وصف

ميں نے چھ ماقبل دوسرى شادى كى ہے جس كا پہلى بيوى كو علم نہيں، ليكن كچھ عرصہ بعد ايسے لوگوں كے ذريعہ بيوى كو علم ہو گيا جنہيں ہم نہيں جانتے، ميرى پہلى بيوى سے چار اور دو برس كى دو بيٹياں ہيں، ليكن كچھ عرصہ سے ميرى پہلى بيوى اور گھر والوں كا جھگڑا چل رہا ہے، اور وہ اپنے مستقل گھر ميں عليحدہ رہتى ہے، اور پھر ميرے گھر والے بڑا اختلاف ہونے كى وجہ سے ميرى بيوى سے محبت نہيں كرتے، كيونكہ وہ ان كا احترام نہيں كرتى. جناب مولانا صاحب سوال يہ ہے كہ:
ميرى پہلى بيوى طلاق لينے كا مصمم ارادہ ركھتى ہے، اور اس نے عدالت ميں بھى مقدمہ كر ركھا ہے، اس نے واپس آنے كے ليے شرط يہ ركھى ہے كہ ميں اپنى دوسرى بيوى كو طلاق دوں تو وہ واپس آ سكتى ہے، حالانكہ ميرى دوسرى بيوى ميرے گھر والوں سے بہت زيادہ محبت كرتى ہے.
مجھے اس وقت مشكل يہ درپيش ہے كہ ميں اپنى بيٹيوں كى ماں ہونے كے ناطے اپنى پہلى بيوى سے بہت زيادہ محبت كرتا ہوں، ليكن اس كا يہ فيصلہ اٹل ہے اور اس ميں كوئى نقاش اور بات چيت يا سمجھوتہ نہيں ہو سكتا، يا تو ميں دوسرى بيوى كو طلاق دوں، يا پھلا يہ مقدمہ عدالت ميں جارى رہے حتى كہ وہ عدالت ميں طلاق حاصل كر لے.
ميرى طرف سے تو يہ ہے كہ ميں دوسرى كى بجائے پہلى بيوى كى طرف زيادہ مائل ہوں، اس ليے برائے مہربانى كوئى نصيحت فرمائيں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے كيونكہ اللہ كى قسم ميں تھك گيا ہوں اور مجھے سمجھ نہيں آرہى كہ ميں كيا كروں ؟

فیڈ بیک