۔

140- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

{جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو، جو دنیا کی طرف سے بے رغبت اور کم گو ہو، تو اس سے قربت اختیار کرو، کیونکہ وہ حکمت و دانائی کی بات بتائے گا۔} [295]

اسے بیہقی نے 'شعب الایمان' میں روایت کیا ہے۔

141- بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

{کچھ باتیں جادو بھری ہوتی ہیں، کچھ علم مبنی بر جہالت ہوتے ہیں، کچھ اشعار حکمت والے ہوتے ہیں اور کچھ باتیں محتاج (بیان) ہوتی ہیں۔} [296]

142۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: {ایک دن ایک شخص کھڑے ہو کر بے تحاشہ بولے جا رہا تھا، تو اس پر عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر وہ بات کرنے کے معاملے میں میانہ روی سے کام لیتا، تو اس کے لیے بہتر ہوتا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: "مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے یا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں گفتگو میں اختصار سے کام لوں، اس لیے کہ اختصار ہی بہتر ہے۔}

دونوں حدیثوں کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

آخر میں ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے سزاوار ہیں، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اس کی بہت زیادہ تعریف ہے۔


اصولِ ایمان....................................................................................................................................... 1

باب : اللہ عزّ وجلّ کی معرفت اور اُس پر ایمان.............................................................................................. 1

باب : فرمانِ باری تعالیٰ {حَتَّىٰ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا الْحَقَّ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ۔} (یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وه بلند وباﻻ اور بہت بڑا ہے۔) [94] [سورہ سبأ : 23].... 4

باب : فرمانِ باری تعالیٰ: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ۔} (اوران لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے، جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔)[99] [ سورہ الزمر: 67].................................................... 4

باب : تقدیر پر ایمان............................................................................................................................ 6

باب : فرشتوں کا ذکر اور ان پر ایمان......................................................................................................... 8

کتاب اللہ کی وصیت.......................................................................................................................... 11

باب : نبی ﷺ کے حقوق...................................................................................................................... 13

باب : نبی ﷺ کا سنت کو لازم پکڑنے کی ترغیب دینا اور بدعت، اختلاف و انتشار سے خبردار کرنا..................................... 14

باب : طلب علم پر ابھارنے اور اس کی کیفیت کا بیان...................................................................................... 16

باب : علم کا اٹھا لیا جانا..................................................................................................................... 18

ریا و نمود اور بحث و تکرار کرنے کے لیے علم حاصل کرنے کی ممانعت.............................................................. 19

باب : مختصر گفتگو کرنے اور تکلف و غلو آمیز بات سے بچنے کا بیان................................................................. 20

فیڈ بیک