شوگرکے مریض کیلئے روزہ رکھنے کا حکم اور اس کے لئے روزہ توڑنا کب جائز ہوگا؟

وصف

سوال:میں 14 ماہ سے دوسرے درجہ کی شوگر کا مریض ہوں جوکہ ابتدائی مر حلہ میں ہے، جس میں انسولین لینے کی ضرورت نہيں ہوتی ہے۔ میں کوئی دوائی تواستعمال نہیں کرتا لیکن غذائی پرہيز ضرور کرتا ہوں ، اور تھوڑی بہت ورزش بھی کرتاہوں تا کہ شوگر کنٹرول رہے ۔
پچھلے رمضان میں، میں نے کچھ روزے رکھے تھے لیکن شوگر کے اوسط یا رفتار کی کمی ہونے کی وجہ سے مکمل روزے نہيں رکھ سکا تھا ، لیکن الحمد للہ، اب میں اپنے آپ کوبہتر محسوس کرتا ہوں، لیکن صرف روزہ کی حالت میں سر میں درد محسوس کرتا ہوں ، توکیا مجھے ، اپنی بیماری کو نظر انداز کرتے ہوئے روزہ رکھنا ضروری ہے ؟
اورکیا میں روزہ کی حالت میں خون میں شوگر کے مقدار کی جانچ کرا سکتاہوں ، (کیونکہ اس (شوگرکی جانچ )کےلئے انگلی سے خون لینے کی ضرورت پڑتی ہے)؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

شوگرکے مریض کیلئے روزہ رکھنے کا حکم اور اس کے لئے روزہ توڑنا کب جائز ہوگا؟

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :شعبۂ علمی اسلام سوال وجواب سائٹ وشیخ محمد صالح المنجد۔حفظہ اللہ۔

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:عزیزالرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

 ما حكم الصّوم لمريض السكّرومتى يجوز له الفطر؟

فتوى: القسم العلمي بموقع الإسلام سؤال وجواب و الشيخ/محمد بن صالح المنجد- حفظه الله-

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:عزيز الرحمن ضياء الله السنابلي

شوگرکے مریض کیلئے روزہ رکھنے کا حکم اور اس کے لئے روزہ توڑنا کب جائز ہوگا؟

222148سوال:میں ۱۴ ماہ سے دوسرے درجہ کی شوگر کا مریض ہوں جوکہ ابتدائی مر حلہ میں ہے، جس میں انسولین لینے کی ضرورت نہيں ہوتی ہے۔ میں کوئی دوائی تواستعمال نہیں کرتا لیکن غذائی پرہيز ضرور کرتا ہوں ، اور تھوڑی بہت ورزش بھی کرتاہوں تا کہ شوگر کنٹرول رہے ۔
پچھلے رمضان میں، میں نے کچھ روزے رکھے تھے لیکن شوگر کے اوسط یا رفتار کی کمی ہونے کی وجہ سے مکمل روزے نہيں رکھ سکا تھا ، لیکن الحمد للہ، اب میں اپنے آپ کوبہتر محسوس کرتا ہوں، لیکن صرف روزہ کی حالت میں سر میں درد محسوس کرتا ہوں ، توکیا مجھے ، اپنی بیماری کو نظر انداز کرتے ہوئے روزہ رکھنا ضروری ہے ؟
اورکیا میں روزہ کی حالت میں خون میں شوگر کے مقدار کی جانچ کرا سکتاہوں ، (کیونکہ اس (شوگرکی جانچ )کےلئے انگلی سے خون لینے کی ضرورت پڑتی ہے)؟

بتاریخ 2012-07-24کو نشر کیا گیا

جواب:

الحمد للہ :

مریض کے لیے مشروع ہے کہ اگر اسے روزہ ضرر دیتا ہویا پھر مشقت میں ڈالتا ہو یا پھر دن کے اوقات میں بطور علاج کچھ غذا ، اناج یا مشروبات وغیرہ کھانے پینے کی ضرورت پڑے تو اس کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَمَنْ كَانَ مَرِيضاً أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَر﴾ [سورة البقرة : 185]

’’اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے ‘‘۔ [سورہ بقرہ:۱۸۵]

اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

(إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ ،كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ) وفي روايةٍ أخرى( كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ )

