وصف

مجھے دو بار طلاق ہو چكى ہے: پہلى بار اس ليے طلاق ہوئى كہ ميں نے خاوند سے مطالبہ كيا تھا كہ وہ ميرے اور بچوں كے ليے مہينہ ميں ايك دن مقرر كر دے جس ميں وہ ہمارے ساتھ بيٹھے اور وہاں اپنے گھر والوں كى ياد نہ كرے.
دوسرى بار طلاق اس ليے ہوئى كہ خاوند دوسرى عورت سے محبت كرتا تھا اور ميرے ساتھ بچوں كے سامنے توہين آميز رويہ اختيار كرتا، اور اسے مجھ پر فوقيت ديتا اور ميرے اور ميرے بچوں كے احساس كا خيال تك نہ كرتا تھا، اور وہ اس سے شادى كيے بغير ميرے سامنے ٹيلى فون پر محبت كى باتيں كرتا رہتا.
اب وہ سفر پر گيا ہوا ہے اور مجھے ميرے بچوں كے ساتھ اكيلا چھوڑ گيا ہے، ميرا اس سے تعلق صرف يہى ہے كہ وہ اپنے گھر والوں كے ذريعہ كچھ خرچ بھيج ديتا ہے.
مجھے يہ بتائيں كہ اگر مجھے طلاق ہو جائے تو اللہ مجھے اللہ اس كا نعم البدل ديگا، اور مجھے اپنے فضل سے غنى كر ديگا اور ميں جو ظلم ديكھ رہى ہوں مجھے اس كے عوض ميں بہتر بدلہ دےگا يا كہ يہ اللہ كى قضاء و قدر پر عدم رضا ہو گى ؟
اور كيا مجھے يہ حق حاصل ہے كہ ميرا ايسا خاوند ہو جس كے ساتھ محبت و پيار اور سكون سے رہوں، يا كہ ميں اور ميرے بچے صرف ماہانہ اخراجات پر ذلت كى زندگى پر راضى رہيں جو ہر ماہ خاوند كے گھر والوں كے ذريعہ بھيج ديتا ہے جس سے ميرى اور بھى زيادہ تذليل ہوتى ہے ؟
اور كيا ميں صبر و شكر كرنے والى شمار ہوتى ہوں يا كہ كمزور كيونكہ ميں طلاق كے خوف كى بنا پر گيارہ برس سے اس زندگى پر راضى ہوں ؟

فیڈ بیک