وصف

ميرى عمر چھبيس برس ہے اور سال بھر خاوند كا گھر چھوڑنے كے بعد اب تقريبا ايك ہفتہ قبل مجھے طلاق ہوئى ہے ميں اس وقت اپنے بچے كے ساتھ ميكے ميں ہوں بچے كى عمر تقريبا دو برس ہے.
يہ شادى محبت كى شادى تھى ابتدا ميں تو ميں اپنى ساس كے ساتھ رہائش پذير رہى اور ميرى ساس ہر چيز ميں دخل اندازى كرنے لگى.
اور خاوند نے مجھ سے ملازمت كا مطالبہ كيا تا كہ شادى كے ليے حاصل كردہ قرض كى ادائيگى ميں مدد ہو سكے، اور مجھے ملازمت مل گئى ميں نے ملازمت كر كے قرض كى ادائيگى ميں مدد بھى كى.
ميرى ايك ہى شرط تھى كہ ہم اپنے عليحدہ گھر ميں رہيں جہاں ساس كا دخل نہ ہو، اور خاوند نے مجھ سے اس كا وعدہ بھى كيا تھا، كيونكہ گھر ميں والدہ ہى ہر كام كو كنٹرول كرتى تھى، اور ميرا خاوند كوئى اعتراض نہيں كر سكتاتھا، اگر اعتراض كرتا تو والدہ اسے گھر سے نكال ديتى، ميرى ساس بھى ملازمت كرتى ہے.
ميں نے دو برس اپنے خاوند كا تجربہ كيا اور اس كے ساتھ رہى ہوں تو ميں نے اسے وہ شخص نہيں پايا جسے ميں نے ابتدا ميں جانا تھا، وہ تو صرف ايك نقاب اور ماسك تھا جو اس نے پہن ركھا تھا.
ميرا خاوند ميرى سارى تنخواہ لے ليتا اور مجھے يوميہ اخراجات كے علاوہ كچھ نہ ديتا، جب بھى اسے رقم كى ضرورت ہوتى يا پھر كام چھوڑ ديتا تو مجھ سے زيور فروخت كرنے كا مطالبہ كرتا، اور ميں نے ايسا ہى كيا اور اپنا زيور تك فروخت كر ديا، اور بعض اوقات اس نے بھى ايسا ہى كيا.
ميرا خاوند مجھ سے كہتا كہ جاؤ اپنے گھر والوں سے قرض لاؤ تو ميں اپنے ميكے سے رقم حاصل كرتى، ليكن اس كے مقابلہ ميں وہ مجھے كچھ نہ ديتا، ميں ہر چيز سے محروم تھى، اور وہ ہميشہ مجھے يہى كہتا تھا " تمہيں ہمارى حالت كا علم ہے اور تم اسے برداشت كرو " وہ اپنا بٹوہ گاڑى ميں چھپا كر ركھتا تھا اور كہتا كہ مجھے كوئى حق نہيں پہنچتا كہ اسے معلوم ہو اس كے پاس كتنى رقم ہے، يا كچھ بھى نہيں.
اس طرح ہمارے مابين مشكلات ميں اضافہ ہوتا رہا، اور ميں مطالبہ كرتى رہى كہ ہمارا عليحدہ گھر ہونا چاہيے كيونكہ ميں اس كى عادى نہ تھى كہ ايسے گھر ميں رہوں جہاں جو مرضى ہوتا رہے اور خارج والا خارج رہے.
كيونكہ اس كى ايك مطلقہ بہن تھى جو ملازمت كرتى اور اپنى ملازمت والى جگہ پر ہى ہوٹل ميں رات بسر كرتى تھى جو ہمارے علاقے سے باہر تھا، اور ہميں ملتى آتى تو اس دوران بھى ہر رات باہر رہتى اور آدھى رات كے بعد گھر واپس آتى مجھے يہ چيز اچھى نہ لگتى اور ميں اپنے محترم خاوند سے كہتى:
ہمارے پڑوسى اس گھر والوں كے متعلق كيا كہيں گے جہاں ہم رہتے ہيں ؟ يہ عيب ہے تو خاوند جواب ديتا: ميں ان سے بات كرونگا مجھے بھى يہ چيز اچھى نہيں لگتى، اور مجھے صبر كرنے كا كہتا، اور بالآخر اس نے يہ كہا:
يہ ہمارى عادت اور رسم و رواج ہے ( كيونكہ وہ عرب نہيں ہيں غير عرب ہيں " اور ميں اپنى والدہ اور بہن كو اكيلے اپنے سے دور نہيں ركھ سكتا، ميں نے اپنے گھر والوں كو بالكل كچھ نہيں بتايا كيونكہ وہ تو شروع سے ہى اس شخص كے ساتھ شادى كرنے كى مخالفت كرتے تھے، ليكن ميں نے اس سے شادى كرنے پر اصرار كيا تھا اس ليے كہ ميں نے اس ميں اچھا اخلاق ديكھا اور يہ كہ وہ اچھے دل كا مالك ہے، ميں اس وقت كتنى اندھى ہو چكى تھى.
