وصف

ميں جوان ہوں اور تقريبا اڑھائى برس قبل شادى كى ہے الحمد للہ ہمارى شادى كے ابتدائى ايام ميں ہزار خير پائى جاتى تھى، اور ہم كتاب اللہ اور رياض الصالحين پر جمع تھے اور سوموار اور جمعرات كا روزہ بھى ركھتے، ليكن ـ جيسا كہ ضرب المثل ہے ـ كہ حالت ايك طرح كى رہنى محال ہے، ہمارى شادى كے تين ماہ ہى گزرے تھے كہ اس بيوى كى حالت تبديل ہوگى.
يہ انكشاف ہوا كہ يہ عورت تو ان عورتوں ميں شمار ہوتى ہے جو نمازيں بروقت ادا نہيں كرتيں، اور بعض اوقات تو اكثر نمازيں ايك ہى وقت جمع كر كے ادا كرتى ہے، حالانكہ بعض اوقات تو ميرى بيوى تھجد بھى ادا كرنے كا اہتمام كرتى ہے، اور رات كو بيدار رہنے كا اسے عشق ہے، جس كى بنا پر سارا دن سوئى رہتى ہے.
گھر ميں ڈش نہيں تھى تو بيوى كے مطالبہ پر تقريبا چھ ماہ قبل ميں نے ڈش چينل كا اضافہ كرديا، اس پر مستزاد يہ كہ اس كے نزديك خاوند كى كوئى اہميت نہيں وہ اس كا اہتمام نہيں كرتى، اكثر طور پر ہم بسترى سے انكار كرتى ہے، اور اس سلسلہ ميں كثرت سے كر ليں كر ليں گے كہتى رہتى ہے.
حالانكہ اسے علم ہے كہ خاوند اسے اس كى سزا كا بھى علم ہے؛ اور پھر اس كے پاس اسلامى علوم ميں بى اے كى ڈگرى بھى ہے!! اور جب ميں اس سے ناراض ہوتا ہوں تو پھر بھى اس پر كوئى اثر نہيں ہوتاگويا كہ يہ چيز تو اس كے ليے عام حيثيت ركھتى ہے، كتنى بار اسے بستر پر الگ چھوڑا ہے ليكن اس پر كوئى اثر ہى نہيں.
اور كئى بار تو دوسرے لوگوں نے اس كى اصلاح كے ليے دخل اندازى كى ہے ليكن افسوس كہ اس كى حالت پہلے سے بھى خراب ہوئى ہے، اس پر مستزاد يہ كہ اس ميں دائمى عناد پايا جاتا ہے، وہ بڑى شدت سے اس پر قائم ہے چاہے غلطى پر ہى ہو، اس كے ہاں تو معذرت كا اسلوب پايا ہى نہيں جاتا كہ وہ كبھى معذرت بھى كر سكتى ہے، برائے مہربانى آپ يہ بتائيں كہ اس كا حل كيا ہے ؟

فیڈ بیک