وصف

الحمد للہ ميں ايك دينى التزام كرنے والے نوجوان سے شادى شدہ ہوں، اور وہ امر بالمعروف و نہى عن المنكر كے ادارہ سے تعاون كرتا رہتا ہے، ميں جانتى ہوں كہ اس ادارہ سے تعاون كرنا ميرے ليے ايك شرف كى بات ہے، اللہ جانتا ہے كہ اگر كچھ برائياں ختم كرنے ميں ميرا خاوند كامياب ہو جائے تو ميرے ليے يہ خوشى كا مقام ہوگا.
ليكن مشكل يہ ہے كہ ميرا خاوند اس ادارہ سے صرف خيالى طور پر تعلق ركھتا ہے، مثلا جب ہم دونوں سير و تفريح كے ليے باہر نكلتے ہيں اور وہ كوئى برائى ديكھے تو اس كا پيچھا كر كے امر بالمعروف و نہى عن المنكر كے ادارہ والوں سے رابطہ كرتا ہے اور وہ آ جاتے ہيں.
ليكن جب ميں اس سے كسى معاملہ ميں بات چيت اور بحث كرتى ہوں تو وہ يہ سمجھنے لگتا ہے كہ ميں برائى كو خم نہيں كرنا چاہتى!!
حالانكہ اللہ جانتا ہے كہ ميں ايسا نہيں چاہتى، ليكن ميں تو چاہتى ہوں كہ يہ ايك حد تك ہو، اور يہ بھى كہ وہ اس سلسلہ ميں مجھے پريشان مت كرے وہ كثرت سے عورتوں كے ساتھ بات چيت كرتا ہے، اور جب كہتا ہے كہ اس عورت نے ايسا لباس پہن ركھا ہے اور اس كى شكل ايسى ہے تو ميرى غيرت اور بڑھ جاتى ہے، مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں ؟
اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

فیڈ بیک