حج یا عمرہ کا ارادہ کرنے والا بھول کراحرام کےبغیر میقات سے گزرجائےاورپھر واپس جاکر احرام باندھ لےتو اس پر کچھ نہیں ہے

وصف

سوال: میں کچھ عرصہ قبل ریاض سے عمرہ کرنے کیلیے گیا، تو میں نے احرام کی چادریں گھر سے ہی باندھ لی تھیں لیکن نیت نہیں کی کیونکہ میں دورانِ پرواز میقات پر پہنچ کر نیت کرنا چاہتا تھا، لیکن میں نے جہاز میں میقات کے آنے کا اعلان نہیں سنا اور مجھے نیت کرنے کا موقع نہیں ملا؛ کیونکہ جہاز حدود میقات سے گزر چکا تھا۔
پھر میں نے فیصلہ کیا کہ مکہ جاتا ہوں، مکہ جا کر اپنی دونوں چادریں اتار کر عام لباس پہن لیا اور گاڑی لیکر طائف کے قریب میقات قرن المنازل چلا گیا وہاں میں احرام کی دونوں چادریں زیب تن کیں اور عمرے کی نیت کر کے مکہ چلا آیا اور عمرہ کو مکمل کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا میں نے اپنا عمرہ صحیح انداز سے کیا ہے؟ یا مجھے کوئی کفارہ ادا کرنا ہو گا؟ اور اگر میرے ذمہ کفارہ ہے تو اس کیلئے مجھے کیا کرنا ہو گا؟ امید ہے کہ آپ میرے سوال کا جواب دیں گے۔

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

حج یا عمرہ کا ارادہ کرنے والا بھول کراحرام کےبغیر میقات سے گزرجائےاورپھر واپس جاکر احرام باندھ لےتو اس پر کچھ نہیں ہے

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :شعبہ ٔعلمی اسلام سوال وجواب سائٹ۔محمد صالح المنجد

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:عزیزالرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

 لا يلزم من أراد الحج أو العمرة شيء إذا تجاوز الميقات ونسي أن يحرم ثم رجع إليه وأحرم

فتوى: القسم العلمي بموقع الإسلام سؤال وجواب-

محمد بن صالح المنجد

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:عزيز الرحمن ضياء الله السنابلي

:12239 حج یا عمرہ کا ارادہ کرنے والا بھول کراحرام کےبغیر میقات سے گزرجائےاورپھر واپس جاکر احرام باندھ لےتو اس پر کچھ نہیں ہے

سوال: میں کچھ عرصہ قبل ریاض سے عمرہ کرنے کیلیے گیا، تو میں نے احرام کی چادریں گھر سے ہی باندھ لی تھیں لیکن نیت نہیں کی کیونکہ میں دورانِ پرواز میقات پر پہنچ کر نیت کرنا چاہتا تھا، لیکن میں نے جہاز میں میقات کے آنے کا اعلان نہیں سنا اور مجھے نیت کرنے کا موقع نہیں ملا؛ کیونکہ جہاز حدود میقات سے گزر چکا تھا۔
پھر میں نے فیصلہ کیا کہ مکہ جاتا ہوں، مکہ جا کر اپنی دونوں چادریں اتار کر عام لباس پہن لیا اور گاڑی لیکر طائف کے قریب میقات قرن المنازل چلا گیا وہاں میں احرام کی دونوں چادریں زیب تن کیں اور عمرے کی نیت کر کے مکہ چلا آیا اور عمرہ کو مکمل کیا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا میں نے اپنا عمرہ صحیح انداز سے کیا ہے؟ یا مجھے کوئی کفارہ ادا کرنا ہو گا؟ اور اگر میرے ذمہ کفارہ ہے تو اس کیلئے مجھے کیا کرنا ہو گا؟ امید ہے کہ آپ میرے سوال کا جواب دیں گے۔

بتاریخ2016-08-15 کو نشر کیا گیا

جواب

الحمد للہ:

میقات سے احرام کی نیت کے بغیر گزرنے والے پر ضروری ہے کہ وہ واپس جا کر احرام کی نیت کر کے آئے، چنانچہ جدہ میں جہاز سے اترنے کے بعد گاڑی پر سوار ہو اور اہل نجد کے میقات یعنی قرن المنازل سے احرام کی نیت کرے، اور اگر جدہ سے ہی حج یا عمرہ کے احرام کی نیت کر لیتا ہے تو اس پر بغیر نیت کے میقات سے گزر کر آنے کی وجہ سے دم لازم ہو گا۔
ماخوذ از: فتوی شیخ ابن جبرین۔

اسی سے ملتے جلتے مزید فتاوی کیلیے آپ ( فتاوى اسلامیہ :2/202) کا مطالعہ کریں۔

اور اے سائل تمہارا دوبارہ میقات جانا اور پھر وہاں سے احرام کی نیت کرنا درست ہے،اور مکہ میں احرام کی دونوں چادریں اتارنے سے دم لازم نہیں آتا ہے کیونکہ آپ نے احرام کی سرے سے نیت ہی نہیں کی تھی، کیونکہ احرام نسک(حج یا عمرہ) میں داخل ہونے کی نیت کرنے کو کہتے ہیں،محض دو چادریں پہننے کا نام احرام نہیں ہے۔

الحمد اللہ، آپ نے جو کیا ہے درست کیا ہے آپ پر کوئی کفارہ لازم نہیں آتا ہے۔

اسلام سوال وجواب

شیخ محمد صالح المنجد

(طالبِ دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ [email protected])