اس برس ہم عاشوراء کیسےمعلوم کریں ؟

وصف

سوال:اس برس ہم عاشوراءکاروزہ کیسےرکھیں؟ ہمیں ابھی تک یہ علم نہیں کہ مہینہ کب شروع ہوااورکیا ذوالحجہ انتیس کاتھایاتیس یوم کا,توہم عاشوارء کی کیسےتحدیدکریں اور روزہ رکھیں ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

 اس برس ہم عاشوراء کیسےمعلوم کریں ؟

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی : شیخ محمد بن صالح المنجد۔حفظہ اللہ۔

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:عزیز الرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

كيف نعرف عاشوراء هذه السنة؟

فتوى: الشيخ محمد بن صالح المنجد-حفظه الله-

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:عزيز الرحمن ضياء الله السنابلي

: 10263 اس برس ہم عاشوراء کیسےمعلوم کریں ؟

سوال:اس برس ہم عاشوراءکاروزہ کیسےرکھیں؟ ہمیں ابھی تک یہ علم نہیں کہ مہینہ کب شروع ہوااورکیا ذوالحجہ انتیس کاتھایاتیس یوم کا,توہم عاشوارء کی کیسےتحدیدکریں اور روزہ رکھیں ؟

بتاریخ2011-12-03 کو نشر کیا گیا

جواب:

الحمد للہ:

اگرہمیں یہ نہ پتہ چلےکہ ذوالحجہ تام ( یعنی۔30۔دن ) کاتھایاکہ ناقص ( یعنی ۔29۔دن) کاتھااورنہ ہی ہمیں اس کےمتعلق کوئی بتائےکہ محرم کب شروع ہواتواصل کےمطابق چلیں گےیعنی مہینےکوتیس دن مکمل کرینگے۔ ذوالحجہ کےتیس دن کا اعتبار کیاجائےگااوراسی بناپرہم عاشوراءکوشمارکرینگے ۔

اوراگرمسلمان یہ احتیاط چاہتا ہےکہ عاشوراءکا روزہ قطعی طورپرصحیح ہو تو وہ دودن کا مسلسل روزہ رکھے ۔ اسےچاہئےکہ وہ شمارکرے کہ ، اگرذوالحجہ انتیس یوم کاہو توعاشوراءکب ہوگااوراگرذوالحجہ تیس کاہوتو پھرعاشوراء کب ہوگاتوان دونوں دنوں میں وہ روزے رکھ لےتواس طرح وہ عاشوراءکویقینی اورقطعی طور پر پالےگا ۔

تواس حالت میں یاتواس نےنواوردس محرم کاروزہ رکھایاپھردس اورگیارہ کاتودونوں ہی ٹھیک ہیں اوراگروہ نومحرم کاروزہ رکھنےمیں بھی احتیاط چاہتاہے توہم اسےیہ کہیں گےکہ دودن وہ جن کاذکراوپرکیاگیاہےاورایک دن اس سے پہلےروزہ رکھ لےاس طرح اس نےنو، دس اورگیارہ محرم کاروزہ یاپھرآٹھ ، نواوردس کاروزہ رکھا ۔ان دونوں حالتوں میں تاکیدی طورپرنواوردس محرم کاروزہ رکھاجائےگا ۔

اوراگرکوئي یہ کہےکہ میں اپنےخاص مسائل ، کام کاج اورذاتی ( مصروفیات ) کی بناپرصرف ایک روزہ ہی رکھ سکتاہوں ،توکونسادن افضل جس میں روزہ رکھوں توہم اسے یہ کہیں گے :

ذوالحجہ کوتیس یوم مکمل کریں پھراس کےبعددس دن شمارکرکےروزہ رکھ لو۔

یہ مضمون میں نےاپنےشیخ اوراستادعلامہ عبدالعزیزبن بازرحمہ اللہ تعالی ٰسےجب اس کےمتعلق پوچھاگیاتوسنا ۔

اوراگرکسی ثقہ مسلمان کی طرف سےہمیں محرم کاچانددیکھ کرتعیین کرنےکی خبرملےتوہم اس پرعمل کریں گےاورمحرم میں روزہ رکھناعمومی طورپرسنت ہےجیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

( أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ ) رواه مسلم (1163)

’’رمضان کےبعدسب سےافضل روزے اللہ تعالیٰ کےمہینہ محرم کےروزے ہیں ‘‘۔(صحیح مسلم حدیث نمبر :1163)

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد

(طالبِ دُعا: [email protected])

فیڈ بیک