بالآخر ميں نے اپنے گھر والوں كو بتا ديا كيونكہ ميں نے اپنے كانوں سے سنا كہ وہ اپنى والدہ كو ميرى شكايت لگا رہا ہے اور والدہ اسے مجھے زدكوب كر كے مجھ سے بچہ لينے كا كہہ رہى ہے، سب سے آخرى بات يہى ہے اس كے بعد ميں نے اچھے چھوڑ ديا اور اپنے ميكے چلى آئى.
اس كے پندرہ روز كے بعد ميرا خاوند يہ معلوم كرنے آيا كہ ميں نے گھر كيوں چھوڑا ہے، ليكن ميں نے اسے يہ نہ بتايا كہ ميں اس كى والدہ كے ساتھ ہونے والى بات سن چكى ہوں، ميں نے اس سے عليحدہ گھر كا مطالبہ كيا اور اس نے موافقت كى.
جب ہم نے مكان ديكھا اور خاوند مكان ديكھنے گيا تو اس نے اپنى رائے بدل لى اور دو برس تك ايسے ہى حالت رہى، اس دوران ميرے خاوند نے مجھ پر الزام لگايا كہ ميرے كسى كے ساتھ تعلقات ہيں، اور ميرى عقل كے ساتھ كھيل رہا ہے، يہ اس وقت ہوا كہ جب اس نے ديكھا كہ ميرے والد كے جاننے والے شخص نے مجھے ميرى ملازمت والى جگہ سے مجھے گھر پہنچايا، جسے ميں نے ايك روز اچانك اپنے آفس ديكھا اور نيچے ميرا خاوند ميرا انتظار كر رہا تھا تو مجھے خوف ہوا كہ كہيں خاوند مجھے نقصان نہ پہنچائے لہذا ميں نے والد صاحب كو جاننے والے شخص سے كہا كہ وہ مجھے گھر پہنچا دے.
اس كے بعد ميرے كچھ جاننے والے لوگوں كو بھيجا كہ يا تو ميں اپنے سسرالى گھر ميں واپس آ جاؤں يا پھر طلاق كے مقابلہ ميں اپنے حقوق سے دستبردار ہو جاؤں، ليكن ميں نے انكار كر ديا، اور ميں نے طلاق لينے پر اصرار كيا، ميں گھر نہيں چاہتى.
اس نے دو بار مقدمہ بھى كيا اور بالآخر ميں نے بھى طلاق كا مقدمہ كر ديا، ليكن ان آخرى پانچ ماہ ميں ميں نے بغير كسى قصد و ارادہ كے اچانك اسى شخص سے بات كى جس نے مجھے گھر پہنچايا تھا اور اسے ميرے والد صاحب جانتے ہيں اور وہ مجھ سے چودہ برس بڑا بھى ہے، ميرے ساتھ جو كچھ ہوا ميں نے اسے سب كچھ بتايا، تو اس نے ميرا ساتھ ديا، اور زندگى اور لوگوں كے متعلق اس نے مجھے كئى ايك امور سمجھائے، اور كچھ ايسے امور ہوتے ہيں جن پر خاموش نہيں رہنا چاہيے.
كہ ابتدا سے ہى ميرا اس شخص كے قريب ہونا غلط تھا اور ميں نے كسى كى كوئى نصيحت نہ سنى اور سب كى رائے كو ٹھكرا ديا، ميں ہى غلط تھى، اس كے بعد مجھے محسوس ہوا كہ ميں اس كى جانب كھنچى جا رہى ہوں، مجھے اندر سے معلوم ہے كہ ايسا كرنا غلط ہے، اور مجھے ہر وقت يہ احساس نادم كرتا رہا ہے، خاص كر اب تو ميں اس سے محبت كرنے لگى ہوں، اور جانتى ہوں كہ وہ بھى مجھ سے محبت كرتا ہے، يہ ايسا معاملہ ہے جس كى كوئى پلاننگ نہيں كى گئى تھى.
ہم كئى ايك بار مل بھى چكے ہيں، اور بيٹھ كر بہت باتيں بھى كى ہيں حتى كہ طلاق ہونے سے قبل اس نے شادى كا مطالبہ بھى كيا تھا، ميں بھى يہ چاہتى ہوں ليكن مجھے خوف ہے كہ كہيں بعد ميں مخالفت نہ ہو جائے، خاص كر جن حالات ميں يہ تعلقات قائم ہوئے ہيں، مجھے اللہ سے بھى خوف ہے كہ كہيں ميں غلطى پر تو نہيں كہ ميں نے كسى اور شخص سے محبت كى ہے حالانكہ ميں ابھى كسى اور كے نكاح ميں تھى.
يہ علم ميں رہے كہ ميں نے اپنے خاوند كو ايك بر ساور تين ماہ سے چھوڑ ركھا ہے، اور اب مجھے دو ہفتے قبل طلاق ہوئى ہے، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ آيا ميں غلطى پر ہوں اور كيا ميں نے جو كچھ كيا ہے وہ حرام ہے ؟
ميں ہميشہ اپنے اندر كى مخالفت كرتى ہوں اور بہت پريشان ہوں؛ كيونكہ ميں اللہ كو ناراض نہيں كرنا چاہتى اور كہيں ميں معصيت و نافرمانى كا ارتكاب تو نہيں كر بيٹھى.

فیڈ بیک