عورت كا اپنى اولاد كے سامنے ستر

وصف

ميرا گيارہ ماہ كا بچہ ہے بعض اوقات ميں اس كے سامنے لباس تبديل كرتى ہوں، تو كيا ميرے ليےايسا كرنا جائز ہے ؟
اوركتنى عمر كے بچے كے سامنے ميں اپنا لباس نہيں اتار سكتى، اور اسى طرح گھر ميں اپنے خاوند كے سامنے مختصر لباس پہنتى ہوں اس كے متعلق بھى وضاحت كريں ؟
اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    عورت كا اپنى اولاد كے سامنے ستر

    عورة المرأة أمام أطفالها

    [ أردو - اردو - urdu ]

    شیخ محمد صالح المنجد

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2013 - 1434

    عورت كا اپنى اولاد كے سامنے ستر

    ميرا گيارہ ماہ كا بچہ ہے بعض اوقات ميں اس كے سامنے لباس تبديل كرتى ہوں، تو كيا ميرے ليےايسا كرنا جائز ہے ؟

    اوركتنى عمر كے بچے كے سامنے ميں اپنا لباس نہيں اتار سكتى، اور اسى طرح گھر ميں اپنے خاوند كے سامنے مختصر لباس پہنتى ہوں اس كے متعلق بھى وضاحت كريں ؟

    اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

    الحمد للہ:

    اگر بچہ ستر اور شرمگاہ كى سمجھ ركھتا ہو، تو پھر عورت كے ليے اس كے سامنے اپنا ستر ننگا كرنا جائز نہيں، ليكن اگر وہ چھوٹا ہونے كى بنا پر كچھ نہيں سمجھتا تو يہ جائز ہے.

    مجھے تو يہى لگتا ہے كہ گيارہ ماہ كا بچہ كچھ نہيں جانتا، ليكن جب بچہ چار يا پانچ برس كا ہو جائے تو وہ ان اشياء كو سمجھتا ہے، اس ليے اہم چيز تو يہ ہے كہ اگر بچہ ان اشياء كى سمجھ ركھتا ہو، اور اس كے ذہن ميں ان جيسے اعمال كى سمجھ ہو تو عورت كے ليے اس كے سامنے اپنا ستر كھولنا جائز ہے.

    فیڈ بیک