رمضان المبارك آنے كى تيارى كا طريقہ

وصف

شیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ سے پوچھا گیا: "ہم رمضان المبارك كے ليے كيا تيارى كريں، اور اس ماہ مبارك ميں كون سے اعمال بجا لانا افضل ہيں ؟" اسى كا مختصر جواب فتوى مذكور میں دیا گیا ہے.

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    رمضان المبارك آنے كى تيارى كا طريقہ

    ﴿ كيف نستعد لقدوم شهر رمضان؟ ﴾

    [ أردو- الأردية – Urdu ]

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظہ اللہ

    مراجعہ

    شفیق الرحمن ضیاء اللہ مد نی

    ناشر

    2010 - 1431

    ﴿ كيف نستعد لقدوم شهر رمضان؟ ﴾

    (باللغة الأردية)

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظه الله

    مراجعة

    شفيق الرحمن ضياء الله المد ني

    الناشر

    2010 - 1431

    بسم الله الرحمن الرحيم

    رمضان المبارك آنے كى تيارى كا طريقہ

    ہم رمضان المبارك كے ليے كيا تيارى كريں، اور اس ماہ مبارك ميں كون سے اعمال بجا لانا افضل ہيں ؟

    الحمد للہ:

    اول:

    ہمارے عزيز بھائى آپ نے يہ بہت اچھا سوال كيا ہے، جس ميں آپ ماہ رمضان كے ليے تيارى كرنے كى كيفيت دريافت كرنا چاہتے ہيں، حالانكہ بہت سے افراد اور لوگ تو روزے كى حقيقت ميں بہت انحراف كا شكار ہو چكے ہيں، انہوں نے ماہ رمضان كو كھانے پينے، اور مٹھائياں و مختلف انواع و اقسام كى ڈش تيار كر كے كھانے كا موسم بنا لیا ہے، اور راتوں كو بيدار ہو كر ڈش اور مختلف فضائى چينل ديكھنے كا سيزن بنا ليا ہے، اور اس كے ليے وہ رمضان المبارك سے بہت عرصہ پہلے ہى تيارى كرنے لگ جاتے ہيں، كہ كہيں كچھ كھانے رہ نہ جائيں، يا اس خدشہ سے كہ كہيں ان كا ريٹ ہى نہ بڑھ جائے.

    تو يہ لوگ كھانے پينے كى اشياء اور مختلف قسم كے مشروبات كى تيارى ميں لگ جاتے ہيں، اور فضائي چينلوں كى فہرست تلاش كرنے لگتے ہيں تا كہ انہيں علم ہو كہ انہیں كون سا چينل ديكھنا ہے، اور كونسا نہيں ديكھنا، تو اس طرح ان لوگوں نے ماہ رمضان كے روزے كى حقيقت ہى مسخ كر کے ركھ دى ہے، اور عبادت اور تقوى سے نكل كر اس ماہ مبارك كو اپنے پيٹوں اور اپنى آنكھوں كا موسم بنا ليا ہے.

    دوم:

    ليكن كچھ دوسرے ايسے بھى ہيں جنہوں نے رمضان البمارك كے روزے كى حقيقت كو جانا اور ادراك كيا اور وہ شعبان ميں ہى رمضان كى تيارى كرنے لگے، بلكہ بعض نے تو اس سے قبل ہى تيارى شروع كردى، ماہ رمضان كى تيارى كے ليے قابل ستائش امور اور طريقے درج ذيل ہيں:

    1 - سچى اور پكى توبہ.

    ہر وقت توبہ و استغفار كرنا واجب ہے، ليكن اس ليے كہ يہ ماہ مبارك قريب آ رہا ہے، اسلئے مسلمان شخص كے ليے زيادہ لائق ہے كہ وہ اپنے ان گناہوں سے جلد از جلد توبہ كر لے جو صرف ا سکے اور اس كے رب كے مابين ہيں، اور ان گناہوں سے بھى جن كا تعلق حقوق العباد سے ہے؛ تا كہ جب يہ ماہ مبارك شروع ہو تو وہ صحيح اور شرح صدر كے ساتھ اطاعت و فرمانبردارى كے اعمال ميں مشغول ہو جائے، اور ا سكا دل مطمئن ہو.

    اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

    " اور اے مومنوں تم سب كے سب اللہ تعالى كى طرف توبہ كرو تا كہ كاميابى حاصل كر سكو"النور ( 31 ).

    اغر بن يسار رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " اے لوگو اللہ كى طرف توبہ كرو، ميں تو دن میں سو بار توبہ كرتا ہوں "

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 2702 ).

    2 - دعاء كرنا:

    بعض سلف كے متعلق آتا ہے كہ وہ چھ ماہ تك يہ دعا كرتے اے اللہ! ہميں رمضان تك پہنچا دے، اور پھر وہ رمضان كے بعد پانچ ماہ تك يہ دعا كرتے رہتے اے اللہ! ہمارے رمضان كے روزے قبول و منظور فرما.

    چنانچہ مسلمان شخص كو چاہيے كہ وہ اپنے پروردگار سے دعا كرتا رہے كہ اللہ تعالى اسے رمضان آنے تك جسمانى اور دينى طور پر صحيح ركھے، اور يہ دعا كرنى چاہيے كہ اللہ تعالى اپنى اطاعت كے كاموں ميں اس كى معاونت فرمائے، اور اس كے عمل قبول و منظور فرما لے.

    3 - اس عظيم ماہ مبارك كے قريب آنے كى خوشى و فرحت ہو.

    كيونكہ رمضان المبارك كے مہينہ تك صحيح سلامت پہنچ جانا اللہ تعالى كى جانب سے مسلمان بندے پر بہت عظيم نعمت ہے؛ اس ليے كہ رمضان المبارك خير و بركت كا موسم ہے، جس ميں جنتوں كے دروازے كھول ديے جاتے ہيں، اور جہنم كے دروازے بند كر ديے جاتے ہيں، اور يہ قرآن اور غزوات و معركوں كا مہينہ ہے جس نے ہمارے اور كفر كے درميان فرق كيا.

    اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

    "كہہ ديجئے كہ اللہ كے فضل اور اس كى رحمت سے خوش ہونا چاہيے وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جس كو وہ جمع كر رہے ہيں "يونس ( 58 )

    4 - فرض كردہ روزوں سے برى الذمہ ہونا:

    ابو سلمہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے سنا وہ بيان كر رہى تھيں:

    " ميرے ذمہ رمضان المبارك كے روزوں كى قضاء ہوتى تھى، اور ميں شعبان كے علاوہ قضاء نہيں كر سكتى تھى "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 1849 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1146 ).

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كا رمضان ميں روزے ركھنے كى حرص ركھنے سے يہ اخذ ہوتا ہے كہ رمضان كى قضاء كے روزوں ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا جائز نہيں "

    ديكھيں: فتح البارى ( 1849 ).

    5 - علم حاصل كرنا تا كہ روزوں كے احكام كا علم ہو سكے، اور رمضان المبارك كى فضيلت كا پتہ چل سكے.

    6 - ايسے اعمال جو رمضان المبارك ميں مسلمان شخص كوعبادت كرنے ميں ركاوٹ يا مشغول ہونے كا باعث بننے والے ہوں انہيں رمضان سے قبل نپٹانے ميں جلدى كرنى چاہيے.

    7 - گھر ميں اہل و عيال اور بچوں كے ساتھ بيٹھ كر انہيں روزوں كى حكمت اور ا س كے احكام بتائے، اور چھوٹے بچوں كو روزے ركھنے كى ترغيب دلائے.

