علمی زمرے

  • video-shot

    YOUTUBE

    اس بات کا بیان کہ دین مکمل ہوگیا ہے اس میں کمی وزیادتی کرنا بدعت ہے،اورجوبھی چیز کتاب وسنت اور سنت خلفائے راشدین کے خلاف ہے وہ بدعت ہے،اسی طرح جو بھی چیز خیرالقرون کے عہد میں نہ پائی گئی وہ چیزبدعت ہے۔پھررجب وشعبان کی اہمیت وفضیلت بیان کرکے اس مہینہ کے اندرکی جانی والی بدعات سے پردہ اٹھاکران سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے، اوریہ واضح کیا ہے کہ کتاب وسنت اورخلفائے راشدین کے اصول ومنہج کی طرف رجوع کرکے ہی بدعات سے نجات پایا جاسکتا ہے۔

  • video-shot

    MP4

    ماہِ رجب کا معنی اور اسکی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ ماہِ رجب کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ماہِ رجب کےتعلّق سے وارد روایات کیا ہیں؟ ماہِ رجب کے تعلّق سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول کیا تھا ؟ ماہِ رجب کے تعلّق سے کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خصوصی عمل ثابت ہے یا نہیں؟ ماہَ رجب میں بدعات وخرافات کوعبادت سمجھ کرانجام دینا کیسا ہے؟ ان سب کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کیلئے شیخ عبد المجید بن عبد الوہاب مدنی ۔ حفظہ اللہ ۔ کے اس ویڈیو کا ضرور مشاہدہ فرمائیں۔

  • PDF

    ہر قمری مہینہ کی گیارہویں رات کو شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کے نام پر جو کھانا تیار کیا جاتا ہے وہ ‘‘گیارہویں شریف’’ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا رواج نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، نہ صحابہ، نہ تابعین، نہ ائمہ دین اور نہ خود شیخ عبد القادر جیلانی کے دور میں ہوا بلکہ یہ بعد کی ایجاد کردہ بدعت ہے جس میں بہت سارے شرک وبدعت پر مبنی امور انجام دئے جاتے ہیں جبکہ آپ رحمہ اللہ خود شرک وبدعت سے سختی سے منع کرتے تھے اور سنت کو اپنانے کو لازم قرار دیتے تھے۔ پیش نظر مختصر رسالہ میں شیخ عبد القادر جیلانی کی بعض تعلیمات وارشادات بیان کرنے کے بعد گیارہویں شریف کی بدعت سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور اس رات میں کی جانے والی بارہ سے زائد شرعی مخالفتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

  • PDF

    موجودہ زمانے میں اہل بدعت نے دین کے نام پر بے شمار بدعات ایجاد کرلی ہیں اور نصوص شریعت کو غلط معانی پہنا کر اپنی ایجاد کردہ باتوں کو پھیلا رہے ہیں۔ اس مختصر سے مضمون میں ان کی بدعات میں سے عید میلاد کی بدعت کا تذکرہ کیا گیا ہے جس میں سب سے پہلے بدعت کا لغوی وشرعی مفہوم بیان کیا گیا ہے پھر عید میلاد کی تاریخ اور اسکے جواز میں پیش کردہ احادیث کا علمی رد ّ پیش کیا گیا ہے۔

  • PDF

    برائے مہربانى درج ذيل موضوع كے متعلق معلومات مہيا كريں: عيد ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كے موضوع ميں لوگ دو گروہوں ميں بٹے ہوئے ہيں، ان ميں سے ايك گروہ تو كہتا ہے كہ يہ بدعت ہے كيونكہ نہ تو يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں منائى گئى اور نہ ہى صحابہ كے دور ميں اور نہ تابعين كے دور ميں. اور دوسرا گروہ اس كا رد كرتے ہوئے كہتا ہے كہ: تمہيں جو كوئى بھى يہ كہتا ہے كہ ہم جو كچھ بھى كرتے ہيں وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں يا پھر صحابہ يا تابعين كے دور ميں پاياگيا ہے، مثلا ہمارے پاس علم رجال اور جرح و تعديل نامى اشياء ايسى ہيں اور ان كا انكار بھى كوئى شخص نہيں كرتا حالانكہ انكار ميں اصل يہ ہے كہ وہ بدعت نئى ايجاد كردہ ہو اور اصل كى مخالف ہو. اور جشن عيد ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كى اصل كہاں ہے جس كى مخالفت ہوئى ہے، اور بہت سارے اختلافات اس موضوع كے گرد گھومتے ہيں ؟ اسى طرح وہ اس كو دليل بناتے ہيں كہ ابن كثير رحمہ اللہ نے جشن ميلاد منانے كو صحيح كہا ہے، اس ليے آپ اس سلسلہ ميں شرعى دلائل كے ساتھ حكم واضح كريں ؟

