وصف

ہمارى شادى كو ساڑھے تين برس ہوئے ہيں، ميرا خاوند دين پر عمل كرنے والا اور بہت اچھا ہے، الحمد للہ ہم اكھٹے حسب استطاعت اللہ كى عبادت بھى كرتے ہيں، شادى كى ابتداء سے ميرے ساتھ يہ مشكل درپيش ہے كہ اس كے ليے دوران جماع كوئى نہ كوئى جنسى قصہ بيان كرنا ضرورى تھا اور ميں اس قصہ كے خيالات ميں كھو جاتى؛ كيونكہ ميں اس كے بغير اپنى خواہش پورى نہيں كر سكتى تھى.
ميرے ليے ان خيالات ميں كھونا ضرورى ہوتا تا كہ ميں مكمل لطف اٹھا سكوں اور اپنى حاجت پورى كروں، يہ مشكل اب تك موجود ہے، اور ہر جماع كے بعد اپنے ضمير كى ملامت محسوس كرتى ہوں، ميں اس كے ساتھ بھى ہوتى ہوں تو يہ خيالات ميرا پيچھا كرتے رہتے ہيں.
يہ خيالات بالكل كسى اور شخص كے متعلق نہيں ہوتے صرف وہ لوگ جنہيں ميں جانتى بھى نہيں، ميں نے اسے اپنى اس مشكل كے بارہ ميں بتايا تو وہ كوئى ناراض نہيں ہوا، ليكن ميں ايك قسم كى خيانت كا شعور محسوس كرتى ہوں برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں، اور شرعى طور پر اس كا حكم كيا ہے ؟

فیڈ بیک