کیا صوفیوں کے مشائخ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ رابطہ ہے ؟

وصف

سوال :اسلام میں صوفیوں کا کیا مقام ہے ؟ اور یہ قول کہاں تک صحیح ہے کہ کچھ اولیاء اورعبادت گزار اللہ تعالیٰ سے رابطہ رکھتے ہیں، اوربعض لوگ اس (ظاہرہ) کا اعتقاد رکھتے ہیں اور یہ کہ دنیا میں مختلف جگہ اور ادیان میں اس کا ثبوت ملتا ہے ۔اورجو لوگ صوفی ہونے یا صوفیوں کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی رویت کیسے ممکن ہے ؟ اور کیا نماز اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اللہ سبحانہ وتعالی ٰسے رابطہ کی قسم میں سے نہیں ہے؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

 کیا صوفیوں کے مشائخ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ رابطہ ہے

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :شعبۂ علمی اسلام سوال وجواب وشیخ محمد صالح المنجد۔حفظہ اللہ۔

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

 هل مشائخ الصّوفية متّصلون بالله؟

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوى: القسم العلمي بموقع الإسلام سؤال وجواب

و الشيخ/محمد بن صالح المنجد- حفظه الله-

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:شفيق الرحمن ضياء الله المدني

 :4983 کیا صوفیوں کے مشائخ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ رابطہ ہے؟

سوال: اسلام میں صوفیوں کا کیا مقام ہے ؟ اور یہ قول کہاں تک صحیح ہے کہ کچھ اولیاء اللہ اور عبادت گزار اللہ تعالی ٰسے رابطہ رکھتے ہیں ،بعض لوگ اس (ظاہرہ) کا اعتقاد رکھتے ہیں اور یہ کہ دنیا میں مختلف جگہ اور ادیان میں اس کا ثبوت ملتا ہے ۔اورجو لوگ صوفی ہونے یا صوفیوں کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی رویت کیسے ممکن ہے ؟ اور کیا نماز اور اللہ تعالی ٰ کا ذکر اللہ سبحانہ وتعالی ٰسے رابطہ کی قسم میں سے نہیں ہے؟

بتاریخ ۲۲-۶- ۱۹۹۹ء کونشرکیا گیا۔

جواب:

الحمد للہ :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کے دور میں صوفیت نام کی کوئی چيز نہیں تھی ، حتی کہ زاہد لوگوں کا ایک گروہ پیدا ہوا جو کہ اون کے موٹے کپڑے پہنا کرتے تھے تو انہیں صوفی کے نام سے پکارا جانے لگا۔

اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ صوفی (صوفیا )سے ماخوذ ہے اور یونانی زبان میں اس کا معنی ’’ حکمت‘‘ ہے نہ کہ جیسا کہ بعض یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ (الصفاء )سے ماخوذ ہے ، کیونکہ اگر (صفاء) کی طرف نسبت کی جائے تو ’’صفائی‘‘کہا جاۓ گا نہ کہ صوفی ۔

اس نئے نام اور اس فرقہ کے ظہورنے مسلمانوں میں تفرقہ اور زیاد ہ کردیا ہے ، اور اس فرقہ کے پہلے صوفی حضرات بعد میں آنے والوں سے مختلف ہیں بعد میں آنےوالوں کے اندر بدعات کا بہت زیادہ عمل دخل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شرک اصغر اور شرک اکبر بھی پیدا ہو چکا ہے ، ان کی بدعات ایسی ہیں جن سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بچنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا :

’’تم (دین میں) نئے کا موں سے بچو کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے‘‘۔(اسے امام ترمذی نے روایت کرکےحسن صحیح کہاہے)۔

ذیل میں ہم صوفیوں کے اعتقادات ورسومات اور قرآن وسنت پر مبنی اسلا م کا موازنہ پیش کرتے ہیں :

صوفیت کےمختلف طریقے اور سلسلے ہیں ، مثلا تیجانیہ ، نقشبندیہ ، شاذلیہ ، قادریہ ، رفاعیہ ،اور اس کے علاوہ دوسرے سلسلے جن پر چلنے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہی حق پر ہیں اور ان کے علاوہ لوگ باطل پر ہیں ، حالانکہ اسلام تفرقہ بازی سے منع کرتا ہے ، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿...وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِ‌كِينَ مِنَ الَّذِينَ فَرَّ‌قُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِ‌حُونَ﴾’’اور تم مشرکوں میں سے نہ بنو ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروہ گروہ ہو گئے، ہر گروہ اس چيز پر جو اس کے پاس ہے مگن اور خوش ہے۔‘‘ [سورہ روم: 31-32]

