رؤيت ہلال ميں نئے آلات استعمال كرنے ميں كوئى حرج نہيں

وصف

شیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ سے پوچھا گیا : " كيا اسلامى مہينہ كے آغاز اور انتہاء كے ليے فلكى حساب پر اعتماد كرنا جائز ہے ؟ "
اور كيا رؤيت ہلال ميں نئے ايجاد كردہ آلات استعمال كرنے جائز ہيں، يا كہ مسلمان كے ليے صرف اپنى آنكھ سے چاند ديكھنا ضرورى ہے ؟ اسى كا مختصر جواب فتوى مذكور میں دیا گیا ہے.

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    رؤيت ہلال ميں نئے آلات استعمال كرنے ميں كوئى حرج نہيں

    ﴿ لا حرج من الاستعانة بالأجهزة الحديثة لرؤية الهلال ﴾

    [ أردو- الأردية - Urdu]

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظہ اللہ

    مراجعہ

    شفیق الرحمن ضیاء اللہ مد نی

    ناشر

    2010 - 1431

    ﴿ لا حرج من الاستعانة بالأجهزة الحديثة لرؤية الهلال ﴾

    (باللغة الأردية)

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظه الله

    مراجعة

    شفيق الرحمن ضياء الله المد ني

    الناشر

    2010 - 1431

    بسم الله الرحمن الرحيم

    رؤيت ہلال ميں نئے آلات استعمال كرنے ميں كوئى حرج نہيں

    كيا اسلامى مہينہ كے آغاز اور انتہاء كے ليے فلكى حساب پر اعتماد كرنا جائز ہے ؟
    اور كيا رؤيت ہلال ميں نئے ايجاد كردہ آلات استعمال كرنے جائز ہيں، يا كہ مسلمان كے ليے صرف اپنى آنكھ سے چاند ديكھنا ضرورى ہے ؟

    الحمد للہ:

    مہينہ شروع ہونے كے ليے شرعى طريقہ تو يہى ہے كہ لوگ ايك دوسرے كو چاند دكھائيں اور خود ديكھيں، اور يہ اس شخص سے قبول كيا جائيگا جس كے دين اور قوت نظر پے بھروسہ ہو.

    اس ليے اگر لوگ چاند ديكھ ليں تو اس رؤيت كے مقتضى پر عمل كيا جائيگا؛ يعنى اگر رمضان المبارك كا چاند ہو تو روزے ركھے جائيں گے، اور اگر شوال كا چاند ہو تو روزے ختم كر كے عيد منائى جائيگى.

    اور اگر رؤيت ہلال نہ ہو تو پھر فلكى حساب پر اعتماد كرنا جائز نہيں، ليكن اگر يہ رؤيت ہو چاہے وہ ان فلكيات والوں كے مقام اور موقعوں سے ہى رؤيت كى جائے تو يہ معتبر ہو گى كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عمومى فرمان ہے:

    " جب تم چاند ديكھو تو روزے ركھو، اور جب چاند ديكھو تو عيد الفطر مناؤ "

    ليكن فلكى حساب پر عمل كرنا جائز نہيں، اور نہ ہى اس پر اعتماد كيا جا سكتا ہے.

    اور چاند ديكھنے كے ليے مختلف قسم كے آلات مثلا دوربين وغيرہ کا استعمال کرنا تاکہ چاند قريب ہوجائے كوئى حرج نہيں، ليكن يہ واجب نہيں، كيونكہ سنت كا ظاہر يہى ہے كہ عام رؤيت پر اعتماد كيا جائے نہ كہ كسى اور پر.

    ليكن اگر يہ آلات استعمال كيے جائيں اور وہ شخص چاند ديكھے جو موثوق اور قابل اعتماد ہو تو پھر اس رؤيت پر عمل كيا جائيگا، اور پرانے زمانے ميں بھى لوگ يہ استعمال كرتے رہے ہيں كہ وہ تيس شعبان اور تيس رمضان كو اونچے اونچے مناروں پر چڑھ كر اس دوربين سے چاند ديكھا كرتے تھے.

    بہر حال جب رؤيت ہلال ثابت ہو جائے اور وہ كسى بھى وسيلہ سے ہو تو اس كے مقتضى پر عمل كرنا واجب ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عمومى فرمان ہے:

    " جب تم اس چاند كو ديكھو تو روزے ركھو، اور جب اسے ديكھو تو عيد كر لو " انتہى

    فضيلۃ الشيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ. ديكھيں: فتاوى علماء بلد الحرام صفحہ نمبر ( 192 - 193 ).

    اس مسئلہ ميں ہم مستقل فتوى كميٹى كا فتوى سوال نمبر ( 1245 ) كے جواب ميں نقل كر چكے ہيں جس ميں درج ہے كہ:

    " رؤيت ہلال ميں آلات رصد استعمال كرنا جائز ہيں، اور رمضان المبارك يا عيد الفطر كے مہينہ كى ابتدا اور انتہاء كے ليے علوم فلكى پر اعتماد كرنا جائز نہيں ہے " انتہى.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 99 ).

    اس سے يہ واضح ہوا كہ جو كوئى بھى يہ خيال اور گمان كرتا ہے كہ ہمارے علماء رؤيت ہلال ميں آلات رصد كو حرام قرار ديتے ہيں، اور خالصتا صرف آنكھ سے ديكھنے كو ضرورى قرار ديتے ہيں يہ خالصتا جھوٹ اور افترا ہے.

    اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں حق كو حق دكھائے اور اس كى اتباع كرنے كى توفيق نصيب فرمائے، اور ہميں باطل كو باطل ديكھنے كى توفيق دے اور اس سے اجتناب كرنے كى توفيق دے، اور ہم پر اسے خلط ملط نہ كر دے كہ ہم گمراہ ہو جائيں، اور ہميں متقيوں كا پيشوا بنائے.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب

    فیڈ بیک