وصف

ميں شادى شدہ ہوں اور ميرے تين بچے بھى ہيں، ميرا خاوند ميرے ساتھ حسن سلوك بھى كرتا اور ميرا بہت خيال كرتا ہے، ليكن ميں خاوند كے ايك رشتہ دار مرد كى طرف كھنچتى چلى جا رہى ہوں، مذكورہ شخص مجھ سے دس برس چھوٹا ہے، مجھے علم ہے كہ وہ شخص كچھ عرصہ سے ميرى محبت ميں گرفتار ہے.
ميں نے اسے بتايا ہے كہ يہ معاملہ ناممكن ہے، ليكن ميرے بارہ ميں اس كے احساسات اور جذبات زيادہ بڑھ رہے ہيں، ميں نے اسے كہا كہ تم استخارہ كرو اور اللہ سے ہدايت طلب كرو تو اس نے تين بار استخارہ كيا اور ہر بار مثبت نتيجہ ہى سامنے آيا.
ميں اس سے نہيں ملتى ليكن مجھے علم ہے كہ وہ ايك احترام كرنے والا سچا نوجوان ہے، ميرے جذبات اور احساسات بھى اس كے بارہ ميں كچھ عجيب سے ہو رہے ہيں ميں اس كى طرف مائل ہوتى جا رہى ہوں، ليكن ميں ہميشہ ان جذبات و احساسات كو پوشيدہ ركھتى ہوں، كيا ميرے ليے شادى شدہ ہوتے ہوئے اس كے بارہ ميں استخارہ كرنا جائز ہے ؟ اور مجھے كيا كرنا چاہيے ؟
برائے مہربانى ميرے ليے دعا فرمائيں اور اس مشكل ترين مرحلہ ميں ميرى مدد فرمائيں، ميں اپنے خاوند اور اپنے خاندان كے ليے مشكلات كا باعث نہيں بننا چاہتى، ميں كيا كروں ؟

فیڈ بیک