وصف

ميرى شادى كو كم از كم پندرہ برس ہو چكے ہيں اور ميرا خاوند بڑا مہربان ہے، ہم ايك دوسرے كے واجبات ادا تو كر رہے ہيں ليكن ايك دوسرے سے لگاؤ نہيں ہے، اسى طرح ہمارے جنسى تعلقات بھى بہت كم ہيں، صرف واجبى حق ہى ادا ہوتا ہے.
اتنے برسوں كے بعد بھى ميں محسوس كرتى ہوں كہ ميرى ازدواجى زندگى سعادت والى نہيں اور ميں اللہ كا شكر ادا نہيں كرتى، بلكہ پچھلے دو ماہ سے تو ميں ايك دوسرے شخص ميں دلچسپى لينے لگى ہوں جو ميرى عليحدگى كے بعد مجھ سے شادى كرنا چاہتا ہے، ميں يہ محسوس كرنے لگى ہوں كہ اگر اپنى اس خاوند سے عليحدہ نہ بھى ہوئى تو ميں اپنے خاوند كے ساتھ مخلص نہيں رہونگى.
اس ليے آپ مجھے كيا نصيحت كرتے ہيں كہ اس حالت ميں دين اسلام ہميں كيا كہتا ہے، ميں نے اپنى دنيا تو ضائع كر لى ہے، ليكن اپنى آخرت ضائع نہيں كرنا چاہتى، برائے مہربانى ميرے سوال كا جواب ضرور ديں، ميں ايسے افراد سے دريافت نہيں كرنا چاہتى جو دين اسلام كا علم نہيں ركھتے ميرى اس مشكل كا حل صرف علماء كرام ہى بتا سكتے ہيں اگر يہ جگہ ميرے سوال كے ليے مناسب نہيں تو برائے مہربانى آپ مجھے كسى ايسے عالم دين كا بتائيں جو ميرى مشكل كو حل كر سكے، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

فیڈ بیک