وصف

ميں شادى شدہ ہوں شادى كے وقت ميں رہائش اور گھريلو ساز و سامان اور دلہن كو ديا جانے والے سونے سے دستبردار ہو گئى تھى كيونكہ ميرا خاوند باہر كے ملك ميں ملازمت كرتا تھا، چنانچہ عفت اختيار كرتے ہوئے شادى كى موافقت كر لى كہ ميں خاوند كے ساتھ باہر كے ملك جانے كے معاملات حل ہونے تك سسرال والوں كے ساتھ رہونگى.
ليكن كچھ ہى عرصہ قبل جب ميں نے خاوند سے تنخواہ كے بارہ ميں دريافت كيا تو حيران رہ گئى كہ وہ تو اپنے امير ترين شادى شدہ بھائى كا تعاون كرتا ہے، اور اسى طرح وہ اپنے سارے خاندان كى معاونت كرتا ہے، حالانكہ ہميں اپنا مكان بنانے كے ليے مال كى زيادہ ضرورت ہے.
جب ميں نے ايسا كرنے كى مخالفت كى تو خاوند نے ايسے معاملہ ميں دخل دينے كا الزام لگايا جو ميرے ساتھ خاص نہيں، اور كہنے لگا كہ اسے اپنے گھر والوں كے ليے خير و بھلائى كرنى چاہيے، اس كے ليے رہائش اور سونا مہيا كرنا لازم ہے، اس كے بعد مجھے خاوند كے مخصوص معاملات ميں دخل دينے كا كوئى حق نہيں.
ميرا سوال يہ ہے كہ اس مسئلہ ميں ميرا خاوند كى مخالفت كرنا غلطى تو نہيں، كيا اس سے اللہ تعالى ناراض تو نہيں ہوگا ؟
ميرا خاوند مجھ سے دور ہو اور ميں اس كى جدائى برداشت كرتى پھروں اور ميں اس كى ممد و معاون بنوں، اور اپنے ميكے سے دور رہوں، ليكن اس عرصہ ميں اس كا بھائى ميرے خاوند كے مال سے فائدہ حاصل كرتا پھرے، حالانكہ خاوند كا بھائى اچھا خاصہ امير اور دولتمند بھى ہے، كيا ميرا خاوند اس مال كا زيادہ حقدار نہيں ہے ؟
اور اگر خاوند كى ضروريات سے مال زيادہ ہے تو اسے اپنے فائدہ كے ليے جمع كرنا چاہيے تھا تا كہ بعد ميں بوقت ضرورت استعمال كر سكے، يا پھر كسى مستحق اور فقير شخص پر صدقہ كر دے، ميرا سوال يہ ہے كہ آيا ميرا خاوند صحيح كر رہا ہے يا نہيں ؟
خاوند اپنے خاندان والوں كى محبت كے ليے مال صرف كرتا ہے، ميرے خيال ميں خاوند مجھ پر ظلم كر رہا ہے، اگر ميرے خاوند كے پاس مال زيادہ ہے تو فقير شخص اس كا زيادہ محتاج ہے، يا پھر ميں، آپ ہم دونوں ميں سے كسے صحيح خيال كرتے ہيں، اور اگر ميرا خاوند صحيح ہے تو آپ مجھے كيا نصحيت كريں گے تا كہ ہم آپس ميں ايك دوسرے كو معاف و درگزر كر ديں، اور ميں بھى اس كے اجروثواب ميں شريك ہو سكوں، اور اگر ميں صحيح ہوں تو آپ كيا كہتے ہيں ؟
اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

فیڈ بیک