  • PDF

    ميں درج طريقہ سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر دورد پڑھنے كى مشروعيت معلوم كرنا چاہتا ہوں طريقہ يہ ہے: ہر شخص اپنے جاننے والوں اور عزيز و اقارب ميں ايك محدود تعداد ميں درود پڑھنا تقسيم كرتا ہے پھر وہ اپنے عزيز و اقارب اور جان پہچا نركھنے والوں سے يہ درود ايك صفحہ ميں جمع كرتا ہے تا كہ سب شريك ہوں، مثلا كوئى ايك طالب علم محلہ ميں جا كر ہر گھر كے دروازے پر دستك دے كر ہر فيملى سے ايك ہزار يا اس سے زائد بار درود پڑھنے كا كہتا ہے اور انہيں كہتا ہے كہ ميں ايك ہفتہ بعد آ كر آپ سے يہ درود لے جاؤنگا جتى تعداد بھى ہو گى، چنانچہ كچھ لوگ ايك ہزار پورا كر ليتے ہيں اور كچھ اس سے زيادہ بھى كر ليتے ہيں تو اس طرح وہ تقريبا ڈيڑھ كروڑ درود كر ليتا ہے، اور اسى طرح سكول كے ہر طالب علم پر بھى پانچ درود تقسيم كيا جاتا ہے تو اس طرح تين كروڑ جمع ہو جائيگا، كيا آپ كے ليے اس موضوع كے متعلق كچھ لكھنا ممكن ہے تا كہ جن مجالس ميں يہ كام ہوتا ہے وہاں پيش كيا جائے اور اس كا رد پيش كريں، اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ سب كو اچھے عمل كرنے كى توفيق نصيت فرمائے.

  • PDF

    ميں دبى ميں رہائش پذير ہوں اور ہمارے گرد و پيش بہت سارے شيعہ رہتے ہيں وہ ہميشہ دعوى كرتے ہيں كہ نو اور دس محرم كو ہم جو كچھ كرتے ہيں وہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ محبت كى دليل ہے، اور ايسے عمل كرنے ميں كوئى حرج نہيں يہ بالكل ايسے ہى ہے جيسے يعقوب عليہ السلام نے كہا تھا: {ہائے يوسف! ان كى آنكھيں رنج و غم كى وجہ سے سفيد ہو چكى تھيں، اور وہ غم كو دبائے ہوئے تھے، بيٹوں نے كہا واللہ ! آپ ہميشہ يوسف كى ياد ہى ميں لگے رہيں گے يہاں تك كہ گھل جائيں يا ختم ہى ہو جائيں، انہوں نے كہا ميں تو اپنى پريشانيوں اور رنج كى فرياد اللہ ہى سے كر رہا ہوں، مجھے كى طرف سے وہ باتيں معلوم ہيں جو تم نہيں جانتے}. برائے مہربانى آپ يہ بتائيں كہ سينہ كوبى اور ماتم كرنا جائز ہے يا نہيں ؟

  • PDF

    شيخ عبد العزیز بن عبد اللہ ابن باز رحمہ الله سے ماہِ رجب سے متعلق مندرجہ ذیل سوالات کئے گئے جنکا جواب فتوى مذکورمیں باختصارپیش خدمت ہے. 1- بعض لوگ ماہ رجب کو بعض عبادات کیلئے خاص کرتے ہیں جیسے صلاۃ الرغائب، اور 27 ویں شب کو شب بیداری(شبِ معراج)، پس کیا ان کی شریعت میں کوئی بنیاد واصل ہے؟ 2- جب ماہ رجب کی پہلی جمعرات آتی ہے تو لوگ قربانی کرتے ہیں اور اپنے بچون کو نہلاتے ہیں، اور اس نہلانے کے دوران کہتے ہیں کہ: "ياخميس أول رجب نجّنا من الحصبة والجرب" (اے ماہِ رجب کی پہلی جمعرات ہمیں خسرہ اورخارش سے نجات عطا فرما)، اوراس دن كو "كرامت رجب" كا نام ديتے ہیں،ہمیں اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں؟ 3- میں نے پورے ماہِ رجب کی روزے رکھے کیا یہ بدعت ہے یا یہ صحیح عمل ہے؟ 4- ایک پینتیس 35 سال کی خاتون ہیں جوروزہ نماز کی پابند ہیں، اور یہ ماہِ شوال، رجب اور شعبان کے روزے رکھتی ہیں ، لیکن اسکے مخصوص ایام ان تینوں مہینے کے روزے رکھنے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں، پس کیا ان تینوں مہینے میں روزے رکھنے واجب ہیں یا پھرفقط انکے کچھ دنوں میں رکھ لئے جائیں؟ زیرنظرفتوى میں انہیں سوالوں کا مختصرجواب ہے.