صوفی حضرات نے: اللہ تعالیٰ کے علاوہ انبیاء و اولیاء، زندہ اور مردہ کی عبادت کرنی شروع کردی ، اور وہ انہیں پکارتے ہوئے اس طرح کہتے ہیں ( یا جیلانی ، یا رفاعی ، یا رسول اللہ مدد ، اور یہ بھی کہتے ہیں ، یا رسول اللہ آپ پر ہی بھروسہ ہے ) ۔

حالانکہ اللہ تعالیٰ اس بات سے منع فرماتا ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور کو ایسی چیز میں پکارا جائے جس پر وہ قادر نہیں، بلکہ اس کو اس نے شرک شمار کیا ہے ۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّ‌كَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ﴾

’’اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے۔ پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘ [سورہ یونس : 106]

صوفی حضرات کا: یہ اعتقاد ہے کہ(دنیا کے اندر) کچھ قطب و ابدال اور اولیاء ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معاملات اور کچھ امور سپرد کئے ہیں جن میں وہ تصرّف کر تے ہيں ۔

اور اللہ تعالیٰ نے تومشرکین کے جواب کوبیان کرتے ہوئےیہ فرمایاہے کہ:

﴿وَمَن يُدَبِّرُ‌ الْأَمْرَ‌ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّـهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ﴾

’’اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے ۔ ‘‘ [سورہ یونس : 31 ]

تو مشرکین عرب کوان صوفیوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت تھی ۔

اورصوفی حضرات مصائب کے نزول کے وقت غیراللہ کی طرف پناہ لیتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّـهُ بِضُرٍّ‌ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ‌ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌﴾

’’اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے واﻻ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔ اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی نفع پہنچائے تو وه ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والاہے۔‘‘ [سورہ أنعام: 17 ]

بعض صوفی حضرات :وحدت الوجود کا عقیدہ رکھتے ہیں ، تو ان کے ہاں خالق اور مخلوق نہیں، بلکہ سب مخلوق اور سب الہ ہیں ۔

صوفی حضرات : زندگی میں زہد اختیار کرنے، اسباب کو ترک کرنے،اورجہاد نہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ‌ الْآخِرَ‌ةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْ‌ضِ ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ﴾

’’ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول ۔ ‘‘ [سورہ قصص:77 ]

اور اللہ رب العزت کا فرمان ہے:

﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾

’’تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوّت کی تیاری کرو ۔ ‘‘ [سورہ أنفال : 60 ]

صوفی حضرات : اپنے مشائخ کو احسان کے درجہ پر فائز کرتے ہیں اور اپنے مریدوں سے ان کا مطالبہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے وقت اپنے شیخ کا تصوّر کریں حتی ٰکہ نماز میں بھی, اوران میں سے بعض تونما ز پڑہتے وقت اپنے شیخ کی تصویر اپنے آگے رکھتے ہیں،جبکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہےہو، اوراگرتم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ ‘‘(صحیح مسلم)

صوفی حضرات : رقص وسرود ، گانے بجانے ، موسیقی اور اونچی آواز سے ذکرکو جائز قرار دیتے ہیں ۔

جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ‌ اللَّـهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ﴾

’’بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں ۔‘‘ [سورہ أنفال : 2 ]

پھر آپ ان کو دیکھیں گے وہ صرف لفظ جلالہ ( اللہ اللہ اللہ ) کا ذکر کرتے ہیں جو کہ بدعت ہےاور ایساکلام ہے جو شرعی معنیٰ کے لحاظ سے غیر مفید ہے ، بلکہ وہ تو اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ صرف ( اہ ، اہ ) اور یا پھر ( ہو ، ہو ، ہو ) کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ اور اسلام میں اورسنت کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کو ایسے کلام سے یاد کرےجو صحیح اور مفید ہواورجس پر اسے اجروثواب سے نوازا جائے، جیسے سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لاالہ الا اللہ ، اللہ اکبر وغیرہ۔

