وصف

میں نےصحیح الجامع میں ایک حديث پڑھی ہے جس میں نبی صلی اللہ نے صحابہ کرام کو یہ بتایا کہ :
جب دین ضعف اختیار کرجاۓ گاتومسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کو عمل کرنے پر پچاس صحابہ جتنا اجر ملے گا ۔
تومیری حیرت کا سبب وہ حدیث ہے کہ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
خیرالقرون میرا زمانہ اورپھراس کے بعد والوں کا اورپھر اس کے بعد والوں کا ، اورایک حدیث میں یہ بھی فرمایا ہے کہ تم میں سے اگر کوئ احد پہاڑجتنا سونا بھی اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کردے تووہ صحابہ کے ایک یاآدھے مد ( مٹھی ) کے اجرتک بھی نہیں پہنچ سکتا ؟

فیڈ بیک