وصف

ميں اپنى ايك قريبى رشتہ دار لڑكى سے چھ ماہ قبل عقد نكاح كيا، يہ علم ميں رہے كہ ميں كسى دوسرے ملك ميں ملازمت كرتا ہوں، منگنى اور عقد نكاح يہ سب سفر كى حالت ميں ہى ہوا، جب سے ميرا عقد نكاح ہوا ہے بيوى ميں بہت تبديلى پيدا ہو چكى ہے اور وہ بہت ہى نحوست كرنے لگى ہے اور اسے شك ہے كہ ميرے ساتھ اس كى زندگى سعادت مند نہيں رہےگى.
اور پھر مستقبل ميں بھى وہ ايسا محسوس نہيں كرتى اس ليے وہ مجھ سے طلاق طلب كرنے لگى ہے، كيا ميرے ليے اسے طلاق دينا جائز ہے ؟
يہ علم ميں رہے كہ وہ ميرے ليے اہم قسم كے معاملات ميں ميرى مخالفت كرتى ہے مثلا مكمل شرعى پردہ، اور مخلوط جگہ ملازمت كرتى ہے، ميں اپنے دين كى حفاظت كرنا چاہتا ہوں برائے مہربانى مجھے بتائيں ميں كيا كروں ؟

فیڈ بیک