عاشوراء کے روزے کی فضیلت

وصف

میں نے سنا ہے کہ عاشوراء کا روزہ پچھلے ایک برس کے گناہوں کا کفارہ بنتاہے ، کیا یہ صحیح ہے ، اورکیا کبیرہ گناہ بھی مٹا دیۓ جاتے ہيں ، اورپھر اس دن کی تعظیم کا سبب کیا ہے ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    عاشوراء کے روزے کی فضیلت

    فضل صيام عاشوراء

    [ اردو- أردو - urdu ]

    شیخ محمد صالح المنجد

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2012 - 1433

    عاشوراء کے روزے کی فضیلت

    میں نے سنا ہے کہ عاشوراء کا روزہ پچھلے ایک برس کے گناہوں کا کفارہ بنتاہے ، کیا یہ صحیح ہے ، اورکیا کبیرہ گناہ بھی مٹا دیۓ جاتے ہيں ، اورپھر اس دن کی تعظیم کا سبب کیا ہے ؟

    الحمد للہ

    محرم کا مہینہ قمری مہینوں میں پہلا اورحرمت والے مہینوں میں سے ایک حرمت والا مہینہ ہے ۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

    { یقینا اللہ تعالی کے ہاں کتاب اللہ میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا فرمایا ہے ، ان میں سے چار حرمت وادب والے ہیں ، یہی درست اورصحیح دین ہے ، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو } التوبة ( 36 ) ۔

    امام بخاری اورامام مسلم نے ابو بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    (آسمان وزمین کے پیدا ہونے سے ہی زمانہ اپنی حالت وہیئت پر گھوم رہا ہے سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں سے چار حرمت وادب والے ہیں ، تین تو مسلسل ہیں ذولقعدہ ، ذوالحجة ، اورمحرم ، اورمضرکا رجب جوجمادی الثانی اورشعبان کے مابین ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3167 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1679 ) ۔

    اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے یہ بھی ثابت ہے کہ رمضان المبارک کے بعد محرم کےمہینہ میں روزے افضل ہیں ۔

    ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    (رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل ترین روزے محرم کے مہینہ کے رروزے ہیں ، اورفرضی نماز کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1163 ) ۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ( اللہ تعالی کا مہینہ ) مہینہ کی اضافت اللہ تعالی کی طرف تعظیما ہے ، ملا علی قاری کہتے ہيں : اس سے پورا محرم کا مہینہ مراد ہے ۔

    لیکن احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مکمل مہینے کے روزے نہيں رکھے ، لھذا اس حدیث کو محرم کے مہنیہ میں زیادہ روزے رکھنے کی ترغیب پر محمول کیا جائے گا نہ کہ پورے مہینہ کے روزے رکھنے پر ۔

    واللہ اعلم .

    فیڈ بیک