  • PDF

    شيخ محمد بن صالح العثیمین -رحمہ الله- سےماہِ رجب سے متعلق مندرجہ ذیل سوالات کئے گئے جنکا جواب مختصراً پیشِ خدمت ہے: 1- ایک مسلمان کو کیا اعمال بجالانے چاہئے اگراسے یہ راتیں مثلاً ربیع الاول کی پہلی رات یا رجب کی پہلی رات میسرآجائے؟ 2-جمہوریہ شمالى یمن سے ایک سائل سوال پوچھتا ہے کہ: ہمارے یہاں یمن میں ایک مسجد تعمیرہے جسکا نام مسجد معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) ہے مگروہ مسجد الجند کے نام سے مشہورہے- ماہِ رجب کے ہرجمعہ کو لوگ مردوزَن اس کی زیارت کوآتے ہیں، کیا یہ مسنون ہے اس بارے میں نصیحت فرمائیں؟ 3- اللہ تعالى آپ کی حفاظت فرمائے اورثابت قدمى عطا فرمائے ،یہ ایک دوسراسائل دریافت کرتا ہے کہ رجب کی آٹھویں تاریخ کوروزہ رکھنے اوراسی طرح اس مہینے کی ستائیسویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ 4- بارک اللہ فیکم! سامعین میں سے آدم عثمان صاحب سوڈان سے پوچھتے ہیں کہ رجب کی پہلی جمعرات کا روزہ رکھنا صحیح ہے یا نہیں؟

  • PDF

    زیرمطالعہ کتاب میں مصنف حفظہ اللہ نے ہندوپاک میں مروجہ بدعات کا جائزہ لے کرانکا شرعى پوسٹ مارٹم کیا ہے چونکہ مصنف خود بھی پہلے بدعات میں ملوث تھے اللہ کے فضل وکرم سے سنت کی روشن شاہراہ پر گامزن ہوکر بطورخیرخواہی وہمدردی کے جذبہ سے زیرتبصرہ کتاب تالیف فرمائی . نہایت ہی معلومات افزاء اورحقائق کشا کتاب ہے جسکا مطالعہ بدعت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے لئے باعث ہدایت ثابت ہوگا.

  • PDF

    اسلامی مہینہ رجب کی بائیس تاریخ کو منائی جانے والی کونڈے بھرنے کی رسم موجودہ دورمیں برصغیرپاک وہند میں کافی شہرت ورواج پاچکی ہے.اوراس رسم کو جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے منسوب کردیا گیا ہے جبکہ اس رسم سے انکادور کا بھی واسطہ نہیں ’بلکہ یہ رسم دراصل شیعوں نے کاتب وحی امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے یوم وفات کی خوشی منانے کیلئے ایجاد کی تھی جسے نام نہاد اہل سنت کہلانے والے مسلمانوں نے بھى اندھی تقلید یا لا شعورى طورپر اپنا لیا- اس رسم کے ساتھ لکڑہارے کی خودساختہ داستان بھی وابستہ ہے- اس کتابچہ میں شیخ محمد صادق خلیل راشدى نے اس رسم کی تردید اور اس سے متعلقہ دیومالائی داستان کے خاص خاص حصوں کا علمی تحقیقی اور عقلی لحاظ سےجائزہ لیا ہے. اللہ تعالى موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کا مطالعہ راہ صواب سے بھٹکے ہوئے مسلمانوں کیلئے ہدایت وروشنی کا ذریعہ بنائے آمین!

  • PDF

    زیر نظر کتاب میں حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ نے محرم الحرام کی رسومات کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے غیر جانبداری سے سانحہ کربلا پربالدلائل اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے۔ حافظ صاحب نے شیعی رسومات کی تاریخ ایجاد و آغاز پر روشنی ڈالتے ہوئے یزید پر سب و شتم کے مسئلہ کو بھی بڑے احسن انداز سے قلم زد کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ شہادت حسین میں یزید کسی بھی حوالے سے ملوث نہیں تھے۔ فاضل مؤلف نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ سانحہ کربلا کے اسباب سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ واقعات شہادت میں مبالغہ آمیزی کی بھی قلعی کھولی ہے ,نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.

  • PDF

    جشن عید میلاد النبی جیسی بدعات کو اچھا سمجھنے والے کا رد : کیا بدعت کی تقسیم بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ میں کرنا صحیح ہے؟ اورکیا جشن میلاد النبی بدعت حسنہ میں سے ہے؟ علماء کرام کا اس سلسلے میں کیا موقف ہے؟ جانئے فتوى مذکور میں.

  • video-shot

    MP4

    اس ویڈیو سی ڈی میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مقلدین کے پچاس سوالوں کے مفصل جواب دیئے گئے ھیں۔

  • video-shot

    MP4

    اس ویڈیو سی ڈی میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مقلدین کے پچاس سوالوں کے مفصل جواب دیئے گئے ھیں۔

  • video-shot

    MP4

    اس ویڈیو سی ڈی میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مقلدین کے پچاس سوالوں کے مفصل جواب دیئے گئے ھیں۔

  • video-shot

    MP4

    اس ویڈیو سی ڈی میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مقلدین کے پچاس سوالوں کے مفصل جواب دیئے گئے ھیں۔

  • video-shot

    MP4

    اس ویڈیو سی ڈی میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مقلدین کے پچاس سوالوں کے مفصل جواب دیئے گئے ھیں۔

  • video-shot

    MP4

    اس ویڈیو سی ڈی میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مقلدین کے پچاس سوالوں کے مفصل جواب دیئے گئے ھیں۔

  • video-shot

    MP4

    اس ویڈیو سی ڈی میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مقلدین کے پچاس سوالوں کے مفصل جواب دیئے گئے ھیں۔

صفحہ : 4 - سے : 1
فیڈ بیک