وصف

ميں جوان لڑكى ہوں ميرے ليے ايك ايسے شخص كا رشتہ آيا ہے جس ميں ہر وہ صفت پائى جاتى ہے جو ايك مسلمان لڑكى اپنے شريك حياۃ ميں ديكھنا چاہتى ہے، الحمد للہ ميں نے يہ رشتہ قبول كر ليا اور عقد نكاح بھى كچھ عرصہ قبل ہو چكا ہے.
ميں اس نوجوان ميں خير كے علاوہ كچھ نہيں ديكھتى ليكن مشكل يہ ہے كہ اس نوجوان كے رشتہ آنے سے قبل ميرى سہيلى نے مجھ سے ميرے متعلق دريافت كيا تو ميں نے اسے بتايا تھا كہ ميرے طويل عرصہ تك ايك نوجوان سے تعلقات رہے ہيں، ليكن اب يہ تعلقات ختم ہو چكے ہيں اور ميں نے اللہ سے اس كى توبہ بھى كر لى ہے.
ليكن مجھے كچھ عرصہ قبل ہى معلوم ہوا ہے كہ ميرى اس سہيلى نے اسے يہ سب كچھ بتا ديا ہے، ميں گواہى ديتى ہوں كہ ميں نے اللہ كے ہاں توبہ كر لى ہے، اور صحيح راہ پر واپس آ چكى ہوں، اور اس سے كبھى بات بھى نہيں.
ليكن مجھے جب ميرى سہيلى نے يہ بتايا تو مجھے بہت صدمہ ہوا اور ميں نے اسے ڈانٹا، ليكن سہيلى مجھے كہنے لگى اسے ان تعلقات كے بارہ ميں بتانا ہمارے ليے واجب تھا، اور مجھ پر بھى واجب ہے كہ ميں پورى صراحت كے ساتھ اسے بتاؤں، ميرا سوال يہ ہے كہ:
اگر وہ مجھ سے اس كے متعلق دريافت كرے تو كيا مجھ پر صراحت كرنى ضرورى اور واجب ہے يا كہ ميں معاملہ كو چھپانا چاہيے؟
ميں خوفزدہ ہوں كہ ميرا يہ ماضى ميرى زندگى نہ تباہ كر دے.

فیڈ بیک