مسلمانوں كو چاند ديكھ كر رؤيت ہلال كميٹى كو اطلاع دينى چاہيے

وصف

شیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ سے پوچھا گیا : " اگر انسان رمضان يا ذوالحجہ كا چاند ديكھ كر رؤيت ہلال كميٹى يا ذمہ داران كو نہ بتائے تو كيا ہو گا؟
اسى كا مختصر جواب فتوى مذكور میں دیا گیا ہے.

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    مسلمانوں كو چاند ديكھ كر رؤيت ہلال كميٹى كو اطلاع دينى چاہيے

    ﴿ على المسلمين التعاون بترائي الهلال وإبلاغ الجهات المسؤولة عن رؤيته ﴾

    [ أردو- الأردية - Urdu]

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظہ اللہ

    مراجعہ

    شفیق الرحمن ضیاء اللہ مد نی

    ناشر

    2010 - 1431

    ﴿ على المسلمين التعاون بترائي الهلال وإبلاغ الجهات المسؤولة عن رؤيته ﴾

    (باللغة الأردية)

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظه الله

    مراجعة

    شفيق الرحمن ضياء الله المد ني

    الناشر

    2010 - 1431

    بسم الله الرحمن الرحيم

    اگر انسان رمضان يا ذوالحجہ كا چاند ديكھ كر رؤيت ہلال كميٹى يا ذمہ داران كو نہ بتائے تو كيا ہو گا ؟

    الحمد للہ:

    جو شخص تيس شعبان يا تيس رمضان يا تيس شوال يا تيس ذوالقعدہ كى رات چاند ديكھتا ہے تو اسے اپنے ملك كى رؤيت ہلال كميٹى يا ذمہ دار محكمہ كو اطلاع دينى چاہيے، الاّ یہ کہ كسى اور كے ديكھنے سے چاند كى رؤيت ثابت ہو چكى ہو.

    تا كہ وہ اللہ سبحانہ و تعالى كے اس فرمان پر عمل كر سكے:

    (وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى) المائدة/2

    "اور تم نيكى و بھلائى اور تقوى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہو"-

    اور فرمان بارى تعالى ہے:

    (فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا) التغابن /16

    "اپنى استطاعت كے مطابق اللہ كا تقوى اختيار كرو، اور سنو اور اطاعت كرو "-

    اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " مسلمان شخص پر سمع و اطاعت واجب ہے "

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 1839 ).

    اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ بھى فرمان ہے:

    " ميں تمہيں اللہ كے تقوى كى وصيت كرتا ہوں اور اس بات كہ اگر تم پر غلام شخص بھى امير بنا ديا جائے تو اس كى سمع و اطاعت كرو "

    اور يہ سب كو معلوم ہے كہ ولى الامر اور حكمران عدل كى اعلى كميٹى كے ذريعہ سب مسلمانوں سے مطالبہ كرتا ہے كہ جو شخص بھى چاند ديكھے وہ فورا محكمہ كو اطلاع كرے.

    اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " تم چاند ديكھ كر روزہ ركھو "

    اور چاند ديكھ كر ہى عيد الفطر مناؤ، اور اس كو ديكھ كر ہى عبادت كرو، اور اگر تم پر ابر آلود ہو جائے تو پھر تعداد پورى كرو "

    اور ان احاديث پر اللہ كى توفيق كے بغير عمل نہيں كيا جا سكتا، پھر جب تك مسلمان چاند ديكھنے ميں ايك دوسرے كا تعاون نہ كريں، اور ديكھ كر ذمہ دار محكمہ اور رؤيت ہلال كميٹى كو اطلاع نہ ديں تو ان احاديث پر عمل كرنا مشكل ہے.

    لہذا جو شخص بھى چاند ديكھے تو وہ اس كے متعلق مخصوص محكمہ كو اس كى اطلاع دے، تو اس طرح شرعى احكام پر عمل ہو سكتا ہے، اور پھر يہ نيكى و تقوى ميں تعاون بھى ہے.

    اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے " انتہى بتصرف

    فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن باز ر حمہ اللہ .

    ديكھيں: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ ( 15 / 70 - 72 ) . اسلام سوال وجواب

    فیڈ بیک