قسطوں ميں فروخت كرنے كےليے قيمت بڑھانا جائز ہے

وصف

كيا سامان كی قيمت بڑھا كرقسطوں ميں فروخت كرنا جائز ہے ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    قسطوں ميں فروخت كرنے كےليے قيمت بڑھانا جائز ہے

    يجوز زيادة ثمن السلعة مقابل بيعها بالتقسيط

    [ اردو- أردو - urdu ]

    شیخ محمد صالح المنجد

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2013 - 1434

    قسطوں ميں فروخت كرنے كےليے قيمت بڑھانا جائز ہے

    كيا سامان كی قيمت بڑھا كرقسطوں ميں فروخت كرنا جائز ہے؟

    الحمد للہ :

    بيع التقسيط ميں فروخت كردہ چيز فوری طور پر دی جاتی ہےاور اس كی مكمل يا كچھ قيمت معلوم مدت اور قسطوں ميں ادا كی جاتی ہے ۔

    بيع التقسيط کے حكم جاننےكی اہميت:

    بيع التقسيط موجودہ دور کے ان مسائل ميں سے ہے جس كے حكم معلوم كرنے كا اہتمام كرنا ضروری ہے، اس ليے كہ دوسری جنگ عظيم كےبعد يہ مسئلہ بہت سی امتوں اور افراد ميں پھيل چكا ہے.

    كمپنياں اور ادارے سامان بنانےاور باہر سےلانےوالوں سے قسطوں ميں خريداری كرتےاور اپنےگاہكوں كوبھی قسطوں ميں فروخت كرتےہيں، مثلا گاڑياں، جائداد، اور مختلف قسم كےآلات وغيرہ.

    اور بنك وغيرہ بھی اسے پھيلانے كا باعث بنےہيں، اس طرح كہ بنك نقد سامان خريد كراپنے ايجنٹوں كو ادھارقيمت ( قسطوں پر ) فروخت كرتے ہيں.

    قسطوں ميں فروخت كرنے حكم؟ :

    بيع النسيئۃ كےجواز ميں نص وارد ہے، اوريہ قيمت كومؤخر كرنے والی بيع كانام ہے.

    بخاری اور مسلم نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنھا سے بيان كيا ہے كہ نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم نے ايك يہودی سے ادھار غلہ خريدا اور اس كےپاس اپنی لوہے كی زرہ رہن ركھی. صحيح بخاری حديث نمبر ( 2068 ) صحيح مسلم حديث نمبر (1603) ۔

    يہ حديث قيمت ادھار كرنے كی بيع پر دلالت كرتی ہے، اور قسطوں كی بيع بھی قيمت ادھار كرنے كی بيع ہے، اس ميں غايت يہ ہے كہ اس ميں قيمت كی قسطيں اورہرقسط كی مدت مقرر ہوتی ہے.

    اور حكم شرعي ميں اس كا كوئی فرق نہيں كہ ادھار كردہ قيمت كی مدت ايك ہو يا كئی ايك مدتيں مقرر كی ہوں .

    عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا بيان كرتی ہيں كہ ميرے پاس بريرہ آئی اور كہنےلگی : ميں نےاپنےمالكوں سے نو اوقيہ ميں كتابت كی ہے اور ہر برس ايك اوقيہ دينا ہے... صحيح بخاري حديث نمبر 2168 )).

    يہ حديث قسطوں ميں قيمت كی تاخیر سےادائيگی كے جواز كی دليل ہے.

    اگرچہ قيمت ادھار كرنےميں جواز كی نصوص وارد ہيں ليكن اس كی كوئی دليل اور نص نہيں ملتی كہ ادھار كی وجہ سے قيمت بھی زيادہ كرنی جائز ہے.

    اسی ليے علماء اكرام اس مسئلہ كےحكم ميں اختلاف كرتےہيں:

    ۱- بعض علماء اس كی حرمت كےقائل ہيں ؛کیونکہ يہ سود ہے.

    ان كا كہنا ہےكہ: اس ليے كہ اس ميں قيمت زيادہ ہے اوريہ زيادہ قيمت مدت كے عوض ميں ہے اور يہی سود ہے.

    ۲- اورجمہور علماء كرام جن ميں آئمہ اربعہ شامل ہيں اس كےجواز كے قائل ہيں .

    ذيل ميں اس كےجواز كی عبارات پيش كی جاتی ہيں:

    حنفی مذھب ميں ہےكہ :

    ( بعض اوقات مدت كےعوض قيمت بڑھ جاتی ہے ) ديكھيں بدائع الصنائع ( 5 / 187 ).

    مالكی مذھب :

    ( وقت كےليے قيمت ميں سے كچھ مقدار ركھی گئی ہے ) بدايۃ المجتھد ( 2 / 108 ).

    شافعی مذھب :

    ( نقد پانچ ادھار ميں چھ كےبرابر ہے ) الوجيز للغزالی ( 1 / 85 (

    حنبلی مذھب :

    ( مدت قيمت ميں سے كچھ حصہ ليتی ہے ) فتاوی ابن تيميۃ ( 29 / 499 ).

