روزوں کی قضاء میں تاخیر کرنا

وصف

فتوى مذکور میں گزشتہ چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء سے متعلق شرعی احکام ذکر کئے گئے ہیں.

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    روزوں کی قضاء میں تاخیر کرنا

    ﴿ تأخير قضاء الصوم ﴾

    [ أردو- الأردية - Urdu]

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظہ اللہ

    مراجعہ

    شفیق الرحمن ضیاء اللہ مد نی

    ناشر

    2010 - 1431

    ﴿ تأخير قضاء الصوم ﴾

    « باللغة الأردية »

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظه الله

    مراجعة

    شفيق الرحمن ضياء الله المد ني

    الناشر

    2010 - 1431

    بسم الله الرحمن الرحيم

    روزوں کی قضاء میں تاخیر کرنا

    میں نے ایک سال ایام حیض میں روزے چھوڑے تھے اور آج تک میں وہ روزے نہیں رکھ سکی حالانکہ اس بات کو بہت سال بیت چکے ہیں میں چاہتی ہوں کہ ان روزوں کی قضاء دوں لیکن مجھے یہ علم نہیں کہ مجھے کتنے روزے رکھنے ہیں اب میں کیا کروں ؟

    الحمدللہ

    آپ کے ذمہ تین امور ہیں :

    پہلی چيز :

    اس تاخیر پر اللہ تبارک وتعالی سے توبہ کریں اور جو سستی اور کاہلی ہو چکی اس پر نادم ہونے کے بعد اس بات کا عزم کریں کہ آپ آئندہ ایسا نہیں کریں گی ۔

    کیونکہ اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے : ( وتوبوا إلى الله جميعاً أيُّها المؤمنون لعلكم تفلحون ) النور / 31

    " اے مومنو! تم سب کے سب اللہ تعالی کی طرف توبہ کرو تا کہ تم کامیابی اور فلاح پا سکو " النور / 31

    اور یہ تاخیر اللہ تعالی کی معصیت ونافرمانی ہے جس پر اللہ تعالی کے سامنے توبہ کرنی واجب ہے ۔

    دوسری چیز :

    جتنی جلدی ہو اندازہ کے مطابق روزے رکھیں اللہ تعالی ہر ایک کو اس کی طاقت واستطاعت کے مطابق مکلف بناتا ہے تو آپ کے خیال میں جتنے روزے چھوٹے ہیں ان کی قضاء کریں اگر آپ کے خیال میں دس دن ہیں تو دس روزے رکھیں اور اگر آپ کا خیال اس سے زیادہ یا کم کا ہے اس حساب سے روزوں کی قضاء کریں ۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے : ( لا يكلف الله نفساً إلا وسعها ) البقرة / 286

    " اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا " البقرہ / 286

    اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : ( فاتقوا الله ما استطعتم ) التغابن / 16

    " پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ تعالی سے ڈرتے رہو " التغابن / 16

    تیسری چیز :

    اگر آپ کھانا کھلانے کی طاقت رکھتی ہیں تو ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں اگرچہ ایک مسکین کو ہی سارا کھانا دے دیں اور اگر آپ کی استطاعت میں نہیں اور آپ فقیر ہیں تو پھر آپ پر توبہ اور روزے کے علاوہ کچھ نہیں ۔

    اور ہر دن کا واجب کھانا کھلانے کی مقدار شہر کے غذا (خوراک) سے نصف صاع ہے جسکی مقدار (تقریبا) ڈیڑھ کلو بنتی ہے.

    (مجموع فتاوی ومقالات الشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 19)

    اسلام سوال وجواب

    فیڈ بیک