’’یقینا اللہ تعالیٰ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے ، جس طرح کہ اللہ تعالی ٰکو یہ ناپسند ہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے ‘‘ ۔

اورایک دوسری روایت میں ہے : ’’ جس طرح اللہ تعالی ٰیہ پسند کرتا ہے کہ عزیمت پر عمل کیا جائے ‘‘۔

اور جہاں تک رہا مسئلہ رگ وغیرہ سے ٹیسٹ کےلیے خون لینے کا تواس میں صحیح یہی ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، لیکن اگر زيادہ مقدار میں خون لیا جائے تو بہتر یہی ہے کہ اسے رات تک مؤخر کیا جائے ، اوراگر دن میں یہ کام کیا جائے تو اس کو سینگی سےتشبیہ دیتے ہوئے احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی قضا میں روزہ رکھا جائے‘‘ا ھـ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے فتویٰ سے،دیکھیں کتاب: (فتاوی اسلامیہ لابن باز : 2 / 139)۔

اور مریض شخص کی کئی حالتیں ہوتی ہیں :

پہلی حالت :

مر یض شخص روزہ کی وجہ سے متاثر نہ ہو، مثلا:معمولی سا زُکام ، یا پھر ہلکا سا سر میں درد اور داڑھ کی درد یا اس طرح کی کوئی اورہلکی پھلکی سے بیماری ہو، تواس کی وجہ سے اس کے لیے روزہ چھوڑنا جائز نہيں ۔ اگرچہ بعض علماء کرام کا کہنا ہے کہ مندرجہ ذیل آیت کی بنا پر اس کے لیے حلال ہے:﴿وَمَنْ كَانَ مَرِيضاً﴾ [البقرة : 185]

’’اورجوکوئی مریض ہو ‘‘[سورہ بقرہ:۱۸۵]

لیکن ہم یہ کہيں گے کہ :یہ حکم علت کے ساتھ معلق ہے ؛ اوروہ یہ کہ مريض کےلیے جب روزہ ترک کرنا زيادہ بہتر ہو ، تواس وقت ہم کہیں گے کہ:اس کے لئے فطر کرنا(روزہ نہ رکھنا) افضل ہے، لیکن اگر وہ روزہ رکھنے سے متاثر نہ ہوتا ہو تواس کے لیے روزہ چھوڑنا جائز نہیں، بلکہ اس پر روزہ رکھنا واجب ہے ۔

دوسری حالت :

جب روزہ رکھنے میں اسے مشقت ہوتی ہو لیکن ضرر لاحق نہ ہو ، تو ایسے شخص کے لیے روزہ رکھنا مکروہ ہے، اور اس کے لئے روزہ نہ رکھنا مسنون ہے۔

تیسری حالت :

جب اسے روزہ رکھنے میں مشقت ہو اوراسے ضرر بھی لاحق ہومثلا : گردے کا مریض ہو یا پھر شوگر کا مریض ، یا اسی طرح کوئی اور مرض ہو، جس کی وجہ سے روزہ رکھنے میں تکلیف ہوتی ہو ، توایسی حالت میں اس پر روزہ رکھنا حرام ہے ۔

اور اسی سے ہمیں بعض ان مجتہدین اوربیماروں کی خطا اورغلطی کاعلم ہوتا ہے جن کو روزہ رکھنے میں مشقت ہوتی ہے اور کبھی کبھار ان کوضرر بھی پہنچتی ہے ، لیکن وہ روزہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہيں ۔

توایسے لوگوں سے ہم کہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالی ٰکے کرم وفضل کو قبول نہ کرکے غلطی کی ہے اورانہوں نے اللہ تعالی ٰکی رخصت کو قبول نہ کرکے اپنے آپ کو بھی نقصان میں ڈالا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے:

﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ﴾ [النساء : 29]

’’اوراپنے آپ کو قتل نہ کرو ‘‘[سورہ نساء:۲۹]اھـ

دیکھیں الشرح الممتع للشیخ ابن ‏عثیمین(۶؍ ۳۵۲۔۳۵۴)

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب

شیخ محمد صالح المنجد

(طالبِ دُعا: [email protected])

فیڈ بیک