    8 - كچھ ايسى كتابيں تيار كى جائيں جو گھر ميں پڑھى جائيں، يا پھر مسجد كے امام كو ہديہ كى جائيں تا كہ وہ رمضان المبارك ميں نماز كے بعد لوگوں كو پڑھ كر سنائے.

    9 - رمضان المبارك كے روزوں كى تيارى كے ليے ماہ شعبان ميں روزے ركھے جائيں.

    عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم روزے ركھنے لگتے حتى كہ ہم كہتے آپ روزے نہيں چھوڑينگے، اور روزے نہ ركھتے حتى كہ ہم كہنے لگتے اب روزے نہيں ركھينگے، ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو ماہ رمضان كے علاوہ كسى اور ماہ كے مكمل روزے ركھتے ہوئے نہيں ديكھا، اور ميں نے انہيں شعبان كے علاوہ كسى اور ماہ ميں زيادہ روزے ركھتے ہوئے نہيں ديكھا "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 1868 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1156 ).

    اسامہ بن زيد رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا:

    " اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں ديكھتا ہوں كہ آپ جتنے روزے شعبان ميں ركھتے اتنے كسى اور ماہ ميں نہيں ركھتے ؟

    تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " رجب اور رمضان كے درميان يہ وہ ماہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہيں، يہ ماہ وہ ہے جس ميں اعمال رب العالمين كے طرف اٹھائے جاتے ہيں، اس ليے ميں پسند كرتا ہوں كہ ميرے عمل اٹھائيں جائيں تو ميں روزہ كى حالت ميں ہوں "

    سنن نسائى حديث نمبر ( 2357 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح نسائى ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

    اس حديث ميں ماہ شعبان ميں روزے ركھنے كى حكمت بيان ہوئى ہے كہ: يہ ايسا مہينہ ہے جس ميں اعمال اوپر اٹھائے جاتے ہيں.

    اور بعض علماء نے ايك دوسرى حكمت بھى بيان كيا ہے كہ: ان روزوں كا مقام فرض نماز سے پہلى سنتوں والا ہے، كہ وہ نفس كو فرض كى ادائيگى كے ليے تيار كرتى ہيں، اور اسى طرح رمضان سے قبل شعبان كے روزے بھى.

    10 - قرآن مجيد كى تلاوت كرنا:

    سلمہ بن كہيل كہتے ہيں: شعبان كو قرآت كے مہينہ كا نام ديا جاتا تھا.

    اور جب شعبان كا مہينہ شروع ہوتا تو عمرو بن قيس اپنى دوكان بند كر ديتے، اور قرآن مجيد كى تلاوت كے ليے فارغ ہو جاتے.

    اور ابو بكر بلخى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " ماہ رجب كھيتى لگانے كا مہينہ ہے، اور ماہ شعبان كھيتى كو پانى لگانے كا، اور ماہ رمضان كھيتى كاٹنے كا مہينہ ہے.

    اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:

    ماہ رجب كى مثال ہوا،اور ماہ شعبان كى بادلوں، اور ماہ رمضان كى مثال بارش جيسى ہے، اور جس نے ماہ رجب ميں نہ تو كھيتى بوئى ہو، اور نہ ہى شعبان ميں كھيتى كو پانى لگايا تو وہ رمضان ميں كيسے كھيتى كاٹنا چاہتا ہے.

    اور يہ ديكھيں ماہ رجب گزر چكا ہے، اگر رمضان چاہتے ہو تو آپ شعبان ميں كيا كرتے ہيں، آپ كے نبى صلى اللہ عليہ وسلم اور امت كےسلف كا حال تو اس ماہ مبارك ميں يہ تھا، تو آپ ان اعمال اور درجات کے سلسلہ ميں كيا مقام (موقف) رکھتے ہيں ؟

    سوم:

    ماہ رمضان ميں مسلمان شخص كو كونسے اعمال كرنے چاہئیں، اس كو معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 26869 ) اور ( 12468 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

    اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب