علمی زمرے

  • اردو

    PDF

    شیخ محمد صالح المنجد -حفظه الله- سے پوچھا گیا : کہ كيا گھر ميں نماز تراويح ادا كرنا جائز ہے ؟ اور كيا خاوند امام بن كر بيوى كے ساتھ نماز تراويح ادا كر سكتا ہے ؟

  • اردو

    PDF

    ہمارے گھر كے قريب مسجد ہے جس ميں ہم روزانہ نماز پنجگانہ ادا كر سكتے ہيں، ليكن ہفتہ كے آخر ميں چھٹى كے دن اور جمعہ ادا كرنے ميں قريب ترين مسجد جاتا ہوں, ميرا ايك بيٹا ہے جس كى عمر سولہ برس ہے وہ اكثر نماز كى پابندى نہيں كرتا. اور نماز بھى اس وقت ادا كرتا ہے جب اسے بار بار كہا جائے اور اور اس كا پيچھا كيا جائے، اور بعض اوقات تو تجاہل سے كام ليتا ہے، اسى طرح ہمارے ساتھ ميرى بيوى كا بھائى بھى رہتا ہے جو يونيورسٹى ميں زير تعليم ہے، جب ميں گھر ميں ہوتا ہوں تو گھر ميں ہى نماز پڑھانے كى كوشش كرتا ہوں تا كہ بيٹا اور اس ماموں بھى نماز ادا كر ليں، اور اسى طرح بيوى اور ميرى دونوں بيٹياں بھى وقت پر نماز ادا كريں. ميرا سوال يہ ہے كہ: اول: گھر كے نزديك مسجد نہ ہونے كى صورت ميں گھر ميں ہى نماز ادا كرنے كا حكم كيا ہے ؟ دوم: مسجد كى بجائے گھر ميں نماز باجماعت ادا كرنے كا حكم كيا ہے تا كہ يقين كيا جا سكے كہ گھر كے افراد نے بھى نماز ادا كر لى ہے ؟ سوم: مجھے علم ہے كہ والدين كى ذمہ دارى ہے كہ وہ اپنے بچوں كو دينى تعليم ديں، اور اللہ سبحانہ و تعالى كے احكام كى پابندى كا التزام كروائيں، ميں يہ پوچھنا چاہتا ہوں كہ آيا كوئى ايسى عمر ہے جس كے بعد والدين بچے كى ذمہ دارى سے سبكدوش ہو جاتے ہيں ؟ اللہ سبحانہ و تعالى ہميں اور سب كو سيدھى راہ كى توفيق عطا فرمائے، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

فیڈ بیک