وصف

ميں نے سنا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فلسطين كا الخليل نامى علاقہ بنو تميم كو عطا كيا تھا، اور ان كے ليے اس كا معاہدہ بھى لكھا تھا اس كے گواہوں ميں عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ بھى تھے، اور بنو تميم آج تك الخليل ميں بس رہے ہيں، اور اپنا وقف كا حق اپنے پاس ركھے ہوئے ہيں، كيا يہ بات صحيح ہے، باوجود اس كے كہ اس وقت فلسطين مسلمانوں كے پاس نہيں تھا ؟

فیڈ بیک