وصف

ميں تئيس برس كى لڑكى ہوں، اور صراحت سے كہتى ہوں كہ ميں نماز ادا نہيں كرتى، اور اگر نماز كے كھڑى بھى ہو جاؤں تو سب فرض ادا نہيں كرتى، اور گانے بھى سنتى ہوں، ليكن ـ اللہ گواہ ہے ـ يہ موضوع ميرے ليے نفسياتى مشكلات پيدا كررہا ہے، ميں اللہ كى اطاعت كرنا چاہتى ہوں، ميں اللہ سے ڈرتى ہوں، اور مجھے مسلمان ہونے پر فخر ہے، ميرا رب اللہ وحدہ لا شريك ہے، اور ميں حبيب مصطفى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى سيرت سے محبت كرتى ہوں، اور سيرت كے قصے اور واقعات سن كر متاثر ہوتى ہوں.
الحمد للہ اللہ كے كرم سے ميں اس برس عمرہ كے ليے بھى گئى اور مجھے اسكى بہت زيادہ خوشى ہے، ليكن ميں محسوس كرتى ہوں كہ ميں منكر ہوں، يا پھر ميرے اور كافروں ميں كوئى فرق نہيں، كيونكہ ميں نماز ادا نہيں كرتى، ميں نے پابندى سے نماز ادا كرنے كى بہت كوشش كى ہے ليكن پتہ نہيں ميرے ساتھ كيا ہوتا ہے، يہ علم ميں رہے كہ ايك لمبے عرصہ تك ميں نے نماز بالكل ادا نہيں كى.
ميں محسوس كرتى ہوں كہ ميں بہت سارے دينى امور سے جاہل ہوں، اور يہ بھى شعور ميں آتا ہے كہ اللہ تعالى ميرا كوئى بھى عمل چاہے نماز ہو يا روزہ يا عمرہ يا كوئى بھى دينى معاملہ قبول نہيں فرمائيگا، اور لا محالہ ميرا ٹھكانہ جہنم ہے، مجھے كسى ايسے شخص كى ضرورت ہے جو ميرا ہاتھ تھام لے، مجھے نصيحت كرے، اور مجھے ضائع ہونے سے بچائے، اور جس حالت ميں ہوں اس سے نكالے، ميں اس حالت ميں رہنا پسند نہيں كرتى!!
اس سے بھى بڑى ايك اور مشكل يہ ہے كہ: ميں محسوس كرتى ہوں ميں نے رمضان كا ايك بھى روزہ نہيں ركھا، حالانكہ روزے ركھنے ميں كوئى چيز مانع بھى نہيں!!
صراحت سے كہنا چاہتى ہوں كہ مجھے يہ يقينى علم نہيں كہ رمضان كے ايام تھے يا كہ شوال كے چھ روزے، ہمارے گھر ميں ہر سال ان چھ ايام كے روزے ركھنے كى عادت ہے، تو مجھ پر امور خلط ملط ہو گئے ہيں، يہ مشكل مجھے اس وقت درپيش آئى جب ميں اللہ سے دور تھى، مجھے علم ہے كہ جس نے بھى بغيركسى عذر رمضان كا روزہ نہ ركھا اللہ تعالى اسكا روزہ قبول ہى نہيں كرتا، اور اس كے ذمہ كفار ہے، تو مجھے كيا كرنا چاہيے ؟
آپ سے گزارش ہے كہ ميرى مدد كريں، اور مجھے معلومات فراہم كريں، ميں بہت زيادہ نااميد ہو چكى ہوں، اللہ تعالى اس عمل كو آپ كے ميزان حسنات ميں سے بنائے، ان شاء اللہ، اور اللہ تعالى سب مسلمانوں كى جانب سے آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

فیڈ بیک