    اس پر انہوں نے كتاب وسنت سے دلائل بھی د ئیے ہيں ان ميں بعض ذيل ميں پيش كيے جاتےہيں:

    ۱- فرمان باری تعالی ہے:

    {اللہ تعالی نے بيع حلال كی ہے} البقرۃ ( 275 ).

    آيت عموم كےاعتبار سے بيع كی سب صورتوں كو شامل ہے اوراس ميں مدت كےعوض ميں قيمت زيادہ كرنا داخل ہے.

    2 - اور ايك مقام پر اللہ تعالی نےاس طرح فرمايا:

    {اے ايمان والو تم آپس ميں ايك دوسرے كا مال باطل طريقہ سے نہ كھاؤ مگر يہ كہ تمہاري آپس كی رضامندی سے خريدوفروخت ہو} النساء ( 29 ).

    يہ آيت بھي عموم كےاعتبار سے طرفين كی رضامندی كی صورت ميں بيع كے جواز پر دلالت كرتی ہے، لھذا جب خريدار اور تاجر مدت كےعوض قيمت بڑھانےميں اتفاق كرليں تو بيع صحيح ہوگی.

    3 - امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتےہيں كہ نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم مدينہ تشريف لائے تو وہ كھجوروں ميں دو اور تين برس كی بيع سلف كرتے تھے، تو رسول كريم صلی اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

    ( جس نے بھی كسی چيز كی بيع سلف كی وہ معلوم ماپ اور تول اور مدت معلومہ ميں بيع كرے ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 2086 ).

    بيع سلف نصا اوراجماعا جائز ہے، اور يہ بيع التقسيط كےمشابہ ہے، علماء كرام نے بيان كيا ہے كہ اس كی حكمت يہ ہے كہ خريدار اس ميں سستي قيمت كا فائدہ حاصل كرتا ہےاور فروخت كرنےوالا مال پہلےحاصل كركےنفع حاصل كرتا ہے، اور يہ دليل ہے كہ خريدوفروخت ميں مدت كا قيمت ميں حصہ ہے، اور خريدوفروخت ميں اس كا كوئی حرج نہيں. ديكھيں: المغني ( 6 / 385 ).

    4 - ادھار كے عوض ميں قيمت زيادہ كرنا مسلمانوں كا عمل بن چكا ہے اور اس پر كوئی اعتراض نہيں، لھذا اس صورت كی بيع پر يہ اجماع كی مانند ہے.

    شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی سے مدت كےعوض ميں قيمت زيادہ كرنے كے حكم كےمتعلق سوال كياگيا تو ان كا جواب تھا:

    اس معاملہ ميں كوئی حرج نہيں، اس ليےكہ نقدكی بيع ادھار كےعلاوہ ہے، اور آج تك مسلمان اس طرح كےمعاملات كر رہے ہيں، اس كےجواز پر ان كی جانب سے يہ اجماع كی مانند ہی ہے، اور بعض شاذ اہل علم نےمدت كےعوض قيمت زيادہ كرنا منع قرار ديا ہےاور ان كا گمان ہے كہ يہ سود ہے، اس قول كی كوئی وجہ نہيں بنتی، اور نہ ہی سود ہے، اس ليے كہ تاجرنےجب ادھار سامان فروخت كيا تووہ مدت كی وجہ سے قيمت زيادہ كركےنفع حاصل كرنےپرمتفق ہوا اورخريدار بھی مہلت اورمدت كی بنا پر قيمت زيادہ دينےپر متفق ہوا كيونكہ وہ نقد قيمت ادا كرنے كی استطاعت نہيں ركھتا، تواس طرح دونوں فريق اس معاملہ سے نفع حاصل كرتےہيں.

    نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم سے بھی اس كا ثبوت ملتا ہے جواس كےجواز پر دلالت كرتا ہےوہ يہ كہ نبی كريم سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنھما كو لشكر تيار كرنےكاحكم ديا، تو وہ ادھار ميں ايك اونٹ كےبدلے دواونٹ خريدتےتھے، پھر يہ معاملہ اللہ سبحانہ وتعالی كےمندرجہ ذيل فرمان ميں بھی داخل ہوتا ہے:

    {اے ايمان والو! جب تم آپس ميں ميعاد مقرر تك كےليے قرض كا لين دين كروتواسےلكھ ليا كرو} البقرۃ ( 282 ).

    اوريہ معاملہ بھي جائز قرضوں ميں سے اور مذكورہ آيت ميں داخل ہےاور يہ بيع سلم كی جنس ميں سے ہی ہے.. اھ

    ديكھيں: فتاوي اسلاميۃ ( 2 / 331 ).

    مزيد تفصيل كےليے ديكھيں: كتاب "بيع التقسيط" تاليف ڈاكٹر رفيق يونس المصری .

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال وجواب

    فیڈ بیک