عمرہ ياحج ميں سر كے كچھ بال كٹوانے

مُفتی : محمد صالح

وصف

ايك شخص نے عمرہ كي ادائيگي كےبعد سركي ايك جانب سے بال كٹوائے اور اپنے گھر واپس پلٹ آيا اور اسے علم ہوا كہ اس كا يہ فعل صحيح نہيں تھا، اب اس پر كيا لازم آتا ہے ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    عمرہ ياحج ميں سر كے كچھ بال كٹوانے

    تقصير بعض الشعر في العمرة أو الحج

    [ اردو- أردو - urdu ]

    شیخ محمد صالح عثیمین

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2012 - 1433

    عمرہ ياحج ميں سر كے كچھ بال كٹوانے

    ايك شخص نے عمرہ كي ادائيگي كےبعد سركي ايك جانب سے بال كٹوائے اور اپنے گھر واپس پلٹ آيا اور اسے علم ہوا كہ اس كا يہ فعل صحيح نہيں تھا، اب اس پر كيا لازم آتا ہے ؟

    الحمد للہ :

    يہ سوال فضيلة الشيخ محمد بن عثيمين رحمہ كے سامنے ركھا گيا تو ان كا جواب تھا:

    اگرتواس نے ايسا جہالت كي بنا پر كيا ہے تواسے چاہيے كہ وہ اب اپنا لباس اتار كراحرام پہن لے اور مكمل سركومنڈائے يا مكمل سركےبال چھوٹے كروائے تواس طرح اس نے جوكيا وہ معاف ہوگا كيونكہ اس نے يہ عمل جہالت كي بنا پر كيا تھا ، اورسرمنڈانے يابال چھوٹے كروانےكےليے شرط نہيں كہ وہ مكہ ميں ہي ہوبلكہ مكہ ياكسي دوسري جگہ پر بھي ہوسكتا ہے .

    ليكن اگر اس نے ايسا كسي عالم كے فتوي كي بنا پر كيا تواس حالت ميں بھي اس پر كچھ لازم نہيں آتا اس ليے كہ اللہ تعالي كا فرمان ہے : {اگرتمہيں علم نہيں تو اہل علم سےپوچھ لو}

    اوربعض علماء كي رائے ہے كہ سر كے كچھ حصہ كےبال كٹوانے مكمل سر كے بال كٹوانے كي طرح ہي ہے .

    فیڈ بیک