وصف

ميرے خاوند نے ميرے ملك سے باہر سفر پر جانے سے تين طلاق كو معلق كر ديا ہے كہ اگر سفر پر گئى تو تجھے طلاق اور اس كى نيت طلاق كى ہے، وہ خود ہر سال اپنے دوست و احباب كے ساتھ سياحتى سفر پر جاتا اور كہتا ہے كہ وہاں بہت فتنہ و فساد ہے، اور ميں ايك غيرت مند آدمى ہوں، اور ميں مرد ہوں اس ليے وہاں جانے ميں كوئى مانع نہيں، حالانكہ وہ طبعى جگہوں پر جاتا ہے ليكن مجھے اور بچوں كو سير و تفريح پر لے جانے سے انكار كرتا ہے، حتى كہ يہاں سعوديہ ميں بھى نہيں لے كر جاتا.
بلكہ جواب يہ ديتا ہے ميں تمہيں اختلاط والى جگہوں پر نہيں لے جانا چاہتا، ميں تو اس سے بحث كركے تھك گئى ہوں وہ كہتا ہے ميں ہر برس ايك ماہ كے ليے سير و تفريح پر جاتا ہوں كيا يہ جائز ہے كہ مجھ پر اللہ كى جانب سے حلال كردہ سياحت كو حرام كر ديا جائے، وہ جب چاہتا ہے چلا جاتا ہے.
حالانكہ وہ نماز كا بھى پابند ہے، اور ہمارے پاس ڈش بھى نہيں اور نہ ہى وہ گانے سنتا ہے، كيا اسے حق حاصل ہے كہ وہ مجھے ميرى مرضى كے بغير ميرے ميكے چھوڑ كر چلا جائے ؟
مجھے بتائيں كہ ميں اس كے ساتھ كيا كروں ؟
اللہ تعالى سے دعا كريں كہ وہ مجھ اور اس سے غفلت كو دور كرے.

فیڈ بیک