وصف

ميں نے ايك لڑكى سے اس ليے شادى كى كہ وہ كنوارى ہے اور جب رخصتى ہوئى تو ميں نے اسےكنوارا نہ پايا، چنانچہ اسے طلاق دے دى، اور جو مہر ادا كيا تھا وہ واپس لے ليا، يہ علم ميں رہے اس نے اس رات اقرار كيا تھا كہ اس كے والدين كو اس كا علم تھا، اور وہ اس كو مجھ سے چھپانا چاہتے تھے ہو سكتا ہے وہ اس پر متنبہ نہ ہو.
اور اس نے يہ بھى اقرار كيا كہ اس كے ساتھ يہ قبيح فعل كرنے والا اس كا خالو تھا، اور وہى شخص ہمارى شادى كرانے ميں واسطہ تھا، كيا اس سلسلہ ميں مجھ كچھ لازم آتا ہے ؟

فیڈ بیک