وصف

آپ شكريہ كے مستحق ہيں، اور اللہ تعالى آپ كو اس ويب سائٹ كى جزائے خير عطا فرمائے، ميں اصل موضوع كى طرف آتى ہوں...
ميرے والدين مجھے اتنے پيسے نہيں ديتے تھے جو ميرى ضروريات معاش كے ليے كافى ہوں، بعض اوقات مجھے رقم حاصل كرنے كے ليے جھوٹ كا سہارا لينا پڑتا تھا اور ميں ايسى اشياء بيان كرتى جن كى كوئى حقيقت نہ ہوتى، انہيں بھى اس كا علم ہوتا ليكن اس كے باوجود وہ صراحت نہ كرتے تا كہ ميں پيسے لينے كى عادت نہ بنا لوں، تو كيا اسے چورى شمار كيا جائيگا ؟
بعض اوقات ميں اپنى سہيليوں كے ساتھ كہيں جانا چاہتى تو ميں والدين سے اجازت اور پيسے لينے كے ليے جھوت بولتى تھى.

فیڈ بیک