صوفی حضرات : مجالس ذکر میں عورتوں اور بچوں کے نام سے غزلیں اور اشعار گاتے اور پڑھتے ہیں اور اس میں باربار عشق و محبت اور خواہشات کی باتیں ایسے دہراتے ہیں گویا کہ وہ رقص وسرود کی مجلس میں ہوں ، اور پھر وہ مجلس کے اندر تالیوں اور چیخوں کی گونج میں شراب کا ذکر کرتے ہیں اور یہ سب مشرکین کی عادات وعبادات میں سے ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً ﴾

’’اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا ‘‘۔[ سورہ أنفال : 35]

مکاء: سیٹی بجانا اور تصدیۃ :تالی بجانے کو کہتے ہیں ۔

اور بعض صوفی اپنے آپ کو لوہے کی سیخ سےمارتے ہوئے(یاجداہ) پکارتے ہيں تو اس طرح شیاطین آکر ان کی مدد کرتے ہیں کیونکہ اس نے غیراللہ کو پکارا ، فرمان الہی ہے :

﴿وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ‌ الرَّ‌حْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِ‌ينٌ ﴾

’’اور جو شخص رحمن کی یاد سے غافل ہو جائے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے۔ ‘‘

[سورہ زخرف : 36 [

صوفی حضرات : کشف اور علم غیب کا دعوی کرتے ہیں جبکہ قرآن کریم ان کے اس دعوی کی تکذیب کرتا ہے ۔

اللہ عزّوجلّ کا فرمان ہے:

﴿قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ ۚوَمَا يَشْعُرُ‌ونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ﴾

’’ کہہ دیجئے کہ آسمان وزمین والوں میں سے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی غیب کا علم نہیں جانتا۔‘‘[سورہ نمل : 65]

صوفی حضرات : کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیدا کیا ہے ، جبکہ قرآن کریم ان کی تکذیب کرتے ہوئے کہتا ہے :

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴾

’’ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ‘‘۔[ سورہ ذاریات : 56 ]

اور اللہ تعالی ٰنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کرتے ہوئےیہ فرمایا ہے :

﴿وَاعْبُدْ رَ‌بَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ ﴾

’’ آپ اس وقت تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہيں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔ ‘‘ [ سورہ حِجر: 99 ]

صوفی حضرات : اللہ تعالیٰ کو دنیا میں دیکھنے کا گمان کرتے ہیں اور قرآن مجید ان کی تکذیب کرتا ہے جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے کہا گیا:

﴿قَالَ رَ‌بِّ أَرِ‌نِي أَنظُرْ‌ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَ‌انِي ﴾

’’اےمیرے رب ! مجھے اپنا دیدار کرادیجئے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم مجھ کو ہر گز نہیں دیکھ سکتے۔ ‘‘ [ الاعراف : 143 ]

صوفی حضرات : کا یہ گمان ہے کہ وہ بیداری کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ کے بغیر ڈائرکٹ اللہ تعالی ٰسے علم حاصل کرتے ہیں ، تو کیا وہ صحابہ کرام سے بھی افضل ہیں ؟۔

صوفی حضرات : اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ کے بغیر ڈائرکٹ اللہ تعالی ٰسے علم حاصل کرتے ہیں اور کہتے ہیں : ’’میرے دل نے میرے رب سے بیان کیا ۔ ‘‘

صوفی حضرات : میلاد مناتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کے نام سے مجلسیں قائم کرتے ہیں ، اور وہ ان میں ذکر واشعار اور واضح شرکیہ قصیدے کے ذریعے اپنی آوازوں کو بلند کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی مخالفت کرتے ہیں۔

اور کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا میلاد منایا ،یا ابوبکر ، عمر، عثمان ، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور ائمہ اربعہ وغیرہم نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا)میلاد منایا، تو کیا یہ لوگ زیادہ علم رکھنے والے اور صحیح عبادت والے ہیں یا صوفی حضرات؟

صوفی حضرات : قبروالوں سے تبرک حاصل کرنے،یا قبروں کا طواف کرنے،یا قبروں کے پاس ذبح کرنے کی غرض سے قبروں کی طرف رخت سفرباندھتے ہیں،اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی مخالفت کرتے ہیں کہ: ’’ تین مسجدوں کے علاوہ (عبادت کی نیت سے) رخت سفرباندھنا درست نہیں ہے، مسجد حرام، میری مسجد(مسجدنبوی) اور مسجد اقصیٰ(بیت المقدّس) ۔ ‘‘ (متفق علیہ)

