وصف

ميں دو بچوں كى ماں ہوں، ايك بچے نے شادى كر كے عليحدہ فليٹ ميں رہائش اختيار كر لى تو ميں اور ميرا خاوند اس كے ساتھ والے فليٹ ميں رہنے لگے، دوسرے بچے كى شادى ہوئى تو وہ ہمارے ساتھ ہى فليٹ ميں رہنے لگا، ميرى دوسرى بہو ميرے خاوند كى بھتيجى ہے اور ہمارے اس بچى اور اس كى والدہ كے ساتھ بہت ہى اچھے تعلقات تھے، ليكن شادى كے كچھ عرصہ بعد ہى مجھے ريڑھ كى ہڈى ميں تكليف كى بنا ہلنے جلنے سے قاصر ہونا پڑا، اس ليے ميں كوئى بھى كام كرنے سے قاصر ہو گئى.
تقريبا دو برس تك ميرى بہو ہمارے ساتھ رہى اور اچانك ہى گھر چھوڑ كر ميكے چلى گئى اور عليحدہ گھر ميں رہنے كا مطالبہ كرنے لگى، حالانكہ اس كا كوئى سبب بھى نہيں تھا، اور خاص كر ميرے دو بچوں كے علاوہ اور كوئى اولاد بھى نہيں ہے، اور نہ ہى كوئى بيٹى ہے، ميں اپنا اور اپنے خاوند كى ديكھ بھال تك نہيں كر سكتى، اور مجھ سے كوئى ايسا عمل بھى نہيں ہوا جو بہو كى ناراضگى كا سبب بن سكتا ہو، بلكہ ميں نے اس سے اپنى بيٹى جيسا برتاؤ ہى كرتى رہى ہوں، اور اپنى اولاد كو چھوڑ نہيں سكتى، ايك دن كے ليے بھى ان كے بغير نہيں رہ سكتى.
ہم نے اصلاح كى پورى كوشش كى تا كہ وہ واپس گھر آ جائے ليكن ان كا مطالبہ شدت اختيار كرتا گيا كہ عليحدہ گھر ميں ہى رہيگى، وقتى طور پر يہ حل بھى پيش كيا كہ ہم ايك ماہ بڑے بچے كے ساتھ رہيں گے، حالانكہ بڑى بہو ملازمت بھى كرتى ہے، اور اس كے تين بچے بھى ہيں، اور اسى طرح ايك ماہ چھوٹى بہو كے ساتھ رہيں گے، چھوٹى بہو كا كوئى بچہ بھى نہيں ہے، بلكہ چھوٹى بہو والدين كا گھر قريب ہونے كى بنا پر صبح و شام اكثر اپنے والدين كے گھر ہى رہتى تھى.
ہم نے اس كى يہ كوتاہى بھى برداشت كى اور رضامندى ہى ظاہر كرتے رہے، اور اپنے بيٹے سے بھى اسے چھپا كر ركھا كہ كہيں مشكلات نہ كھڑى ہو جائيں، ہمارے ليے تو بہو اور اس كے گھر والوں كى جانب سے يہ مشكل كھڑى كرنا بہت بڑا صدمے كا باعث بن گيا ہے، كيونكہ اس كا كوئى سبب بھى نہيں، اور ہمارے تعلقات بھى بہت قوى تھے، اور پھر ميں اپنے بيٹے كو چھوڑ بھى نہيں سكتى، ميں اور خاوند نے چھوٹى بہو كے ليے گھر خالى كر ديا اور بڑے بيٹے كے پاس جا كر رہنے لگے گھر سے نكلى تو ميں بلند آواز سے پھوٹ پھوٹ كر رو رہى تھى، كيونكہ مجھے توقع نہ تھى كہ زندگى ميں مجھے ايسا دن بھى ديكھنا پڑےگا.
اس كے بعد بہو كے والد نے لوگوں كى باتوں كى خاطر اور لوگوں سے بچنے كے ليے بہو كو اس شرط پر واپس لانے كى رضامندى ظاہر كى كہ ہم ميں سے كوئى بھى اس كے گھر ميں داخل نہيں ہوگا، اور نہ ہى بہو كے ميكے كوئى جائيگا، اس طرح ميرى بہو سے محبت كراہت ميں تبديل ہو گئى اور ميں اس كے ليے بد دعا كرنے لگى، اس حالت كو اب تقريبا دس ماہ ہو چكے ہيں، اور اس كے مقابلہ ميں بہو كے ميكے والوں كى جانب سے قطع رحمى بھى ہو رہى ہے، ميں بہت پريشان ہوں اور حرام كام ميں پڑنے سے خوفزدہ ہوں، كہ كہيں يہ حرام نہ ہو، اور ميں اپنے آپ پر كنٹرول بھى نہيں كر سكتى كہ اسے پسند كرنے لگوں، اس ليے آپ سے گزارش ہے كہ آپ ہميں اس سلسلہ ميں معلومات فراہم كريں، كہ ہميں كيا كرنا چاہيے تا كہ ہم حرام عمل ميں نہ پڑ جائيں، اور اللہ كى ناراضگى سے بچ سكيں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

فیڈ بیک