وصف

پہلے تو ميں اپنے بارہ ميں كچھ معلومات دينا پسند كرونگا، ميرى عمر انتيس برس ہے اور ميں انجينئر ہوں اور بہت تنظيم پسند ہوں صفائى اور خاموشى كو پسند كرتا ہوں اپنے تصرفات ميں توازن ركھنے والا اور عقل و دانش ركھتا ہوں اور ميں وضاحت و صراحت اور حقيقى محبت كو پسند كرتا ہوں، اسى طرح مصلحت كى دوستى كو ناپسند كرتا ہوں.
جب كسى شخص كے بارہ ميں علم ہو كہ وہ ميرى تحقير كرنے كى كوشش كر رہا ہے يا پھر وہ ميرى قدر نہيں كرتا تو ميں بہت جلد بھڑك اٹھتا ہوں، غالب طور پر ميں اپنا غصہ پى جاتاہوں اور موضع سے تجاہل كرتا ہوں.
ليكن مشكل يہ ہے كہ ميرى منگيتر جس كے بارہ ميں اپنى غلطى كا اعتراف كرتا ہوں كہ ميں نے اسے قليل سے عرصہ ميں ہى ہر قسم كے تحفہ تحائف ديے اور اسے سارى محبت بھى دى ہے اس كى عقل اور سارے تصرفات اس كى والدہ كے ہاتھ ميں ہيں.
ميں نے جس لڑكى سے نكاح كيا ہے اس كى عمر سترہ برس ہے اور ميرى بيوى نہ تو اپنے گھر سے باہر جاتى ہے اور نہ ہى لوگوں سے ميل جول ركھتى ہے، صرف اس كى والدہ يعنى ميرى ساس ہى سارے معاملات نپٹاتى ہے، حتى كہ ميرى اس سے شادى كے بعد بھى وہ اب ماں كے گھر ميں ہے اور رخصتى كا وقت بھى قريب آ رہا ہے.
اس كى والدہ ہمارى ٹيلى فون كاليں تك سنتى ہے اور ميرى بيوى كے سارے حالات كى خبر گيرى كرتى رہتى ہے اور ميرى بيوى كا موبائل بھى چيك كرتى ہے اور اسے اپنى سوچ اور افكار كے مطابق مجھے جواب دينے كو كہتى ہے.
مختصر يہ كہ اس لڑكى كى سوچ اور ارادہ سب كچھ ماں نے سلب كر ركھا ہے، ميں نے اس كى راہنمائى كرنے كى كوشش كى اور اسے كہا كہ وہ اس كے بارہ ميں اپنى والدہ كو مت بتائے ہمارے درميان جو باتيں ہوتى ہيں ان كى خبر بھى نہ ہو، ليكن اس كا كوئى فائدہ نہيں.
ميرے سامنے تو كہتى ہے كہ ميں اسے افشاء نہيں كرونگى، ليكن ميرى اپنى ساس كے ساتھ بات چيت سے پتہ چلتا ہے كہ اس نے ماں كو سب كچھ بتا ديا ہے، اور جس پر ميں اور بيوى نے اتفاق كيا ہوتا ہے اسے اس كى ماں تبديل كر ديتى ہے اور وہ ماں كى بات مان كر اپنے وعدہ سے مكر جاتى ہے.
اور بعض اوقات تو مجھے ايسے ميسج ملتے ہيں جو اس كى عمر سے بڑے ہوتے ہيں مجھے معلوم ہو جاتا ہے كہ ميرى ساس دخل اندازى كر رہى ہے، جب ميں اپنى منگيتر سے اس كے بارہ ميں ٹيلى فون پر بات چيت كرتا ہوں تو وہ ہڑ بڑا جاتى ہے اور اسے سمجھ نہيں آتى كہ وہ كيا كرے كيونكہ وہ ميسج اس كى عقل سے بڑا ہوتا ہے.
ميں اس طوالت پر آپ سے معذرت كرتا ہوں، مختصر طور پر ميرى مشكل درج ذيل ہے:
لڑكى اكھڑ اور تعصب و غصہ والى ہے، اور اس سے بھى بڑھ كر يہ كہ وہ بات كو قبول نہيں كرتى، بلكہ اپنے سارے معاملات اپنى والدہ كے سپرد كر ديتى ہے، اور اس كى والدہ بھى بہت تعصب والى ہے، اور جو اس كى بات نہ مانے اس سے حقد و كينہ اور ناراضگى ركھتى ہے، چاہے ميں اس كى نناويں باتيں تسليم بھى كر لوں اور صرف ايك ميں مخالفت ہو جائے تو ميرى ساس مجھ سے ناراض ہو جاتى اور مجھے نا پسند كرنے لگتى اور ميرى بيوى بھى مجھ پر ناراض ہو جاتى ہے، اور اس طرح ميرى بيوى يہ سمجھتى ہے كہ ميں نے اس كى والدہ كو ناراض كيا ہے، اور اس طرح اس كى خفگی ميں اضافہ ہو جاتا ہے.
اور اب ميرى بيوى كہتى ہے كہ: وہ مجھ سے محبت كرتى ہے ليكن ميرے بارہ ميں پوچھتى تك نہيں، اور نہ ہى كبھى كوئى ميسج كيا ہے، اور جب ميں پہل كرتے ہوئے كوئى ميسج بھیجوں تو فورا جواب ديتى ہے ليكن ميرے بارے ميں كوئى سوال نہيں كرتى.
كم از كم يہ كہ مجھ سے ناراض ہو تو وہ عناد ركھتى ہے اور اپنے معاملات ميں ميرے ساتھ بالكل خشك رويہ اپنانا شروع كر ديتى ہے، كيا ميں اسے طلاق دے دوں يا كہ اس كے تصرفات پر صبر و تحمل سے كام لوں اور جب وہ ميرے گھر آئے گى تو اس كے معاملات بہتر ہو جائيں گے ؟
يا ميں اس كے ساتھ كوئى نيا طريقہ اختيار كروں، برائے مہربانى مجھے اس سلسلہ ميں معلومات فراہم كريں، اللہ تعالى آپ كى كوششوں ميں بركت عطا فرمائے.

فیڈ بیک