وصف

ايك عورت كا خاوند سارا ہفتہ كام پر رہتا ہے، اور ہفتہ كے آخر ميں چھٹى والے دن اور رات اپنے دوستوں كے ساتھ گھونے نكل جاتا ہے، اور بيوى كو اكيلے ہى چھوڑ ديتا ہے.
جب اس سے بات كى جائے تو دليل يہ ديتا ہے كہ يہ اس كا حق ہے، اور بيوى كو پورا ہفتہ حاصل ہے.
تو كيا بيوى كو اس پر اعتراض كرنے كا حق حاصل ہے كہ كيونكہ خاوند سارى رات نہيں آتا اور دوستوں كے ساتھ بسر كر ديتا ہے ليكن نماز ضائع نہيں كرتا، اور وہ اپنا وقت بات چيت اور حقہ وغيرہ پى كر اور لڈو وغيرہ كى كھيل ميں بسر كر ديتے ہيں ؟
اور يہ بتائيں كہ اگر اللہ كى اطاعت ميں رات بسر كى جائے نہ كہ دوستوں كے ساتھ كھيل تماشہ ميں تو كيا پھر بھى وہى حكم ہو گا ؟

فیڈ بیک