وصف

ميرے خاوند كى بہن يعنى ميرى نند كى سابقہ زندگى گناہ اور زنا اور حرام افعال سے بھرى ہوئى ہے، اور تقريبا ہم نے اس سے پندرہ برس تك تعلقات ختم كيے ركھے، پھر ميرا خاوند اس سے بات چيت كرنے لگا.
اب مجھے اپنى اولاد كے متعلق خدشہ ہے كہ كہيں وہ اس سے متاثر نہ ہو جائے، اس ليے ميں نے اپنى اولاد كے سامنے اس كے شرف پر حملہ كيا اور اسے عار دلائى تا كہ ميرى اولاد اس سے دور رہے، ميں نے بچوں كے سامنے كہا: تمہارى پھوپھى تو اپنے ماموں كے ساتھ زنا كرتى رہى اور اس سے جنسى تعلق بنا ركھے تھے، تو كيا اپنى اولاد كو اس سے دور كرنے كے ليے ايسا كرنا جائز ہے ـ حالانكہ بچے اس سے منقطع رہتے ہيں ليكن مجھے خدشہ ہے كہ ميرا خاوند ان پر اثرانداز نہ ہو جائے ـ تو ميں نے اس كے شرف اور عزت پر ہاتھ ڈالا كيا يہ جائز ہے ؟
اللہ تعالىآپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

فیڈ بیک