صوفی حضرات : اپنے مشائخ کے بارے میں بہت ہی متعصب ہیں اگرچہ ان کا قول اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قول کے مخالف ہی کیوں نہ ہو ، جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ ﴾

’’ اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو ۔ ‘‘ [سورہ حجرات : ۱ ]

صوفی حضرات : استخارہ ،تعویذ اورگنڈاوغیرہ کے لئے طلاسم وحروف اورنمبرات استعمال کرتےہیں ۔

صوفی حضرات : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت درود وسلام کا التزام نہیں کرتے بلکہ ایسےبدعی درود پڑھتے ہیں جس میں صریح تبرّک اورخطرناک شرک پایا جاتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوتی ۔

اور رہا سوال صوفیوں کے مشائخ کا (اللہ) کے ساتھ رابطہ صحیح ہونے کا تویہ صحیح ہے لیکن یہ رابطہ شیطانوں کے ساتھ ہے نہ کہ اللہ کے ساتھ۔چنانچہ وہ ایک دوسرے کے دل میں چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے ہیں تاکہ انہیں دھوکہ میں ڈال سکیں ،ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُ‌فَ الْقَوْلِ غُرُ‌ورً‌ا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَ‌بُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْ‌هُمْ وَمَا يَفْتَرُ‌ونَ ﴾

’’اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کئے تھے کچھ آدمی اور کچھ جن ، جن میں سے بعض بعض کو چکنی چپڑي باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تا کہ ان کو دھوکہ میں ڈال دیں اوراگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کرتے۔ ‘‘

[ سورہ أنعام : 112]

اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِ‌كُونَ ﴾

’’ اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں۔ ‘‘ [سورہ أنعام :121]

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴾

’’ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اتر تے ہیں وہ ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں۔ ‘‘ [ سورہ شعراء : 221 - 222 ]

تو یہ وہ رابطہ ہےجو ان کے درمیا ن حقیقت میں ہوتا ہے نہ کہ وہ رابطہ جو جھوٹ وبہتان کے طور پر اللہ سے تعلق ہونے کا گمان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند وبالا ہے۔دیکھیں :(معجم البدع :ص 346 - 359 )۔

اور صوفیوں کے بعض مشائخ کا اپنے مریدوں کی نظروں سےاچانک اوجھل ہونا بھی اسی رابطہ کا نتیجہ ہے جو کہ شیطان کے ساتھ ہوتا ہے ، حتیٰ کہ بعض اوقات وہ شیطان انہیں دور دراز جگہ پر لے جاتے ہیں اور پھر اسی دن یا رات کو واپس لے آتے ہیں تا کہ ان کے مریدوں کو گمراہ کرسکیں۔

اسی لئے یہ عظیم قاعدہ ہے کہ ہم خارق عادات کاموں سے اشخاص کا وزن نہیں کرتے بلکہ ان کا وزن کتاب وسنت کے قرب وبعد اور اس پر التزام کرنے کے مطابق ہوگا ، اور اللہ تعالیٰ کے سچے اولیاء کے لئے یہ شرط نہیں کہ ان کے ہاتھ پر خارق عادت کام ظاہر ہوں بلکہ وہ تو ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اللہ تعالی ٰکی عبادت اس کی مشروع کردہ طریقے کے مطابق کرتے ہیں نہ کہ بدعات کورواج دے کر۔

اولیاء اللہ تو وہ ہیں جن کو ہمارے رب نے حدیث قدسی میں ذکرکیاہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ : مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُهُ عَلَيْهِ ، وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا ، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا ، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ )

’’اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میں نے اس سے جنگ کا اعلان کردیا ہے، میرا بندہ جن چیزوں سے مجھ سے قریب ہوتا ہے ان میں سب سے محبوب وپسندیدہ وہ چیزیں ہیں جو میں نے اس پر فرض قرارد ی ہیں۔اورپھر نوافل کے ذریعے میرا بندہ مجھ سے برابر قریب ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبّت کرنے لگتا ہوں،اور جب میں اس سے محبّت کرنے لگتا ہوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے،اس کا پَیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے،اگروہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے ضرور عطاکرتا ہوں، اور اگروہ مجھ سے پناہ طلب کرتا ہے تو ضرور اسے اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں‘‘۔(اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے)۔

اور اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا اورصحیح راہ پرچلانے والا ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم .

اسلام سوال وجواب

شیخ محمد صالح المنجد

طالب ِدُعا:([email protected])